ہم کہ ٹھیرے اجنبی

اس تحریر کا مطالعہ کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ آپ سقوط مشرقی پاکستان کے اسباب کے حوالے سے میری گزشتہ سال کی تحریر پڑھ لیں جو یہاں موجود ہے۔ اس پر قارئین کے سیر حاصل تبصرے بھی پڑھنے کے لائق ہیں۔

پاکستان کی تاریخ یوں تو ہمہ وقت کسی نہ کسی "نازک موڑ" پر کھڑی رہتی ہے، جس کا آمروں نے خوب فائدہ اٹھایا اور وہ اپنی حکومتوں کو اس جملے کی گردان کے ساتھ طول دیتے رہے کہ "پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے" لیکن حقیقتاً قومی تاریخ میں اگر کوئی نازک موڑ تھا تو وہ 1971ء کا سال تھا جس سال پاکستانی فوج و سیاست دانوں کے عاقبت نااندیشانہ فیصلوں نے قائد کے پاکستان کو دو لخت کر دیا۔

ہر سال 16 دسمبر کو یوم سقوط مشرقی پاکستان پر طویل بحثیں ہوتی ہیں، اسباب دوبارہ یاد دلائے جاتے ہیں اور عسکری و سیاسی قیادت کے واقعے سے کوئی سبق نہ سیکھنے کی دہائی دی جاتی ہے اور پھر 17 دسمبر کو سب کی زندگیاں ایک مرتبہ پھر اسی ڈگر پر چل پڑتی ہیں جیسی پہلے تھیں۔ سیکھےگئے اسباق کو ایک ہی روز میں بھلا دیا جاتا ہے اور سیاسی حکمت عملیاں عین اسی ڈگر پر چلتی رہتی ہیں جیسا کہ 1947ء سے چلی آ رہی ہیں۔

بہرحال، ذرائع ابلاغ جب سے آزاد ہوا ہے بلاشبہ اس نے پاکستان کے دو لخت ہونے کے اسباب کو بہت اچھے طریقے سے بیان کیا ہے، اس سے قبل کبھی ذرائع ابلاغ اس موضوع پر اتنا کھل کر بات نہیں کرتے تھے لیکن عام لوگوں کو تب مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ جب چند بنیادی اصطلاحات اور واقعات کو بیان نہیں کیا جاتا یعنی کہ عوام کو بتایا نہیں جاتا کہ مجیب الرحمن کے چھ نکات کیا تھے؟ بھٹو نے دستور ساز اسمبلی میں شرکت کرنے پر اراکین اسمبلی کی ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں کیوں دی تھیں؟ اور اسی طرح کے دیگر سوالات اور میری کوشش ہے کہ اس سال یوم سقوط ڈھاکہ کی تحریر معلوماتی ہو تاکہ عام لوگ چند چیزیں اپنے ذہنوں میں واضح کر سکیں۔ میں نے تحریر کو بے جا طوالت کا شکارہونے سے بچانے کے لیے مختصر کیا ہے، اگر کوئی پہلو بچ گیا ہو تو تبصرہ خانہ حاضر ہے نیچے سوال کر دیجیے میں کوشش کروں گا کہ اس کا جواب دے سکوں۔

مجیب الرحمن کے چھ نکات

ایوب خان کے آمرانہ دور کے اندر جس طرح اسلام اور جمہوریت پسند قوتوں کو کچلا گیا اس کے نتیجے میں قوم پرستانہ اور علیحدگی پسند رحجانات کو بہت تقویت ملی۔ یہی وجہ ہے کہ ان قوتوں کی ہمت اتنی بڑھ گئی کہ وہ علانیہ علیحدگی پسندانہ رحجانات کی تبلیغ کرنے لگے۔اس کی ایک مثال شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات تھے جن سے'سازش' کی بو صاف آتی ہے۔

مجیب الرحمن نے فروری 1966ء میں مندرجہ ذیل چھ نکات پیش کیے:

