تنِ حرم میں رُوحِ بت خانہ

محترم عبدالخالق بٹ ہمارے بہت عزیز دوست ہیں اور انہوں نے ناچیز کے بلاگ کے لیے اپنی ایک تحریر ارسال کی ہے، جس پر میں ان کا بہت شکر گزار ہوں۔

تنِ حرم میں رُوحِ بت خانہ

تحریر: عبدالخالق بٹ

مساجد کو اسلامی معاشرے میں ہمیشہ ہی سے مرکزیت حاصل رہی ہے، اور اس کی سب سے روشن مثال مسجدِ نبویؐ ہے، جسے بیک وقت عبادت گاہ، مشاورت گاہ، تربیت گاہ، عدالت، حکومت کا سیکرٹریٹ اور جہادی سرگرمیوں کے کمانڈ ہیڈکواٹر کا مقام حاصل تھا۔

مسجد کی اسی ہمہ گیر افادیت اور مسلمانوں کی اس سے محبت کے پیشِ نظر ہی منافقین مدینہ نے ’’مسجد ضرار‘‘ بنائی تھی، تاکہ یہاں رہتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشی سرگرمیاں با آسانی جاری رکھ سکیں اور عام مسلمانوں پر اُن کی پارسائی کا پردہ بھی پڑا رہے۔ مگر خود اللہ نے منافقین کی سازش کا پردہ چاک کردیا:

کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے ایک مسجد بنائی اِس غرض کے لیے کہ (دعوتِ حق کو) نقصان پہنچائیں، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں، اور اہلِ ایمان میں پھوٹ ڈالیں، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اُس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور اُس کے رسولؐ کے خلاف برسر پیکار رہ چکا ہے۔ وہ ضرور قسمیں کھا کھا کرکہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ تم اس عمارت میں کھڑے نہ ہونا۔ جو مسجد اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اُس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو، اُس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں۔ (سورہ توبہ:108 – 107)

’’مسجد ضرار‘‘ کا یہ واقعہ قرآن حصہ بن کر تاقیامت محفوظ ہوگیا اور یوں صدیوں تک پھر کسی کو ’’مسجد‘‘ کے نام پر دھوکا دینے کی ہمت نہیں ہوئی، یہاں تک کہ مسلمان اپنا عروج دیکھ کر زوال کی راہ پر لڑھکنے لگے، اور یورپ نشاۃ ثانیہ سے گزر کر عالمی سیادت کا دعویدار بن گیا، عظیم خلافتِ عثمانیہ (i) یورپی اقوام کی چیرہ دستی اور شریفِ مکہ (ii) (پیدائش:1852ء – وفات:1931ء) اور مصطفی کمال پاشا اتاترک (iii) (پیدائش: 1881ء – وفات: 1938ء) کی امت سے بے وفائی کے سبب 1924ء میں ختم کردی گئی۔

چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا

سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ

(نظم:غرۂ شوال یا ہلالِ عید/بانگِ درا)

یہ اسلامی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب مسلمان مرکزِ خلافت سے محروم کردیے گئے، اور یوں حضرت ابوبکرصدیق ؓ (وفات:13 ہجری) سے شروع ہونے والا سفرِ خلافت خلیفہ عبدالمجید خان ثانی (پیدائش: مئی1868ء – اگست/ستمبر 1944ء) کی برطرفی پر تمام ہوا۔

سلسلہ خلافت کے انقطاع میں تمام یورپی اقوام حصہ بقدرِ جثہ کے مصداق شریک تھیں۔ یورپ مسلم دنیا پر چڑھ دوڑا تھا، ایسے میں الجزائر، تیونس، شام اور لبنان فرانسیسی استبداد کا نشانہ بنے، فرانس اپنے مقبوضات کے لیے اٹِیلا (iv) اور ہلاکو (v) ثابت ہوا۔ صرف سرزمین شام میں فرانس نے1924ء کے دوران بیس ہزار مسلمان شہید کردیے، فرانسیسی توپ خانے اور جنگی جہازوں نے دومرتبہ دمشق کو گولہ باری کا نشانہ بنایا۔

