گووووووووول

اولمپکس کے بعد دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا میلہ آج شروع ہونے جا رہا ہے۔ فٹ بال، جسے غریبوں کا کھیل بھی کہا جاتا ہے، دنیا کا سب سے مشہور کھیل ہے۔ فجی سے لے کر الاسکا اور چلی سے لے کر جاپان تک، دنیا کے ہر ملک میں اسے پسندیدگی کا درجہ حاصل ہے اور اس کا عالمی مقابلہ تو گویا دنیائے کھیل کی جان ہے۔

فٹ بال کا پہلا عالمی مقابلہ جو میں نے دیکھا تھا وہ تھا فیفا ورلڈ کپ 1994ء جو امریکہ میں منعقد ہوا تھا۔ وہ کئی لحاظ سے ایک یادگار ورلڈ کپ تھا ، ایک تو اس حوالے سے اس کے میچز رات ڈھائی بجے آتے تھے اور اُس زمانے میں پی ٹی وی کی نشریات رات 10 بجے بند ہو جاتی تھی۔ اب رات 10 بجے سے لے کر دو ڈھائی بجے تک کا وقت گزارنا ایک بہت صبر آزما مرحلہ ہوتا تھا۔ وہ موبائل فونز، کمپیوٹر، گیجٹس کا زمانہ نہ تھا اس لیے یہ وقت کتابیں اور رسالے پڑھنے میں بتانے کی کوشش کی جاتی لیکن کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ ناکام ہوئے اور جب آنکھ کھلی تو میچ کے اختتامی لمحات چل رہے ہوتے 🙂 ایک مرتبہ تو ایسا ہوا کہ کوئی "غیر دلچسپ" میچ دیکھتے ہوئے ہماری آنکھ لگ گئی اور ٹی وی تمام رات چلتا رہا۔ صبح فجر میں نانی اماں اٹھیں اور انہوں نے میری اور ماموں (مرحوم) کی خوب خبر لی۔ اس کے بعد ہم تمام میچوں میں ٹائمر لگا کر رکھتے کہ اگر آنکھ بند بھی ہو جائے تو ٹی وی نانی کے اٹھنے سے پہلے بند ہو جائے 🙂

تو بات ہو رہی تھی 1994ء کے ورلڈ کپ  کی۔ اس ورلڈ کپ میں ایک اطالوی کھلاڑی تھا جس کا نام روبرٹو باجیو تھا۔ اس کے منفرد بال اور کھیلنے کا خوبصورت انداز ہمیں بھا گیا اور پھر فٹ بال میں اطالیہ سے لگاؤ کا آغاز ہوا۔ روبرٹو باجیو نے ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، خصوصاً نائیجیریا اور اسپین کے خلاف ان کی بروقت کارکردگی کی بدولت اطالیہ فائنل تک پہنچا، جہاں اس کا ٹکراؤ برازیل سے ہوا۔

فائنل والے دن وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، یعنی بجلی چلی گئی۔ بجلی کی جدائی کے لمحات بہت گراں گزر رہے تھے اور ٹی وی چلانے کے متبادل طریقوں پر غور، اور ناکام عملدرآمد، کے بعد بالآخر بجلی آ ہی گئی۔ جب ٹی وی کھولا تو معلوم ہوا کہ دونوں ہاف ختم ہو چکے ہیں جن میں مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر تھا اور اب فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی فائنل مقابلے کا فیصلہ پنالٹی ککس کی بنیاد پر ہونا تھا۔ جب دونوں ٹیمیں چار چار ککس لگا چکیں، تو برازیل کودو کے مقابلے میں تین گول کی برتری حاصل تھی اور میرا پسندیدہ کھلاڑی اطالیہ کی امیدوں کو برقرار رکھنے کے لیے میدان میں اترا اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پنالٹی کک مس کر کے عالمی کپ برازیل کی جھولی میں ڈال دیا۔ وہ میرے لیے ایک افسوسناک لمحہ تھا کہ ورلڈ کپ ٹرافی بجائے باجیو کے ٹرافی روماریو اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھ میں تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں نے آج تک کسی ورلڈ کپ میں برازیل کی حمایت نہیں کی 🙂

اس ورلڈ کپ کی ایک خوشگوار یاد سعودی عرب اور بیلجیم کے میچ کی صورت میں آج بھی ذہن میں تازہ ہے جبکہ سعودی عرب نے سعید العویران نے بلاشبہ ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے خوبصورت گول کیا۔ اس میں سعید کی رفتار اور گیند پر کنٹرول دیکھئے

ورلڈ کپ 94ء کی ایک افسوسناک یاد آندرے ایسکوبار کی صورت میں آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ آندرے نے امریکہ کے خلاف گروپ میچ میں غلطی سے گیند اپنے ہی گول میں پھینک دی تھی اور یوں امریکہ میچ جیت گیا لیکن آندرے کو اس گول کی سزا موت کی صورت میں بھگتنا پڑی کیونکہ میچ کے محض 10 دن بعد، اپنے ملک میں، ایک شخص نے اسے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ گولی مارتے ہوئے قاتل نے "گوووووووووووول" کی صدا بلند کی تھی۔

بہت یادیں شیئر ہو گئیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جنوبی افریقہ میں آج شروع ہونے والے عالمی کپ 2010ء کا جشن کچھ اس طرح منایا جائے کہ اس میں دیگر بلاگر ساتھیوں کو بھی شریک کیا جائے۔ لیکن اس سے پہلے کچھ اپنے علاقے کا احوال:

ہمارے علاقے میں بلوچوں کی کافی آبادی ہے، جو فٹ بال کو جنون کی حد تک پسند کرتے ہیں۔ اس مرتبہ ماہ جون کے آغاز کے ساتھ ہی ان کا جوش عروج پر پہنچا ہوا ہے۔ ان کے علاقے میں تقریبا ہر گھر پر کسی نہ کسی ملک کا جھنڈا نصب ہے جسے وہ جیتتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ زیادہ تر برازیل کے جھنڈے دکھائی دیتے ہیں جو ہمیشہ کراچی میں مقیم بلوچوں کی فیورٹ ٹیم رہی ہے۔ اس کے علاوہ ارجنٹائن، انگلینڈ اور اسپین بھی ان کی پسندیدہ ٹیمیں ہیں۔ ملیر کے بلوچ علاقوں کے بارے میں چند ٹی وی چینلوں اور غیر ملکی نشریاتی اداروں تک نے رپورٹس شایع کی ہیں۔ اس مرتبہ علاقے کے مرکزی فٹ بال گراؤنڈ میں ایک بہت بڑی اسکرین پر میچ دکھانے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

اب دوبارہ آتے ہیں بلاگستان میں ورلڈ کپ جشن منانے کی جانب۔ تو چلیے ایسا کرتے ہیں کہ کچھ سوالات یہاں طے کر لیتے ہیں۔ اس میں مزید سوالات بھی شامل کروائے جا سکتے ہیں۔ تمام بلاگرزاپنی مرضی کے مطابق ان سوالات کے جوابات دیں، آگے افراد کو ٹیگ کریں اس اس میں چاہیں تو اپنی یادیں بھی شیئر کریں اور سوالات میں کمی/بیشی بھی کریں۔ تو یہ لیجیے سوالات:

  • وہ کون سا فٹ بال ورلڈ کپ جو آپ نے پہلی بار دیکھا؟ یعنی کون سا ورلڈ کپ آپ کو اچھی طرح یاد ہے؟
  • کون سا ورلڈ کپ میچ آج تک آپ کے اعصاب پر سوار ہے؟ یا اس سے آپ کی دلچسپ یادیں وابستہ ہیں؟
  • بچپن میں کس ٹیم کو سپورٹ کرتے تھے؟
  • سب سے زیادہ کون سا فٹ بالر پسند تھا؟
  • پسندیدگی کی وجہ؟
  • موجودہ ورلڈ کپ میں کس ٹیم کو سپورٹ کرتے ہیں؟
  • موجودہ ورلڈ کپ میں کس ٹیم کو فیورٹ سمجھتے ہیں؟

اہم روابط

ورلڈ کپ 2010ء کا ایک انٹر ایکٹو شیڈول

فیفا ڈاٹ کام کی ورلڈ کپ 2010ء کے حوالے سے ویب سائٹ

جنوبی افریقہ کی تیار کردہ آفیشل سائٹ

ورلڈ کپ 2010ء کے حوالے سے مکمل معلومات کا حامل وکی پیڈیا مقالہ

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

13 تبصرے

  1. arifkarim says:

    شکریہ۔ گو کہ مجھے فٹ بال پسند نہیں لیکن یہاں سب لوگوں کو بہت پسند ہے۔

  2. نبیل says:

    دیکھنے کی حد تک فٹ بال مجھے بھی بہت پسند ہے۔ 🙂
    اب آپ نے کہا ہے تو میں بھی اس بارے میں کچھ لکھنے کی کوشش کروں گا۔

    • نبیل بھائی، جیسے جیسے ورلڈ کپ آگے بڑھ رہا ہے، مجھے امید ہے کہ چند بلاگرز اس پر تحریر ضرور لکھیں گے۔

  3. بہت دلچسپ لگی مجھے یہ تحریر. ویڈیوز دیکھنے کا بھی بہت مزا آیا.

    لیکن آندرے ایسکوبار کا انجام جان کر دکھ ہوا.اور یہ جان کر حیرت ہوئی اس کو مارنے والا ایک ہائی سکول ٹیچر تھا. اس کو پہلے 43 سال کی قید ہوئی جو بعد میں گھٹا کر 26 سال کر دی گئی لیکن پھر اچھے انداز و اطوار کی بنا پر اس کو 11 سال بعد ہی چھوڑ دیا گیا.عجیب رنگ ہیں زندگی کے.

    سعید العویران کا گول زبردست لگا. مجھے عرب کرۃ القدم کی ٹیموں سے دلچسپی ہے. میں گمان کر رہا تھا کہ اس 2010 والے ورلڈ کپ میں سعودی عرب، عراق، الامارات وغیرہ میں سے کوئی ٹیم لازم ہو گی لیکن یہ دیکھ کر افسوس اور حیرت ہوئی کہ ان میں سے کوئی بھی شامل نہیں ہے اس میں. نا جانے کیوں ایسا ہے.

    اپنے گھروں پر اپنی پسندیدہ ٹیم کا جھنڈا کگانا ایک نئی اور مزے کی بات لگی مجھے.

  4. سعودی کھلاڑی کا گول واقعی کلاسک ہے
    مجھےتو فٹ بال سے زیادہ دلچسپی نہیں
    لیکن آپ نے کسی کو ٹیگا تو ہے نہیں

    • ڈفر میاں! شکر ہے کسی کو "ٹیگا" نہیں تھا، ورنہ چار پانچ دن تک عجب تماشا لگا رہتا۔ بلاگ پر کچھ مسائل تھے جس کی وجہ سے یہ تحریر غائب ہو گئی تھی۔ خیر اب واپس آ گئی ہے۔
      میں نے کسی کو ٹیگ اس لیے نہیں کیا کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ کون کون فٹ بال اور کھیلوں میں دلچسپی رکھتا ہے اس لیے میں نے سوچا کہ جسے دلچسپی ہوگی خود ہی لکھ دے گا۔

  5. عمدہ تحریر ہے فٹبال کے بارے میں.. مجھے بھی کوئی خاص شوق نہیں ہے فٹبال کا لیکن دیکھنے کی حد تک تو ہے ہی... ٹیگ کرنے کا سلسلہ بھی اچھا ہے، اس سے مزید جاننے کا موقع ملے گا فٹبال کو.. میں بھی اپنے دوست سے پوچھ پچھا کر کچھ لکھوں گا اس موضوع پر اگر وقت نے ساتھ دیا تو..... :پ

  6. مجحے فٹ بال کی زیادہ سمجھ تو نہیں مگر میرے خیال میں بجائے کرکٹ کے ہمیں اس طرح کے کھیلوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے

  1. June 11, 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Urdu Blogz, Abu Shamil. Abu Shamil said: ورلڈ کپ فٹ بال سے وابستہ یادیں، بلاگ پر تازہ تحریر "گوووووول" #worldcup http://tinyurl.com/23sma2y [...]

  2. June 17, 2010

    [...] چلا گیا اور یوں فٹ بال ورلڈ کپ کے حوالے سے تحریر “گووووووول” بمعہ تبصرہ جات غائب ہو گئی۔ یہی صورتحال فلمستان [...]

  3. June 18, 2010

    [...] ورلڈ کپ کیا شروع ہوا شائقین کھیل تو جیسے گووووووووول کے شور میں کرکٹ کو ہی بھلا بیٹھے. بھئی اسے بے وفائی نہ [...]

arifkarim کے جواب پر تبصرہ کریں حذف کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.