دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا میلہ اب اپنے اختتامی مراحل تک پہنچ چکا ہے اور محض چار مقابلے باقی ہیں جن میں سے ایک مقابلہ فیصلہ کرے گا کہ اگلے چار سال تک دنیائے فٹ بال پر کس کا راج ہوگا۔

اس مرتبہ ناک آؤٹ مرحلے میں جہاں کئی ٹیمیں غیر متوقع طور پر پہنچیں (جیسا کہ گھانا، چلی، سلواکیہ، جاپان) وہیں دنیائے فٹ بال کے کئی شہسوار بھی اسی مرحلے میں باہر ہو چکے ہیں (جیسا کہ انگلستان، پرتگال اور برازیل)۔ سب سے زیادہ غیر متوقع شکستوں کا سامنا جنوبی امریکہ کی امیدوں کے مراکز برازیل اور ارجنٹائن کو کرنا پڑا۔ کوارٹر فائنل میں برازیل کو 1-0 کی برتری کے باوجود نیدرلینڈز کے ہاتھوں 2-1 کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا۔ اس مقابلے میں نیدرلینڈز کے کھیل کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ “اورینج” ایک گول کے خسارے میں جانے کے باوجود دباؤ میں نہیں آئے اور دوسرے ہاف میں دو مرتبہ گیند کو حریف ٹیم کے جال کی راہ دکھائی اور یوں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی جہاں اس کی فتح کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ اس کا مقابلہ برازیل کے مقابلے میں نسبتا کمزور حریف یوروگوئے سے ہے، جس نے افریقہ کی امیدوں کے آخری چراغ “گھانا” کو پری کوارٹر فائنل میں گل کیا اور 1970ء کے بعد پہلی مرتبہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔ (more…)
اولمپکس کے بعد دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا میلہ آج شروع ہونے جا رہا ہے۔ فٹ بال، جسے غریبوں کا کھیل بھی کہا جاتا ہے، دنیا کا سب سے مشہور کھیل ہے۔ فجی سے لے کر الاسکا اور چلی سے لے کر جاپان تک، دنیا کے ہر ملک میں اسے پسندیدگی کا درجہ حاصل ہے اور اس کا عالمی مقابلہ تو گویا دنیائے کھیل کی جان ہے۔
فٹ بال کا پہلا عالمی مقابلہ جو میں نے دیکھا تھا وہ تھا فیفا ورلڈ کپ 1994ء جو امریکہ میں منعقد ہوا تھا۔ وہ کئی لحاظ سے ایک یادگار ورلڈ کپ تھا ، ایک تو اس حوالے سے اس کے میچز رات ڈھائی بجے آتے تھے اور اُس زمانے میں پی ٹی وی کی نشریات رات 10 بجے بند ہو جاتی تھی۔ اب رات 10 بجے سے لے کر دو ڈھائی بجے تک کا وقت گزارنا ایک بہت صبر آزما مرحلہ ہوتا تھا۔ وہ موبائل فونز، کمپیوٹر، گیجٹس کا زمانہ نہ تھا اس لیے یہ وقت کتابیں اور رسالے پڑھنے میں بتانے کی کوشش کی جاتی لیکن کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ ناکام ہوئے اور جب آنکھ کھلی تو میچ کے اختتامی لمحات چل رہے ہوتے
ایک مرتبہ تو ایسا ہوا کہ کوئی “غیر دلچسپ” میچ دیکھتے ہوئے ہماری آنکھ لگ گئی اور ٹی وی تمام رات چلتا رہا۔ صبح فجر میں نانی اماں اٹھیں اور انہوں نے میری اور ماموں (مرحوم) کی خوب خبر لی۔ اس کے بعد ہم تمام میچوں میں ٹائمر لگا کر رکھتے کہ اگر آنکھ بند بھی ہو جائے تو ٹی وی نانی کے اٹھنے سے پہلے بند ہو جائے
(more…)
