<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ابوشامل</title>
	<atom:link href="http://www.abushamil.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.abushamil.com</link>
	<description>مرے ہنگامۂ نو بہ نو کی انتہا کیا ہے</description>
	<lastBuildDate>Wed, 11 Aug 2010 04:31:19 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>ترجمۂ تفہیم القرآن</title>
		<link>http://www.abushamil.com/tafheem-ul-quran/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/tafheem-ul-quran/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 09 Aug 2010 09:05:06 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[قرآنیات]]></category>
		<category><![CDATA[Maududi]]></category>
		<category><![CDATA[Quran]]></category>
		<category><![CDATA[syed maududi]]></category>
		<category><![CDATA[Tafheem-ul-Quran]]></category>
		<category><![CDATA[Tafhim-ul-Quran]]></category>
		<category><![CDATA[Translation of Quran]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Translation Quran]]></category>
		<category><![CDATA[ترجمہ قرآن]]></category>
		<category><![CDATA[تفہیم القرآن]]></category>
		<category><![CDATA[سید مودودی]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن مجید]]></category>
		<category><![CDATA[مودودی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1341</guid>
		<description><![CDATA[اسلام جیسے جیسے عرب سے باہر پھیلنا شروع ہوا تو اس کے بنیادی ماخذ قرآن کی تفہیم کا مسئلہ شدت سے سامنے آنے لگا۔ وہ علاقے جہاں عربی زبان نہیں سمجھی جاتی تھی وہاں کے علماء نے قرآن مجید کے تراجم کیے تاکہ لوگ اس آفاقی پیغام کو درست طور پر سمجھ سکیں۔ بیسویں صدی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اسلام جیسے جیسے عرب سے باہر پھیلنا شروع ہوا تو اس کے بنیادی ماخذ قرآن کی تفہیم کا مسئلہ شدت سے سامنے آنے لگا۔ وہ علاقے جہاں عربی زبان نہیں سمجھی جاتی تھی وہاں کے علماء نے قرآن مجید کے تراجم کیے تاکہ لوگ اس آفاقی پیغام کو درست طور پر سمجھ سکیں۔</p>
<p>بیسویں صدی میں جب اسلام ایک مغلوب و مظلوم قوم کا مذہب تھا جن پر دنیا بھر کے مظالم ہو رہے تھے، اس زمانے میں ہندوستان میں دو شخصیات نے ان کے اندر حقیقی اسلامی روح پیدا کرنے کی کوشش کی ایک علامہ محمد اقبال اور دوسرے سید ابو الاعلی مودودی۔</p>
<p>سید مودودی کی تمام کتب سے زیادہ شہرت ان کی تفسیر قرآن &#8220;تفہیم القرآن&#8221; نے حاصل کی۔ جس میں انہوں نے قرآن مجید کے ترجمہ کرنے کے روایتی انداز کے بجائے ترجمانی کا طریقہ اختیار کیا اور یوں اردو زبان میں ایک ویسے ہی زور بیان والے ترجمہ و تفسیر کی آمد ہوئی جیسا کہ عربی قرآن مجید کا ہے۔ سید مودودی کا ترجمے و تفسیر کے اس کام میں ہاتھ ڈالنے کا مقصد اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانا نہیں بلکہ جدید مغربی ادب سے متاثر ہو کر الحاد کے پلڑے میں جا گرنے والے نوجوان و تعلیم یافتہ طبقے کو واپس اسلام کی جانب لانا تھا۔ ان کے خلوص دل اور محنت کا نتیجہ تھا کہ تعلیم یافتہ طبقے کی بڑی تعداد کا نہ صرف جھکاؤ مذہب کی جانب ہوا بلکہ انہوں نے اسلام کو صرف ایک مذہب کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک نظام زندگی کے طور پر از سر نو قبول کیا۔<span id="more-1341"></span></p>
<p>تفہیم القرآن سید مودودی نے 30 سال (1942ء تا 1972ء) کی محنت سے تحریر کی۔ انگریزی سمیت دنیا کی متعدد زبانوں تفہیم القرآن کا ترجمہ ہو چکا ہے۔</p>
<p><a href="http://urduweb.org/mehfil">اردو محفل </a>پر کئی سال قبل تفہیم القرآن کو تحریری اردو کے قالب میں ڈھالنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا تاہم اتنے بڑے منصوبے کے لیے افرادی قوت کم تھی اور یوں یہ منصوبہ آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔</p>
<p>گزشتہ سال کے اواخر میں چند منصوبوں کی تکمیل کا منصوبہ بنایا جس میں سرفہرست تفہیم القرآن تھا۔ ابتدائی ہدف تفہیم القرآن میں پیش کردہ ترجمے کو تحریری صورت میں پیش کرنا تھا اور دو ماہ تک ٹائپنگ اور مزید چند مہینوں تک اس کی پروف ریڈنگ کی گئی اور یوں یہ منصوبہ تکمیل کو پہنچا۔</p>
<p>اس منصوبے کی تکمیل میں اعجاز اختر صاحب (بھارت) اور قسیم حیدر صاحب (سعودی عرب) کا بھرپور تعاون حاصل رہا جنہوں نے اب تک تفہیم القرآن کے ٹائپ شدہ تمام مواد تک مجھے رسائی فراہم کی تاکہ میری ٹائپنگ ٹیم مزید محنت سے بچ جائے۔ اس کے علاوہ وہ درجنوں نامعلوم ساتھی جنہوں نے اردو محفل کے لیے تفہیم القرآن کے ٹائپنگ پروجیکٹ میں حصہ لیا، وہ بھی اس منصوبے کی تکمیل کے پس پردہ کردار ہیں۔ اللہ ان تمام ساتھیوں کو اجر عظیم سے نوازے اور اس کام کو دنیا و آخرت میں ان کے لیے رحمت و برکت کا باعث بنائے۔ آمین۔</p>
<p>ٹائپنگ مکمل ہونے کے بعد سب سے اہم مرحلہ یہ تھا کہ اس خام مواد کو سب سے پہلے کس صورت میں پیش کیا جائے؟ میری نظر میں سب سے پہلے یہ مواد معروف قرآنی سافٹ ویئر &#8220;<a href="http://zekr.org/">ذکر</a>&#8221; کے لیے بہترین تھا۔ اس لیے اس ٹائپ شدہ مواد کو ذکر کی ترجمے کی فائل میں ڈھالنے کا کام شروع کیا گیا اور اس کام کے لیے مختلف دوستوں کا تکنیکی تعاون حاصل رہا جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہو ں کہ انہوں نے مجھ جیسے &#8220;غیر تکنیکی&#8221; بندے کو معلومات سے نوازا۔</p>
<p>یہ تمام قارئین کے لیے ماہ <strong>رمضان المبارک</strong> کا تحفہ ہے۔ اس ماہ میں تلاوت قرآن مجید کے لیے ذکر سافٹ ویئر استعمال کیجیے اور اس میں تفہیم القرآن کے اس عام فہم ترجمے کو انسٹال کر کے اس کا مطالعہ کیجیے۔ ذکر میں معروف قاری حضرات کی قرات بھی سنی جا سکتی ہے۔</p>
<h3>تکنیکی معلومات</h3>
<p>آپ اس ربط سے <a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Zekr%20Quranic%20Software/zekr-0.7.5beta4-IndoPak.exe" target="_blank">ذکر سافٹ ویئر ڈاؤنلوڈ </a>کر سکتے ہیں۔ ذکر کو چلانے کے لیے جاوا کی ضرورت ہوتی ہے جو آپ کو <a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Zekr%20Quranic%20Software/jre-6u17-windows-i586-s.exe" target="_blank">اس ربط سے مل جائے گا</a>۔ پہلے جاوا انسٹال کریں اور پھر ذکر انسٹال کر لیں۔<br /> اب اس میں تفہیم القرآن کا ترجمہ انسٹال کرنے کا مرحلہ آتا ہے۔ آپ ذکر سافٹ ویئر کو چلائیے اور Tools کے مینیو بار میں جائیے۔ یہاں سے Add&gt;Translation میں جائیے اور <a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Zekr%20Quranic%20Software/Maududi.trans.zip">تفہیم القرآن کی ڈاؤنلوڈ کردہ ترجمہ فائل</a> کو لوکیٹ کر کےاوپن کر لیجیے۔ تفہیم القرآن کا ترجمہ انسٹال ہو جائے گا۔ اب view کے مینیو میں translation میں جائیے اور تفہیم القرآن پر کلک کر دیجیے۔ آپ کا ترجمہ تبدیل ہو کر تفہیم القرآن والا ہو جائے گا۔ آپ Tools&gt; Options&gt; View میں جاکر ذکر کے فونٹس کی کسٹمائزیشن بھی کر سکتے ہیں یعنی قرآنی متن اور ترجمہ اپنی مرضی کے فونٹ  میں دیکھ سکتے ہیں۔ میں ذیل میں اہم لنکس کی سرخی تلے دیے گئے قرآنی متن کے لیے فونٹ اور ترجمے کے لیے نستعلیق فونٹ کو recommend کروں گا، ان فونٹس کے ذریعے آپ با آسانی قرآن مجید کی تلاوت و ترجمہ پڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>اگر ذکر سافٹ ویئر کی انسٹالیشن یا ترجمہ شامل کرنے میں کسی قسم کی کوئی دشواری پیش آئے تو یہاں تبصرے میں ضرور پیش کیجیے۔ مسئلہ فوری طور پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔</p>
<h3>ایک اپیل</h3>
<p>میں بلاگ کا دورہ کرنے والے ان احباب سے جو پروگرامر ہیں اور جاوا پر مہارت رکھتے ہیں مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے میرے ای میل ایڈریس fahad [at] abushamil.com پر رابطہ کریں۔ تفہیم القرآن کے اس ترجمے کو مزید بہتر انداز میں پیش کرنے کے لیے ان کی مدد درکار ہے۔ ذکر ایک آزاد مصدر (اوپن سورس) سافٹ ویئر ہے اور اس میں ہر طرح کی تبدیلی کی اجازت ہے۔</p>
<h3>اہم لنکس</h3>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Zekr%20Quranic%20Software/zekr-0.7.5beta4-IndoPak.exe">ذکر قرآنی سافٹ ویئر ڈاؤنلوڈ کیجیے</a></p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Zekr%20Quranic%20Software/jre-6u17-windows-i586-s.exe">جاوا رن ٹائم ڈاؤنلوڈ کیجیے</a></p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Zekr%20Quranic%20Software/Maududi.trans.zip">سید ابو الاعلی مودودی کا ترجمہ قرآن ڈاؤنلوڈ کیجیے</a></p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Fonts/Al%20Qalam%20Quran.ttf">قرآنی متن کے لیے فونٹ</a></p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Fonts/Jameel2.ttf">اردو نستعلیق فونٹ</a></p>
<p><a href="http://zekr.org/">ذکر کی آفیشل ویب سائٹ</a></p>
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Ftafheem-ul-quran%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Ftafheem-ul-quran%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/tafheem-ul-quran/&title=ترجمۂ+تفہیم+القرآن&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/tafheem-ul-quran/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>50</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>لبرل طبقہ اور &#8220;کافر&#8221;</title>
		<link>http://www.abushamil.com/premchand-incident-and-liberals/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/premchand-incident-and-liberals/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 06 Aug 2010 16:56:16 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[حالات حاضرہ]]></category>
		<category><![CDATA[Air Blue Crash]]></category>
		<category><![CDATA[Express Tribune]]></category>
		<category><![CDATA[Kafir]]></category>
		<category><![CDATA[Prem Chand]]></category>
		<category><![CDATA[Youth Parliament]]></category>
		<category><![CDATA[ایئر بلیو حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایکسپریس ٹریبون]]></category>
		<category><![CDATA[پریم چند]]></category>
		<category><![CDATA[یوتھ پارلیمنٹ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1348</guid>
		<description><![CDATA[گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ایئربلیو کے طیارے کو حادثہ پیش آیا جس میں جہاز میں موجود تمام افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس افسوسناک واقعے کی خبر کے ساتھ ہی غم کی ایک چادر تھی جو پورے ملک پر تن گئی۔ جاں بحق ہونے والو ں میں یوتھ پارلیمنٹ کے چھ اراکین بھی شامل [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ایئربلیو کے طیارے کو حادثہ پیش آیا جس میں جہاز میں موجود تمام افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس افسوسناک واقعے کی خبر کے ساتھ ہی غم کی ایک چادر تھی جو پورے ملک پر تن گئی۔ جاں بحق ہونے والو ں میں یوتھ پارلیمنٹ کے چھ اراکین بھی شامل تھے جن میں ایک اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ہمارے بھائی پریم چندکے علاوہ اویس بن لئیق، بلال جامعی، حسن جاوید خان ، سید ارسلان احمد اور سیدہ رباب زہرہ نقوی شامل تھے۔ یوتھ پارلیمنٹ کے یہ اراکین اسلام آباد میں اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے تاہم ان کی موت نے پارلیمنٹ کے اس اجلاس کو سوگوار کر دیا۔</p>
