سیکولر اور اسلامی تہذیب
بہت ہی عزیز بلاگر ساتھی خرم بشیر چند روز قبل ایک تحریر پر ہونے والے تبصروں میں کچھ ان الفاظ میں رقمطراز ہوئے کہ میرے لیے گفتگو کو تبصرے میں سمیٹنا ممکن نہ رہا بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ انہوں نے اپنے تبصرے میں گفتگو کا دائرہ اتنا وسیع کر دیا کہ اس کا جواب بذریعہ تبصرہ دیا ہی نہ جا سکتا تھا، اس لیے میں نے سوچا کہ اس کا جواب الگ سے ایک تحریر کے ذریعے دیا جائے تاکہ گفتگو کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے اور اس تبصرے کے نتیجے میں جو نئے موضوع کھلے ہیں ان کو سمیٹا جا سکے۔ مکالمے کے اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہاں اُس تحریر کا مطالعہ کیا جائے جو سید ابو الاعلیٰ مودودی کی کتاب ‘تنقیحات‘ سے لی گئی تھی اور اس کے بعد محترم خرم بشیر کا یہ درج ذیل تبصرہ ملاحظہ کیا جائے:
فہد بھائی سائنس وٹیکنالوجی تو ایک حقیقت ہیں۔ اللہ کے اصول ہیں۔ مغربی تہذیب کی عمارت ان پر استوار نہیں ہوئی۔ آپ دیکھئے ایک عیسائی بھی اللہ پر یقین رکھتا ہے اپنے تمام تر خراب عقائد کے باوجود۔ دھڑا دھڑ چرچ بن رہے ہیں، عطیات دیتے ہیں یہ لوگ اور اپنے تئیں نیکی کے کاموں میں خوب محنت کرتے ہیں۔ جو فرق ہے میرے تئیں وہ تہذیبی نہیں ہے، عملی ہے۔ مسلمانوں کی طرح عیسائیوں یا مغرب کے بھی دو گروہ ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جس بے ہنگم انداز سے مغربی معاشروں نے افرادی زندگی کو بے پردہ کیا ہے اس کے محرکات سائنس و ٹیکنالوجی نہیں بلکہ شائد وہ خلا ہے جو مذہب کو ایک ننھے سے خانے میں بند کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ سویہ کہنا کہ ان بنیادوں کو ڈھا دیں جن پر مغربی تہذیب استوار ہے وہ کچھ جچتا نہیں۔ اصل کام تو شائد یہ ہونا چاہئے کہ آپ علم حاصل کریں اور جب آپ ایسا کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر سائنس، ہر فلسفہ اسلام کی حقانیت کو یقینی طور پر ثابت کرتا ہے۔ جب آپ اس علم سے مسلح ہوں گے اور ٹھوس دلائل آپ کے پاس ہوں گے تو مغرب کا یہ سچائی کا متلاشی اندھیروں میں بھٹکتا طبقہ اسلام کی طرف مائل ہوگا۔ یہاں ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام نہ تو ایک تہذیب لے کر آیا ہے اور نہ کسی تہذیب کا مخالف ہے۔ اسلام تو چند بنیادی اصول وضع کرتا ہے اور ان کے اندر رہتے ہوئے ہر تہذیب کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یک تہذیبی دنیا ہی اگر پیدا کرنا ہوتی تو اللہ کو اتنی زبانیں، اتنے خطے، اتنے مزاج پیدا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اسلام کی خوبصورتی تو یہی ہے کہ وہ اس متنوع گلدستے کے رنگوں کو مٹاتا نہیں بلکہ انہیں اُجاگر کرتا ہے۔
اس تبصرے سے مجھے کچھ یوں محسوس ہوا ہے کہ برادر محترم تہذیب اور ثقافت کو خلط ملط کر رہے ہیں ورنہ اسلام کی جانب سے کوئی تہذیب لانے سے انکاری نہ ہوتے اور نہ ہی یہ کہتے کہ اسلام کسی تہذیب کا مخالف نہیں۔ ممکن ہے کہ وہ تہذیب کی تعریف مغرب کی جدید سیکولر تہذیب کے مطابق کر رہے ہوں جس کا دعویٰ ہے کہ عقائد تہذیب و ثقافت سے حاصل ہوتے ہیں جبکہ اس سے قبل جتنی بھی تہذیبیں دنیا میں وارد ہوئیں، بشمول اسلام، ان کا کہنا رہا ہے کہ تہذیب و ثقافت عقائد سے جنم لیتے ہیں۔
اس ‘معمولی’ سے فرق کو محسوس کرنے کے لیے تہذیب کے بنیادی عناصر اور مغربی تہذیب کی بنیادوں کے بارے میں پڑھنا ضروری ہے۔ مجھ ناچیز کے مطالعے کے مطابق کہ مغربی تہذیب کی بنیادیں سیکولر ازم کے جن اصولوں پر استوار ہوئی ہیں اُن میں سائنس ایک عقیدے کی حیثیت سے شامل ہے جہاں ہر نظریہ سائنس کی چھلنی سے گزر کر آتا ہے۔ موجودہ سیکولر مغربی تہذیب کی بنیادیں ‘ماورائی ماخذ سے انکار’، ‘فطرت سے تصادم’، ‘سیاست کی عدم تقدیس ‘اور ‘اخلاقی قدروں کے عدم استقلال’ پر کھڑی ہیں۔
ماورائی ماخذ سے انکار کے نتیجے میں ایک ایسا تصور حیات سامنے آتا ہے جس میں انسان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور Age of Enlightment اور اس کے بعد کے تمام مفکرین اس Man Centered دنیا کے تصور کو مستحکم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ مغربی جمہوریت، حقوق انسانی، حقوق نسواں اور دیگر تمام نظریات دراصل اسی نظریے کی پیداوار ہیں (گو کہ میں اول الذکر کے علاوہ کسی کا مخالف نہیں ہوں، کیونکہ اسلام نے انسانی و نسوانی حقوق کو اُن سے کہیں پہلے متعین کر دیا تھا)۔
کیونکہ مغرب نے مذہب کو شکست دے کر موجودہ تہذیب کی بنیاد رکھی اس لیے اس میں تقدس کو لازماً دیس نکالا دیا جانا تھا لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ سیاست میں کوئی اخلاقی و روحانی پہلو نہ بچا بلکہ مقاصد و اہداف کے حصول کے لیے ہر طریقہ استعمال کیا گیا اور استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں دنیا میں کہیں بھی موجودہ سیاسی نظاموں کے نتیجے میں معاشرے کے صالح و نیک افراد سامنے آتے نظر نہیں آتے۔
فطرت سے تصادم کا نظریہ دراصل خدا کے انکار کے بعد پیدا ہونے والا ایک لازمی ردعمل ہے۔ اس تصادم کو اقبال نے اپنے ایک شعر میں بڑے واضح انداز میں بیان کیا تھا کہ
وہ فکرِ گستاخ جس نے عرياں کيا ہے فطرت کی طاقتوں کو
اس کی بيتاب بجليوں سے خطر ميں ہے اس کا آشيانہ
