تیزی سے بدلتا منظرنامہ، اردو کے لیے کیا کیا جائے؟

انٹرنیٹ پر اردو رضاکار برادری سے وابستگی کو تقریباً چھ سال ہونے والے ہیں اور اس پورے عرصے میں میں نے تقریباً تمام افراد کو انتہائی مخلص، بامروّت، با اخلاق اور ایثار و قربانی کے جذبے سے لبریز پایا ہے۔ انتہائی نامساعد حالات میں رضاکاروں نے اپنے ذاتی و معاشی مسائل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس طرح اردو کی خدمت کی، اس کا عشر عشیر بھی ذمہ دار ادارے کر پاتے تو آج قومی زبان اس حالت میں نہ ہوتی۔

لیکن اس کے باوجود میں نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے کارنامے انجام دینے کے باوجود وہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے، جن کو ذہن میں رکھ کر کام کیا جاتا ہے یا پھر کی گئی محنت کی وصولیابی جتنا صلہ نہیں مل پاتا۔

مثال کے طور پر آج بھی یہ مغالطہ بہت زیادہ عام ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو کے پیچھے رہ جانے کی سب سے بڑی وجہ نستعلیق فونٹ کی عدم موجودگی ہے۔ آپ حیران نہ ہوں، یہ حقیقت ہے۔ اچھے بھلے تکنیکی افراد کو میں نے یہ بچکانہ عذر تراشتے ہوئے دیکھا ہے کہ ایک اچھے اردو فونٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ اردو پڑھنے اور لکھنے کی جانب راغب نہیں ہوتے کیونکہ انہیں 'عربی و فارسی زدہ' فونٹ پسند نہیں اور اردو کا مزہ تو نستعلیق میں ہے۔

روزانہ کی بنیاد پر طویل لوڈ شیڈنگ بھگتنے والے اور سی این جی کی بندش والے دن بس کی چھتوں پر سفر کرنے والے دیوانوں نے ایک نہیں ، دو نہیں بلکہ کئی ایسے نستعلیق فونٹ بنا ڈالے ہیں، جو ہر مزاج سے آشنا فرد کے مذاق کے مطابق ہیں۔

چاہے روایتی نوری نستعلیق کے فونٹ سے ملتا جلتا جمیل نستعلیق ہو یا نستعلیق کا لاہوری چٹخارہ پسند کرنے والے افراد کے لیے فیض نستعلیق، ایرانی نستعلیق کے دلدادہ افراد کے لیے اردو عماد نستعلیق ہو یا پھر خالصتاً لاہوری نستعلیق کے قتیل کے لیے تازہ ترین تاج نستعلیق۔ یہ سب وہ فونٹس ہیں جو اردو کے لیے کام کرنے والی رضاکار برادری کے سینے پر اک چمکتا دمکتا تمغہ ہیں۔

خط نستعلیق کے اصول۔ عبد المجید پروین رقم

لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود آخر یہ فونٹس اس مقام تک نہیں پہنچ سکے، جہاں تک انہیں ہونا چاہیے تھے۔ یہ سوال جس قدر معقول ہے، اس کا جواب بھی کسی حد تک مشکل ہے تاہم اس پر کچھ اپنی رائے بھی پیش کرنا چاہوں گا اور کچھ قارئین سے بھی طلب کروں گا کہ وہ اس معاملے کو کس طرح دیکھتے ہیں۔

ابھی گزشتہ دنوں پاکستان میں جدید و روایتی ذرائع ابلاغ، یعنی بزبان عام اگر کہا جائے تو سوشل اور الیکٹرانک میڈیا، کے درمیان ہونے والی کشاکش پر اک جرمن لکھاری کی کتاب "New Media vs. Old Politics" پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جناب مارکوس مائیکل سن فرانس سے علوم مشرق وسطیٰ میں ماسٹرز کی سند رکھتے ہیں اور آجکل ایران میں سیاسی تبدیلی کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کر رہے ہیں۔ کیونکہ یہ اُن کا خاص موضوع ہے اس لیے انہوں نے پاکستان میں روایتی و جدید ذرائع ابلاغ کے حوالے سے اک کتاب مرتب کی ہے، جو بلاشبہ بہت دلچسپ معلومات کی حامل ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور سیاسی تبدیلی کی جاری بحث، ملک میں ذرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ کی حالت اور انٹرنیٹ کے سیاسی استعمال کے مرکزی موضوعات کے گرد گھومنے والی یہ کتاب اس موضوع پر علم کے کئی دروازے وا کرتی ہے۔

