طالبان سے مذاکرات کا ایک اور ڈول

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات سے متعلق ’’انکشافات‘‘ پر مبنی رپورٹ کو بیس اکتوبر کی اشعات میں اپنی ٹاپ اسٹوری بنایا ہے۔ جو آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ خود ہی اپنی تردید کرتی چلی جاتی ہے۔ اخبار نے رپورٹ کی سرخی تو چند دن قبل سامنے آنے والے ڈیوڈ پیٹریاس کے اس بیان کو بنایا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نیٹو نے طالبان رہنماؤں کو افغان حکومت سے مذاکرات کے لئے پاکستانی سرحد سے کابل تک کا محفوظ راستہ فراہم کیا ہے۔ اخبار نے یہاں تک بھی لکھا ہے کہ چند طالبان رہنماؤں کو مذاکرات کے لئے پاکستانی سرحد کے قریبی علاقے سے نیٹو کے طیارے میں کابل تک لے جایا گیا تھا اور یہ طالبان رہنما پاکستانی سرحد عبور کر کے وہاں پہنچے تھے۔
نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ مذاکرات کرنے والوں میں طالبان کی کوئٹہ شوریٰ کے تین رہنما، حقانی خاندان کا ایک رکن اور پشاور شوریٰ کا نمائندہ بھی شامل تھا ( پشاور شوریٰ کی اصطلاح پہلی بار سامنے آئی ہے )۔ نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں شریک طالبان کمانڈرز کے نام اور عہدے وائٹ ہاؤس کی درخواست پر شائع نہیں کئے جا رہے ہیں کیونکہ شناخت ظاہر ہونے پر پاکستان کے انٹیلی جنس ایجنٹس انہیں ہلاک یا گرفتار کر سکتے ہیں۔ اور وہ پاکستان سے قریبی تعلق رکھنے والے افغان طالبان کا بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز مزید لکھتا ہے کہ ابھی یہ بات چیت بالکل ہی ابتدائی مرحلے میں ہے اور افغان حکام اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہے کہ مذاکرات میں شریک رہنماؤں کو طالبان کی صفوں میں کتنا اثرورسوخ حاصل ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ افغان حکام بھی یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ یہ بات چیت رہنماؤں سے ’’ذاتی تعلق‘‘ کی بناء پر ہوئی ہے اور اس کا مقصد صرف طالبان کو یہ محسوس کرانا ہے کہ افغان حکومت خود مختار ہے اور اس کی ایماء پر وہ اتحادی فوجوں کی جانب سے گرفتاری یا حملے کے خوف سے بے نیاز ہو کر افغانستان میں آزادانہ سفر کر سکتے ہیں۔
اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ مذاکرات طالبان کی قیادت پر وسیع اثر و رسوخ رکھنے والے پاکستان کی منظوری کے بغیر ہو رہے ہیں کیونکہ افغان حکومت اسلام آباد کی شمولیت کے بغیر طالبان سے مصالحت چاہتی ہے۔ اخبار کے مطابق اس سے پہلے مذاکرات میں کرنے والے طالبان رہنماؤں کو آئی ایس آئی ان کے اپنے ساتھیوں سے ہی ہلاک یا گرفتار کرا چکی ہے۔
افغان حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ آئی ایس آئی ہر قیمت پر یہ مذاکرات روکے گی اور مذاکرات کاروں کی شناخت کا علم ہوتے ہی انہیں آئی ایس آئی اور اس کے طالبان اتحادی منظر سے ہٹا سکتے ہیں۔ اخبار کے مطابق اس سے پہلے رواں سال کے آغاز میں بھی پاکستان میں ان 23 طالبان رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا تھا جنہوں نے افغان حکومت کے نمائندوں سے پاکستان کی منظوری کے بغیر مذاکرات کئے تھے ( رواں سال کے آغاز پر گرفتار ہونے والوں میں ملا عمر کے سابق نائب ملا عبدالغنی برادر بھی شامل ہیں جو مالدیپ میں افغان حکومت کے نمائندوں اور افغانستان میں اقوام متحدہ کے سفیر کائی ایدی سے مذاکرات کرنے والوں میں شامل تھے )۔ نیویارک ٹائمز افغان حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ مذاکرات سے طالبان کے ’’اوورآل‘‘ سربراہ ملاعمر کو علیحدہ رکھا گیا ہے جس کا مقصد طالبان کو تقسیم کرنا ہے۔ کیونکہ وہ ملا عمر کو پاکستانی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا قیدی سمجھتے ہیں جو آزادانہ فیصلوں کا اختیار ہی نہیں رکھتے۔ نیویارک ٹائمز نے ایک پاکستانی عالم دین کا موقف بھی شائع کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ ملا عمر کو مذاکرات سے باہر رکھنا ہے کیونکہ ملا عمر کے بغیر مذاکرات فضول اور بے مقصد عمل ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پاکستانی سیکورٹی آفیشل نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ اسلام آباد کو کوئٹہ شوری کے ارکان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا علم ہے مگر کیونکہ یہ ملا عمر کی منظوری کے بغیر ہو رہے ہیں اس لئے یہ سب بے کار ہیں۔۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

5 تبصرے

  1. ابھی دیکھتے جائیں آگے آگے ہوتا ہے کیا بات اتنی نہیں جتنی اخبار نے لکھی ہے بلکہ بات اس سے بھی آگے نکل گئی ہے اور وقت کے ساتھ افغان طالبان کی سوچ بھی تبدیل ہورہی ہے آئندہ کا جو منظرنامہ افغانستان کا بن رہا ہے اور جسکے واضع اشارے نظر آرہے ہیں اسکے مطابق پاکستان کے ہمسائے میں ایک اور دشمن کا اضافہ ہورہا ہے۔

  2. نیویارک ٹائمز کے دعووں کا لب لباب یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان (کوئٹہ اور پشاور کے شوریٰ میں شامل) طالبان اور افغان حکومت کے مبینہ مذاکرات کے خلاف ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو اخبار یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ پاکستان اور تحریک طالبان افغانستان کے سربراہ ملا عمر کے ان مذاکرات سے متعلق موقف میں زیادہ فرق نہیں۔ اور یوں طالبان اور پاکستان کے قریبی تعلقات ثابت ہوگئے لہٰذا ڈو مور!

  3. abdullah adam says:

    asslam o alykom::

    mulla zaeef ka intrview bhi aa gya hay k taliban apnay drmyan tqseem ki is sazish ko kamyab na honay dain.

  4. دانش نذیر حسین says:

    امریکی نو سالہ افغان جنگ میں کچھ اس طریقے سے پھنسے ہوئے ہیں کہ اب اس دلدل سے نکلنا ہی ان کی بقا ہے ۔۔۔ اس کے لئے وہ اب ایک باعزت راستہ اور جواز چاہتے ہیں ۔۔۔ ۔۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات سے متعلق ''انکشافات'' پر مبنی رپورٹ کو طالبان کے سابق سفیر اور ملا عمر کے معتمد ساتھی ملا عبدالسلام ضعیف نے مسترد کردیا ہے ۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ طالبان اور ان کے حامیوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔۔۔۔

    بی بی سی اردو سے گفتگو میں ملا عبدالسلام ضعیف کہتے ہیں کہ ان خبروں کا مقصد طالبان اور ان کے حامیوں کے مابین شکوک پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے بات چیت کے حوالے سے حالیہ دنوں میں مغربی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں، افغان اور نیٹو حکام کے بیانات کو ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی قرار دیا۔۔۔ ملا ضعیف نے اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ مذاکرات سے متعلق خبریں اور بیانات طالبان کی مسلح جدوجہد کو متاثر کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ اس سوال پر کہ کیا طالبان رہنماؤں کو مذاکرات کے لیے تیار کر کے ملا عمر کو نظر انداز کیا سکتا ہے، طالبان کے سابق سفیر نے کہا کہ 'ایسا ناممکن ہے اور یہ سازش کامیاب نہیں ہو سکتی'۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کو ان حالات میں ہوشیار رہنا پڑے گا۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.