احمد حسن دانی انتقال کر گئے

معروف تاریخ دان اور ماہر آثار قدیمہ احمد حسن دانی جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ مرحوم ایک عظیم ماہر لسانیات بھی تھے جس کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ انہیں 14 زبانوں پر عبور حاصل تھا جن میں [[اردو]] اور مقامی زبانوں [[پشتو]]، [[سندھی]]، [[پنجابی]]، [[کشمیری]]، [[سرائیکی]] کے علاوہ [[فارسی]]، [[فرانسیسی]]، [[ہندی]]، [[بنگلہ]]، [[مراٹھی]]، [[تامل]]، [[سنسکرت]] اور [[ترک زبان|ترک]] زبانیں بھی شامل تھیں۔
وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں [[پاکستان]]، [[پاکستان کے شمالی علاقہ جات|شمالی علاقوں]]، [[وسط ایشیا]]، [[ٹیکسلا]]، [[ٹھٹھ]]، [[وادی سندھ کی تہذیب]] اور [[بنگال]] کی عظیم تواریخ بیان کی گئی ہیں۔ (مکمل کتابیں یہاں گوگل کتب پر تلاش کی جا سکتی ہیں۔)

آثار قدیمہ کے لیے شاندار خدمات پر حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغۂ حسن کارکردگی اور ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا جبکہ وہ متعدد غیر ملکی اعزازات کے بھی حامل تھے۔ (مکمل اعزازات)
ان کے بارے میں کچھ تفصیلات یہاں وائس آف امریکہ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
اللہ مرحوم کے درجات کو بلند کرے اور ان کے کارناموں سے ہمیں مستفید ہونے کی توفیق دے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. کیا آپ جانتے ہیں کہ قدرت اللہ شہاب صاحب کے بعد احمد حسن دانی صاحب جموں کے مایہ ناز فرزند تھے ؟ جموں جو میری جائے پیدائش بھی ہے

  2. انا للہ و انا الیہ راجعون۔
    بہت افسوس ہوا دانی صاحب کی وفات کا پڑھ کر، مرحوم صحیح معنوں‌ میں ایک علمی شخصیت تھے، اور انکا کام ہمیشہ زندہ رہے گا، ایک دنیا کے ساتھ ساتھ میں بھی ان کا بہت بڑا مداح‌ ہوں۔
    اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائیں اور انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں، آمین!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *