تہذیب کے فروغ میں خاندانی نظام کی اہمیت
اگر خاندان معاشرے کی اکائی ہوں، اور خاندان کی بنیاد اس اصول پر ہوکہ زوجین کے درمیان تقسیم کار ہو اور جو جس کام کی خصوصی صلاحیت اور فطری اہلیت لے کر دنیا میں آیا ہے اُسی کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرے، اور نئی پود کی تربیت و نگہداشت خاندان کا اصل وظیفہ ہو تو ایسا معاشرہ بلا شبہ مہذب معاشرہ ہوتا ہے۔ اس طرز کا خاندانی نظام اسلامی اصولِ حیات کے تحت وہ ماحول مہیا کر دیتا ہے جس میں اعلٰی انسانی قدروں اور انسانی اخلاق کے شگوفے کھلتے ہیں اور نمو پذیر ہوتے ہیں اور نژادِ نو کو اپنی تازگی اور نکہت سے نوازتے ہیں۔ یہ قدریں اور اخلاق خاندانی اکائی کے علاوہ کسی اور اکائی کے اندر شرمندۂ وجود نہیں ہو سکتے لیکن اگر جنسی تعلقات، جنہیں “آزاد جنسی تعلقات” کا نام دیا جاتا ہے، اور ناجائز نسل معاشرے کی بنیادی اینٹ ہوں، اور مرد و عورت کا باہمی رشتہ نفسانی خواہش، جنسی بھوک اور حیوانی اکساہٹ پر قائم ہو اور خاندانی ذمہ داریوں اور قدرتی صلاحیتوں کے مطابق تقسیم کار کے اصول پر استوار نہ ہو۔ عورت کا کام صرف زینت و آرائش، دلربائی اور ناوک اندازی ہو، اور نئی پود کی تربیت و نگہداشت کے منصبِ اساسی سے دست بردار ہو جائے، اور خود یا معاشرے کی طلب پر کسی ہوٹل، یا بحری جہاز یا ہوائی جہاز میں “مہمان نواز” بننے کو ترجیح دے، اور اس طرح اپنی صلاحیتیں اور قوتیں انسان سازی کے بجائے مادی پیداوار اور سامان سازی پر صرف کر دے۔ کیوں کہ “انسانی پیداوار” کی نسبت اُس کے لیے مادی پیداوار زیادہ نفع بخش، زیادہ عزت افزا اور زیادہ باعثِ نمود و ستائش ہے پس جب نوبت یہ آ جائے تو اسے انسانیت کے لیے تہذیبی پس ماندگی اور تہذیبی افلاس کا پیغام سمجھنا چاہیے۔ اسی حالت کو اسلامی اصطلاح میں جاہلیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ خاندانی نظام اور زوجین کے باہمی تعلقات کی بنیاد یہ ایک ایسا اہم مسئلہ ہے جو معاشرے کی حیثیت متعین کرنے میں فیصلہ کن اور حرف آخر کا درجہ رکھتا ہے۔ اسی کے ذریعے سے ہم جان سکتے ہیں کہ کوئی معاشرہ پسماندہ ہے یا مہذب، جاہلی ہے یا اسلامی۔ جن معاشروں پر حیوانی اقدار و اخلاق اور حیوانی جذبات و رحجانات کی سیادت ہوتی ہے وہ کبھی مہذب معاشرے نہیں ہو سکتے۔ چاہے صنعتی، اقتصادی اور سائنسی ترقی میں وہ کتنے ہی عروج پر ہوں۔ یہ وہ پیمانہ ہے جو “انسانی ترقی” کی مقدار معلوم کرنے میں کبھی غلطی نہیں کرتا۔ (اقتباس:معالم فی الطریق از سید قطب شہید، اردو ترجمہ بعنوانجادہ و منزل از خلیل احمد حامدی(







