تمنائیں زیر و زبر

ہمارے ایک بزرگ اور محترم کالم نگار نے چند روز قبل جو دانشوری کے گل بکھیرے ہیں وہ اس امر کے غماز ہیں کہ زائد العمری کے باعث ان کا دماغ کچھ چل گیا ہے یا پھر دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ان کے کالمز کوئی نو آموز لکھ رہا ہے اور ان کی مٹی پلید کرا رہا ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ موخر الذکر بات درست ہے۔ 17 جولائی 2009ء کو روزنامہ جنگ کراچی میں ارشاد احمد حقانی صاحب نے "عربی کی لازمی تعلیم فی الفور ختم کی جائے" کے عنوان سے جو "تمنا" کی ہے ذرا اسے ملاحظہ کیجیے۔ اس کالم کے ایک ایک جملے سے ناتجربہ کاری و لا علمی جھلک رہی ہے۔ خیر میں ناچیز اس کالم کا کیا جواب دوں کہ یہ فریضہ محترم ابو نثر نے انجام دیا ہے اور کیا خوب دیا ہے۔ گو کہ سفیر احمد صدیقی (روزنامہ جنگ) بھی اس کا جواب دے چکے ہیں لیکن وہ اس کالم کو کچھ زیادہ ہی سنجیدہ لے گئے جبکہ ابو نثر نے اُسی انداز تحریر کو ان پر پلٹایا ہے اور نام نہاد دانشوری کی دھجیاں بکھیری ہیں۔ ملاحظہ کیجیے پہلے محترم ارشاد احمد حقانی کی عربی پر تنقید (یہ کالم میں نے من و عن یہاں چھاپا ہے، اس میں املا کی اغلاط دراصل محترم بزرگ ہی کا کارنامہ ہیں)

عربی کی لازمی تعلیم فی الفور ختم کی جائے

("حرف تمنا" ارشاد احمد حقانی، روزنامہ جنگ کراچی، 17 جولائی2009ء)

محترم قارئین! ادھر کچھ عرصہ سے بوجہ علالت طبع میرے لئے کالم لکھنا ممکن نہیں ہوا۔ اچھا ہوا کہ آپ ایک ناگوار زحمت سے بچ گئے۔ اگرچہ میں اب بھی علیل ہوں لیکن آج ایک ایسا مسئلہ میرے سامنے ہے کہ میں اپنی علالت کے باوجود اس پر لکھنے پر مجبو ر ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ادھر کچھ عرصے سے بعض محب وطن لیکن نادان لوگوں نے سکولوں کے بچوں اور بچیوں کے لئے عربی زبان کی تعلیم لازمی کر دی ہے۔ ہمارے بچوں اور بچیوں کے لئے پہلے ہی اردو، انگریزی یا کوئی ایک مادری زبان پڑھنا لازمی ہے۔ پوری دنیا کے ماہرین تعلیم تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں اور بچیوں کے لئے بہترین ذریعہ تعلیم ان کی مادری زبان ہی ہوسکتی ہے لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا بعض محب وطن لیکن نادان لوگوں نے سکولوں کے بچوں بچیوں کے لئے عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ ہمارے پاس عربی پڑھا سکنے والے اساتذہ تو شاید موجود ہوں لیکن عربی کی تعلیم حاصل کرنا بچوں کیلئے کار دارد کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کیلئے گویا یہ جوئے شیر لانے کے ہم معنٰی ہے، غالب کہتا ہے کہ:

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اٹھایا تھا کہ گھر یاد آیا

بچوں اور بچیوں کو عربی کی لازمی تعلیم دینا گویا بچوں اور بچیوں کو بقول غالب سنگ اٹھانے پر مجبور کرنا ہے۔ میں نے اپنے گھر میں بچوں اور بچیوں کو دیکھا ہے کہ سخت محنت کرنے اور مغز ماری کے باوجود عربی زبان کو سمجھنے کے حوالے سے کچھ ان کے پلے نہیں پڑتا۔ وہ اپنے ماں باپ سے کہتے ہیں کہ یہ کیا مصیبت ہم پر مسلط کر دی گئی ہے لیکن نام نہادماہرین تعلیم ہیں کہ بچوں کو ان کے کچھ نہ سمجھنے کے باوجودعربی پڑھانے پر تلے ہوئے ہیں گویا ان کی کیفیت یہ ہے کہ :

زبان یار من ترکی ومن ترکی نمے دانم

عین ممکن ہے کہ کچھ بچوں اور بچیوں کو عربی زبان کی کچھ شد بد بھی آجاتی ہو لیکن ایسی شد بد کا کیا فائدہ جو انہیں کوئی بھی کام کرنے کے قابل نہ بنا سکے۔ عربی زبان کی تعلیم حاصل کرکے وہ نہ تو دنیا کا کوئی کام کرسکتے ہیں نہ دین کا۔ میرا خیال ہے کہ عربی کو بچوں بچیوں کے لئے لازم قرار دینے کافیصلہ غالباً جنرل شیر علی خاں مرحوم کے زمانے میں ہوا تھا۔ وہ نظریہ پاکستان کے بہت بڑے علمبردار بنتے تھے۔ انہوں نے جنرل یحییٰ خان سے اس کے لئے بڑے فنڈز لئے اور انہیں عربی پڑھانے پر صرف کیا۔ میرے لئے یہ سمجھنا آسان نہیں کہ انہوں نے یہ کام کیوں کیا اور کس کے کہنے پر کیا ۔ دنیا چاند تک پہنچ گئی ہے اور ہم اپنے بچوں کو عربی پڑھا رہے ہیں۔ پورے مغرب میں سائنس کا دور دورہ ہے انہوں نے یہ کام عربی پڑھ کر تو نہیں کیا۔ عربی پڑھنا سعودی عرب، مصر، شام، اردن اور دوسرے عرب ممالک کے لئے تو قابل فہم ہے اور وہ اس میں کمالات بھی دکھا سکتے ہیں اور انہوں نے کمالات دکھائے ہیں۔عرب دنیا کاتمام نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے سعودی عرب نے بڑے پیمانے پر گندم اگانا شروع کر دی ہے حالانکہ بقول قرآن اس وادی غیر ذی زرع میں اس سے پہلے کچھ بھی نہ تھا۔ پہاڑ ہی پہاڑ تھے۔ بڑے بڑے صحراً تھے جس کا حال جرمن نو مسلم علامہ محمد اسد نے اپنی کتاب ”دی روڈ ٹو مکہ“ میں بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب ہم صحراؤں میں سفر کرتے تھے تو ریت کے بڑے بڑے ٹیلے (Drones???)بن جاتے تھے جن میں مسافر کے لئے راہ تلاش کرنا قریب قریب ناممکن ہو جاتا تھا۔ ہر وقت انہیں اپنے پاس پانی کا ذخیرہ رکھنا پڑتا تھا۔ اپنی اسی کتاب میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ تازہ کافی کی خوشبو اتنی مسحورکن ہوتی تھی جیسے ایک نوجوان خاتون سے بغل گیر ہونا۔ تو یہ تھی اس وقت جزیرہ عرب کی حالت۔ مولانا الطاف حسین حالی نے اس کا نقشہ یوں کھینچا ہے:

بہائم کی اور ان کی حالت ہے یکساں
کہ جس حال میں ہیں اسی میں ہیں شاداں
نہ ذلت سے نفرت نہ عزت کا ارماں
نہ دوزخ سے ترساں نہ جنت کے خواہاں
لیا عقل و دیں سے نہ کچھ کام انہوں نے
کیا دین برحق کو بدنام انہوں نے

تو عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عربی عربوں کی زبان ہے۔ بلاشبہ عربی ایک انتہائی فصیح و بلیغ زبان ہے اور اچھی خاصی مشکل بھی۔ اس کی گرامر کو سمجھنا عربوں کا کام ہے ہمارے نوجوان بچوں اور بچیوں کا نہیں۔ وہ لاکھ مغز کھپائیں یہ کام نہیں کرسکتے اردو کا ایک مقولہ ہے جس کا کام اسی کو ساجے۔دوسرا کرے تو ٹھینگا بھاجے۔ معلوم نہیں ہم کیوں تلے ہوئے ہیں کہ ہمارا بھی ٹھینگا بھاجے۔ ہمیں ان لوگوں سے جان چھڑانی چاہئے جو ہم پر عربی ایک لازمی مضمون کے طور پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک عجمی پودا عجمی زمین میں پھل پھول نہیں سکتا، برگ و بار نہیں لاسکتا۔ دنیا میں عقل عام (Common Sense)بھی کوئی چیز ہے اگرچہ کہتے ہیں کہ:

Common Sense is the most uncommon Phenomenon
ترجمہ:عقل عام سب سے نایاب چیز ہے“

عقل عام کے ادنیٰ ترین تقاضوں کو سمجھنا چاہئے اور عربی زبان کو ایک لازمی مضمون کے طور پر ختم کر دینا چاہئے ایسا ہوا تو بچوں اور بچیوں کے سر سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر جائے گا اور ان کے والدین حکومت کو دعائیں دیں گے۔ ہاں عربی زبان کو ایک آپشنل (اختیاری بمقابلہ) لازمی زبان کے طور پر رکھ لیا جانا ایک مستحسن فیصلہ قرار پائے گا۔

----------------------------------------------------------------------------------------------

یہاں ارشاد احمد حقانی کا شاہکار کالم ختم ہوتا ہے اور یہیں سے دوسرے شاہکار کا آغاز ہوتا ہے جو روزنامہ جسارت کراچی کے ممتاز کالم نگار ابو نثر نے تحریر کیا ہے۔ یہ کالم حقانی صاحب کی "زمین" پر ہی لکھا گیا ہے 🙂 ذرا ملاحظہ کیجیے:

"عربی کی لازمی تعلیم فی الفور ختم کی جائے"

("زیر و زبر" ابو نثر، روزنامہ جسارت کراچی، 21 جولائی 2009ء)

محترم قارئین ادھر کچھ عرصہ سے بوجۂ علالتِ ذہنی میرے لیے کالم لکھنا ممکن نہیں ہوا۔ اچھا ہوا کہ آپ ایک ناگوار زحمت سے بچ گئے۔ اگرچہ میں اب بھی ذہنی طور پر علیل ہوں‘ لیکن آج ایک ایسا مسئلہ میرے سامنے ہے کہ میں اپنی ذہنی علالت کے باوجود اس پر لکھنے پر مجبور ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ادھر کچھ عرصہ سے بعض محب وطن لیکن نادان لوگوں نے اسکولوں (جسے میں ہمیشہ سُکولوں کہتا‘ لکھتا اور پڑھتا آیا ہوں) کے بچوں اور بچیوں کے لیے عربی زبان کی تعلیم لازمی کردی ہے۔ ہمارے بچوں اور بچیوں کے لیے پہلے ہی انگریزی پڑھنا لازمی ہے۔ بلکہ ابتدائی جماعتوں سے تمام مضامین انگریزی میں پڑھنا اُن پر فرض ہے۔ پوری دُنیا کے ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں کے لیے بہترین ذریعہ تعلیم اُن کی مادری زبان ہی ہوسکتی ہے۔ پس انگریزی سے زیادہ مامتا بھری مادری زبان بھلا اورکون سی ہوسکتی ہی؟ ہمارے پاس انگریزی پڑھا سکنے والے اساتذہ توشاید موجود ہوں لیکن عربی کی تعلیم حاصل کرنا بچوں کے لیے ” کارے دارد“ (جسے میں کاردار صاحب سے متاثر ہونے کی وجہ سے ہمیشہ” کاردارد“ لکھتا‘ پڑھتا اور بولتا آیا ہوں) کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے لیے گویا یہ جوئے شیر لانے کے ہم معنی ہے‘ غالب کہتا ہے کہ:

