قائد اعظم - ایک سیکولر رہنما؟

ہم اس کے قائل ہیں اور ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ مسلمان اور ہندو دو بڑی قومیں ہیں جو “قوم” کی ہر تعریف اور معیار پر پوری اترتی ہیں۔ ہم دس کروڑ کی ایک قوم ہیں۔ مزید برآں ہم ایک ایسی قوم ہیں جو ایک مخصوص اور ممتاز تہذیب و تمدن، زبان و ادب، آرٹ اور فنِ تعمیر، احساس اقدار و تناسب، قانونی احکام و اخلاقی ضوابط، رسم و رواج اور تقویم (کیلنڈر)، تاریخ اور روایات، رجحانات اور عزائم کی مالک ہے۔ خلاصۂ بحث یہ ہے کہ زندگی اور اس کے متعلقات کے بارے میں ہمارا اپنا ایک امتیازی زاویۂ نگاہ ہے۔ اور قانونِ بین الاقوامی کی ہر دفعہ کے لحاظ سے ہم ایک قوم ہیں”۔ گاندھی جی سے خط و کتابت (ستمبر 1944ء) [1]

"مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ خود اپنے ضابطۂ حیات، اپنے تہذیبی ارتقاء، اپنی روایات اور اسلامی قانون کے مطابق حکمرانی کرسکیں"۔ 21 نومبر 1945ء فرنٹیئر مسلم لیگ کانفرنس سے خطاب  [2]

“ہمارا دین، ہماری تہذیب اور ہمارے اسلامی تصورات وہ اصل طاقت ہیں جو ہمیں آزادی حاصل کرنے کے لیے متحرک کرتے ہیں۔” (21 نومبر 1945ء فرنٹیئر مسلم لیگ کانفرنس سے خطاب [3]

"لیگ ہندوستان کے اُن حصوں میں آزاد ریاستوں کے قیام کی عَلم بردار ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے تاکہ وہاں اسلامی قانون کے مطابق حکومت کرسکیں"۔ اسلامیہ کالج پشاور کے طلبہ سے خطاب [4]

“مگر خان برادران نے اپنے بیانات میں اور اخباری ملاقاتوں میں ایک اور زہرآلود شور برپا کیا ہے کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی شریعت کے بنیادی اصولوں اور قرآنی قوانین سے انحراف کرے گی۔ یہ بات بھی قطعی طور پر غلط ہے”۔29، 30 جون 1947ء کو بیان[5]

ساتھیوں کی گواہیاں

پشاور 14 جنوری: پاکستان کے وزیراعظم مسٹر لیاقت علی خان نے اتحاد و یکجہتی کے لیے سرحد کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے قائداعظم کے ان اعلانات کا پھر اعادہ کیا کہ پاکستان ایک مکمل اسلامی ریاست ہوگا…. انہوں نے فرمایا کہ پاکستان ہماری ایک تجربہ گاہ ہوگا اور ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ تیرہ سو برس پرانے اسلامی اصول ابھی تک کارآمد ہیں”[6]

کراچی 26 جنوری: قائداعظم محمدعلی جناح گورنر جنرل پاکستان نے ایک اعزازی دعوت میں (جو انہیں کراچی بار ایسوسی ایشن کی طرف سے گزشتہ شام دی گئی) تقریر کرتے ہوئے فرمایاکہ “میرے لیے وہ گروہ بالکل ناقابل فہم ہے جو خواہ مخواہ شرارت پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ پروپیگنڈہ کررہا ہے کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنا پر نہیں بنے گا”[7]

“راولپنڈی 5 اپریل: مسٹر لیاقت علی خاں وزیراعظم پاکستان نے آج راولپنڈی میں اعلان کیا کہ پاکستان کا آئندہ دستور قرآن مجید کے احکام پر مبنی ہوگا۔ انہوں نے فرمایاکہ قائداعظم اور ان کے رفقاءکی یہ دیرینہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان کا نشوونما ایک ایسی مضبوط اور مثالی اسلامی ریاست کی حیثیت سے ہو جو اپنے باشندوں کو عدل و انصاف کی ضمانت دے سکے۔”[8]

 


[1] مسٹر جناح کی تقریریں اور تحریریں،  مرتبہ جمیل الدین احمد، ص 181

 

[2] ایضاً ،ص 473

[3] ایضاً، ص 422

[4] ایضاً، ص 446

[5] ڈان 30 جون 1947ء

[6] پاکستان ٹائمز،15 جنوری 48ء

[7] پاکستان ٹائمز، 27 جنوری 1948ء

[8] پاکستان ٹائمز،17 اپریل 1948ء

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

51 تبصرے

  1. اللہ اس محنت کی جزائے خیر دے

  2. نعمان says:

