امن کی آشا کے جواب میں بھارت کی بھاشا

انڈین پریمیر لیگ کے لیے کھلاڑیوں کی "نیلامی" کے موقع پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ اختیار کیا گیا وہ اس بات کا عکاس ہے کہ "امن کی آشا" رکھنے والے کتنی بڑی بھول کا شکار ہیں۔ جب کرکٹ جیسے معمولی کھیل میں بھی بھارت پاکستانی کھلاڑیوں کے حصہ لینے کا روادار نہیں تو بڑے پیمانے پر کس طرح دونوں ممالک ساتھ چل سکتے ہیں۔ بھارت نے یہی حرکت ٹوئنٹی 20 چیمپینز لیگ کے موقع پر بھی کی تھی، جب پاکستان کی قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین ٹیم سیالکوٹ اسٹالینز کو شرکت نہیں کرنے دی گئی اور یوں چند سال قبل برطانیہ میں دنیا بھر کی قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین ٹیموں کو شکست دینے والی ٹیم یہ ٹورنامنٹ ٹی وی پر ہی دیکھ پائی۔

دنیا بھر میں آئی پی ایل کے اس قدم کو حیران کن سمجھا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان ٹوئنٹی 20 کرکٹ کا موجودہ عالمی چیمپین ہے اور اس طرز میں دنیا کے بہترین کھلاڑی پاکستان کے پاس ہیں۔ ٹوئنٹی 20 میں پاکستان دنیا کی تمام بڑی ٹیموں کو شکست دے چکا ہے، چاہے ٹیسٹ اور ون ڈے میں اس کی کارکردگی کیسی بھی ہو۔ اس صورتحال میں دنیا کی سب سے بڑی لیگ میں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی شمولیت کو روکنا سمجھ سے باہر ہے۔

حیران کن امر یہ ہے کہ جن کھلاڑیوں کو آخری بولی میں پاکستانیوں پر ترجیح دے کر خریدا گیا ہے وہ یا تو انتہائی کم تجربہ کار ہیں یا چلے ہوئے گھوڑے ہیں، جن کی اب کسی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں۔ جن کھلاڑیوں کو سب سے زیادہ قیمت میں خریدا گیا ان کا ریکارڈ ملاحظہ کیجیے۔ کیرون پولارڈ کو 7 لاکھ 50 ہزار ڈالرز میں خریدا گیا جبکہ انہوں نے اب تک صرف 10 ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں جن میں 7 اننگ میں صرف 86 رنز اسکور اور 7 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ دوسری جانب اسی قیمت پر خریدے گئے شین بونڈ مسلسل اپنی فٹنس سے مقابلہ کر رہے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ سے صرف اس لیے ریٹائرمنٹ لی کیونکہ وہ چھوٹی طرز کی کرکٹ پر اپنی توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ اس وقت شین بونڈ کی عمر 34 سال ہے اور بلاشبہ وہ ہر گز 18 سالہ محمد عامر سے اچھا آپشن نہیں ہیں۔ ٹوئنٹی 20 کھیلنے کا ان کا تجربہ بھی محض 13 مقابلوں کا ہے جس میں 17 وکٹیں ان کے ہاتھ لگی ہیں۔ کیا یہ کھلاڑی کسی بھی طرح عامر یا عمر گل یا شاہد آفریدی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن پاکستانی کھلاڑیوں کو ٹھکرایا گیا ان میں آئی پی ایل کے پہلے ایڈیشن کے بہترین کھلاڑی سہیل تنویر، متنازع انڈین کرکٹ لیگ کے شعلہ فشاں بلے باز عمران نذیر، اکمل برادران اور ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ وکٹیں رکھنے والے عمر گل بھی شامل تھے۔

فرنچائزز کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ خریدنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ کسی ایسے کھلاڑی پر رقم نہیں لگانا چاہتے جس کی شرکت یقینی نہ ہو۔ لیکن  آخری بولی سے چند روز قبل ہی سے یہ افواہیں گردش میں تھیں کہ آئی پی ایل انتظامیہ نے فرنچائزز کو پاکستانی کھلاڑیوں کی بولی نہ لگانے کی ہدایت کر دی ہے۔ گو کہ انتظامیہ نے ان افواہوں کی تردید کی لیکن بولی میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک اور پھر للت مودی کے بیان نے واضح کر دیا کہ انتظامیہ اور فرنچائزز نے پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں شامل نہیں کرنا۔

پاکستان کے کئی کھلاڑیوں نے آئی پی ایل کے پہلے ایڈیشن میں شرکت کی تھی جن میں سے سہیل تنویر کو شاندار کارکردگی کی بدولت پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا تھا۔ سہیل کی ٹیم راجھستان رائلز نے پہلے ایڈیشن میں فتح حاصل کی تھی۔ اگلے سال ممبئی حملوں کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو بھارت جانے سے روک دیا اور رواں سال انہیں اجازت دی گئی جس پر 26 پاکستانی کھلاڑیوں نے آئی پی ایل کو اپنی دستیابی سے آگاہ کیا۔ جن میں سے 11 کو حتمی فہرست میں شامل کیا گیا، جنہیں بولی کے موقع پر کسی نے نہیں خریدا۔

موجودہ صورتحال میں پاکستانی کھلاڑیوں کو حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، خصوصاً بھارت کے حوالے سے انہیں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ جب اس سال آئی پی ایل کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں نے نام دیے اور کھیلوں کے کئی ملکی تجزیہ کاروں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن شاید کھلاڑی اور بورڈ آئی پی ایل انتظامیہ کے حوالے سے کسی خوش فہمی کا شکار تھا، جو اب دور ہو گئی ہوگی۔ اب پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنی تمام تر توجہ قومی کرکٹ ٹیم پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، جو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بری طرح شکست کھانے کے بعد ممکنہ طور پر تبدیلی کے بہت بڑے عمل سے گزرے گی۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی مقامی سطح پر کوئی بڑا مقابلہ کرانے کی ضرورت ہے جس میں ملکی حالات کے باعث غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت تو ممکن نہیں ہوگی، لیکن قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین شپ کی طرز کا کوئی کامیاب مقابلہ منعقد کروایا جا سکتا ہے تاکہ کھلاڑیوں کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

21 تبصرے

  1. تو پاکستان کے بے شرم کرکٹرز اسے ذلت آمیز سلوک پر آءی پی ایل کو لات کیوں نہیں مار دیتے، ڈالروں کے لیے اپنی پگ دشمن کے قدموں میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔

  2. کرکٹ کوئی غیر معمولی کھیل نہیں، اس کھیل کی دھوم دنیا بھر میں اور خصوصاً ایشیائی ممالک میں اچھی خاصی ہے. رہی بات بھارت کے اس اقدام کی تو اسے ناانصافی کے علاوہ اور کیا نام دیں. آپ کے دیے ہوئے اعداد و شمار ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ پاکستانی کرکٹرز کی مانگ دوسروں سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہونی چاہیے تھی.
    اب تو سوال ہے کہ اگلی حکمت عملی کیا ہوگی؟ اس ہتک آمیز رویہ پر تو کھلاڑیوں کو آئندہ کی آئی پی ایل میں شرکت نا کرنے کا اعلان کر دینا چاہیے. ویسے بھی یہ سیریز اب اتنی کمرشل ہوچکی ہے کہ کرکٹ کم اور گلیمر زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے.

  3. یہ بیماری ہمارے کچھ ہموطنوں مین بہت پرانی ہے کہ بھارتیوں کو گلے مِلا جائے اور ہر بار بھارتی اپنا مطلب پورا کر لیتے ہیں اور ہمارے لوگ بیوقوف بنے رہتے ہیں ۔ امن کی آشا کا جو بازار لگا اس میں ایک سیمینار ایسا بھی تھا جس میں جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک کا بلوچستان کی آزادی کی تحریک کے ساتھ موازنہ کیا گیا تھا ۔ اس مین سب پاکستانیوں کو نہیں بُلایا گیا تھا

  4. خرم says:

    چلو جی اچھا ہوا۔ قوم کو ایک ماہ کام کرنے کا مل گیا 🙂

  5. ذلت آمیز سلوک سے پیسے کے پیچھے بھاگنے والے کھلاڑیوں کی عقل تو ٹھکانے آئی ہو گی.

  6. سعد says:

    میرے تاثرات بھی وہی ہیں جو یاسر صاحب کے ہیں. لعنت بھیجیں ان بھارتیوں پر!

  7. تلخابہ says:

    مجھے فرحان سے اتفاق ہے۔ یہ قوم کے لیے کچھ کریں اور بھارت کے پیچھے نہ بھاگیں

  8. ممبئی حملے کی ذمہ داری کیونکہ بھارت پاکستان پر ڈالتا ہے اس تناظر میں اور برصغیر کے لوگوں کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات ہر شخص اور پاکستانی کھلاڑیوں کے ذہن میں رہنی چاہیے تھی کہ مارکیٹ کے اصول کے مطابق "کارپوریٹ کرکٹ" میں اعلی پائے کے ہی سہی پاکستانی کھلاڑیوں کی جگہ نہیں بنتی اور صورت حال کے الٹ ہونے کی صورت میں بھی یہی نتیجہ نکلتا یعنی اگر پی پی ایل نامی کوئی چیز موجود ہوتی تو اور اسے ہم پاکستانی وقار کے عین مطابق بھی قرار دیتے. آئی پی ایل محض کارپوریٹ کرکٹ ہے جس سے کھلاڑیوں کو مالی فائدہ ہوتا ہے لیکن اس میں ملکی وقار نام کی کوئی چیز داؤ پر نہیں لگی ہوتی اور بھارت اس طرح کے سیاسی سرکس ہمیشہ دکھاتا رہا ہے جہاں پاکستان کا رول جوکر جیسا ہو. اصل کرکٹ میں اس وقت پاکستان جن پستیوں کی طرف گامزن ہے اس پر توجہ کی زیادہ ضرورت ہے ورنہ بٹ صاحب اور یوسف بھائی آئی پی ایل کی ڈھال تلے آسٹریلیا میں ہوئی شرمناک شکست کے ردعمل سے بچنے کی کوشش کریں گے.

    • جی بالکل درست فرمایا راشد بھائی۔ اسی لیے یہاں مجھ سمیت کئی کھیل کے شائقین اس بات پر معترض تھے کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے آئی پی ایل میں اپنی بولی کے لیے نام کیوں دیے؟ اور جس کا اندیشہ تھا گزشتہ روز وہی ہوا کہ بڑے بے آبرو ہو کر نکالے گئے۔

  9. افسوس ہوا
    پاکستانی چاہتے ہیں امن ہو لیکن تالی ایک ہاتھ سے بجانے کی ناکام کوشش ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ سب پر رحم فرمائے آمین

  10. زبیر انجم says:

    فہد بھائی عنوان کی عبارت کا جواب نہیں ہے ۔

    ’’ امن کی آشا کے جواب میں بھارت کی بھاشا ‘‘

  11. پاکستان میں بھی کالے دھن کی کمی نہیں کیوں نا ایک پی پی ایل کروا کر من توڑ جواب دیا جائے مجھے ہمیشہ بھارتی رویہ سے نفرت رہی ہے

  12. اقبال حسین says:

    ماشااللہ فہد بھائی
    آپ نے بہت اچھا تجزیہ کیا ہے. کاش ہمارے امن کی آشا کے علمدار بھارت کا اصل چہرہ دیکھ سکیں، مگر دولت اور نام نہاد شہرت کے تمنائی ملک کی عزت کی قیمت کیا جانیں. انہیں تو بس جھوٹی واہ واہ اور اشتہارات کی بھرمار سے مطلب ہے.
    خدا ان سب کو عقل کے ناخن دے!
    آمین!

  13. نیلامی کے لئے جانے والوں کے لئے بھی کیا عزت ذلت کا سوال ہوتا ہے؟

  14. ارشد احمد کہیر says:

    امن کی آشا کی بنیاد پر بھارت کو دوستوں بنایا جارہا ہے لیکن قرآن میں واضح ہے کہ یہودیوں نصار تمہارے کبھی دوست نہیں ہوسکتے ہیں جیو اور جنیے دو نہیں غلام بنو اور غلاموں اپنائو کی تحریک شروع کرنی چائیے جیو کو

  15. اسید says:

    مجھے تو جیو پر نشر کیا جانے والا امن کی آشا کا پرومو ویسے ہی زہر لگ رہا تھا اب اس واقعے کے بعد اور بھی برا لگنے لگا ہے۔۔ ۔

    ویسے آپ نے بہت عمدہ تجزیہ پیش کیا اور پوری صورتحال سے آگاہ کیا، جس کے لئے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔۔ ۔

  16. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،

    واقعی یہ بہت ہی بےعزتی کی بات ہےکہ لیکن بات کسی سےبھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ انڈیانےجب بھی موقع ملاہے پاکستان کی بےعزتی کی ہے لیکن ہمارےخصوصاحکمران اورکچھـ نام نہادلوگ کہتےہیں کہ بھارت سےحالات اچھےہونےچاہیں۔یہ ہوناچاہیےوہ ہوناچاہیےمیرا ان سےیہ سوال ہے کہ کبھی انڈیانےپاکستان کی اس امن پیشکش کاکبھی مثبت جواب بھی دیاہےوہ توایک ہندوبنیاء ہےجسکی نظرمیں بس اپناہی فائدہ ہوجس کےلیےاسےکچھـ بھی کرناپڑے۔ بس اللہ تعالی سےدعاہے کہ اللہ تعالی ہمارے ملک کودن دگنی رات چوگنی ترقی دے(آمین ثم آمین)

    والسلام
    جاویداقبال

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.