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اُٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

بچوں اور بچیوں کو عربی کی لازمی تعلیم دینا گویا بچوں اور بچیوں کو بقولِ غالب سنگ اُٹھانے پر مجبور کرنا ہے (وہ بھی انگریزی کے مجنوؤں پر)۔ میں نے اپنے گھر میں بچوں اور بچیوں کو دیکھا ہے کہ سخت محنت کرنے اور مغز ماری کے باوجود عربی زبان کو سمجھنے کے حوالے سے کچھ اُن کے پلے نہیں پڑتا۔ وہ اپنے ماں باپ سے (جس میں سے ایک میں بھی ہوں) کہتے ہیں کہ یہ کیا مصیبت ہم پر مسلط کردی گئی ہے۔ حالاں کہ ”مصیبت“ اور ”مسلط“ بھی عربی کے الفاظ ہیں۔ خود میرے نام کا ایک ایک لفظ عربی میں ہے چناں چہ میرا نام بھی کبھی اُن کے پلے نہیں پڑتا۔ میرے بعض بچوں کے اپنے نام بھی عربی الفاظ میں ہیں‘ لہٰذا خود اپنا نام بھی ان کے پلے نہیں پڑتا۔ حتیٰ کہ میں نے یہ ”لہٰذا“ لکھنے کے بعد جو ”حتیٰ“ لکھ دیا ہے‘ یہ بھی اُن کے پلے نہیں پڑتا۔ پھر اوپر جو.... علالت‘ علیل‘ مسئلہ‘ محب‘ وطن‘ تعلیم‘ لازمی‘ جماعت‘ مضامین‘ دُنیا‘ ماہرین‘ تسلیم‘ ذریعہ‘ اساتذہ‘حیثیت‘ معنی‘ بقول.... وغیرہ وغیرہ میں نے استعمال کیے ہیں (بشمول وغیرہ وغیرہ اور استعمال .... بلکہ یہ ”بشمول“ بھی) عربی النسل ہونے کی وجہ سے ہمارے بچوں کے کچھ بھی پلے نہیں پڑتا۔ جبکہ مادری زبان انگریزی خوب پلے پڑتی ہے۔ کبھی میں نے نہ ہمارے ان بچوں نے اپنی مادری زبان انگریزی کو مصیبت تو کیا ”مِزری“ تک نہیں قرار دیا اور کبھی اپنے اوپر اِسے مسلط تو کیا ”امپوزڈ“ تک نہیں جانا۔ اِس کے برعکس انگریزی کی مشکل سے مشکل اور اَدق سے اَدق اصطلاحات کو ہم اپنے پلّے اور پلُّو میں اس طرح باندھ لیتے ہیں گویا یہ الفاظ اُن کو شیرِ مادر میں ”انجیکٹ“ کرکے اُن کے رگ و ریشے میں دوڑا دیے گئے ہوں۔

عین ممکن ہے کہ کچھ بچوں اور بچیوں کو عربی زبان کی کچھ شُدبُد بھی آجاتی ہو (بعض عربی دان اِسے ”شُدھ بُدھ“ بھی لکھتے ہیں‘ مگر میں نے ان ہندی الفاظ کو بھی عربی بنالیا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ.... کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!) لیکن ایسی شُدبُد کا کیا فائدہ جو انھیں کوئی بھی کام کرنے کے قابل نہ بناسکے۔ عربی زبان کی تعلیم حاصل کرکے وہ نہ تو دُنیا کا کوئی کام کرسکتے ہیں نہ دین کا۔ یہاں دُنیا سے میری مُراد ظاہر ہے کہ نوعِ انسانی کی فراخ اور کشادہ دُنیا نہیں۔ مغرب اور اس کے غلاموں کی مفاد بھری دُنیا یعنی اپنی نفسانی خواہشات کی تنگ و تاریک دُنیا ہے‘ اور دین سے مُراد مذہب ِ گوسفنداں ہے۔ ورنہ بعض بے وقوف تو مجھ سے مشورہ کیے بغیر ہی دُنیا کمانے کے لیے بھی عربی سیکھ بیٹھتے ہیں اور تیل بھری دُنیائے عرب میں جاکر وہ دُنیاکماتے ہیں‘ وہ دُنیا کماتے ہیں کہ آج تک اتنی دُنیا تو میں خود بھی نہیں کماسکا۔

عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنے والے احمق بلکہ حمقاء افریقا سے لے کر خلیج اورمشرقِ وُسطیٰ کے ممالک سمیت تمام عرب ممالک کو دُنیا کا حصہ سمجھتے ہیں۔ بھلا وہ دُنیا بھی کوئی دُنیا ہے۔ دُنیا تو فقط وہ ہے جہاں میرے گھرکے بچوں کی مادری زبان انگریزی کی تعلیم لازمی قرار دی جاسکے۔ رہا دین کا کام.... تو دیکھیے کلمہ توحید اورکلمہ شہادت عربی میں ہے‘ قرآن عربی میں ہے‘ احادیث عربی میں ہیں‘ قرونِ اُولی کے (یہ الفاظ بھی عربی میں ہیں) تمام محققین کی تحقیقات اور تصنیفات عربی میں ہیں۔ اذان عربی میں ہے‘ نماز عربی میں ہے‘ حتیٰ کہ راقم الحروف کی (یہ بھی عربی الفاظ ہیں) نمازِ جنازہ بھی عربی میں پڑھائی جائے گی۔ ان میں سے کوئی چیز بھلا کبھی میرے گھرکے بچوں کے پلے پڑی ہے جو اب پڑے گی؟ مجھے افسوس ہے کہ قرآن میرے کالم نگار بننے‘ بلکہ میرے پیدا ہونے سے بھی چودہ سوسال پہلے نازل کیا جاچکا تھا‘ اگر میرے پاکستان کے سب سے زیادہ بِکے ہوئے اخبار کا سب سے بڑاکالم نگار بننے کا انتظارکرلیا گیا ہوتا تو میں بذریعہ کالمِ ہٰذا اﷲ تعالیٰ کو یہ مفید مشورہ دے سکتا تھا کہ قرآن کو بھی انگریزئ مبین میں نازل کیا جائے‘ جوکہ میرے گھر کے بچوں کی مادری زبان ہے۔

میرا خیال ہے کہ عربی کو بچوں اور بچیوں کے لیے لازم قرار دینے کا فیصلہ غالباً جنرل شیرعلی خان مرحوم کے زمانے میں ہوا تھا۔ وہ نظریہ پاکستان کے بہت بڑے عَلم بردار بنتے تھے۔آپس کی بات ہے‘ میرے خیال میں نہیں بلکہ میرے علم میں یہ بات ہے کہ سب سے پہلے سرآغا خان نے قائدِاعظمؒ کو مشورہ دیا تھا کہ پاکستان کی سرکاری زبان عربی قرار دی جائے۔ وہ بھی تحریک ِ پاکستان کے بہت بڑے لیڈر بنتے تھے۔ مگر میں نے جان بوجھ کر اِس بات کا ذکر آپ سے نہیں کیا۔ میرے لیے یہ سمجھنا آسان نہیں کہ اُنھوں نے یہ کام کیوں کیا اور کس کے کہنے پر کیا۔ دُنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور ہم اپنے بچوں کو عربی پڑھا رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے بچوں کو عربی نہ پڑھا رہے ہوتے تو آج ہم بھی چاند پر پہنچے ہوئے ہوتے۔ اور زیرِ نظر کالم آپ وہیں پر معلق ہوئے پڑھ رہے ہوتے۔ ایک امریکا کو چھوڑکر دُنیا کی بقیہ تمام اقوام اپنے اپنے بچوں کو ایک آدھ لفظ عربی کا ضرور بالضرور پڑھا بیٹھی ہوں گی تبھی تو وہ بھی چاند پر نہیں پہنچ سکیں۔

پورے مغرب میں سائنس کا دور دورہ ہے۔ اُنھوں نے یہ کام عربی پڑھ کر تو نہیں کیا۔ اب آپ یہ نہ کہہ بیٹھیے گا کہ چین‘جاپان اورکوریا میں بھی سائنس کا دور دورہ ہے‘ اُنھوں نے یہ کام انگریزی پڑھ کر تو نہیں کیا۔ کیوں کہ ہمیں اُن لوگوں سے جان چھڑانی ہے جو ہم پر عربی ایک لازمی مضمون کے طور پر مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘ نہ کہ اُن لوگوں سے جو ہما رے بچوں کے منہ میں انگریزی ایک مادری زبان کی حیثیت سے بڑی محبت سے ”ٹرانسپلانٹ“ کررہے ہیں۔ ایک عربی پودا عجمی زمین میں پھل پھول نہیں سکتا‘ برگ وبار نہیں لاسکتا۔ مگر ایک فرنگی پودا ایک اِسلامی جمہوریہ کی نئی پود اوراُس کے ”ماں باپ“ کا دِل گارڈن گارڈن کرسکتا ہے۔
دُنیا میں عقلِ عام (عربی) (Common Sense) (انگریزی) بھی کوئی چیز ہے۔ اگرچہ (انگریزی میں) کہتے ہیں:

Common sense is most uncommon phenomenon
ترجمہ : عقلِ عام (عربی) سب سے نایاب چیز ہے۔

(انگریزی کا اتنا لمبا فقرہ میں نے محض آپ کو یہ دکھانے کے لیے لکھا ہے کہ دیکھیے ایک فرنگی فقرہ عجمی زمین پر کیسا پھلا پھولا اور کتنے برگ و بار لایا ہے۔ ورنہ اہل فرنگ تو باہم بس اتنا ہی کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ:

Common Sense is not common.

عقلِ عام (عربی) کے ادنیٰ ترین تقاضوں(عربی) کو سمجھنا چاہیے اور عربی کو ایک لازمی مضمون کے طور پر فی الفور (یعنی عربی ہی میں) ختم کردینا چاہیے۔ ہاں عربی کو ایک آپشنل (اختیاری بمقابلہ) لازمی زبان کے طور پر رکھ لیا جانا ایک مستحسن (عربی) فیصلہ قرار پائے گا۔ البتہ اِس قسم کا کلمہ کفر انگریزی کے بارے میں کبھی نہیں بکا جاسکتا۔ اُمید ہے کہ میرا یہ کالم پڑھ کر اب تک آپ بھی ذہنی طور پر اچھے خاصے علیل ہوچکے ہوں گے۔ یہ بھی عربی کی وجہ سے ہے۔ اگر عربی زبان دُنیا میں سرے سے موجود ہی نہ ہوتی تو دُنیا میں ”علالت“ ہوتی نہ آپ ”علیل“ ہونے پاتے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

27 تبصرے

  1. ہم بھی اسی بات کے قائل ہیں کہ پڑھائی اپنی مادری زبان میں ہونی چاہیے مگر جب ہمارے آقا انگریز ٹھہرے تو پھر ان کی بات سمجھنے کیلیے ہمارا انگریزی جاننا ضروری ہے اور اس کی آرزو میں ہمارے حکمران مرے جارہے ہیں.