فطرت پر غلبہ پانے کے اسی نصب العین نے ایجادوں کی دنیا میں ایسا زبردست انقلاب برپا کیا کہ انسان نے ہزاروں سال کی ترقی کو چند دہائیوں میں لپیٹ دیا۔ اس تصور میں ایک انتہائی بنیادی نوعیت کی خامی ہے کہ اس میں فطرت انسان کی مخالف و مزاحم ہے اور جسے مغلوب کرنے کے لیے وہ جدوجہد کر رہا ہے۔ فطرت سے مخالفت اور مزاحمت کا یہی تصور ہے جس نے رب کائنات کے پیدا کردہ نازک توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ جدید دنیا میں ماحولیات کے حوالے سے پیدا کردہ مسائل دراصل مغرب کے اسی فطرت مزاحم فلفےک کا شاخسانہ ہیں۔ اس کے باوجود کیونکہ فطرت پر غلبہ خدائی انکار کے باعث سیکولر مغرب کی انا کا مسئلہ ہے اس لیے وہ اپنے نظام کے اس جزو لا ینفک کو علیحدہ کرنے سے انکاری ہے۔
اخلاقی اقدار کو معروضی قرار دیے جانے سے یہ ثابت کیا گیا کہ یہ وقت و ضرورت کے تحت تبدیل ہو جاتی ہیں۔ نتیجتاً اس بد ترین اخلاقی زوال نے معاشرے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کے مظاہر ہم آئے روز ذرائع ابلاغ کے ذریعے دیکھتے ہیں۔ اب مجھے یہ بتائیے کہ کیا اسلام ان چاروں بنیادوں پر مغرب کے ساتھ مفاہمت کر سکتا ہے؟
سیکولر ازم کو سمجھنے کے لیے معروف پروفیسر ہاروے کوکس کی کتاب The Secular City لازماً پڑھنی چاہیے جو سیکولر ازم کے مطالعے کے لیے بہت اہم ہے اور اس میں سیکولر ازم کے اِن تمام ‘عقائد’ کو انتہائی واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اب بات کا رخ آپ کی جانب سے مغرب میں مذہب کے ‘پھلنے پھولنے’ کی جانب پھیرتے ہیں، مغرب سیاست سے باہر مذہب کی روحانی حیثیت کو تسلیم کرتا ہے۔ چرچ اور سیاست کے درمیان ہونے والی کشمکش کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اس میں چرچ نے بھی اپنی شکست کو تسلیم کیا اور ریاست کی شرائط پر مفاہمت کی حکمت عملی اختیار کی۔ اس طرح دونوں کے دائرۂ کار کا تعین ہوا اور دونوں نے ایک دوسرے کے دائرۂ کار میں عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کی۔ اس پالیسی پر بائبل کے چند حوالوں نے مہر تصدیق ثبت کر دی، کیونکہ عیسائیت کسی واضح سیاسی نظام کی حامل نہ تھی بلکہ Theocracy کا تصور پاپائیت کا ‘اجتہاد’ تھا، اس لیے مذہبی حوالے بھی اس ‘سرینڈر’ کی موافقت میں سامنے آئے۔ اب آج جدید مغربی معاشروں میں چرچ اور معاشرے کی یہ مفاہمت بالکل صاف نظر آتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ نو آبادیاتی دور میں مغربی استعمار کی کامیابی میں چرچ نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا اور ‘غیر مہذب انسانوں’ کو عیسائیت کی ‘مہذب’ چھتری تلے لانے کا کام انجام دیا۔ اس عمل میں اسے سیکولر ریاست کی مکمل سرپرستی حاصل رہی۔
جتنا ناچیز نے مطالعہ کیا ہے اس کے مطابق اسلام اور مغرب کی تہذیبوں میں انتہائی بنیادی نوعیت کا تصادم ہے اور عقائد کی بنیاد پر دونوں میں ‘تہذیبوں کا تصادم’ ناگزیر ہے۔ اگر تہذیبوں کی تعریف اور اسلامی اور مغربی تہذیبوں کے درمیان اختلافات کو ذہن میں رکھا جائے تو آپ کو یہ تصادم ہر جگہ نظر آئے گا۔
مجھے آپ کے اِس بیان سے بہت زیادہ حیرت ہو رہی ہے کہ آپ اسلام کی جانب سے کوئی تہذیب لانے سے انکاری ہیں۔ پھر تو میرے خیال میں تہذیب کی تعریف اور اس کے بنیادی عناصر کے بارے میں سوال اٹھنا لازمی امر ہے۔ مجھے امید واثق ہے کہ آپ یہاں تہذیب کو ثقافت کے معنوں میں استعمال کر رہے ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو پھر شاید ہمیں تہذیب کی تعریف پیش کرنا پڑے ۔ جو کم از کم یہاں اور اِس وقت ممکن نہیں اور نہ ہی ناچیز کا مطالعہ اس قدر ہے۔ لیکن اگر تہذیب کی تعریف، جدید تہذیب، سیکولر ازم، زوالِ مغرب، اسلامی تہذیب اور دیگر موضوعات پر کچھ پڑھنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو ان کتابوں کا مطالعہ کرنے کی سفارش کروں گا:
- Clash of Civilizations – سیموئل پی ہنٹنگٹن
- Crisis of the Modern World – رینے گینوں
- East and West – رینے گینوں
- Figure of Speech or Figure of Thought – آنند کمار سوامی
- Holy War – کیرن آرمسٹرانگ
- The Decline of the West – اوشوالڈ اشپنگلر
- The End of History and the Last man – فرانسس فوکویاما
- The Reign of Quantity – رینے گینوں
- What is Civilization – آنند کمار سوامی
- اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی – سید ابو الاعلیٰ مودودی
- تنقیحات – سید ابو الاعلیٰ مودودی
- کلیات اقبال بالخصوص ضرب کلیم – محمد اقبال
- وقت کی راگنی – محمد حسن عسکری








جہاں تک اُس تبصرے میں تہذیب کے استعمال کا معاملہ ہے وہ تو خرم صاحب ہی واضح کرسکیں گے لیکن پورے تبصرے کے تناظر میں علاقائی ثقافت کو غالبا تہذیب کے لفظ سے بہت عمومی کیا گیا جیسا کے آپ نے بھی بیان کیا اور اس سے تعریفوں کے تصادم کی صورتحال سی بن گئی ہے لیکن ان کے اس نقطہ سے اتفاق ہے کہ اسلام نے کئی تہذیبی اور ثقافتی چیزوں کو بہت مخصوص نہ کر کے عالمگیریت حیثیت قائم کی ہے . لیکن تمام بحث سے یہ بات بھی سمجھ آرہی ہے اور جس کی تصیح کی جائے تو ہماری رہنمائی بھی ہو کہ اگر تہذیب کی تعریف پر اتفاق ہوجائے تو آپ دونو قابل حضرات کچھ ایسا مختلف نظریہ پیش نہیں کررہے اور اس خلا کو ہی پر کرنے کی بات کررہے ہیں. چرچ اور ریاست پر آپ نے پہلے ہی بات واضح کردی ہے اگر مودودی صاحب کی بنیادوں کو ڈھانے والی بات پر بھی تھوڑی تفصیل بیان ہوجائے تو بات مزید واضح ہو کیونکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دراصل وہ جمہوریت کی کلی نفی کی جانب اشارہ ہے جب کہ کچھ لوگ اس کے برعکس رائے رکھتے ہیں کہ وہ لادینیت کو ڈھانے کی بات ہے جمہوریت کو نہیں.
برادر راشد! مجھے پورا اندازہ تھا کہ خرم بھائی تہذیب و ثقافت کو خلط ملط کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود وضاحت کے طور پر یہ سب کچھ لکھ ڈالا ہے۔ اصل میں تہذیب کی تعریف کا تصادم ہی ‘تہذیبوں کے تصادم’ کو جنم دیتا ہے جیسا کہ میں نے تحریر میں لکھا ہے کہ جدید مغرب کا دعویٰ ہے کہ عقائد تہذیب و ثقافت سے حاصل ہوتے ہیں جبکہ اس سے قبل جتنی بھی تہذیبیں دنیا میں وارد ہوئیں، بشمول اسلام، ان کا کہنا رہا ہے کہ تہذیب و ثقافت عقائد سے جنم لیتے ہیں۔
لیکن ہم بغیر کسی فلسفیانہ بحث میں جاتے ہوئے تہذیب کی تعریف با آسانی کچھ یوں کر سکتے ہیں کہ معاشرت، سیاست، تمدن، علم، ادب اور فنون جن بنیادوں پر استوار ہوں، وہ دراصل ‘تہذیب’ ہے۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ تمام بذات خود تہذیب نہيں جیسا کہ ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ جس سوتے سے پھوٹتے ہیں اسے ‘تہذیب’ کہتے ہیں۔ تہذیب دراصل ان تمام معاشرتی مظاہر کی اساس اور روح ہے۔
مولانا مودودی اپنی کتاب ‘اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی’ میں کہتے ہیں کہ “تہذیب پانچ عناصر پر مشتمل ہوتی ہے: 1- دنیوی زندگی کا تصور، 2- زندگی کا نصب العین، 3- اساسی عقائد و افکار، 4- تربیتِ افراد، 5- نظام اجتماعی” ان پانچ عناصر کی بناء پر جو چیز ابھر کر سامنے آتی ہے وہی تہذیب ہے۔
باقی مودودی صاحب کے حوالے سے آپ کا سوال ہے، اس کے حوالے سےفی الوقت اتنا ہی کہہ سکوں گا کہ انہوں نے کبھی جمہوریت کی نفی نہیں کی۔ حالانکہ موجودہ جمہوری کلچر کا حصہ بننے پر انہیں اپنی جماعت میں بڑی مخالفتیں سہنی پڑیں اور ان کے کئی اہم رفقاء انہیں چھوڑ گئے (اصلاحی صاحب، نعیم صدیقی وغیرہ) لیکن وہ جمہوریت کو اسلام کا کلچر سمجھتے تھے البتہ جمہوریت کی جو تعریف مغرب کرتا ہے اس سے ان کانقطہ نظر مختلف تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں ‘قراردادِ مقاصد’ کی شمولیت تک ان کی جماعت نے سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ البتہ قرارداد مقاصد کی شمولیت نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ بنایا اور وہ تمام بنیادی باتیں آئین میں شامل ہوئیں جو کسی اسلامی ریاست کی اساس ہوتی ہیں۔ حقیقتاً انہوں نے ہمیشہ لادینیت کے خاتمے کی بات کی ہے جو مغربی تہذیب کی اساس ہے اور اسے ‘جاہلیت خالصہ’ قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں علامہ اقبال کا مطالعہ بھی مفید ہے۔
باقی اسلام کی عالمگیریت کے حوالے سے آپ کی رائے سے متفق ہوں یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ماننے والوں میں ثقافتی طور پر بہت رنگا رنگی اور گوناگونی نظر آتی ہے۔
“ورنہ اسلام کی جانب سے کوئی تہذیب لانے سے انکاری نہ ہوتے“
isami tehzeeb kee kuch khasoosiat ginwaain tu kuch baat wazeh hu gee.
“سیکولر ازم کو سمجھنے کے لیے معروف پروفیسر ہاروے کوکس کی کتاب The Secular City لازماً پڑھنی چاہیے”
kiyoon?
mazhab kay bur-uks secularism aik developing aur kisee had tak aik releative idea hai…
kisee aik kitab ya shaks kay khialaat ku secularism kee bible kee haisiyat haasal naheen
حسن صاحب! چھری تلے دم لینے دیا کریں ۔ آپ نے تو تابڑ توڑ حملے کرنا شروع کر دیے۔ حضور اس یک سطری جملے کے جواب میں میں کیا کہوں کہ اس پر تو پوری کتابیں بھی حق پورا نہ کر سکیں۔ مستقبل قریب میں کبھی موقع ملا تو کچھ مطالعہ کرکے اسلامی تہذیب پر کچھ لکھ ڈالیں گے، اگر یہ بھی ممکن نہ ہوا تو کوئی اقتباس پیش کر دیں گے۔ اب تو خوش ہیں؟ آپ کو کتابوں کا حوالہ نہیں دوں گا کہ آپ مصنف کا نام دیکھ کر بھڑک جاتے ہیں
آپ نے ‘سیکولر سٹی’ کے حوالے کے جواب میں”کیوں” کہا، اس کا مطلب ہے کہ آپ نے نہیں پڑھی ورنہ آپ یہ نہ کہتے۔ مجھے اندازہ ہے کہ کسی بھی موضوع کا احاطہ کرنے کے لیے ایک کتاب کافی نہیں ہوتی لیکن کبھی کبھار ایک موضوع پر ایک کتاب بنیادی نظریات کو واضح کر دیتی ہے۔ یہاں ڈھیر ساری کتابوں کو پیش کر دینے کے بجائے ایک اچھی کتاب پڑھنے کو بتا دی جائے تو میرا نہیں خیال کہ یہ نامناسب بات ہے۔ ویسے آپ مذہب کو مجمد کہہ سکتے ہیں اسلام کو نہیں، کیونکہ اسلام مذہب نہيں دین ہے اور اس میں اجتہاد کے ذریعے ایک دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔
اتنے الفاظ میں آپ نے بہت اچھی وضاحت کی ہے ۔ بات یہی ہے کہ سیکولرازم کا پرچار کرنے والے موقع کے مطابق اس کی تعریف بنا لیتے ہيں۔ سیکولرازم اگر دین کی ضد نہیں ہے تو پھر کیا ہے۔ مذہب اور تہذیب ایک ہی ماں کے بچے ہیں۔ حیرت ہوئی ہے کہ لوگ کس طرح تہذیب کو تہذیبات بنا دیتے ہیں، جبکہ اللہ نے خود فرما دیا کہ دین یا مذہب اول روز سے ایک ہی ہے۔ نہ کوئی نبی عیسائی تھا اور نہ کوئی یہودی بلکہ سب يکسو مسلم تھے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ مبصرین اپنے سامنے گرجا کا نمونہ رکھ کر اسے مذہب کا نام دیتے ہیں جبکہ گرجا مذہب سے منحرف ہونے کے نتیجہ میں مغرب میں سیکولرازم پیدا ہوا۔ مادی ترقی سے مذہب کا کوئی تعلق نہیں یہ محنت کا ثمر ہے لیکن تہذیب وتمدن کا تعلق مذہب سے ہے اور ان کی ترقی کا انحصار مذہب پر عمل کرنے پر ہے۔
آخری لیکن بہت اہم بات یہ ہے کہ مادی ترقی نے اے سی مہیا کیا مگر دل کی ٹھنڈک نہیں ۔ دوائی بنائی مگر صحت کی ضمانت نہیں دی ۔ اخلاقی لحاظ سے انسان اتنا گر چکا ہے کہ مانع حمل ادویہ کی فراوانی کے باوجود لاکھوں بچے حرام پیدا ہوتے ہیں۔ ہم چند مغربی شہروں کی چکا چوند سے خیرہ ہیں، ان کی کمیونٹی میں گلتے سڑتے ناسور ہمیں نظر نہیں آتے۔
اجمل صاحب وہاں مانع حمل ادویہ کی فراوانی کے باوجود لاکھوں بچے حرام پیدا ہوتے ہیں اور یہاں ہم جان بچانے والی دواؤں میں ملاوٹ کرکے لوگوں کی جان لیتے ہیں…. بحث کوئی نہیں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ ہمارے معاشرے کو اعلی کرداری کا جو خبط سوار ہے تقابلی جائزہ لیں تو اخلاقی طور پر ہم مغرب سے کہیں زیادہ انحطاط کا شکار ہیں.