انڈین پریمیر لیگ کے لیے کھلاڑیوں کی “نیلامی” کے موقع پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ اختیار کیا گیا وہ اس بات کا عکاس ہے کہ “امن کی آشا” رکھنے والے کتنی بڑی بھول کا شکار ہیں۔ جب کرکٹ جیسے معمولی کھیل میں بھی بھارت پاکستانی کھلاڑیوں کے حصہ لینے کا روادار نہیں تو بڑے پیمانے پر کس طرح دونوں ممالک ساتھ چل سکتے ہیں۔ بھارت نے یہی حرکت ٹوئنٹی 20 چیمپینز لیگ کے موقع پر بھی کی تھی، جب پاکستان کی قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین ٹیم سیالکوٹ اسٹالینز کو شرکت نہیں کرنے دی گئی اور یوں چند سال قبل برطانیہ میں دنیا بھر کی قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین ٹیموں کو شکست دینے والی ٹیم یہ ٹورنامنٹ ٹی وی پر ہی دیکھ پائی۔
دنیا بھر میں آئی پی ایل کے اس قدم کو حیران کن سمجھا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان ٹوئنٹی 20 کرکٹ کا موجودہ عالمی چیمپین ہے اور اس طرز میں دنیا کے بہترین کھلاڑی پاکستان کے پاس ہیں۔ ٹوئنٹی 20 میں پاکستان دنیا کی تمام بڑی ٹیموں کو شکست دے چکا ہے، چاہے ٹیسٹ اور ون ڈے میں اس کی کارکردگی کیسی بھی ہو۔ اس صورتحال میں دنیا کی سب سے بڑی لیگ میں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی شمولیت کو روکنا سمجھ سے باہر ہے۔
حیران کن امر یہ ہے کہ جن کھلاڑیوں کو آخری بولی میں پاکستانیوں پر ترجیح دے کر خریدا گیا ہے وہ یا تو انتہائی کم تجربہ کار ہیں یا چلے ہوئے گھوڑے ہیں، جن کی اب کسی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں۔ جن کھلاڑیوں کو سب سے زیادہ قیمت میں خریدا گیا ان کا ریکارڈ ملاحظہ کیجیے۔ کیرون پولارڈ کو 7 لاکھ 50 ہزار ڈالرز میں خریدا گیا جبکہ انہوں نے اب تک صرف 10 ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں جن میں 7 اننگ میں صرف 86 رنز اسکور اور 7 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ دوسری جانب اسی قیمت پر خریدے گئے شین بونڈ مسلسل اپنی فٹنس سے مقابلہ کر رہے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ سے صرف اس لیے ریٹائرمنٹ لی کیونکہ وہ چھوٹی طرز کی کرکٹ پر اپنی توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ اس وقت شین بونڈ کی عمر 34 سال ہے اور بلاشبہ وہ ہر گز 18 سالہ محمد عامر سے اچھا آپشن نہیں ہیں۔ ٹوئنٹی 20 کھیلنے کا ان کا تجربہ بھی محض 13 مقابلوں کا ہے جس میں 17 وکٹیں ان کے ہاتھ لگی ہیں۔ کیا یہ کھلاڑی کسی بھی طرح عامر یا عمر گل یا شاہد آفریدی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن پاکستانی کھلاڑیوں کو ٹھکرایا گیا ان میں آئی پی ایل کے پہلے ایڈیشن کے بہترین کھلاڑی سہیل تنویر، متنازع انڈین کرکٹ لیگ کے شعلہ فشاں بلے باز عمران نذیر، اکمل برادران اور ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ وکٹیں رکھنے والے عمر گل بھی شامل تھے۔
فرنچائزز کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ خریدنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ کسی ایسے کھلاڑی پر رقم نہیں لگانا چاہتے جس کی شرکت یقینی نہ ہو۔ لیکن آخری بولی سے چند روز قبل ہی سے یہ افواہیں گردش میں تھیں کہ آئی پی ایل انتظامیہ نے فرنچائزز کو پاکستانی کھلاڑیوں کی بولی نہ لگانے کی ہدایت کر دی ہے۔ گو کہ انتظامیہ نے ان افواہوں کی تردید کی لیکن بولی میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک اور پھر للت مودی کے بیان نے واضح کر دیا کہ انتظامیہ اور فرنچائزز نے پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں شامل نہیں کرنا۔
پاکستان کے کئی کھلاڑیوں نے آئی پی ایل کے پہلے ایڈیشن میں شرکت کی تھی جن میں سے سہیل تنویر کو شاندار کارکردگی کی بدولت پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا تھا۔ سہیل کی ٹیم راجھستان رائلز نے پہلے ایڈیشن میں فتح حاصل کی تھی۔ اگلے سال ممبئی حملوں کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو بھارت جانے سے روک دیا اور رواں سال انہیں اجازت دی گئی جس پر 26 پاکستانی کھلاڑیوں نے آئی پی ایل کو اپنی دستیابی سے آگاہ کیا۔ جن میں سے 11 کو حتمی فہرست میں شامل کیا گیا، جنہیں بولی کے موقع پر کسی نے نہیں خریدا۔
موجودہ صورتحال میں پاکستانی کھلاڑیوں کو حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، خصوصاً بھارت کے حوالے سے انہیں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ جب اس سال آئی پی ایل کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں نے نام دیے اور کھیلوں کے کئی ملکی تجزیہ کاروں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن شاید کھلاڑی اور بورڈ آئی پی ایل انتظامیہ کے حوالے سے کسی خوش فہمی کا شکار تھا، جو اب دور ہو گئی ہوگی۔ اب پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنی تمام تر توجہ قومی کرکٹ ٹیم پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، جو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بری طرح شکست کھانے کے بعد ممکنہ طور پر تبدیلی کے بہت بڑے عمل سے گزرے گی۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی مقامی سطح پر کوئی بڑا مقابلہ کرانے کی ضرورت ہے جس میں ملکی حالات کے باعث غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت تو ممکن نہیں ہوگی، لیکن قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین شپ کی طرز کا کوئی کامیاب مقابلہ منعقد کروایا جا سکتا ہے تاکہ کھلاڑیوں کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔
1986ء میں جاوید میانداد نے شارجہ کے میدان میں چیتن شرما کو ایک چھکا رسید کیا اور اس ایک چھکے نے عرصۂ دراز تک بھارت پر پاکستان کا دبدبہ قائم کر دیا اور ایک روزہ کرکٹ میں پاکستان کے اس پہلے کے نتیجے میں قومی ٹیم کا جو مورال بلند ہوا وہ بالآخر پاکستانی کرکٹ تاریخ کے اس عظیم ترین لمحے پر منتج ہوا جب 1992ء میں پاکستان نے دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا اعزاز “ورلڈ کپ” جیتا۔
ورلڈ کپ میں فتح کے 17 سال بعد جب درمیانی عرصہ میں قومی کرکٹ کئی نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد اب تقریباً لبِ گور تھی۔ 2007ء کے ورلڈ کپ میں پہلے راؤنڈ ہی میں ناکامی نے ٹیم سے وابستہ امیدوں کے چراغ تقریباً گل کر دیے اور ملکی کرکٹ کو تباہی کے دہانے پر آ کھڑی ہوئی۔ ملک میں امن و امان کے مسائل نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ کرکٹ کی بین الاقوامی انجمن (آئی سی سی) اس سے چمپئنز ٹرافی کی میزبانی سے محروم کرنے کے بعد ورلڈ کپ 2011ء سے بھی محروم کر چکی ہے، دنیا کی سب سے بڑی لیگ کرکٹ “انڈین پریمیر لیگ” کے دروازے اس کے کھلاڑیوں پر بند ہو چکے ہیں، دنیا کی کوئی ٹیم پاکستانی سرزمین پر نہیں کھیلنا چاہتی، اور جو ایک ٹیم کھیلنے کے لیے آئی وہ بھی دہشت گرد حملے کا نشانہ بنی اور بمشکل اپنی جانیں بچا سکی۔
اس پوری صورتحال کو نظروں میں رکھا جائے تو واقعی بقول رمیز راجہ کہ ٹونٹی 20 ورلڈ کپ 2009ء میں پاکستان کی فتح ورلڈ کپ 92ء سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اور واقعی اس کے نتائج کہیں زیادہ دور رس ثابت ہوں گے اور یہ ایک فتح کئی سوالوں کا جواب ہے۔ اب بھارتی کرکٹ بورڈ سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک چمپئن ٹیم کے کھلاڑیوں کی شمولیت پر ضرور غور کرے گا۔ پاکستان ایک مرتبہ پھر دنیائے کرکٹ میں ابھر کر سامنے آگیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں کرکٹ کبھی نہیں مر سکتی، اس ایک فتح نے ثابت کر دیا ہے کہ ٹونٹی 20 کرکٹ میں دنیا کے بہترین کھلاڑی اس کی ٹیم میں شامل ہیں، فتح پر جشن نے ثابت کر دیا کہ پاکستانیوں کی بڑی اکثریت آج بھی کرکٹ کی شیدائی ہے، بس فتح کے ذریعے ان کے دلوں میں دبی چنگاری کو شعلہ بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب ورلڈ کپ 2011ء کے میچز شاید پاکستانی سرزمین پر تو نہ کھیلے جائیں لیکن اس کے امکانات روشن ہیں کہ مالی مشکلات کے شکار قومی کرکٹ بورڈ کو متحدہ عرب امارات میں اس اہم ایونٹ کی میزبانی کا شرف مل سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں یقیناً مالی مشکلات ختم ہو جائیں گی۔
یہ واقعی ایک تاریخی لمحہ تھا جو تاعمر یاد رہے گا۔ ویل ڈن پاکستان

شاہد آفریدی کا فاتحانہ انداز
پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کی خراب صورتحال کے باعث خود سے یہ توقع رکھنا کہ ہم ورلڈ کپ 2011ء کا انعقاد کامیابی سے کر لیں گے، ویسے ہی عبث تھا لیکن سری لنکا کی قومی کرکٹ ٹیم پر لاہور میں ہونے والے حملے نے اس موہوم کی امید کو بھی ختم کر دیا جو شاید بورڈ کے نہاں خانۂ دل میں کہیں موجود تھی۔ سری لنکن ٹیم تو “جان چھوٹی سو لاکھوں پائے” اپنے وطن تقریباً صحیح سلامت پہنچ گئی لیکن اس روز پاکستان میں کرکٹ قذافی اسٹیڈیم کی پچ تلے دفن ہو گئی۔
ممبئی میں ہونے والوں حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر سطح پر جو زبانی جنگ شروع ہوئی اس نے یہ رنگ دکھانا شروع کر دیا کہ دنیا کا کوئی ملک پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کو تیار نہ تھا۔ بالآخر سری لنکا نے عالمی رائے عامہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی لیکن یہ “ایڈونچر” انہیں مہنگا پڑ گیا اور یوں مستقبل قریب میں پاکستان میں کرکٹ کا انعقاد ممکن نہیں دکھائی دیتا۔
گو کہ پاکستان کے پاس دبئی اور ابو ظہبی یا ملائیشیا کے قریبی مقامات پر “ہوم سیریز” کھیلنے کے مواقع موجود ہیں، جس کے ذریعے پاکستانی کرکٹ کو ہمیشہ کے لیے ختم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے لیکن اس وقت پاکستانی کرکٹ کو جو بڑے خطرے لاحق ہیں وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میں موجود بھارتی لابی اور دوسری جانب پاکستانی کرکٹ بورڈ کی نااہل انتظامیہ ہے۔
بھارت اپنی وسیع تر مارکیٹ اور اثر و رسوخ کے باعث بین الاقوامی کرکٹ پر گہرے اثرات رکھتا ہے۔ یہ بات اس امر سے اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے بڑے اسپانسرز میں تقریباً تمام ادارے بھارت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے آئی سی سی کا بھارت کے زیر اثر آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
بھارت نے لبرٹی سانحہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور آئی سی سی سے یہ فیصلہ کرانے میں کامیاب ہو گیا کہ سیکورٹی مسائل کے باعث پاکستان میں 2011ء ورلڈ کپ کا انعقاد ممکن نہیں اور اس طرح نہ صرف وہ پاکستان کو میزبانی سے محروم کرنے میں کامیاب ہوا بلکہ اس نے پاکستان کے میچز بھی ہڑپ کر لیے اور اب وہ تمام میچز جو پاکستان میں کھیلے جانے تھے، اب بھارت میں کھیلےجائیں گے۔
گو کہ اس غیر منصفانہ فیصلے پر احتجاج کرنے کے بہت سےطریقے ہیں لیکن میرے خیال میں پاکستانی کرکٹ بورڈ کو اس امر کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ پاکستان میں حالات فی الوقت اتنے سازگار نہیں کہ وہ ورلڈ کپ جیسا اہم ترین ایونٹ اپنے ملک پرامن طور پر منعقد کرا سکے اور اتنے بڑے ایونٹ صرف توقعات کی بنیاد پر منعقد ہو بھی نہیں ہو سکتے ۔ اس لیے فی الوقت بہتر یہی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میزبانی چھن جانے کے اس افسوسناک واقعے سے ہونے والے مالی نقصان کو پورا کروائے کیونکہ ورلڈ کپ جیسے اہم ایونٹ کی میزبانی چھن جانے کا کچھ “تاوان” کچھ تو ملنا چاہیے یا پھر آئی سی سی کو مختلف آپشنز دے۔ لیکن مقدمے جیسے فیصلے پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کو بھی برگشتہ کر دیں گے۔
عالمی ثالثی عدالت میں آئی سی سی کے خلاف مقدمہ کرنے کا بے وقوفانہ فیصلہ نجانے کن مشیروں کے کہنے پر کیا گیا ہے؟ ایسی صورتحال میں جب پاکستان کرکٹ بورڈ کی مالی پوزیشن بھی بہت کمزور ہے ، اور حال یہ ہے کہ “ہوم سیریز” بیرون ملک کھیلنے پر مجبور ہونے کے باوجود اسپانسرز موجود نہیں، بورڈ پر اخراجات کا ایک نیا بوجھ ڈال دیا گیا اور وہ بھی اس صورتحال میں کہ میزبانی کے حصول کے لیے پاکستان دلائل کے ذریعے قائل کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں کیونکہ ایک تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اس اجلاس میں موجود ہی نہ تھے جس میں یہ فیصلہ کیا گیا اور دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا اس وقت پاکستان کا جو منظرنامہ پیش کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک صوبہ تقریباً پورا طالبان کے قبضے میں ہے اور شدت پسند مبینہ طور پر دارالحکومت سے محض 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ اس صورتحال میں عالمی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائر کرنا سراسر عاقبت نااندیشی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے خزانے پر اضافی بوجھ ہے۔
بہرحال عدالت میں معاملہ گھسیٹنے کے بے وقوفانہ فیصلے کے بعد (جو غالباً پاکستان سے تعلق رکھنے والےآئی سی سی کے سابق سربراہ نے دیا ہے) اب پاکستان نے الگ محاذ کھول دیا ہے، وہ ہے “نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے” اور بورڈ اور پاکستان کرکٹ کے مختلف خیر خواہوں کی جانب سے مستقل اس طرح کے بیانات سامنے آ رہے ہیں کہ پاکستان غیر محفوظ ہے تو بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکامیں بھی راوی چین نہیں لکھ رہا اور وہ ممالک بھی امن و امان کے مسائل سے اتنا ہی دوچار ہیں جتنا کہ پاکستان، اس لیے ورلڈ کپ 2011ء کے آسٹریلیا و نیوزی لینڈ میں منعقد کیا جائے۔ سری لنکا کی صورتحال تو اِس وقت بھی تسلی بخش نہیں جہاں تامل باغیوں اور فوج میں زبردست لڑائی جاری ہے جبکہ بنگلہ دیش میں حال ہی میں فوجی بغاوت ہو چکی ہے۔ البتہ بھارت میں امن و امان کی صورتحال کی خرابی کے بارے میں بتاتے ہوئے ہمیں محتاط رویہ اختیار کرنا پڑے گا کیونکہ خدانخواستہ مستقبل قریب میں بھارت میں دہشت گردی کی کوئی کاروائی ہوتی ہے تو بھارت اس کا الزام پاکستان پر با آسانی اس طرح لگا سکتا ہے کہ پاکستان بھارت کو ورلڈ کپ سے محروم کرنے کے لیے دہشت گردی کی کاروائیاں کروا رہا ہے۔ اس کے لیے بہتریہی ہے کہ بات دلیل سے کی جائے جیسے انڈین پریمیر لیگ کی جنوبی افریقہ منتقلی کو بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے کہ جب بھارت خود اپنی سیکورٹی سے مطمئن نہیں تو وہ ورلڈ کپ کا انعقاد کیسے کروا سکتا ہے؟
بہرحال اس سلسلے میں سب سے پہلے تو یہ ضروری تھا کہ اپنی طرف سے آسٹریلیااور نیوزی لینڈ کا نام لینے کے بجائے پہلے اُن ممالک سے رابطہ کیا جاتا اور پھر لابنگ کے بعد باقاعدہ اُن ممالک کی جانب سے ہی اس مسئلے کو آئی سی سی میں پیش کروایا جاتا۔ درست طریقہ یہ ہے کہ ورلڈ کپ 2011ء کی میزبانی آسٹریلیا نیوزی لینڈ اور 2015ء کی میزبانی برصغیر کو دینے کے لیے لابنگ کی جاتی۔ سیکورٹی کے حوالے سے ہمیشہ تشویش کے شکار انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کو بھی اس مہم میں پاکستانی موقف کا حامی بنایا جا سکتا ہے اور انہیں اس امر پر قائل کیا جا سکتا ہے کہ جنوبی ایشیا فی الوقت بین الاقوامی ایونٹ کے لیے موزوں مقام نہیں اور اگر 5 سے 6 ممالک اس مسئلے کو باضابطہ طور پر اٹھائیں تو ہم “خود ڈوبنے کے بعد صنم کو ڈبونے” میں بھی کامیاب ہو جائیں گے
۔ البتہ اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل پی سی بی جاوید میانداد کی رائے اچھی ہے کہ پاکستان کے پاس نیوٹرل وینیو کی صورت میں متحدہ عرب امارات کا ایک اچھا آپشن موجود ہے اس لیے اگر آئی سی سی کسی صورت پاکستان میں میچز کا انعقاد نہیں کرنا چاہتی تو پاکستان سے اس کے میچز واپس نہ لیے جائیں بلکہ پاکستان وہ میچز ابوظہبی اور دبئی میں منعقد کروائے جہاں سیکورٹی کے حوالے سے تمام ٹیموں کو اطمینان حاصل ہوگا۔
بھارت نے پاکستان پر پانی بم (water bomb) پھینکنے کے بعد اب کرکٹ بم (cricket bomb) کا استعمال کیا ہے اس لیے اس وقت یہ بالکل مناسب قدم ہے کہ ہم انہیں بھی میزبانی سے محروم کریں جو پاکستان کرکٹ کو ایک بہت بڑا مالی جھٹکا دینے کا سبب بنے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ہمیں اپنی نازک پوزیشن کو سمجھتے ہوئے پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی ثالثی کونسل برائے کھیل میں دائر مقدمہ واپس لینے کے بعد آئی سی سی میں مناسب انداز میں اپنا موقف پیش کریں اور متعلقہ ممالک کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھیں تو ایک اچھے فیصلے پر پہنچا جا سکتا ہے۔ اگر ان سب اقدامات کے باوجود پاکستان کی شنوائی نہیں ہوتی تو پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ 2011ء کا بائیکاٹ کرنے میں حق بجانب ہوگی۔
One World
Beijing

4 سال بعد دنیا کی نظریں ایک مرتبہ پھر سب سے عالمی کھیلوں کے مقابلوں “اولمپکس” پر مرکوز ہیں اور اس مرتبہ سب کی توجہ کا مرکز چین کا دارالحکومت بیجنگ ہے جہاں اگلے ماہ اولمپکس 2008ء کا آغاز ہو رہا ہے۔ بیجنگ نے 2001ء میں اولمپک کھیلوں کی میزبانی کا مقابلہ اپنے نام کیا تھا اور اس کے بعد انہوں پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور سخت محنت کے بعد ان عالمی کھیلوں کے شاندار انعقاد کے لیے بھرپورتیاری کی جس کا مظہر بیجنگ اور دیگر مقامات پر اولمپک کھیلوں کے تیار کی گئی شاندار عمارات و کھیل کے میدان ہیں۔ بیجنگ کھیلوں کے لیے جس زور و شور سے تیاریاں کی گئی ہیں وہ اسے تاریخ کا عظیم ترین اولمپک بنانے کے لیے کافی ہیں۔
بیجنگ اولمپک کا آغاز 8 اگست کو ہوگا اور یہ 24 اگست تک جاری رہیں گے۔ ان عظیم کھیلوں کا چین میں انعقاد اس امر کا اظہار ہے کہ عالمی سطح پر چین کا مقام تسلیم کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب چین نے عظیم الشان تعمیراتی شاہکار قائم کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اقتصادی ترقی کی معراج کی جانب گامزن ہے۔ بیجنگ نیشنل اسٹیڈیم، بیجنگ نیشنل انڈور اسٹیڈیم، بینل نیشنل ایکویٹکس سینٹر، اولمپک گرین کنونشن سینٹر، اولمپک گرین اور بیجنگ ویوکسونگ کلچر اینڈ اسپورٹس سینٹر تعمیرات کے شاہکار ہیں۔ ان میں ماسٹر پیس بیجنگ کا مرکزی نیشنل اسٹیڈیم ہے جو کسی پرندے کے گھونسلے جیسا لگتا ہے اور اس کی عرفیت بھی اس میں 80 ہزار افراد کی گنجائش ہے۔ افتتاحی و اختتامی تقریبات اسی اسٹیڈیم میں منعقد ہوں گی۔

بیجنگ اولمپک میں 205 ممالک کے کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں جو 28 کھیلوں میں اپنے ملک کےلیے تمغوں کے حصول کی دوڑ میں مصروف دکھائی دیں گے۔
ایک جانب جہاں لاکھوں تماشائی یہ کھیل میدانوں میں ملاحظہ کریں گے وہیں دنیا بھر کے 4 ارب افراد اسے ٹیلی وژن پر بھی ملاحظہ کر سکیں گے تو ہم بھی منتظر ہیں صرف دو ہفتے بعد تاریخ کے اس عظیم ترین ایونٹ کے لیے اور چین کی شاندار تیاریوں کو عملی صورت میں ملاحظہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ چین پہلی مرتبہ اولمپک کھیلوں میں سب سے زيادہ تمغے جیتنے کا اعزاز حاصل کر پاتا ہے یا نہیں؟