سرزمینِ شام کو متعدد انبیائے کرام اور صحابہؓ کی آخری آرام گاہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے، پھر دارالحکومت دمشق کا شمار دنیا کے اُن چند قدیم ترین شہروں (vii) میں ہوتا ہے جہاں ہزاروں سال میں ایک دفعہ بھی زندگی معدوم نہیں ہوئی اور یہ شہر طویل عرصہ سے آباد چلے آرہے ہیں۔

سر زمین انبیاء میں اس قتل عام نے مسلمانوں میں بے چینی کی لہر پیدا کردی تھی، جسے فرانسیسی استعمار نے بھی بھانپ لیا تھا، لہٰذا مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے اور انھیں اپنی اسلام دوستی کا یقین دلانے کے لیے پیرس میں مسجد کی تعمیر کے لیے زمین دینے کا اعلان کیا۔ اور یوں 1926ء میں پیرس کے انتظامی علاقے نمبر5 میں ’’جامع مسجد پیرس‘‘ (Grande Mosque de Paris) کا قیام عمل میں آیا۔

جامع مسجد پیرس ’’المغرب‘‘ طرزِ تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہے، دس ہزار نمازیوں کی گنجائش کے ساتھ اسے یورپ کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ مسجد کا افتتاح اُس وقت کے فرانسیسی صدر گستون دومرگ (viii) (پیدائش: یکم اگست 1863ء – وفات: 18 جون 1937ء) نے کیا جب کہ پہلی نماز صوفی شیخ احمد بن مصطفی العلاوی (ix) (پیدائش: 1864ء – وفات: 14 جولائی 1934ء) کی امامت میں ادا کی گئی۔(x)

یورپ کے قلب میں ایک پُر شکوہ مسجد کا قیام بظاہر ایک اہم واقعہ تھا مگر علامہ ڈاکٹر محمد اقبال (پیدائش: 9نومبر1877ء – وفات: 12اپریل 1938ء) کی عمیق نگاہیں اس مسجد کی تعمیر کے پس پردہ فرانسیسی استعمار کے مقاصد کو بھانپ گئیں لہٰذا انھوں نے ’’پیرس کی مسجد‘‘ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا:

مری نگاہ کمالِ ہنر کو کیا دیکھے
کہ حق سے یہ حرمِ مغربی ہے بیگانہ!
حرم نہیں ہے فرنگی کرشمہ بازوں نے
تن حرم میں چھپادی ہے روح بُت خانہ!
یہ بت کدہ اُنھیں غارت گروں کی ہے تعمیر
دمشق ہاتھ سے جن کے ہُوا ہے ویرانہ!
(نظم : پیرس کی مسجد /ضربِ کلیم)

ایک اور مقام پرفرانس کے ہاتھوں شام کی لہو رنگ داستان کا ذکر اِن الفاظ میں کیا:

رندانِ فرانسس کا مے خانہ سلامت
پُر ہے مئے گل رنگ سے ہر شیشہ حلب کا
(نظم: فلسطین /ضربِ کلیم)

مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور اُن پر ڈھائے جانے والے مظالم کے باوجود اپنی ’’مسلم دوستی‘‘ کے ثبوت کے طور پر ’’مسجد کی سیاست‘‘ صرف مسجدِ ضرار اور جامع مسجد پیرس تک ہی محدود نہیں بلکہ اس منافقانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ ماضی قریب میں شیشان (Chechnya) میں بھی کیا گیا۔

قفقاز (xi) کے علاقے میں شیشان ہمیشہ سے مزاحمت کا مرکز رہا ہے۔ پہلے زارِ روس (xii) پھر سوشلسٹ روس اور اب روسی فیڈریشن (xiii) ، ہر دور میں ماسکو نے قفقاز کے مسلمانوں کو زیرِ دام لانے کے لیے بدترین مظالم ڈھائے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ روسی افواج کو یہاں چپے چپے پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، ماسکو کی بالادستی کے خلاف علمِ جہاد بلند کرنے والوں میں مندرجہ ذیل افراد کو نمایاں مقام حاصل ہے:

٭ امام منصور(xiv) (وفات:1785ء)،٭امام شامل (xv) (پیدائش:1799ء – وفات:1871ء)، ٭ جوہر دادیوف (xvi) (پیدائش: 15 فروری1944ء – شہادت: 21اپریل1996ء)، ٭ زیلم خان یندربائیوف (xvii) (پیدائش: 12ستمبر 1952ء – شہادت: 13فروری2004ء)، ٭ اسلان مسخادوف (xviii) (پیدائش: 21ستمبر 1951ء – شہادت: 8مارچ 2005ء) ،٭ شامل بسائیوف (xix) (پیدائش: 4جنوری 1965ء – شہادت: 10جولائی2006ء)۔