پردہ رکھنا بہت اچھی بات ہے وگرنہ ہمارے یہاں قبل از بیاہ جتنے اسقاط حمل کروائے جاتے ہیں اگر کبھی ان کی سچی تعداد کھوجی جائے توہم شائد جینے کا حوصلہ ہی کھو بیٹھیں۔ بدکرداری کی بحث میں ہم مغرب کو مات نہیں دے سکتے بدقسمتی سے۔ فرق صرف اتنا ہو شائد کہ جو کرتوت وہ کھلے عام کرتے ہیں ہم چھپ کر کرتے ہیں۔ مقصد کیچڑ اچھالنا نہیں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ ہمیں اب خودساختہ تصورات سے باہر آکر ایک ایسی دنیا تخلیق کرنا ہے جیسی ہم چاہتے ہیں نہ کہ موجودہ خرابیوں کو ہی اچھائیوں کا ملمع چڑھا کر خوش ہوئے جانا ہے۔
افتخار صاحب آپ کی ایک بات بہت دل کو لگی ہے کہ مغرب نے گرجا کے نمونے کو سامنے رکھ کر اسے مذہب کا نام دیا، گرجا سے یہی اختلاف سیکولر ازم کا باعث بنا’۔
آپ کی توجہ دلانے پر تبصرے سے اغلاط درست کر دی گئی ہیں۔
کئی الفاظ ٹائپنگ کی غلطی کی وجہ سے گڑبڑ ہو گئے ہيں ۔ ازراہ کرم ان کی تصحیح کر دیجئے
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
جزاک اللہ خیرابوشامل بھائی، آپ نےواقعی خوب تحریرکیاہے۔ واقعی غلطی یہ ہے کہ ہم لوگ مغرب سے کچھـ زیادہ ہی مرعوب نظرآتےہیں جبکہ ہماری تاریخ دیکھی جائی توسب پہلی ایجادات ہم مسلمانوں کےحصہ میں ہی آتی ہیں۔ لیکن ہم ابھی غافل ہیں ہم نےغوروفکراورتحقیق کوچھوڑدیاہے اس لیئےہم پستی کی جانب جارہے ہیں۔ اللہ تعالی ہم پراپناکرم کرے۔ آمین ثم آمین
رب زدنی علما
والسلام
جاویداقبال
شکریہ، جاوید اقبال صاحب۔ واقعی، غور و فکر اور تحقیق کے میدان کو چھوڑنے کے باعث ہی اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود زوال پذیر ہیں۔ صدیوں غلامی میں رہنے کے باعث ہمارا ذہنی سانچہ مغرب کی مرعوبیت میں ڈھل چکا ہے۔ جس دن مرعوبیت کا یہ خول ہمارے دماغوں پر سے اترے گا یقین جانیں تبدیلی کا آغاز اسی دن ہو جائے گا۔
آپ نے اپنی تحریر میں کچح زیادہ ہی متضاد باتیں کہہ ڈالی ہیں. حالانکہ ابھی جب میں مودوددی صاحب کی تحریر پر سے گذری تو احساس ہوا کہ یہی بات تو میرے دل میں تھی. خیر جماعت نے مودودی صاحب کے نظریات سے جان چھڑا کر نجانے کون سی سمت اختیار کر لی. اب آپ نے جو حوالات کی ایک لائن لگائ ہے انکی تفسیالت میں جائے بغیر میں کچھ باتیں کہنا چاہونگی. اول تو یہ کہ وہ تمام ریاستیں جو اپنے آپ کو سیکولر کہتی ہیں ان میں سے کسی ایک ریاست کا ھوالہ دیں جہاں لادین لوگ رہتے ہوں اور جہاں لوگوں کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی اجازت نہ ہو. میرے علم میں ایسی کوئ ریاست نہیں. سیکولرزم کوئ مذہب نہیں بلکہ حکومتی معاملات چلانے کا ایک طریقہ ہے. جس سے اختلاف کرنے کا حق آپکو حاصل ہے. یہ سوچ کی ایک طرز ہے اور دین نہیں. بلکہ اگر دیکھا جائے تو اسلامی نظام یہاں اس سے میری مراد وہ نظام ہے جو رسول اللہ کے دور میں رائج تھا دراصل سیکولر نظام ہی تھا. جہان ہر مکتبہء فکر کو اپنے بنیادی عقائد کے ساتھ رہنے کی اجازت تھی.
خرم صاحب کی بات اسلامی تہذیب سے متعلق جو ہے اس سے مجھے جو سمجھ میں آرہا ہے وہ کوئ ایک چقافت یا تہذیبی بنیاد ہے جو ہر خطے اور اگر انسان چاند پر بستیاں آباد کرنے کے قابل ہو جائے تو وہاں پر بھی باعث عمل ہو. ظاہر سی بات ہے کہ چاند جہاں قوت ثقل زمین سے چھ گنا کم ہے وہاں خواتین دو گز کے دوپٹے لپیٹ کر نہیں پھریں گی. اور نہ مدنی برقعے. مذاق برطرف تہذیب کی تعریف اپنے وقت اور ماحول کے ساتھ منسلک ہے. ایک آفاقی مزہب جسے قیامت تک کے لئیے مکمل کر دیا ہو وہ ایک تہذیب کی طرف نہیں لیجائیگا. خود قرآن کسی تہذیب کی طرف دعوت نہیں دیتا بلکہ انسان کی فلاح چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ انسان اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانے.
اس طرح سے آپکی اگلی متضاد بات فطرت سے جنگ نکل آئ ہے. میں خود تحقیق کے میدان سے تعلق رکھتی ہوں. اور تحقیق کے بنیادی اصول تمام مضامین کے لئیے یکساں ہیں. یہ کہنا کہ مغرب میں انسان فطرت کی راہ میں مزاحم ہے. یہ خاصہ غلط ہے اور اس تمام طریق کار سے جن سے یہ ایجادات اور دریافتیں سامنے آتی ہیں ان سے لا علمی ہے.
مغرب کے اخلاقی اقدار کو نشانہ بنانے سے قبل ہمیں اپنی اخلاقی زبوں حالی کا جائزہ ضرور لینا چاہئیے، در ھقیقت ہم ان سے کہیں زیادہ زبوں حالی کا شکار ہیں. بالکل اسی طرح آپکی یہ بات کہان نظاموں کے ذریعے کوء صالح قیادت سامنے نہیں آئ. اول تو یہ کہ کیا اسلام نے کوئ واضح سیاسی نظام نہیں دیا ہے. میرا خیال ہے کہ آپکو ایک دفعہ پھر مودوددی صاحب کی کتاب خلافت اور ملوکیت پڑھنی چاہئیے. سیاسی نظام کو اختیار کرنے کے لئیے آپ آزاد ہیں کہ اپنے مقامی مزاج، اور ثقافت سے قریب رہتے ہوئے جو چاہے اختیار کریں. جن سیاسی نظاموں کا اسلامی دنیا میں تجربہ کیا گیا ہے انکے نتیجے میں بھی کوئ صالح قیادت سامنے نہیں آئ.یقینی طور پر اس وقت اسلامی دنیا کو ایک نشات ثانیہ کے لئے انقلابی سطح پہ کام کرنا ہوگا. کیونکہ فی الحال مذہب کی سطح پہ ہم جمود کا شکار ایک قوم ہیں. جتنا زیادہ ہم اس جمود میں رہیں گے اتنا ہی ہم خستگی کا شکار ہوتے رہیں گے. انقالب کے لئیے نڈر ہونا پڑتا ہے اور آزاد فکر کا حامل. وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ قدیم رسوم و رواج کے مجموعے کو ہم مذہب کے نام پہ چلاتے رہیں گے ان سے ایسے کسی نشات ثانیہ کی امید رکھنا امید عبث ہے.
محترمہ، مجھے امید تھی کہ آپ کچھ ‘نظر کرم’ ضرور کریں گی۔ ویسے مندرجہ بالا باتیں ‘متضاد’ تو نہیں ہیں، ہاں! آپ متنازع کہہ سکتی ہیں کیونکہ آپ کو اس کا حق ہے۔
سیکولر ازم کی تاریخ اور موجودہ نفاذ کا طریقہ کار اس امر کا شاہد ہے کہ اب سیکولر ازم باقاعدہ ایک عقیدے کی شکل اختیار کر گیا ہے اور اس پر عقیدے کی حیثیت سے عمل کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ابتدائی دور میں اسے نافذ کرنے کے لیے جس جبر کا مظاہرہ کیا گیا اور اب مسلم علاقوں میں اسے جس قوت کے ساتھ ٹھونسا جا رہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظریہ بھی شدت پسندی پر مبنی ہے۔ ویسے آپ نے بہت بڑی جسارت کی ہے کہ رسول اللہ کے دور کوسیکولر نظام قرار دیا ہے ، میں اگر بہت زیادہ حسن ظن رکھوں تو شاید آپ کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام اپنے زیر نگیں علاقوں میں رہنے والوں کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کوئی بھی مذہب اختیار کریں اور اس پر عمل کریں تو اس حد تک تو ٹھیک ہے لیکن اگر آپ اسے سیکولر ازم کی موجودہ تعریفوں پر پورا اتارا جائے تو آپ نے اسلام کی تمام بنیادوں کو ڈھا دیا ہے۔ سیکولر ازم کی ایک تعریف تو “انفرادی شخصیات کے مذہب میں عدم مداخلت ہے” دوسری اس کی فلسفیانہ تعریف ہے جو چند بنیادوں پر کھڑی ہے جس کی طرف اشارہ میں نے اوپر کیا تھا جن میں ایک ‘ماورائی ماخذ سے انکار’ ہے، ‘سیاست کی عدم تقدیس’ اور ‘اخلاقی اقدار کا عدم استقلال’ شامل ہیں۔ اب آپ بتائیے کہ اسلام کے بنیادی نظریات سے متصادم ان افکار کو بھلا کیسے اسلامی کہا جا سکتا ہے۔
اس لیے میں چاہوں کا کہ اگر آپ وقت ملنے پر اپنے نظریہ ‘اسلامی سیکولر ازم’ کی کچھ تعریف بیان کر دیں تو مجھ جیسے کم علموں کا بہت فائدہ ہوگا۔
قرآن کی جانب سے کسی بھی تہذیب کو لائے جانے سے انکار آپ کی کم علمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلام کے بنیادی عقائد سے جو معاشرہ اور ثقافت جنم لیتی ہے وہی دراصل قرآنی تہذیب ہے۔
‘فطرت سے جنگ’ کے متعلق نظریہ آپ کو نیا لگ رہا ہے حالانکہ مغرب کی تحقیق کی پوری عمارت اس پر کھڑی ہے۔ ویسے آپ نے یہ مطلب غلط اخذ کیا ہے کہ ‘مغرب میں انسان فطرت کی راہ میں مزاحم ہے’۔ میرا کہنے کا مقصد یہ نہیں تھا بلکہ میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ مغرب مذہب کو سیاست سے نکالنے کے بعد خدا کے مقابلے پر آ کھڑا ہوا، اور فطرت پر غلبہ حاصل کرنا دراصل اسی خفت کو مٹانے کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے اقبال نے شیطان کو مغربی تہذیب کا پروردہ اور جدید مغربی تہذیب کو ابلیسی نظام تک قرار دے ڈالا (دیکھیے، ارمغان حجاز میں ابلیس کی مجلس شوریٰ)
فہد بھائی اللہ آپ کو جزا دے۔ بہت اچھی باتیں کہی ہیں ماشاء اللہ۔ تہذیب اور ثقافت کے معاملہ میں جو آپ نے سوال اٹھایا ہے اس نے مجھے الجھا دیا ہے کہ عمومی طور پر یہ دونوں اکٹھے ہی آتے ہیں اور جب تہذیب و ثقافت کی بات کی جاتی ہے تو ایک خطہ کے لوگوں کا مخصوص رہن سہن، طور اطوار، رسوم و رواج ہی مراد ہوتے ہیں۔ لیکن بہرحال میرا علم نہ تو کامل ہے اور نہ وسیع سو اگر کوئی جامع تعریف مل جائے تو مجھے بھی اپنی اصلاح کرنے کا ایک اور موقع مل جائے گا انشاء اللہ۔ اتنی پیاری پوسٹ کا جواب ایک تبصرہ میں سمونا زیادتی ہوگی سو میں انشاء اللہ جلد اس بارے میں ایک پوسٹ کرکے اپنی بات کہوں گا کیونکہ میرا خیال ہے میں اپنی بات سمجھا نہیں سکا شائد۔ میرا مقصد نہ تو عقائد کو معاشرہ سے الگ کرنا ہے اور نہ لادینیت (سیکولرازم جیسا کہ عنیقہ بہنا نے کہا نہ ایک دین ہے بلکہ ایک نظریہ ہے اور میں بہرحال اس کا حامی نہیں البتہ اس کے چند نکات کو اسلامی سمجھتا ہوں) کی وکالت کرنا۔ سو بس تھوڑا سا انتظار انشاء اللہ بشرط توفیق الٰہی و زندگی۔
خرم برادر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ کے متعلق میرا اندازہ درست ثابت ہوا کہ آپ تہذيب و ثقافت کو سمجھنے میں مغالطہ کر رہے ہیں۔ میں نے اوپر برادر راشد کے استفسار پر تہذیب کی کچھ تعریف پیش کی ہے امید ہے کہ یہ ‘چھوٹا سا فرق’ سمجھ آئے گا۔ مجھے آپ کی تحریر کا شدت سے انتظار رہے گا۔
اپنے تبصرے میں، میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ اسلام نے کوئ واضح سیاسی نظام نہیں دیا ہے. اسی وجہ سے رسول اللہ کے انتقال کے بعد انتقال اقتدار اور ریاستی امور چلانے کے مسائل کافی تیزی سے کھرے ہوئے. میں سمجھتی ہون کہ ایسا نہ کر کے انسان کو اس بات کے لئے آزاد کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ضروریات کے حساب سے اپنے نظام کی تشکیل کرے. ہاں اس میں بنیادی بات جسکا خیال رکھنا چاہئیے وہ یہ کہ اقتدار من جانب اللہ ہوتا ہے اور حاکم کو خود کو خدا کے درجے پہ نہیں رکھنا چاہئیے. اسی لحاظ سے میں یہ کہنا چاہونگی کہ کتاب خلافت اور ملوکیت کا مطالعہ خاصہ کار آمد ہوگا.
محترمہ! اس حوالے سے موجودہ دور کے عظیم اسلامی مفکرین بھی مختلف رائے رکھتے ہیں، کچھ کا کہنا ہے کہ اسلام کا نظام خلافت متعین ہے جو موجودہ جمہوری نظام سے میل کھاتا ہے جبکہ چند کہتے ہیں کہ اسلام کے بنیادی اصول ہائے سیاست کو لے کر کوئی بھی نظام اختیار کیا جائے وہ اسلامی ہوگا۔ البتہ میں اول الذکر فکر کے ساتھ ہوں اور آپ کو اس سے اختلاف کا پورا حق حاصل ہے۔ آخر الذکر سے اتفاق اس لیے نہیں کرتا کیونکہ بادشاہت و آمریت کی بنیادی خامیاں اس قدر ہیں کہ اس کے ساتھ اسلام چل نہیں سکتا۔ خلافت و ملوکیت میں پہلے بھی پڑھ چکا ہوں لیکن آپ کے کہنے پر ایک مرتبہ پھر ضرور پڑھوں گا۔ ویسے آپ مودودی صاحب کی دیگر کتب خصوصاً “اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی”، “اسلامی ریاست”، “تنقیحات”، “قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں”، “اسلام کا نظریہ سیاسی” اور”اسلام کا نظام حیات” پڑھیں۔ان کانقطہ نظر واضح ہو کر سامنے آ جائے گا۔ میری بھی کوشش ہوگي کہ میں ان کتب کا دوبارہ مطالعہ کروں۔ بلاگنگ کا یہی فائدہ ہے کہ مفید مباحث سے آپ کو پرانی باتوں کو دوبارہ یاد کرنے اور نئی کتب کے مطالعے کی تحریک ملتی ہے۔ مجھے آپ جیسے با علم ساتھیوں پر ہمیشہ فخر رہے گا کہ انہوں نے سوچ کے نئے زاویے مجھ پر آشکار کیے۔
ابو شامل بھائی۔ آپنے بہت اچھی تحریر لکھی ہے۔ جہاں تک خرم بھائی کے نظریات کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں یہ انکے مغربی معاشرے کی طرف جھکاؤ کا نتیجہ ہے۔
اسلامی تاریخ کے مطابق ایک نبی کے بعد اسکا قائم مقام ایک خلیفہ یا نائب ہوتا ہے جو اسکی جماعت کو آگے چلاتا ہے۔ یہ قیادت سیاسی و مذہبی امور کیلئے یکساں ہے۔ یوں دین اسلام میں سیاست کو مذہب سے الگ نہیں کیا گیا بلکہ اسکو بھی اخلاقیات کی زنجیروں میں باندھا گیا ہے۔ ایک خلیفہ کیسا ہونا چاہئے، اسکے لئے ابتدائی خلفائے راشدین کی تاریخ پر کتب خانے بھرے پڑیں ہیں۔ یوں مزید لکھنے کی گنجائش نہیں ہے۔ ہاں اس بات پر ڈسکشن کر لیں کہ موجودہ دور میں جہاں مسلمانوں کے 100 سے زائد مختلف فرقے، جماعتیں، مسلک موجود ہوں، تو انکو ایک خلیفہ کہاں سے نصیب ہوگا؟