  2. بہت اعلیٰ بھئی. ابونثر نے محفل لوٹ لی

  3. سائنسی نقطہ نگاہ سے اگر اس چیز کا تجزیہ کریں تو تحقیقات سے یہ بات ثابت ہے کہ انتہائی کم عمری میں ایک سے زیادہ زبانوں کا سیکھنا بچوں کے لیے انتہائی آسان بات ہوتی ہے. دو سے زیادہ زبانوں کا ریفرنس نہیں مل سکا لیکن ذیل میں دو زبانوں کے بارے میں ویب ایم ڈی کا لنک پیش خدمت ہے. جبکہ یہ بھی سنا ہے کہ بچے دو سے زیادہ زبانیں بھی چھوٹی عمر میں سیکھ کر بالکل اہل زبان کی طرح بول سکتے ہیں.
    http://www.webmd.com/baby/news/20021104/never-too-early-to-learn-second-tongue?pagenumber=2

    ارشاد احمد حقانی صاحب کا کالم نظر سے گزرا تھا اور مجھے افسوس ہوا کے اساتذہ کی قابلیت کے بجائے انہوں نے انسانی ذہن کو ہدف تنقید بنایا حالانکہ سائنسی نقطہ نگاہ سے ایک سے زیادہ زبان سیکھنا ممکن ہے. ابو نثر صاحب نے غالبا جواب آں غزل کی وجہ سے انگریزی کو ہدف تنقید بنا ڈالا حالانکہ وہ سائنسی حوالوں سے اپنا موقف زیادہ اچھی طرح بیان کرسکتے تھے. بیرون ملک مقیم لوگوں کے لیے تو ایسے بچوں کا مشاہدہ عام ہے جو اردو اور انگریزی یکساں مہارت سے بولتے ہیں. یا اردو اور عربی یکساں مہارت سے بولتے ہیں.

  4. ایک سیمینار میں بیٹھنے کا موقع ملا تھا یونیورسٹی میں، موضوع زبان تھا اور مقرر کوئی یونیسکو کے نمائندے،
    انھوں نے کئی حوالوں، تکنیکوں اور ریسرچ کی بنیاد پر یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ کوئی بھی بچہ اپنی مادری زبان کے علاوہ چار زبانیں باآسانی سیکھ اور بول سکتا ہے- یعنی کل ملا کر پانچ. شرط یہ ہے کہ درست طریقہ سے سکھائی جائیں، اور صحیح انداز میں سیکھی جائیں تو........ تو حال دیکھ لیں کیسے سکھائی جاتی ہیں ہمارے تعلیمی نظام میں زبانیں.

  5. یہاںبھی معاملہ یہ ہے کہ عربی زبان کو مذہب سے جوڑ کر اب اپنا خون جلایا جا رہا ہے کہ یہ گستاخی کیوں کی گئ. شکر ہے گستاخی عربی زبان کا کوئ قانون موجود نہیں ہے. ورنہ حقانی صاھب کو اس عمر میں لگ پتہ جاتا.مجھے بھی چند دفعہ ملک سے باہر جانے کا اتفاق ہوا. حالت یہ ہے کہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی اکثریت کے بچے اردو یعنی اپنی مادری زبان سے ناواقف ہیں. کینکہ انکے ماحول میں بولی جانیوالی زبان انگریزی ہے. یہ بچے جب تک عمر کے ان ھصوں میں ہوتے ہیں جبتک اپنے گھر کی ھدوں سے نہیں نکلتے اردو بولتے ہیں. لیکن جب ان کا اپنے ماھول کے ساتھ عمل دخل بڑحتا ہے تو رفتہ رفتہ اپنے گھر میں بولی جانےوالی زبان بھول جاتے ہیں. اور اسے ترجیح نہیں دیتے. بچوں کا سیکھنے کی صلاھیت رکھنا ایک الگ قصہ ہے اور کسی بھی زبان کو سیکھنے اور سکھانے کے جو لوازمات ہوتے ہیں انہیں پورا کرنا ایک الگ کہانی ہے.میں اپنی بچی کو اچحی اردو اور انگریزی سکحانا چاہتی ہوں اس لئے گھر میں اردو بولنے کا اہتمام رکھتی ہوں لیکن نتیجے میں اسکا رحجان انگریزی کی طرف نہیں ہےھالانکہ میں کچھ وقت مخصوص کر کے اسے اس زبان سے بھی آشنا کرنے کی کوشش کرتی ہوں. اب اگر اسکول میں اس طرف توجہ نہیں دی گئ تو اسے اس زبان کو سمجھنے میں مشکل ہوگی. دو زبانیں یا چار زبانیں سکھانا یہ ایک محنت طلب کام ہے محض کاغذ پر لکھ دینے سے کچھ جذباتی لوگوں کی تسلی ہو جائے تو ہوجائے اسکا فائدہ کچھ نہیں سوائے وسائل ضایع کرنے کے. میں نے پورے دس ،گیارہ سال سندھی پڑھی لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر نہ پڑھتی تو بھی اتنی ہی سمجھ میں آتی جتنی آج آتی ہے.حالانکہ سندھی پڑھانے والوں کو اس ضمن میں پوری تنخواہ دی گئ ہوگی.
    آج اردو بولنے والے یا سمجھنے والے لوگ عربی بولنے اور پڑھنے والے لوگوں سے کہیں زیادہ ہیں لیکن کبھی آپ نے غور کیا کہ ہم کوئ بھی چیز باہر سے خریدیں اسپر عربی میں تو معلومات ہوتی ہیں لیکن اردو میں نہیں ملتیں. اسکی کیا وجہ ہے کوئ بتا سکتا ہے. حتی کہ بلاگسپاٹ پر سپورٹ عربی کے لئے ہے مگر اردو کے لئے نہیں ایسا کیوں نہیں ہے.
    انگریزی زبان کوسمجھنے کی استعداد رکھنے کی کی دس دوسری وجوہات ہیں.مجھے نہیں معلوم کہ اس پر بھی اتنا خفا ہونے کی کیا ضرورت ہے.اصل بات یہ ہے کہ بنیادی تعلیم ضرور بالضرور مادری زبان میں ہونی چاہئیے، چاہے وہ پنجابی ہو یا سندھی. اور فرد کو اس بات کا اختیار ہونا چاہئیے کہ وہ اپنی مرضی سے جتنی اور زبانیں سیکھیں. اسکے لئے اسکول کے کورسز میں اختیاری زبانوں کے کورسز ہونے چاہئیں..ویسے ایک بات ابو نثر صاھب سے ضرور پوچھنا چاہونگی کہ جب آغا خان نےقائد اعظم کو یہ صائب مشورہ دیا تو انہوں نے اس پر فی الفور عمل کیوں نہ کیا. اور کیوں مشرقی پاکستان پہنچ کر یہ تقریر کر ڈالی کہ پاکستان کی سرکاری زبا ن صرف اردو ہوگی.اس سے نہ صرف آغا خان کے الفاظ ضائع گئے بلکہ عربی زبان کی بھی کوئ خدمت نہ ہو سکی.اور نہ اسلام کی.

  6. خرم says:

    سمجھ نہیں آتی کہ پاکستانی ہمیشہ دوسری زبانوں کے معاملہ میں ہی کیوں جھگڑتے رہتے ہیں؟ کوئی کہتا ہے کہ انگریزی کے بغیر ترقی نہیں تو کوئی کہتا ہے کہ عربی سیکھے بغیر بخشش نہیں۔ ہمعارے معاشرہ میں بچہ قرآن ناظرہ پڑھنا سیکھتا ہے، سورتیں یاد کرتا ہے، پھر اسلامیات کے نصاب میں احادیث اور سورتیں معنی کے ساتھ سکھائی جاتی ہیں۔ اس سب کچھ کے ہوتے ہوئے عربی کو لازمی زبان بنانا کیونکر ضروری ہے؟ آخر ہم غیر زبانوں پر ہی کیوں اتنی مشقت کرتے ہیں؟ کبھی یہ نہیں کہا کسی نے کہ بچوں کو اردو، ان کی مادری علاقائی زبان اور کم از کم ایک اور پاکستانی علاقائی زبان سیکھنا چاہئے تاکہ ہم اپنے آپ کو پہچانیں اور ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ عربی لازمی مضمون قرار دیئے جانے سے آپ نے عرب نہیں بن جانا جیسے کالے انگریز ایک صدی سے کوشش کرنے کے باوجود انگریز نہیں بن پائے۔ دین کا نام لیکر جذباتی بلیک میلنگ کرنا تو پرانا حربہ ہے لیکن کیا واقعی ہم مقررہ رواج سے ہٹ کر نہیں سوچ سکتے؟

  7. جعفر says:

    حقانی صاحب کو معاف کردیں ۔۔
    ان کا کالم پڑھنے کے لئے جتنی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے
    وہ پاکستانی عوام کی اکثریت کے پاس نہیں ۔۔۔
    اس لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں۔۔۔

  8. لو جی ! یار لوگوں نے اسے پھر نزاع کا معاملہ بنا ڈالا۔ اگر عربی کو مذہبی معاملہ سمجھ کر دل جلایا جا رہا ہوتا تو شاید اسے اتنا مزاحیہ انداز میں نہ لیا جاتا، اس لیے کم از کم اس کالم میں سنجیدگی کا کوئی پہلو نہ ڈھونڈیں 🙂 ارشاد احمد حقانی کے کالم کے لطیفے ہی کافی ہیں۔
    میرا پاکستان! ہم بالکل آپ کی رائے سے متفق ہیں کہ تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہئے۔
    راشد کامران صاحب! میری اہلیہ اردو اسپیکنگ ہیں، جبکہ میں سندھی۔ میرے گھر میں سندھی ہی بولی جاتی ہے۔ میرا بڑا بیٹا تقریباً تین سال کا ہے جو دونوں زبانیں بخوبی بولتا ہے۔ کبھی کبھار میں اس کی زبانوں کے درمیان پلٹنے کی صلاحیت پر بہت حیران ہوتا ہوں کہ امی سے اردو بولتے بولتے اچانک روئے تخاطب دادی کی طرف ہوگا اور پھر وہی بات سندھی میں۔ یہ تو ایک عام سا مشاہدہ ہے۔ سائنسی نقطہ نگاہ سے اگر اسے دیکھا جائے تو بہت ساری باتیں واضح ہو جائیں گی۔
    عمر بنگش! ہم ایک زبان ہی سیکھ جائیں بڑی بات ہے۔ میرے ایک دوست کہتے ہیں کہ حقیقت میں ہمیں ایک زبان بھی نہیں آتی بلکہ ہم اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے کے لیے مختلف زبانوں کو استعمال کرتے ہوئے ایک ملغوبہ بناتے ہیں۔ اب بات کس کو کتنی سمجھ آتی ہے؟ یہ اللہ جانتا ہے۔
    عنیقہ صاحبہ! عربی زبان کو مذہب سے نہیں جوڑا گیا اس لیے آپ بھی اپنا خون مت جلائیں۔ ویسے آج پہلی مرتبہ سن رہا ہوں کہ بچوں کو زبان سیکھنے کے لیے بھی "لوازمات" درکار ہوتے ہیں جنہیں "پورا" کرنا ضروری ہے۔ میرے خیال میں تو ایک لوازمہ ہی کافی ہے جسے "ماحول" کہتے ہیں۔ آپ جس زبان کا ماحول بچے کو مہیا کریں گے، بچہ آپ کی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے اس زبان میں مہارت حاصل کرے گا۔ زبان سیکھنا اس وقت مشکل ہوتا ہے جب آپ کا ذہنی سانچہ ایک یا دو زبانوں میں سیٹ ہو چکا ہو اور آپ کے لیے مزید گنجائش موجود نہ ہو مثلاً اب اگر میں ترکی زبان سیکھنا چاہوں گا تو مجھے زیادہ محنت کرنا پڑے گی بنسبت میرے صاحبزادے کے، جنہیں صرف ماحول درکار ہوگا اور وہ مجھ سے پہلے وہ زبان سیکھ جائیں گے۔ ایک اور اہم چیز زبان سیکھنے میں سنجیدگی بھی ہے، بچہ کیونکہ ہر بات کو سیکھتا ہے اس لیے وہ کسی بھی زبان کو بہت جلد سیکھ لیتا ہے۔ دور لیکن دور طالب علمی تک آتے آتے ایک خاص ذہنی سانچہ بن جاتا ہے اور ہر بات سیکھنے کا شوق بھی کم ہو جاتا ہے اس لیے ہم بہت سارے مضامین کو سنجیدگی سے نہیں لیتے بلکہ انہیں ٹالتے ہیں جیسا کہ آپ نے سندھی کا ذکر کیا۔ نتیجتاً جیسے ہی دور تعلیم ختم ہوا وہ تمام اسباق ذہن سے محو ہو جاتے ہیں۔ میں ابو نثر صاحب سے مل چکا ہوں اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ انگریزی سے برگشتہ نہیں ہیں، آپ شاید ان کے جواب کو زیادہ سنجیدہ لے گئی ہیں۔ رہا قائد اعظم والا معاملہ تو یہ بہت تفصیل طلب بحث ہے، جس پر جانے کا نہ وقت ہے نہ حوصلہ اور نہ مطالعہ۔ مختصر یہ کہ میں ذاتی حیثیت میں اسے قائد کے غلط فیصلوں میں سے ایک سمجھتا ہوں لیکن اس کے پیچھے بھی اُن کا اپنا وژن تھا۔
    خرم صاحب! انگریزی-اردو کا جھگڑا تو ہمیشہ سنا ہے، میری ناقص معلومات کے مطابق یہ ہمارے ہاں انگریزی-عربی کا پہلا "جھگڑا" ہے، اس لیے پاکستان کو بین اللسانی مقابلوں کا اکھاڑہ قرار نہ دیا جائے (مذاق)۔ اردو اور علاقائی زبان تو سکھائی ہی جاتی ہے حضور! یہاں سندھ میں میٹرک تک سندھی زبان پڑھنا لازم ہے حتیٰ کہ آپ بورڈ کے امتحانات انگریزی اور اردو کے علاوہ سندھی میں بھی دے سکتے ہیں۔ اگر آپ جذباتی بلیک میلنگ سے قطع نظر ہو کر دیکھیں تو عربی زبان کو لازمی قرار دینے کا ایک بہت بہت بڑا فائدہ ہوگا تو ہمارے ملاؤں کی تو چھٹی ہو جانی ہے، پڑھے لکھے لوگ خود ہی قرآن سمجھ کر پڑھ لیں گے، پھر انہیں کوئی لفٹ کرانے والا نہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ عربی پڑھ کر ہم نے عرب نہیں بن جانا۔
    جعفر! حقانی صاحب عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں انہیں معاف نہیں کیا جا سکتا 🙂

  9. کوئی سننے والا ہے کیا یہ سب؟

  10. جی ماحول اور ضرورت دو بڑے لوازمات ہیں. میرے ارد گرد کا ماحول اردو بولنے والوں کا ہے. مجھے اپنے بچوں کو کوء اور زبان سکحانے میں مشکل ہوگی. لیکن میرے وہ رشتےدار جو امریکہ، کینیڈا اور آستریلیا میں رہتے ہیں انکے ماحول میں انگریزی ہے اس لئے وہ بغیر سکھائے اسے نہ صرف سیکھ جاتے ہیں بلکہ بالکل وہاں کے لہجے میں بولتے ہیں. جن بچوں کے ماں باپ انگریزی بولنے اور سمجھنے کی استعداد رکھتے ہیں. انکے بچے اپنے والدین کی اردو میں کہی گئ بات کا جواب بھی انگریزی میں دیتے ہیں. جبکہ وہ والدین جو اسکی استعداد رکھتے نہیں رکھتے انکے بچے اردو یا اپنی مادری زبان بولنے میں کوئ دشواری مھسوس نہیں کرتے. اگر آپکے ماھول میں وہ زبان ننہ ہو جیسے کہ انگریزی یا عربیتو پحر اسے سکحانے کی تیکنکس ہوتی ہیں اور مھض کتابکھول کر پڑھانے سے زبان پر دسترس ھاصل نہیں ہوتی.انہیں مزید لوازمات کہتے ہیں:)

  11. لوازمات کی وضاحت کا بہت شکریہ عنیقہ صاحبہ!

  12. میرے خیال میں حقانی صاحب کو بے وجہ ہی تختہ مشق بنا لیا
    عین ممکن ہے کہ لوگ بلکہ لوگوں کی اکثریت ان کے خیالات سے متفق نا ہو
    لیکن حقانی صاحب جتنے سینئرصحافی اور بڑے بڑے نام ان کو استاد مانتے ہیں
    ابو نثر کو اس طرح کی تحریر زیب نہیں دیتی تھی
    اور میرے خیال میں ہمارے معاشرے میں اردو ہی وہ واحد زبان ہے جسکو سیکھ کر ہم ترقی کر سکتے ہیں
    اگر عربوں نے عربی پڑھ کر ترقی کی ہے تو انگریزوں نے بھی انگریزی پڑھ کر ترقی کی ہے
    جاپانیوں کورئین اور چینیوں نے بھی تو اپنی اپنی زبان پڑھ کر ترقی کی ہے
    نا ہی انہوں نے عربی پڑھی نا ہی انگریزی
    تو میں تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب ہم 60-65 سالوں میں انگلش پڑھا سکے نا عربی تو اردو بیچاری کا کیا قصور ہے؟
    اس کو بھی تو ایک موقع ملنا چاہئے نا

  13. محمداسد says:

    ارشاد احمد حقانی کے متعلقہ مضمون و موقف سے شدید اختلاف کے باوجود مجھے ابو نثر صاحب کا اختیار کردہ انداز مناسب نہیں لگا. موقف سے اختلاف کا صحافتی و مہذبانہ انداز وہ ہے کہ جو سفیر احمد صدیقی اور محمد بلال نے اختیار کیا.

  14. شروع کالم میں حقانی صاحب نے مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت واضح کی۔ اور یہ حوالہ بھی دیا کہ قوموں نے ترقی اپنی زبان کے بل پر کی۔ سوال یہ ہے کہ اگر پوائینٹ مادری زبان تھا تو پھر عربی کا تنکا حلق میں اٹکنے سے پہلے انگریزی کا شہتیر اتنی آسانی سے کیسے نگل لیا۔

    خیر حقانی صاحب وہ شخص ہیں کہ جن کی تمناؤں کا زیرو بم مرتعش رہتا ہے۔ کبھی ان کی تمنا ہوتی ہے کہ پاکستان مثالی اسلامی ریاست بنے اور اس کے لیے وہ عہد نبوی سے مثالیں لاتے ہیں۔ ایک دفعہ تو وہ جذبہ جہاد سے اتنے مغلوب تھے کہ پاکستانی عسکری قوتوں کو یہ یاد دلایا کیے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں چراغ کا تیل نہ تھا لیکن نو تلواریں موجود تھیں اور کبھی یہ حال کہ اسی نبی کی زبان اور خدا کے آخری کلام کی اتنی بھی اہمیت نہ رہی کہ اس سے براہ راست تعلق پیدا کرنے کے لیے نئی نسل کو اس سے روشناس کرایا جائے۔

    حقانی صاحب کی بددیانتی کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ انہوں نے گذشتہ سال یعنی سید مودودی کے انتقال کے برسوں بعد ان پر نوآبادیاتی نظام سے چشم پوشی کا الزام لگایا۔ حالانہ حقانی صاحب نے سید مودودی کو اپنی زندگی میں پایا اور ان سے ملاقاتوں کا ذکر بڑے فخر سے کرتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ یہ الزام سید مودودی کی زندگی میں ہی ان پر لگاتے۔ ان کی اس بددیانتی پر شاہ نواز فاروقی نے تبصرہ کیا تھا کہ حقانی صاحب اس وکٹ پر کھیلنے کے عادی ہی نہیں جس پر آؤٹ ہونے کا خدشہ ہو۔

  15. ڈفر صاحب! یہاں اختلافی شاہراہ کا سفر ہے۔ حقانی صاحب کو "بے وجہ" تختۂ مشق نہيں بنایا گیا۔ آپ ان کے الفاظ وغیرہ پر غور کریں خصوصاً یہ پڑھ کر تو میں پریشان ہو گیا کہ حیران ہوں کہ افسردگی کا اظہار کروں "دنیا چاند پر پہنچ گئی اور ہم عربی پڑھ رہے ہیں"۔ حقانی صاحب واقعی سینئر صحافی ہیں اور نجانے کتنے لوگ انہیں استاد مانتے ہوں گے لیکن حیرت ہے کہ وہ اردو کے حق میں آج تک اتنے دلائل نہیں لائے، جو کہ ان کے کالم کی زبان ہے، جتنے وہ عربی کی مخالفت میں لے کر آ گئے۔ بہرحال میں آپ کی بات سے متفق ہوں کہ ہم اس وقت تک ترقی نہ کر سکیں گے جب تک اپنی مادری زبان کو اختیار نہ کریں۔
    اسد صاحب بلاگ پر آمد کا شکریہ۔
    خاور بھائی! اس طرح کی علمی بد دیانتیوں کے حامل افراد کا ہمارے ہاں انبوہ کثیر ہے۔ پتھر اٹھاؤ نیچے سے ایک علمی بد دیانت نکلتا ہے، ایک ارشاد حقانی پر کیا موقوف؟ ۔۔ سوائے چند صحافیوں کے یہاں ایک حمام میں سارے ہی ننگے ہیں۔

  16. Hasan says:

    یہ تبصرہ پڑھ کر ،لکھنا تو میں چاہ رہا تھا ۔ لیکن محترم قاضی صاحب کی مضمون جو آج کے جنگ میں شائع ہوا ہے،نظر سے گزرا یہ مضمون زیادہ اچھی طرح میرے موقف کا ترجمان ہے۔ پیشِ خدمت ہے:۔
    یکساں تعلیمی نصاب اور عربی زبان کی اہمیت,,,,قاضی حسین احمد
    کیا بچپن میں زیادہ زبانیں سکھانے کی وجہ سے بچے پر غیر ضروری بوجھ پڑتاہے؟ میرا ذاتی تجربہ اس کے خلاف ہے۔ میری مادری زبان پشتو تھی ۔ سکول جانے سے پہلے ابتدائی تعلیم گھر پر فارسی زبان سے شروع ہوئی۔ ’کریما ‘اور’ گلستان‘ پڑھنے کے بعد مجھے پرائمری سکول میں داخل کرایا گیا۔ میں اسلامیہ کالجیٹ ہائی سکول میں پانچویں جماعت کا طالب علم تھا جب یادش بخیر محمد رضا شاہ پہلوی شہنشاہ ایران تشریف لائے تھے۔ اسلامیہ کالج پشاورکے روس کیپٹل ہال میں ان کی تقریر میں نے گیلری میں کھڑے ہوکر سنی تھی ۔ میں اس وقت بچپن میں ان کی فارسی خود سمجھ رہاتھا اور مجھے اردو ترجمہ کی ضرورت نہیں تھی۔ اس تقریر کا پہلا جملہ مجھے اب بھی یاد ہے جب انھوں نے کہا”امروز خوشنودی بسیار است کہ درمیان شماہستم “(آج مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ کے درمیان ہوں )۔ ابتدائی عمر ہی میں گھر پر مجھے عربی صرف اور نحوپڑھائی گئی، سکول سے واپسی پر والد محترم یا بڑے بھائی سے عربی قواعدکی تعلیم لیتاتھا۔ پشتو،فارسی ،ابتدائی عربی ، اردو اورانگریزی زبانیں میں نے سکول کی طالب علمی کے زمانے میں سیکھ لی تھیں اور یہ زبانیں سیکھنے کی وجہ سے میں عمر کے ابتدائی حصے ہی میں زندگی کا لطف اٹھارہاتھا۔ ابتدائی عربی قواعد سیکھنے کی وجہ سے براہ راست قرآن کریم سے لطف اندوز ہونے کا موقع مل رہاتھا ۔
    عربی زبان کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کی مخالفت وہی لوگ کرتے ہیں جو پاکستانی قوم کو قرآن کریم سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کی اس کوشش کے نتیجے میں پوری قوم کے لیے یکساں نصاب تعلیم کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا کیونکہ قوم کی غالب اکثریت اپنے بچوں کو قرآن کریم پڑھانا چاہتی ہے اور خود بھی قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنا چاہتی ہے جس کے لیے عربی زبان کی سمجھ لازمی ہے ۔ کراچی میں ایک سڑک سے گزرتے ہوئے مجھے ایک پبلک سکول کا بورڈنظر آیا جس میں انگریزی میڈیم کے ساتھ ساتھ حفظ قرآن، عربی اور درس نظامی پڑھانے کا بھی انتظام ہے۔ یہ دراصل اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں کھاتے پیتے لوگ بھی اس بات کی اہمیت سے بے خبر نہیں ہیں کہ انگریزی کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے ساتھ تعلق جوڑنا ان کی قومی ضرورت اور دینی فریضہ ہے۔ اگر یکساں نصاب تعلیم نافذ کرنا مقصود ہے اور یہ یقیناً ایک متحد قوم کی ضرورت ہے تو قوم کے بچوں کو دو مختلف سمتوں میں چلانے کے بجائے ایک مشترکہ نصاب پر جمع کرناہوگا۔
    پاکستان بننے کے بعد مولانا مودودی نے جہاں اسلامی دستور کی مہم چلائی تھی وہاں انھوں نے اسلامی نظام تعلیم کے نفاذ کو ملک کی بقا ، سالمیت اور استحکام کے لیے ضروری قرار دیا تھا ۔ انھوں نے تجویز پیش کی تھی کہ ایک ایسا نصاب تعلیم وضع کیا جائے کہ دسویں جماعت تک تمام بچے اس قابل ہوجائیں کہ ایک طرف ڈاکٹر اور انجینئر اور دوسرے عصری علوم میں تخصص حاصل کرنے کی ان میں قابلیت پیداہو اور ساتھ ساتھ اگر کوئی بچہ قرآن و سنت پر مبنی دینی علوم اور مذہبی علوم سیکھنے میں دلچسپی رکھتاہوتو وہ عالم دین بننے کے لیے بنیادی صلاحیت حاصل کرچکا ہو۔ دسویں کے بعد جس طرح طلبہ پری انجینئرنگ ، پری میڈیکل اور فنون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ثانوی درجے کے کالجوں اور سکولوں میں داخلہ لیتے ہیں اسی طرح علوم دینیہ میں تخصص حاصل کرنے کے لیے تیار ہوچکے ہوں ۔ اس طرح الگ سے دینی مدارس کھولنے کے بجائے سکولوں اور کالجوں میں ہی دینی تعلیم حاصل کرنے کا اہتمام ہوسکے گا۔ ایم ایم اے کی صوبہ سرحد کی حکومت نے تعلیم کے لیے جو کمیشن بنایاتھا اس نے اس طرح کے ایک نصاب کی تجویز پیش کی تھی لیکن اس پر عمل درآمد اس لیے نہ ہوسکا کہ اس طرح کی ایک بنیاد ی تبدیلی مرکزی حکومت کے تعاون اور مصمم ارادے کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔اگر ملک میں کچھ لوگ عربی زبان کو نصاب میں لازمی زبان کے طور پر شامل کرنے پر چیں بجیں ہوتے ہیں تو پھر یکساں نصاب جس میں بچے کے انجینئر،ڈاکٹر ،سائنس دان بننے کے ساتھ ساتھ اس کے عالم دین بننے کی گنجائش بھی رکھی جائے، پرکیسے آمادہ ہوں گے ۔ لیکن اگر یہ آمادگی نہ ہوسکے اور جو نصاب تعلیم حسب سابق قوم کو متضاد طبقوں میں تقسیم کرنے والا ہے وہی جاری رہے، ملک میں ایک طرف امریکن سکول،آکسفورڈ سکول ، اولیول اوراے لیول کے اداروں کی بھرمار ہو اور دوسری طرف دیوبندی ، بریلوی اور اہلحدیث شیعہ اور سنی طرز پر علماء تیار ہو رہے ہوں تو ملک میں ایک شدیدمذہبی اورطبقاتی تصادم کا خطرہ برقرار رہے گا۔
    کچھ مدت پیشتر پاکستان میں جاپانی سفارت خانے کے اہتمام پر مجھے جاپان کا ایک بارہ روز ہ دورہ کرنے کا موقع ملا تھا۔ اس دورے کے دوران مجھے ان کے نصاب تعلیم کو بھی سمجھنے کا موقع ملا ۔ ان کے ہاں ہر جاپانی شہری کے لیے بارہ سال کا ایک نصاب پڑھنا لازمی ہے جو جاپانی زبان میں ہے اور اس کے علاوہ کسی کو بھی دوسرا نصاب پڑھانے کی سرکاری اجازت نہیں ہے۔ صرف ایک امریکی سکول موجود ہے جس میں صرف امریکی شہری ہی داخلہ لے سکتے ہیں۔ جاپانی شہریوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ 12سال کی وہ تعلیم مکمل کریں جو جاپان کی حکومت کی منظورکردہ ہے۔ جاپان میں ننانوے اشاریہ نو (99.9) فیصد لوگ اس نصاب سے فارغ ہیں۔ ایک ہزار میں صرف ایک شخص ایسا ہے جو اس نصاب سے فارغ نہیں ہے اور وہ شخص وہ ہے جو ذہنی طور پر معذور ہے۔ ذہنی طور پر معذور بچوں کو بھی تربیت کے ذریعے اس قابل بنانے کی کوشش ہو تی ہے کہ وہ ایک معزز شہری کے طور پر گزر اوقات کرسکیں۔ اس کے نتیجے میں جاپانی قوم ایک متحدقوم بن گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارے ہاں جاگیر داروں نے ملک کے تقریباً نصف لوگوں کو ابتدائی تعلیم سے بھی محروم رکھا ہے۔ جو لوگ پڑھنے کے لیے جاتے ہیں ان میں کچھ دینی مدارس میں جاتے ہیں جو بریلوی ، دیوبندی اہلحدیث اور سنی اورشیعہ میں بٹ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ انگلش میڈیم میں جاتے ہیں جو امریکن اسکول، اولیول، اے لیول وغیرہ میں تقسیم ہوجاتے ہیں اوراردو میڈیم میں غریب لوگوں کے بچے پڑھتے ہیں۔
    جن میں کچھ تو اپنی ذاتی محنت کی وجہ سے ممتاز مقام حاصل کرلیتے ہیں لیکن عام بچے عموماً نظر انداز ہوجاتے ہیں اور نتیجہ میٹرک کے امتحان میں نصف سے زیادہ بچوں کے فیل ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔
    تعلیمی فضا میں اس افراتفری کے نتیجے میں قوم میں بھی ہر طرف افراتفری پھیلی ہوئی ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات ، صوبائی اور علاقائی تعصبات، طبقاتی کشمکش ،مغربی اور اسلامی تہذیب کا تصادم اور انتہا پسندی یکساں تعلیمی نظام کے نہ ہونے کا نتیجہ ہے ۔ کچھ لوگ ابتدائی عربی زبان کی تعلیم کو بوجھ اور کچھ لوگ جدید علوم کے حصول کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ اعتدال پیدا کرنے کے لیے یکساں نظام تعلیم کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں ہے اور یکساں نظام تعلیم کے لیے ملک کے سیکولر اور دینی طبقے دونوں کو راہ اعتدال اختیار کرنی پڑے گی۔
    ملک کے ایک معروف اور قابل احترام کالم نویس کو معلوم نہیں کیا سوجھی کہ انھوں نے عربی کی لازمی تعلیم کے خلاف ایک کالم لکھ دیا۔ یہ مغربی ممالک کے پیسوں سے چلنے والی این جی اوز کی کوشش ہے کہ تعلیم گاہوں سے اسلامی تہذیب کے نام و نشان مٹادیے جائیں اور پاکستان کو اسلامی نظریاتی ریاست کے بجائے ایک لادین ریاست بنادیا جائے ۔ علامہ اقبالکو ہم سب مفکر پاکستان مانتے ہیں ،ان کی نصیحت ہے ۔:
    گر تومی خواہی مسلمان زیستن
    نیست ممکن جزبہ قرآن زیستن
    یعنی اگر تم مسلمان کے طور پر زندگی گزارنا چاہتے ہوتو یہ قرآن کریم (کی تعلیم )کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔قرآن کریم سے قوم کو جوڑنے کے لیے عربی کی لازمی تعلیم ضروری ہے۔ عربی اور فارسی کی تعلیم خود اردو میں مہارت حاصل کرنے کے لیے بھی ضروری ہے ۔ مسلمانوں کی ساری زبانوں پر عربی زبان کی چھاپ ہے ،یہ امت مسلمہ کی پہچان ہے اور یہ قرآن اور محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ہے جو ہماری محبتوں کا مرکز ہیں ۔ اس زبان کی تعلیم مسلمان گھرانے کی زینت ہے۔ماہرین تعلیم کی متفقہ رائے ہے کہ ابتدائی عمر میں اگر فطری انداز میں زبان دانی پر توجہ دی جائے تو بچہ بلوغت تک پہنچتے پہنچتے بغیر کسی غیر معمولی کوشش کے پانچ چھ زبانیں سیکھ جاتاہے۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے باسی عموماً پشتو،بلوچی،بروہی، فارسی،پنجابی اور اردو ساری زبانیں آسانی سے سیکھ لیتے ہیں اور یہاں کے کامیاب تاجر اور ہر دلعزیزسرکاری افسران عموماً یہ سب زبانیں بول لیتے ہیں۔ یہی حال کا بل اور پشاور کا ہے اور ان سب زبانوں کی وجہ سے ان شہروں کی رنگارنگی اور حسن میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر اتنی ساری زبانیں سیکھنے سے بچے پر بوجھ نہیں پڑتا تو عربی کی تعلیم کچھ لوگوں پر کیوں گراں گزرتی ہے جو قرآن اور حبیب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ہے ۔
    آئیے سب مل کر ایک ایسے یکساں نصاب تعلیم پر اتفاق کرلیں جو جدید علوم کے ساتھ ساتھ ہمارے دینی ،تاریخی اورتمدنی ورثے کا آئینہ دار ہو۔

  17. حیرت مجھے ان لوگوں پہ ہے۔ جنہیں اللہ تعالٰی نے عقل سلیم سے نوازا ہے ۔ وہ برسوں ارشاد احمد حقانی کو پڑھنے کے بعد بھی ارشاد احمد حقانی کو سمجھ نہیں پائے ۔ پاکستان کی صحافتی اجارہ داری اور بلخصوص بڑے اخبارات( بشمول نگریزی اخبارات) پہ قابض چند ایک کالم نویس ماسوائے کچھ لوگ چھوڑ کر باقی سب صرف اور صرف اپنے اپنے مفادات کے تابع لکھتے ہیں ۔ انکا مفاد اگر حکومت کے ساتھ ہے تو اسکی حمایت میں کالم کالے کرینگے ۔ اگر انہیں اپوزیشن کی آئیندہ حکومت بننے کا یقن ہو تو یہ اس کے ساتھ ہونگے۔ بہت سے ایجنسیوں کے تنخواہ دار ہیں اور بڑے بڑے کروڑوں روپے کے پلاٹس کے انعامات پانے والے تو بہت ہی ہیں۔ درست بات تو یہ ہے کہ بہت سے اخباری اور میڈیا کے لوگ صحافت کو اپنے اثر رسوخ کے لئیے استعمال کرتے ہیں ۔ خدا لگتی بات ہے ،یہ پینچ اور کھڑ پینچ قسم کے صحافی نہ صرف شخصیات بلکہ حکومتی اداروں کو بھی اپنے استعمال یا مفاد کے لئیے بلیک میل کرنے سے باز نہیں آتے ۔ الغرض اپنے مفاد کی خاطر یہ کسی بھی اصول کو کبھی بھی توڑ مروڑ کر پیش کر سکتے ہیں۔

    جہاں تک کچھ لوگوں کی ان سے اندھی عقیدت کا تعلق ہے تو یہ عقیدت بنانے میں بھی توپ مار قسم کے کالم نویسوں کی شان میں رطب السان جونئیر کالم نویسوں کی خوشامد اور چاپلوسی کا ہاتھ ہے ۔ وہ بعض بعضوں کالم نویسوں کی شان میں تعریف و عقیدت کے پل باند ھ باندھ کر اپنے اخبارات کے کالمز میں ان کا ذکر کرتے رہتے ہیں ۔ کیونکہ نئے اور جونئیر کالم نویس اور صحافیوں کو آگے بڑھنے کے لئیے، اپنے لئیے، روزگار جیسے بنیادی مسئلے کو مستقل بنیادوں پہ حل کرنے کے لئیے جغادری اور اپنے آپ کو توپ کہلوانے کالم نویسوں کا قدم قدم پہ سہارا چاھئیے ہوتا ہے ۔ تانکہ وہ کہیں فٹ ہوسکیں ۔ پاکستان کے حالات میں جہاں سب سے زیادہ چلنے والا سکہ خوشامد اور چاپلوسی ہے ۔ وہاں دیانتداری کو کون خوبی سمجھتا ہے۔ اسلئیے عام قاری اس منافقت کو سمجھ نہیں پاتا اور بہت چھوٹے کالم نویسوں کی تعریفوں سے ان بڑے کالم نویسوں سے عقیدت کا رشتہ قائم کر لیتا ہے ۔ پاکستانی معاشرے میں عقیدت کا دھواں اسقدر دبیز اور گھنا ہوتا ہے کہ اس کے اُس پار کچھ نظر نہیں آتا ۔

    کسی اخبار نویس یا کالم نگار کی دیانٹداری ملاحظہ کرنی ہو تو اسکے گھر کے حجم اور رہن سہن سے دیکھا جاسکتا ہے ۔ کہ وہ کتنا دیانتدار ہے ۔ یا اسکے پلاٹس اور دیگر حکومتی نوازشوں اور مہربانیوں کو جانچنا چاھئیے کہ وہ ان سے کسقدر استفادہ کر رہا ہے۔ جبکہ یہ پلاٹ ، بیرونی ممالک میں مفت علاج، بیرونی دورے ، وقتا فوقتا نقد گرانٹس، بچوں کے اچھے اسکولز ، کالج میں داخلے وغیرہ جنہیں انعام یا سہولت کہا جاتا ہے ، یہ وہ رشوت ہے جو توپ مار قسم کے کالم نویس لیتے ہیں اور بدلے میں بدی کی مذمت نہ کر کے بد بنتے ہیں ۔
    ہندؤستان میں مسلمان حکمرانوں کی مختلف زبانیں رہی ہیں ۔ پاکستان بننے سے پہلے کارسرکار کی زبان فارسی تھی ۔ اور بہت خوب تھی ۔ گو کہ جب انگریزوں نے مسلمانوں سے ھندؤستان چھینا اس وقت ملک کا نظم و نسق، طوائف الملوکی کے ہاتھوں تباہ برباد ہو رہا تھا اور ہر ادارہ فرسودہ ہوچکا تھا ۔مگر ادارے تھے ۔ زراعت اور زمینوں کا حساب کتاب بھی تھا۔ نقشے تھے ۔ وقت کا روازانہ کا حساب رکھا جاتا تھا ۔ مالیہ اور لگان کا حساب کتاب رکھا جاتا تھا ۔ فوج ۔فوجی ادارے اور تربیت گاہیں تھیں جہاں دفاعی امور پڑھائے جاتے تھے ۔ مدرسوں میں تعلیم بھی دی جاتی تھی اور اپنی حد تک اعلٰی تعلیم کا بندوبست بھی تھا ۔ جہاں سے مختلف علوم میں عاقل فاضل فارغ التحصیل ہوتے تھے اور مختلف محکموں میں حکومت کی معاونت کرتے تھے۔ یعنی ھندؤستان کی مسلمان حکومتیں ہر معاملے میں خود کفیل تھیں ۔ اور یہ سب تعلیم اور امور کاروبار ریاست فارسی میں ہوا کرتے تھے ۔ اور صدیوں یوں ہی ہوتا رہا ۔ زبان کبھی بھی مسئلہ نہیں تھی ۔ انگریز ایک دن میں ھندؤستان پہ قابض نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی انکی انگریزی کی وجہ سے ھندؤستان انگریزوں کی غلامی میں چلا گیا اس کے اسباب کچھ اور تھے۔

    انگریزوں نے ہندؤستان چونکہ مسلمانوں سے چھینا تھا۔ اور انگریزوں کو خدشہ تھا کہ ہندؤستان کے مسلمان کبھی بھی ان کے لئیے مسئلہ بن سکتے ہیں اسلئیے مختلف بہانوں اور طریقوں سے مسلمانوں ، انکی ثقافت ، اور زبان فارسی کو دقیانوسی زبان قرار دینا لازم ٹہرا۔ اس سے ان کے دو فائدے تھے ایک تو مسلمان بغیر اپنی ثقافت اور زبان کے قومی طور پہ یتیمی کے احساس کمتری کا شکار ہو جائیں گے ۔ دوئم ھندؤستان کے مسلمان ایران میں فارسی زبان میں ہوتی زبان کی ترقی کو کبھی بھی نہ اپنا سکیں۔کبھی بھی انگریزوں کو چیلنج نہ کر سکیں ۔ یوں مسلمان صرف فارسی سے صرف نظر کرنے سے اپنی ہی شاندار تاریخ سے بیگانہ ہوگئے ۔ اور انکی تاریخی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ اور وہ فارسی کے ایک آدہ جملہ تک بھی نہ سمجھ پاءیں چہ جائیکہ وہ اپنی تاریخ میں گم فارسی میں لکھے دفتروں کے دفتر کھنگال کر اپنی شاندار تاریخ اور اسمیں کئیے گئے کارناموں کا حوالہ دے سکیں ، تحقیق کر سکیں ۔ بیچ کی کڑیاں گم ہونے کی وجہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو انیس سو سنتالیس سے شروع کرتے ہیں ۔ جبکہ بحثیت ایک قوم ہندوستان میں ہماری صدیوں حکومت رہی ۔ عالم یہ ہے کہ کلام اقبال کو تو ایرانی جھوم جھوم کر پڑتے ہیں اور اس سے نصحیت پاتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان کی نوے فیصد سے زائد پاکستانی اپنے قومی شاعر رحمۃ اللہ علیہ کی فارسی شاعری سے بیگانہ ہے اور انکی فارسی شاعری پاکستانی شہریوں کے لئیے اجنبی ٹہرا دی گئی۔ اگر تب ھندؤستان کی زبان عربی ہوتی یا کوئی اور زبان تو اسکا حشربھی وہی کیا جاتا ۔ جو فارسی کا کیا گیا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ صدیوں سے ھندؤستان کی حکمرانی کرنے والی قوم کو سب سے الگ تھلگ کر دیا جائے ۔

    زبان خواہ انگریزی ہو یا عربی یہ سیکھنا اتنا مسئلہ نہیں ۔ اصل مسئلہ ہمارے کرتا دھرتاؤں کی بدنیتی ہے کہ وہ آج تک کسی ایک زبان کی ترویج و ترقی کا کام نہیں کر سکے اور اسے مکمل طور پہ رائج نہیں کر سکے ۔ آپکی اس تحریر کے جواب میں بہت سے فاضل تبصرہ نگار اردو زبان کا دفاع کرتے تو نظر آئے ہیں مگر کیا وہ یہ بتا سکتے ہیں ۔ کہ پاکستان میں کہاں کہاں اور کب اردو کو رائج کیا گیا ہے ۔

    پاکستان کا موجودہ لسانی نظام انتہائی ناکام اور فرسودہ ہے۔ اردو کبھی بھی پاکستان کے کے کسی بھی حصے کی زبان نہیں رہی ۔ شاید بہت کم لوگوں نے اس بات پہ غور کیا ہو کہ سابقہ مشرقی پاکستان میں علحٰیدگی کی تحریک کا نقظہ آغاز بھی بنگلہ بھاشا کی جگہ اردو زبان کو رائج کرنا تھا ۔ جسے بنگالی نوجوانوں نے اپنی حق تلفی اور ناانصافی سمجھا اور یہ اختلاف قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں ہی سامنے آچکا تھا ۔ جس نے آگے چل کر وہ شدت اختیار کی کہ ملک کا ایک بازو ہی ہم سے جدا ہو گیا۔ اب جب کہ مغربی پاکستان میں اردو کو اس لئیے برداشت کر لیا گیا کہ یہ صوبوں کی باہمی رابطے کی زبان قرار دی گئی ۔ جب کہ تعلیم دینے کے لئیے مادری زبان کا نسخہ تجویز کیا جانا تھا۔ مگر کچھ لوگوں کی بدنیتی سے عملا اردو کو پاکستان کی پرائمری اور ہائی اسکول کی تعلیم دینے والے اداروں میں اردو کو میڈم زبان قرار دیا گیا ۔ جس پہ سندھ ہمیشہ چیں بی چیں رہا ۔ غالبا زوالفقار علی بھٹو کے دور میں صوبہ سندھ میں بنیادی تعلیم کا میڈیم سندھی زبان کو بنایا گیا ۔

    اس سے نہائت مضحکہ خیز صورتحال بنتی ہے۔ پنجابی ، پشتو، سندھی ، بلوچی، مکرانی، سرائیکی وغیرہ ماحول میں پیدا ہونے والا بچہ اپنی مادری زبان سمجھ بھی نہیں پاتا کہ اس پہ اسکول میں اردو کی کتابیں لاد دی جاتی ہیں ۔ وہ بڑی مشکل سے اردو سے دل لگا پاتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک کی قومی اور سرکاری زبان مختلف ہیں ۔اگر قومی زبان اردو ہے تو سرکاری زبان انگریزی ہے ۔ سرکار دربار میں گھسنے کے لئیے انگریزی کا جاننا بہت ضروری ہے۔ جسطرح پاکستان کے ہر شہر تحصل میں افسر کلب واقع ہیں جسمیں علاقے کا اے سی ، ڈی سی ، ہیلتھ افیسر ، ایس پی پولیس وغیرہ کےافسران ہی ممبر بن سکتے ہیں اور انھیں ہی ایسے کلبز میں جانے ، بیٹھنے اور موج میلہ کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اسی طرح کارسرکار میں اثر ورسوخ رکھنے کے لئیے ۔ ملک کی ایلٹ کلاس میں پاؤں رکھنے کے لئیے ، انگریزی کا جاننا اور سمجھنا بہت ضروری ہے ۔ ویسے بھی اس بچے کو بی ایس سی کے امتحانات میں پرچہ انگریزی میں ہونے کی وجہ سے یہ عقدہ کھل ہی چکا ہوتا ہے کہ سرکاری زبان تو انگریزی ہے اور اس نے پہلی جماعت سے آج تک اردو سمجھنے کے لئیے ناحق اتنی محنت کی ۔ زبان کے بارے میں بھی ہر وہ منافقت استعمال کی گئی ہے جو ہمارے معاشرے کا خاصہ ہے۔ نتیجا اپنی مادری زبان بولنے والا بچہ اسکول میں کسی حد تک زبان کا مسلئہ حل کر ہی پاتا ہے تو اسے انگریزی کا بگل بجا دیا جاتا ہے۔

    زبان کسی بھی قوم کی ھئیت ترکیبی میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہے ۔ذرا تصور کریں عربوں سے عربی زبان جدا کر دی جائے تو باقی وہ کیا رہ جاتے ہیں۔؟ اسلئیے اب جبکہ پچھلی ساٹھ سالہ مسلط مشق سے پاکستانی قوم جب اردو سمجھنا شروع ہوئی ہے تو اسے ہی ترقی دی جائے اور اردو کی ترویج کا کام کیا جائے۔ کمپیوٹر کی تعلیم میں بھی اردو کو عام کیا جائے ۔ حکومت پاکستان کے لئیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    البتہ عربی زبان کو دوسری زبانوں پہ فوقیت دی جانی چاھئیے کہ ہم پہلے مسلمان ہیں اور پھر پاکستانی ہیں اور روز قیامت ہم سے ہماری مسلمانی کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ نہ کہ پاکستانی ہونے کے بارے میں سوال و جواب ہونگے۔ اسلئیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ عربی کو اردو کی طرح اپنایا جائے تاکہ ہمیں دین کی بھی سمجھ آسکے اور ہم مسلمانوں کی کی کسی بڑی کرنٹ کا حصہ بن سکیں ۔

    جو لوگ کہتے ہیں کہ عربی بولنے سے ہم عربی نہیں کہلوائے جائیں گے۔ ان سے گزارش ہے کہ طلوع اسلام سے قبل شمالی افریقہ کے عربی ممالک اور اسلامی اور آج کے عرب خطے کے بعض دوسروے علاقوں کی زبان بھی تب عربی نہیں تھی۔ عربی سیکھنے کے بارے عرض ہے ہم دنیا میں اتنی بڑی تعداد کے عرب ممالک جو ہمارے خطہ میں واقع ہیں۔ ان کی اتنی بڑی آبادی کو اپنا مافی الضمیر تو ان کی زبان میں سمجھا سکیں گے اور ان کی علمی تحقیقی اور تروئین و ترقی سے استفادہ تو کر سکیں گے ۔ یہاں تو یہ حال ہے کہ اردو کے لئیے نیشنل لینگوئج اتھارٹی گورنمٹ آف پاکستان میں کیبنٹ ڈویژن کی سطح پہ قائم یہ ادارہ جو اردو میں اپنے آپ کو ۔۔مقتدرہ قومی زبان ۔۔۔ کہلواتا ہے اربوں روپے کی فنڈ بغیر ڈکار لئیے ہضم کر گیا ۔ مگر اردو کے لئیے اسکی کوششیں آپ اسکی سائٹ سے ہی بخوبی پتہ چلاسکتے ہیں۔ یا اسکی کوششیں آپ کو پاکستان کی عملی زندگی میں کہیں نظر آئیں تو حیرت ہوگی۔ اس ادارے کا رابطہ میں آخر میں دے دونگا ۔ تاکہ سب کو علم رہے۔

    عنیقہ بی بی! سے گزارش ہے کہ زبانیں کبھی بھی اور کئی ایک سیکھی جاسکتیں ہیں اور ان اہل زبان کی طرح عبور بھی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ خود مجھے کئی ایک زبانوں سے نا صرف شناسائی ہے بلکہ میں اہل زبان کی طرح اور کچھ ایک زبانیں عام اہل زبان کی نسبت اچھی بول لکھ پڑھ سکتا ہوں ۔ اور ایک ہی وقت میں دو یا تین مختلف افراد سے انھی کی تین مختلف زبانوں میں بھی تبادلہ خیال کرنے کا اتفاق ہواہے۔ ضروری ہوجائے تو ایک زبان سے دوسری زبان میں فی البدیہہ ترجمہ بھی نہایت آسانی اور روانی سے کرسکتا ہوں ۔ یہ اتنا مسئلہ نہیں ۔ یہ خیال بھی درست نہیں کہ بچپن کے بعد زبان سیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ تصور بھی غلط ہے کہ بہت سی زبانیں سیکھنے سے کسی ایک زبان میں اپنا مافی الضمیر فی البدیہہ کہنے میں الجھن ہوتی ہے۔ یہ بھی درست نہیں کہ کئی ایک زبان بولتے یا لکھتے ہوئے دوسری زبان کے الفاظ ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ آپ کو مطلوبہ اور مذکورہ زبان پہ مکمل عبور حاصل ہو۔

  18. http://www.nla.gov.pk/beta/achievements/
    مندرجہ بالا رابطہ اردو کی ترقی کے لئیے قائم اداراے ۔۔ مقتدرہ قومی زبان۔۔ نامی کا ہے ۔ دیکھ لیں انہوں نے اپنی ساءت پہ کسقدر افسانوی کارنامے سجا رکھے ہیں ۔ جن سے غالبا آپ نے بہت سے کارہائے نمایاں پہلی بار دیکھے ہونگے یہ نہ کھلتے ہیں اور نہ ہی کہیں اپنا وجود بتاتے ہیں ۔ مگر ہیں ضرور۔ آپ کو سمجھ آئے تو مجھے بھی بتائیے گا۔

  19. سائنسی نقطہ نگاہ سے اگر اس چیز کا تجزیہ کریں تو تحقیقات سے یہ بات ثابت ہے کہ انتہائی کم عمری میں ایک سے زیادہ زبانوں کا سیکھنا بچوں کے لیے انتہائی آسان بات ہوتی ہے.

  20. اسید says:

    گستافی معاف مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یا تو بڈھا سٹھیا گیا ہے یا اس نے.........چلیں رہنے دیں.
    ویسے میں بچپن میں تین زبا نیں بول لیتا تھا.

  21. برادر حسن جمیل ! قاضی صاحب کا کالم یہاں پیش کرنے کا بہت شکریہ۔ آپ کا تبصرہ نجانے کیوں اسپیم میں چلا گیا تھا، اتفاقاً میں اسپیم تبصرہ جات کے حصے میں گیا تو یہ پیغام نظر آیا، میں نے منظور شدہ تبصرہ جات میں منتقل کر دیا۔
    قاضی صاحب کے کالم میں ان کا یکساں تعلیم کا مطالبہ بہت اہمیت کا حامل ہے، مشترکہ نصاب اس وقت ہماری قومی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے میں تفریق در تفریق کا سب سے اہم سبب ہی ہمارا تعلیم نظام ہے۔ لوگ جتنے مختلف سانچوں سے ڈھل کر نکلیں گے معاشرتی تفریق اس قدر بڑھے گی۔
    خصوصاً ان کا یہ جملہ ہماری صورتحال کی وضاحت کر رہا ہے "تعلیمی فضا میں اس افراتفری کے نتیجے میں قوم میں بھی ہر طرف افراتفری پھیلی ہوئی ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات ، صوبائی اور علاقائی تعصبات، طبقاتی کشمکش ،مغربی اور اسلامی تہذیب کا تصادم اور انتہا پسندی یکساں تعلیمی نظام کے نہ ہونے کا نتیجہ ہے ۔"

  22. ابوشامل says:

    محترمی جاوید گوندل صاحب!اس سیر حاصل تبصرے کا بہت شکریہ، آپ تحریر کو جتنی اہمیت دیتے ہیں اس کا اندازہ آپ کے بہترین تبصروں سے ہو جاتا ہے۔ میں آپ کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ ناچیز کی تحریر پر (گو کہ مندرجہ بالا دونوں تحاریر میری نہ تھیں) تحقیق کر کے ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔
    یقین جانیے مجھے ارشاد احمد حقانی صاحب کے مذکورہ کالم کے بارے میں 200 فیصد یقین ہے کہ یہ کالم ان کا لکھا ہوا نہیں، ویسے بھی آجکل وہ صاحب فراش ہیں، اس لیے یہ ضرور ان کے کسی نو آموز شاگرد کی "حرکت" ہے۔ باقی صحافیوں کے بارے میں آپ کو کیا بتاؤں کہ ان کے گھناؤنے کردار بتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔
    زبان کے حوالے سے آپ نے فرمایا ہندوستان میں مسلمان حکمرانوں کی زبان فارسی تھی اور سرکاری زبان کی حیثیت سے تمام حساب کتاب اور امور ریاست فارسی میں ہوا کرتے تھے۔ لیکن ایک ہندوستان اور سلطنت عثمانیہ میں یہ المیہ رہا ہے کہ سرکاری زبان عوام میں اندر تک نفوذ نہیں رکھتی تھی۔ ہندوستان میں امور سلطنت فارسی میں تو ہوا کرتے تھے لیکن عوام کئی زبانیں بولتے تھے جس کے باعث ایک ایسی زبان کی ضرورت تھی جو مختلف اقوام میں رابطے کا ذریعہ بنتی اور یہی ضرورت اردو کی پیدائش کا سبب بنی۔ہندوستانی عوام سنسکرت، فارسی، ترکی، عربی، پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو اور درجنوں کئی مقامی زبانیں بولتے تھے اور ان سب زبانوں کے ملاپ سے ایک نئی زبان وجود میں آئی جسے "اردو" کہا گیا۔ ادھر سلطنت عثمانیہ میں بھی یہی حال تھا کہ اشرافیہ کی زبان ترکی زبان کی انتہائی عربی و فارسی زدہ شکل تھی۔ حتیٰ کہ کئی عثمانی سلاطین فارسی کے شاعر تھے۔ اگر آپ اس دور کا مطالعہ کریں تو ہندوستان کی طرح وہاں اشرافیہ کی زبان کچھ اور تھی اور عوام کی کچھ اور۔ اس لیے سقوط خلافت کے بعد اتاترک نے قوم پرستی سے مغلوب ہو کر ترکی زبان سے عربی و فارسی زبان کے ہزاروں الفاظ کو نکالنے کا فیصلہ کیا اور یوں ترکی زبان "ملاوٹ" سے "پاک" قرار دے دی گئی۔ انگریزوں کی جانب سے فارسی کو ہندوستان میں ملی ہوئی سرکاری حیثیت کو ہٹائے جانے کا سبب صرف اور صرف یہ تھا کہ ہندوستان میں انگریز ہمیشہ رہنے کے لیے آیا تھا اور اسی لیے اس نے ایک جانب اشرافیہ کی زبان فارسی کو ٹھکرایا لیکن دوسری جانب مقامی معاشرے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے عوامی زبان "اردو" کی ترویج میں کچھ حصہ لیا اور اس کے لیے کافی کام کیا۔ البتہ ہمارا یہ المیہ ہم فارسی کے اپنے عظیم ذخیرے سے بالکل اس طرح نابلد ہیں جس طرح ترک قبل از قیامِ جمہوریہ کے عظیم تاریخی ورثے سے۔ افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر جب عربی رسم الخط میں لکھی گئی ترک زبان کے بارے میں ترک دوست ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ یہ بتا دیں یہ کیا لکھا ہے؟ ہم صرف اسے پڑھ دیتے تھے مطلب وہ سمجھ جاتے تھے 🙁 اس بات کا مجھے ہمیشہ بہت افسوس رہا ہے کہ فارسی سے نابلد ہونے کے باعث ہم علامہ اقبال کے اہم ترین کلام کو سمجھنے سے محروم ہیں۔
    البتہ چند لوگ ہمیشہ یہ سمجھتے آئے ہیں کہ انگریز فارسی اور عربی کا زور توڑنے کے لیے اردو کو سامنے لے کر آئے اور یوں وہ اردو زبان پر یہ رکیک الزام لگاتے ہیں کہ یہ انگریزوں کی سازشی زبان تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ رابطے کی زبان کی حیثیت سے پاکستان میں اردو کو جو حیثيت حاصل ہے وہ کسی اور زبان کو نہیں۔ پھر کوئی سازشی زبان اتنی اہمیت اختیار نہیں کر جاتی کہ وہ غالب اور اقبال پیدا کرنے لگے، ان عظیم شعراء سے ثابت ہوتا ہے کہ اردو کی جڑیں عوام میں اندر تک تھیں اور آج بھی ہیں۔ بلا شبہ یہ پاکستان کے صرف چند فیصد افراد ہی کی مادری زبان ہے لیکن میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کے کسی بھی علاقے میں کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوگا کہ کوئی اردو جاننے والا نہ ہو۔
    مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان فاصلے بڑھنے میں زیادہ اہم کردار خواجہ ناظم الدین کی برطرفی تھی، اس واقعے نے بنگالیوں کو "پنجابیوں" سے برگشتہ کر دیا۔ البتہ بنگلہ-اردو تنازع بھی پاکستان کے دونوں حصوں کے درمیان خلیج میں اضافے کا اہم سبب تھا۔ میرے خیال میں اردو و بنگلہ دونوں کو قومی زبان قرار دینا اس مسئلے کا حل تھا۔
    آپ نے تبصرے میں بہت اہم مسئلے کی جانب توجہ دلائی ہے کہ بچپن میں مادری زبان کے مقابلے میں اردو سیکھنے کی جدوجہد کے بعد بچہ جب اردو سیکھ جاتا ہے تو اس پر عقدہ کھلتا ہے کہ دفتری زبان تو دراصل انگریزی ہے پھر وہ اسے سیکھنے کی جدوجہد میں لگ جاتا ہے۔ کیونکہ مقامی سطح پر اردو اور انگریزی دونوں بولنے کے لیے اسے ماحول دستیاب نہیں ہوتا اس لیے اسے سخت جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
    باقی تمام تر بالا گفتگو سے دو اہم نکات سامنے آئے ہیں ایک مادری زبان کی اہمیت کہ انسان کی پہلی تدریس مادری زبان میں ہونی چاہیے، لیکن اس کے لیے کافی تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے کہ تمام اہم علوم میں اتنا مواد موجود ہو کہ بچے کو سیکھنے کے لیے دیگر زبانوں کی جانب نہ دیکھنا پڑے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ جب دوسری زبانیں سیکھنے کا معاملہ آئے تو یہ اختیاری ہو لیکن ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی مادری زبان مثلاً سندھی میں ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ چاہتے ہوئے بھی نہیں کر سکتا کیونکہ سندھی میں اتنامواد ہی موجود نہیں کہ وہ دنیا کا ہر علم اس میں حاصل کر سکے، اس لیے ہمارے ہاں تویہ اختیار ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک قومی زبان کو تمام تر تعلیم کا منبع بنایا جائے۔

  23. محترم ابو شامل صاحب!

    مجھے آپکی بات سے کلی اتفاق ہے کہ پاکستان کی اور پاکستانی عوام کی یہ اشد ضرورت ہے کہ پاکستان کا نصاب یکساں ہو اور اعلٰی تعلیم کے لئیے اردو میڈیم ہو ۔ جس میں دورسرے ممالک کی تحقیق کو اردو میں ڈھالنے کے لئیے حکومتی سطح پہ ادارے قائم کئیے جائیں جو جانفشانی اس کام کو مکمل کریں۔

    نیز اضافی زبانوں میں انگریزی ، چینی ، جاپانی، فارسی اور عربی وغیرہ میں سے کوئی ایک زبان سکھانے کا بندوبست اسکولز کالجز میں ہونا چاھئیے۔

    اضافی زبانوں میں عربی کو ترجیج دی جانی چاھئیے۔

    یہاں ایک نقطے کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں ۔ ہندوستان میں مسلمان حکمرانوں کی اور کاروبا ر حکومت کی دفتری زبان فارسی تھی ۔ جبکہ عام عوام اپنی سینکڑوں مقامی زبانیں بولتی تھیں۔ مگر تب یہ رویہ صرف ھندوستان پہ ہی منحصر نہیں تھا ۔ تب ہسپانوی اور انگریز نوابوں بلکہ بادشاہوں کی زبان بھی اپنے عام عوام سے ہٹ کر انگریزی وغیرہ کی بجائے فرانسیسی ہوا کرتی تھی- تب یہ چلن عام تھا کہ خواص کو عوام سے اس حد تک دور اور فرق سے رہنا چاھئیے کہ عام عوام سے ان کی ہر چیز حتیٰ زبان تک بھی مختلف ہو۔ اور اسکی تربیت کا باقاعدہ بندوبست تھا۔

    ان قوموموں کی اشرافیہ اور حکمرانوں نے فرانسیسی چھوڑ کر آخر کار اپنی زبانیں اپنائیں اور بے مثال ترقی کی ۔جبکہ حیرت ہوتی ہے کہ اجکل پاکستان میں انگریزی میڈیم کلب اپنے آپ کو خواص سمجھتے ہوئے عام عوام سے ممتاز نظر آنے کے لئیے انگریزی زبان بلکہ انگریزی عادات خصائل کو اپنا اوڑنا بچھونا جانتا ہے تانکہ فرق برابر رہے۔ علاقے کا کوئی سرکاری اہلکار خواہ محکمہ مال کا تحصیلدار ہی کیوں نہ ہو اور کسانوں کے مساعل جاننے کے لئیے کھلی کچہری لگائے بیٹھا ہو کسی دوسے ہم منصب یا اہلکار کو ھدایات دیتے ہوئے یا عام بات چیت کرتے ہوئے موضوع نظر وہاں پہ موجود کسانوں کو درپیش کوئی مسئلہ ہی کیوں نہ ہو ۔ اور بے چارے انپڑھ کسان ہونقوں کی طرح ایک ایک کا منھ دیکھ رہے ہوں ۔ مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ کسانوں کو یہ احساس دلایا جاسکے کہ ان کا حاکم اعلٰی کون ہےـ۔

    اس لعنت کو ختم کیا جانا بہت ضروری ہے۔ قانون سازی کے ذرئیعے اپنے آپ خواص سمجھنے والوں کو پابند کیاجائے۔ کہ عوام کے لئیے عوامی زبان بولنے ، لکھنے اور پڑھنے کو لازمی کیا جائے ورنہ پاکستان کی ترقی خواب صرف خواب رہیں گے۔

  24. یہاں پہ لکھنے میں کوئی مسئلہ ہے کہ بہت سے الفاظ لکھنے سے رہ جاتے ہیں۔ جبکہ میں عمدہ قسم کا کی بورڈ استعمال کرتا ہوں۔ شاید عجلت میں لکھا جانا بھی ایک وجہ ہو کہ مجھ سے ہی بہت سے الفاظ رہ جاتے ہوں۔

  25. تحصیلدار کے بارے یہ عرض کرنا کسی وجہ سے رہ گیا کہ ۔

    تحصیلدار وہان پہ موجود کسانوں کو محض یہ احساس دلانے کے لئیے کہ ان کا حاکم اعلٰی کون ہے ۔ اپنے اہلکاروں وغیرہ سے انگریزی میں بات چہت کرے گا یا ھدایات دے گا ۔ خواہ اس کے پیش نظر کسانوں کا کوئی ہی کوئی مسئلہ کیوں نہ ہو۔

  26. سیر حاصل تبصروں کا بہت شکریہ گوندل صاحب!
    معلومات میں بہت اضافہ ہوتا ہے آپ سے گفتگو کر کے۔ آپ نے یہاں لکھنے میں مسائل کا ذکر کیا ہے۔ میں تو نہیں جانتا کیونکہ میں فونیٹک کی بورڈ یا اردو ویب پیڈ وغیرہ استعمال نہیں کرتا بلکہ مائیکروسافٹ کا ڈیفالٹ کی بورڈ ہی استعمال کرتا ہوں۔ یہ اردو پیڈ کی سہولت تو صارفین کے لیے ہے تاکہ وہ با آسانی تبصرے کر سکیں۔ ممکن ہے کہ اس میں ٹائپنگ کے لیے دوران کچھ مسائل سامنے آتے ہوں۔ میں ذرا ایک نظر ڈالتا ہوں۔ توجہ دلانے کا شکریہ۔

  1. July 22, 2009

    [...] سے کالم نگار ارشاد حقانی کا کالم نہیں گزرا مگر شکریہ ابوشامل کا جنہوں اس موضوع کو اپنی تحریر کا حصہ بنایا۔ اس کے بعد [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.