ایک دلچسپ بات، اس کتاب میں مصنف نے پاکستان میں انٹرنیٹ کے پھیلاؤ کے اسباب کے ذیل میں لکھا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کا ایک دلچسپ عنصر زبان کی تقسیم ہے۔ اس ضمن میں مائیکل سن تسلیم کرتے ہیں کہ روایتی میڈیا میں اردو کا غلبہ ہے اور انگریزی صحافت برقی، نشری یا اشاعتی تینوں ذرائع ابلاغ میں اردو سے کہیں پیچھے ہے لیکن حیران کن طور پر انٹرنیٹ پر انگریزی کا غلبہ ہے۔ اسے وہ طبقہ اشرافیہ کے لیے اک فائدہ اور سماج کے دیگر عناصر میں انٹرنیٹ کے نفوذ میں کمی کی وجہ ٹھہراتے ہیں۔ انہوں نے روزنامہ جنگ اور ایکسپریس کی ویب سائٹس کا ڈان اور ایکسپریس ٹریبون سے مقابلہ بھی کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ دونوں اردو اخبارات کو دیکھنے والے افراد کی تعداد کا ایک تہائی بھی مذکورہ انگریزی اخبارات کے پاس نہیں آتا۔

لیکن ان باتوں کے بعد مصنف فرماتے ہیں کہ اردو کے عملی سطح پر استعمال کو محدود کرنے کا اک ممکنہ سبب نستعلیق فونٹ کی عدم موجودگی بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام اخبارات، جرائد اور رسائل نستعلیق میں چھپتے ہیں جبکہ بیشتر ویب سائٹس اور بلاگز عربی و فارسی میں استعمال ہونے والے نسخ فونٹ پر مبنی ہیں۔ یوں روایتی اردو کے مقابلے میں یہ فرق ہے جو صارفین کو اردو میں آن لائن رابطے جیسا کہ بلاگ وغیرہ لکھنے کی جانب مائل نہیں کرتا۔

اب مجھے نہیں معلوم کہ مائیکل سن کی اس معلومات کا ماخذ کیا ہے، گو کہ اندازہ ضرور ہے کہ یہ معلومات انہی انگریزی بلاگرز نے دی ہوں گی، جنہوں نے کتاب کی تکمیل میں ان کی مدد کی ہے، لیکن بدقسمتی سے اردو کمپیوٹنگ میں ہونے والی پیشرفت پر تجاہل عارفانہ اختیار کیے رہتےہیں۔ بہرحال، یہ کتاب 2011ء کی چھپی ہوئی ہے اور اس وقت کم از کم میری معلومات کے مطابق 4 مکمل طور پر کارآمد نستعلیق فونٹ مارکیٹ میں موجود تھے۔ لیکن اندازہ ہوتا ہے کہ مائیکل سن کو ان میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی علم نہیں تھا، اور نہ ہی ان کی توجہ دلائی ہے۔

اب اس مقام پر ہمارا اٹھایا گیا سوال دوبارہ سامنے آتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ ضرور اردو رضاکار برادری کے کام میں ایسی بنیادی خامی موجود ہے کہ نستعلیق فونٹ مقبولیت کی اس بلندی پر نہیں پہنچ پا رہے۔ جی ہاں، اور وہ کمزوری ہے مارکیٹنگ کی کمی۔

اس میں ایک وجہ تو بالکل بنیادی نوعیت کی ہے کہ اخلاقیات کے مارے ہوئے عام افراد مارکیٹنگ کو خود تشہیری (self-promotion) سے تعبیر کرتے ہیں، جو کم از کم ہمارے روایتی حلقوں میں ایک بہت بڑی خامی تصور کی جاتی ہے۔ لیکن اس معاملے میں ہم غلطی یہ کر جاتے ہیں کہ اس کا دائرۂ کار بڑھا کر اپنی پروڈکٹس تک پھیلا دیتے ہیں، یعنی اپنی مصنوعات کی تشہیر بھی نہیں کرتے۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام چینلوں کو استعمال کرتے ہوئے اردو میں ہونے والی پیشرفت خصوصاً نستعلیق فونٹس کی تشہیر کی جائے۔ اس سلسلے میں مجھے تمام احباب کی آراء درکار ہوں گی کہ وہ کیا سمجھتے ہیں کہ اس حوالے سے سب سے کارگر نسخہ کیا ہوگا؟

میری ذاتی رائے میں انگریزی ایک ایسی ویب سائٹ کاہونا ضروری ہے جو اردو میں ہونے والی پیشرفت اور تمام متعلقہ معلومات سے بھرپور ہو۔ بدقسمتی سے انگریزی ویب سائٹ چلانا میرے بس کی بات نہیں ورنہ میں عملی طور پر یہ قدم اٹھانے کے بعد صرف اطلاع دینے کے لیے بلاگ کو استعمال کرتا۔ لیکن اب کیونکہ میرے ہاتھ بندھے ہیں اس لیے التجا ہی کی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں تمام دوستوں سے آراء بھی درکار ہوں گی کہ اگر میرا ایک مشورہ ٹھیک ہے تو اس کے لیے ہمیں سائٹ کا بنیادی خاکہ کیا ترتیب دینا ہوگا اور اس کو عملی جامہ کس طرح پہنایا جا سکتا ہے؟

جوابات کا منتظر

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

24 تبصرے

  1. عدنا ن سرور says:

    ضرور ویب انگلش ویب بنائیں یا اپنے بلوگ کا انگریزی پیج بنا دیں۔

  2. پردیسی says:

    '' انگریزی ایک ایسی ویب سائٹ کاہونا ضروری ہے جو اردو میں ہونے والی پیشرفت اور تمام متعلقہ معلومات سے بھرپور ہو ''
    بہت خوب تحریر . اور انتہائی اعلیٰ مشورہ
    میں آپ سے سو فیصد متفق ہوں

  3. نبیل says:

    اتفاق کی بات ہے کہ یہ آئیڈیا کافی عرصے سے میرے ذہن میں موجود ہے اور میں اردو ویب پر ہی ایک انگریزی حصہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں تاکہ یہ معلومات زیادہ دور تک پھیل سکیں۔

  4. نبیل says:

    ایک اور بات، اردو کے لیے کیا کیا جائے کے ساتھ ساتھ کچھ نیا کرنے کے بارے میں بھی سوچ بچار کرنی چاہیے۔ اب اردو ویب سائٹس اور اردو فونٹس ہر جگہ نظر آ جاتے ہیں جو کہ واقعی خوش آئند بات ہے۔ لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ تحقیق کے نئے میدانوں میں دریافتیں کی جائیں۔ ذیل میں چند مثالیں ہیں:
    1۔ اردو او سی آر

    2۔ اردو سپیچ ریکگنیشن

    3۔ مشین ٹرانسلیشن
    ۔۔

    • ابوشامل says:

      آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں نبیل بھائی۔ لیکن یہ تمام کام ذرا اگلے مرحلے کے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے اگلے مرحلے کی تو کئی چیزیں نمٹا لیں ہیں لیکن ابھی تک جو بنیادی کام ہے اس کو نہیں کر پائے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کم از کم جو لوگ اردو کسی نہ کسی حد تک جانتے ہیں اور کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں، ان تک نستعلیق فونٹ اور اردو کی بورڈ پہنچنا چاہیے۔ اس سمت میں ہمیں معمولی سی کامیابی ہی حاصل ہوئی ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اک dedicated سائٹ اس ضمن میں کچھ پیشرفت ضرور کروا سکتی ہے۔

  5. علی says:

    ابو شامل صاحب میں جاہل بندہ ہوں نستعلیق اور فانٹس کی نزاکتیں نہیں سمجھتا۔اورمیرے خیال میں ستر فیصد لوگ مجھ جیسے ہی ہیں۔ان پیج سے اردو استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور پاک اردو انسٹالر آخری مقام تھا۔ مجھے جس جس سائیٹ سے اردو لکھنے یا پڑھنے کو ملا وہاں میں جاتا رہا۔
    اب بلاگ لکھتا ہوں تو میرے خیال میں ہمیں ریڈرز کی اشد ضرورت ہے اور اس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ اردو میں لکھا جارہا ہے اور لکھا جا رہا ہے تو وہاں تک کیسے پہنچا جائے۔
    میرے خیال ناقص خیال میں اس امر کی ضرورت ہے کہ پاک اردو انسٹالر جیسے سافٹ وئیر عام بندوں تک پہنچائے جائیں اور سیارہ جیسے بلاگ ایگریگیٹرز کی تشہیر کی جائے۔چاہے اس کے لیے سب بلاگر کو ملکر چندہ کیوں نہ ڈالنا پڑے اردو بلاگ ایگریگیٹرز کو اخبارات میں اور ٹی وی چینلز پر مشتہر کیے جانے کی ضرورت ہے۔

    • ابوشامل says:

      قارئین کیوں نہیں؟ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ جن میں سے ایک اہم وجہ یہ ہے کہ لوگ اردو میں "سرچ" ہی نہیں کرتے۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات "فٹ" ہو چکی ہے کہ انٹرنیٹ پر جو بھی سرچ کرنا ہے انگریزی ہی میں کرنا ہوگا۔ یہ مغالطہ جس دن ختم ہوا، اس دن آپ دیکھیں گے کہ اردو پاکستان میں انگریزی کو کافی پیچھے چھوڑ دے گی۔
      یہ وزیٹرز والا کام بہت کثیر الجہتی ہے اور میرے خیال میں ابھی ہمیں اس کے لیے کافی عرصہ اور کافی کام درکار ہے۔

  6. علی says:

    ویسے یہ انگلش سائیٹ والا آئیڈیا بھی خوب ہے ۔ایک آئیڈیا میں نے بلال بھائی کو بھی کہا تھا ہو سکے تو سیارہ جیسی سائیٹوں کا فیس بک پیج ہونا چاہیے جو لائیک کرنے والے یوزرز کو فیس بک پر اپ ڈیٹ کر سکے کہ یہ بلاگ شایع ہوگئے ہیں بجائے اس کے سیارہ کی ویب سائٹ پر جائیں

  7. Hassan Habib says:

    first of all my apologies to use an alien language to write this comment. I have been following your blog for a long time and i am really inspired by what you write. I also admire your actions to right the wrong. Jazak Allah for that.
    The matter here is not only about our language it is about our mind that has been developed to worship Western Civilization in everything. It is not just a matter of language it is about education that makes us servants of Wests. The people who use computers are those that are literate that excludes nearly 70% of Pakistanis. The people who are literate are more inclined towards West because the profession they adopt usually is taught in English and everything is done in English. Among these very few come to understand the value of their own language. Among these very few are those who are creative enough to transform their ideas into writings. Now you can see that the people who are blogging in urdu are:
    1. Very less
    2. They don't form that "critical mass" required to influence social media on a larger scale.
    3. I am unaware of computer languages but work should be done to integrate nastaleeq font in applications, Websites and more bloggers should "use" this font on their blogs. At the present moment this integration is not apparent.
    4. I would request you to please be the beacon and use nastaleeq font on your own blog. and all your readers as well.
    5. The pages of wikipedia that are written in Urdu should also be converted into Nastaleeq font. That will drastically increase awareness among the internet community.
    6. similarly the font has to be integrated in FB and other social networking websites. I am unaware of any developments in that area as well.

  8. میرا تجربہ یہ ہے کہ ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریت کا ذہن اب انگریزوں کا اس سے زیادہ غلام ہو چکا ہے جتنا آدھی صدی قبل تھا ۔ اس استدلال کا سبب یہ ہے کہ میں پچھلے 5 سال میں انترنیٹ رکھنے والے جن صاحب کے پاس بھی گیا اُن سے اردو بلاگنگ اور کمپیوٹر پر اردو پڑھنے میں آسانی کے بارے میں نہ صرف بات کی بلکہ پیشکش کی میں اُن کے کمپیوٹر کو اس قابل کر دیتا ہوں ۔ پلے فلاپی میں ساتھ لئے پھرتا تھا پھر اللہ نے آسانی کر دی کہ فلیش ڈرائیو آ گئی ۔ کچھ تو بہت خوش ہوتے اور مجھ سے اُردو اور اُردو فونٹس انسٹال کر وا دیتے لیکن باقی کچھ فضول قسم کے اعتراضات کرتے

  9. جناب نے ہمیشہ کی طرح اہم نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ میں نے اس کا انتظام پہلے ہی کر رکھا ہے اور مزید پر کام ہو رہا ہے۔ اگر آپ میری ویب سائیٹ http://www.mbilalm.com/ دیکھیں تو آپ کو اردو کے لئے میرا کیا گیا کام اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی ملے گا۔ اسی بارے میں مزید کام یعنی انگریزی زبان میں اردو لکھنے کے ٹیوٹوریلز پر کام ہو رہا ہے۔

    • ابوشامل says:

      بہت خوب بلال بھائی، لیکن تشہیر، جو بنیادی نکتہ ہے وہ تشہیر ہے۔ اس کے علاوہ میں جس پہلو پر توجہ دلانا چاہ رہا ہوں وہ ہے dedicated سائٹ جو بنی ہی اس مقصد کے لیے ہو کہ اردو کمپیوٹنگ کے حوالے سے تمام تر معلومات انگریزی میں دستیاب ہو۔ اس میں ہم نہ صرف پی سی اور لینکس بلکہ میک کے لیے بھی کچھ شامل کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس دائرے میں شامل ہو سکیں۔

  10. Faisal says:

    ویسے تو کوئی ایسی بات نہیں جو اب تک کہی نہ جا چکی ہو لیکن میں اپنی ہی تسلی کیلئے ہی سہی، دہرا دیتا ہوں۔
    نبیل بھائی کی بات دل کو لگتی ہے اور میرے خیال میں اردو ویب سے زیادہ بہتر کوئی جگہ نہیں‌ہو سکتی ایسے انگریزی بلاگ کیلئے۔ لگے ہاتھوں ایک مشترکہ بلاگ کا تجربہ بھی ہو جائے گا (یعنی ایک سے زیادہ لوگوں کو یہ ذمہ داری سونپ دی جائے(۔ اسکے علاوہ اردو ویب تقریباً غیر متنازعہ ہی ہے۔ دوسری کسی جگہ پر شائد ذاتی تشہیر یا دیگر کوئی ایجنڈا کبھی نہ کبھی سر اٹھا لے۔
    آپ کا مارکیٹنگ کا مشورہ بہت اچھا ہے، اس سلسلے میں ہم دونوں ایک ہی صفحے پر ہیں۔ لیکن دوسری طرف ذرا مارکیٹنگ کرنے کے بعد کے حالات پر بھی غور کیجئے۔ آج کے تیز دور میں شروع کے چند سیکنڈ ہی قاری کو روکنے یا کھونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ معیاری تحریر کسی بھی زبان میں ہو، آپکو مجبور کرتی ہے کہ اسے پڑھا جائے۔ دوسری طرف روز چھپنے والے کالم جو مشہور کام نگار لکھتے ہیں اور آپ روز انکے اخبار پر کچھ اچھا پڑھنے کی امید میں جاتے ہیں، آپ کے چند منٹ سے زیادہ حاصل نہیں کر پاتے۔ حضور ذرا بلاگستان کی تحاریر (جس میں میری تحاریر بھی شامل ہیں( پر نظر دوڑائیے۔ معافی چاہتا ہوں‌مگر چند ایک کو چھوڑ کر معیار کا خاصا فقدان ہے۔ معیار سے مراد کئی ایک چیزیں ہیں، مثلاً موضوعات کا چناؤ، املا اور گرامر، لکھاری کی ذہنی رحجان وغیرہ۔ ایسے میں مارکیٹنگ کے ابتدائی فوائد کے بعد جو نقصانات ہونگے، آپ ان کا اندازہ خود لگا لیجئے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کمپنی کی ایک کراب پراڈکٹ استعمال کرنے کے بعد آپ وہ پراڈکٹ کئی برس استعمال نہیں‌کرتے چاہے وہ اگلے ہی ماہ سے بترین کام کرنا شروع کر دیں۔
    یہ منطق کہ انگریزی بلاگ بھی تو غیر معیاری ہیں لیکن ریڈر شپ رکھتے ہیں، کچھ دل کو لگتی نہیں۔ انگریزی بلاگ غیر معیاری ہی سہی، لیکن دیگر وجوہات کہ جنکا ذکر آپ نے بھی کیا ہے، کی وجہ سے بھی زیادہ لوگوں تک پہنچ پاتے ہیں، یعنی گوگل سرچ، اردو کمپیوٹنگ کی غیر موجودگی وغیرہ۔ فدوی کی ناقص رائے میں اردو کا انگریزی سے تقابل ہی غلط ہے۔ آخر یہ تقابل عرب ممالک میں یا ایران میں کیوں نہیں ہوتا؟

  11. Faisal says:

    اور اپنے اس تبصرے میں املا کی اغلاط کیلئے معذرت۔
    کسی وجہ سے آپ کا اردو کی بورڈ کام نہیں کر رہا، کہیں اور سے لکھ لکھ کر یہاں انڈیل رہا ہوں۔
    🙁

  12. ابو شامل صاحب آپ کی تجویز سے متفق ہوں ۔

  13. ابو شامل صاحب بات تو آپکی مناسب ہے۔

  14. اس کی کیا وجہ ہے کہ جو سب 'سوچ' رہے ہوتے ہیں وہ ہی آپ لکھ دیتے ہیں۔ 🙂
    حالانکہ آجکل کے دور میں لوگ کیا کچھ نہیں سرچ کر لیتے انٹرنیٹ پہ لیکن اردو کی بورڈ یا اردو لکھنے پڑھنے کا بارے کوئی سوچتا ہی نہیں۔۔۔ شاید اس لئے کہ کسی کو ضرورت ہی نہیں ہے!۔ 🙁
    دو ڈھائی سال سے تو میں بھی اردو بلاگ بنائے بیٹھا ہوں، لیکن میرے اپنے صرف چند قریبی دوستوں کے علاوہ فزیکل ورلڈ سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو خود کبھی کسی اردو بلاگ تک آیا ہو۔ خیر ہم بھی اپنی سی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں اور آپ جیسوں سے سیکھے جا رہے ہیں۔ آپ کا مشورہ انتہائی اہم ہے اور ماید ہے کہ اس میدان میں بھی کوئی مردِ قلندر جلد ہی اتر آئے گا۔ یعنی کہ "زبانِ غیر میں شرحِ آرزو" کی جائے گی اب!۔ 🙂

  15. بہت اچھی اور قابل عمل تجویز ہے۔

  16. ایک علیحدہ ویب سائٹ کی تجویز بلا شبہ بہت عمدہ ہے اور اس پر کام ہونا چاہئے اگر زبانِ غیف میں لکھاری درکار ہیں تو میں حاضر ہوں اسکے علاوہ مارکیٹنگ کا ایم ایس سی بھی اس مقصد کے لئے استعمال کرنے کو تیار ہوں.

    ایک مشورہ ہے کہ کیوں نہ ان لکھاری بھائی صاحب کس ایک عدد برقی سندیسہ بھیجا جائے اور انکو اطلاع دی جائے کہ وہ کچھ حقائق درست انداز میں بیان نہ کر پائے. اس سے شائد کوئی بڑا فرق شاید نہ پڑے مگر کل کو اگر یہ کتاب نئے اضافوں کے مرحلے سے گزرتی ہے تو اس میں فونٹس بارے معلومات بھی شامل ہو جائے.

  17. آداب عرض ہیں، صاحبو!
    آپ سب سچ کہتے ہیں۔ اردو بلاگنگ کے بارے میں کامل آگہی کے لیے ایک انگریزی ویب سائٹ ضروری ہو گئی ہے۔ مگر آپ نے غور کیا، کیوں؟
    میں سمجھتا ہوں کہ اس کی وجہ صرف فونٹس یا دیگر اس قسم کے محرکات نہیں ہیں۔ ایک ہاتھی کا پاؤں ہے جس میں یہ سب پاؤں آ جاتے ہیں۔ اور وہ ہے سرچ انجن آپٹمائزیشن۔ اردو بلاگز اور ویب سائٹس کو بھی لوگ اردو میں نہیں کھوجتے۔ گوگل، بنگ یا یاہو پر انگریزی ہجوں میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ان کھوج کلوں کی میکانیت کے لیے ٹرانسلیٹریشن ہنوز ایک نہایت دشوار امر ہے۔ یعنی یہ سرچ انجنز انگریزی ہجوں میں دیے گئے الفاظ کو اردو ہجوں پر صحت سے منطبق نہیں کر سکتے۔
    لہٰذا بڑے مسائل بالفعل دو ہیں۔ ایک تو یہ کہ اردو کے قارئین کے رویے بدلنے چاہییں۔ ان میں یہ شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر انھیں اردو مواد درکار ہے تو انھیں اردو ہجوں ہی میں اس کی تلاش کرنی چاہیے۔ دوسری اہم بات ہے کہ اردو بلاگ نویسوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بلاگز کی سرچ انجن رینکنگ کے حوالے سے توجہ دیں اور اس سلسلے میں لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس سے آگاہ رہا کریں۔
    اگر کوئی صاحب تکنیکی نکتہءِ نظر سے اردو کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو میرے خیال میں اردو انگریزی آٹومیٹک ٹرانسلیٹریشن کے میدان میں سب سے زیادہ ضرورت موجود ہے۔ فونٹس وغیرہ جیسے مسائل تو کب کے حل ہو چکے!

  18. Sarwataj says:

    اردو میں بلاگنگ کا تصور ابھی بھی زیادە عام نہیں ہے۔ اسی لئے جب آپ اس دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو کچھ عرصے تک " مجنوں نظر آتی ہے، لیلیٰ نظر آتا ہے" لیکن جب عقدە وا ہوتا ہے تو پہلی بات یہ سمجھ آتی ہے کہ بلاگنگ کی دنیا اول تو ویسے ہی پاوٴں پاوٴں چل رہی ہے ، اوپر سے اس میں اردو اور انگریزی کے اعتبار سے بلاگرز قبیلہ دو حصوں میں تقسیم ہے۔ اور یہ تقسیم باقاعدە سوچ اور نظریے کے اعتبار سے بھی ہے۔

  19. فرحت طاہر says:

    بہت اچھا بلاگ ہے! اگر میں ایک لفظ میں کہنا چاہوں تو وہ ہے تساہل ! مجھ سمیت جو چار سال سے بلاگ لکھ رہی ہوں دیگر اردو بلاگرز کے بارے میں چنداں معلومات نہیں ۔ آپ کی کو ششوں کو سلام ! جو کام ہم کریں اس کی مناسب تشہیر بھی بہت ضروری ہے

  20. مکی says:

    حسبِ عادت آپ نے ایک بار پھر ایک اچھی تجویز پیش کی ہے جس پر عمل درآمد ہونا چاہیے تاہم اب ہمیں مارکیٹنگ کے پرانے طریقوں کو بدلنا ہوگا ورنہ کام نہیں چلے گا، سائٹ بنائیں اور تمام قومی اخبارات میں اسے مشتہر کرنے کے لیے اشتہارات دیں، اوسط اشتہار کی قیمت 2500 روپے ہے، تمام ❞محبانِ اردو❝ کو جیب ہلکی کرنے کے لیے کہیں۔

  21. بہت اچھی تحریر ہے۔ میرے خیال میں اردو بلاگرز وغیرہ کو انگریزی بلاگرز وغیرہ کے ساتھ زیادہ ربطے میں رہنا چاہیے اور اپنی اردو کی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔ اگر وہ لوگ اردو کے بارے میں کچھ مضمون انگریزی میں لکھیں گے تو اسکا بہت فائدہ ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.