الیاس سیتا پوری اور ضیاء تسنیم بلگرامی

تحریر از مہمان بلاگر: زبیر انجم
میگزین رسائل جرائد اور ڈائجسٹ پڑھنا کسی طرح سنجیدہ مطالعے کے زمرے میں نہیں آتا (تاہم ادبی مجلے اور تذکرے اس سے مستثنٰی ہیں ) تاریخ، ادب، فلسفے اور عمرانیات کے بارے قرار واقعی علم حاصل کرنے کے لئے موضوع کی مناسبت سے مفصل کتاب ہی سے موضوع کا حق ادا ہوسکتا ہے۔ مگر میں ڈائجسٹ اور جرائد کے اس کردار کا ضرور معترف ہوں جو سنجیدہ مطالعے کے ذوق کی پیاس پیدا کرنے میں انہوں نے ادا کیا ہے۔ ہر چیز کی طرح مطالعے کا ذوق بھی بتدریج ہی پروان چڑھتا ہے اگرچہ میری عمر اور کتاب خوانی کا تجربہ اتنا وسیع نہیں ہے مگر میرا اپنا تجربہ مجھے یہی بتاتا ہے۔
سات سال کی عمر میں، میں نے اپنے جیب خرچ میں سے پچیس پیسے بچا کر میں نے اپنی پہلی کہانی خریدی تھی۔ اس کے سرورق پر بنی خوفناک جن کی تصویر آج بھی میرے ذہن سے محو نہیں ہوتی۔ اس کے بعد جن بھوت پریتوں اور جادوگروں کی کہانیوں اور کئی سال تک بچوں کے ادب کے ماہانہ پرچے پڑھنے کے بعد تیرہ سال کی عمر سے چھوٹے چچا سے چھپ کر ان کے سسپنس اور جاسوسی ڈائجسٹ پڑھنے شروع کئے تاہم اٹھارہ انیس سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد ان رسالوں کا لطف بھی جاتا رہا۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد چھٹیوں میں گھر کے کباڑ سے میرے ہاتھ 70 اور 80 کے عشرے کے تلف کئے گئے سب رنگ ڈائجسٹ لگے جن کا معیار میں 1990 کے عشرے کے سسپنس اور ڈائجسٹ سے بدرجہا بہتر پاتا اور انہیں ڈائجسٹوں میں میرا الیاس سیتاپوری اور ضیا تسنیم بلگرامی کے زیادہ وسیع کام سے اصل تعارف ہوا جبکہ کرشن چندر اور ممتاز مفتی ایسے کمال فن رکھنے والے افسانہ نگاروں سے شناسائی پیدا ہونا بھی اسی دور کا تحفہ ہے۔ لیکن اس کے بعد میں نے ڈائجسٹ نہیں بلکہ ان مصنفین کی کتابیں خریدیں اور اس کے بعد مطالعے کا سفر شعر و ادب، انگریزی فکشن سے ہوتا ہوا ان دنوں تاریخ معاشیات، مابعد الطبعیات اور مابعد جدیدیت اور دیگر عمرانیاتی موضوعات پر جاری ہے۔
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے
نے باگ ہاتھ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
یہ باتیں تو بلاوجہ ہی ضبط تحریر میں آگئیں محض یہ بتانے کے لئے کہ اگرچہ جرائد اور ڈائجسٹ سنجیدہ مطالعے کے زمرے میں تو نہیں آتے مگر مطالعے کے ذوق کو سنجیدگی کے مطلوبہ معیار تک پہنچانے کے لئے ان کے بغیر بھی شاید آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
جہاں تک الیاس سیتاپوری کی تاریخ نگاری کا تعلق ہے تو ان کا انداز ٹیکسٹ بک یا مستند انداز تاریخ نگاری سے یکسر مختلف ہے۔ تاریخ نگاری کا وہ رائج انداز جو مستند سمجھے جانے والے مسلم مورخین یا مستشرقین نے اختیار کیا اس میں لکھنے والوں کا سب سے زیادہ زور واقعات کی صحت ثابت کرنے پر محسوس ہوتا ہے جو قاری کو بہت جلد بور کر کے کتاب کو دوبارہ طاقِ نسیاں میں رکھ ڈالنے پر مجبور کردیتا ہے۔میرا خیال ہے الیاس سیتاپوری نے کبھی واقعات کی صحت کو ثابت کرنے پر زور نہیں دیا بلکہ اس عہد کے مرکزی کرداروں کے بجائے ایک معمولی شخصیت سے اس عہد کو سمجھانے کی کوشش کی ہے جس سے قاری خود کو اسی دور میں چلتا پھرتا اور واقعات کو اپنے سامنے رونما ہوتے ہوئے محسوس کرتا ہے اور اس اپروچ سے کام ہی کو میں الیاس سیتاپوری کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھتا ہوں۔ اگر آپ تاریخ کو پڑھنے کے بجائے اس عہد میں لوٹنا چاہتے ہیں تو اپنے ذہن میں پہلے سے موجود تاریخ نگاری کے سانچوں کو توڑ کو الیاس سیتاپوری کی جانب آیئے یقین جانئے بہت لطف آئے گا۔
اور
جہاں تک تعلق ہے ضیاء تسنیم بلگرامی صاحبہ کا، انہوں نے بھی اپنے کام کے لئے جن شخصیات کا انتخاب کیا ہے اس کے بارے میں میں نعیم صدیقی مرحوم کی یہ نگارشات مجھے یاد آگئیں ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ نعیم صدیقی کیا کہتے ہیں:
’’ زندگی کے شہر میں اولادِ آدم کے انبوہ پائے جاتے ہیں۔ ان میں ہر آن کچھ تعداد پردۂ عدم کے پیچھے چلی جاتی ہے اور اپنے سے زیادہ جانشین چھوڑ جاتی ہے مگر ان میں مجسمہ ہائے حسن و خوبی کم ہوتے ہیں۔ اشخاص کروڑوں ہوتے ہیں لیکن شخصیت کم کم میں پائی جاتی ہے اور پھر ان میں تابناک شخصیات تو اکا دکا ہی پائی جاتی ہیں۔ شخصیت نگار کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہجوم میں سے کوئی ایسی بہترین شخصیت کا انتخاب کرے جس کے فکر و عمل سے سب سے زیادہ استفادہ کیا جاسکتا ہو جس کی مثال سے دوسروں کو زیادہ سے زیادہ روشنی بہم پہنچائی جاسکتی ہے جس کو سمجھنا واقعی ضروری ہو، اور اس کی دوسری ذمہ داری ہے کہ وہ کسی شخصیت کی تصویر گری ایسے زاویوں سے کرے کہ دوسرے لوگ اس سے زیادہ سے زیادہ اخذ و اکتساب کر سکیں۔ ‘‘
یہ تو تھی شخصیت نگاری کے بارے میں نعیم صدیقی کی رائے۔ جس کے بعد صرف اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ جو لوگ ضیاء تسنیم بلگرامی کے کام سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے یہ کام کس حسن و خوبی سے کیا ہے اور جو واقف نہیں ہیں۔ وہ صرف ان کی تصانیف کے عنوانات سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے کام کے لئے کیسی شخصیات کا انتخاب کیا۔ انبیائے کرام کے حالات زندگی ہوں یا صحابہ کرامؓ کی عشق و مستی کے واقعات۔ مجدّدین کی جدوجہد ہو یا اولیائے کرام اور مجاہدین کے کارنامے، ان تمام لوگوں کے کام اور شخصیت کا جس خوبصورتی اور غیر جانبداری سے احاطہ کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ جبکہ حق کی شناخت کے لئے ان لوگوں کے حالات زندگی بھی بتائے جو باطل کی علامت سمجھے جاتے ہیں کیونکہ چیزیں اپنی ضد ہی سے پہچانی جاتی ہیں۔
الغرض سیتاپوری مرحوم اور بلگرامی صاحبہ نے جو کام کیا وہ اپنی مثال آپ ہی ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

