یوم مہران، شاہراہ مہران پر
January 22, 2010 |
318 مشاہدات
عرصہ سے میں نے اخبارات میں آنے والی غلطیوں پر اپنے قلم کو روکے رکھا ہے لیکن آج جتنی بڑی غلطی جنگ اخبار سے کی ہے، اس نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ اس کا ذکر یہاں کیا جائے۔
آج جنگ اخبار کے صفحۂ اول پر سرخی کے نیچے ایک خبر کچھ یوں ہے
“سندھ کے عوام اتوار کو انڈس ہائی وے کے طور پر منائیں، وزیر اعلیٰ”
یہ دراصل وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی جانب سے اتوار کو “انڈس ڈے” منانے کا مطالبہ ہے جسے جنگ اخبار کے عظیم مدیران نے “انڈس ہائی وے” کر دیا۔
یوں جنگ کے کارناموں کی فہرست میں ایک اور شاندار اضافہ ہوا۔ اس کارنامے پر تو جنگ اخبار کے مدیران کا نام سنہری حروف سے لکھا جانا چاہیے۔









بھائی ابو شامل یہ لوگ بیچارے ڈیڈ لائن پر کام کرتے ہیں۔ پاکستان کو چھوڑیے، ترقی یافتہ ملک جیسے ناروے کے بڑے اخبار بھی ایسی ہی سنگین نوعیت کی املاء کی غلطیاں کرتے رہتے ہیں۔
[جواب]
ابوشامل Reply:
January 22nd, 2010 at 21:57
دیکھیں عارف! غلطیاں تو ہوتی ہیں، لیکن پہلا صفحہ خاص طور پر کئی ایڈیٹرز کی نظروں سے گزرتا ہے اور وہاں اس قسم کی غلطی انتہائی سنگین شمار ہوتی ہے۔
[جواب]
یہ پاکستان کا سب سے بڑا اخبار ہے ، میرا نہیں خیال کہ کسی اور ملک کہ سب سے بڑے ادارے کا کوئی پبلیکیشن اس طرح کی غلطیاں کرتا ہوگا. جنگ میں آپ ایسی غلطیاں ہر چند روز بعد دیکھ سکتے ہیں.
[جواب]
دورِ حاضر میں جو جتنی بڑی غلطی کر کے نکل جائے وہ اتنا بڑا سورما کہلاتا ہے اور جو دوسرے کے سچ کو جھوٹا ثابت نہ کر سکتا ہو مگر اپنی لمبی تقریریا تحریر سے اسے چپ ہو جانے پر مجبور کر دے وہ سب سے زیادہ ذہین اور تعليم یافتہ سمجھا جاتا ہے
[جواب]
اکثر غلطیوں پر اخبار والے اگلے دن معذرت کر لیتے ہیں.
[جواب]
ابوشامل Reply:
January 24th, 2010 at 17:09
اخبار والے تو معذرت کر ہی لیتے ہیں لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟
[جواب]
حضرت اکثر اوقات تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایڈیٹر اور پروف ریڈر جیسے اہم عہدے اخبارات سے ختم کردیے گئے ہیں یا پھر کام چلاؤ کی پالیسی تمام پالیسیوں کی ماں بنا دی گئ ہے. املا کی غلطیاں، ٹرانسلٹریشن کے مسائل اور کئی بار تو جغرافیہ کی ایسی سنگین غلطیاں کے آدمی سر پکڑ کر رہ جائے.. سیاسی بیانات چھاپنے کو صحافت بنادیا جائے تو پھر رفتہ رفتہ یہ چیزیں عام ہوجاتی ہیں. غلطی ہونا بڑی بات نہیں لیکن جب ایک ہی غلطی معمول بن جائے تو اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا.
[جواب]
انسان خطاء کا پتلا ہے یا پتلے کی خطاء
[جواب]