Pirates of the Mediterranean

اسرائیل کی ننگی جارحیت، جو ہمیشہ اس کا شیوہ اور وطیرہ رہی ہے، کے باعث 20 سے زائد غیر مسلح و معصوم شہریوں کی جانیں ضایع ہوئیں اور اس سے کہیں زیادہ افراد زخمی حالت میں ہیں۔ زیر حراست افراد میں پاکستان کے ممتاز صحافی طلعت حسین اور ان کے ساتھی بھی شامل ہیں۔ تمام زیر حراست افراد خصوصا طلعت حسین کے حوالے سے زیادہ تشویش لاحق ہے، جو پاکستان کا ایک عظیم سرمایہ ہیں، اور پوری پاکستانی قوم کی طرح ہم بھی دعاگو ہیں کہ اللہ انہیں بخیر و عافیت وطن عزیز پہنچائے۔

اسرائیل نے پہلی بار عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا ہے، لبنان اور فلسطین کے شہروں کی حالت زار اس امر کی گواہ ہے کہ اسرائیل کسی عالمی قانون یا بنیادی اخلاقیات کا پابند نہیں ہے بلکہ صیہونیوں کی پیاس ہی شاید معصوم انسانوں کے خون سے بجھتی ہے۔

آج نجانے کیوں مجھے ریچل کوری بہت زیادہ یاد آ رہی ہے۔ امریکہ کی ایک طالبہ جو 2003ء میں غزہ کے دورے پر آئی اور ایک فلسطینی کے گھروں کو بچانے کے لیے "انسانی ڈھال" کا حصہ بنی لیکن یہ ڈھال زیادہ مضبوط ثابت نہ ہوئی اور ایک فلسطینی کا گھر بچانے کے دوران ایک اسرائیلی فوجی بلڈوزر اس پر چڑھ دوڑا اور ریچل اپنی جان دے کر ایک عظیم مثال قائم کر گئی۔

کوری کی موت کا بہت چرچا ہوا، دنیا بھر کے اخبارات میں بڑی بڑی خبریں چھپیں، تبصرے، تجزیے ہوئے، کوری کی شخصیت زیر بحث آئی، مختلف تبصرہ نگاروں نے مثبت و منفی زاویوں سے اس کے ماضی اور حال کو پرکھا۔ کبھی کبھار مجھے یہ بہت برا بھی لگتا کہ ان دنوں جب دوسری انتفاضہ کے باعث فلسطینیوں اور عام شہریوں کا روزانہ کی بنیاد پر قتل عام ہو رہا تھا، ایک امریکی لڑکی کے قتل کو اتنی شہرت کیوں ملے؟ اور ان ننھی منی فلسطینی بچیوں اور بزرگ مرد و خواتین کے قتل پر کیوں شور نہیں مچتا جو اسرائیل کے بموں اور گولیوں کا نشانہ بن گئیں؟ کیا ان کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ فلسطینی تھیں؟ لیکن پھر یہ بات دل کو اطمینان بخشتی کہ صرف ہم میں ہی نہیں بلکہ مغرب میں بھی ہمارے موقف کے حامی موجود ہیں اور وہ بھی ایسے جو جان لڑا دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ 16 مارچ 2003ء کو فلسطینیوں کے بہتے خون کے دھاروں میں ایسی جوئے خوں شامل ہوئی، جس کے سوتے مغرب سے پھوٹتے تھے۔

اب آتے ہی اس طرز عمل کی طرف جو اسرائیل کے معاملے میں مغرب اختیار کرتا ہے۔ مسلم دنیا میں، کوئی معمولی واقعہ بھی ہو، چاہے وہ سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت نہ دینے جیسا معمولی سا رویہ بھی ہو، اس کی مذمت میں مغرب خصوصا امریکہ ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے۔ پاکستان میں چار عیسائی مر جائیں، یا قادیانیوں کا جینا دشوار ہو (گو کہ اسلام کی رو سے اقلیتوں کو بنیادی حقوق نہ دینا خود غلط عمل ہے) وہاں مغرب سے مذمتوں و دھمکیوں کا ایک سیلاب پاکستان کی جانب رواں ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں جب ان کا چہیتا اسرائیل بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیرتا ہے اور نہ صرف فلسطین و لبنان کے بلکہ دیگر ممالک کے معصوم انسانوں کے خون کی بھی ہولی کھیلتا ہے، حتی کہ تمام تر سفارتی و اخلاقی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مختلف ممالک کے افراد کے پاسپورٹ کو استعمال کر کے اپنے ایجنٹوں کو دبئی میں ایک حماس رہنما کو قتل کرنے کے لیے بھی بھیجتا ہے، تب بھی یہ انسانی حقوق کے چیمپیئن ممالک منہ میں گھنگنیاں ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں۔ مذمت آئے گی بھی تو کسی کونے سے اور وہ بھی ایسی جیسی منمناتا ہوا بھیڑ کا بچہ۔

امریکہ اور مغرب کے اس رویے سے کیا مسلم دنیا میں [[ابن سینا]] اور [[افلاطون]] پیدا ہوں گے؟ ہر گز نہیں، ان کے اس رویے اور طرز عمل سے محض اسامہ بن لادن ہی پیدا ہو سکتے ہیں، اور شاید یہی وہ نسل ہے جو امریکہ مسلم امہ میں پیدا کروانا چاہتا ہے یعنی ایک طرف مغرب کے دلدادہ سیکولر طبقہ ہو اور دوسری طرف آٹھ صدیاں پیچھے زندگی گزارنے والا طبقہ اور یوں حقیقی اسلام انہی دونوں طبقوں کے درمیان جنگ کے باعث اٹھنے والی دھول میں کہیں غائب ہو جائے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اسرائیل کے خلاف ویسے ہی اقدامات اٹھائے جائیں جیسے نسل پرست عہد میں جنوبی افریقہ کے خلاف اٹھائے گئے تھے۔ آپ ابھی خود دیکھ رہے ہوں گے کہ صومالیہ میں قزاق دنیا بھر کے بحری جہازوں پر حملہ کرتے ہیں تو پوری عالمی برادری ایکشن میں آ جاتی ہے اور [[آبنائے باب المندب]] میں، جو [[بحیرہ قلزم]] میں داخلے کا راستہ ہے، کے قریب دنیا بھر کے عسکری جہاز قزاقوں کی تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں، حتی کہ بھارت تک کے جہازوں نے اس علاقے میں آپریشن کیے ہیں، لیکن جب بحیرہ روم کے قزاق (اسرائیلی بحریہ) معصوم انسانوں کے خون سے سمندر کو سرخ کردیتے ہیں تو کوئی ان پر انگلی اٹھانے والا نہیں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کی صرف مذمت سے آگے کے اقدامات اٹھائے جائیں اور عالمی برادری اسرائیل کے خلاف بھرپور و عملی ردعمل ظاہر کرے۔ آخر مغرب کب تک ہولوکاسٹ کے نام پر بلیک میل ہوتا رہے گا؟ اور ان ہولوکاسٹ "مظلوموں" کے مظالم سہے جاتے رہیں گے؟

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

12 تبصرے

  1. زین says:

    السلام علیکم
    امن اور انصاف کے "علمبردار" امریکہ کو واقعے کی تحقیقات کا انتظار ہے.

    فہد بھائی . میں یہ تحریر یہاں کے مقامی اخبارات کو بجھواؤں؟؟

  2. بوچھی says:

    ):

    (:

  3. arifkarim says:

    ہولوکاسٹ جو کبھی ہوا ہی نہیں۔ اسکے ذریعے کیسے کسی کو بلیک میل کیا جا سکتاہے۔ یہ صیہونی تو اپنی عقل و دانشمندی سے پوری دنیا کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔

  4. جعفر says:

    جسے دیکھو بےچارے امریکہ کو برا بھلا کہتا ہے
    اس نے کیا کیا ہے؟
    پندرہ بیس لاکھ مسلمان ہی مارے ہیں
    باقیوں کا ناطقہ بند کیا ہے
    اور تو کچھ نہیں کیا
    اور آپ جیسے لکھاری مسلمانوں کو گمراہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں
    امریکہ کی بجائے ہمارے سارے مسائل کا ذمہ دار
    ٹانگا نیکا ہے۔۔۔

