بن لادن کا باب ختم؛ پاکستان دوراہے پر

جب سے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا معاملہ ہوا ہے، ہمارے دانشور طبقے سے لے کو عوام تک سب کا زور اس بات پر ہے کہ کسی طرح اسامہ کی ہلاکت کو متنازع سے متنازع تر بنایا جائے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی سال پہلے مر چکا تھا،امریکہ کے ہاتھ باقیات اب لگیں اس لیے اس نے آپریشن کا ڈرامہ کر کے اس کی ہلاکت کا اعلان کر دیا۔ لاش کی تصاویر اور وڈیوز جاری نہ کرنے اور اس کو دفنانے کے بجائے سمندر میں بہانے کے عمل کووہ اپنے حق میں دلیل کے طور پر لاتے ہیں۔ دوسری جانب ایسا طبقہ ہے جو کہتا ہے کہ خس کم جہاں پاک اسامہ بن لادن اسی انجام کا مستحق تھا اور وہ جس پائے کا 'دہشت گرد' تھا اس کو مارنے کے لیے امریکہ کو انتہائی سے انتہائی قدم سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے تھا اور اس نے جو کیا بالکل درست کیا۔اس کے مرنے سے دنیا زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا محفوظ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو پاکستان ضرور غیر محفوظ ہو گیا ہے۔ اس وقت پاکستان 'نازک ترین موڑ' پر آ گیا ہے۔ نازک ترین موڑ کے لفظ کا ہمیشہ استحصال کیا گیا ہے اور اس کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی جیسے 'شیر آیا، شیر آیا' کا شور مچایا جائے لیکن اب جب حقیقت میں مصیبت کا سامنا ہے تو کسی کو اس حقیقت کا ادراک نہیں ہو رہا۔ نہ حکمران اس قابل ہیں کہ اس مصیبت کو سمجھیں، نہ سیاست دان، نہ دانشور طبقہ، نہ صحافی اور نہ ہی عوام۔

گو کہ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے متعلق سامنے آنے والے حقائق پر طویل ترین بحثیں ہو سکتی ہیں لیکن ہم صرف ایک چیز پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد اب پاکستان کی پوزیشن کیا ہے۔

اس گنجلک صورتحال میں کچھ چیزیں فرض کیجیے۔ سب سے پہلے یہ تصور کیجیے کہ اگر اسامہ بن لادن کے خلاف اس آپریشن کے بارے میں پاکستان کو سب کچھ پہلے سے معلوم تھا اور بقول ہمارے صدر موصوف آصف زرداری کے کہ پاکستانی خفیہ اداروں کی اطلاع پر اسامہ کے خلاف آپریشن کیا گیا تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ جی ہاں اس کا لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ القاعدہ اور طالبان، جن کی یا جن سے منسوب کارروائیوں کے باعث پاکستان میں طرفین کے ساڑھے سات ہزار سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور زخمیوں اور متاثرہ افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے، اب پاکستان کا مزید جینا دو بھر کر دیں گے۔ اگر یہی حیققت ہے تو القاعدہ اور طالبان خاص طور پر ایسی کارروائیاں کریں گے جس کے ذریعے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے۔

دوسری جانب اگر یہ تصور کر لیا جائے کہ یہ آپریشن پاکستان کو مکمل طور پر لاعلم رکھ کر کیا گیا ہے، جیسا کہ امریکہ نے بیان جاری کیا ہے کہ پاکستان کو آپریشن کی اطلاع اس وقت دی گئی جب عسکری ٹیم کامیاب آپریشن کے بعد پاکستانی سرحدی حدود سے نکل گئی تھی، تو اس سے پاکستان کی ساکھ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ اس کا واضح مطلب ہے کہ جس ملک نے امریکہ کی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ مالی و جانی نقصان اٹھایا، امریکہ اس پر کتنا اعتبار کرتا ہے۔ اس کا اظہار مختلف امریکی حلقوں اور اہم شخصیات کی جانب سے بھی کیا گیا ہے کہ انہیں پاکستان پر اعتماد نہیں تھا اس لیے آپریشن کی اطلاع کو بالکل خفیہ رکھا گیا۔ اس کے علاوہ جس جگہ پر آپریشن کیا گیا ہے وہاں اسامہ بن لادن جیسے ہائی ویلیو ٹارگیٹ کی موجودگی بھی حیرتناک ہے۔ یہ مقام پاکستان کی بری افواج کی سب سے بڑی عسکری تربیت گاہ کاکول ملٹری اکیڈمی سے محض 700 میٹر کے فاصلے پر ہے۔

یعنی کہ ہر دوصورت میں پاکستان کو آگے جن مسائل سے دوچار ہونا پڑے گا ان کا تصور ہی ہولناک و ہیبت ناک ہے۔ یعنی کہ ایک جانب القاعدہ اور طالبان ہیں، جن کو امریکہ جیسی سپر پاور اپنے تمام حواریوں کے ساتھ مل کر زیر نہیں کر سکی، اور دوسری جانب عالمی شیطان امریکہ اپنے تمام چیلوں کے ساتھ ہے اور ان دونوں ہاتھیوں کی لڑائی میں نقصان گھاس کا، یعنی پاکستان، ہی ہونا ہے۔

اب سوچیے کہ جب 2001ء میں پرویز مشرف نے کہا تھا کہ اگر ہم نے امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو ہمیں پوری دنیا سے ٹکر لینا ہوگی، لیکن کیا اب وہ وقت نہیں آ گیا کہ اب ہمیں درحقیقت پوری دنیا سے ٹکر لینا پڑ رہی ہے۔ اگر اس وقت جراتمندانہ فیصلہ کر لیا جاتا تو یقیناً آج صورتحال بہت زیادہ مختلف ہوتی۔ پاکستان اپنی مغربی سرحدوں کی جانب سے بھی محفوظ ہوتا، جن سے پاکستان کو اب سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ پاکستان کی معیشت اس بدترین زوال کا شکار نہ ہوتی جتنی کہ اب ہو چکی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کا نام دہشت گردی کے خلاف پرائی جنگ میں فرنٹ لائن پر ہونے اور سب سے زیادہ نقصان اٹھانے کے باوجود بھی 'سب سے بڑی دہشت گرد ریاست' کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک و ملت کو اتنا عظیم نقصان پہنچانے پر پرویز مشرف کا ٹرائل کیا جاتا اور اسے قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جاتا لیکن اب وہ خود تو عیش کی زندگی گزار رہے ہیں اور ملک و قوم کو دنیا بھر کے دہشت گردوں اور دہشت گرد ریاستوں کے رحم و کرم پر چھوڑ گئے ہیں۔