1: ملک میں وفاقی نظام قائم کیا جائے

2: وفاقی حکومت کے پاس صرف دفاع اور امور خارجہ کے محکمے ہوں باقی امور ریاستوں کے پاس ہوں

3: ریاستوں کے لیے جداگانہ مالی پالیسی اختیار کی جائے اور مشرقی پاکستان کا سکہ الگ ہو

4: وفاقی حکومتوں کو ٹیکس لگانے کا اختیار نہیں ہوگا

5: مشرقی اور مغربی پاکستان کی بیرونی تجارت کے بھی علیحدہ علیحدہ حسابات ہوں

6: ریاستوں کو نیم فوجی اور علاقائی فوجی دستے رکھنےکا آئینی اختیار ہو

مجیب الرحمن نے مطالبہ کیا کہ آئین سازی ان چھ نکات کو بنیاد بنا کر کی جائے۔ معاملہ آئین سازی کے ذریعے اور اسمبلی میں تو حل نہ ہو سکا تاہم 'میدان' میں حل کرنے کی کوشش بھی ناکام ہو گئی اور پاکستان دو لخت ہو گیا۔

اگرتلہ سازش اور مقدمہ

1968ء کے اوائل کا ایک مشہور مقدمہ جو عوامی لیگ کے سربراہ مجیب الرحمن کے خلاف قائم کیا گیا کہ انہوں نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان توڑنے کے لیے سازش بنا رکھی ہے۔ اس سازش کا نام بھارتی ریاست تری پورہ کے شہر اگرتلہ کے نام پر رکھا گیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مجیب الرحمن اور عوامی لیگ کے رہنماؤں نے اسی شہر میں بھارت کی قیادت سے ملاقات کی۔
اس سازش میں مجیب الرحمن کے علاوہ 34 دیگر رہنماؤں کے بھی نام تھے جنہیں گرفتار کر کے زندانوں میں ڈال دیا گیا۔ کچھ قید خانے ہی میں مار دیے گئے۔ ملزمان کی دوران حراست ہلاکت نے مشرقی پاکستان میں عوامی جذبات کو بھڑکا دیا اور بالآخر 1969ء میں حکومت کو یہ مقدمہ واپس لینا پڑا۔ 22 فروری 1969ء کو شیخ مجیب الرحمن کو رہا کر دیا گیا۔

اُدھر تم، اِدھر ہم

یہ وہ جملہ ہے جو شاید ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے اپنی زبان سے ادا تو نہیں کیا لیکن ان کے افعال و اعمال اور دیگر باتوں سے اِسی کی بو آتی تھی۔ بھٹو صاحب نے درحقیقت کبھی " اُدھر تم، اِدھر ہم " کا نعرہ نہیں لگایا بلکہ یہ سرخی اُن کی ایک تقریر کے بعد مشہور صحافی عباس اطہر نے 'روزنامہ مساوات' میں جمائی تھی یوں یہ جملہ ہمیشہ کے لیے بھٹو صاحب سے موسوم ہو گیا۔

ٹانگیں توڑدوں گا

مجیب الرحمن کے پیش کردہ چھ نکات دستور سازی کے معاملے میں بڑا اختلافی مسئلہ تھے۔ اس مسئلے کو اسمبلی میں حل کرنے کے بجائے حکومت نے پس پردہ گفتگو کرنے کی کوشش کی تاہم مفاہمت نہ ہو سکی۔ اس دوران ڈھاکہ، جو ضمنی دارالحکومت تھا میں مجلس قانون ساز (قومی اسمبلی) کا اجلاس طلب کیا گیا لیکن بھٹو صاحب کے غیر لچک دار رویے نے معاملے کو کھٹائی میں ڈال دیا۔ بھٹو صاحب نے علانیہ یہ کہا کہ مغربی پاکستان کا جو بھی رکن قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ اس صورتحال کو پیدا ہونے کے بعد فوجی حکومت نے فروری 1971ء میں اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کےلیے ملتوی کر دیا۔ یہ راہ بند ہو جانے کے بعد اب کوئی اور راستہ نہ بچا تھا اور اگلے ہی مہینے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔

البدر

مشرقی پاکستان کے آخری ایام کا ایک معاملہ مغربی پاکستان کے "روشن خیال" حلقے بہت زیادہ کراہیت کے ساتھ سامنے لاتے ہیں وہ مذہبی جماعتوں کا وفاق پاکستان کی حمایت کرنا اور اس معاملے پر وفاقی حکومت کی مدد کرنا کہ وہ علیحدگی پسند عناصر سے نمٹنے میں کامیاب ہو۔
25 مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان میں عسکری آپریشن کے عاقبت نااندیشانہ فیصلے کے بعد عوامی لیگ کے منتخب اراکین کی بڑی تعداد سمیت لاکھوں افراد ہندوستان ہجرت کر گئے۔ وہاں اراکین اسمبلی نے 17 اپریل کو آزادبنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کیا اور مزاحمتی تحریک کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں عسکری تنظیم تشکیل دی گئی اس کا نام مکتی باہنی (فوجِ آزادی) رکھا گیا اور اسے بھارت نے علانیہ عسکری و تربیتی مدد فراہم کی اور یہ بھارتی فوج کے سائے تلے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے مشن کو لے کر میدان میں آ گئی۔ اس صورتحال میں خاموش بیٹھے رہنے کا مطلب تھا کہ مذہبی جماعتیں اسلام کے نام پر بننے والے ملک کو ٹوٹتا دیکھیں اور یوں مجرمانہ خاموشی برتیں۔ انہوں نے مکتی باہنی کے مقابلے کے لیے البدر کے نام سے ایک تنظیم بنائی جنہوں نے ہر جگہ مکتی باہنی کا سامنا کیا اور پاکستان کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ البدر کے لیے سب سے مشکل مرحلہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد کی صورتحال تھا۔ فوج تو ہتھیار ڈال کر ایک طرف ہو گئی لیکن ان رضاکاروں کو دشمنوں کے چنگل میں چھوڑ گئی۔ محض چند دنوں میں البدر کے 10 ہزار کارکنوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ آج وطن عزیز کے لیے جانیں دینے والوں کو پاکستان میں کوئی اچھے لفظوں سے یاد کرنے والا بھی نہیں ہے۔ وہ لوگ جو دلوں میں قوم پرستی کی بیماری لیے بیٹھے ہیں وہ پاکیزہ روحیں آج بھی ان کی طعن و تشنیع کا نشانہ ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ تصفیہ کے تمام راستے مغربی پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے بند کر دیے تھے اس صورت میں حب الوطنی کا واحد تقاضا یہی تھا کہ پاکستان کو قائم رکھنے کے لیے فوج کا ساتھ دیا جاتا اور یوں اسلام پسند عناصر نے یہی راستہ چنا اور پھر اس کی سزا بھی بھگتی اپنے ہزاروں کارکنوں کی جانوں کی صورت میں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

17 تبصرے

  1. دوست says:

    البدر وغیرہ پر کئی قسم کے فوجی جرائم کے الزامات بھی لگائے جاتے ہیں.

    • کیوں نہیں لگائے جائیں گے جناب۔ جب فوج کی حمایت کریں گے تو فوج پر لگائے گئے الزامات بھی تو لینے پڑیں گے۔ اصل مسئلہ وہ پوزیشن ہے جس پر مذہبی جماعتیں مشرقی پاکستان میں موجود تھیں۔ وہاں اس کے علاوہ کیا چارہ تھا ان کے پاس؟ اگر وہ پاکستان کی حمایت نہ کرتیں تو آج اس سے زیادہ گالیاں کھا رہی ہوتیں کہ انہوں نے مملکت سے غداری کی۔

  2. راشد حسین says:

    ڈھاکہ میں نے بھی ڈوبتے دیکھا ہے۔ اس دن وہ ڈھاکہ مرگیا جہاں میں نے جنم لیا تھا، جہاں میں نے کرکٹ کے پہلے اور شاید آخری سبق لیے تھے کہ اسکے بعد کبھی کرکٹ کی فرصت ہی نہ ملی۔ اس دن میرا بچپن ایسا گیا کے پھر کبھی لوٹ کر نہ آیا اور زندگی بدل گئی۔ میرا شہر مجھ سے روٹھ گیا تھا اور ایسا روٹھا کہ میرا دشمن ٹھہرایا گیا۔
    میں اسوقت سیکنڈ کیپیٹل اسکول میں ساتویں جماعت کا طالبعلم تھا۔ دسمبر میں امتحانات ہونے والے تھے سو اسکی تیاری بھی تھی۔ امتحانات کے بعد مجھے انعام بھی ملنے والا تھا اور میرے استاد کاظمی صاحب نے مجھے ملنے والی کتاب دکھائی بھی تھی۔ ابھی مجھے کتاب ملنے بھی نہ پائی تھیی کہ جنگ چھڑ گئی۔

    جس دن جنگ چھڑی اس دن صدر یحییٰ خان کی تقریر کے دوران ہی مجھے دکان دوڑایا گیا تاکہ میں اپنے چھوٹے بھائی کیلیے دودھ کے ڈبے لاسکوں۔ جنگ چھڑنے سے کچھ پہلے ریڈیو پاکستان ڈھاکہ پر جنرل نیازی کو یہ پڑھتے سنا تھا

    ان سرحدوں کی جانب کبھی نظر اٹھا کر نہ دیکھنا
    کہ یاں سنتری کھڑے ہیں
    یہاں بدر کا ہے عالم
    یہاں حیدری کھڑے ہیں

    بعد ازاں میں عرصہ تک ان حیدریوں کو تلاشتا رہا پر کہیں نہ ملے۔

  3. راشد حسین says:

    بریگیڈیئر اے آر صدیقی، جو پاکستان کے معروف دفاعی تجزیہ نگار اور صحافی ہیں، مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی اور اس کے پاکستان سے علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بننے کے زمانے میں حکومت کا حصہ تھے اور اب انہوں نے اپنے چشم دید واقعات کو تینتیس سال بعد بالآخر ’ایسٹ پاکستان۔ دی اینڈ گیم: این اونلُکرز جرنل‘ کے نام سے کتابی شکل دی ہے۔
    بریگیڈیئر صدیقی کی کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس سے مشرقی پاکستان کے واقعات ہی نہیں بلکہ فوج کی سیاست میں ملوث ہونے اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کی سوچ بھی واقعات کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ کس طرح یحیی خان اقتدار سنبھالنے سے ایک ماہ پہلے ہی ایوب خان کو ہٹا کر مارشل لا لگانا چاہتے تھے اور وہ سیاستدانوں کو بھیڑیے اور جوکرز قرار دیا کرتے تھے۔
    بریگیڈیئر صدیقی نے بہت تفصیل سے نو ماہ تک ہونے والے فوجی کارروائی اور قتل و غارت کی کہانی بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح فوج کے بعض افسر بنگالیوں کو سبق سکھانے کی باتیں کیا کرتے تھے۔

    اس ضمن میں انہوں نے اس وقت ڈھاکہ میں تعینات میجر جنرل محمد حسین انصاری کی تعریف کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ مشرقی پاکستان میں فوج کی زیادتیوں پر نالاں تھے اور ان سے کہتے تھے کہ ہمیں ہر عورت سے ہونے والے زنا بالجبر اور ہر قتل کا حساب دینا پڑے گا۔

    اس کے برعکس مشرقی پاکستان میں فوج کے کمانڈر جنرل اے کے نیازی کے بارے میں صدیقی لکھتے ہیں کہ وہ جوانوں کے غیر انسانی اور بہیمانہ حرکتوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے اور اپنی آنکھوں میں شیطانی چمک کے ساتھ فوجی جوانوں سے پوچھا کرتے تھے کہ ’شیرا کل رات تیرا اسکور کتنا رہا۔‘ یہاں اسکور سے مراد جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے والی عورتوں کی تعداد سے ہوتی تھی۔

