اٹھو نہیں جاگو!

کسی بھی ملک کے نظام کو چلانے کے لیے ضروری ہے وہاں انصاف کا حصول آسان ہو اور اوپر سے لے کر نیچے تک احتساب کا عمل موجود ہو، اگر یہ دونوں عناصر کسی ملک میں موجود ہیں تو اسے ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ انصاف کی آسان فراہمی کے ساتھ ساتھ آجکل ذرائع ابلاغ کے ذریعے احتساب کا عمل بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے اور اس کی اہمیت پاکستان جیسے ممالک میں تو اور زیادہ بڑھ گئی ہے جہاں با اثر افراد قانونی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قانون سے بالاتر ہو جاتے ہیں۔ لیکن اب وہ کسی بھی احتسابی عمل سے بچ جائیں لیکن عوام کی نمائندگی کرنے والے ذرائع ابلاغ سے ان کا بچنا ناممکن ہے۔ گو کہ پاکستان کا ذرائع ابلاغ ابھی ابتدائی دور میں ہے اور وہ کہیں کہیں ناپختگی کا مظاہرہ بھی کر جاتا ہے لیکن اس امر سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ میڈیا نے قومی سیاسی منظر نامے کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور بلاشبہ مستقبل کے معاشرے کی صورت گری میں اس کی بہت اہمیت ہوگی۔

پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں جو تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں ان میں سب سے اہم ایک آزاد عدلیہ کا قیام ہے جو عوامی امنگوں کی ترجمان بھی ہے۔ عوام نے عدلیہ کی آزادی کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور انہیں افتخار چودھری اور ان کی ٹیم پر بھرپور اعتماد بھی ہے۔ اور یہ بات سب پر عیاں ہے کہ عدلیہ کی آزادی میں سب سے اہم کردار ذرائع ابلاغ کا رہا تھا جنہوں نے اس تحریک کو بھرپور کوریج دے کر اسے ایک عوامی تحریک میں بدلا۔ گو کہ “دلی ابھی دور ہے” لیکن عدلیہ اور ذرائع ابلاغ پاکستان کے روشن مستقبل کی کرن ہیں۔ ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ پاکستان کو حقیقی اسلامی، جمہوری و فلاحی ریاست بنانے اور عوامی شعور میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

میڈیا مختلف سطحوں پر عوام میں شعور اجاگر کر سکتا ہے جن میں ایک جانب جہاں سیاسی مذاکرے، مکالمے اور دیگر پروگرامز ہیں تو وہیں اشتہارات بھی ایک بہت اہم ذریعہ ہیں۔ پاکستان میں اس جانب بہت کم توجہ دی گئی ہے کہ اشتہارات کے ذریعے عوام کی مختلف حوالوں سے تربیت کی جائے لیکن پڑوسی ملک بھارت میں سیاسی شعور اجاگر کرنے کے لیے خصوصاً “ٹاٹا چائے” نے مختلف اشتہارات بنائے ہیں جو تخلیق اور معیار کا شاہکار تو ہیں ہی لیکن ساتھ ساتھ ان میں موجود پیغام کے اثرات بہت وسیع ہیں۔ آپ بھی ملاحظہ کیجیے اور اندازہ لگائیے کہ ایک اشتہار کیسے لوگوں کے سوچنے کے انداز کو بدل سکتا ہے:

Google Buzz

ٹیگز: ، ، ، ،

اب تک 12 تبصرے کیے گئے

  1. سعد says:

    کیسے جاگو؟ جو مزہ گھوڑے بیچ کر سونے میں ہے وہ جاگنے میں کہاں!

  2. بہت خوب اشتہارات ہیں۔

  3. کسی کو جگانے کيلئے صرف آواز دينا کافی ہوتا ہے
    کوئی ہلانے سے جاگ اُٹھتا ہے
    کچھ کو اُٹھانے کيلئے ڈنڈے کی ضرورت ہوتی ہے

  4. اسماء پيرس says:

    اور کسی کو جگانے کے ليے دھماکے کی

  5. اور اکثریت تو ایسی ہے کہ مر جاٖ ئے گی پر جاگے گی نہیں.