اہلِ شیشان کا جذبہ حریت ایک زندہ حقیقت ہے جس کا ماسکو نے سالہا سال تلخ تجربہ کیا ہے۔ اس لیے اس نے پہلی جنگِ شیشان (11ستمبر 1994ء – 13اگست1996ء) اور دوسری جنگِ شیشان (اگست 1999ء – مئی2000ء) کے دوران مجاہدین کے خلاف بدترین جبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے دارالحکومت گروزنی کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ اور حالات ’’معمول‘‘ پر آنے کے بعد ماسکو نے اہلِ شیشان کا ’’دل موہنے‘‘ کے لیے گروزنی کے نواح میں ایک ’’شاندار مسجد‘‘ تعمیر کردی۔

مسجد کا باقاعدہ افتتاح شیشان کے موجودہ صدر رمضان احمد قادروف (پیدائش: 5اکتوبر1976ء) نے کیا۔ افتتاحی تقریب میں روسی وزیرِ اعظم ولادی میر پوتین (xx) (پیدائش: 7اکتوبر1952ء)
اور روسی صوبہ جات سے تعلق رکھنے والے مختلف مذاہب و مسالک کے سربراہان سمیت 18ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

مسجد کا نام سابق شیشانی صدر احمد عبدالحامد قادروف (پیدائش: 23اگست 1951ء- ہلاکت:9مئی 2004ء) کے نام پر ’’جامع احمد قادروف‘‘ رکھا گیا ہے، تاہم اسے ’’قلبِ شیشان‘‘ بھی کہا جارہا ہے۔ اکتوبر2008ء میں مکمل ہونے والی یہ مسجد استنبول کی مسجدِ سلیمان (تکمیل: 1558) کا عکس ہے، اس میں دس ہزار نمازی با آسانی سما سکتے ہیں۔ مسجد کی بیرونی اور اندرونی دیواریں کمیاب سنگِ مرمر سے مزین ہیں۔ مسجد میں آویزاں کتبے ترکی کے معروف خطاطوں کے قلمِ معجز رقم کا شہکار ہیں، ان کتبوں کے لیے قدرتی اور مصنوعی رنگ استعمال کیے گئے ہیں جو کم از کم نصف صدی تک برقرار رہ سکیں گے، اس کے علاوہ قرآنی آیات کے لیے اعلیٰ قسم کا سونا استعمال کیا گیا ہے۔ مسجد کی محراب8 میٹر اونچے اور4.6میٹر چوڑی ہے، جس کی تعمیر میں سفید سنگِ مرمر استعمال کیاگیا ہے۔ مسجد کے مرکزی گنبد کے اندرونی حصے میں آیاتِ قرآنی نقش ہیں جبکہ اس کے اردگرد اسمائے حسنیٰ درج ہیں۔ مسجد کی تزئین میں استعمال ہونے والی اشیا میں سب سے جاذبِ نظر وہ فانوس ہیں جو اعلیٰ ترین بلور (کرسٹل) سے بنائے گئے ہیں، یہ فانوس دنیا کی معروف مساجد (مسجد ِحرام، مسجد ِ بنویؐ، مسجد ِ اقصیٰ) کی شبیہ اور شیشانی طرزِ تعمیر کا نمونہ ہیں۔ مسجد کے مینار 62 میٹر بلند ہیں۔

مسجد کا کل رقبہ 135ایکڑ ہے، جس میں مسلمانوں کی ’’روحانی کونسل‘‘ کے دفاتر، اسلامی یونیورسٹی، لائبریری اور مہمان خانے کی عمارات واقع ہیں۔ جبکہ باغات، روشیں اور فوارے اس کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔

مسجد بنانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ احمد قادروف کا خواب تھا جو انھوں نے اس وقت دیکھا تھا جب وہ 80 کی دھائی میں استنبول میں زیرِ تعلیم تھے اور اس دوران ترکی میں فن تعمیر کا شہکار ’’مسجدِ سلیمان‘‘ کی پر شکوہ عمارت سے بیحد متاثر ہوئے تھے، اور انھوں نے عہد کیا تھا کہ وہ شیشان میں ایسی ہی مسجد تعمیر کریں گے، مگر وہ اپنی زندگی میں اس خواب کی تعبیر نہ پاسکے، اس کی تکمیل اُن کے بیٹے رمضان احمد قادروف نے کی۔

’’جامع مسجد قادروف‘‘ کی تعمیر و آرائش کا حال پڑھ کر یقینا دل کو طمانیت ہوئی ہوگی تاہم اگر تھوڑا سا غور سابق احمد قادروف اور اُن کے صاحبزادے رمضان احمد قادروف کے کردار اور مسجد کے افتتاح کے موقع پر موجود روسی وزیرِ اعظم ولادی میر پوتین کی شیشان پالیسی پر کیا جائے تو شاید فوراً بات سمجھ میں آجائے۔

پوتین سابقہ سوشلسٹ روس کے خفیہ ادارے KGB کے سابق سربراہ، موجودہ روسی فیڈریشن کے پہلے صدر بورس یلسن (پیدائش: یکم فروری1931ء -وفات: 23اپریل2007ء) کے اچانک مستعفی ہونے پر قائم مقام صدر، بعدازاں مسلسل دوبار باضابطہ صدر اوراب بحیثیت وزیراعظم فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کے کارناموں میں سب سے نمایاں کارنامہ قفقاز کی تحریک مزاحمت کا خاتمہ ہے۔ جس کے لیے انھوں حیلے اور ہتھیار سمیت ہر حربہ استعمال کیا اور حالات معمول پر آنے کے بعد احمد عبدالحامد قادروف کو ’’جمہوریہ شیشان‘‘ کا صدر نامزد کیا۔

احمد عبدالحامد قادروف پہلی جنگِ شیشان کے دوران شیشان کے مفتی اعظم کے فرائض انجام دے رہے تھے تاہم دوسری جنگ شیشان میں انھوں نے اس ذمہ داری سے سبکدوش ہوکر روسی سایہ عاطفت میں ملازمت اختیار کرنے کو ترجیح دی، اور اس دوران میں اپنی سابقہ پوزیشن کا جو اثر رہا ہوگا، اسے مجاہدین کے خلاف استعمال کرتے رہے نتیجتاً جنگ کے شعلے سرد پڑنے پر انھیں اِن کی شاندار خدمات کے صلے میں 5اکتوبر 2003ء کو ’’جمہوریہ شیشان‘‘ کا صدر بنا دیا گیا، مگر ماسکو کے ارمانوں پر اُس وقت اُوس پڑ گئی جب احمد قادروف صدربنائے جانے کے چند ماہ بعد ہی 9مئی 2004ء کو اُس وقت مجاہدین کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے جب وہ گروزنی میں دوسری جنگِ عظیم (1939ء – 1945ء) کی فتح کی یاد میں منعقدہ ’’وکٹری پریڈ‘‘ میں شریک تھے۔ احمد قادروف کے مارے جانے کے تھوڑے عرصہ بعد ہی اُن کے بیٹے رمضان احمد قادروف (پیدائش: 5 اکتوبر 1976ء) کو شیشان کا صدر بنادیا گیا۔

رمضان قادروف روسی فیڈریشن میں شامل ریاستوں کے سربراہان میں سب سے کم عمر صدر ہیں، پہلی جنگِ شیشان میں رمضان قادروف ماسکو کے ’’باغی‘‘ تھے، مگر ’’مچھلی کے جائے کو تیرنا کون سکھائے‘‘ کے مصداق رمضان قادروف نے ’’بغاوت سے اطاعت‘‘ تک کا سفر اتنی سرعت سے طے کیا کہ خود ماسکو بھی حیران رہ گیا اور اُن کے نظریات میں اس جوہری تبدیلی پر ولادی میر پوتین نے انھیں روس کے اعلیٰ ترین اعزاز ’’بطلِ روس‘‘ (Hero of Russia) سے نوازا اور پھر مارچ 2007ء میں انھیں اہلِ شیشان پر بطورِ صدر مسلط کردیا گیا۔

مسجد کی سیاست کا آغاز منافقین مدینہ کی ’’مسجد ِ ضرار‘‘ سے ہوا اور جو آسمانی فیصلے (التوبہ: 110-120) کے نتیجے میں مسجد کے انہدام کے ساتھ ہی تمام ہوگئی، اور کم وبیش ساڑھے تیرہ سو سال بعد اس منافقانہ نفسیات نے اولاً فرانس میں ظہور کیا اور ثانیاً روس میں اِس کے مظاہر سامنے آئے۔ مگر شائد اﷲکو کچھ اور منظور تھا،اسی لیے ان مساجدکے قیام سے مسلمان، یورپ کی ’’مسلم دوستی ‘‘ کے فریب میں تو نہیں آئے البتہ ان مساجد میں پانچ وقت اﷲ کی کبریائی ضروربیان کی جانے لگی۔ اور اللہ اسی طرح شر سے خیر برآمد کرتا ہے۔

……………… ٭٭٭………………٭٭٭………………
حواشی

(i) ایشیا ئے کوچک (اناطولیہ) میں ترکمان عثمان کی حکومت کا باقاعدہ آغاز عثمان خان (پیدائش:1258ء۔وفات:1324ء)کے عہد سے ہوا،عثمانیوں نے دیکھتے ہی دیکھتے ایشیا اور یورپ میں قدم جمانا شروع کردیے۔1518ء میں سلطان سلیم اوّل (پیدائش:1465ء ۔وفات : 1520ء) کے ہاتھوں مصر کی فتح پر عباسی خلیفہ متوکل سوم(مدت خلافت:1514ء تا 1518ء)، سلطان سلیم کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگیا اور یوں آلِ عثمان کی خلافت کا آغاز ہواجو چار سو سال تک برقرار رہنے کے بعد 3 مارچ1924ء کوسلطان عبدالمجید خان ثانی (مدت خلافت : 1922ء تا1924ء) کی معزولی کے ساتھ ہی اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔

(ii) شریف حسین نے عثمانی سلطنت سے بغاوت کے بعد 29اکتوبر 1916ء کو حجاز میں اپنی ’’بادشاہت‘‘ کا اعلان کیا،بعدازاں 3مارچ 1924ء کو خلافت کے خاتمے پر اس نے12مارچ1924ء کواپنی ’’ خلافت ‘‘کا اعلان کردیا،مگراُردن وعراق(جہاں اُس کے بیٹے حکمران تھے) کے سوا کسی نے بھی اُس کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا۔دوسری طرف عبدالعزیز ابن سعود(جنوری1876ء ۔نومبر1953ء)کی پیش قدمی نے شریف حسین کو اہل ِ خانہ سمیت سرزمین حجازچھوڑنے پر مجبور کردیا،اس کا انتقال 6جون1931ء کواردن میں ہوا۔اس کا سلسلہ نصب 37ویں پشت میں حضرت علیؓ سے جاملتا ہے۔’شریف‘اس کے نام کا حصہ نہیں تھا بلکہ خاندانِ رسالت سے تعلق کی وجہ سے عربوں میں سادات کو’شریف‘کہا جاتا ہے۔

(iii) مصطفی کمال پاشا اتاترک یونان کے شہر سالونیکا میں پیدا ہوا،ابتدائی تعلیم کے بعد فوجی اسکول میں داخلہ لیا اور تکمیل تعلیم کے بعد فوج میں منصب سنبھالا۔ مصطفی کمال نے 1906ء میں ’’وطن وحریت‘‘کے نام سے ایک خفیہ تنظیم کی بنیاد رکھی،جسے بعد ازاں تنظیم ’’اتحاد و ترقی‘‘ میں ضم کر دیا، جنگ ِ عظیم اول کے دوران میں انھوں نے گیلی پولی کے معرکے میں برطانیہ اور فرانس کی متحدہ قوت کو پسپا کر کے بین الاقوامی شہرت حاصل کی،’’خلافت عثمانیہ‘‘ کا خاتمہ‘‘، ’’جمہوریہ ترکیہ‘‘ کا قیام اور’’پر تشدد سیکولرازم کا فروغ ‘‘اُن کے نمایاں ’’کارناموں‘‘ میں شامل ہیں۔

(iv) یورپ میں ہن سلطنت کا بانی،جسے تاریخ میں ’’قہرالٰہی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس نے مشرقی و مغربی رومی حکومتوں سمیت یورپ کے ایک بڑے حصہ کو روند ڈالا تھا۔

(v) منگول حکمران چنگیز خان کا پوتا اور ’ایل خانی‘ حکومت کا بانی، اسماعیلیوں کے مرکز ’’قلعہ الموت‘‘ کی تباہی کے بعد اس نے 1258ء میں ابن ِ علقمی کے اُکسانے پر بغداد کا رُخ کیا اور اُسے کھنڈرمیں بدل دیا اور عباسی خلیفہ مستعصم باﷲ (1213ء۔1258ء)سمیت ہزار ہا افراد کو تہہ تیغ کردیا۔

(vi) دیگر شہروں میں صنعاء(یمن)،ارابیل(کردستان/عراق)،پرش پورہ /پشاور اور سیالکوٹ (موجودہ پاکستان) شامل ہیں۔

(vii) ’’المغرب‘‘جغرافیائی اصطلاح ہے جسے عرب عہدِ قدیم سے استعمال کرتے آئے ہیں۔’’المغرب‘‘ کا اطلاق الجزائرتیونس،مراکش،لیبیا،پرتگال اور اسپین کی سر زمین پر ہوتا ہے۔

(viii) ’’گسٹون دومرگ‘‘کٹّر نظریات رکھنے والے پروٹسٹنٹ عیسائی تھے،جن کا شمار فرانس کے منجھے ہوئے سیاستدانوں میں ہوتا تھا،گسٹون دومرگ دومرتبہ فرانس کے وزیر اعظم اور ایک مرتبہ فرانس کے عہدہ صدارت پر متمکن رہے۔

(ix) شیخ احمد بن مصطفی العلاوی کا تعلق سوڈان سے تھا اور وہ ماڈرن صوفی ازم کے علمبردار اور تصوف میں سلسلہ ’’ضرقوّ یہ‘‘ کے بانی تھے۔

(x) پہلی امامت کے لیے ’’ماڈرن صوفی ‘‘کا انتخاب بھی بڑا معنی خیز ہے،یہی ذہنیت آج امریکی استعمار کے ان اقدام میں پنہاں ہے جو وہ’’صوفی ازم‘‘کے فروغ کے لیے کر رہا ہے۔

(xi) قفقاز وہی علاقہ ہے جسے بچوں کی کہانیوں میں ’’کوہ قاف‘‘ کہاجاتا ہے۔یہ ایک جغرافیائی اصطلاح ہے،جو بحیرۂ خزر سے بحیرۂ اسودکے درمیان واقع سرزمین کے لیے استعمال کی جاتی ہے ۔یہ علاقہ جنوبی (ایشیا)اور شمالی(یورپ) قفقاز میں تقسیم ہے۔

(xii) ’’زار‘‘ دراصل سیزر(cesar)کا روسی تلفظ ہے جو عربی میں’’قیصر‘‘ ہوگیا ہے،روس کے مطلق العنان بادشاہ جو آرتھوڈکس فرقے کے مذہبی رہنما بھی تھے ’’زار‘‘کہلاتے تھے،زاروں کی بادشاہت1917ء میں کمیونسٹ انقلاب کے نتیجے میں ختم ہوئی۔

(xiii) ’’روسی فیڈریشن ‘‘ سابقہ USSRکی ریاستوں کا مجموعہ ہے، ہے جو 1991ء میں سوشلسٹ روس انہدام کے بعد وجود میں آئی۔

(xiv) امام منصور ؒ قفقاز کے اولین مزاحمت کرنے والوں کے سالاراعلیٰ تھے۔

(xv) امام شامل ؒ شمالی قفقاز کے مسلمانوں کے عظیم رہنما تھے،جن کی قیادت میں زارنِ روس کے خلاف بے مثل معرکے لڑے گئے،گوریلا جنگ کی جدیدتاریخ میں امام شاملؒ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔فرانسیسی مصنفہ ’’لیز لی بلانش‘‘ کی کتاب ’’شمشیرِ فردوس‘‘ میں آپ کی گوریلا حکمتِ عملی کازبردست تجزیہ پیش کیا گیا ہے،یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب دنیا کی بہت سے ملٹری اکیڈمیز کے لازمی نصاب کا حصہ ہے، آپ کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا اور جنت البقیع میں تدفین عمل میں آئی۔

(xvi) جوہر دادیوف کو روسی فوج میں کلیدی عہدہ حاصل تھا تاہم انھوں نے روسی فوج میں اپنے روشن مستقبل پرقومی آزادی کو ترجیح دیتے ہوئے ’’جمہوریہ شیشان‘‘کی آزادی کا اعلان کردیا۔آپ نے پہلی جنگِ شیشان میں روس کی افواج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا،انھیں روس نے امریکی معاونت سے 1996ء میں ایک میزائل حملے میں شہید کردیا۔

(xvii) زیلم خان یندربائیوف،آزادجمہوریہ شیشان کے دوسرے سربراہ تھے،آپ نے اپنے پیش روصدر جعفردادیوف کی طرح روسی افواج کے خلاف جہادی سرگرمیاں جاری رکھیں۔آپ کو 13فروری 2004ء کو روسی خفیہ ادارے نے قطر میں ایک بم دھماکے میں شہید کیا۔

(xviii) اسلان مسخادوف،زیلم خان کی شہادت کے بعد جمہوریہ شیشان کے تیسرے صدر تھے،آپ نے بھی روس کے خلاف زبردست مزاحمت جاری رکھے اور اس راہ میں مرتبہ شہادت حاصل کیا۔

(xix) شامل بسایوف نے پہلی اور دوسری جنگ ِ شیشان میں روسی افواج کے خلاف زبردست دادِ شجاعت دی۔آپ 10 جولائی 2006ء کو انگشتیا کے ایک گاؤں میں روسی فوجیوں سے ہونے والی جھڑپ میں شہید ہوئے۔

(xx) سینٹ پیٹرز برگ میں پیدا ہونے والے ’ولادی میر پوتین ‘ سابق سوشلسٹ روس کے خفیہ ادارے KGB کے سابق سربراہ ہیں،انھیں دسمبر1999میں صدر بورس یلسن کے اچانک مستعفی ہونے پر روس کا قائم مقام صدر نامزد کیا گیا،بعدازاں 2000ء اور 2004ء میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں مسلسل دوبار روسی فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے اور آجکل روسی فیڈریشن کے وزیر ِ اعظم،یونائیٹڈ رشیا اور کونسل آف منسٹرز کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

9 تبصرے

  1. ظفر اقبال says:

    مضمون نہایت شاندار اور لائق تحسین ہے

  2. فیصل says:

    بہت چشم کشا اور معلومات سے پُر تحریر ہے۔ بہت عرصے بعد بلاگستان میں اتنی محنت سے لکھی گئی تحریر پڑھنے کو ملی ہے۔

  3. اور اللہ اسی طرح شر سے خیر برآمد کرتا ہے۔!!!
    اس میں کوئی شک نہیں۔!
    صاحب تحریر عبدالخالق بٹ صاحب کو اور آپکو اس تحریر کو ڈھونڈ نکال کر اپنے بلاگ کی زینت بنانے پہ خدا جزائے خیر دے۔ آمین

  4. از راہ کرم، مندرجہ بالا رائے میں “ڈھونڈ نکال کر” ان الفاظ کو فاضل سمجھا جائے۔ کیونکہ یہ الفاظ سہواَ لکھے گئے ہیں۔

  5. اسد احمد says:

    بہت عمدہ تحریر ہے۔۔۔اگر عبدالخالق بٹ صاحب مستقل لکھتے رہیں تو ہم جیسوں کی جہالت میں بھی کچھ کمی ہوسکے گی

  6. Naseem Akhter Shaikh says:

    کافی عرصے کے بعد ایک اچھی تحریر پڑھنے کو ملی اور ایسا لگا کہ میں اس ماحول کا حصہ ہوں لیکن کچھ لفظوں کی تکرار سے دلچسپی میں اضافہ ہوا میری طرف سے مبارکباد قبول ہو۔

  7. عبد الخالق بٹ says:

    السلام علیکم
    آپ سب حضرات کا شکریہ جنہوں نے خاکسار کی تحریر کو لائق توجہ جانا ،
    بھائی اسد سے درخواست ہے کہ اگر وہ مکررات کی نشاندہی کردیں تو آئندہ مضامین میں اس سے بچا جا سکتا ہے ۔
    دعاؤں کا طالب
    عبدالخالق بٹ

  8. عبد الخالق بٹ says:

    یہاں بھائی اسد کا نام سہوا درج ہوگیا ہے اسے نسیم اختر شیخ پڑھا جائے
    عبدالخالق بٹ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.