    بریگیڈیئر صدیقی لکھتے ہیں کہ جنرل نیازی فوجیوں کی عورتوں کو بےحرمت کرنے کا دفاع کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ’آپ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ایک فوجی مشرقی پاکستان میں رہے ، لڑے اور مارا جائے اور جنسی عمل جہلم جاکر کرے۔‘

  4. Usman Chugtai says:

    “اس صورتحال میں خاموش بیٹھے رہنے کا مطلب تھا کہ مذہبی جماعتیں اسلام کے نام پر بننے والے ملک کو ٹوٹتا دیکھیں “

    يہ وہی مذہب کا کاروبار کرنے والی سياسی جماعتيں نہيں جو پاکستان کے قيام کی مخالف تھيں اور اسے ناپاکستان، پليدستان اور نہ جانے کيا کہا؟ اسوقت ان کو اسلام کے نام پہ بننا ياد نہيں رہا؟

    حقيقت يہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ان جماعتوں نے ديکھا کہ مخالفت کے باوجود پاکستان بن ہی گيا ہے تو کيوں نا مذہب کے نام پہ پاکستانيوں کو بيوقوف بنا کر پاکستان کے مامے بن بيٹھا جائے۔

    • عثمان چغتائی صاحب
      ان مذہبی جماعتوں کے نا م بھی بتا دیں۔
      ہمیں صرف جماعت اسلامی کے نام کا معلوم ھے۔
      جماعت اسلامی نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی۔
      لیکن پاکستان بننے کے بعد ان کے دین کیلئے اچھے کام بھی ہیں۔

    • مسٹر چغتائی میرا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ اپنا خبث باطن یہاں ظاہر نہ کریں. اگر کسی کا اچھا کام ہضم نہیں ہو تو بَک بَک سے پرہیز کرنا چاہئے.

  5. سقوطِ ڈھاکہ کے مجرم ہيں اُس وقت کے جرنيل اور ذوالفقار علی بھٹو
    مجيب الرحمٰن تو قابلِ اعتماد کبھی بھی نہ تھا ۔ جس پارٹی کا وہ رُکن تھا اُس کے صدر "حسين شہيد سہروردی" بھی اسے قريب نہيں آنے ديتے تھے
    ايک بہت اہم کردار ہے جسے اس وقت کے فيصلہ سازوں نے مکمل طور پر دُور رکھا ۔ يہ واحد شخص تھا جو مجيب الرحمٰن کا مقابلہ کر سکتا تھا ۔ "عبدالحميد خان بھاشانی"

  6. خرم says:

    سقوط مشرقی پاکستان کے اسباب عقلی سے زیادہ جذباتی تھے لیکن اس کی بنیادی وجہ آج بھی اسی شدت کے ساتھ موجود ہے اور وہ ہے معاشرتی عدم انصاف۔ اسوقت بھی ہمارا معاشرہ انصاف سے محروم تھا اور آج بھی انصاف سے محروم ہے۔ حد یہ ہے کہ جب آئی ایم ایف ٹیکس لگانے کی سفارش کرتا ہے تو آلوؤں، ٹینڈوں پر ٹیکس لگا کر عوام کا خون چوسا جاتا ہے اور جو اربوں کروڑوں پتی ہیں ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا جاتا۔ لوگ پہلے خودسوزیاں کرتے ہیں اور پھر آپ کا باربی کیو بنانے لگ پڑتے ہیں۔ پہلے لوگوں کو عشروں تک گیس کی کمائی کا بلا شرکت غیرے مالک بنایا جاتا ہے اور پھر جب وہ اپنے ہی ظلم کی ماری رعایا کو آپ کے خلاف اکٹھا کرلیتے ہیں تو آپ سٹپٹا کر اسی رعایا کی ایسی تیسی کرنے لگ پڑتے ہیں اور اپنی لئے مزید گڑھے کھودتے جاتے ہیں۔

