عید نامہ

اب جبکہ پاکستان اور دنیا بھر میں عید منائی جا چکی ہے۔ تو برادر ساجد اقبال کی تحریک پرگزری عید کا کچھ احوال ہی تحریر کر جاتے ہیں تاکہ عوام و خواص کو اندازہ ہو جائے کہ کراچی میں عید کس طرح کی منائی جاتی ہے یا اس مرتبہ کس طرح کی منائی گئی؟

مویشی منڈیاں

تصویر از: اسما مرزا
کراچی میں عید قرباں کی تمام تر رونقیں اور چہل پہل مویشی منڈیوں کے دم سے ہے۔بڑی مویشی منڈی تو سہراب گوٹھ میں عارضی طور پر قائم ہوتی ہے جبکہ ملیر کی مویشی منڈی سال بھر موجود رہتی ہے۔ چند سال قبل ہر گلی کوچے میں منڈیاں کھمبیوں کی طرح اُگ آتی تھیں۔ پھر ضلعی حکومتوں کے نظام کے آتے ہی اس سلسلے کو کچھ منظم صورت دی گئی اور صرف مخصوص مقامات پر ہی منڈی قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔ یوں شہر کے گلی کوچوں کو بن بلائے مہمانوں کی مصیبت سے آزادی ملی۔ اس مصیبت کا اندازہ لگانے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ چشم تصور میں سوچئے کہ آپ کے گھر کے سامنے پچاس بکرے کھڑے ہوں اور تمام دن ان کی "ہاؤ ہو" کے علاوہ گاہکوں اور بیوپاریوں کے بھاؤ تاؤ کا غلغلہ مچا ہوا ہو۔
پاکستان کی سب سے بڑي مویشی منڈی واقع سہراب گوٹھ کراچی کی ایک خاص بات یہاں کا 'وی آئی پی پویلین' ہے جہاں شاید دنیا کے مہنگے ترین جانور لائے جاتے ہیں۔ منڈی کے اس حصے کی رونق اُن کے دم سے ہے جن کے آمدنی کے ذرائع "نامعلوم" ہیں، اس لیے جس طریقے سے کمایا ویسے ہی خرچ کر ڈالا۔ بہرحال اس منڈی میں مال بیچنے والے گائے بیل کے ایک لاکھ روپے اس طرح بولتے ہیں جیسے یہ لاکھ نہیں بلکہ دس روپے کہہ رہے ہوں۔ اس منڈی میں اسپیشل بکروں کی قیمتیں بھی لاکھ روپے سے تجاوز کر جاتی ہیں جبکہ گائے بیل کی قیمت 20 سے 25 لاکھ روپے تک کی بھی ہوتی ہے۔

نت نئے کاروبار

تصویر از اسما مرزا
ایک جانب جہاں یہ مویشیوں کے یہ ننھے شہر آباد ہوتے ہیں وہیں عید قربان سے وابستہ کئی نت نئے کاروبار بھی جنم لیتے ہیں۔ گھاس اور چارا بیچنے والے عام ہو جاتے ہیں، جانوروں کی باربرداری میں استعمال ہونے والی مخصوص گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتی پھرتی نظر آنے لگتی ہیں۔ جیسے جیسے عید کے دن قریب آنے لگتے ہیں چھریاں بیچنےوالوں کی تعداد اور انہیں تیز کرنے والوں کے کام کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ منڈی کے ارد گرد جانوروں کی سجاوٹ کے سامان سے لدی پھندی دکانیں بھی نظر آنے لگتی ہیں۔ گویا منڈی کے قریبی علاقوں میں ہر دن روزِعید اور رات شبِ برات ہوجاتی ہے۔