<p>آجکل بلاگستان اور میڈیا میں پریم چند کے حوالے سے کچھ باتیں گردش کر رہی ہے کہ لاشوں کی حوالگی کے لیے جو تابوت لواحقین کو دیے گئے ان میں پریم چند کے تابوت پر &#8220;کافر&#8221; لکھا ہوا تھا۔  گو کہ اس کے بہت زیادہ شواہد موجود نہیں ہیں محض چند ایک لوگوں کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے &#8220;کافر&#8221; لکھا ہوا دیکھا تاہم مرحوم کے رشتہ داروں، عزیزوں حتی کہ اسلام آباد میں پمز ہسپتال میں ان کی لاش وصول کرنے والے رشتہ دار نانک رام تک نے ایسا کچھ تابوت پر لکھا ہوا نہیں دیکھا۔<span id="more-1348"></span></p>
<p>لیکن اگر حقیقتا ایسا کوئی لفظ مرحوم کے تابوت پر لکھا بھی گیا ہے تو میرے خیال میں اصل مسئلہ یہاں پیدا ہوا ہوگا کہ مسلمان کا تابوت اٹھاتے ہمارے ہاں کلمہ شہادت کہنے کی رسم ہے اور ایک غیر مسلم کی میت اٹھنے  پر کلمہ شہادت نہیں پڑھا جاتا۔ اس لیے لاشوں کو تابوتوں میں رکھنے والے عملے نے &#8220;مناسب&#8221; سمجھا ہوگا کہ پریم چند کے تابوت پر ایسا کوئی نشان لگا لیا جائے تاکہ وضاحت ہو جائے کہ یہ غیر مسلم کا جنازہ ہے۔ مجھے اس طبی و امدادی عملے  کی تعلیمی قابلیت کا کچھ اندازہ تو نہیں ہے لیکن امکان یہی ہے کہ وہ معمولی تعلیم کے حامل افراد ہوں گے جنہوں نے اپنی عقل کے مطابق اس پر &#8220;کافر&#8221; لکھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس پر &#8220;ہندو&#8221; یا &#8220;غیر مسلم&#8221; لکھ دیتے تو شاید اتنا اعتراض نہ ہوتا لیکن ہمارے لبرل و سیکولر حلقوں نے ہمیشہ کی طرح موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس معاملے کو بہت زیادہ اچھالا، جیسا کہ ان کی عادت ہے کہ جہاں مذہب کا معاملہ آئے فورا ہی اسے آڑے ہاتھوں لو، ان کے دلائل تھے کہ پریم چند کو کافر کیوں قرار دیا گیا ہے؟ <a href="http://tribune.com.pk/story/32670/youth-parliament%E2%80%99s-last-session-not-as-they-expected/">اس خبر </a>کی رپورٹ کرنے والی ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹر ماہا مصدق نے گو کہ اس تابوت کو خود نہیں دیکھا لیکن انہوں نے یوتھ پارلیمنٹ کے رکن احسان نوید، جو میڈیکل کے چوتھے سال کے طالب علم ہیں، کا حوالہ دیا ہے کہ انہوں نے خود اس تابوت کو دیکھا جس پر کافر لکھا تھا جسے بعد میں انہوں نے خود مٹایا۔</p>
<p>درحقیقت عربی کی اصطلاح &#8220;کافر&#8221; غیر مسلم ہی کا متبادل ہے اور اسے غیر مسلم کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں کی چند شدت پسند جماعتوں نے اس لفظ کا اتنا بے دریغ استعمال کیا ہے کہ اب یہ لفظ ایک اصطلاح کے بجائے ایک گالی بن کر رہ گیا ہے۔ اس لیے پریم چند کے حوالے سے یہ خبر سامنے آتے ہی لبرل حلقوں میں گویا آگ لگ گئی اور انہوں نے جذبات میں وہی حرکتیں کرنا شروع کر دیں جو ہمارا نام نہاد &#8220;مذہبی حلقہ&#8221; کرتا ہے۔ ایک طرف لبرل حلقوں نے اس حرکت کے مرتکب افراد پر اعتراض اٹھایا کہ وہ کسی کے مذہب پر انگلی اٹھانے والے یا کافر قرار دینے والے کون ہوتے ہیں اور پھر خود بھی یہی بعینہ حرکت کی کہ کافر لکھنے والے خود کتنے مسلمان ہیں؟ ان کی اپنی قبروں پر منافق لکھنا چاہیے، منافق بہتر ہوتا ہے یا کافر؟ وغیرہ وغیرہ۔</p>
<p>ہمارے لبرل و سیکولر طبقے کو سمجھنا چاہیے (اگر ان میں سمجھ ہے تو) کہ جس طرح وہ فوری طور پر جذباتی ہو جاتے ہیں، یہ بالکل وہی انداز ہے جیسا کہ ہمارا مذہب سے محبت کا دعوی رکھنے والے طبقہ کرتا ہے کہ بجائے عقلی دلائل کے دوسرے کو قائل کرنے کے فوری طور پر چڑھ دوڑو، منہ سے جھاگ اڑاؤ اور جتنا اونچی آواز میں بول سکتے ہو بولو تاکہ دوسرے کی آواز دب جائے۔ لیکن نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جو بھی نکلتا ہے ان کے حق میں نہیں نکلتا۔ میں پہلے بھی اس موقف کا قائل رہا ہوں کہ مسلم ممالک میں انتہا پسندی پھیلانے کا سب سے بڑا سبب ہمارے لبرل طبقے کا اپنے موقف پر انتہا پسندانہ حد تک ڈٹے رہنا اور زمینی حقائق کو دیکھنے بغیر اپنے موقف کا جبرا نفاذ کرنا ہے۔ اس کی کئی عملی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اگر آپ اتنی شدت کے ساتھ اپنے موقف کی حمایت کر سکتے ہیں اور دوسرے کی معمولی غلطی کو برداشت نہیں کر سکتے تو آپ میں اور ایک انتہا پسند میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟</p>
<p>ایک جانب جہاں پے در پے آفات و حادثات کے باعث ہزاروں افراد کی جانیں جا چکی ہیں اسی دوران بد قسمت طیارے کو پیش آنے والا حادثہ ایک عظیم سانحہ تھا اور اس حادثے میں یوتھ پارلیمنٹ کے ان چھ اراکین کی موت نے پاکستان کو مستقبل کی ممکنہ قیادت نے محروم کر دیا ہے۔ اللہ جاں بحق ہونے والے تمام افراد کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی خطاؤں سے درگزر فرمائے اور ان کے درجات کو بلند فرمائے۔</p>
<p>لنکس</p>
<p><a href="http://tribune.com.pk/story/32670/youth-parliament%E2%80%99s-last-session-not-as-they-expected/">خبر، جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ پریم چند کے تابوت پر کافر لکھا تھا</a></p>
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fpremchand-incident-and-liberals%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fpremchand-incident-and-liberals%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/premchand-incident-and-liberals/&title=لبرل+طبقہ+اور+&#8220;کافر&#8221;&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/premchand-incident-and-liberals/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>36</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>قومیت و صوبائیت &#8211; ایک کتابچہ</title>
		<link>http://www.abushamil.com/hakim-akhtar/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/hakim-akhtar/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 05 Aug 2010 09:37:09 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[حاصل مطالعہ]]></category>
		<category><![CDATA[حالات حاضرہ]]></category>
		<category><![CDATA[حکیم محمد اختر]]></category>
		<category><![CDATA[صوبائیت]]></category>
		<category><![CDATA[قومیت]]></category>
		<category><![CDATA[لسانیت]]></category>
		<category><![CDATA[نسل پرستی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1358</guid>
		<description><![CDATA[قوم پرستی و دیگر تعصبات کے حوالے سے آج کل خوب بحثیں ہو رہی ہیں۔ اس حوالے سے اسلامی تعلیمات کیا ہیں؟ اسے سمجھنے کے لیے اس بلاگ کے شریک لکھاری ڈاکٹر ظفر اقبال نے ایک کتابچہ ارسال کیا ہے جو خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کراچی کے مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب کے ارشادات کا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>قوم پرستی و دیگر تعصبات کے حوالے سے آج کل خوب بحثیں ہو رہی ہیں۔ اس حوالے سے اسلامی تعلیمات کیا ہیں؟ اسے سمجھنے کے لیے اس بلاگ کے شریک لکھاری ڈاکٹر ظفر اقبال نے ایک کتابچہ ارسال کیا ہے جو خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کراچی کے مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب کے ارشادات کا ایک مجموعہ ہے۔ حکیم صاحب مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ ہیں۔ ان کے کتابچے کا نام &#8220;قومیت و صوبائیت اور زبان و رنگ کے تعصب کی اصلاح&#8221; ہے۔ حکیم صاحب نے انتہائی آسان الفاظ میں تعصب کی حقیقت کو اجاگر کیا ہے اور اس کے نتیجے میں اسلام کی بنیادوں پر پڑنے والے نقصانات بیان کیے ہیں۔ امید ہے کہ یہ کتابچہ احباب کے ذہنوں کو  تعصب  کے اندھیروں سے روشنی میں لائے گا۔<span id="more-1358"></span></p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Qomiyat_o_Sobaiyt.pdf">کتابچہ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کیجیے</a><a href="http://www.khanqah.org/"></a></p>
<p><a href="http://www.khanqah.org/">خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کی ویب سائٹ</a></p>
<ul> </ul>
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fhakim-akhtar%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fhakim-akhtar%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/hakim-akhtar/&title=قومیت+و+صوبائیت+&#8211;+ایک+کتابچہ&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/hakim-akhtar/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>21</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>قوم پرستی کی لعنت</title>
		<link>http://www.abushamil.com/karachi-target-killings/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/karachi-target-killings/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 03 Aug 2010 19:24:30 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[حالات حاضرہ]]></category>
		<category><![CDATA[Karachi]]></category>
		<category><![CDATA[Target Killing]]></category>
		<category><![CDATA[عصبیت]]></category>
		<category><![CDATA[قوم پرستی]]></category>
		<category><![CDATA[لسانیت]]></category>
		<category><![CDATA[ٹارگٹ کلنگ]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1339</guid>
		<description><![CDATA[قوم پرستی اور عصبیت آپ کی سوچ پر انتہائی منفی اثرات ڈالتی ہے، یہی منفی اثرات آپ کو پاکستانی معاشرے میں جابجا نظر آئیں گے۔ سندھی زبان کا یہ محاورہ &#8220;سچ کو سچ مانیں گے لیکن لڑیں گے بھائی کے لیے&#8221; (یہاں بھائی سے مراد قبیلہ یا قوم ہے) ہمارے معاشرے میں عصبیت و لسانیت [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>قوم پرستی اور عصبیت آپ کی سوچ پر انتہائی منفی اثرات ڈالتی ہے، یہی منفی اثرات آپ کو پاکستانی معاشرے میں جابجا نظر آئیں گے۔ سندھی زبان کا یہ محاورہ &#8220;سچ کو سچ مانیں گے لیکن لڑیں گے بھائی کے لیے&#8221; (یہاں بھائی سے مراد قبیلہ یا قوم ہے) ہمارے معاشرے میں عصبیت و لسانیت کے گہرے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ عصبیت انسان کو اندھا کر دیتی ہے جیساکہ اس محاورے سے بھی ظاہر ہے کہ پہلے تو انسان سچ کو سچ نہیں سمجھتا اور اگر سمجھ بھی لیتا ہے تو خود میں اتنی اخلاقی جرات نہیں پاتا کہ وہ سچ کا ساتھ دے اور باطل کا ساتھ دینے سے انکار کر دے۔ یہی عصبیت و لسانیت وطن عزیز میں لسانی و قومی بنیادوں پر مختلف فسادات کا موجب بنی ہے خصوصا صوبہ سندھ اس کا بدترین شکار رہا ہے۔ ماضی کے سندھی مہاجر فسادات اور طویل عرصے سے جاری مہاجر پٹھان فسادات اس امر کے عکاس ہیں کہ اکیسویں صدی میں بھی ہمارے افراد اسی دقیانوسی سوچ کے حامل ہیں جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ زمانہ ترقی کر گیا ہے، ہر ٹیکنالوجیکل جدت ہم لوگوں نے اپنا لی ہے لیکن اپنے دماغ کو کھولنے سے ہم لوگ قاصر ہیں یا پھر اسے کھولنا چاہتے ہی نہیں کہ اسی غلاظت سے ہمارے مفادات وابستہ ہیں۔<span id="more-1339"></span></p>
<p>سوچنے کی بات ہے کیا میں حق پر موجود ایک پنجابی، پٹھان، مہاجر اور بلوچی کا محض اس لیے ساتھ نہ دوں کہ اس کا جھگڑا میری قوم کے ایک سندھی فرد سے ہوا ہے،  جو اس قضیے میں جھوٹا ہے؟ کیا میں صرف قوم کی بنیاد پر اس کا ساتھ دینے میں حق بجانب ہوں ؟۔ میرے خیال میں تو اخلاقی و فطری لحاظ سے بھی یہ بہت بڑی کمزوری ہے کہ آپ سچ کو سچ نہ کہہ سکیں۔ یہ جہالت کی وہ انتہا ہے، جس کے بعدیہی کہا جا سکتا ہے کہ آپ دماغی اندھے پن کا شکار ہیں۔</p>
<p>جہالت عصبیت کو دو آتشہ کر دیتی ہے اور انسان کو انسانیت کے مقام سے گرا کر حیوانیت پر لے آتی ہے۔ ذرا شہر قائد میں ماضی میں ہونے والے فسادات کو دیکھئے، جن میں محض پینٹ شرٹ پہننے کی بنیاد پر یا محض ظاہری سرخ و سپید رنگت پر کسی کو زدو و کوب کیا گیا حتی کہ بسا اوقات اسے جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔<br /> شہر قائد کراچی میں گزشتہ کئی ماہ سے اسی قومیت و لسانیت کے نام پر روزانہ لوگوں کو مارا جا رہا ہے اور گزشتہ دو دنوں میں تو جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 150 سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دیے ہوئے پیغام کو بھلا دیا ہے۔ برادر عدنان مسعود نے اس موقع پر بہت اہم حدیث بیان کی ہے:</p>
<blockquote><p>جس نے عصبیت کی طرف دعوت دی وہ ہم میں سے نہیں،</p>
<p>جس نےعصبیت کے لیے جنگ کی وہ ہم میں سے نہیں،</p>
<p>جو عصبیت پر مرا وہ ہم میں سے نہیں ہے (ابوداؤد)</p>
</blockquote>
<p>جب سوائے تقوی کے کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں دی گئی تو ہم محض نسلی و لسانی بنیادوں پر کسی کو کسی پر فضیلت دینے والے کون ہوتے ہیں؟  یہ وقت ہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی طرف رجوع کرنے کا، ان احکامات پر عمل کرنے کا، خود کو بدلنے کا اور لسانیت، عصبیت، قبائلیت اور قومیت کے غلیظ گڑھوں میں سے نکلنے کا۔</p>
<p>اس حوالے سے ساتھی بلاگرز کی تحاریر:</p>
<p><a href="http://urdu.adnanmasood.com/2010/08/%d8%b9%d8%b5%d8%a8%db%8c%d8%aa/" target="_blank">عدنان مسعود کے بلاگ سے : عصبیت</a></p>
<p><a href="http://pensive-man.blogspot.com/2010/08/blog-post_03.html" target="_blank">شعیب صفدر کے بلاگ سے: منجانب اہلیان کراچی</a></p>
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fkarachi-target-killings%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fkarachi-target-killings%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/karachi-target-killings/&title=قوم+پرستی+کی+لعنت&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/karachi-target-killings/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>28</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>فلمستان &#8211; نئے ڈومین پر</title>
		<link>http://www.abushamil.com/filmistan-new-domain/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/filmistan-new-domain/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 16 Jul 2010 17:05:57 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[Film reviews]]></category>
		<category><![CDATA[Filmistan]]></category>
		<category><![CDATA[Movie reviews]]></category>
		<category><![CDATA[فلم تبصرے]]></category>
		<category><![CDATA[فلمستان]]></category>
		<category><![CDATA[مووی تبصرے]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1331</guid>
		<description><![CDATA[اردو بلاگستان میں موضوعاتی بلاگنگ کے آغاز کی خواہش کا اظہار کافی عرصے سے ہوتا رہا ہے اور اس ضمن میں چند پس پردہ کوششیں بھی کی گئیں لیکن وہ مشہور زمانہ سرخ فیتے کا نشانہ بن گئیں اور یوں &#8216; بن کھلے مرجھانے&#8217; والا معاملہ ہو گیا بلاگستان کے چند اراکین مختلف مواقع پر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اردو بلاگستان میں موضوعاتی بلاگنگ کے آغاز کی خواہش کا اظہار کافی عرصے سے ہوتا رہا ہے اور اس ضمن میں چند پس پردہ کوششیں بھی کی گئیں لیکن وہ مشہور زمانہ سرخ فیتے کا نشانہ بن گئیں اور یوں &#8216; بن کھلے مرجھانے&#8217; والا معاملہ ہو گیا <img src='http://www.abushamil.com/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /> </p>
<p>بلاگستان کے چند اراکین مختلف مواقع پر فلموں کو اپنی تحاریر کا موضوع بناتے رہتے ہیں۔ اسی دوران ایک مرتبہ فلم ریویوز پر بلاگ بنانے کا خیال آیا اور یوں ساتھیوں کے تعاون کی یقین دہانی نے اس خیال کو حقیقت کا جامہ پہنایا۔</p>
<p>سب سے پہلے تکنیکی پہلو پر نظر ڈالی گئی اور چند ہی روز میں ابوشامل ڈاٹ کام کے ایک ذیلی ڈومین پر فلمستان کا آغاز ہوا۔ تکنیکی شعبے میں <a href="http://sajid.gumbat.com/" target="_blank">ساجد اقبال </a>اور <a href="http://blog.bilaunwan.co.cc/" target="_blank">محمد اسد</a> نے بہت تعاون کیا جبکہ تحاریر کے سلسلے میں <a href="http://jafar.wordpress.pk/" target="_blank">جعفر حسین</a>، <a href="http://noumaan.sabza.org/" target="_blank">نعمان یعقوب</a>، <a href="http://ain-laam-meem.blogspot.com/" target="_blank">عمیر ملک</a> اور <a href="http://www.khawarbilal.com/" target="_blank">خاور بلال </a>نے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور عملی طور پر اس میں وقتا فوقتا اپنا حصہ ڈالا ہے۔<br /> <span id="more-1331"></span><br /> یوں موضوعاتی بلاگ کا خواب ایک حقیقت کا روپ دھارنے لگا اور اس منفرد بلاگ پر روز افزوں قارئین و تبصرہ نگاروں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ میری خواہش تھی کہ آزمائشی دور پورا ہونے کے بعد اسے مکمل طور پر ایک الگ بلاگ کی حیثیت دی جائے تاکہ اس کی انفرادیت میں مزید اضافہ ہو۔ اسی سلسلے میں برادر ساجد اقبال کی رہنمائی میں فلمستان کو ایک نئے ڈومین پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ بہت سارے کرم فرماؤں کو ڈاٹ انفو والی ڈومین کچھ کھٹک رہی ہوگی لیکن یہ &#8220;best available&#8221; ڈومین تھی <img src='http://www.abushamil.com/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' />  اس لیے اسی پر گزارہ کریں ویسے بھی اصل چیز بلاگ کی انفرادیت اور اس کا مواد ہے۔</p>
<p>فلمستان کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے چند قارئین کی جانب سے تجاویز موصول ہوئی ہیں جن میں قابل عمل تجاویز پر عملدرآمد کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ جلد آپ کو فلمستان مزید بہتر انداز میں نظر آئے گا۔</p>
<p>آخر میں میں فلمستان کے تکنیکی معاونین، تحریری معاونین اور بہتری کے لیے تجاویز دینے والے افراد کا بے حد مشکور ہوں جو اپنا قیمتی وقت دے رہے ہیں۔</p>
<p>فلمستان کے لیے تکنیکی و دیگر تجاویز کا بھی خیر مقدم کیا جائے۔ فلمستان کے بارے میں تازہ ترین اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے اسے <a href="http://twitter.com/filmistan" target="_blank">ٹویٹر پر فالو کیجیے۔ </a></p>
<h2 style="text-align: center;"><a href="http://www.filmistan.info/">فلمستان ڈاٹ انفو </a></h2>
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Ffilmistan-new-domain%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Ffilmistan-new-domain%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/filmistan-new-domain/&title=فلمستان+&#8211;+نئے+ڈومین+پر&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/filmistan-new-domain/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>16</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