    • صد فی صد درست فرمایا جناب۔ المیہ یہی ہے کہ آج بھی ہماری صورتحال بعینہ وہی ہے جو 1971ء یا اس سے قبل تھی۔

  7. آپ نے سقوط ڈھاکہ کے سلسلے میں مجیب الرحمن کے 6 نکات اور البدر کے محرکات پیش کیے اور بھٹو صاحب کی کارستانیاں بھی لیکن ان کا اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل میں جنگ بندی کی قرارداد کو پھاڑ ڈالنے کا واقعہ بھی کم اہم نہیں ہے. ہندوستانی افواج ڈھاکہ کے قریب پہنچ گئیں ہیں اور محترم بھٹو بڑے طمطراق سے اقوام متحدہ میں گرج رہے ہیں کہ ہم واپس جاکر لڑیں گے، ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اگلے دن ہتھیار ڈال دیے گئے.
    ایسا نہیں ہے کہ اگر جنگ بندی کی قرارداد منظور ہوجاتی تو پاکستان ٹوٹنے سے بچ جاتا لیکن اتنا ضرور ہوتا کہ 90 ہزار جنگی قیدیوں کا داغ شایدہمارے ماتھے پر نہ لگتا اور معاملہ مذاکرات کی میز پر طے پاجاتا۔۔۔۔

    یہ راشد حسین صاحب جو شاید ان کا اصل نام نہیں ہے میرے بلاگ کے ساتھ ساتھ نہ جانے کہاں کہاں بی بی سی کے بڑبولے کی تحریروں سے اقتباسات اپنے اطمینان قلب کے لیے کاپی پیسٹ کررہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

    • بھائی وقار، میں نے کوئی محرکات پیش نہیں کیے۔ سقوط ڈھاکہ کے جو اسباب پیش کرنا تھے وہ میں پچھلے سال کی تحریر میں پیش کر چکا جس کا لنک مندرجہ بالا تحریر کے ابتدائی جملے میں موجود ہے۔ اس تحریر کا مقصد سقوط ڈھاکہ سے منسوب چند باتوں کو لوگوں کے ذہنوں میں واضح کرنا تھا۔ جیسا کہ مجیب کے چھ نکات کے بارے میں کہا تو بہت جاتا ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ چھ نکات دراصل کیا تھے۔ بس میری کوشش یہی تھی۔ اسباب جاننے کے خواہشمند میری گزشتہ تحریر پڑھیں۔

  8. قیصرانی says:

    اتنی زیادہ تاخیر کے لئے معذرت۔ البدر کے حوالے سے میرے تحفظات ہیں کہ جب ریاست موجود ہے، فوج چاہے جس مشن کے تحت بھی ہو، میدان میں آ چکی ہے تو البدر نے کس مذہبی یا سیاسی یا کسی بھی اور حوالے سے اپنی مسلح جدوجہد شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا؟

    اگر جماعت اسلامی اتنی ہی بنگلہ دیش میں مقبول ہے تو اس کی کتب کو مدرسوں کے نصاب سے کیوں نکال رہے ہیں؟

    ابو شامل، معذرت کے ساتھ، آپ کی تحریر واضح طور پر جماعتِ اسلامی کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ تاریخ کا تجزیہ کرنے کے لئے غیر جانبداری سے ہر کردار اور اس کے ہر فعل کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔ اس کے لئے اپنے پسندیدہ اور ناپسند دونوں ہی کرداروں کی غیر جانبدارنہ تحقیق کرنی ہوتی ہے۔ تبھی جا کر ہم ماضی کی غلطیوں کو جان کر اس سے بچاؤ کا سبق حاصل کر سکتے ہیں۔

    براہِ کرم اسے میرے ذاتی رائے سمجھئے کہ ہر انسان کو آزادئ اظہارِ رائے حاصل ہے

    • ابوشامل says:

      برادر قیصرانی! سب سے پہلے تو بلاگ پر تہہ دل سے خوش آمدید۔ آپ کو یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ دوسری اہم بات یہ کہ اظہار رائے کی آزادی بہت بنیادی شے ہے اور الحمد للہ میں اس کا قائل ہوں۔ ہم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کے ذریعے آپس کی کئی غلط فہمیوں کو دور کر سکتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے کئی مسائل کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم آپس میں گفتگو نہیں کرتے، ڈائیلاگ بہت بنیادی نوعیت کی شے ہے جو کئی مفروضوں کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ بہرحال، آپ کے تحفظات کی طرف آتا ہوں۔
      میرے خیال میں آپ جنگ 1971ء کی تاریخ کے بارے میں کچھ مطالعہ کر لیں، خصوصا البدر کی جدوجہد کا آغاز کیسے ہوا اور اس کی جدوجہد کام محور کیا تھا۔ اصل میں پاک فوج کو مقامی علاقے کی اتنی زیادہ معلومات نہیں تھی جیسا کہ آپ کو پتہ ہوگا کہ مشرقی پاکستان میں فوجی نفری بہت کم تھی۔ یہی وجہ ہےکہ انہیں کسی لوکل فورس کی ضرورت تھی جو ان کی مدد کر سکے۔ عوامی لیگ اپنے مسلح دھڑے مکتی باہنی کے ذریعے ہر جگہ کارروائی کر رہی تھی اس صورتحال میں البدر جیسی تنظیم کا قیام عمل میں آنا ضروری تھا۔ تاہم میری ذاتی رائے یہی ہے کہ یہ جماعت اسلامی کی بہت بڑی سیاسی غلطی تھی، بلکہ ماضی و مستقبل کی بہت ساری سیاسی غلطیوں میں سے ایک تھی۔ اس کا نقصان اسے اٹھانا پڑا کہ صرف 71ء کی جنگ کے دوران اور بعد میں اس کے 10 ہزار کارکن قتل کر دیے گئے۔ بعد ازاں اسے کئی حکومتوں میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب بھی صورتحال ان کے لیے حوصلہ افزاء نہیں ہے۔
      باقی آپ نے مدارس سے کتب نکالنے والی بات کی ہے وہ سب 71ء کی جنگ میں فوج کا ساتھ دینے کا شاخسانہ ہے۔ اک ایسی جماعت جو اپنے ملک کی بنیادوں سے اختلاف رکھتی ہو اس کے فلسفے اور نظریے کو کون سی حکومت پنپنے دے گی؟
      آپ کا یہ کہنا درست ہے کہ میری تحریر جماعت اسلامی کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ جماعت نے وقت کے لحاظ سے بہترین فیصلہ کیا کیونکہ ایک محب وطن جماعت کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ اپنے وطن کے لیے مر مٹے۔اس کے علاوہ 71ء میں مشکل مراحل میں ملک کے لیےکچھ نہیں کیا بلکہ خاموش تماشائی بنے رہے یا پھر ایسے عاقبت نا اندیشانہ فیصلے کیے جس کا نتیجہ ملک ٹوٹنے کی صورت میں نکلا۔

  9. قیصرانی says:

    براہِ کرم اسے میرے ذاتی رائے سمجھئے کہ ہر انسان کو آزادئ اظہارِ رائے حاصل ہے

    میں ایک تبدیلی کرنا چاہوں گا

    براہِ کرم اسے میری ذاتی رائے سمجھئے کہ ہر انسان کو چند حدود کے اندر رہ کر آزادئ اظہارِ رائے حاصل ہے۔

  10. محمد آصف ویرانی says:

    جناب مجھے کچھ کتابوں کا نام بتایئں جو سانحہ مشرقی پاکستان پر ھوں جو میری معلومات میں اضافہ کریں شکریہ

  1. December 16, 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Abu Shamil, Abu Shamil. Abu Shamil said: ابوشامل - ہم کہ ٹھیرے اجنبی http://bit.ly/ig5nrQ [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.