ذکر جب چھڑ گیا ۔۔۔۔

برادر راشد کامران نے ایک چنچل کا ذکر کیا تو ہماری رگ خبریت بھی پھڑک اٹھی ہے۔ سوچا کہ جس سے عرصہ ہوا تائب ہو چکا ہوں، کیوں نہ ایک مرتبہ پھر اس کا ذائقہ چکھ لیا جائے۔ تو جناب جیسے ہی یہ ارادہ کیا، ہمارے موقر اردو روزنامے "جنگ" نے ایک عظیم الشان خبر پہلے ہی تیار کر کے رکھی تھی۔

چند روز قبل پاکستان مسلم لیگ (عوامی) کے سربراہ شیخ رشید احمد پر قاتلانہ حملہ ہوا، نتیجے میں 3 محافظوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے اور خوش قسمتی سے شیخ صاحب بچ گئے۔ اس کے بعد سے الزامات کا ایک سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ اسی شور و غوغے کے دوران ان تین جاں بحق ہونے والے محافظین کی تدفین عمل میں آئی۔ اس خبر کی سرخی جنگ سے کیا جمائی ہے، ذرا ملاحظہ کیجیے۔ اور اس سرخی سے آپ کیا سمجھے ہیں؟ ہمیں بھی سمجھا دیجیے:

روزنامہ جنگ کراچی 10 فروری 2010ء صفحہ نمبر 16

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

9 تبصرے

  1. عبداللہ says:

    🙂 وہی بات جس پر کل میں دوستوں سے کہہ رہا تھاکہ ایک زخمی شیخ رشید تین مرحومین پر بھاری ہوگیا!
    ویسے اس خبر کے ارد گردکچھ اور بھی خبریں ہیں آپنے غور نہیں کیا ورنہ شائد صرف سرخی کی تصویر ہی لگاتے:)

  2. اس خبر کو پڑھ کر میں تو بس یہی سمجھا ہوں کہ ایسے اخباروں پر اعتبار کرنے سے بہتر ہے کہ انہیں ہی زندہ درگور کردیا جائے.

  3. چونکہ شیخ رشید زخمی ہو گئے تھے تو ساتھوں کو دفنا دیا گیا اب خبر کی سُرخی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ساتھوں کو زندہ دفنا دیا گہ شائد شیخ رشید کے بچ جانے کی وجہ سے.

  4. اجی جگہ کی تنگی کے باعث کچھ ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہوگی جیسے کوئی اپنی چھوٹے بھائی کی پتلوب زیب تن کرلے.

  5. زبیر انجم says:

    فدوی نے روزنامہ جنگ میں ایک سرخی اس طرح کی بھی پڑھی ہے

    سینیٹ میں خاتون سے زیادتی کے خلاف قرارداد مذمت منظور

  6. یہ بھی ایک سیاسی کنجر خانہ ہے اللہ بچائے اس گندی اور خونی سیاست سے

  7. مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ جنگ اخبار میں اکثر ایسا ہوتا ہے
    البتہ شٰض رشید زضمی نہیں ہوا تھا . وہ گھبرا کر گر پڑا اور اس کے گھٹنے پر معمولی خراش آئی جس میں سے خون بھی نہ نکلا . اس کا بالکل مختصر تذکرہ یہاں موجود ہے
    http://www.theajmals.com/blog/2010/02/12

  8. عنیقہ ناز says:

    حالانکہ مرنے کی خبر ہے لیکن لکھنے والے کی حس مزاح نے یہاں بھی ساتھ نہ چھوڑا۔ ہو سکتا ہے یہی ہوا ہو۔ یعنی زندہ دفنا دیا گیا ہو۔ آجکل زمانہ ایسا آگیا ہے کہ لوگ آخری وقت تک شہید ہونے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئیے زبردستی -------------۔
    ویسے محبت اور 'جنگ' میں سب جائز ہے۔

  9. بہت بڑی غلطی ڈھونڈ نکالی آپ نے۔ویسے "جنگ" میں سب چلتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.