نیا نیا کراچی

جب گوگل ارتھ اور گوگل نقشہ جات نئے نئے آئے تھے تو ہمارا آدھا دن اس پر آوارہ گردیوں ہی میں گزرتا تھا لیکن جیسے جیسے کراچی میں شہری حکومتوں کی جانب سے ترقیاتی کام ہوتے گئے، گوگل پر کراچی کی پرانی تصاویر دیکھ کر ہم کڑھتے ہی رہ جاتے کہ نجانے کب یہ اپنے کراچی کے نقشوں اور تصاویر کو اپ ڈیٹ کریں گے۔ ہر مرتبہ وہی 2002ء اور 2003ء کا پرانا کراچی دیکھ دیکھ کر کوفت طاری ہو گئی تھی۔ لیکن انتظار کی طویل گھڑیاں بالآخر ختم ہوئیں اور بالآخر گوگل والوں کو کراچی والوں پر رحم آ گیا ہے۔ انہوں نے کراچی کے تازہ ترین سیٹلائٹ امیجز پیش کر دیے ہیں جس کے ساتھ آپ کراچی میں ہونے والی تیز رفتار تعمیراتی ترقی کو ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ میں نے ان تازہ ترین تصاویر کے لیے گوگل میپس کو استعمال کیا ہے۔

(تصاویر بڑی کرنے کے لیے ان پر کلک کیجیے)

سہراب گوٹھ فلائی اوور اور لیاری ایکسپریس وے

سہراب گوٹھ فلائی اوور اور لیاری ایکسپریس وے

شاہراہ قائدین فلائی اوور

شاہراہ قائدین فلائی اوور

شاہ فیصل فلائی اوور

شاہ فیصل فلائی اوور

ناظم آباد انڈرپاس

ناظم آباد انڈرپاس

کارساز فلائی اوور

کارساز فلائی اوور

حسن اسکوائر فلائی اوور

حسن اسکوائر فلائی اوور

غریب آباد انڈرپاس

غریب آباد انڈرپاس

ایف ٹی سی فلائی اوور

ایف ٹی سی فلائی اوور

اسٹیڈیم فلائی اوور

اسٹیڈیم فلائی اوور

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

16 تبصرے

  1. کراچی میں ہونے والی تیز رفتار ترقی اب تمام دنیا پر واضح ہو جائے گی

  2. محترم ابو شامل صاحب!
    آپ نے محنت کی اور کراچی کی ترقی کے مناظر اپنے قارئین کو دکھائے ہیں۔ اور اگر کسی شہری حکومت نے ماضی کے جمود کو توڑا ہے اور مساعل کے حل کو ایک نئی جہت دی ہے تو ہم اس کی قدر کرتے ہیں اور انہیں داد دی جانی چاہئیے مگر ان تصاویر سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ کسی شہر کی ترقی جیسے اس کے چند فلائی اورز، (زبر زمین رستے) اور انڈر پاسز(زیرِ زمین رستے) سے ہی منسلک ہے۔ جب کہ کراچی جیسے بڑے میٹروپولین شہر کے بجٹ اور فنڈز کو سامنے رکھتے ہوئے اسے معمول سمجھنا چاہئیے۔ دنیا کے بڑے میٹروپولین سٹیز میں اسطرح کی چیزوں کو ایک عام سا واقعہ لیا جاتا ہے۔اگر دنیا کے ، جسمیں تیسری دنیا کے بھی بڑے شہر شامل ہیں، سے موازنہ کیا جائے تو بہت سے شہر ایسی سہولتوں میں کراچی کو شرما تے ہیں۔ کیونکہ جس طرح کسی بستی کی بدرؤں کی صفائی ضروری خیال کی جاتی ہے اسیطرح کسی برے شہر کی بے ھنگم ٹریفک کو قابو کرنے اور بحال رکھنے کے کے لئیے اس طرح کی تعمیرات کو معمول سمجھا جاتا ہے۔ اصل ترقی وہ ہوتی ہے جو اس شہر کے باسیوں کو بنیادی ضرورتیں اور ضروری وسائل مہیا کرے ۔ اور ان کی روز مرہ کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرے ۔شہر کی وہ کروڑوں انسانی اکائیاں جو ہر روز گھر سے نکل کر واپس گھر داخل ہونے تک جن مسائل سے دوچار ہوتی ہیں ۔ اگر تو وہ شہر کی زندگی سے اپنے بارے میں سہولتوں سے مطمئین ہیں تو بجا طور پہ کہا جاسکتا کہ اہلِ شہر کو ترقی کی وجہ سے شہر میں ترقی ہوئی ہے،ورنہ نہیں۔

    پاکستان کے تقریبا سبھی بڑے شہروں کے حالات کافی حد تک افسوسناک ہیں۔ اسمیں کوئی اشتناء نہیں۔

    • میں شہری حکومتوں کے نظام کو کم از کم کراچی کے لیے نعمت سمجھتا ہوں۔ اس کے نتیجے میں کراچی میں خصوصاً ٹریفک کے نظام میں جو بہتری آئی ہے اس کا عشر عشیر بھی گزشتہ 55 سالوں میں نہیں ملتا۔ اس حوالے سے مصطفیٰ کمال کو کریڈٹ دینا ہوگا کہ اس نے نعمت اللہ خان کے جاری کردہ تسلسل کو برقرار رکھا۔ کراچی کے شہری جن مسائل سے پریشان ہیں وہ شہری حکومت کے زیر انتظام نہیں آتے جیسے امن و امان کا مسئلہ، پانی و بجلی کا مسئلہ وغیرہ، اس لیے اس کا دوش انہيں نہیں دیا جا سکتا۔ بہتری کی گنجائش تو ہر موقع پر رہتی ہے۔

  3. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین والے بھائی اس پوسٹ کامقصد صرف یہ بتانا ہے کہ کراچی کے نقشوں اور تصاویر کو اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے مگر آپ نے اس بات کو بھی ایشو بنا دیا.کچھ تو خداکا خوف کرو

    مزید براں کہ حیدرآبادکے نقشوں اور تصاویر کو اپ ڈیٹ کردیا گیا ہے

  4. بہت شکریہ ابو شامل بھائی کیا یہ نقشے صرف کراچی کے ہی اپڈیٹ ہوئے ہیں یا پھر سارے پاکستان کے میں نے جہلم دیکھنا ہے

  5. پچھلی بار کراچی گیا تھا تو راستے سمجھنے میں بہت دشواری ہوئی کیونکہ پورا شہر ہی بدل گیا تھا لیکن اچھے معنوں میں خاص کر لیاری ایکسپریس وے تو شاندار ہے اگر اس پر لوگ چہل قدمی نا کریں تو.

    جاوید صاحب سے عرض کرنی تھی کہ کسی بھی شہر اور اس کے باسیوں کی ترقی شہر کے ایک مضبوط انفراسٹرکچر سے بھی منسلک ہوتی ہے..کراچی کے شہریوں کے لیے تیز رفتار اور ٹریفک جام سے بہت حد تک آزاد سڑکیں بہت ضروری تھیں یہ معمولی کام نہیں ہے جیسا شاید دنیا کے دوسرے شہروں کے لیے ہوں گی. مجھے نہیں معلوم آپ نے سابقہ ناظم اور موجودہ ناظم کی شہر کے مسائل پر بات سنی ہے یا نہیں لیکن جسطرح کراچی شہر کی ذمہ داری بانٹی گئی ہے اور جس طرح فوجی اور شہری اداروں میں کھینچا تانی چلتی ہے اس صورت حال میں چند پراجیکٹس جیسے کے کارساز فلائی اوور اور پی این ایس کارساز کے آس پاس کے پورے علاقہ میں تعمیرات کسی معجزہ سے کم نہیں.

    • اس سلسلے میں گزشتہ ناظم نے 'اسٹیک ہولڈرز' سے جس طرح پیسہ نکلوایا وہ واقعی ایک کارنامہ تھا۔ آج قائد آباد کا فلائی اوور اسٹیل مل، کے پی ٹی انڈر پاس کراچی پورٹ ٹرسٹ، زیر تعمیر بیس فیصل فلائی اوور پاک فضائیہ اور دیگر منصوبے متعلقہ اداروں کے پیسوں سے بنے ہیں۔ یہ دراصل شہری حکومت کی اس قائل کرنے کی مہم کا نتیجہ تھا جو شہری حکومت نے چلائی کہ آپ شہر کے بنیادی ڈھانچے کو استعمال کرتے ہوئے بہت کچھ حاصل کرتے ہیں اس لیے یہ آپ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ اس ڈھانچے کو بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔

  6. arifkarim says:

    شاندار۔ کراچی کا شمار بھی جلد جدید شہروں میں ہونے لگے گا۔

  7. نعمان says:

    راشد راستے سمجھنے میں تو کبھی کبھی کراچی میں رہنے والوں کو بھی پریشانی ہوجاتی ہے۔ اب کی چودہ اگست کو جب میں فیملی کے ساتھ لانگ ڈرائیو پر نکلا تو اسٹیڈیم روڈ والے فلائی اوور کے پاس جاکر کنفیوز ہوگیا کہ کہاں سے نکلوں۔ پھر لوٹ کر اسٹیڈیم روڈ پر آگیا جب کہ مجھے فلائی اوور سے کارساز اور پھر شاہراہ فیصل پر نکلنا تھا۔

  8. نعمان says:

    گوندل صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ کراچی میں صرف فلائی اوور اور انڈر پاس ہی نہیں بنے ہیں اور بھی بہت کام ہوئے ہیں جیسے نکاسی و فراہمی آب کا نظام، ماسٹرپلان کی تیاری، پارک، ہسپتال، شہری حکومت کی آمدنی میں اضافہ، اور آئی اون کراچی جیسے پروگرام ان کا ذرا مطالعہ فرمائیں، امید ہے افاقہ ہوگا۔

    • اصل میں اوپر کی تصاویر میں صرف فلائی اوور اور انڈر پاس اس لیے دکھائے ہیں کیونکہ فضائی تصاویر میں یہ تعمیرات زیادہ واضح انداز میں نظر آتی ہیں۔ اب گوگل میپس پر ہم کراچی میں نکاسی و فراہمی آب کے نظام میں ہونے والی ترقی تو دیکھنے سے رہے۔ علاوہ ازیں پارکوں اور اسپتالوں کے ضمن میں بہت کام ہوا ہے اور بلاشبہ کہا جاسکتا ہے کہ آج کا کراچی 2000ء کے کراچی سے بالکل مختلف ہے۔

  9. بہت خوب!

    ایک اچھا انفرا اسٹرکچر ایک اچھی تعمیر کے لئے بہت ضروری ہے سو کراچی کی موجودہ ترقی یقیناً خوش آئند ہے.

    جاوید صاحب کا بیان اپنی جگہ درست لیکن جس میدان میں بہتری کے آثار نظر آتے ہیں اُسے بھی ضرور سراہنا چاہیے تاکہ کام کرنے والوں کو مزید کی تحریک ملے .

  10. فرحان دانش صاحب، راشد کامران صاحب، نعمان صاحب، محمداحمد صاحب اور ابو شامل صاحب۔

    صاحبان!آپ کی باتوں سے خلوص جھلکتا ہے۔ اللہ تعالٰی آپ سب کو جزائے خیر عطا کرے ۔
    اللہ تعالٰی پاکستان اور ہمارے شہروں کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا کرے۔آمین

  11. امید says:

    ہت خوب ۔ ۔ بہت اچھا سا لگ رہ اہے اپنے شہر کو یون دیکھنا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.