غازی انور پاشا شہید……پاک دل پاکباز – تیسری قسط
غازی انور پاشا شہید پہلی اور دوسری قسط
کمیونسٹوں سے جنگ اور شہادت:
انور پاشا نے اپنے قول کو نبھایا اور اناطولیہ سے پرے رہتے ہوئے اپنی مجاہدانہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔ انور پاشا باطوم سے تفلس، باکو، عشق آباد اور مرو کے راستے بخارہ پہنچے جہاں انہوں نے ترکستان پر کمیونسٹ روس کے ممکنہ حملے کی صورت میں مختلف گروہوں کو مزاحمت پر آمادہ کیا۔ کمیونسٹوں کے خلاف کارروائی کے دوران انور پاشا کو’’بسماچی‘‘ ازبکوں کے ایک مقامی رہنما نے گرفتار کرلیا، جہاں انور پاشا کو تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ’’ایشاں سلطان‘‘ کی زیر قیادت بسماچیوں کے ایک دوسرے گروہ نے رہا کروایا۔ رہائی پاتے ہی انور پاشا نے دو سو تاجک مجاہدوں کے ساتھ دوشنبے میں موجود روسی افواج پر حملہ کردیا، یہ حملہ اچانک اور اس قدر زوردار تھا کہ روسی افواج کو دوشنبے خالی کرنا پڑا۔
19 فروری 1922ء کو مفرورین کے تعاقب میں انور کا بازو زخمی ہوگیا۔ روسیوں کے خلاف کامیابی کے نتیجے میں بہت سے مسلح افراد انور پاشا سے آملے، مگر 28 جون 1922ء کو ’’کافران‘‘ کے معرکے میں انور پاشا کی عدم کامیابی کے ساتھ ہی یہ لوگ جس تیزی سے جمع ہوئے تھے اسی تیزی سے منتشر ہوگئے۔ انور پاشا نے مجاہدانہ سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے بسماچیوں کے ایک قائد ’’دانشمندبک‘‘ سے مل کر 4 اگست 1922ء کو’’ چکن‘‘ نامی گاؤں کے قریب روسی فوج پر جوابی حملہ کیا، روسی فوجی عددی اعتبار سے کہیں زیادہ تھے، خود انور پاشا نے رسالے کی کمان سنبھالی، وہ توپوں کی باڑ سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے کہ گولہ باری کی زد میں آگئے اور وہیں مرتبۂ شہادت پایا۔ دانشمندبک نے انور پاشا کو بچانے کی کوشش میں جان دے دی۔ 5 اگست 1922ء کو ’’چکن‘‘ میں ہی انور پاشا کی تدفین عمل میں آئی۔
غازی انور پاشا نے چالیس سال، آٹھ مہینے اور تیرہ روز کی عمر میں مرتبۂ شہادت پایا۔ آپ کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہ تھا جو ملت ِ اسلامیہ کی بہبود کے لیے فکر و تدبیر اور ایثار و جانبازی سے خالی گزرا ہو۔
غازی انور پاشا شہید ؒ کا آخری خط
غازی انورپاشا (ولادت:1898ء۔شہادت: 4اگست 1922ء) ترکی کی اُن عظیم المرتبت ہستیوں میں سے ایک ہیں جن کی زندگی دشمنانِ اسلام کے خلاف رزم آرائی میں گزری، آپ وسط ایشیا میں روسیوں کے خلاف لڑتے ہوئے مرتبہ شہادت پر سرفرا زہوئے، اپنی شہادت سے ایک دن قبل آپ نے اپنی اہلیہ ناجیہ سلطانہ (1898ء۔ 1957ء)کو ایک خط لکھا جس کے ہر حرف اور ہر لفظ سے اللہ کی محبت، اسلام سے بے پناہ عقیدت اور اپنی اہلیہ سے بھرپور اُلفت کا اظہار نمایاں ہے۔ اولاًیہ خط ترکی کے اخبارات میں شائع ہوا، اور بعدازاں 22اپریل 1923ء کو ہندوستان کے اخبارات کی زینت بنا۔
دل کو چھولینے والا یہ خط آج نوے سال بعد بھی نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے اور انھیں عظیم خلافت ِ اسلامیہ کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی جھلک دِکھاتا ہے۔
عزیزم ناجیہ!
میری رفیقہ حیات اور سرمایہ عیش و نشاط پیاری ناجیہ! اللہ تمہارا نگہبان ہے، اس لمحے تمہارا آخری خط میرے سامنے ہے، یقین کرو، تمہارا یہ خط ہمیشہ میرے دل کے پاس رہے گا، یوں تو فی الوقت میں تمہیں دیکھ نہیں سکتا، تاہم خیمہ میں موجود دھندلکے کے باوجود اس خط کے بین السطور مجھے تمہارا چہرہ دکھائی دے رہا ہے، اس خط کے لفظوں میں تمہاری خوبصورت انگلیاں حرکت کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جن سے تم میرے بالوں سے کھیلا کرتی تھیں، اکثر تمہاری تصویر میری نگاہوں میں گھوم جاتی ہے۔
تم نے لکھا ہے کہ میں نے تمہیں بھلا دیا ہے، مجھے تمہاری محبت کی کوئی پروا نہیں اور میں تمہارا پیار بھرا دل توڑ کر تم سے دور یہاں آگ اور خون سے کھیلنے چلا آیا ہوں، اور یہ کہ مجھے ذرا پروا نہیں کہ ایک عورت میرے فراق میں رات بھر تارے گنتی رہتی ہے۔
تم کہتی ہو کہ مجھے جنگ سے محبت اور شمشیر سے عشق ہے۔ مجھے احساس ہے کہ تم نے جوکچھ بھی لکھا ہے خلوص دل سے لکھا ہے، اس خط کے حرف حرف سے میرے لیے گہری محبت اور اخلاص چھلکتا ہے، مگر میں تمہیں کس طرح یقین دلاؤں (کہ الفاظ کفایت نہیں کرتے) تم مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ہو، تم میری محبت اور چاہت کی معراج ہو، میں نے تم سے پہلے کسی کو بھی نہیں چاہا، ایک تم ہی ہو جس نے مجھ سے میرادل چھین لیا ہے۔
میری راحت ِ جاں! تمہیں یہ پوچھنے کا پورا حق ہے کہ پھر میں تم سے جدا کیوں ہوں ؟
توسنو! ’’میں تم سے اس لیے جدا نہیں ہوں کہ مجھے مال ودولت کی حرص ہے اور نہ ہی میں اس لیے تم سے دور ہوں کہ میں اپنے لیے کسی تخت ِ شاہی کی تمنا رکھتا ہوں جیسا کہ میرے بدخواہوں نے مشہور کر رکھا ہے۔ میں تم سے صرف اس لیے جدا ہوں کہ مجھے یہاں (اس میدان جنگ میں) اللہ کا حکم کھینچ لایا ہے، یہ اللہ کی جانب سے عائد کردہ عظیم ذمہ داری جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ یہ وہ فرض ہے جس کی محض نیت ہی انسان کو جنت الفردوس کا حقدار بنادیتی ہے اور الحمدللہ! میں اس فرض کی ادائیگی کی نیت ہی نہیں رکھتا بلکہ عملاً میدانِ جہاد میں موجود ہوں۔تمہاری جدائی میرے لیے تلوار کی مانند ہے جو ہر آن میرے دل کے ٹکڑے کیے جاتی ہے، لیکن اس کے باجود میں اس جدائی پر خوش ہوں ،کیونکہ یہ تمہارا سچا پیار ہی ہے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ کی راہ میرے لیے آزمائش ثابت ہو سکتا تھا۔
میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس امتحان میں سُرخرو کیا اور میں اپنی محبت اور اپنے نفس کی خواہش پر اللہ کی محبت اور اُس کے حکم کو مقدم رکھنے میں کامیاب رہا۔ میری جان! تم کو اس مسرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا انتہائی شکرگزار ہونا چاہیے کہ تمہارے شوہرکو ایسا مضبوط ایمان ملا ہے کہ وہ خود تمہاری چاہت کو بھی اللہ کی محبت پر قربان کرسکتا ہے۔ یوں تو تم پر جہاد بالسّیف فرض نہیں ہے، مگر میری جان تم اس سے مستثنیٰ بھی نہیں ہو، مسلمان مرد ہو یا عورت کوئی بھی جہاد سے معذور نہیں ہے۔
تمہارا جہاد یہ ہے کہ تم اپنی محبت اور خواہش پر اللہ کی محبت کو ترجیح دو اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اور اپنے شوہر کے درمیان رشتہ الفت کو پہلے سے بڑھ کر مضبوط کرو۔ دیکھو! تم یہ دعا نہ کرنا کہ’’ تمہارا شوہر میدانِ جنگ سے صحیح و سلامت تمہاری آغوشِ محبت میں لوٹ آئے‘‘، کیونکہ یہ دعا خود غرضی پر مبنی ہے اور اللہ اس سے خوش نہیں ہوگا۔ اس کے برخلاف تم یہ دعا کرتی رہو کہ ’’اللہ تمہارے شوہر کے جہاد کے قبول فرمائے اور اسے کامیاب وکامران لوٹائے یا جام شہادت نوش کرائے۔ میری جان تم تو جانتی ہو کہ ان لبوں نے کبھی شراب نہیں چکھی، یہ ہمیشہ تلاوت ِقرآن ِ پاک سے تر اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حمد و ثناء میں مصروف رہے ہیں۔
پیاری ناجیہ! وہ لمحہ کتنا مبارک ہوگا جب وہ سر جسے تم خوبصورت کہتی ہو، راہ خدا میں تن سے جدا کردیا جائے گا، اس تن سے جو تمہاری نظر میں کسی دوسرے سپاہی کا نہیں بلکہ تمہارے اپنے کا ہے۔انورؔ کی یہ تمنا ہے کہ وہ مرتبہ شہادت پائے اور روز آخرت وہ حضرت خالدبن ولیدؓ کے ساتھ ہو۔ یہ دنیا عارضی ہے، موت کو تو بہر صورت آنا ہے، تو پھر موت کا خوف کیسا؟ جب موت یقینی ہے تو پھر جان بستر پر کیوں دی جائے؟ یہ جان اللہ کی راہ میں کیو ں نہ نثار کی جائے کیونکہ شہادت کی موت حقیقت میں موت نہیں بلکہ زندگی ہے، ایک لازوال زندگی۔
سنو ناجیہ! اگر میں شہید ہوجاؤں تو تم لازمی میرے بھائی نوری پاشا سے شادی کرلینا۔ مجھے تمہارے بعد نوریؔ بہت عزیز ہے۔ یہ میری خواہش ہے کہ میری شھادت کے بعد وہ زندگی بھر صدق دل سے تمہارا خیال رکھے۔ میری دوسری خواہش یہ کہ تمہاری جو بھی اولاد ہو (ناجیہ سلطانہ اس وقت امید سے تھیں) تم اُن کو میری زندگی کے بارے میں بتانا اور انھیں جہاد اسلامی میں شرکت کے لیے میدانِ جنگ روانہ کرنا۔ یاد رکھو اگر تم نے میری خواہش کا احترام نہیں کیا تو میں جنت میں تم سے روٹھ جاؤں گا۔ میری تیسری نصیحت یہ کہ مصطفیٰ کمال پاشا کی ہمیشہ خیر خواہ رہنا، ان کی ہر ممکن مدد کرتی رہنا کیونکہ اس وقت وطن کی نجات اللہ نے اس کے ہاتھ میں رکھ دی ہے۔
الوداع…… میری جان الوداع! نہ جانے کیوں میرا دل کہتا ہے کہ اس خط کے بعد میں تمہیں کبھی خط نہیں لکھ سکوں گا، کیا عجب کہ میں کل ہی شہید ہوجاؤں۔دیکھو! صبر کرنا، میری شہادت پر غمزدہ ہونے کے بجائے خوشی منانا کیونکہ میرا اللہ کی راہ میں کام آجانا تمہارے لیے بھی اعزاز ہے۔
ناجیہ! اب رخصت چاہتا ہوں مگر اس سے قبل عالم خیال میں تمھیں گلے لگاتا ہوں۔ انشاء اللہ اب ہم کبھی نہ جدا ہونے کے لیے جنت میں ملیں گے۔
تمہارا انور










اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے آمین
بہت عمدہ
جزاک اللہ