موسمی قصائی

عید قرباں کے حوالے سے کراچی کی ایک اور خاص "روایت" یہاں "موسمی قصائیوں" کا برساتی مینڈکوں کی طرح پیدا ہو جانا ہے۔ عید کے ایام میں جب ہر شخص جلد از جلد قربانی کرنے کا خواہاں ہوتا ہے تو یکایک قصائیوں کا کال پڑ جاتا ہے تو اس "کمی" کو پورا کرنے کے لیے "رضاکاروں" کے ٹولے گلی محلوں میں وارد ہو جاتے ہیں اور پھر "مجبوری کا نام شکریہ"۔
قصائی کے بھاؤ سے نصف سے بھی کم میں یہ لڑکے جانور کے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں کہ الامان الحفیظ ۔۔۔۔ اس کی کھال کو تو دو کوڑی کا بھی نہیں چھوڑتے کہ پھر وہ صرف مچھلیاں پکڑنے کے کام آ سکتی ہے۔ اور گوشت کو قیمہ بنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن وقت کی کمی کے باعث ہڈیوں کے کچومر میں بوٹیاں چھوڑ کر اگلے "شکار" کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ اگر عید کے ایام میں کسی عزیز کے ہاں دعوت پر جانے کا اتفاق ہو اور کھانا کھانے کے دوران بار بار آپ کے منہ میں چھوٹی چھوٹی ہڈیاں آئیں تو سمجھ جائیے کہ جانور کسی ایسے ہی موسمی قصائی کے ہتھے چڑھ گیا ہوگا۔ بہرحال اگر یہ موسمی قصائی نہ ہوں تو کئی لوگ عید کے تین دن قصائی کو ڈھونڈنے میں ہی صرف کر دیں اور سنت ابراہیمی کی ادائیگی سے محروم رہ جائیں۔
مزا تب آتا ہے جب کسی علاقے میں موسمی قصائیوں کا واسطہ کسی "ڈاڈے" جانور سے پڑ جائے۔ اور پھر وہ واقعہ جنم لیتا ہے جو تمام عینی شاہدین اکثر عید قربان کے دنوں میں جانوروں کے موضوع پر گفتگو کے دوران سناتے ہیں۔

قربانی کی کھالیں

شہر کراچی میں کیونکہ وطن عزیز کی سب سے زیادہ قربانیاں ہوتی ہیں اس لیے قربانی کی کھالوں کے باعث یہ سیاسی و مذہبی جماعتوں اور اداروں کے لیے سونے کی چڑیا کی حیثیت رکھتا ہے۔ بیشتر امدادی و حقوق انسانی کے اداروں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ قربانی کی کھالیں ہی ہیں۔ ابتداء میں تو یہ کام چند تنظیمیں ہی کیا کرتی تھیں لیکن جب اس منفعت بخش کام کی اہمیت کا اندازہ ہوا تو ہر کوئی اس میں کود پڑا اب یہ کراچی میں اربوں روپے کا کاروبار بن چکا ہے۔
اب عید الاضحی کے پہلے روز صبح سے تیسرے روز کی شام تک آپ کو ہر گلی میں مخصوص ٹوکری لیے پیدل، موٹرسائیکلوں یا سائیکلوں پر مختلف افراد دکھائی دیں گے جو ان تین دنوں میں جان توڑ محنت کرکے اپنے ادارے کے سال بھر کے بجٹ کا انتظامکر جاتے ہیں۔

عید سنگینوں کے سائے تلے

جب سے کراچی میں قوم پرستی نے جنم لیا ہے اسی دن سے یہاں کا امن و سکون غارت ہو گیا اور گزشتہ دو دہائیوں سے تو یہ صورتحال ہے کہ ہر عید قربان پر کھالیں چھیننے کے درجنوں واقعات پیش آتے ہیں اور اس چھینا جھپٹی میں کچھ جانیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے عیدین پر سیکورٹی انتظامات سخت کر دیے جاتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر کے انہیں ڈیوٹیوں پر بلایا جاتا ہے اور اس عید پر بیشتر پولیس و رینجرز اہلکاروں کی ڈیوٹیاں کھالیں جمع کرنے والے اداروں کے ساتھ ہی لگتی ہیں تاکہ کھالوں کی ترسیل کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ پیش آئے۔
ماضی قریب میں جب شہر بدامنی کا گہوارہ تھا تو ایسے واقعات بھی پیش آئے جن میں عید قربان سے قبل کھال دینے کا وعدہ نہ کرنے پر جانور کو گولی مار دی گئی یا پھر کھال اترنے کے بعد کھال کے حریف "امیدوار" پہنچ گئے اور ان کی دھینگا مشتی کا خمیازہ کسی مظلوم کو بھگتنا پڑ گیا اور یوں وہ جانور کے ساتھ خود بھی قربان ہو گیا۔

اجتماعی قربانی

آج سے ایک ڈیڑھ دہائی قبل کراچی میں ایک مذہبی جماعت نے اجتماعی قربانی کے رواج کو عام کیا۔ جو قربانی کی کھالوں کو جمع کرنے کی "بدعت" کے بعد اس جماعت کی دوسری اختراع تھی۔ ابتدا میں تو دیگر تنظیموں کو یہ جھنجٹ لگا کہ کون جانوروں کوخریدنے کا انتظام کرے، انہیں پالے، قصائی کا انتظام کرے اور پھر گوشت کی تقسیم تک کےتمام مراحل کو منظم کرے اس لیے کسی نے اس جانب کان نہیں دھرا۔ لیکن اس کا ایک بہت بڑا فائدہ تھا کہ قربانی کی کھالوں کے لیے در در بھٹکنے کے جھنجٹ سے آزادی ملی اور یوں اگر 15 سے 20 جانور بھی اجتماعی قربانی میں مل جائیں تو یہ علاقے میں بہت بڑی کامیابی تسلیم کی جاتی۔ بہرحال جب اس کے فوائد "منظر عام" پر آئے تو ہر ایرے غیرے نے "اجتماعی قربانی" کے بینر لٹکا کر اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کی۔ اب یہ کراچی میں عید قربان سے منسلک ایک اہم ایونٹ تسلیم کیا جاتا ہے۔

تعفن زدہ ماضی، صاف ستھرا حال

بچپن میں عید قرباں کے بعد شہر میں گندگی کے وہ مناظر دیکھا کرتے تھے کہ آج بھی سوچ کر جھرجھری آ جاتی ہے۔ سڑکوں پر، گلیوں میں، کوڑے کے ڈھیروں پر ہر جگہ آلائشیں ہی آلائشیں۔ ہر گھر کے سامان خون کا سیلاب بہتا دکھائی دیتا۔ جانوروں کی آلائشوں سے بدبو کے وہ بھبکے اٹھتے کہ گلیوں سے گزرنا محال ہو جاتا۔ گزشتہ شہری حکومت نے اس سلسلے میں پہلی مرتبہ سنجیدہ اقدامات اٹھائے اور آلائشیں اٹھانے کی مہم بڑے پیمانے پر چلائی اور یوں شہر میں آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کا ایک منظم انتظام ہوا۔ اب گزشتہ 8 سالوں سے شہر میں وہ گندگی نہیں ہوتی جو ہر مرتبہ عید قربان کے بعد ہوا کرتی تھی۔
اس لیے میں کہتا ہوں کہ ضلعی حکومتوں کے نظام سے کسی کو فائدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو لیکن اہلیان کراچی کو بہت فائدہ ہوا۔
"رضاکار فورس" جانوروں کی رکھوالی و دیکھ بھال کی ذمہ دار
اندرون شہر میں جہاں کئی منزلہ عمارتوں میں لوگ رہتے ہیں اور گھر کے ساتھ صحن یا زمین پر ایک دو منزلہ مکانوں کا رواج نہيں وہاں جانوروں کو سنبھالنا کافی مشکل ہو سکتا ہے اس کے لیے چند "رضاکار" میدان میں کودتے ہیں اور محلے میں واقع کسی میدان یا گلی میں شامیانے اور قناتیں لگا کر جانوروں کی رکھوالی کا فریضہ سنبھالتے ہیں۔ یہ نازک کام انجام دینے کا وہ معمولی سا معاوضہ لیتے ہیں، چند چارہ کی ذمہ داری بھی اپنے سر لیتے ہیں اور فی یوم کے حساب سے چارج لیتے ہیں جبکہ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو صرف رکھوالی کی ذمہ داری لیتے ہیں چارہ مالکان خود فراہم کرتے ہیں۔ کراچی شہر میں جہاں جانوروں کا چھن جانا عام ہے وہاں یہ اہم ذمہ داری انجام دینا بہت دل گردے کا کام ہے۔

عید کا مردانہ پہناوا

کراچی کا ایک رواج یہ بھی ہے کہ مردوں کی اکثریت نئے کپڑے صرف عید الفطر پر ہی سلواتی ہے اور عید الاضحی پر صرف نماز کے لیے میٹھی عید کا شلوار قمیص یا کرتہ زیب تن کیا جاتا ہے اور نماز سے واپس واپس آتے ہی تمام مرد کپڑے بدل کر "قصائی" بن جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ جانور کو ذبح کرنے کے عمل میں حصہ ڈالیں لیکن کم از کم جانور کو سنبھالنے اور گوشت کی رشتہ داروں،عزیزوں اور محلے میں تقسیم کا فریضہ انجام دینے کے لیے ہی ان کا کپڑے بدلنا لازم ہو جاتا ہے۔

بچہ پارٹی

"عید تو بچوں کی ہوتی ہے" یہ جملہ بہت مشہور ہے اور واقعی بہت بڑی حقیقت بھی۔ عید قربان پر تو بچوں کی یہ عید کچھ زیادہ ہی طویل ہوتی ہے۔ ایک ڈیڑھ ہفتہ قبل سے ہی جانوروں کی محلوں میں آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور یوں ہر بیل، گائے، بھینس، بھیڑ اور بکرے کے پیچھے دوڑتے یہ بچے محلے کی رونق میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان بچوں کو ایک ایک گھر کے بارے میں علم ہوتا ہے کہ کس کے گھر میں کون سا جانور آیا ہے اور اسے کتنے میں خریدا گیا؟ محلے بھر کی خبر گیری کرنےوالی یہ سروس عید قربان کے آخری دن تک تمام خبریں اپنے پاس رکھتی ہے اور لمحہ لمحہ کی رپورٹ اپنے گھر میں کرتی رہتی ہے کہ کس کی گائے کٹ چکی ہے، کس کا اونٹ کس وقت قربان کیا جائے گا اور کس کو قصائی نہیں مل رہا 🙂

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

6 تبصرے

  1. ڈفر says:

    اتنی تحقیق 😯
    اشکے وئی اشکے 😀

  2. سارہ says:

    بہت اچھی تفصیل لکھی ہے کراچی مین عید قرباں کی اپ نے ۔۔ 🙂

  3. واہ صاحب آپ نے ایسی تصویر کشی کی کہ ساری گزری بقرعیدیں یاد آگئیں۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ شہری حکومت آلائشیں اٹھانے میں سنجیدگی سے کام کررہی ہے ۔۔

    راشد کامران کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..قربانی کی کھالیں ہمیں دیں ۔۔۔۔ ورنہ؟

  4. فرمائش پوری کرنے کا شکریہ ابوشامل بھائی۔ آپ نے کافی تفصیلی تحریر لکھی ہے، مجھے تو زکام نے آں‌گھیرا ہے تاہم جیسے تیسے کچھ نہ کچھ لکھ لیا ہے۔ 😳

    ساجداقبال کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..Feed Icons 2

  5. اسماء says:

    تصویریں کتنی پیاری ہیں 😀

  6. ابوشامل says:

    اسماء صاحبہ! تصویریں کیسے پیاری نہیں لگیں گی، آپ کی جو ہیں ۔ معذرت کہ میں آپ کو آگاہ نہیں کر سکا کہ میں آپ کی تصاویر استعمال کرنے جا رہا ہوں۔
    راشد بھائی! اس تحریر پر مجھے اپنی بھی ساری پچھلی عیدیں یاد آ گئی تھیں البتہ اگر اس "رام کتھا" میں یادوں کو بھی جگہ دی جاتی تو یہ بہت طویل ہو جاتی۔ ویسے ہی مجھے کی اس تحریر کی طوالت بہت کھٹک رہی ہے۔
    ڈفر، سارہ، ساجد بھائی پسندیدگی کا بہت شکریہ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.