آہ مشرقی پاکستان

آج 16 دسمبر ہے۔ ملکی تاریخ کا وہ سیاہ دن جب قائد اعظم کا پاکستان دولخت ہو گیا۔ کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں، کچھ سمجھ نہیں آتا۔ اس وطن کے قیام میں لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور پھر 1971ء میں اس کو بچانے کے لیے بھی ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں دیں لیکن دلوں میں موجود نفرتوں کا لاوا سب کچھ جلا کر راکھ کر گیا۔ حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی، فوج کی ہر معاملے کو بزور قوت حل کرنے کی پالیسی، جمہوری اقدار کی کھلی خلاف ورزی اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے عوام کو حقائق سے بے خبر رکھنے کی حکمت عملی نے سب کچھ خاک میں ملا دیا۔

حادثہ سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ہم نے سقوط مشرقی پاکستان سے کچھ نہ سیکھا بلکہ بقول ہیگل کہ " تاریخ سے یہ سبق سیکھا گیا ہے کہ کسی قوم اور حکومت نے تاریخ سے کوئي سبق نہیں سیکھا"

والدہ محترمہ بتاتی ہیں کہ

"71ء کی جنگ کے دوران پاکستان کا سرکاری میڈیا "سب اچھاہے" کہ راگ الاپ رہا تھا اور ٹائیگر نیازی کے یہ بیان بھی پیش ہوتے تھے کہ "ڈھاکہ فتح کرنے کے لیے دشمن کو میری لاش پر سے گزرنا ہوگا"۔ دوسری جانب مغربی پاکستان کی عوام کو حقیقت سے بالکل بے خبر رکھا گیا اور پھر 16 دسمبر کے منحوس دن اچانک ابو گھر میں داخل ہوئے۔ ہشاش بشاش طبیعت کے حامل ابو یکدم مجھے بہت بوڑھے لگے۔ چہرے کی جھریاں بہت زیادہ نمایاں لگنے لگیں اور کندھے جھکے ہوئے، بلکہ ایک نظر میں ہی ایسا لگتا کہ ہوش و حواس میں نہیں ہیں۔ گھر والوں نے خیریت کا پوچھا تو ان سے رہا نہ گیا اور ایک دم اندر کا غم آنسوؤں کی صورت میں امنڈ پڑا اور اس صورت میں منہ سے جو الفاظ نکلے وہ ہمارا کلیجہ چیرنے کے لیے کافی تھے کہ قائد کا پاکستان اب نہیں رہا۔ والدہ بتاتی ہیں کہ یہ والد صاحب کی زندگی کا واحد موقع تھا جب میں نے انہیں روتا دیکھا۔ اس کے بعد تین دن تک نہ ہمارے گھر میں کسی نے ایک دوسرے سے بات کی اور نہ چولہا جلا۔ ہر کوئی کونوں کھدروں میں روتا دکھائی دیتا۔"

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

11 تبصرے

  1. مکی says:

    اب کس کس کو روئے.. 😥

  2. فیصل says:

    یہ عوام کو بے خبر رکھنے والی بات سمجھ میں‌نہیں‌آئی۔ کل کلاں‌کو بلوچستان الگ ہو گیا، سندھو دیش بن گیا، جناح‌پور بن گیا یا پشتونستان معرضِ‌وجود میں‌ آ گیا تو عوام یہ کہے گی کہ ہم بے خبر تھے؟ چہ خوب۔ سالہا سال بنگال کا استحصال ہوتا رہا، وہ ذلیل و خوار ہوتا رہا لیکن مغربی پاکستان میں‌کس کو فکر تھی؟ کتنے ٹائر جلے اور کتنی ہڑتالیں‌ہوئیں؟ آج بھی اسلام آباد اور لاہور میں‌خود کش حملے ہوئے تو لوگوں‌کو یاد آیا کہ وزیرستان میں‌2002 سے آپریشن ہو رہا ہے، گھر برباد اور بازار اجڑ گئے ہیں۔ لوگ مر رہے ہیں۔
    بس چھوڑیں‌صاحب۔۔۔ دل نہ جلائیں‌اپنا بھی اور ہمارا بھی۔۔۔

  3. ڈفر says:

    فیصل صاحب سے متفق ہیں ہم کہ بالکل انجان کوئی نہیں تھا، ہاں بنے ہوئے تھے یا جاننا ہی نہیں چاہا
    بہر حال جو بھی ہوا، یہ بات مسلم ہے کہ ہم پر چلنے والی تلوار ہماری اپنی لاڈلی فوج کی تھی

    ڈفر کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..جلدی جلدی

  4. اس کے متعلق شاید http://pak.net/1971-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%D8%B4%D8%B1%D9%82%DB%8C-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-2-12743/ یہ سب سے گرم مضمون ہے

    عبدالقدوس کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..منتظرالزیدی کو آزاد کرو

  5. افسوس کی بات تو یہ یے کہ ہم وہ قوم ہیں جو ماضی کی غلطی سے سبق بھی نیں سیکھتے۔ 😥
    جس دن ہم نے یہ سیکھ لیا اس دن ہم کامیاب ہو جایں گے۔

  6. میں کتاب کو یونیکوڈ میں‌ڈھال رہا ہوں‌جلد ہی منظر عام پر آءے گی 🙄

    عبدالقدوس کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..Gif فائل بنائیں

  7. یاسر says:

    آپ کی تحاریر کافی اچھی لگیں

  8. یاسر says:

    Your blog is really impressive , but you to properly advertise this ,However carry on good work

  9. ُPakistan needs actually persons who can do like this good work on blogs.Urdu editing is tough work and i appreciate your efforts .

  10. سقوط ڈھاکہ کے ذمہ داروں کا تعین کرنا چاہئے تاکہ قوم کو معلوم ہو سکے کہ ملک کیسے دو لخت ہوا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *