Heil Deutschland

دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا میلہ اب اپنے اختتامی مراحل تک پہنچ چکا ہے اور محض چار مقابلے باقی ہیں جن میں سے ایک مقابلہ فیصلہ کرے گا کہ اگلے چار سال تک دنیائے فٹ بال پر کس کا راج ہوگا۔

اس مرتبہ ناک آؤٹ مرحلے میں جہاں کئی ٹیمیں غیر متوقع طور پر پہنچیں (جیسا کہ گھانا، چلی، سلواکیہ، جاپان) وہیں دنیائے فٹ بال کے کئی شہسوار بھی اسی مرحلے میں باہر ہو چکے ہیں (جیسا کہ انگلستان، پرتگال اور برازیل)۔ سب سے زیادہ غیر متوقع شکستوں کا سامنا جنوبی امریکہ کی امیدوں کے مراکز برازیل اور ارجنٹائن کو کرنا پڑا۔ کوارٹر فائنل میں برازیل کو 1-0 کی برتری کے باوجود نیدرلینڈز کے ہاتھوں 2-1 کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا۔ اس مقابلے میں نیدرلینڈز کے کھیل کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ "اورینج" ایک گول کے خسارے میں جانے کے باوجود دباؤ میں نہیں آئے اور دوسرے ہاف میں دو مرتبہ گیند کو حریف ٹیم کے جال کی راہ دکھائی اور یوں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی جہاں اس کی فتح کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ اس کا مقابلہ برازیل کے مقابلے میں نسبتا کمزور حریف یوروگوئے سے ہے، جس نے افریقہ کی امیدوں کے آخری چراغ "گھانا" کو پری کوارٹر فائنل میں گل کیا اور 1970ء کے بعد پہلی مرتبہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔

یوروگوئے اور گھانا کا میچ بلاشبہ ٹورنامنٹ کے بہترین میچز میں سے ایک تھا جس میں 90 منٹ کا کھیل مکمل ہونے پر مقابلہ 1-1 گول سے برابر تھا۔ اضافی وقت کے بالکل آخری منٹ میں یوروگوئے کے اسٹرائیکر سواریز نے ہاتھوں سے گھانا کا ایک یقینی گول روکا اور سرخ کارڈ کا سامنا کرنے کے بعد روتے ہوئے اسٹیڈیم سے باہر چلے گئے لیکن شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ ٹورنامنٹ میں یوروگوئے کی بقا کا ضامن ان کا یہی فاؤل ہوگا۔ ہاتھ سے گول روکنے کے نتیجے میں گھانا کو 121 ویں منٹ میں پنالٹی شوٹ ملی اور پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ایساموا گیان نے یہ شوٹ مس کر دی۔ یوں گھانا نے میچ جیتنے کا سنہرا موقع گنوا دیا جس کا خمیازہ انہیں پنالٹی شوٹ آؤٹس میں ہار کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

دوسری جانب ایک مقابلہ جس کا تھا سب کو انتظار، جہاں انگلستان کو ہزیمت آمیز شکست سے دوچار کرنے والا جرمنی براعظم جنوبی امریکہ کی امیدوں کے اہم مرکز ارجنٹائن کے سامنے تھا۔ اور پھر ۔۔۔۔۔۔ جرمنی نے اسی طرح کے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا جیسا اس نے آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف کیا تھا اور ارجنٹائن کو 0-4 کی عبرتناک شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔ پہلے کوارٹر فائنل میں برازیل کی شکست ان کے کوچ ڈنگا کی ملازمت ختم ہونے کا شاخسانہ بنی ہے تو وہیں اب ارجنٹائن کے کوچ ڈیگو میراڈونا کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ جرمنی کبھی بھی میری فیورٹ ٹیم نہیں رہی لیکن میں آسٹریلیا کے خلاف پہلے میچ میں ان کی کارکردگی دیکھ کر حیران ہو گیا تھا اور پھر جب انہوں نے انگلینڈ کو 4-1 سے بدترین شکست سے دوچار کیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ اس نوجوان ٹیم میں بہت صلاحیت ہے اور اگر اس نے کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن کو شکست دے دی تو اس کے جیتنے کے امکانات سب سے زیادہ ہو جائیں گے۔

سیمی فائنل میں جرمنی کا سامنا ہوگا موجودہ یورپی چیمپیئن ہسپانیہ (اسپین) سے، جو اب تک پورے ٹورنامنٹ میں بہت زیادہ متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پایا۔ گو کہ پرتگال کے خلاف پری کوارٹر فائنل میں اس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن پیراگوئے کے خلاف وہ محض 1-0 سے جیتا ، جو کوئی متاثر کن کارکردگی نہیں تھی۔ اور اگر اس نے سیمی فائنل میں جرمنی کے خلاف بھی ایسی ہی کارکردگی دکھائی تو مجھے لگتا ہے کہ جرمنی پورے ٹورنامنٹ میں سب سے بڑے مارجن سے فتح اسی مقابلے میں حاصل کرے گا۔

بہرحال اب دیکھتے ہیں ورلڈ کپ کے آخری چند میچز میں کیا ہوتا ہے؟ میرے اندازے کے مطابق فائنل جرمنی اور اب تک ناقابل شکست رہنے والی نیدرلینڈز کے درمیان ہوگا یعنی 1974ء کے ورلڈ کپ فائنل کا ری میچ اور نیدرلینڈز، جسے فٹ بال کا جنوبی افریقہ کہا جا سکتا ہے یعنی پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کے بعد اہم مقابلوں میں شکست، کو ایک مرتبہ پھر شکست کا سامنا ہوگا اور یوں جرمنی چوتھی مرتبہ دنیائے فٹ بال کا شہنشاہ بنے گا۔

تو آئیے کل (6 جولائی) سے شروع ہونے والے سیمی فائنلز میں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

29 تبصرے

  1. Vinnie says:

    well I am with Germany. I love the team. But the only thing I hate about these matches is the Woo WOO Zela, the bands.Its just untollerable.

    • ہم ٹی وی پر اس "باجے" کی آواز برداشت نہیں کر پا رہے، اسٹیڈیم میں بیٹھے تماشائیوں کا کیا حال ہوتا ہوگا؟

  2. ميں سمجھا آپ نے لکھا ہے
    Heil Hitler

  3. بہت خوب تجزیہ لکھا ہے ٹورنامنٹ کا.... اس فیفا سے پہلے میں نے کبھی فٹبال میں اتنی دلچسپی نہیں لی تھی. لیکن اب مجھے اس کھیل میں دلچسپی ہو گئی ہے اور جرمنی کے مقابلے میں میں ہسپانیہ کے ساتھ ہوں. پچھلے میچ میں واقعی ان کی کارکردگی اچھی نہیں تھی. لیکن دیکھیں کل کیا ہوتا ہے...... آپ نے heil deutschland لکھا، لیجئے میں علامہ سے انتہائی معذرت کے ساتھ قوٹ کرتا ہوں:
    ہسپانیہ تو خونِ مسلماں کا امیں ہے
    مانندِ حرم پاک ہے تو میری نظر میں
    🙂

    • عثمان says:

      ہسپانیہ میں مسلمانوں کو جتنے کو جوتے پڑ چکے ہیں اگر وہ آپ کو پتا چل جائیں تو یہ شعر بھی قوٹ نہ کریں.

      • ہاہاہاہا ۔۔۔۔ عثمان صاحب، کیا آپ بھی کھا چکے ہیں؟ 🙂

        • عثمان says:

          صرف میں نہیں..بلکہ ڈیڑھ ارب مسلمان اس دور میں جوتے ہی کھا رہے ہیں.
          باقی رہی بات ہسپانیہ کی....تو تاریخ کی کتابیں اس سے بھری پڑی ہیں. مسلمانوں کی تو قبروں کو بھی نہیں بخشا گیا تھا.

          • بھائی آپ تو سیریئس ہو گئے.... میرا مقصد محض مزاح تھا... اس میں کوئی تاریخی، نظریاتی ، مذہبی، معاشرتی، علمی یا تحقیقی وغیرہ وغیرہ جذبہ کارفرما نہیں تھا... کیا اب میں ہسپانیہ، نہیں سپین کو سپورٹ کر سکتا ہوں... تا کہ وہ نارنجیوں کا مارملیڈ بنا سکیں اور میں ناشتے میں انگریزی روٹی پہ لگا کے کھا سکوں....؟!
            🙂

    • عمیر! آپ تو سنجیدہ ہو گئے اور علامہ کو بیچ میں گھسیٹ لائے؟ 🙂 ویسے علامہ نے اسپین میں اتنا وقت نہیں گزارا جتنا جرمنی میں گزارا تھا۔ اب بتائیے کیا یہ وجہ کافی ہے جرمنی کی حمایت کرنے کے لیے؟ 🙂

      • سنجیدگی کی کوئی بات نہیں...سپین کو سپورٹ تو پہلے ہی کر رہا تھا.. بس یہ تو از راہ مذاق اور ایویں ہی قوٹ کر دیا.... میں صرف کھیل کی حد تک ہی بات کر رہا ہوں... 🙂

  4. ورلڈ کپ کا سب سے بہترین میچ جرمنی بمقابلہ انگلینڈ لگا. اس میں جرمنی نے جس ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا وہ قابل دید ہے. خوبصورت پاسنگ اور بہترین دفاع. دیسی انداز میں کہیں تو بس صواد آگیا. 🙂

    البتہ یوروگوئے کے سواریز کا کارنامہ میں اسپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف سمجھتا ہوں. گو کہ ان کی ٹیم فتحیاب ہوگئی اور وہ اپنے ملک میں ہیرو بھی بن گئے، لیکن اس 'بال کیچنگ' کی سزا کرکٹ میں 'بال ٹمپرنگ' جتنی تو ہونی چاہیے. مثلاَ دو یا دو سے زائد میچوں سے باہر.

    بہرحال سواریز سیمی فائنل تو کھیل نہیں سکیں گے لیکن ٹیم کی فتح کی صورت میں فائنل کے لیے دستیاب ہوں گے. میری نیک تمنائیں جرمنی کے ساتھ ہیں جس کی وجہ ان کا پچھلے میچز میں خوبصورت ترین کھیل ہے.

    • سواریز کا کارنامہ بالکل ویسا ہی جیسا کہ میراڈونا کا انگلینڈ کے خلاف "خدائی ہاتھ" والا گول۔ البتہ آپ کی اس بات سے اتفاق کروں گا کہ اس کی سزا کڑی ہونی چاہیے۔

  5. جرمنی نے ارحینتینا کے خلاف جس کھیل کا مظاہرہ کیا اس کے بعد تو کوئی اور قیاس آرائی کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا لیکن اوروگوائے کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے جبکہ خدائی ہاتھوں کا استعمال جاری ہے۔۔۔ 🙂 بہر حال ایک عمدہ ورلڈ کپ اور نہایت دلچسپ۔۔ عمدہ تجزیہ لکھا ہے فہد بھائی۔

    • 🙂 "خدائی ہاتھ" کے کیا کہنے؟ جنوبی امریکہ کی امیدوں کا چراغ اب یوروگوئے کی وجہ سے روشن ہے اور مجھے اندازہ ہے کہ نیدرلینڈز اس پر رحم نہیں کرے گا 🙂 چلیں آج کے میچ میں دیکھیں کیا ہوتا ہے نارنجی رنگ غالب آتا ہے یا آسمانی۔

  6. ہم بھی Deutschland کیطرف ہیں. جنگ عظیم کی فلموں کا الٹا اثر پڑا ہے.

  7. نبیل says:

    ہا ہا ہا ۔۔
    میں تو پہلے سے ہی جرمنی کی طرف ہوں۔ 🙂

  8. لیں جی فہد بھائی جرمنوں نے تو سپین کے آگے ہتھیار ڈال دئیے.
    گور پیا کوئی ہور...

    • 🙁 چلیں جو ہوا سو ہوا، لگتا ہے ہماری حمایت مہنگی پڑ گئی جرمنی کو۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ "کھولیں دکان کفن کی تو لوگ مرنا ہی چھوڑ دیں"
      چلیں، موجودہ صورتحال کا ایک فائدہ ضرور ہے کہ اس مرتبہ ورلڈ کپ ٹرافی جس کے بھی نام ہو وہ ورلڈ کپ جیتنے والی پہلی ٹیم ہوگی۔ میری ہمدردیاں نیدرلینڈز کے ساتھ ہیں لیکن حمایت کا یہ اعلان کرتے ہوئے ڈر بھی لگ رہا ہے کہ کہیں ہار نہ جائے 🙂

  9. عثمان says:

    اس بار کسی ٹیم کی حمایت سے پہلے آکٹوپس صاحب سے پوچھ لیجئے گا.

    • میں آکٹوپس پر یقین نہیں رکھتا جناب اور نہ ہی ہاتھ کی لکیروں میں چھپے "نصیب" پر 🙂
      ویسے لگتا ہے جرمنی کی ہار نے لوگوں کو بڑا سکون پہنچایا ہے۔

  10. ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم ہسپانیہ اور جرمنی کی حمایت اور مخالفت میں اپنے جی کو ہلکان کریں اور اس کام کیلئے تاریخ کی کتابیں کھول کر قوموں کا کریکٹر چیک کریں.صاحب مزے سے مقابلے دیکھتےہیں جو جیتتا ہے خیر سے جیتے. کھیل کھیل ہوتا اس سے زیادہ کچھ نہیں..........

  11. جرمنی ہار گیا یا اکٹوپس جیت گیا معلوم نہیں، البتہ جو چیز مجھے معلوم ہے وہ یہ ہے کہ زندگی میں پہلی بار میں نے ورلڈ کپ فٹبال کا کوئی ایک میچ بھی نہیں دیکھا، اسکی وجہ مصروفیت نہیں بلکہ دلچسپی کا فقدان ہے. البتہ پچھلے دنوں لیاری میں لیاری اور ملیر کی ٹیم کے بابعین ایک دھواں دھار فٹبال کا مقابلہ دیکھا، اس مقابلے میں جو نئی اور دلچسپ بات مجھے معلوم ہوئی وہ یہ ہے کہ لیاری اور ملیر کے لڑکے فٹبال سے زیادہ ایک دوسروں کو لاتے رسید کرنے میں ماہر ہوتے ہیں اور دیکھنے والے بھی فٹبال پر بڑنے والی لاتوں سے زیادہ کھلاڑیوں کے آپس میں لاتوں کے تبادلے سے زیادہ محظوظ ہوتے ہیں.

  12. فہد بھائی کیا جرمنی کی شکست کے بعد اب ولڈ کپ فٹبال اسپین کے پاس جاتا نظر آرہا ہے یا نیدر لینڈ کے، کچھ تجزیہ تو ماریں ...

    • آج سے دو سال قبل یورو 2008ء کے تمام مقابلے دیکھے لیکن سیمی فائنل مرحلے سے قبل مجھے شہر سے باہر جانا پڑ گیا۔ جب وہاں جا کر علم ہوا کہ مقابلہ اسپین کے نام رہا تو بہت خوشی ہوئی تھی۔ ذاتی طور پر میں اس ٹیم کی حمایت کرتا ہوں جو اچھا کھیلی۔ اس ورلڈ کپ کے آغاز پر میں اٹلی اور ارجنٹائن کے ساتھ تھا لیکن جب مقابلے شروع ہوئے تو جرمنی نے اپنے کھیل سے دل موہ لیا۔ اب میری خوشی ہے کہ آج جو اچھا کھیلے وہ جیتے۔

  13. ابو شامل بھائی !

    آپکے اندازوں کے برعکس اسپین جیت گیا ۔ وجہ اسکی مستقل مزاجی۔ ستھرا کھیل ۔ دنیا کےکے بہترین فٹ بال کلب بآرسیلونا جس نے پچھلے ایک ہی وقت میں دنیائے فٹ بال کے کلب کے طور پہ سبھی چھ بڑے ایونٹ جیتے اور یہ اعزاز صرف بآرسیلونا ٍفٹ بال کلب کو ہی حاصل ہے جس کے نو کھلاڑیوں کا اسپین کی ٹیم میں کھیلنا بھی شامل ہے ۔ جنہوں نے سیمی فائنل ، فائنل میں گول کر کے اپنی ٹیم کو ورلڈ چئمپین بنوایا ، اسپین فٹ بال کے ورلڈ کپ میں صرف آٹھ گول کئیے۔ جو ابت ہونے والے فٹ بال کے عالمی کپ میں سب سے کم گول ہیں ۔ اور یہ آٹھوں کے آٹھ گول فٹ بال کلب بآرسیلونا کے کھلاڑیوں نے کئیے ۔ جن میں سے "بی یا " نے اس اوینٹ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے باقی تین کھہلاڑیوں کے برابر پانچ گول کئیے ۔ اور "بیا ؔ" کا تعلق بھی فٹ بال کلب بآرسیلونا سے ہے۔اور یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اسپین کی ٹیم کا طرزِ کھیل فٹ بال کلب بآرسیلونا جیسا جدید اور ستھرا ہے ۔ بآرسیلونا فٹ بال کلب جسے حرفِ عام میں “بآرسا“ بھی کہا جاتا ہے، کو دنیا کی فٹ بال کی فیئر ترین ٹیم بھی مانا جاتا ہے۔ جو بہت کم فاؤل پلے کھیلتی ہے۔ اس بناء پہ اسپین کی قومی ٹیم کے کھیل کے اسٹائل کو“ بآرسا“ اسٹائل بھی کہا جارہا ہے۔جسے فٹ بال جیسے کھیل میں جدید تریں تکنیک مانا جارہا ہے۔

    میری خواہش تھی کہ اس دفعہ فائنل میں اسپین اور افریقن ممالک سے کوئی مسلمان ٹیم پہنچے مگر افریقن مسلم ٹیموں کے شروع میں ہی ہار جانے کے بعد خواہش تھی کہ اسپیں اور گھانا فائنل میں پہنچے ۔ مگر یوں ہوا نہیں۔ ذاتی طور پہ سیمی فائنل سے میں نے یہ چاہا تھا کہ اسپین یہ کپ جیتے۔ اور فائنل میں تو میں نے بڑے خلوص سے دعا مانگی تھی کہ اسپین یہ کپ جیت جائے۔

    اسکی ایک عام سی وجہ تو وہی ہے کہ میں اسپین میں مقیم ہوں مگر دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ شاید بہت کم قارئین کو یادہو کہ گیارہ جولائی کو بوسنیا کے قصبے "سربیانکا "یا("سربرنیتزا ")میں محض تین دنوں میں آٹھ ہزار سے زائد مسلمان مرد اور جواں سال لڑکے موت کے گھاٹ اتار دئیے اور انھیں بڑھے بڑے گڑہوں میں دبا دیا ۔ اسکے بعد زند بچ جانے والے بچوں اور عورتوں کے ساتھ اور انسانیت سوز سلوک کیا گیا اس کے لکھنے سے روح کانپتی ہے ۔ جسے مغرب کے ضمیر اور مغربی ذرائع ابلاغ نے "نسلی صفائی " کی جنگی تکنیک کا نام دے کر اپنی جان چھڑوا لی ۔اس میں المناک اور شرمناک پہلو یہ ہے کہ اس قصبے کو جس میں ارد گرد کے ہزاروں مسلمانوں کے پناہ لے رکھی تھی ۔اسے اقوام متحدہ نے اپنی ضمانت پہ "امن زون " قرار دیا تھا ۔ اور اس امن ضمانت کی بناء پر مسلمانوں سے معمولی قسم کے دفاعی ہتیار رکھوا لئیے گئے ۔ یعنی اقوام متحدہ کی امن فوج نے لے لئیے تھے اور اسکے بعد ان بدقسمت مسلمانوں کے تمام مرد اور نوعمر لڑکوں کو "سربرنیتزا " قصبے سمیت ، جدید ترین اسلحے سے لیس مسلح سرب افواج کے حوالے کردیا گیا۔ جنہوں نے متواتر تین دن تک مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ اور انسانیت سسکتی رہی ۔ مسلمان عورتوں کو وحشی درندوں کی طرح روندا گیا ۔ تین دنوں میں آٹھ ہزار سے زائد مسلمان نہتے مرد وں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ اور جن کا اس ساری قتل و غارت میں بنیادی اور شرمناک کردار تھا اسکا آج تک ذکر نہیں کیا جاتا اگر کہیں ذکر ہوا بھی ہے تو بہت کم ذکر ہوا ہے۔ اور یہ شرمناک کردار اقوام متحدہ کی امن فوج کی ڈچ آرمی یعنی ہالینڈ کی افواج کا شرمناک کردار ہے جنہوں یہ قصبہ نہتے مسلمانوں کو دہوکے میں رکھ کر ظالم سرب افواج کے حوالے کیا۔ اور اس دوران خاموش تماشائی بنے رہے۔امن فوج کے طور پہ ہر طرح سے مسلح ڈچ افوج کے اس قدر شرمناک کردار پہ نہ کوئی کمیشن بیٹھا ۔ نہ ہی کسی قسم کی انکوائری ہوئی۔ ان دنوں ڈچ افواج کے ایک اعلٰی افسر کا محض ایک بیان تھا کہ ہماری (ہالینڈ کی)افواج کو "سربرنیتزا " نامی قصبہ ظالم سرب افواج کے حوالے نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ اور قصہ ختم۔

    گیارہ جولائی دو ہزار دس کو اس واقعے کی پندرھویں برسی منائی جارہی تھی اور اس قصبے کے وسیع و عریض قبرستان میں مزید سات سو بوسینی مسلمانوں کے تابوت دفنائے جارہے تھے جن کی باقیات مشترکہ گڑہوں سے مل رہی ہیں اور ڈی این ٹیسٹ سے انکی شناخت کی گئ تھی۔ اور دریافت شناخت کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

    گیارہ جولائی دو ہزار دس کو اس واقعے کی پندرھویں برسی منائی جارہی تھی۔ اور عین اسی دن اس واقعے کی پندرھویں برسی کے دن ہالینڈ کی ٹیم اپنے ملک کی نمائیندگی کرتے ہوئے فٹ بال کا عالمی کپ کا فائنل کھیلنے والی تھی تو ایسے لاشعور میں یہ خواہش بسی تھی کہ ایک ایسا ملک جس کی مسلح افواج نے غیر منصفانہ کردار ادا کیا اور ہزاروں مسلمان مرد اور نو عمر نہتے لڑکے تین دنوں میں قتل کر دئے گئے اور انھیں اجتماعی گڑہوں میں دفنا دیا گیا ۔ جو صرف مسلمان ہی نہیں انسان بھی تھے۔ جنھیں آج تک دریافٹ شناخت کیا جارہا ہے۔ ایسے ملک کی ٹیم کو فٹ بال جیسے کھیل میں نہیں جیتنا چاہئیے تھا کہ فٹ بال جیسا غریب بردار کھیل کا عالمی تمغہ کسی ایسے ملک کے سر نہیں ہونا چاہہے جو ماضی قریب میں انصاف کا ساتھ دینے سے محروم رہے ہوں۔

    رہی سہی کسر ہالینڈ کی ٹیم نے فائنل میچ میں "پُر تشدد" کھیل سے پوری کر دی اور ہم ٹہرے عدم تشدد کے قائل ، تو ایسے میں آپ کے خیال میں کسے جیتنا چاہئیے تھا؟۔

    • بہت خوب جاوید صاحب، آپ نے حمایت کا جذباتی کے ساتھ تاریخی پہلو بھی نکال لیا۔ بہرحال جیتنا اسی ٹیم کو چاہیے جو اچھا کھیلے اور فائنل کے دن، گو کہ دونوں ٹیموں نے فائنل کے شایان شان کھیل نہیں کھیلا، ہسپانیہ کا کھیل بہتر تھا اسی لیے وہ جیتا اور مجھے خوشی ہے کہ اب وہ بیک وقت یورپی و ‏عالمی کپ دونوں کا حامل ہے۔ ہسپانیہ کی فٹ بال اب اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔

  1. July 5, 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Urdu Blogz, Abu Shamil. Abu Shamil said: ابوشامل - Heil Deutschland http://bit.ly/aajjIW [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.