آپ کے خیال میں اس وقت پاکستان سب سے بہتر حکمت عملی کیا ہوگی؟

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

26 تبصرے

  1. عبداللہ says:

    اب سوچیے کہ جب 2001ء میں پرویز مشرف نے کہا تھا کہ اگر ہم نے امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو ہمیں پوری دنیا سے ٹکر لینا ہوگی، لیکن کیا اب وہ وقت نہیں آ گیا کہ اب ہمیں درحقیقت پوری دنیا سے ٹکر لینا پڑ رہی ہے۔ اگر اس وقت جراتمندانہ فیصلہ کر لیا جاتا تو یقیناً آج صورتحال بہت زیادہ مختلف ہوتی۔ پاکستان اپنی مغربی سرحدوں کی جانب سے بھی محفوظ ہوتا، جن سے پاکستان کو اب سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ پاکستان کی معیشت اس بدترین زوال کا شکار نہ ہوتی جتنی کہ اب ہو چکی ہے۔
    یقینا جراتمندانہ فیصلہ کرنا چاہیئے تھا ،مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی فوج کی تیاری اس حوالے سے مکمل تھی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    یا کرپشن نے اسے بری طرح کھوکھلا کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔!

  2. تو عبد اللہ مشرف خبیث کرپٹ نہیں تھا کیا؟

  3. سعد says:

    اب جو مرضی حکمتِ عملیاں بناتے پھریں، پاکستان کو سابقہ کرتوتوں کی سزا مل کر رہے گی۔

  4. امريکا کو پاکستان ميں کھيلنے کی اجازت پرويز مشرف نے دی ۔ آصف علی زرداری دو قدم مزيد آگے بڑھا اور امريکی سی آئی اے اور فوج کو کھَلی چھُٹی دے دی ۔ امريکيوں کی پاکستان آنے پر سيکيورٹی چيکنگ کو ناکام بنانے کيلئے اسلام آباد ايئرپورٹ پر امريکی عام راستہ سے آنے جانے کی بجائے اُس راستہ سے بلا روک ٹوک آتے جاتے رہے جہاں سے کھانا وغيرہ جہازوں کيلئے لايا جاتا ہے
    اس ملک پر آصف علی زرداری کی بلا شرکتِ غيرے حکومت ہے ۔ يوسف رضا گيلانی صرف بونگياں مارتا رہتا ہے ۔
    آصف علی زرداری کی کرسی کی ٹانگوں کو اپنی ہی کرتوتوں کی وجہ سےگھُن لگ گيا تھا مگر ان ٹانگوں کی جگہ گجرات کے چوہدريوں اور کراچی کے حق پرستوں نے لے لی ہے ۔ مگر ان ملت و ملک فروشوں کے دعوے ملکی خدمت کے ہيں
    اللہ منافقوں سے اس ملک کو پاک کرے

    • عبداللہ says:

      ڈرامہ بازی کرنے والے بس اس بات کا جواب دے دیں!
      امریکہ نے نائن الیون کے بعد پاکستانی فوج کو بیس ملین ڈالر سے زیادہ کی امداد دی ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس امریکی امداد سے پاکستان دیوالیہ ہونے سے بھی بچا ہے۔

      امریکی کانگریس میں یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان امریکی مفادات کو تحفظ دینے میں ناکام رہا ہے اس لیےامریکہ کو پاکستان کی فوجی قیادت کو دی جانےوالی امداد پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

      لیکن ہر بار امریکہ میں پاکستان کو فنڈ نہ دینے یا کم کرنے کی بات ہوتی ہے تو امریکہ آخر میں پچھلی بار سے بھی زیادہ فنڈ دیتی ہے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ اس کے پاس پاکستان کو فنڈ کرتے رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

      اس بات کا اندازہ پاکستانی اہلکار کے اس بیان سے ہوتا ہے جو انہوں نے ایٹمی دھماکے کرنے کے چند روز بعد دیا۔ ’ہم اب ایک ایٹمی ریاست ہیں۔ اس لیے ہمیں کوئی بھی فیل ہونے نہیں دے گا۔ ہم نے کروڑوں ڈالر سے انکار کیا لیکن کئی کروڑ اب پاکستان کو دیے جائیں گے۔‘

      http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/05/110507_pak_failed_state_rwa.shtml

  5. فارغ says:

    آصف ذرداری اور مشرف کی خامیاں اپنی جگہ، امریکہ کی سازشیں بھی ٹھیک، مگر ایمانداری سے بتائیے کہ یہ بحیثیت ادارہ فوج کی شرمناک کارکردگی نہیں؟ سویلین گورنمنٹ سیکیورٹی کی ذمہ دار نہیں فوج ہے جو بجٹ کا بڑا حصہ کھا جاتی ہے . موجودہ جنرل کیانی اس وقت کے آٰئ ایس آئی چیف تھے ان کے ماتحت فوج کی کارکردگی پست تریں سطح پر جا پہنچی ہے

  6. پارس says:

    پاکستان اپنے عوام سے بھی دھوکا کررہا ہے اور امریکہ سے بھی یعنی ڈبل گیم کھیل رہا ہے امریکہ بھی پاکستان کے ساتھ اسی طرح کھیلتا آیا ہے یہ وقت بہت نازک ہے ہم تم صرف اندازہ کرسکتے ہیں اور جذباتی ہوسکتے ہیں لیکن حقیقت میں کئی فیصلے جذبات سے بالاتر ہوکرلیے جاتے ہیں

  7. پاکستان اور پاکستانیوں نے اپنے لیے اس راستے کا انتخاب خود کیا ہے اور اب فصل کی کٹائی کا وقت قریب آتا جارہا ہے... کچھ لوگوں کے نزدیک مشرف ٹرنگ پوائنٹ ہے جبکہ صورت حال یہ ہے کہ افغان روس جنگ کے بعد سے امریکی رسوخ کی نوعیت میں کبھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی جبکہ مشرف کی آئینی تحفظ فراہم کرنے والے عناصر ہی آج ہائے مشرف کے نعرے لگانے میں مصروف ہیں. جب اس طرح کے تضادات مذہب، سیاست اور سماج میں سرائیت کرجاتے ہیں تو تاریخ میں آپ کا ہر قدم دوراہا معلوم ہوتا ہے.

    • ابوشامل says:

      راشد بھائی! اس رستے کا انتخاب ایک آمر نے کیا تھا، اس کے فیصلے کو آپ جمہور کا فیصلہ کس طرح کہہ سکتے ہیں؟ اس سے پہلے افغان روس جنگ میں بھی ایک آمر ہی وطن عزیز پر حکمران تھا۔ میرے خیال میں آپ معاملے کو امریکی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں شاید اس لیے کچھ واضح نہیں ہو پا رہا۔
      مجھے افسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کو امریکہ اور اس کے پٹھو آمروں کی منافقت نظر نہیں آتی لیکن دیگر تمام عناصر پر وہ فورا انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ کیا امریکہ کے موقف میں تضادات نہیں ہیں، منافقت نہیں ہے؟ روس کو شکست دینے کے بعد خطے میں اس کی دلچسپی کم نہیں ہوئی تھی؟ افغان روس جنگ کے بعد امریکہ نے پاکستان اور افغان مہاجرین کو جس طرح بے یار و مددگار چھوڑا اس کے لیے 'ٹشو پیپر' سے بہتر کوئی لفظ نہیں مل رہا۔
      بہرحال، دوسروں کے اپنے ساتھ روا رکھے گئے رویوں پر رونا بہت برا معلوم ہوتا ہے، قوم تو وہ ہوتی ہے جو اپنے بل بوتے پر کچھ کرے لیکن درحقیقت یہ لمحہ ان لوگوں کے لیے واقعی بہت پریشان کن ہے جو وطن عزیز سے محبت رکھتے ہیں۔

  8. ہم عوام کا اس تباہی میں برابر کا ہاتھ ہے.. اس کی وجوہات یہ ہیں کہ
    1. ہمیشہ آمروں کو خوش آمدید کہا ہے.
    2. اپنے مسائل حل کرنے کے بجائے دنیا فتح کرنے کی فینٹسی میں قیمتی کئی سال ضائع کردیے ہیں.
    3. اپنے بدخواہوں کو ہیرو بنا رکھا ہے.. یہاں تک کہ قتل و غارت گری میں ملوث لوگوں کو بھی ہیرو کا درجہ دے رکھا ہے.
    سوال یہ ہے کہ کیا سب کچھ آنا فانا ہوگیا ہے؟ تو ایسا نہیں ہے.. پچھلی دو دہائیوں سے یہاں یہ کھیل جاری ہے اور عوام ابھی مزید اننگرز کھیلنے کو تیار ہیں. آپ تجزیے، تحریریں اور تاثرات ملاحظہ کرلیں ایک عجیب ہی میلہ لگا ہوا ہے.

    • ابوشامل says:

      درست کہہ رہے ہیں راشد بھائی، ان تینوں نکات پر تو متفق ہوں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملبہ عوام پر ڈال کو امریکہ کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال لیا جائے 🙂 اگر 'ہیرو' بدخواہ ہے تو اس فلم کا 'ولن' بھی کچھ خیر خواہ نہیں ہے، ہر کسی کے اپنے مفادات ہیں۔ اور لاعلمی کی وجہ سے عوام اس چکی میں پس رہے ہیں۔ مجھے کوئی شبہ نہیں ہے کہ امریکہ اپنے مفادات پورے کرنے کے بعد بالکل ویسے ہی بوریا بستر لپیٹ کر پلٹے گا جیسا کہ وہ افغان روس جنگ کے بعد بھاگا تھا۔ اور جنگ کا تمام تر ملبہ پاکستان کے اوپر ڈال جائے گا۔
      یہی وہ واحد نکتہ ہے جس پر پرویز مشرف کے موقف سے مجھے اختلاف تھا کہ امریکہ افغان روس جنگ کے بعد اب قابل اعتبار نہیں ہے، پاکستان ایک مرتبہ پھر دوسروں کی جنگ میں پڑ کر اپنا نقصان کرے گا۔ اور اب یہی ہونے جا رہا ہے۔ خود سوچیں کہ امریکہ اگر اس جنگ سے پلٹتا ہے تو نقصان کس کا ہوگا؟ اس وقت پر مشرف صاحب تو 'سب سے پہلے پاکستان' کا نعرہ لگا کر کود پڑے جنگ میں، اب وہ خود تو باہر بیٹھے ہیں لیکن نتائج پاکستان بھگتے گا۔
      اس کے مقابلے میں روس افغان جنگ کے موقع پر منظرنامہ مختلف تھا، اس وقت آپ کے پاس کوئی اور آپشن تھا ہی نہیں، یا تو جنگ میں کودیں یا پھر روس کا صوبہ بننے کو تیار ہو جائیں۔
      آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ کھیل دو دہائیوں سے جاری ہے، تو یہ بھی سوچیں کہ یہ کھیل کھیل کون رہا ہے؟ امریکا! تو ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی خطے میں مداخلت کا راستہ روکا جائے۔ پرویز مشرف کے پاس یہ موقع آیا تھا لیکن اس نے ضایع کیا۔ موجودہ سیاسی و عسکری قیادت میں تو یہ دم دکھائی ہی نہیں دیتا۔

  9. جعفر says:

    پہلے ‘عوام‘ سے پوچھ کے کونسے فیصلے کیے گئے تھے کہ ان کا بھگتان بھی عوام بھگتے۔
    جن لوگوں نے پہلی جنگ سے مال کمایا
    اور جنہوں نے اس حالیہ جنگ سے کمایا
    سب کی اولادیں اور جائدادیں امریکہ بہادر میں موجود ہیں۔
    اس کی ذمہ دار بھی عوام ہے؟
    ذمہ دار وہی طبقات ہیں ، جو صدیوں سے اس عوام کالانعام کی گردنوں پر سوار ہیں۔ اور آج کل تو ان کے ساتھ انقلابی بھی ملے ہوئے ہیں۔
    ویسے بھی مسکین عوام کو برا بھلا کہنا سب سے ‘سیف آپشن‘ ہے۔
    اسامہ بن لادن، کو شیدے، ماجھے ، گامے نہیں لے کر آئے تھے ۔ امریکہ بہادر ہی لایا تھا۔ اور اسی نے اسامہ کی امیج بلڈنگ کی تھی بطور مجاہد اسلام۔ لیکن امریکہ کو ہم کچھ نہیں کہیں گے۔ ہم تو عوام کی ایسی کم تیسی ہی کریں گے۔

  10. اب وقت تو فیصلوں کا نہیں بلکہ جو غلط فیصلے کئے ان کی سزا بھگتنے کا ہے۔ سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سلسلہ کبھی رکنے والا ہے؟

  11. میرے خیال میں تو سب ڈرامہ ہی ہے، ویسے تاریخ گواہ ہے کہ جس جگہ بھی امریکہ گیا ہے وہاں کبھی امن نہیں ہوا، کبھی وہ جگہ وہ ملک اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا نہیں ہو سکا.....

    اور امریکہ کو آنکھیں دکھانے کا کچھ فائدہ نہیں جب تک ہم اس کی دی ہوئی روٹیاں توڑتے رہیں گے تب تک ہمارا خون صرف کھولتا رہے گا، جوش کبھی نہیں مارے گا. انقلاب اور تبدیلی کے لیئے خون کا جوش مارنا بہت ضروری ہے. خون تو اس غلام کا بھی کھولتا ہے جو اپنے آقا کی روٹی کے ساتھ ساتھ مار کھاتا ہے....

    ہم بھی ابھی صرف خون کھولنے کے مرحلے میں ہیں، جس دن یہ جوش مارے گا اس دن اس کی آگ بہت دور تک جائے گی.....

    خون کی دیکر یہ ملک لیا ہے، ایسے تھوڑی کچھ ہونے دیں گے.

  12. عبدالخالق بٹ says:

    بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

  13. میرے مطابق اب اس امر میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی کہ مزاحمت کی ایک تاریخ رقم کرنے والے اسامہ بن لادن اس دنیا میں نہیں رہے لیکن پاکستان کے مسائل پر اسامہ بن لادن کے رہنے یا نہ رہنے سے کوئی نہیں پڑتا، فرق پڑتا ہے تو صرف پاکستان کی دفاعی، داخلی اور خارجہ پالیسیوں سے جو دنیا بھر نہ صرف پاکستان کی خفت کا باعث بن رہے ہیں بلکہ ہم ان پالیسیوں کے نتیجے میں اپنے دشمنوں کی تعداد میں روزانہ اضافہ کررہے ہیں، آج حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں پاکستان کا کوئی خیر خوا نہیں، جہاں طالبان اور انکے پاکستانی حامیوں کو حکومت اپنا شدید دشمن بناچکی ہے وہی امریکہ اور بھارت اسکے تعلقات بھی کم کشیدہ نہیں۔
    کہانی کے اصل ولن پرویز مشرف کی ناعاقبت اندیش پالیسیوں سے ملا کیا؟
    نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ۔۔۔۔۔۔۔۔

  14. میں سمجھ نہیں پایا کہ آپ کی اس تحریر کا مقصد کیا ہے
    اگر آپ کو یہ خطرہ ہے کہ طالبان اور القاعدہ پاکستان کا جینا مزید دو بھر کر دیں گے ۔ تو مجھے بہت افسوس ہوا کہ آپ بھی اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو پاکستان کو خطرہ میں دیکھ کر فل والیم کا سائرن بجانا ضروری خیال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بڑی خدمت کی مسلمانوں کی ۔۔۔۔ حالانکہ امت مسلمہ اور اسلام کو خطرے کی حالت میں دیکھ کرکبھی ایسی خدمت کرنی کی دل میں نہ آئی ۔۔۔ بلکہ ایسی الٹی پٹیاں باندھ رکھی ہیں ذہنوں میں کہ امت اور اسلام کے دفاع میں اپنا سب کچھ راہ جہاد میں لٹا دینے والوں کو اپنا سمجھنے کے لیے تیار نہیں ۔۔۔۔ اگر میرا خیال غلط ہے تو کیا شیخ اسامہ جیسے ابطال اور امت مسلمہ کے قابل فخر رہنما کے قتل پر شہادت کے الفاظ لکھتے ہوئے کی بورڈ گھسنے کا خطرہ تھا ؟؟؟؟یا سی آئی اے سے ٹاکرے کا ۔۔۔؟؟؟
    حد ہو گئی ۔۔۔ دس سالہ طویل معرکے کے بعد بھی آپ کا خیال ہے کہ پاکستان پر مسلط طواغیت امریکہ کی دوستی ، غلامی یا چاکری چھوڑ دیں گے ۔۔۔۔ اور اگر بالفرض ایسا ہوا بھی تو ہم ان زخموں کو بھلا دیں گے جو پاکستان ہمیں لگا چکا ہے ۔۔۔ ہر گز نہیں ۔۔۔ پاکستان کے جرائم اتنے بھیانک اور سنگین ہیں کہ اگر امریکہ اس خطے سے نکل بھی جائے تب بھی ہم پاکستان کے خلاف صف آرا ہوں گے ۔۔۔ انشاء اللہ ۔۔۔ جب تک کہ اللہ کی نصرت سے یہ خطہ اسلام کی خوشبو سے مہکنے نہ لگ جائے ۔۔۔۔
    آپ سے تو اچھے خیالات ان سیکولر وطن پرستوں کے ہیں جو معاملہ کی نزاکت کا احساس کیے ہوئے ہیں اور امریکہ کی موجودگی پر خوش ہیں کہ ۔۔۔ ۔جب تک امریکہ ہے ۔۔۔ پاکستان محفوظ ہے ۔۔ ۔۔اس کے جانے کے بعد اس کا وہ حشر ہونے والا ہے جس کا آپ نے بھی تصور نہیں کیا ہوگا ۔۔۔

  15. voiceoftheday says:

    السلام علیکم
    فہد بھائی اگر شیخ اسامہ رحمہ اللہ کو شہید نہیں بھی سمجھتے تو بھی ہلاکت جیسا لفظ مسلمانوں کے اس رہنما کے بارے میں استعمال کرنا کسی بھی طور مناسب نہیں، جو ہمیشہ شیطان کے حواریوں کے ساتھ اللہ کا سپاہی بن کر بر سر پیکار رہا۔
    پاکستان کے سامنے تو اب دو ہی راستے ہیں
    ۱۔ شریعت اسلامی نافذ کر کے مسلمانوں کے تمام مجرموں کو عبرت ناک سزائیں دے جن کے ہمارے بھائیوں کے خون سے رنگے ہیں۔
    ۲۔ یا پھر اللہ کے اس عذاب کی شدت کا انتظار کریں جو اس وقت پاکستان پر مسلط ہے۔
    ﴿کل آپ سے ملاقات میں آپ کی شخصیت کا ایک مختلف تاثر بنا تھا۔ جو آپ کی اس تحریر سے میل نہیں کھاتا۔﴾

    • ابوشامل says:

      وعلیکم السلام محترم، گو کہ میں آپ کو پہچان نہیں پایا لیکن اتنا سمجھ گیا ہوں کہ آپ گزشتہ روز مجھ سے ملاقات کرنے والے افراد میں شامل تھے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کے تاثر کے برعکس نکلا لیکن اس موضوع پر میری اپنی رائے ہے اور ممکن ہے کہ کئی افراد سے متفق نہ ہوں۔ البتہ میں یہ ضرور کہوں گا کہ اسامہ بن لادن کی دعوت سے متفق ہونے یا نہ ہونے کے باوجود وہ استعمار اور طاغوت کے خلاف مزاحمت کے علامت کے طور پر امر ہو چکے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح دعوت سے متفق ہوئے بغیر چی گویرا ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔
      آپ نے پاکستان کے لیے جن دو راستوں کی نشاندہی کی ہے وہ صد فی صد درست ہے۔ اور اس کا حوالہ میں نے اوپر دیا بھی ہے کہ ننگ ملت پرویز مشرف اس تمام معاملے کے قصور وار ہیں، ان کی وجہ سے پوری پاکستانی قوم کے ہاتھ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خون سے رنگے۔ اس معاملے کے دیگر تمام کرداروں کو بھی عبرتناک سزائیں دینی چاہیے ورنہ پاکستان پر عذاب تو ویسے ہی مسلط ہے بلکہ اس میں مزید شدت آ جائے گی۔
      اللہ آپ پر اور ہم سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ہمیں دین کو درست طور پر سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین
      آخر میں بلاگ پر حاضری کے لیے شکر گزار ہوں۔ والسلام

  16. voiceoftheday says:

    السلام علیکم
    میرا یہ خیا ل کہ اس موضوع پر تو دو ہی رائے ہوسکتی ہیں۔ جیسا کہ بش نے کہا تھا۔ "انکے ساتھ یا ہمارے ساتھ" تیسری رائے کی گنجائش کم ہی نظر آتی ہے۔ بہر حال میں آپ کی رائے کا احترام کرتا ہوں۔ اپنے موقف کی وضاحت کرنے کا شکریہ۔

    • ابوشامل says:

      دوبارہ آمد کا بہت شکریہ۔ لیکن 'تلواریں نیام میں رکھ دینے کا حکم' بھی تو آخر کسی وقت کے لیے ہے، کیا ہم اس حکم کو بھول گئے ہیں۔ فتنہ انگیزیوں کے اس دور میں کیا ایک فتنے کا ساتھ دینا ضروری ہے؟

      • voiceoftheday says:

        السلام علیکم
        آپ نے بالکل درست فرمایا ہے۔ کہ تلواروں کو میان میں رکھنے کا حکم بالکل موجود ہے۔ لیکن اس حکم کو یاد رکھنا اور اس کی وجوہات سے صرف نظر کرنا دانشمندی سے دور دکھائی دیتا ہے۔
        یہ حکم مسلمانوں کی ایسی لڑائی کے بارے میں ہے کہ فریقین میں سے یہ اندازہ نہ لگایا جا سکے کہ حق پر کون ہے۔ جیسا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا علی ؓ کی جنگ میں بعض صحابہ نے اس حکم پر عمل کیا۔
        لیکن اگر حق اور باطل واضح ہے جیسا کہ آپ نے خود کہا "استعمار اور طاغوت" تو پھر اللہ کا حکم ہے "کونو مع الصادیقین" سچوں کے ساتھ ہو جائو۔ یہ تو امریکہ جیسے کفار کے خلاف اب ذرا مسلمانوں کے لئے حکم دیکھتے ہیں۔
        قرآن میں سورة الحجرات میں ارشاد ہے:
        "اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو، پس اگر ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو قتال کرو زیادتی کرنے والے ﴿مومن گروہ﴾ کے خلاف ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم ﴿قرآن و سنت یا شریعت﴾ کی طرف لوٹ آئے۔"
        آ پ بیشک اس آیت کا شان نزول اور تفسیر جہاں سے چاہیں دیکھ لیں۔
        اختتامی دور میں دجال کے فتنے سے بچنے کے لئے جو دو راستے بیان ہوئے ہیں وہ درج زیل ہیں ۔
        ۱۔ شہروں سے دور جنگلوں اور پہاڑوں وغیرہ میں چلے جائیں۔
        ۲۔ دجال کے خلاف جہاد عملا ہر وقت شریک رہیں۔
        آخر الذکر راستہ ہر لحاظ سے بہتر ہے کیونکہ پہلا شخص تو دجال سے بھاگ کر اپنا ایمان بچارہا ہوگا۔ جبکہ دوسرے شخص کا ایمان اسے دجال کے خلاف لڑنے پر ابھارتا ہے اور وہ دجال کے پیچھے بھاگے گا۔
        اگر تلوار کو رکھ دینے والے حکم پر ہم اسی طرح عمل کرتے آرہے ہوتے تو آپ تاریخ اسلام کو جانتے ہی ہیں
        " تقدیر امم کیا ہے"

        • ابوشامل says:

          وعلیکم السلام
          برادر، معذرت کے ساتھ کہ میں حق کو پہچاننے کے اس معیار پر آپ سے متفق نہیں ہو سکتا، ہر گروہ جو باطل سے برسرپیکار ہو لازمی نہیں کہ وہ حق پر ہو۔
          میرا ایک سوال ہے کہ کیا پاکستان اور افغانستان کے لوگوں کے درمیان لڑی جانے والی یہ جنگ 'مسلمانوں کی آپسی لڑائی' نہیں ہے؟ اس میں دونوں طرف کون مر رہا ہے؟ جو مار رہا ہے وہ بھی مسلمان اور جو مر رہا ہے وہ بھی مسلمان۔ یہ تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی حدیث کی زندہ تعبیر ہے کہ مارنے والے کو پتہ نہ ہوگا کہ وہ کیوں مار رہا ہے اور مرنے والے کو معلوم نہ ہوگا کہ اسے کیوں مارا جا رہا ہے ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو جہنمی قرار دیا۔ لڑکپن میں یہ حدیث پڑھ کر مجھے بہت زیادہ حیرت ہوا کرتی تھی کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ جس میں مارنے والے کو پتہ نہ ہو کہ وہ کیوں مار رہا ہے اور مرنے والے کو بھی کہ اسے کیوں مارا جا رہا ہے؟ اور پھر دونوں جہنمی کیوں ہوں گے؟ میرے خیال میں آج اس پر بہت زیادہ غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک خود کش حملہ آور جب کسی بھرے بازار میں دھماکہ کرتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کسے مار رہا ہے اور کیوں مار رہا ہے اور اسی طرح ایک مرنے والے عام آدمی کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اسے کیوں مارا گیا۔
          درحقیقت مندرجہ بالا تحریر میں میرا موضوع صرف اور صرف پاکستان میں لڑی جانے والی لڑائی تھی، ورنہ امریکہ کے بارے میں میرے کیا خیالات ہیں، وہ تمام افراد جانتے ہیں جو میرے بلاگ کے مستقل قاری ہیں۔
          مجھے سب سے بڑا اعتراض اس 'جنگ' میں عام آدمیوں کے مارے جانے پر ہے، ایک غیر مسلح و نہتے شخص کو مارنا کس طرح سے جائز ہو سکتا ہے؟ اور سب کےلیے حکم تکفیر دیتے ہوئے عوام سے لے کر خواص سب کو اڑا دینا کس طرح کی حکمت دین ہے؟ ور اس کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے اور نقصان کس کو۔ ان تمام پہلوؤں پر بھی غور کیجیے۔ قرآن کا حکم یہ نہیں کہ زیادتی کرنے والے مومنین کو ٹھکانے لگانے کے لیے سب ہی کو اڑا دیا جائے۔ خدا کے بندو! سب کو مار دو گے تو 'پاکیزہ نظام' کس کے اوپر نافذ ہوگا؟ چند نام نہاد پاکیزہ افراد پر؟
          برادر، میرا مقصد نہ آپ سے بحث کرنا ہے اور نہ ہی اپنی بات کو ٹھونسنا، بلکہ میں تو کسی کے سامنے زیادہ وضاحت بھی پیش نہیں کرتا لیکن آپ کے خلوص نے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں آپ کی بات کا جواب دوں۔
          اللہ آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور مجھ سمیت تمام افراد کو دین کی صحیح سمجھ بھی عطا فرمائے۔ آمین

          • voiceoftheday says:

            السلام علیکم
            فہد بھائی یہ جان کر خوشی ہے کہ امت کے ناحق بہنے والے خون کا درد رکھتے ہیں۔
            مجاہدین کے میڈیا سے دوری اور دجالی میڈیا کے اثر کی وجہ اکثر لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں عام لوگوں پر یا بازاروں میں دھماکے مجاہدین کرواتے ہیں۔ اور لوگ black water کے ان حربوں سے واقف بھی نہیں جو اس نے عراق یا دوسری جگہوں پر مجاہدین کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کئے۔ بازاروں میں ہونے والے دھماکوں کے حوالے مجاہدین کے اصل بیان کبھی دجالی میڈیا پر نہیں آسکتے وہ توآپ کو یا انکی websites پر ملیں گے یا پھر youtube پر۔ عوام کی تکفیر کسی نے نہیں کی یہ بھی بہت بڑا دھوکہ ہے اکثر میڈیا پر دیا جاتا ہے۔۔ جہاں تک مخصوص اہداف کا تعلق ہے تو مارنے والے کو صد فی صد پتہ ہوتا ہے کہ ایسا کیوں کر رہا ہے اور مرنے والے کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ اسے کیں مارا جارہا ہے۔ یہاں وہ حدیث بالکل فٹ نہیں ہوتی۔ میں صر ف ایک موقف کی وضاحت کر رہا ہوں میری طرف سے یہ موضوع یہں ختم ۔ اگر آپ سے اس موضوع پر مزید بات کرنی ہوئی تو کسی جگہ کروں گا ۔ ان شآ اللہ
            السلام علیکم

          • ابوشامل says:

            وعلیکم السلام جناب۔
            اگر یہ سب پروپیگنڈہ ہے تو اس کو توڑا کیوں نہیں جا رہا؟ بلکہ 'مجاہدین' کی بڑی تعداد تو ان واقعات کو تسلیم کرتی ہے، الا ماشآ اللہ کوئی تردیدی بیان جاری ہو جائے تو الگ بات ہے ورنہ تو بڑے دھڑلے کے ساتھ ذمہ داریاں قبول کی جاتی ہیں۔ میرے خیال میں ہمیں ایسی تنظیموں پر اپنی کوششیں اور توانائیاں صرف نہيں کرنی چاہئیں جو اپنا دفاع کرنے اور خود سے منسوب واقعات کو تردید کرنے کی بھی اہلیت نہيں رکھتیں۔ ذاتی طور پر میں یہی سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں ہونے والے بیشتر واقعات میں مقامی طالبان اور القاعدہ کے وہ افراد شامل ہیں جو امریکی ڈرون حملوں اور پاک فوج کے آپریشنز کے متاثرین ہیں۔ اکثریت بدلہ لینے کے لیے میدان میں اتری ہے، جو وہاں کا دستور ہے۔ اس لیے میں امریکہ کے ڈرون حملوں اور پاک فوج کے شمالی علاقوں میں آپریشن کا شدید مخالف ہوں، اس سے پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
            اللہ ہمیں اس راستے پر چلائے جو سلامتی کا راستہ ہے ہدایت کا راستہ اور نبی آخر الزمان کا راستہ ہے۔ آمین

  17. iqbal jehangir says:

