چوہدری شجاعت حسین پھر جاگ گئے

پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں تقریباً نو سال تک ملکی معاملات چلانے کے لیے تشکیل دی گئی قومی ٹیم کے سینٹر فارورڈ اگر شوکت عزیز تھے تو فل بیک کی اہم پوزیشن چوہدری شجاعت حسین کے پاس تھی۔ جنرل مشرف نے اپنے کیرئیر میں بڑے بڑے معرکہ انجام دیے۔ اور بعض تو ایسے حیرت انگیز کہ عقل حیران رہ جائے۔ ایوب خان کے زمانے میں صرف چینی کی قیمت میں چند پیسوں کا اضافہ ہوا تو قیامت کھڑی ہو گئی تھی لیکن مجال ہے کہ اکبر بگٹی کے قتل سے، محسن پاکستان کی نظر بندی تک، سینکڑوں پاکستانیوں کی گمشدگی سے ملکی حدود میں امریکی ڈرون حملوں اور نفع بخش قومی اداروں کی فروخت تک۔ کہیں کوئی حکومت مخالف تحریک کھڑی ہونے پائی ہو۔ دراصل ایوب خان کے پاس سینٹر فارورڈز تو بہت تھے لیکن چوہدری شجاعت حسین جیسا فل بیک نہیں تھا۔ یہاں حکومت بھنور میں پھنسی وہاں چوہدری صاحب حرکت میں آگئے۔

امریکا بہادر جب حکومت کے پرخلوص تعاون کے بعد خطے میں قدم جمانے میں کامیاب ہوا تو اسے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کا خیال آیا۔ یقیناً دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فراخدلانہ پاکستانی تعاون کا اس سے اچھا صلہ کیا ہوسکتا تھا۔ چوہدری شجاعت حسین کو یہ ذمے داری سونپی گئی کہ محسن پاکستان سے وسیع تر ملکی مفاد میں اعتراف جرم کرایا جائے۔ ڈاکٹر صاحب تیار نہ ہوئے تو چوہدری صاحب نے ملکی مفاد اور قومی سلامتی کا واسطہ دے کر ڈاکٹر صاحب کو راضی کیا۔ ساتھ آزادی صلب نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ لیکن بعد ازاں ملکی مفاد میں قوم کے محسن کو نظر بند کردیا گیا اور چوہدری صاحب ناراض بلوچ سرداراکبر بگٹی کو منانے کے نکل پڑے۔

جلد ہی چوہدری صاحب مسئلے کے حل کی نوید سنانے لگے۔ اتفاق رائے کی باتیں ہونے لگیں۔ دوستوں نے سکھ کا سانس لیا کہ چلو روٹھے ہوئے مان گئے۔ لیکن پھر اچانک ایک آپریشن شروع ہوا اور پھر سردار اکبر بگٹی اس دنیا میں موجود نہ رہے۔

سردار صاحب کے بعد چوہدری صاحب کا ہدف تھے لال مسجد کے غازی برادران۔ معاملہ اپنی انتہا کو پہنچا تو چوہدری صاحب نے مذاکرات کا ڈول ڈالا۔ اور پھر مذاکرات کی کامیابی کی خبریں نشر ہونے لگیں لیکن لال مسجد میں بھی وہی ہوا جو اسے سے پہلے ڈاکٹر خان اور اکبر بگٹی کے ساتھ ہوتا آیا تھا۔

اب چوہدری شجاعت جیسے قیمتی مشیر کی موجودگی میں صدر مشرف کا اعتماد پورے عروج پر تھا اور اسی حد سے بڑھی خود اعتمادی میں وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سے جا ٹکرائے۔ اس زبردست ٹکراؤ کے نتیجے میں جنرل صاحب کو شدید چوٹیں آئیں اور مرہم پٹی کے لیے ہمیشہ کی طرح چوہدری شجاعت کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ تو ہوا لیکن افتخار چوہدری ایک اعلٰی تعلیم یافتہ چوہدری تھے۔۔ لہٰذا یہاں دال گلنے کا سوال ہی نہ تھا۔

آج کل چوہدری شجاعت حسین مرحوم ظہور الٰہی کی روح کو ڈھیروں ثواب پہنچاتے ہوئے پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہیں اور صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان نے چوہدری صاحب کے شاندار ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں ایم کیو ایم کو منانے کی ذمے داری سونپی ہے۔ اب خدا جانے یہ ایم کیوایم کے ساتھ دوستی ہے یا دشمنی۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

7 تبصرے

  1. اب لیاری میں وہ ھالات پیدا کر دئیے گئے کہ لوگ وہاں سے اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں. یہ پاکستانی ٹی وی کی خبر ہے. لیاری میں ہونے والے ان فسادت کے پیچھے علاقے کے مکینوں کے مطابق لیاری کے گینگز کے افراد شامل ہیں. یہ وہی افراد ہیں جنہیں جناب ذوالفقار مرزا نے اپنے بچے قرار دیا. کراچی کے دیگر علاقوں کے لوگوں سے ھاصل گفتگو کے مطابق قصبہ کالونی میں ہونے والے فسادات میںنہ صرف پشتون ھملہ آور شامل تھے بلکہ لیاری کے گینگز سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی تھے.
    سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک ایسے وقت میں چوہدری شجاعت جیسی شخصیات پہ لکھنا ضروری ہے یا ھکومت پہ یہ زور ڈالنا ضروری ہے کہ وہ ریاستی دہشت گردی سے باز رہے.
    بالکل یہی واقعات انیس سو چھیاسی میں ریاست کی نگرانی میں ہوئے اور پچیس سال بعد دوبارہ یہی واقعات ریاست کی رضامندی سے ہو رہے ہیں. ان پچیس سالوں کے دوران لکھنے والوں نے اپنے معاشرے میں تبدیلی کے لئے کیا کیا. وہ اس سانحے کے دوبارہ دوہرائے جانے سے پتہ چلتا ہے.