  6. عبداللہ says:

    چچ چچ چچ،
    یہ کیا بات ہوئی سیاست بھی ہمیں انڈیا سکھائے جمہوریت بھی ہم انڈیا سے سیکھیں اور اب اشتہارات بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور پھر بھی انڈیا سے نفرت کا راگ الاپے جائیں؟؟؟؟
    یہ جو دوسرے نمبر کا اشتہار ہے یہ آج ٹی وی کا سلوگن بھی ہے،
    ارے کہیں آج ٹی وی انڈیئن ایجینٹ تو نہیں؟؟؟؟؟

  7. اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا میں سیاسی شعور ہم سے زیادہ ہے. اسکے باوجود کہ وہاں مسلسل جمہوریت بھی رہی ہے لیکن انکے مسائل ہم سے مختلف نہیں ہیں.اب اگر ہم اپنے مسائل کی طرف دیکھیں تو انتہا پسندی، غربت یعنی ان لوگوں کا بڑی تعداد میں ہونا جنہیں بنیادی انسانی ضروریات حاصل نہیں ہیں، بجٹ کا ایک بڑاحصہ عوام کے بجائے دفاع پہ خرچ ہونا، اور باثر شخصیات کا نظام حکومت پہ اثر انداز ہونا. قانون کا تمام لوگوں کے لئے یکسان نہ ہونا، یہ وہ مسائل ہیں جنکا سامنا دونوں ممالک کو ہے. آخر ایسی کیا وجہ ہے جو ہمارے مسائل اتنے ملتے جلتے ہیں.

  8. لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب ذاتی مفادات کو پہلے اہمیت دیتے ہیں، اگرکوئی ایک مسٗلہ سب کے لیے ہے، لیکن میں نے اس کو اپنے تعلقات کی وجہ سے اپنے لیے حل کروا لیا تو باقی لوگ جائیں بھاڑ میں، میرا کام تو ہو گیا نا، ہم میں سے اکثر کی سوچ ایسی ہے۔
    ——————————–
    یہ وہ مسائل ہیں جنکا سامنا دونوں ممالک کو ہے. آخر ایسی کیا وجہ ہے جو ہمارے مسائل اتنے ملتے جلتے ہیں.
    ——————————–
    عنیقہ صاحبہ کا یہ سوال بہت اہم ہے، میں پہلے سوچتا تھا شایدپاکستانی ہی ایسے ہیں، لیکن کچھ عرصہ سے غور کر رہا ہوں، بھارت میں بھی بہت سے مسائل پاکستان جیسے ہیں ہیں۔
    کہیں اس کی وجہ کوئٰ ایس تو نہیں ہے؟
    یو ایس اے میں الیکشن ہوتے ہیں تو اوباما اپنا مستقبل کا پلان بتاتا ہے کہ میں ملک میں جاری بینکینگ کے شعبوں میں اصلاحات کروں گا، ملک کو فلاں شعبے میں خود کفیل بنائوں گا ، لوگ امیدوار کے پلانز کو دیکھ کر اسے ووٹ دیتے ہیں، جب کہ بھارت یا پاکستان میں کسی امید وار سے واقفیت، اس کی جذباتی تقاریر، اور اسکی شدت پسندی کو دیکھ کر ووٹ دیے جاتے ہیں، اور بھارت میں اکثر جو امیدوار مسلمانوں سے زیادہ نفرت کا اظہار کرتا ہے اسے ووٹ دیے جاتے ہیں۔

  9. عبداللہ says:

    واہ یاسر آپ تو سمجھدار ہوگئے!:)
    یعنی دونوں طرف نفرت کی سیاست یا نفرت کا کاروبار جاری ہے!
    اور ایسے لوگ انڈیا اور پاکستان دونوں کی فوج اور اسٹیبلشمنٹ میں بھی موجود ہیں!

  10. حمادلغاری says:

    اللہ! ہمیں بھی جگا دے

  11. پاکستان میں اشتہارات نے عوام کے لئے مشکلات پیدا کردی ہیں،اشتہارات میں بچوں کو چوری، جھوٹ بولنا، اور غیر اخلاقی باتیں سکھائی جارہی ہیں۔ جن پر عوام کو احتجاج کرنا چاہئے۔ حال ہی میں غیر ملکی اداکاروں کو پاکستانی مصنوعات میں ما ڈل لینے کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ بھارتی اداکارہ کرینہ کپور کو گل احمد والوں نے تین کروڑ روپے دے کر اپنے اشتہار میں ماڈل لیا ہے۔ گل احمد والوں کی لان کا ایک سوٹ 1500 روپے کا ہوگیا ہے۔ پاکستانی دیگر لان کا ایک سوٹ 350 میں آ جاتا ہے۔اشتہار کی قیمت بھی اس ملک کے عوام ادا کرتے ہیں۔ جو مصنوعات کی قیمتوں میں آضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ اس پر عوام میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

  12. عبداللہ says:

    درست فرمایاآپنے جناب!
    ایسی چیزوں کا بائیکاٹ ہی اس مسئلے کا حل ہے مگر کون کرے گا؟؟؟؟؟؟؟؟

تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیجیے