<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ابوشامل</title>
	<atom:link href="http://www.abushamil.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.abushamil.com</link>
	<description>مرے ہنگامۂ نو بہ نو کی انتہا کیا ہے</description>
	<lastBuildDate>Mon, 08 Mar 2010 10:31:15 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9.2</generator>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>پاکستان کا بلاگستان &#8211; بی بی سی پر پاکستانی بلاگستان کا جائزہ</title>
		<link>http://www.abushamil.com/pakistan-ka-blogistan/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/pakistan-ka-blogistan/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 08 Mar 2010 10:31:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[BBC]]></category>
		<category><![CDATA[Blogistan]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistani Blogs]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Blogs]]></category>
		<category><![CDATA[بلاگستان]]></category>
		<category><![CDATA[بی بی سی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی بلاگز، اردو بلاگز]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1052</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان کا بلاگستان بھی پاکستان جیسا ہی ہے۔ قدامت و جدیدیت پسندی کے درمیان جھولتا، اردو اور انگریزی میڈیم کے درمیان منقسم، شدت جذبات سے لبریز، رنگارنگ اور بہت ہی دلچسپ۔

یہ الفاظ ہیں معروف اردو بلاگر نعمان یعقوب کے اس جائزے کے جو 8 مارچ 2010ء کو بی بی سی اردو پر شایع ہوا۔ ویسے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<blockquote><p>پاکستان کا بلاگستان بھی پاکستان جیسا ہی ہے۔ قدامت و جدیدیت پسندی کے درمیان جھولتا، اردو اور انگریزی میڈیم کے درمیان منقسم، شدت جذبات سے لبریز، رنگارنگ اور بہت ہی دلچسپ۔</p>
</blockquote>
<p>یہ الفاظ ہیں معروف اردو بلاگر <a href="http://noumaan.sabza.org/">نعمان یعقوب</a> کے اس جائزے کے جو 8 مارچ 2010ء کو بی بی سی اردو پر شایع ہوا۔ ویسے تو یہ پورا مضمون ہی پڑھنے کے قابل ہے جس میں انہوں نے بلاگستان کا بہت خوب نقشہ کھینچا ہے لیکن اس میں میرے لیے جو بات انتہائی مسرت کی ہے وہ میری رائے کا شامل ہونا ہے اور اس کے لیے میں برادر نعمان کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے جن بلاگرز کا انٹرویو لینا مناسب سمجھا اس میں مجھے بھی شامل کیا۔</p>
<p>باقی آپ یہ مضمون پڑھ کر ہی اندازہ لگا لیں گے کہ انہوں نے موضوع کا کس عمدگی سے احاطہ کیا ہے۔</p>
<p>میری نعمان سے بھی گزارش ہے اور بی بی سی اردو والوں سے بھی کہ کم از کم سہ ماہی یا پھر ماہانہ بنیادوں پر پاکستانی بلاگستان (اردو و انگریزی) کا ہلکا سا  جائزہ پیش کر دیں تو اس سے بلاگز کو بہت ترویج ملے گی۔ گو کہ بی بی سی اردو پاکستان کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی اردو ویب سائٹس میں سے ایک ہے لیکن اس کے باوجود بی بی سی کے بلاگز اتنے معروف نہیں ہیں جتنا کہ دیگر اردو بلاگز ہیں اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی بلاگرز خصوصاً اردو بلاگرز کو آگے بڑھایا جائے۔</p>
<p>آپ نعمان یعقوب کا لکھا گیا پورا مضمون یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں:</p>
<h2 style="text-align: center;"><a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2010/03/100308_blogs_pakistan_zs.shtml">پاکستان کا بلاگستان</a></h2>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/pakistan-ka-blogistan/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>19</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ارمنی نسل کشی کا معاملہ اور امریکہ کی حکمت عملی</title>
		<link>http://www.abushamil.com/armenian-genocide-america-turkish-relations/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/armenian-genocide-america-turkish-relations/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 05 Mar 2010 19:37:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیات]]></category>
		<category><![CDATA[حالات حاضرہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسیات]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[Armenian Genocide]]></category>
		<category><![CDATA[Cyprus Issue]]></category>
		<category><![CDATA[First World War]]></category>
		<category><![CDATA[Islam & West]]></category>
		<category><![CDATA[US Turkish Relations]]></category>
		<category><![CDATA[World War I]]></category>
		<category><![CDATA[آرمینیائی قتل عام]]></category>
		<category><![CDATA[آرمینیائی نسل کشی]]></category>
		<category><![CDATA[ارمنی قتل عام]]></category>
		<category><![CDATA[ارمنی نسل کشی]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام و مغرب]]></category>
		<category><![CDATA[مسئلہ قبرص]]></category>
		<category><![CDATA[پہلی جنگ عظیم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1036</guid>
		<description><![CDATA[ترکی مسلم اکثریتی آبادی کے حامل سب سے زیادہ خواندہ ممالک میں سے ایک ہے۔ جمہوریہ کے قیام سے قبل عثمانی عہد میں جو تبدیلی کی لہر اُٹھی تھی وہ دراصل اُسی تعلیمی انقلاب کا نتیجہ تھی جو 19 ویں صدی میں  ہی آ گیا تھا۔ یہی انقلاب بعد ازاں نام نہاد خلافت اور بیرونی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ترکی مسلم اکثریتی آبادی کے حامل سب سے زیادہ خواندہ ممالک میں سے ایک ہے۔ جمہوریہ کے قیام سے قبل عثمانی عہد میں جو تبدیلی کی لہر اُٹھی تھی وہ دراصل اُسی تعلیمی انقلاب کا نتیجہ تھی جو 19 ویں صدی میں  ہی آ گیا تھا۔ یہی انقلاب بعد ازاں نام نہاد خلافت اور بیرونی قوتوں کے خلاف جدوجہد کا نتیجہ بنا اور یوں ترک جمہوریہ نے جنم لیا۔ اتاترک نے جو &#8216;اصلاحات&#8217; کیں ان میں سرفہرست نظام تعلیم تھا جس میں بہت زیادہ بہتریاں پیدا کی گئیں نتیجتاً ترکی میں شرح خواندگی بہت تیزی سے بڑھنے لگی اور آج وہاں شرح خواندگی تقریباً 90 فیصد ہے اور وہ ان مسلم اکثریتی ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں شرح خواندگی سب سے زیادہ ہے۔</p>
<p>ترک جمہوریہ کو مصطفیٰ کمال نے سیکولر ازم کی راہوں پر گامزن کیا اور آج بھی ترکی سیکولر ازم کا پیروکار ہے اور اس کی فوج آئینی طور پر سیکولر ازم کی محافظ سمجھی جاتی ہے۔ سیکولر ازم کی ترویج  ایک ایسے ملک میں ہر گز آسان نہ تھا جو صدیوں تک خلافت اسلامیہ کا علمبردار رہا ہو اور جس کا حکمران امت مسلمہ کا روحانی پیشوا سمجھا جاتا ہو لیکن مصطفیٰ کمال کی کرشماتی شخصیت اور کارناموں نے سب ازموں کو گہنا دیا اور یوں مسلم دنیا میں پہلا سیکولر ملک ابھرا جس نے ہر لحاظ سے خود کو مغربی دنیا کے شانہ بشانہ کھڑے کرنے کی کوشش کی حتیٰ کہ اپنی تاریخ کا ناطہ بھی مشرق سے توڑ کو مغرب سے جوڑنے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یورپی اتحاد (یورپین یونین) کی رکنیت کے لیے جو دلائل دیے جاتے ہیں وہ یہی ہیں کہ ترکی کی تاریخی جڑیں مغرب میں پیوست ہیں، یہ الگ بات کہ مغرب اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہے (اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ترکی کی تہذیبی و تاریخی جڑیں دراصل مشرق ہی میں پروان چڑھیں)۔</p>
<p>یہ پس منظر اس لیے بیان کیا گیا ہے تاکہ آگے کی بات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ بات اگر افغانستان جیسے ملک کی ہوتی جہاں جدوجہد کرنے والے خود نہیں جانتے کہ کامیابی کے بعد انہوں نے کرنا کیا ہے، تو کچھ سمجھ آتا لیکن ترکی جیسے ملک کے بارے میں مغرب کا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے اور ایسا لگتا ہے کہ مغرب اپنے رویے سے خود انتہا پسند تخلیق کرنا چاہ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ قطر میں ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوغان اور امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے درمیان ملاقات کے موقع پر امریکی و ترک سفیروں کے مابین ہاتھا پائی دراصل مغرب اور ترکی کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی سرد مہری کا ایک ہلکا سا اظہار تھا لیکن ابھی اس کی خبریں ٹھنڈی ہی نہ ہونے پائی تھیں کہ گزشتہ روز ایک بڑی خبر سامنے آ گئی جو یقیناً امریکہ اور ترکی کے تعلقات پر کاری ضرب لگائے گی۔</p>
<p>خبر یہ ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت پہلی جنگ عظیم کے دوران ارمنی باشندوں کے بڑے پیمانے پر مبینہ قتل عام کو &#8220;نسل کشی&#8221; قرار دیا گیا ہے۔ ارمنی نسل کشی (Armenian Genocide) ترکی کے لیے ہمیشہ نزع کا معاملہ  رہا ہے اور وہ ہمیشہ انکاری رہا ہے کہ جنگ عظیم میں ترک دستوں کی جابن سے ارمنی باشندوں کی بڑے پیمانے پر منظم نسل کشی کی گئی بلکہ اس کا موقف ہے کہ ارمنی باشندے ہر گز اتنی بڑی تعداد میں قتل نہیں کیے گئے تھے جتنے ظاہر کیے جاتے ہیں (یعنی 10 سے 15 لاکھ) اور صرف ارمنی نہیں بلکہ دیگر نسلی گروہ بھی جنگ عظیم میں بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے اس لیے ارمنی باشندوں کا منظم نسل کشی کا دعویٰ غلط ہے۔ جبکہ انسانی حقوق کے چیمپیئن مغربی ممالک ہمیشہ اس ضد پر اڑے رہے ہیں کہ ترکی ارمنی باشندوں کی نسل کشی کرنے پر ان سے معافی مانگے۔ اب جو افراد مغربی ممالک کے ان حربوں کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ ایسا صرف مخصوص ممالک کو دباؤ میں ڈالنے کے لیے کیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ خبر ترک حکومت پر بجلی کی طرح گری ہے اور انہوں نے فوری طور پر احتجاجاً امریکہ سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔ وزیر اعظم رجب طیب اردوغان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں اس قرارداد کی بھرپور مذمت کی گئی ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ ترکی نے واشنگٹن میں ترک سفیر نامق تان کو انقرہ واپس طلب کر لیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ &#8220;ترک-امریکہ تعلقات تاریخ کے سب سے کامیاب دور سے گزر رہے ہیں&#8221; اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے ترک-امریکہ تعلقات کو خراب نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>22 کے مقابلے میں 23 ووٹوں سے منظور ہونے والی اس قرارداد نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی پالیسی اور صدر براک اوباما پہلی جنگ عظیم میں ارمنی باشندوں کے قتل کو باضابطہ طور پر &#8220;نسل کشی&#8221; کہیں۔ اب امریکی اسپیکر نینسی پلوسی کو لازماً فیصلہ کرنا ہے کہ وہ منظور ہونے والے اس بل کو ایوانوں میں منظوری کے لیے بھیجیں یا نہ بھیجیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ 2007ء میں بھی کانگریشنل کمیٹی کی جانب سے ایسا ہی بل منظور کیا گیا تھا تاہم بش انتظامیہ پر دباؤ کے باعث اسے ایوان میں پیش نہیں کیا گیا تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ترکی میں امریکہ مخالف رحجانات میں زبردست اضافہ ہوا اور سروے سے ظاہر ہوا کہ <a href="http://www.csmonitor.com/2007/1101/p06s02-wome.html">ترکی میں امریکہ مخالف رائے عامہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے</a>۔</p>
<p style="text-align: center;"><a href="http://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/7/78/%D0%93%D0%B5%D0%BD%D0%BE%D1%86%D0%B8%D0%B4_%D0%B0%D1%80%D0%BC%D1%8F%D0%BD_-_1915_%D0%B3%D0%BE%D0%B4.jpg"><img class="aligncenter" style="border: 1px solid black;" src="http://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/7/78/%D0%93%D0%B5%D0%BD%D0%BE%D1%86%D0%B8%D0%B4_%D0%B0%D1%80%D0%BC%D1%8F%D0%BD_-_1915_%D0%B3%D0%BE%D0%B4.jpg" alt="مبینہ ارمنی قتل عام" width="420" height="292" /></a></p>
<p>ارمنی نسل کشی ترکی کو درپیش بڑے خارجہ مسائل میں سے ایک ہے اور لیکن نہ صرف اس معاملے میں بلکہ قبرص کے معاملے میں بھی مغرب اور امریکہ کا رویہ ہمیشہ معاندانہ رہا ہے اور بجائے حقائق کو سمجھنے کے انہوں نے ان تنازعات کو پیدا کر کے ہمیشہ ترکی کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہاں ذہن میں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ امریکہ اپنے سب سے بہترین اتحادی کے ساتھ ایسا کھیل کیوں کھیل رہا ہے؟ اگر معاملہ صرف انسانی حقوق کا ہے تو پاکستان پر کبھی بنگالیوں کی نسل کشی کا الزام لگا کر ایسی قرارداد کیوں نہیں منظور کی گئی۔ اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مختلف ممالک کو دباؤ میں رکھنے کے لیے مختلف کارڈز وقتاً فوقتاً پھینکتا ہے اور ان کارڈز کو بچا رکھتا ہے، جس طرح اس نے پاکستان کو دیگر معاملات میں پھنسا رکھا ہے اور اس طرح ترکی کو قبرص و ارمنی نسل کشی کے معاملات میں الجھا رکھا ہے۔ ویسے کیا امریکہ کا رویہ یہ بات ثابت نہیں کر رہا کہ چاہے مسلمان سیکولر ہو یا انتہا پسند، اس کی نظر میں مسلمان ہی ہے اور وہ اس سے ویسا ہی رویہ اختیار کرے گا جو وہ مسلمانوں سے کرتا آ رہا ہے؟ بس فرق صرف اتنا ہے کہ افغانستان پر گولے برسائے جاتے ہیں اور ترکی پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اگر اس حکمت عملی کو تسلیم کیا جائے تو دیگر کئی سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں:</p>
<p>کیا امریکہ کے اس طرح کے اقدامات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ واقعتاً دنیا کو تہذیبی خطوط پر تقسیم کرنا چاہ رہا ہے؟</p>
<p>کیا اس طرح کے اقدامات واقعی تہذیبوں کے درمیان خلیج میں اضافہ کر رہے ہیں؟ جس کا نتیجہ ایک زبردست تصادم کی صورت میں نکل سکتا ہے؟</p>
<p>پھر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترکی کو صرف اس وجہ سے دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کی آبادی کی اکثریت اسلام کی نام لیوا ہے؟</p>
<p> </p>
<h2>مزید دیکھئے</h2>
<p><a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D9%85%D9%86%DB%8C_%D9%82%D8%AA%D9%84_%D8%B9%D8%A7%D9%85">ارمنی قتل عام </a>(Armenian Genocide) کے حوالے سے میرا وکیپیڈیا پر لکھا گیا ایک مختصر مضمون</p>
<p><a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A2%D8%B1%D9%85%DB%8C%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%B0%D8%B1%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%82%D8%AA%D9%84_%D8%B9%D8%A7%D9%85">آرمینیا کے آذریوں کا قتل عام</a></p>
<h2>اس حوالے سے چند خبریں:</h2>
<p><a href="http://www.csmonitor.com/World/Middle-East/2010/0304/Turkey-recalls-ambassador-after-US-resolution-on-Armenian-genocide">کرسچن سائنس مانیٹر</a> کی خبر</p>
<p><a href="http://online.wsj.com/article/SB10001424052748704187204575101981018521028.html?mod=WSJ_hpp_LEADNewsCollection">وال اسٹریٹ جرنل </a> کی خبر</p>
<p><a href="http://www1.voanews.com/english/news/europe/White-House-Urges-Congress-Not-to-Pass-Armenian-Genocide-Resolution-86373862.html">وائس آف امریکہ</a> کی خبر</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/armenian-genocide-america-turkish-relations/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>23</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شکست تسلیم، مگر اعلان بعد میں فتح کے تاثر کے ساتھ</title>
		<link>http://www.abushamil.com/america-defeat-in-afghanistan/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/america-defeat-in-afghanistan/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 02 Mar 2010 18:34:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>زبیر انجم</dc:creator>
				<category><![CDATA[عالمی صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[مہمان بلاگرز کی تحاریر]]></category>
		<category><![CDATA[afghan taliban]]></category>
		<category><![CDATA[Afghan War]]></category>
		<category><![CDATA[Defeat of America]]></category>
		<category><![CDATA[Friendly Fire]]></category>
		<category><![CDATA[taliban]]></category>
		<category><![CDATA[War on Terror]]></category>
		<category><![CDATA[افغان جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[افغان طالبان]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی شکست]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت گردی کے خلاف جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[طالبان]]></category>
		<category><![CDATA[فرینڈلی فائر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1028</guid>
		<description><![CDATA[
تحریر: زبیر انجم صدیقی
گزشتہ دنوں &#8220;ایک اطلاع&#8221; کے عنوان سے ایک تحریر سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ رواں صدی کی سب سے بڑی خبر یہ ہے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست ہو چکی ہے۔ کیونکہ یہ ایک تحریر محض مجذوب کی بڑ نہیں تھی بلکہ تحریر میں اس [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: center;"><a href="http://img28.imageshack.us/img28/6420/zubairanjum.jpg"><img class="aligncenter" style="border: 1px solid black;" title="zubair anjum" src="http://img28.imageshack.us/img28/6420/zubairanjum.jpg" alt="" width="108" height="141" /></a></p>
<p style="text-align: center;"><strong>تحریر: زبیر انجم صدیقی</strong></p>
<p>گزشتہ دنوں &#8220;ایک اطلاع&#8221; کے عنوان سے ایک تحریر سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ رواں صدی کی سب سے بڑی خبر یہ ہے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست ہو چکی ہے۔ کیونکہ یہ ایک تحریر محض مجذوب کی بڑ نہیں تھی بلکہ تحریر میں اس دعوے کو  تاریخ کے تناظر میں گہرے منطقی دلائل اور زمینی حقائق کے ساتھ پیش کیا گیا تھا اس لئے اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ مگر بعد میں پیش آنے والے واقعات اس &#8220;دعوے&#8221; کے صائب ہونے کو ثابت کرتے چلے گئے۔ </p>
<p>28 فروری کو برطانوی فوج کے سربراہ ڈیوڈ جنرل رچرڈ کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ افغان جنگ 2011ء میں ختم ہو جائے گی۔ مگر ہمارا اندازہ یہی ہے کہ افغان جنگ 2009ء کے وسط ہی میں ختم ہو گئی تھی۔ اور اس کے بعد سے اس جنگ کو سمیٹنے کا عمل جاری ہے۔ اور یہ جنگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نہیں بلکہ افغان مزاحمت کاروں کی فتح پر منتج ہوئی ہے۔ دسمبر میں ایک اور امریکی دفاعی میگزین کی یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ کابل کے علاوہ افغانستان کے جنوبی، جنوب مشرقی اور مشرقی صوبوں میں کم و بیش 60 فیصد پولیس اور فوج کے اہلکار طالبان سے جا ملے ہیں۔ اور باقی ماندہ بھی بمشکل ہی طالبان کے خلاف لڑنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کچھ واقعات ایسے پیش آئے جس نے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شکست کے آثار کو نمایاں کر دیا ہے۔ 30 جنوری کو جنوبی افغانستان میں دو امریکی فوجیوں کو ان کے افغان مترجم نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ جس کے بعد اس مترجم کو بھی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ فروری میں ایک اور واقعہ پیش آیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قابض افواج کس طرح کے خطرات سے دو چار ہیں۔ فروری کے وسط میں مشرقی صوبے قندوز کے ضلع امام صاحب میں ایک کارروائی کے دوران اتحادی افواج اور افغان سیکیورٹی فورسز مد مقابل آ گئیں۔ جس میں سات افغان پولیس اہلکار مارے گئے۔ نیٹو نے اس واقعے کو &#8220;فرینڈلی فائر&#8221; قرار دیا ۔ اس طرح کے واقعات اب افغانستان میں معمول بنتے جارہے ہیں جس میں افغان سیکیورٹی اہلکار اور اتحادی فوجی ایک دوسرے کے خلاف بندوقیں تان لیتے ہیں۔ 30 جنوری کو خوست میں سی آئی اے کے مرکز پر ہمام البلاوی کے خود کش حملے کے واقعے نے انٹیلی جنس جمع کرنے کے میدان میں بھی امریکہ کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہے۔ تاریخ کا ادراک رکھنے والوں کو اس بات کا علم تو ضرور تھا کہ افغانستان میں قابض افواج کی شکست یقینی ہے۔ مگر 2009ء میں صورتحال اس ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوگی اس کا اندازہ شاید طالبان کو بھی نہیں تھا۔ </p>
<p>&#8220;ایک اطلاع&#8221; کے عنوان سے شائع ہونے والے کالم میں کہا گیا تھا کہ اگر یہ شکست امریکہ کے بجائے افغان مزاحمت کاروں کو ہوتی تو یہ مغربی ذرائع ابلاغ پر کئی مہینوں تک بریکنگ نیوز کی طرح نشر کی جاتی۔  مگر اس وقت مسلمانوں کے پاس ایسا کوئی ذریعہ ہی نہیں ہے کہ وہ اس &#8220;خبر&#8221; کو نشر کریں اور اس کامیابی کا جشن منا سکیں۔ اندازہ یہی ہے کہ اس وقت پاکستان میں اوباما انتظامیہ اور پینٹاگون کے اعلی عہدیداروں کی &#8220;آنیاں جانیاں&#8221; افغان جنگ کو سمیٹنے کی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔ اور اگر آئندہ چند دنوں میں نیویارک ٹائمز یا واشنگٹن پوسٹ میں یہ خبر شائع ہوتی ہے کہ پاکستان کے ذریعے طالبان قیادت سے امریکہ کے مذاکرات جاری ہیں تو یہ خبر کم از کم ہمارے لئے باعث حیرت نہیں ہو گی۔ میرا خیال ہے کہ ملک کے نامور تجزیہ کاروں کو اب اس بارے میں سوچنا اور لکھنا چاہیے کہ افغانستان میں امریکہ اور اتحادیوں کی شکست کے عالمی اور علاقائی اثرات اور مضمرات کیا ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ صرف افغان مزاحمت کاروں کی کامیابی نہیں بلکہ ایک عالمی طاقت کی شکست ہوگی۔ اور تاریخ کا ادراک  رکھنے والے اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کسی بھی عالمی طاقت کی شکست کے اثرات اور مضمرات ہمہ گیر اور دور رس ہوا کرتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ مجھے آمادہ تحریر کرنے والی کرشماتی شخصیت نے اپنے 25 فروری کے کالم میں اس بارے میں کیا لکھا ہے: </p>
<blockquote><p>انسانی ساختہ نظریوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ عارضی اور وقتی ہوا کرتے ہیں۔ ان کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے، طبعی عمر پوری ہوتے ہی انسانی ساختہ نظریہ فنا ہو جاتا ہے۔ سوشلزم کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ 70 سال میں سوشلزم کی نظریاتی کشش کم ہو چکی تھی اور وہ ریاستی طاقت کے سہارے کھڑا تھا۔ چنانچہ جیسے ہی ریاستی طاقت اس کی پشت سے ہٹی سوشلزم منہ کے بل گر گیا۔ چونکہ سوشلزم کا پھیلاؤ عالمگیر تھا اس لئے اس کی پسپائی بھی عالمگیر ثابت ہوئی۔</p></blockquote>
<p>برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، جرمنی اور کینیڈا سمیت امریکہ کے تمام اتحادی ممالک سے افغانستان کے بارے میں جو اعلانات آ رہے ہیں وہ شکست ہی کا اظہار ہیں۔ چاہے وہ فوج واپس بلانے کا اعلان ہوں یا افغانستان میں مزید فوج بھیجنے سے انکار۔ مگر امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد کا رویہ بظاہر یہی نظر آرہا ہے کہ شکست کا اعلان تو کیا جاسکتا ہے مگر فتح کے تاثر کے ساتھ۔ درج ذیل آزاد نظم آپ اس بلاگ پر ایک بار پہلے بھی پڑھ چکے ہیں دوبارہ پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔  جو گیارہ ستمبر سے کئی سال پہلے لکھی گئی تھی۔<br />
بغاوت ہو چکی ہے<br />
 گو میں اسباب بغاوت کو بیاں کرنے سے قاصر ہوں<br />
مگر میں دیکھتا ہوں کوئی منظر آنکھ کو قائل نہیں کرتا<br />
سماعت کا گڑھا نغموں سے پر ہو کر بھی خالی ہے<br />
سواد روح میں جیسے بدن کے راز رقصاں ہیں<br />
ادھر شہر بدن میں روح کے چرچے کا فیشن ہے<br />
دلیلیں جس قدر تھیں عقل کے کوٹھے پہ جا بیٹھیں<br />
تصوف احمد جاوید کی چوکھٹ پہ بیٹھا ہے<br />
بنی آدم کو وہ پانی فراہم ہے کہ جس میں پیاس شامل ہے<br />
یہ پانی چشمہ مغرب سے آتا ہے<br />
سنا یہ ہے کہ اب اس کے سوا چشمہ نہیں کوئی<br />
یہ عالم آتش دل کا کہ اس پر چار کپ چائے بنانی ہو تو مشکل ہو<br />
چلو اچھا ہوا تاریخ بھی انجام کو پہنچی<br />
بغاوت ہو چکی ہے<br />
گو میں آغاز بغاوت کو عیاں کرنے سے قاصر ہوں<br />
کہ میں تو صرف شاعر ہوں </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/america-defeat-in-afghanistan/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>39</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملا برادر کی غیر متوقع گرفتاری، اسباب و محرکات</title>
		<link>http://www.abushamil.com/mullah-baradar/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/mullah-baradar/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 19 Feb 2010 11:04:09 +0000</pubDate>
		<dc:creator>زبیر انجم</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاسیات]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[مہمان بلاگرز کی تحاریر]]></category>
		<category><![CDATA[afghan taliban]]></category>
		<category><![CDATA[mullah baradar]]></category>
		<category><![CDATA[operation marjah]]></category>
		<category><![CDATA[quetta shura]]></category>
		<category><![CDATA[آپریشن مرجاہ]]></category>
		<category><![CDATA[افغان طالبان]]></category>
		<category><![CDATA[ملا برادر]]></category>
		<category><![CDATA[کوئٹہ شوریٰ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1016</guid>
		<description><![CDATA[
تحریر: زبیر انجم صدیقی
امریکی و برطانوی اخبارات، سی این این اور بی بی سی جیسے بڑے نشریاتی ادارے سولہ فروری سے ایک بہت بڑی &#8220;کامیابی&#8221; کی خبر نشر کر رہے ہیں۔ اور وہ &#8220;کامیابی&#8221; ہے افغانستان میں مغربی ذرائع ابلاغ کے بقول ملا عمر کے سیکنڈ اِن کمانڈ، ملٹری کمانڈر، امیر المومنین کے شوریٰ اور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: center;"><a href="http://img28.imageshack.us/img28/6420/zubairanjum.jpg"><img class="aligncenter" style="border: 1px solid black;" title="zubair anjum" src="http://img28.imageshack.us/img28/6420/zubairanjum.jpg" alt="" width="108" height="141" /></a></p>
<p style="text-align: center;"><strong>تحریر: زبیر انجم صدیقی</strong></p>
<p>امریکی و برطانوی اخبارات، سی این این اور بی بی سی جیسے بڑے نشریاتی ادارے سولہ فروری سے ایک بہت بڑی &#8220;کامیابی&#8221; کی خبر نشر کر رہے ہیں۔ اور وہ &#8220;کامیابی&#8221; ہے افغانستان میں مغربی ذرائع ابلاغ کے بقول ملا عمر کے سیکنڈ اِن کمانڈ، ملٹری کمانڈر، امیر المومنین کے شوریٰ اور عسکریت پسندوں سے رابطے کا ذریعہ، مذاکرات کار اور مزاحمت کے سب سے بڑے جرنیل (انسرجنسی کمانڈر) ملا عبد الغنی برادر کی گرفتاری۔ جس کے بعد جمعرات 18 فروری کو بغلان میں طالبان کے شیڈو گورنر ملا عبدالسلام اور قندوز میں طالبان کے شیڈو گورنر ملا میر محمد کو بھی پاکستان سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملا برادر کی گرفتاری حقیقتاً اتنی نہیں تو اس سے کچھ کم درجے کی کامیابی ضرور ہوتی، اگر یہ اب سے چار یا پانچ مہینے پہلے ہوتی مگر اس وقت نہیں ہے۔ شاید اسی لئے ان پاکستانی ذرائع ابلاغ نےاس خبر کو اتنی لفٹ نہیں کرائی جتنا کہ وہ بالعموم نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی خبروں کو اہمیت دیا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ چند دنوں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو درج ذیل امکانی صورتیں بنتی ہیں۔</p>
<p>ملا عبد الغنی کی گرفتاری طالبان کے سابق آپریشنل کمانڈر ملا داد اللہ کی ڈرون حملے میں ہلاکت سے کافی مماثلت رکھتی ہے۔ ملا داد اللہ کو دو ہزار سات میں قندھار میں امریکی ڈرون حملے میں اس وقت ہلاک ہوئے تھے جب انہیں امیر المومنین ملا محمد عمر کی حکم عدولی کرنے پر ان کے منصب سے معزول کر کے عسکری کارروائیوں سے علیحدہ کر دیا گیا تھا۔ اس بارے میں ایک خیال یہ ہے کہ ملا عمر کی تائید سے محروم ہونے کے بعد ملا داد اللہ کی قندھار کے قریب موجودگی کی اطلاع آئی ایس آئی نے سی آئی اے کو فراہم کی تھیں جس پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا۔</p>
<p>یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ طالبان کے امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد نے اجازت کے بغیر افغان حکومت سے مذاکرات کرنے پر ملا عبد الغنی برادر کو دسمبر میں ان کے منصب سے علیحدہ کر دیا تھا۔ جس پر وہ ملا عمرسے ناراض ہو کر دسمبر میں ہی پاکستان آ گئے تھے۔ اور اس کے بعد سے ملا عمر نے تمام ذمہ داریاں طالبان دور حکومت میں قندھار کے گورنر ملا حسن رحمانی کو دے دی تھیں۔ اور ان دنوں ملا عمر کے بعد طالبان کے سے بڑے رہنما وہی ہیں اور وہی &#8220;ڈے ٹو ڈے&#8221; بزنس دیکھنے کے ذمہ دار ہیں، نہ کہ ملا برادر۔</p>
<p>سترہ فروری کو مالدیپ کے صدر کے ترجمان نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ مالدیپ کے صدر نے جنوری میں لندن کانفرنس سے قبل طالبان کے نمائندوں اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔ صدارتی ترجمان کے مطابق ان مذاکرات میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے سفیر بھی موجود تھے۔ دونوں جانب سے کے وفود گیارہ گیارہ ارکان پر مشتمل تھے۔ افغان مزاحمت کاروں کا گیارہ رکنی وفد تین حصوں کی نمائندگی کر رہا تھا۔</p>
<p>اول، حزب اسلامی کا وفد (جس میں مالدیپ کے صدارتی ترجمان کے مطابق انجینئر گلبدین حکمت یار کا بیٹا بھی شامل تھا۔ حزب اسلامی کا دائرہ اثر مشرقی افغانستان ہے)</p>
<p>دوم، حقانی نیٹ ورک کا وفد (جنوبی مشرقی افغانستان میں مولانا جلال الدین حقانی کی قیادت میں قابض افواج کے خلاف برسر پیکار گروہ)</p>
<p>اور سوم، ملا برادر کی سربراہی میں طالبان کا وفد جس کے بارے میں غالب امکان یہی ہے کہ اسے ملا عمر کی تائید حاصل نہیں تھی</p>
<p>اس سے پہلے افغانستان میں اقوام متحدہ کے سفیر نے تیس جنوری کو انکشاف کیا تھا کہ ان کے حال ہی میں طالبان کی &#8221; کوئٹہ شوریٰ&#8221; کے اہم رکن سے مذاکرات ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ رابطے کہاں اور کس رکن سے ہوئے ہیں۔ مگر سترہ فروری کو مالدیپ کے صدارتی ترجمان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی تصدیق کے بات یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ یہ مذاکرات کہاں اور کوئٹہ شوریٰ کے کس رکن سے ہوئے تھے۔</p>
<p>ہمارے اس تجزیے کو اس سوال پر غور کرنے سے بھی تقویت ملتی ہے کہ۔ پاکستان(آئی ایس آئی) طالبان کے کلیدی رہنما کو ایک ایسے وقت میں کیوں گرفتار کرائے گا کہ جب پاک فوج کے سربراہ نے افغانستان میں سیاسی مصالحت کے لئے امریکہ اور طالبان سے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنے کی پیشکش بلکہ خواہش ظاہر کی ہوئی ہے۔ اور جس کے لئےپاکستان کو طالبان کے جتنے اعتماد کی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ پاک فوج کم از کم ایسے وقت میں طالبان کو کوئی بڑا دھچکہ کیوں دے گی۔ اور اس اعتماد کو کیوں خطرے میں ڈالے گی جس کا مصالحت میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لئے سب سے زیادہ ضرورت ہے۔</p>
<p>آئی ایس آئی اور افغان طالبان کے درمیان ہم آہنگی گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد بھی کسی نہ کسی صورت میں قائم رہی ہے۔ جس وقت گیارہ ستمبر کا حملہ ہوا آئی ایس آئی کے سربراہ واشنگٹن ہی میں موجود تھے۔ تاہم حملوں کے بعد وہاں ان کے قیام کو توسیع دے کر ان سے طالبان کے اسٹریٹجک اہداف کی ایک فہرست حاصل کی گئی تھی۔ مگر “خدا کے فضل و کرم” اور اپنے”اسٹریٹجک اثاثے” کی حفاظت کے پیش نظر وہ سارے اہداف ڈمی ثابت ہوئے اور طالبان کی سیاسی و عسکری قیادت کو بڑا نقصان نہیں پہنچ سکا۔ ملا برادر اور ان کے دو ساتھیوں کی گرفتاری کو اس تناظر میں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد کے کلیدی ساتھی نہیں رہے تھے بلکہ اپنے مذاکراتی رابطوں کی وجہ سے ان کے لئے ایک بوجھ بن گئے تھے۔</p>
<p>گرفتاریوں کے اس غیر متوقع سلسلے کو ایک اور تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دو نومبر دو ہزار دس کو امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن ہوں گے جس میں کامیابی کے لئے ڈیموکریٹس کو بہت ساری &#8220;فتوحات&#8221; اور&#8221;بڑی کامیابیوں&#8221; کی ضرورت ہے۔ جن میں اوباما انتظامیہ کی نئی افغان پالیسی کی کامیابی بھی شامل ہے۔ اسی لئے تیرہ فروری کو افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے ضلع مرجاہ میں شروع ہونے والے آپریشن مشترک کا &#8220;میڈیا ہائپ&#8221;‘(ابلاغیاتی بلبلہ) پیدا کیا گیا ہے۔ جسے کبھی گیارہ ستمبر کے بعد امریکی فوج کا سب بڑا آپریشن۔ کبھی طالبان کے زیر انتظام سب بڑی آبادی کو سر کرنے کا خطرناک معرکہ اور کبھی اوباما کی نئی” سرج پالیسی” کا لٹمس ٹیسٹ قرار دیا جارہا ہے۔ حالانکہ جس قسم کی مہم پر پندرہ ہزار امریکی، برطانوی اور افغان فوجی مرجاہ کی جانب روانہ ہوئے ہیں، طالبان اس قسم کی جنگ لڑ ہی نہیں رہے ہیں۔ وہ تو پورے افغانستان میں گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں، وہ حملہ کرتے ہیں بھاگتے ہیں، نشانہ بناتے ہیں غائب ہو جاتے ہیں، ان سے یہ توقع رکھنا ہی فضول ہے کہ وہ مرجاہ پر کنٹرول قائم رکھنے کے لئے اتحادی فوج کے خلاف صف بستہ ہو کر لڑیں گے۔ اور&#8221;شدید مزاحمت&#8221; ہوگی۔ طالبان آپریشن سے کئی دن پہلے ہی مرجاہ سے نکل گئے تھے۔ اس لئے میرا خیال یہی ہے کہ چند دن کے بعد اتحادی فوج&#8221;شدید مزاحمت&#8221; کو&#8221;کچلتے&#8221;ہوئے۔ پچاسی ہزار کی آبادی پر کنٹرول قائم کر لے گی۔ جسے اوباما کی سرج پالیسی کی پہلی آزمائش کی &#8220;بڑی کامیابی&#8221; قرار دے دیا جائے گا۔ اور ملا برادر کی گرفتاری کے بارے میں جس طرح کی خبریں، بیانات اور تجزیے امریکی اخبارات میں شائع ہو رہے ہیں، وہ کچھ اس طرح کے ہیں:آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے درمیان تعاون میں اضافے کا ثبوت۔ پاک امریکہ انٹیلیجنس تبادلہ ایک نئی بلند سطح پر پہنچ گیا۔ وائٹ ہائوس نے طالبان لیڈر کی گرفتاری کو مشترکہ کوششوں کی فتح قرار دے دیا۔ امریکی ٹی وی چینلز ہوں یا اخبارات سب کے سب&#8221;بڑی کامیابی&#8221; کے نشے میں چور اورپاکستان کے تعاون کے لئے رطب اللسان ہیں۔ ذیل میں ہم صرف ایک امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے حوالے دے رہے ہیں۔</p>
<blockquote><p style="text-align: left;">“American and Pakistani intelligence agents continued to press their offensive against the group’s leadership after the capture of the insurgency’s military commander”<br /> “Together, the three arrests mark the most significant blow to the Taliban’s leadership since the American-backed war began eight years ago”.<br /> “The three recent arrests — all in Pakistan — demonstrate a greater level of cooperation by Pakistan in hunting leaders of the Afghan Taliban than in the entire eight years of war”.</p>
</blockquote>
<p>اوراس اقتباس پر تویہ کہنے کا دل چاہتا ہے کہ” اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا‘‘۔</p>
<blockquote><p style="text-align: left;">Pakistani military and intelligence agencies, led by Gens. Ashfaq Parvez Kayani and Ahmed Shuja Pasha, may finally be coming around to the belief that the Taliban — in Pakistan and Afghanistan — constitute a threat to the existence of the Pakistani state.<br /> “I believe that General Kayani and his leaders have come to the conclusion that they want us to succeed,” a senior NATO officer in Kabul said.</p>
</blockquote>
<p>اس تجزیے کے بعد یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ امریکی صدر براک اوباما کو فوجی انخلاء کے لئے افغانستان میں فوجی کامیابی کی نہیں بلکہ صرف کامیابی کے تاثر کی ضرورت ہے اور یہ ساری نئی پالیسی اس تاثر کو حاصل کرنے ہی کی سر توڑ کوشش ہے۔ یہ تو تھی غیر حقیقی&#8221;بڑی کامیابی&#8221; کا تجزیہ۔ اگلے بلاگ میں ہم آپ کو حقیقی بڑی خبر دیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/mullah-baradar/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>21</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ذکر جب چھڑ گیا ۔۔۔۔</title>
		<link>http://www.abushamil.com/jang-sheikh-rasheed/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/jang-sheikh-rasheed/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 11 Feb 2010 14:37:57 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[اخبارات]]></category>
		<category><![CDATA[ذرائع ابلاغ]]></category>
		<category><![CDATA[اخباری غلطیاں]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[شیخ رشید]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1012</guid>
		<description><![CDATA[برادر راشد کامران نے ایک چنچل کا ذکر کیا تو ہماری رگ خبریت بھی پھڑک اٹھی ہے۔ سوچا کہ جس سے عرصہ ہوا تائب ہو چکا ہوں، کیوں نہ ایک مرتبہ پھر اس کا ذائقہ چکھ لیا جائے۔ تو جناب جیسے ہی یہ ارادہ کیا، ہمارے موقر اردو روزنامے &#8220;جنگ&#8221; نے ایک عظیم الشان خبر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>برادر راشد کامران نے <a href="http://www.urdublogging.com/?p=552">ایک چنچل </a>کا ذکر کیا تو ہماری رگ خبریت بھی پھڑک اٹھی ہے۔ سوچا کہ جس سے عرصہ ہوا تائب ہو چکا ہوں، کیوں نہ ایک مرتبہ پھر اس کا ذائقہ چکھ لیا جائے۔ تو جناب جیسے ہی یہ ارادہ کیا، ہمارے موقر اردو روزنامے &#8220;<a href="http://jang.com.pk/">جنگ</a>&#8221; نے ایک عظیم الشان خبر پہلے ہی تیار کر کے رکھی تھی۔</p>
<p>چند روز قبل پاکستان مسلم لیگ (عوامی) کے سربراہ شیخ رشید احمد پر قاتلانہ حملہ ہوا، نتیجے میں 3 محافظوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے اور خوش قسمتی سے شیخ صاحب بچ گئے۔ اس کے بعد سے الزامات کا ایک سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ اسی شور و غوغے کے دوران ان تین جاں بحق ہونے والے محافظین کی تدفین عمل میں آئی۔ اس خبر کی سرخی جنگ سے کیا جمائی ہے، <a href="http://search.jang.com.pk/archive/details.asp?nid=409658">ذرا ملاحظہ کیجیے</a>۔ اور اس سرخی سے آپ کیا سمجھے ہیں؟ ہمیں بھی سمجھا دیجیے:</p>
<p style="text-align: center;"><a href="http://img194.imageshack.us/img194/671/jang10feb10.jpg"><img class="aligncenter" style="border: 1px solid black;" src="http://img194.imageshack.us/img194/671/jang10feb10.jpg" alt="روزنامہ جنگ کراچی 10 فروری 2010ء صفحہ نمبر 16" width="537" height="452" /></a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/jang-sheikh-rasheed/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>9</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