  2. ارے بھائی ابو شامل ۔۔۔۔۔۔ یہاں کوئی کسی سے کم نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔
    چاہے وہ امن کمیٹی کے ممبرز ہوں کہ جنکا کام ہی امن کو تہس نہس کرنا ہے یا پھر بی بی کے جیالے ہوں ۔۔۔۔۔۔ جس کا جب داؤ لگتا ہے وہ اپنا کام کرتا ہے ۔۔۔۔۔ باقی چوہدری شجاعت کی ماضی کی کوششوں کو اگر دیکھا جائے تو ۔۔۔۔ نتیجہ وہی ہوگا جو پہلے ہم سب دیکھ چکے ہیں ۔۔۔۔۔ اور بھائی خالی لکھنے سے کم سے کم اب کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔ اور میں تو کہتا ہوں کہ اسے پہلے مزید حالات درگوں ہو کسی ٹھنڈے ملک میں بیٹھ کر کافی کے مگ کے ساتھ لکھائی اور پڑھائی کریں ان شاءاللہ بہت فائدہ ہو گا 🙂

  3. چوہدری شجاعت کی تو کیا بات ہے جناب اور ایم کیو ایم کو دوست و دشمن کی خوب پہچان ہے۔ مفاہمت کے نام پر تو جو کچھ پچھلے 3 سالوں سے کرتے آرہے ہیں وہ تو سب کی نظروں کے سامنے ہی ہے۔

    پاکستان کے عوام ریاستی دہشت گردی کا تو ہمیشہ سے شکار رہے ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوا 12 مئی کو بھی سرکار کی مدعیت میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی اور اسلام آباد سے ارشاد ہوا تھا کہ عوامی قوت کا مظاہرہ ہے۔ اس وقت ان لکھنے والوں کو ہوش نہیں تھا کہ اپنے ملوث تھے۔ اس کے بعد بھی ریاستی اور سیاستی دہشت گردی کے درجنوں مظاہر وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے لیکن لوگوں کو صرف لیاری گینگ وار یا طالبانائزیشن وغیرہ نظرآتی رہی۔۔۔

    ویسے یہ بھی کیا ہی خوب ہے۔ جب ان نام نہاد حق پرستوں کو لہو کی ضرورت پڑتی ہے۔ اورنگی اور قصبہ مشق ستم بنادیا جاتا ہے اور یہ اصلی تے سُچے مہاجر ان دوسرے درجے کے مہاجروں کے غم میں مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے خوب سودے بازی کرتے ہیں۔۔۔

  4. عبداللہ says:

    دہشت گردوں کے ہمدرد فورا تڑپ اٹھتے ہیں کہ کہیں لوگوں کا دھیان ایم کیو ایم سے ہٹ کر ان کی طرف نہ چلا جائے ،سو وہی لن ترانیاں الاپنا شروع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

  5. ایم کیو ایم نےتین سال میں حکومت کے ساتھ خوب نبھاکیاہے لیکن اب یہی نظرآرہاہے کہ وہ حکومت کے ساتھ دوبارہ اتحاد کے لئے راضی نہیں ہوگی اور ہاں لیکن حکومت کی غلط پالسیوں کی بدولت ہی کراچی کی یہ حالت ہوئی ہے وہاں پر وہی اپنی حکومت کا مسئلہ ہے جس کے لئے خون غریب عوام دیتےہیں۔ اور پھرا ن کے خونوں پر پارٹیاں سیاست کرتیں ہیں سچ تو ہے کہ جب یہ حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں توجوپارٹی کے صدرہیں تینوں پارٹیوں کے انہیں چاہیے کہ اپنی سیکورٹی کے بغیر ذرہ ان علاقوں میں دورہ توکرکےدکھائیں ان کے ساتھ سیکورٹی اتنی ہوتی ہےکہ الامان اللہ تعالی سےدعاہےکہ بجائے ہم کوایکدوسرےسے دست وگریبان ہونےکےایکدوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔ آمین ثم آمین

  6. ابوشامل says:

    کیا ظلم کرتے ہیں جناب؟ ڈاکٹر قدیر، غازی برادران اور بگٹی صاحب کو متحدہ سے ملا رہے ہیں؟ یہ اصول پسند لوگ تھے، دو نے تو جان دینا گوارہ کر لی لیکن سودے بازی نہیں کی، ایک کی زندگی مفلوج کر دی گئی، کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ متحدہ کے ساتھ کچھ ایسا ہونے جائے گا؟ ہر گز نہیں۔۔۔۔ یہ ایسے ہی بلیک میل کر کے حکومت کے مزے لوٹتے رہیں گے جب تک کہ ان کے پیر صاحب لندن میں حیات ہیں، ان کے بعد آپس ہی میں لڑتے رہیں گے۔

  7. جعفر says:

    بارہ سنگھے دم والے بھی آنے شروع ہوگئے ہیں اور دم بھی اس جانور کی جس کے ساتھ انکل جپھیاں پاکے تصویریں کھنچواتے تھے۔ لہذا یہ دم کبھی سیدھی ہونے والی نہیں۔ کراچی میں ہزاروں بندے مارنے والے مہذب اور بااخلاق اور پتہ نہیں کیا کیا ہیں۔ باقی سارے دہشت گرد۔۔۔ در ترین شاباش۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.