    دنیا ،پاکستان کو القاعدہ اور طالبان کا گڑھ اور دہشت گردی کا مرکز سمجھتی ہے اور یہ کچھ غلط بھی نہ ہے۔ دنیا بھر کے دہشت گرد پاکستان میں موجود ہین۔ "ہر کوئی شمالی وزیرستان میں ہے،وہان عرب ہین ،ازبک ہین ،تاجک ،انڈونیشی ،بنگالی، پنجابی ،افغان ، چیچن اور سفید جہادی ۔ یورپین جہادی" کامران خان ممبر پارلیمنٹ، میران شاہ۔ "تقریبا ۱۰ ہزار غیر ملکی جہادی شمالی وزیرستان میں ہیں"( ڈیلی ڈان)
    وہان القائدہ ہے،طالبان ہین، پنجابی طالبان ہین ،حقانی نیٹ ورک ہے،حرکت جہاد اسلامی ہے،لشکر جھنگوی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اسامہ بن لادن اور اس کے ساتھی غیرملکی دہشت گرد شمالی وزیرستان پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور انہون نے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو خطرے مین ڈال دیا ہے۔ درحقیقت ہمارے ناعاقبت اندیش سیاست دان پورے پاکستان کو دہشت گردوں کے قبضے میں دینا چاہتے ہیں۔ مگر انشاء اللہ ایسا نہیں ہو گا اور جلد شمالی وزیرستان پر دوبارہ پاکستان کی عملداری قائم کی ہو گی۔
    اسامہ کی موت سے القائدہ کی طرف سے شروع کیا ہوا ، دہشت گردی و قتل و غارت گری کا ایک باب اختتام پزیر ہوا۔ القائدہ اور طالبان کے وجود مین آنے پہلے پاکستان مین تشدد اور دہشتگردی نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ القائدہ نے طالبان کے ساتھ مل کر قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم کر دیا، کاروبار کا خاتمہ ہو گیا،مسجدوں،تعلیمی اداروں اور بازاروں مین لوگوں کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے اور پاکستان حیرت و یاس کی تصویر بن کر رہ گیا۔ دہشت گردی کی وجہ سے ہمارے ہاں سرمایہ کاری بند ہو گئی ہے۔ بڑے بڑے کاروباری لوگ اغوا ہونے کے خدشہ سےخوفزدہ ہو کر ملک چھوڑ گئے ۔ شہریوں کا احساس تحفظ ختم ہو گیا ۔ پاکستانی معیشت تباہ ہو گئی اور اس کو ۴۵ ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
    حقیقت ہے کہ اس دہشت گردی کا زیادہ نشانہ خود مسلمان بنے۔ صرف پاکستان میں 35ہزار سے زیادہ انسان دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔سعودی عرب‘ یمن‘ سوڈان‘ عراق اور متعدد دیگر مسلمان ملکوں میں ان گنت افراد جان سے گئے۔ اسامہ خود تو ختم ہو گئے مگر پاکستان لئے دہشت گردی اور نفرتوں کے اثرات چھوڑ گئے‘ جو نہ جانے کب تک ہمیں مشکلات میں مبتلا رکھیں گے۔
    ہمارے ہان دہشت گردوں سے بڑا مسئلہ وہ خودسر اور ناعاقبت اندیش سیاست دان ہین‘ جو معاملات کو سمجھے اور جانے بغیردہشت گردوں کی اندھا دھند حمایت کرتے رہے ہیں۔
    تشدد اور دہشت گردی کا راستہ کبھی آزادی اور امن کی طرف نہیں لے جاتا۔ تشدد کرنے والے بھی اسی طرح کے انجام اور سلوک سے دوچار ہوتے ہیں‘ جو وہ اپنے مخالفوں کے ساتھ روا ر کھتے ہیں۔
    اسامہ اور القائدہ لازم ملزوم تھے، اس کے جانے سے القائدہ کی ریڑہ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس کا خاتمہ یقینی ہو گیا۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ اسامہ میدان جنگ سے دور ایبٹ ٓباد کے ایک پر تعیش بنگلے مین چھپا بیٹھا تھا۔مزید براں قتل و غارت گری کرنے والوں کی زندگی لمبی نہیں ہوتی اور ان کی موت اسی طرح واقع ہوتی ہے
    دہشت گرد گروپوں کے ساتھ نرم رویہ اب ہرگز قابل قبول نہ ہوگا۔ صرف اور محض اس لئے کہ ان سے ریاست کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ حقائق تبدیل ہوچکے ہیں، اگر یہ عسکریت پسند کسی اور کیلئے خطرہ ہیں تو وہ ہمارے لئے بھی خطرہ ہین۔ کوئی اچھا اور برا دہشت گرد نہیں ہوتا، دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔ہمیں اپنی سرزمین دہشتگردی کی کارروائیوں کے لئے ہرگز ہرگز استعمال کرنےکی اجازت نہیں دینی ہوگی۔اور ہمیں جہادی عناصر کو نکیل ڈالنی ہو گی۔ایک طویل عرصے سے ہم اپنی قامت سے بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے آ رہے ہیں، اب آئندہ یہ کسی طرح بھی ممکن نہ ہوگا۔
    بہرحال اس واقعے کے بعد پاکستان کا امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون و تعلق کو ختم نہیں ہونا چاہئے، وہ اس لئے کہ پاکستان War against Terror میں امریکہ کا Strategic partner ہے۔ پاکستان کو امریکہ کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں کا پیچھا کرنا پاکستان اور امریکا کامشترکہ مقصد ہے اور دونوں ملکوں کو مل جل کر اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف کاروائی کرنی چاہئیے۔
    پاکستان ایک ایسا ملک جس میں بدقسمتی اور مصائب پہلے ہی زائد از ضرورت ہین،ہم اس نام نہاد مجاہداسلام اسامہ بن لادن اور اس کی عنایات سے ہم محفوظ ہی رہتے تو اچھا تھا۔ جب تک وہ زندہ تھا تو ہمارے لیے ایک درد ِ سر تھا ، اُس کی موت کسی طوفان سے کم نہ ہے۔اسامہ نے ہمیں زندگی میں بھی نقصان پہنچایا تھا اور اُس کے موت پر آج ہم احمقوں کی طرح اپنا سا منہ لیے کھڑے ہیں۔
    اسامہ کی ہلاکت سے طالبان کے فنڈز کے ذرائع معدوم ہو گئے اور القائدہ کا طالبان مین اثر و رسوخ کم ہو کر رہ جائے گا۔ مگر ابھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سا کام کرنا باقی ہے۔
    ویسے بھی القائدہ ،اسامہ کی زندگی ہی میں روپے ،پیسے کے معاملہ میں تنگی کا شکار تھی۔ ظواہری کی روپے ،پیسے کو سنبھالنے کے اور غلط استعمال کے بارے میں کچھ اچھی شہرت نہ ہے۔
    یہ درست ہے کہ القائدہ اسامہ بن لادن کی حیات ہی میں غیر متعلق ہو کر رہ گئی تھی ۔ تیونس اور مصر مین جمہوری انقلابات اور عرب ممالک مین جمہوری عمل کے لئے عمومی بیداری کی وجہ سے القائدہ کے پر تشدد نظریات کو کوئی پزیرائی حاصل نہ ہوئی جو القائدہ کے لئے بڑا دہچکا ثابت ہوا اور یہ عضو معطل ہو کر رہ گئی تھی۔
    ہم اسامہ کے مشکور ہین, جس نے اپنی حماقت کی وجہ سے معلومات کی ایک کھیپ پیچھے چھوڑی ہے اور معلومات کا بڑا ذخیرہ بھی امریکیوں کے ہاتھ آ گیا ہے جسے ایک چھوٹی لائبریری کہنا بے جا نہ ہو گا۔۔ کہ اس مین بے شمار مواد ، کاغذات، ٹیپس،فون نمبرز اور کمپیوٹر و یو اس بی(USB Drives) ڈسکس شامل ہین جو کہ القائدہ کے خفیہ سیلز اور پاکستان اور دوسرے ملکوں میں چھپے القائدہ کے ارکان کی خفیہ پناہ گاہوں اور ان کو ڈھونڈ نکالنے مین بڑی ممد و معاون ثابت ہونگی ، اور دوسری جانب اب امریکا یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان نے اس کا کس قدر ساتھ دیا ہے ، اس کے پاس اب تمام حقائق و شواہد بھی موجود ہیں ۔
    ہم تو ڈوبے ہین صنم
    تمہیں بھی لے ڈوبیں گے۔
    اسامہ بن لاڈن سالہا سال سے پاکستان مین تھا اور طالبان نے اسے تحفظ فراہم کیا ہوا تھا۔ لگتا ہے انہیں نے پیسے کی خاطر اسامہ کی مخبری کر دی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے والا اپنے انجام کو پہنچا۔ اب القائدہ کے دوسرے چھوٹے موٹے لیڈران ،طالبان سے خوفزدہ رہین گے۔ طالبان نے پیسے کی خاطر اسامہ کو بیچ ڈالا اور اب ڈرامے بازی کر رہے ہین۔
    میرے خیال مین اسامہ کے ٹھکانہ کے اخفا کے معاملہ مین الاظواہری اور پاکستانی طالبان ،دونوں ملوث ہین۔ ظواہری ،اسامہ سے مصر کے معاملہ پر بیان نہ دینے کی وجہ سے ناخوش تھا۔ یاد رہے مصری ہونے کی وجہ سے ظواہری کی مصر سے جذباتی وابستگی ہے۔ ظواہری اقتدار کا بھوکا ،لالچی اور غیر وفادارشخص ہے اور ہمیشہ مصریوں کو آگے لانے کی کوشش میں رہتا ہے۔ مزید بران اگر الظواہری کی گذشتہ ۵ تقریروں کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ظواہری اپنے آپ کو ایک بڑے رول کے لئے پوزیش position)کر رہے ہین۔یہ ظواہری گروپ تھا جس نے اسامہ کو قائل کیا کہ وہ قبائلی علاقہ چھوڑ کر ایبٹ آباد منتقل ہو جائیں۔ سیف العدل،کی ایران سے واپسی پر ،اسامہ کو ختم کرنے کا ایک منصوبہ بنایا گیا۔ اسامہ کی ہلاکت سے پہلے ہی القائدہ مین پھوٹ پڑ چکی تھی اور القائدہ دو گروپوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ القائدہ کا تکفیری گروپ اسے کنٹرول کر رہا تھا۔ ظواہری مصر کی اسلامک تحریک کا دوست نہ ہے۔
    جعفر از بنگال و صادق از دکن
    ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن
    یہ شعر ملک و ملت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے انہی دو غداروں میر جعفر اور میر صادق کے متعلق ہے، آج بھی دنیا ایسے ہی بدبخت اور روسیاہ غدار موجود ہیں جن پر یہ شعر صادق آتا ہے ۔مسلمانوں مین میر صادق اور میر جعفر جیسے لوگوں کی کمی نہ ہے، عباسی وزیر، ابن علقمی منگولوں سے مل گئے اور سقوط بغداد کا سبب بنے۔ ہمیشہ اس قبیل کے لوگوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔اسامہ بن لادن بھی اپنے بھیدیوں کی وجہ سے مارا گیا۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔
    میرے خیال میں یہ لوگ ہین الظواہری اور طالبان جنہوں نے ذاتی جاہ و اقتدار ، حسد ،مخاصمت اور پیسے کے لالچ مین اسامہ کی مخبری کر دی۔اپنے آپ کو پاک صاف ظاہر کرنے کے لئے طالبان اب ڈرامہ بازی کر رہے ہین۔
    اسامہ کے جانے سے القائدہ کے مصری اور دوسرے گروپوں مین جانشینی کا جگھڑا اٹھ کھڑا ہو گا اور الظواہری ، جانشین بننے کی پوری کوشش کرے گا۔ ظواہری ، اسامہ کو عبداللہ عظام کی طرح اپنی امارت کی راہ کا روڑا سمجھتا تھا۔ وہ اسامہ سے اس لیئے ناراض تھا کہ اسامہ نے مصر کے معاملہ پر کوئی بیان جاری نہ کیا تھا۔ ظواہری، اسامہ کی طرح القائدہ کو متحد نہ رکھ سکے گا اور نہ دوسرے گروپ اس کو اپنی بیعت دیں گئے، کیونکہ وہ ظواہری کو اسامہ کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتے ہین۔
    ہر ناکامی کے پیچھے ایک کامیابی چھپی ہوتی ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کی خفیہ ادارے آیندہ القائدہ اور طالبان کے دہشت گردوں کو پکڑنے کے لئے ،انہیں نئی جگہوں و ٹھکانوں میں تلاش کریں گے۔
    اسامہ کی ہلاکت مین گرم تعاقب ( Hot pursuit) کے بین الاقوامی قانون کے نظریہ پر عمل کیا گیا ہے، آ ئیندہ اس قانون کی نئی نئی جہتیں ، تشریحات اور اچھے و برے استعمال دنیا کے مختلف ملکوں و علاقوں میں سامنے آئینں گئے۔
    امریکہ نے ایبٹ آباد میں آ کر ہمارا کچھ نہیں بگاڑا۔ وہ اپنا ملزم اٹھانے آئے تھے اور اٹھا کر لے گئے۔ یہ درست ہے کہ ہماری آزادی و خودمختاری کو ختم کرنے کی پہل اسامہ بن لادن اور دوسرے غیر ملکی جہادیوں نے کی تھی ۔ کیا یہ ہماری ریاست کی ذمہ داری نہ ہے کہ ہم تمام غیر ملکی جہادیوں کو پاکستان سے نکال باہر کریں؟ اور ہم نے کس حد تک اس ذمہ داری کو نبھایا ہے۔ غیر ملکی جہادی،القائدہ اور حقانی نیٹ ورک کے لوگ پاکستان مین ویزا لے کر نہیں آئے تھے ۔ اور نہ ہی غیر ملکی جہادیوں کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت پاکستان کی ہے۔
    اسامہ تو مر گیا مگر القائدہ ابھی زندہ ہے اور زخمی شیر کی مانند ہے اور خطرناک ہین۔ یہ درست ہے کہ اسامہ کی موت سےا لقائدہ کے جنگجو اور دوسرے لیڈر پژمردہ، پست حوصلگی اور انتشار کا شکار ہیں اور اپنی پناہ گاہوں مین دبکے بیٹھے ہین اور پکڑے جانے کے خوف سے نئی پناہ گاہوں کی تلاش مین ہیں۔ اس سے پہلے کہ القائدہ اپنے آپ کو دوبارہ منظم کرے، یہی موقع ہے ان پر کامیاب اور کاری وار کرنے کا،تاکہ دہشت گردی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے اور پاکستان مین امن و چین کا بول بالا ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.