عارف تبصرے کے لیے مشکور ہوں۔ خرم بھائی اپنے نظریے کی کچھ وضاحت کر چکے ہیں اور اس حوالے سے مزید کچھ لکھنے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں اس لیے شاید فی الوقت ان کے ‘جھکاؤ’ کو متعین کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ آپ نے بہت اہم بات کی ہے کہ سیاست کو اسلام سے الگ نہیں کیا گیا بلکہ اسے اخلاقیات کی زنجیروں میں باندھا گیا ہے۔ البتہ موجودہ دور میں خلیفہ کے حوالے سے یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ اسلام کے بنیادی اصول جن پر تمام فرقوں کا اتفاق ہے، ان پر، فروعات میں جائے بغیر، ہم میں اتفاق کے زیادہ امکانات ہیں۔ اب جبکہ تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی باتیں ہو رہی ہیں اس دور میں مسلمانوں کا آپس میں تصادم صرف جہالت کی وجہ سے ہے ورنہ قوم پرستی کا گہوارہ یورپ بھی اب اس سے تائب ہو چکا ہے اور عظیم تر یورپ کے قیام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مسلمانوں کی اس تقسیم میں نام نہاد علماء کا بڑا ہاتھ ہے اور مسلمانوں کی جہالت نے اس کو مزید بڑھا دیا ہے۔
فی الحال میں اپنی رائے وقت کی قلت کی وجہ سے تفضیلا لکھنے سے قاصر ہوں ۔ خرم صاحب کا مندرجہ بالا تبصرہ میری رائے میں بہت سی باتوں میں درست ہے ۔ مثلا اسلام نے کسی خاص لباس کی تاکید نہیں کی ۔ بلکہ اسلام نے لباس کی چند بنیادی شرطیں رکھی ہیں ، ان پہ جو ملبوسات پورا اتریں وہی اسلامی لباس ہوسکتا ہے۔ مثال اسکی یہ ہے کہ عربوں کے عمامے اور پاکستانیوں کے شلوار قمیض ، چوغے کرتے لہنگے وغیرہ سبھی ان شرائط پہ پورا اترتے ہیں۔ اسلام جن ھندؤستان پہنچا تو اسلام نے کبڈی کھیل کود کشتی یا اسطرح کے مقامی کھیلوں پہ پابندی نہیں لگائی بلکہ اسی صحت مند تفریح کی حوصلہ افزائی کی۔ روکا تو شراب جوئے وغیرہ سے روکا۔ اسی طرح افریقہ میں بہت سی چیزوں کی مثال دی جاسکتی ہے۔ اور پورے عالم اسلام میں شروع اسلام سے ہی بہت مختلف تہذیبیں مسلمان ہونے کے باوجود اپنی منفرد شناخت رکھتی تھیں۔ اور انھیں کوئی خاص تہذیب اپنانے کے لئیے کبھی نہیں کہا گیا۔
یہ تو تہذیب کے وہ معنی ہیں جنہیں ہم تہذیب کے ساتھ ساتھ ثقافت کے معنوں میں بھی لیتے ہیں۔ تہذیب کا ایک معنی وہ بھی ہے ۔ جس سے کسی ایک قوم یا قوموں کا انفرادی اور اجتماعی معامعلات میں اور روزمرہ کی زندگی میں آپس کے تعلق میں اخلاق اور سلوک ہے۔ کہ مذکورہ قوم یا قومیں اخلاقی لحاظ سے کس عروج پہ ہیں۔ جہاں تک مادی ترقی کا تعلق ہے۔ اسکا تعلق تہذیبی اخلاق سے بہت گہرا ہے۔ جو قومیں خواہ وہ کافر یا لادین ہی کیوں نہیں ہوئیں ان قوموں نے نے جب تک اپنے نصب العین واضح رکھے انھیں اللہ تعالٰی نے مادی ترقی میں بھی خوب ترقی دی۔ اسی اعلٰی اخلاقی اقدار اور اس کی مرہونِ منت مادی ترقی کو بھی تہذیب کہا جاتا ہے۔
مؤخر الذکر تہذیبی معانوں میں، اسلام کے آنے کے بعد بہت سے تہذیبی پہلوؤں کو بجا طور پہ “اسلامی تہذیب “ کہا جاتا ہے۔ جیسے اسلامی طرزِ تعمیر یا اسلامی اسلوب، اسلامی طرزِ حکومت وغیرہ۔
یعنی تہذیب کے ایک معانی وہ ہوئے جو خرم صاحب کے مندرجہ بالا تبصرے میں نظر آتے ہیں ۔ اور دوسرے معانی وہ بنتے ہیں جس پہ ابو شامل زور دیتے ہیں۔
اب ایک نظر سیکولر ازم کو بھی دیکھ لیتے ہیں ۔ سیکولر ازم لادینیت کا نام نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے ۔ جسمیں ہر کسی کو اپنی سوچ، عقیدے ، مذہب ۔ یا لادینیت کے تحت زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔شرط محض یہ ہے کہ دوسروں کے عقیدے یا سوچ پہ اپنا عقیدہ یا سوچ نہ ٹھونسی جائے۔ یہ سوچ بنیادی طور پہ یوروپ میں عام آدمی کی زندگی میں چرچ کی بے جا مداخلت کے ردِعمل کے طور پہ ابھری ۔ رفتہ رفتہ اسی سوچ کی بنیاد پہ بہت سی ریاستوں نے نے اپنے آپ کو سیکولر کہا۔ بہت ممکن ہے کہ شروع شروع میں اس میں کچھ صداقت ہو مگر گہرائی میں جاکر دیکھیں تو موجودہ دور میں تو ایسی ریاستیں سیکوالزم کو محض ایک نقاب کے طور پہ استعمال کرتی ہیں۔ جس سے دوسروں اور خاصکر مسلمانوں کو دہوکہ دیا جاسکے ۔ جبکہ انکا سیکولر کہلوانا ، محض تہذیبی طور پہ اپنے آپ کو مسلمانوں سے برتر ثابت کرنے کے لئیے ہے۔ جبکہ یہ ریاستیں درحقیقت کسی بھی رجعت پسند ریاست سے بڑھ کر رجعت پسند واقع ہوئی ہیں۔ جبکہ اسلام نے چودہ سو سال پہلے عملی طور پہ تمام مذاہب کے لوگوں کو دھونس اور زیادتی سے مسلمان کرنے سے منع کرتے ہوئے سب کو اسلامی حدود میں امن سے زندگی گزارنے کی ضمانت دی اور زندگی بسر کرنے کی مثال قائم کی۔ جسکا بڑا ثبوت آج بھی عرب علاقوں میں اس کثیر تعداد میں نصرانیوں کا ہونا ہے۔ اور ہندؤستان پہ لگ و بھگ ہزار سال مسلمانوں کی حکومت کے باوجود ہندؤستان کی ستر فیصد آبادی کا ہندو ہونا ہے۔
پس اسلئیے ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سیکولر ازم بھی ایک تہذیب ہے۔
جاوید صاحب! مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ انفرادی طور پر عوام کے مذہب میں عدم مداخلت پر بات ختم ہو جائے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا مغرب زدہ طبقہ اسی لادینیت کو یہاں نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسلامی دنیا میں جتنے مظاہر دیکھے گئے اس میں سیکولر ازم ایک جابرانہ انداز ہی میں نافذ کرنے کی کوشش کی گئی چاہے وہ ترکی ہو، مصر ہو، شاہ کے دور کا ایران ہو، الجزائر ہو یا تیونس۔ ان تمام ممالک میں لادینیت کو جبری طور پر نافذ کیا گیا۔ حالانکہ سیکولر ازم یورپ کے مخصوص حالات کی پیداوار تھا، کیونکہ عیسائیت کوئی مخصوص سیاسی نظریہ نہیں رکھتی تھی اور سیاست میں ان کا ملوث ہونا دراصل پاپ کے ‘اجتہاد’ کا نتیجہ تھا اس لیے وہاں مذہب کے نام پر جبر کے خلاف تحریک اٹھنا لازمی تھا۔ اس کے مقابلے میں اسلام ایک زندہ و جاوید دین یعنی نظام زندگی ہے جو زندگی کے ہر پہلو بشمول سیاست میں مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے اس لیے سیاست کو دیس نکالا دینا اتنا آسان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک مسلمانوں میں ذہنی و فکری تصادم نظر آتا ہے۔
عارف کریم صاحب کی بات پہ بات کرنا چاہونگی. اگر آپ ظہور اسلام سے قبل کے عرب میں جائیں تو وہاں بھی حکمرانی کے مختلف طریقے رائج تھے. یہ خلیفہ کا طریقہ اسلام نے ایجاد نہیں کیا بلکہ انہی مختلف طریق ہائے حکمرانی سے لیا گیا ہے. رسول اللہ نے اپنی زندگی میں کسی بھی سلسلے کے لئے وصیت نہیں کی کہ ضرور بالضرور اسے اختیار کر لیا جائے اور اسی پہ عمل کیا جائے. کیا آنحضرت کے ویژن اور ذہانت سے یہ چیز پوشیدہ تھی کہ اس قسم کے مسائل بھی کھڑے ہونگے. یقینا ایسا نہیں ہو گا. دسوری طرف قرآن بھی کسی ایک طریقہ حکومت کا حکم نہیں دیتا. اب اگر آپ انسانی نکتہ ء نظر سے دیکھیں تو اس چیز کی بہت اہمیت ہے کہ آپ اپنے نظام حکومت کو چلانے کے لئیے آزاد ہیں. سوائے اسکے کہ بنیادی اسلامی اصولون کی پاسداری کی جائے.
دوسری بات فرقہ واریت کی آجاتی ہے. فی الحال حقیقی بنیادوں پہ اس سے جان چھڑانا ناممکن ہے. ظاہر سی بات ہے کہ اسکا رونا روتے رہنے سے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہونے کا. اس سمت میں یہی کیا جا سکتا ہے کہ ایک دوسرے کو کافر قرار دئیے بغیر دنیاوی امور کو آگے بڑھنے دیں. ہر فرقہ صرف اپنے حدود متعین کر سکتا ہے اور یہ کوشش کر سکتا ہے کہ اپنی آنیوالی نسل کو اپنے فقہے کی تعلیم دے. لیکن اب ہم یہ نہیں کر سکتے کہ دوسرے فرقے کو نیست و نابود کردیں. اگر میں ہم میں سے کوئ یہ چہتا ہے کہ اسکا بچہ فلاں فرقے کے شخص سے شادی نہ کرے تو اسے اپنے بچے کی تربیت میں ان چیزون کا اہتمام رکھنا چاہئیے کہ وہ بڑا ہو کر اس بات کی اہمیت کو جانے. اور اسکا حل یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئ بھی ہتھیار اٹھا کر لڑنا شروع کر دے. یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ اسلام بتدریج ارتقائ مراحل طے کر کے تئیس سال کے عرصے میں اپنے عروج پہ پہنچا. بحیثیت مسلمان ہمیں تحقیق اور علم کی راہ اپنانی چاہئیے، تقلید کی نہیں. یہ یاد رہنا چاہئیے کہ مناسب تقلید کے لئیے بھی اپکا علم اتنا وسیع ہونا چاہئیے کہ اپ اس میں سے قابل تقلید چیزیں الگ کر سکیں.
افسوس کہ اس وقت میں اپنے بلاگ پر لکھ نہیں سکتی، لیکن میں یہ ضرور کہنا چاہونگی کہ سائنس کو مسلمانوں کو اپنے لئیے چیلینج نہیں بنانا چاہئیے. یہ عیسائیوں کے بنیادی عقائد سے متصادم ہو سکتی ہے. لیکن اسلام سے نہیں. لیکن چونکہ اس وقت علم کے مختلف منبعوں کے لئے ہم انکے طفیلیئے ہیں اس لئیے انکی طرح ہم میں سے کچھ لوگوں نے اس چیز کا پروپیگنڈہ شروع کیا ہوا ہے کہ سائنس مذہب کے خلاف ہے. جتنا سائنس اسلامی روح کے قریب ہے اتنا دنیا کا کوئ اور مذہب نہیں لیکن اس معاملے کا دوسرا بد ترین پہلو یہ ہے کہ جتنا مسلمان سائنس سے، تحقیق سے اور علم سے دور ہیں اتنا دنیا کی کوئ اور قوم نہیں.
مجھے امید ہے کہ آپ جلد یا بدیر اس موضوع پر اپنے بلاگ پر لکھیں گی۔
اوپر مطالعے کے لیے جن کتب کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں ایک بہت اہم کتاب رہ گئی ہے وہ محمد حسن عسکری کی کتاب “جدیدیت” ہے جو ان کی سب سے شاہکار کتاب سمجھی جاتی ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور زندگی اور مابعد زندگی کے تمام پہلؤوں کا احاطہ کرتا ہے خواہ انکا تعلق انفرادی معاملات سے یا ہو یا اجتماعی زندگی سے ہو۔ اسمیں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئیے۔ اسلام بہ حیثیت دین کسی نظام ( خواہ وہ جمہوری ہی کیوں نہ ہو)، شخصیت، فکر یا فلسفے کا محتاج نہیں ۔ ایسے فلسفے یا مفکرین اسلام کے وہ پہلو جو ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں انھیں اجاگر کرنے میں تو مددگار ہو سکتے ہیں۔ مگر اسلام ہمیشہ سے اپنا تعارف آپ ہے ۔اور ہمیشہ کے لئیے اپنا تعارف آپ رہے گا۔
مسلمان ریاستوں میں جہاں(جو تقریبا سبھی مسلمان ریاستوں کے عوام کی اکثریت کی خواہش ہے) مسلمان اپنی مرضی سے اسلامی طرزِ حکومت اور فلسفہ و فکر کے تحت زندگی گزارنی چاہتے ہیں۔ وہاں انھیں اپنی زندگی اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ملنا چاہئیے۔ مغرب کے موجودہ جمہوری نظام کے تحت بھی اکثریت کو حکومت بنانے اور قانون سازی کا حق حاصل ہے۔ جسے کمال بدیانتی سے مغرب اور مسلمان ممالک میں وسائل پہ قابض اپنے زعم دانشور کچھ لوگ اس بنیادی حق سے مسلمانوں سے کو دور رکھنا چاھتے ہیں۔مغرب اور مسلمان ممالک کے کچھ بدنیت دانشورجس جمہوریت کا ڈھول بڑے زوروشور سے پیٹتے ہیں، انتہائی بدیانتی سے کام لیتے ہوئے اسی جمہوری اصولوں کے تحت مسلمانوں کو اپنی مرضی کے نظام کے تحت زندگی گزارنے کا حق دینے میں متامل ہیں ۔ جسکی تازہ مثال الجزائر اور ترکی ہیں۔یہ وہ دوغلہ پن ہے ۔ جس کی وجہ سے مسلمان عوام اپنے حکمرانوں ، نام نہاد دانشوروں اور مغرب سےنہ صرف متنفر ہیں بلکہ وہ اپنے ممالک میں اپنے حکمرانوں سے لاتعلق ہوتے جارہے ہیں۔ جو بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے۔
جسطرح دریا اپنا رستہ خود بنا لیتے ہیں اسی طرح اسلام بھی نہ صرف ایک الہامی بلکہ فطری طاقت ہے ۔ جس کا فطری نتیجہ بلآخر اسلامی معاشرت ، حکومت اور طرزِ زندگی کی صورت میں نکلے گا ۔ لوگوں میں جوں ہی علمی روشنی پھیلی انھیں اپنے ہونے کا احساس ہوا اور اپنے حقوق کا پتہ چلا وہ اپنی اصل یعنی اسلام کی طرف لوٹیں گے۔ اور یہ ایک فطری واقعہ ہوگا۔ جسے سمجھنے کے لئیے دانشوری یا فلسفے کی ضرورت نہیں۔ امت مسلمہ نہائت نامساعد حالات میں پچھلی تین صدیوں سے جدو جہد کر رہی ہے ۔ اور ہر قسم کی فکری یلغار کا مقابلہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنا وجود سنبھالے ہوئی ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی شناخت منوانے پہ پہلے سے زیادہ بضد ہے۔ ممکن ہے اسمیں ابھی کچھ وقت لگے مگر اس کے سامنے مختلف حیلوں بہانوں سے ثقافت ،تاریخ یا یا کسی دوسرے نطام کی تاویلات سے بند باندھنے والے اسے بہاؤ میں ایک ہی پہلی لہر میں بہہ جائیں گے۔ ان کے ہاتھ محض پشیمانیوں کے کچھ نہیں آئے گا۔
جاوید صاحب ہمارے بادشاہوں اور آمروں کی پشت پناہی کے پیچھے دراصل سوچ ہی یہی ہے کہ اگر حقیقی جمہوریت ہمارے معاشروں میں رائج ہوجائے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت کسی غیر اسلامی چیز کو اکثریت رائے سے لاگو کردے…. اور اسی وجہ سے جب کبھی جمہوری فیصلے ان کو وارا نہیں کھاتے تو پھر دوغلی پالیسیاں مزید نمایاں ہوکر سامنے آتی ہیں.. اور ہمارے یہاں لوگ یہ سمجھنے کو کوشش نہیں کرتے کہ اسلامی اصولوں سے جمہوریت کی نوک پلک سنوار لی جائے تو یہ اچھا خلیفہ بھی دے گی اور اس کے کرتے کا حساب بھی کرے گی.. اس کے برعکس پاپائیت سے متاثرہ اسلام تو وقت کا چکر الٹا پھیر دے گا اور بالاخر اسی ملوکیت پر اختتام پذیر ہوگا جس کا رونا ہم یہاں پہلے ہی رورہے ہیں.
’اسلام معاشرے کے بنیادی اقدار کے منافی‘
برطانیہ کی نسل پرست جماعت برٹش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے لیڈر نِک گرفن نے بی بی سی کے پروگرام میں اسلام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ مذہب برطانوی معاشرے کے بنیادی اقدار کے منافی ہے۔
نک گرفن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہر مذہب کے مثبت پہلو ہوتے ہیں لیکن آزادانہ اظہار خیال، جمہوریت اور عورتوں کے برابری کے حقوق کے حوالے سے اسلام برطانوی معاشرے کے بنیادی اقدار میں زم نہیں ہو سکتا۔
bbc.co.uk/urdu/world/2009/10/091023_bnp_islam_rh.shtml
بی این پی تو خود برطانوی معاشرے کی ضد ہے اگر نسل ہی برتری کی بنیاد ٹہری تو کون سی جمہوریت اور کون سی انسانیت… ویسے بھی اس جماعت کو ابھی پندرہ منٹ کی شہرت ملی ہوئی ہے تو اس کو طول دینے کے لیے اس سے اچھی کیا بات ہوگی کہ اسلام کے خلاف ہی کچھ کہہ لیا جائے..
One in five would back BNP – poll
More than a fifth of voters would consider backing the British National Party in a future election, according to an opinion poll taken in the hours after leader Nick Griffin’s appearance on BBC1′s Question Time.
http://news.uk.msn.com/uk/article.aspx?cp-documentid=150424425
حسن صاحب کیا آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کی نسل پرست بی این پی سے وابستگی ہے؟
کیا اسلامی تہذیب ایک مخصوص مذہب کے سوتے سے پھوٹنے والی تہذیب نہیں؟ اگر ایسا ہے تو اس میں آفاقیت کی گنجائش کہاں ہے؟ دوسرے مذاہب کے ماننے والے لوگ اسلامی تہذیب میں کس طرح فٹ ہوتے ہیں اور وہ کس طرف اسلامی تہذیب کے تحت نشونما پانے والے معاشرے میں اپنا کردار طے کرتے ہیں۔ یا اسلامی معاشرہ کس طرح دوسرے مذاہب کے فکر و فلسفے کو اپنا عقیدہ بنانے والوں کو اسلامی تہذیب میں جگہ دیتا ہے؟
دوسرا کسی مذہب یا دینی فلسفے کے تحت پپدا ہونے والی ثقافت میں سائنس کو اس تہذیب و فلسفے کی کڑی چھلنی سے گزرنا پڑتا ہے۔ یوں علم کی راہ رکتی ہے اور سائنسی و فکری ترقی پر جمود طاری ہوتا ہے۔ اسلامی تہذیب، یا اسلامی نظام زندگی اس مسئلے سے کیسے نمٹتا ہے؟
‘مخصوص’ مذہب کے حوالے سے فی الوقت تو اتنے سارے جوابات تبصرے میں دینا ممکن نہیں۔ آپ کے اس تبصرے کا جواب الگ تحریر میں ہی دیا جا سکتا ہے جیسا کہ مندربہ بالا تحریر میں دیا گیا ہے۔ میرے خیال میں آپ کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک اسلامی ملک کے اندر اقلیت کے حقوق کیا ہوں گے؟
باقی رہا آپ کا دوسرا سوال وہ شاید آپ کی اسلامی تاریخ میں ہونے والی سائنسی ترقی کے بارے میں کم علمی کے باعث ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم اپنے مذہب کی تاریخ کو بھی یورپ میں عیسائیت کی مذہبی تاریخ کی عینک سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ‘ایسا ہی ہوا ہوگا’، میرے خیال میں کوئی مفروضہ قائم کرنے سے بہتر ہے کہ آپ مسلمانوں کی سائنسی تاریخ کا مطالعہ کر لیں۔ اگر موقع ملا تو اس حوالے سے جوابی تحریر میں کچھ لکھوں گا۔
صاحب تحریر اور تمام تبصرہ نگار خاتوں اور حضرات کا دلی شکریہ۔۔
بہت علمی تحریر اور تحریر کے تمام گوشے واضح کرتے ہوئے تبصرے
ایک دفعہ پھر شکریہ۔۔۔
بہت شکریہ جعفر صاحب لیکن اگر اس سلسلے کو آپ مزید آگے بڑھاتے تو بہت اچھا لگتا۔ آپ اس تحریر اور تبصروں سے کیا سمجھے؟ اپنی ذاتی رائے کیا ہے؟ وغیرہ۔
مجھے پکا یقین ہے کہ آپ کا ارادہ ”بیست“ کرنے کا تو ہرگز نا ہو گا
اپنا کہوں تو ابھی پڑھنا ہی شروع کیا تھا کہ لگنے لگا جیسے شائیں شائیں کرتی تیز ہوائیں چلنے لگی ہیں
نہیں میاں ڈفر، ایسی کوئی بات نہیں۔ اب آپ پکے یقین کو مزید پختہ کر لیں کہ ہم کبھی ایسا ارادہ نہیں کرتے
تحریر پڑھ کر جس طوفان میں گھر گئے تھے، اگر اس سے باہر آ جائیں تو کیفیات ضرور بیان کیجیے گا۔
[...] پیارے بھائی فہد نے اپنے بلاگ پر اس ناچیز کے ایک تبصرہ کو عزت بخشی اور اپنی رائے پیش کی ہے اور بہت خوبصورت انداز میں پیش [...]
فہد نہیں میرا سوال یہ نہیں کہ اسلامی ریاست میں اقلیت کے حقوق کیا ہونگے بلکہ یہ ہی کہ اقلیتی مذاہب کے لوگ اپنی ذمے داریاں اور ایسے معاشرے میں اپنا کردار کیسے طے کریں گے جو ایک مذہبی نظام زندگی ہے۔
دوسری بات کیا آپ کے خیال میں مسلمان خلافتوں کے دور میں ہونے والی سائنسی ترقیوں کا سہرا اسلامی نظام کے سر باندھا جانا چاہئے؟ اور ان میں سے کس دور کو آپ اسلامی نظام کی ایک مثال کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اسلامی تہذیب ایک ایسا سمندر ہے جو دوسری ثقافتوں کے ندی نالوں کو اپنی اندر ضم کرلیتا ہے اور اس میں جو کام کی چیزیں ہوں وہ باقی رہ جاتی ہیں باقی کثافت کو وہ باہر نکال کر پھینک دیتا ہے
نعمان جہاں تک سائنسی ترقیوں کی بات ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ علم مومن کی گمشدہ میراث ہے وہ اسے جہاں پاتا ہے حاصل کرلیتا ہے،
رہی بات اقلیتوں کی تو وہ اپنی زندگی گزارنے میں اسلامی قوانین کی حدود میں رہتے ہوئے آزاد ہیں اور کسی کو ان پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ ان کے تخلیق کار نے یہ کہ دیا ہے کہ لااکراہ فی الدین،
ہاں مگر جب دین میں داخل ہو تو پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور اپنے اخلاق اور اعمال سے لوگوں کے لیئے ایسی مثال بنو کہ وہ تمھارے دین کی طرف کھنچے چلے آئیں،
وماعلینا الابلاغ