13 تبصرے

  1. آپ نے اپنے مطالعے کی بارے میں‌ جو لکھا، میرا شوقِ مطالعہ بھی بالکل انہی خطوط پر پروان چڑھا، بچپن میں عمرو عیار، ٹارزن اور جنوں ‌پریوں کی کہانیاں اور پھر عمران سیریز اور جاسوسی ڈائجسٹ، ہاں یہ کہ انکے بعد میں‌ نے مزید ڈائجسٹ نہیں‌ پڑھے بلکہ کالج لائبریری کا قتیل ہو گیا۔ اسے اپنے کم مائیگی ہی کہوں‌ گا کہ الیاس سیتا پوری اور بلگرامی صاحبہ دونوں‌ کی تحاریر سے مستفید نہیں ہو سکا!

  2. خوب تو گویا زبیر صاحب بھی مطالعے کے قتیل ہیں 🙂
    میرے خیال میں انہیں اپنا بلاگ شروع کر لینا چاہیئے کہ اس طرح با مطالعہ اردو بلاگرز کی تعداد میں اضافہ ہوگا!

  3. نبیل says:

    فہد، کیا زبیر نے بطور گیسٹ رائٹر یہ تحریر پوسٹ کی ہے؟‌اگر ایسا ہے تو ان کا نام بھی ظاہر ہونا چاہیے۔

  4. حسن جمیل says:

    زبیر بھا ئی کا مضمون اچھا ہے، ان کو چاہئے تھا آخر میں کچھ مثالیں بھی دے دیتے عنوانات کی، ضیاء تسنیم بلگرامی صا حبہ کے مضامین کے۔ بہر حال اچھا ہے، ان کو جاری رکھنا چاہیے لکھنا۔

  5. ظفر ملک، اسلام آباد says:

    میں نے زبیر انجم صدیقی کے ساتھ تقریبا دو سال تک کام کیا لیکن اس دوران ان کی قابلیت کے جوہر بہت کم کم کھلے۔ زبیر انجم ان لوگوں میں سے ہیں جو عام طور پر ناک کی سیدھ میں چلنے پر یقین رکھتے ہیں، اور خود کو نمایاں کرنے کی شاز ہی کوشش کرتے ہیں، میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آج بھی جس بے جگری سے زبیر انجم رزق حلال کی حصول کی کوششوں میں کئی مرتبہ بٹوے اور موبائل سے محروم ہو چکے ہیں، اوراس کے باوجود وہ ثابت قدمی سے جانب منزل رواں ہیں مجھے قطعا مایوسی نہیں ہے بلکہ میں پرجوش حد تک پر امید ہوں کہ ان کی منزل بہت قریب ہے۔ انشااللہ 😆

  6. زنوبیا الیاس says:

    اپنی والدہ ضیا تسنیم بلگرامی کی طرف سے میں زبیر انجم

    صاحب کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے اتنا عمدہ (اور ثقیل اردو والا) بلاگ تحریر کیا۔۔ میرے والد مرحوم الیاس سیتاپوری ہمیشہ نوجوان لکھنے والوں کو سراہتے تھے اور یقینا اردو بلاگرز کو وہ بھت سراہتے پر صد حیف کہ وہ اس وقت ہمارے درمیان نہیں۔۔

    لیکن دیکھا جائے تو ایک اچھا انسان اور بالخصوص ایک اچھا مصنف ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔۔۔ اپنے کام کے ذریعے۔

  7. اسرار says:

    كيا سیتاپوری كی كوئی ویب سائت ہے؟

  8. تمام احباب کو السلام علیکم!
    سپنس رسالہ فقط پہلی کہانی، کے لیے خریدتا تھا، الیاس سیتاپوری کی کہانی ایک ہی نشست میں پڑھ کر دم لیتا تھا، نسیم حجازی کے تمام ناول، پڑھ چکا ہوں، تاریخ کے ساتھ انسیت اتنی ہے کہ اگر میرے پاس کو تاریخی کتاب یا ناول ہو تو۔۔۔۔۔۔بس کسی کی ضرورت نہیں،
    کوئی بھائی اگر الیاس سیتاپوری کے ناولوں کے نام لکھ دے تو کیا ہی بات ہے۔

  9. kashif mehmood says:

    کچھ ادیب زیادہ مقدار میں لکھنے والے ھوتے ھیں -الیاس سیتا پوری کی بیگم کا نام ضیاء تسنیم بلگرامی ھے- اور الیاس سیتا پوری ھی ضیاء تسنیم بلگرامی کے نام سے لکھتے تھے- یہ ایسے ھی ھے جیسے مشہور ڈائجسٹ مصنف کاشف زبیر اپنی بیگم کے نام سے لکھتے تھےیا پھر حکایت ڈائجسٹ کے مولوی عنایت اللہ نے بیسوں ناموں سے اپنے ڈائجسٹ میں لکھا-
    یہ سب اپنی مذید کمائی کے لیےآج کل کےمشکل معاشی دور میں کچھ ادیب کرتے ھیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.