  5. انہیں اس سے کوئ دلچسپی نہیں کہ آپ ابن سینا یا افلاطون پیدا کر رہے ہیں یا نہیں. البتہ آپ اسامہ بن لادن کو ہیرو بناتے ہیں یہ انکی بے ھد دلچسپی کا باعث ہے. کیونکہ جو کام وہ اپنے یا اسرائیل کے بم سے نہیں کرواسکتے وہ اسامہ کے نام کے پیچھے سرگرم قوتیں بالکل آسانی سے کر لیتی ہیں.
    واہ رے مسلمان ، مسلمان کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر جذباتی ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ ہے مغرب کی عقل کا جواب. اسی تلوار کی دھار پہ صدیوں سے خود کو کاٹتا چلا آرہا ہے اور پھر اسی کو اپنی کم عقلی کا جواز بناتا ہے.آپکی کم عقلیت انکے لئے تحفہ ہے. آپ کی دہشت گردی کی بڑھک انکے اسلحے کے کارخانے کو رواں رکھتی ہے. فیس بک جیسی کم مایہ چیز کا بائیکاٹ کرنے والے کبھی اصل چیزوں کے بائیکاٹ کے متعلق تو سوچ کر دیکھیں. تاسف ہوگا.

    • آپ کو کیسے پتہ چلا محترمہ کہ انہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ ہمارے ہاں کیا "پیدا" ہو رہا ہے؟ انہیں سب سے زیادہ دلچسپی اسی بات سے ہے۔ یہ جو خود رو جھاڑیوں کی طرح یہاں این جی اوز پیدا ہو رہی ہیں، ہماری "اصلاح" کے لیے بڑے بڑے پروگرامز پیش کیے جا رہے ہیں اور دنیا جہاں کا موضوع گفتگو بنے ہوئے ہیں، یہ اس بات کی نشانی ہے کہ انہیں اس کی پروا ہے۔
      دوسری بات میں نے کہیں اسامہ بن لادن کے بارے میں اپنے "زریں" خیالات ظاہر نہیں کیے ہیں، اس لیے اسے زبردستی میرے سر مت تھوپیے ورنہ پکڑے جانے کا اندیشہ ہے 🙂 اور میں آپ کا نام بھی لے دوں گا 🙂
      اور ہاں آخر میں یہ بھی ان "گراں مایہ اشیاء" کی فہرست بھی تو دے جائیے جن کا بائیکاٹ کرنا ضروری ہے۔ امید ہے کہ اس میں تاخیر نہيں کریں گی۔ مجھے خوشی ہوگی۔

  6. اس میں تو کسی شک کی گناجائش ہی باقی نہیں کہ فلسطینی سرزمین پر ناجائز ریاست کے قیام سے لے کر آج تک اسرائیلی ظلم و ستم کی نزید شاید ہی کہیں اور میسر ہو۔ اس امدادی قافلہ پر موجود نہتے افراد پر القاعدہ سے روابط کا پرانا الزام لگا کر حملہ کیا گیا، جس کی بنیاد پر نامعلوم پہلے ہی کتنے مسلمان لاپتہ ہوگئے یا اس دنیا میں نہ رہے۔

    مجھے یاد ہے اسرائیل کے ہر حملہ کے دفع میں ہمارے یہاں کا ایک طبقہ اسے حماس کی بے وقوفی اور شدت پسندی سے تعبیر کرتا تھا۔ اس طبقہ کو ہمیشہ اس بات پر رنج رہا کہ حماس اسرائیل پر میزائل کیوں داغتا ہے۔ لیکن انہی اس بات کی توفیق نہ ہوئی کہ اسرائیلی حملوں میں دسیوں گنا زیادہ انسانی جانوں ک قتل عام پر انگلی اٹھائی جائے۔ گویا ہر غلطی، ہر کوتاہی اور ہر جرم کرنے والا امریکا و اسرائیل مخالف ہی ہے۔

    نہتے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جانے والے لوگوں پر ظلم کا فیصلہ اب اقوام متحدہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اگر اس بار بھی یو این او امریکی پشت پناہی سے اسرائیل کے خلاف کوئی کاروائی کرنے سے باز رہا تو پھر اس ناجائز ریاست کی بے لگامی مزید پروان چڑھ جائے گی۔ اور مسلم دنیاء میں اقوام متحدہ کا وجود و کردار مزید مشکوک ہوجائے گا۔

  7. مسلمانوں کی اس ذلت کا باعث مسلمانوں کا اللہ کے بتائے ہوئے راست کو چھوڑنا ہے ۔ آج مسلمان دنيا کی بجائے اللہ کی تابعداری شروع کر دے تو ظُلم کے دھارے کا رُخ بدل سکتا ہے ۔

  8. مبارک ھو بھت بھت بلاگ ایوارڑ جیتنے کی.

  9. Fawad – Digital Outreach Team – US State Department says:

    Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

    ميں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ دہشت گردی، افغانستان ميں فوجی کاروائ اور مسلہ فلسطين ميں کوئ مماثلت نہيں ہے۔ امريکہ افغانستان ميں فوجی کاروائ کے ضمن ميں براہراست کردار اس ليے ادا کر رہا ہے کيونکہ افغانستان سے جنم لينے والے دہشت گردی کے عفريت سے امريکہ کو براہراست نشانہ بنايا گيا تھا۔

    اس کے برعکس فلسطين کے معاملے ميں امريکہ براہراست فريق نہيں ہے۔ اسرائيل اور فلسطين کے مابين تنازعہ کئ دہائيوں پر محيط ہے۔ اس مسلۓ کے حل کے ليے عالمی برادری کی جانب سے ايک اجتماعی کوشش کی جا رہی ہے اور امريکہ اس عالمی کوشش کا حصہ ہے۔ ليکن اس مسلۓ کے فيصلہ کن اور حتمی تصفيے کا اختيار امريکی حکومت کے ہاتھوں ميں نہيں ہے۔

    ميں آپ کو ياد دلانا چاہتا ہوں کہ امريکہ وہ واحد ملک نہيں ہے جس نے اسرائيل کے وجود کو تسليم کيا ہے۔ اقوام متحدہ ميں اسرائيل ايک تسليم شدہ ملک کی حيثيت سے شامل ہے۔

    سال 2002 ميں بيروت کے مقام پر عرب ليگ کے اجلاس ميں تمام ممبر ممالک کی جانب سے ايک امن معاہدہ پيش کيا گيا تھا جس ميں 20 عرب ممالک نے اسرائيل کے وجود کو تسليم کرتے ہوۓ اس بات کی اہمیت پر زور ديا تھا کہ امن کے تناظر ميں اسرائيل کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    عرب ليگ ميں شامل ممالک کی لسٹ آپ اس ويب لنک پر ديکھ سکتے ہیں۔

    http://img40.imageshack.us/img40/7209/clipimage0021.jpg

    اسرائيل اور فلسطين کے مسلۓ کے حوالے سے امريکی حکومت کے موقف اور نقطہ نظر کو نہ صرف عالمی برادری ميں حمايت حاصل ہے بلکہ عرب ليگ کی جانب سے کی جانے والی امن کی کوششيں بھی اسی سمت ميں ہيں جس کے مطابق اس مسلۓ کا حل دو الگ رياستوں کا قيام ہے جہاں فلسطينی اور اسرائيلی امن اور سکون کے ساتھ رہ سکيں۔

    صدر اوبامہ نے قاہرہ ميں تقرير کے دوران اسی نقطہ نظر کا اعادہ کيا تھا۔

    " عرب امن کوششوں پر مزيد کام کرتے ہوۓ عرب رياستوں پر لازم ہے کہ وہ فلسطينی رياست کی بقا کے لیے اداروں کی تشکيل ميں فلسطينی عوام کی مدد کريں اور اسرائيلی کی قانونی حيثيت تسليم کريں۔ اس کے علاوہ ماضی ميں جھانکنے کی ناکام روش کے مقابلے ميں ترقی پر فوکس کرنا ہوگا۔ "

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.