    ------ تبصرہ نگار کی خواہش پر یہ تبصرہ مٹا دیا گیا ------

    • نعمان! اس سے زیادہ واضح اور دو ٹوک جواب میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ یعنی کہ اگر قائد اعظم بھی آپ کے مطلب کی بات نہ کریں تو آپ انہیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں گے ؟ (قائد گستاخی معاف کیجیے )۔ اور "عوام" سے آپ کی مراد کہیں "بھائی" والی عوام تو نہیں جو وہ ہر روز ایک بیان میں خود ساختہ عوام کا نام لے کر کراچی پر اپنی سیاست چلاتے ہیں۔ مجھے آپ کے اس بیان سے بہت زیادہ افسوس ہوا ہے اور مجھ سمیت کئی محب وطن افراد کو بھی ہوا ہوگا۔ ثابت ہو گیا کہ آپ کے پاس ان بیانات کا کوئی مدلل جواب نہیں ہے اور قائد اعظم کی حیثیت آپ کی نظر میں کیا ہے۔

  3. نعمان صاحب، یقیناپاکستان میں وہی نظام ہونا چاہیے جو اس ملک کے عوام چاہیں. ابوشامل صاحب کی یہ محنت دراصل ان سکیولر انتہا پسندوں کے لیے ہے جو قائداعظم کو سکیولر ثابت کرنے اور اس کے ذریعے پاکستان کو ایک سکیولرملک بنانے کے لئے کسی بھی انتہا تک جانے سے گریز نہیں کرتے.

  4. نبیل says:

    تاریخ کا مطالعہ دیانت کا تقاضا کرتا ہے جو بدقسمتی سے ہم میں سے کوئی بھی نہیں کر پاتا۔

    • جی بالکل نبیل بھائی! تاریخ کا مطالعہ جب تک دیانت سے نہ کیا جائے، اس کا مطالعہ کرنا بیکار ہے۔ لیکن میں ساتھ میں بھی کہوں گا کہ دیانت کا یہ مطالبہ صرف ایک فکر رکھنے والے افراد سے نہیں کرنا چاہیے۔

  5. عنیقہ ناز says:

    اگرچہ کہ میں نے سوچا تھا کہ آپکی اس پوسٹ پہ تبصرہ دو دن بعد کرونگی. ذرا دیکھوں کہ لوگ اب کیا کہتے ہیں. اس موضوع پہ پہلے بھی خاصی بحث ہو چکی ہے. یہ بھی کہا جا چکا ہے کہ اگر آپ اس سلسلے میں ایک بیان لاتے ہیں ےو دوسروں کے پاس بھی ایسےکئ بیانات ہیں. آپ نے انکے قریبی رفقاء کا حوالہ دیا لوگ ان لوگوں کی باتیں لے آتے ہیں جن سے انکے خاندانی تعلقات تھے تو یہ سارے قصے پرانے ہو گئے ہیں.
    اس سے کوئ باہوش شخص یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ انکی اپنی زندگی اور سوچ میں تضاد تھا جسے ہم قبول کرنے میں تامل کریں گے.
    یہاں ایک بات نہیں بھولنی چاہئیے کہ انکی پیشہ ورانہ تربیت ایک وکیل کی تھی. اور اب جبکہ ہم ان تمام چیزوں کو تجزیہ کریں تو یہ کہنا آسان ہے کہ پاکستان کی تخلیق کا مقدمہ انہوں نے بے جگری سے لڑا اور اسکے لئے وہ جو بھی دلائل استعمال کر سکتے تھے وہ انہوں نے کئیے. انہیں اپنی تھریک کے لئے سب لوگ چاہئیے تھے اور انہوں نے نے سبکو اکٹھا کیا. ورنہ کیا وجہ ہے کہ انہیں بلوچستان اور پنجاب کے وڈیروں سے ڈیل کرنی پڑی.
    انہیں پاکستان چاہئیے تھا ہر قیمت پہ چاہے وہ دو ٹکڑوں میں ہو. لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ ہر تحریک صرف لیڈر سے نہیں چلتی. اگر واقعتآ آپ اس موضوع میں دلچسپی رکھتے ہیں تو تحریک پاکستان پہ خوب ساری معلومات اکٹھا کریں. وہ بھی جو آپکے مئوقف سے ہٹ کر اور آپکے ناپسندیدہ مصنفین نے بتائ ہیں. پھر ان لوگوں سے خاص طور پہ وہ لوگ جو انڈیا سے اور سینٹرل انڈیا سے ہجرت کر کے آئے ہیں ان سے تفصیلی بات کریں کہ اس زمانے میں کیا ہوا. ہجرت کر کے آنیوالوں میں صرف ان لوگوں کو شامل نہ رکھیں جو سینتالیس میں آئے بلکہ وہ بھی جو ساٹھ کی دھائ میں بھی یہاں پہنچے ہیں. یہاں ان لوگوں کی بات نہیں کر رہی جو تاریخی حوالات کو اپنی پسند کے حساب سے تبدیل کر دیتے ہیں.
    تقسیم پاکستان پہ لکھا ہوا ادب پڑھیں اور اپھر بات کریں کہ اصل بات کیا ہو سکتی ہے.
    جیسا کہ میری حالیہ پوسٹ' کچھ آج سے الگ اور اسکے متعلق' میں. میں نے تحریک سے حوالے سے گفتگو کی ہے تو آپکو نہیں لگتا کہ تحریک پاکستان دراصل صرف تخلیق پاکستان تک ہی محدود تھی اور پاکستان کی تخلیق کے اعلان کے ساتھ ہی یہ ختم ہو گئ تھی. اور اگر وہ اس وقت ختم ہو گئ تھی تو ایسا کیوں ہوا.کیوں اس وقت کا اتنا چارجڈ لاکھوں کا مجمع تحریک کو اپنے انجام تک نہ پہنچا سکا.
    ایک دلچسپ بات اور یہ ہے کہ قائد اعظم نے مزید چیزوں کے لئے جو کچھ بھی فرمایا اس پہ ہم کبھی غور نہیں کرتے اور نہ اسے بیان کرتے ہیں. مگر اس طرح کے بیانات کو کس پس منظر میں بار بار بیان کرتے ہیں. میں نے اپنی ایک اور پوسٹ میں قائد اعظم سے منسلک ایک اور بیان خواتین کے متعلق دیا تھا. کیا اس پہ بھی باقی تمام لوگ اتنے ہی سنجیدہ ہیں پھر مجھے کسی نے کیوں نہیں لکھا کہ خدا آپکو جزائے خیر دے. ہے ناں عجیب بات.

    • محترمہ عنیقہ صاحبہ! آپ نے اچھا کیا کہ دو دن کا انتظار نہ کیا بلکہ ترنت جواب دیا، اس سے بحث کو صحیح رخ پر لے جانے میں مجھ سمیت کئی لوگوں کو مدد ملے گی۔
      سیکولر ازم کے حامی افراد کے پاس قائد اعظم کا صرف ایک ایسا بیان ہے جسے وہ ہر موقع پر پیش کرتے ہیں، یعنی وہ تقریر جو انہوں نے دستور ساز اسمبلی سے کی تھی، ، اور میرے خیال میں اگر قائد اعظم اس خطاب میں ان الفاظ کے علاوہ کچھ اور ادا کرتے تو (گستاخی ہوتی ہے) بہت بڑی بد دیانتی ہوتی۔ دستور ساز اسمبلی میں کیا قائد اعظم یہ فرماتے کہ جو غیر مسلم ہیں وہ اس ملک سے نکل جائیں؟اور کیا ایک اسلامی ریاست ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہاں صرف مسلمان کو رہنے کا حق حاصل ہے؟اگر سیکولر افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اسلامی ریاست کے فہم پر افسوس کے علاوہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
      محترمہ! “باہوش" افراد ہی نے قائد اعظم تو کجا علامہ اقبال کی فکر کو بھی نجانے کیا کیا کر کے پیش کیا، اس لیے ان باہوش افراد کے نکالے گئے نتائج خود ان کی شخصیت کے تضاد کو نمایاں کرتے ہیں۔قائد کی شخصیت میں تضاد ہی دراصل اس وقت نظر آتا ہے جب یہ "باہوش" افراد ان کی شخصیت کو اپنے بنائے گئے سانچے میں پیش کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
      البتہ میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں جو تاریخ سے ثابت ہے کہ قائد اعظم کانگریس کے رویے کے بعد بہر صورت پاکستان حاصل کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے انہوں نے ہر قسم کے لوگوں کو مسلم لیگ میں جمع کیا۔ اسی وجہ سے کئی اہم شخصیات نےتحریک پاکستان کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور مطالبہ کیا کہ مسلم لیگ قیام پاکستان کے بعد ملک کو چلانے کے لیے واضح پروگرام پیش کرے۔ جو وہ نہ کر سکی اور مسلم لیگ کی یہی کمزوری بعد ازاں کئی مشکلات کا باعث بنی اور قائد کے انتقال نے پاکستان کے سیاسی مستقبل کو ایسا گمبھیر کر دیا کہ وہ آج تک اندھیرے ہی میں ہے۔ مسلم لیگ کی یہی کمزوری تھی کہ ہم 1973ء تک صرف قرارداد مقاصد کی صورت میں ایک اچھی قانونی ڈیولپمنٹ کر پائے ورنہ یہ پورا دور صرف سیاسی کھینچا تانیوں پر ہی مشتمل رہا اور آئین کی تیاری کے بعد بھی آمریت کے باعث کوئی اچھی صورتحال نہ سامنے آ سکی۔ تاریخی لحاظ سے میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ تحریک پاکستان تخلیق پاکستان کے ساتھ ہی ختم ہو گئی اور ایک مکمل اسلامی فلاحی ریاست آج بھی ایک خواب ہی ہے۔ البتہ قرارداد مقاصد کی صورت میں جو آئینی مسودہ تخلیق کیا گیا وہ جدید اسلامی تاریخ کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے اور یہی پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی جمہوریت بناتا ہے۔
      آپ نے اپنے تبصرے کے آخری پیرا میں جو لکھا ہے، اس کا جواب میں یہی دینا چاہوں گا کہ میں کسی اور کے عمل یا رویے کا جوابدہ نہیں ہوں۔ بس اتنا کہوں گا کہ اللہ ہم سب کو درست راستہ دکھائے۔
      تقسیم پاکستان پر لکھی گئی کتب پڑھنے کے آپ کے مشورے پر ضرور عمل کروں گا لیکن کچھ فرصت مل جائے تو پھر۔ اگر آپ اس موضوع پر کچھ کتابوں کا حوالہ دے سکیں تو شاید مجھے آسانی ہو۔

  6. عبداللہ says:

    انیقہ 🙂
    بہت زبردست! بس اسی لیئے لوگ عورتوں کی زیادہ تعلیم کے خلاف ہیں کہ بال کی کھال نکالنے بیٹھ جاتی ہیں اور جو ہم مردحضرات کہہ رہے ہوتے ہیں اس پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے کو تیار نہیں ہوتیں!اب عورتیں یہ سب کریں گی تو ہمارے بچوں کی تربیت ہماری مرضی کے مطابق تو نہیں ہوگی نا!

  7. ابو شامل صاحب، بہت عمدہ تحریر ہے جس کے لیے شکریہ قبول کیجیے، یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ
    جو لوگ شرارتیں کرتے ہیں ان کا مقصد صرف توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔
    نعمان صاحب، قائد اعظم کے متعلق اس طرح بد اخلاقی سے بات کرنا ایک پاکستانی کو زیب نہیں دیتا، جب کہ قائد اعظم پاکستانیوں کے لیے محسن عظیم ہیں۔ تاہم پاکستان کسی کی بھی جاگیر نہیں ہے، اور قائد اعظم یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ پاکستانی عوام کیا چاہتی ہے،انہوں نے ایک الگ ریاست کا قیام بغیر کسی عوامی حمایت کے مکمل نہیں کر لیا، اور انہوں نے یہ فیصلہ عوام کی خواہشات کے مطابق ہی کیا، اس وقت کی عوام میں یقینن آپ کے دادا یا پردادا حضور بھی شامل ہوں گے۔جو حضرات اپنے باپ دادا کے کیے گءے فیصلوں کو غلط سمجھتے ہیں وہ یقینن ایسی راءے رکھ سکتے ہیں۔
    اور ابو شامل بھیا جن افراد کے پیٹ میں پاکستان کو ایک اسلامی ریاست کے روپ میں دیکھتے ہوے مروڑ اٹھ رہے ہیں انہیں یہ بھی علم ہونا چاہیے کہ اسلامی ریاست میں اقلیتیں قیام کر سکتی ہیں۔

    • یاسر! تبصرے کا بہت شکریہ۔ نعمان صاحب نے اپنے رویے پر معذرت کی ہے، یہ ان کا بڑا پن ہے۔ قائد اعظم کتنی عظیم شخصیت تھے، اس کا اندازہ اسی بات سے لگا لیں کہ کوئی بھی ان کی شخصیت پر انگلی نہیں اٹھاتا بلکہ ہر کوئی اپنے ذہن میں قائد اعظم کا اچھا تصور ہی رکھتا ہے۔
      پاکستان کا آئین اسے اسلامی ریاست تو ضرور بناتا ہے لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں ایک اسلامی ریاست کا قیام اب بھی محض ایک خواب ہی ہے۔ باقی جو لوگ اسلامی ریاست کے حوالے سے اپنے ناقص تحفظات رکھتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اسلام کے تصور ریاست کے بارے میں کچھ مطالعہ کریں۔

  8. خرم says:

    شہاب صاحب نے شہاب نامہ میں اپنا ایک واقعہ لکھا ہے اس وقت کا جب پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کی بجائے عوامی جمہوریہ قرار دینے کا ڈول ڈالا گیا تھا۔ اس وقت شہاب صاحب نے صدر ایوب کو جو دلیل دی تھی وہ آج بھی صائب ہے اور جب تک یہ ملک ہے اس وقت تک صائب رہے گی۔ قائداعظم نے اپنا کام کیا اور بڑی بے جگری سے کیا۔ ان کے بعد تو پھر عصبیتوں اور ذاتی پسند و ناپسند کی وہ اکھاڑ پچھاڑ مچی کہ آج ہم اس حال کو پہنچ گئے۔ مُلا قائد اعظم کی تقریروں سے “مُلا کی ریاست“ برآمد کرنا چاہتا ہے اور “روشن خیال“ ایک “روشن خیال“ پاکستان۔ ایک “اسلام“ استعمال کرتا ہے اور دوجا “عوام“۔ مجھے اس فکر سے اتفاق ہے کہ قائد اعظم کا فرمایا ہوا حرف آخر نہیں لیکن کوئی بھی کام اگر کسی مقصد کے لئے کیا تھا اور وہ مقصد پورا نہ ہوا تو اس کام پر لگی محنت کیا کہلائے گی بھلا؟؟ میرے ذہن میں تو “رائگاں“ ہی آتا ہے۔

    • بھائی خرم! اگر شہاب والا واقعہ پیش کر دیتے تو بہت سارے لوگوں کو سمجھنے میں آسانی ہو جاتی۔
      میرے خیال میں تو قائد اور اقبال ہی دو واحد شخصیات تھے جن کے ذہن میں پاکستان کے قیام اور اس کے بعد کا وژن واضح تھا، باقی سب لوگ مختلف وجوہات کی بنیاد پر مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ یہی وہ ٹولہ تھا جس نے ملک کو اس حال تک پہنچایا۔

  9. اس گھتی کو سلجھانے کا ایک سادہ فارمولا جو کم از کم میرے لیے کام کرتا ہے وہ یہ کہ کیا قائد اعظم اتا ترک تھے؟ جواب نفی میں ہے.. تو کیا قائد اعظم ملا عمر تھے؟ جواب پھر نفی میں ہے.. اگر یہ دونوں جواب نفی میں ہوں تو اصل جواب یہ ملتا ہے کہ قائد اعظم دراصل معتدل مزاج سیاستدان تھے اور اسی وجہ سے سینٹر رائٹ یا سینٹر لیفٹ کی سوچ رکھنے والے دونوں لوگوں کو وہ اپنے گروہ کے ممبر معلوم ہوتے ہیں اور ان کے ارشادات کی روشنی میں وہ اپنے اپنے طور لوگوں کو قائل بھی کرسکتے ہیں. انتہائی دائیں بازو اور انتہائی بائیں بازو کے لوگوں کے لیے اپنے آپ کو قائد اعظم کی سیاسی سوچ سے منصوب کرنا نہایت مشکل کام ہے اور اس طرح مجھے یہ سادہ جواب مل جاتا ہے کہ سیاسی طیف پر ایک طرح سے آپ انہیں ایک خلیج پاٹنے والا کہہ سکتے ہیں یا آج کل کی رائج اصطلاح میں کہیں تو انہیں برقع پہننے پر بھی اعتراض نا تھا، انہیں داڑھی رکھنے پر بھی اعتراض نا تھا، انہیں برقع نا پہننے پر بھی اعتراض نا تھا اور انہیں داڑھی نا رکھنے پر بھی اعتراض نا تھا.. قائد اعظم نے پاکستان ایک جمہوری عمل کے ذریعے حاصل کیا اور وہ پاکستان میں جمہوری نظام ہی دیکھنا چاہتے تھے اور اسی نظام کے ذریعے اگر کوئی ایسی بات اکثریت منظور کرتی جو ان کے خیال سے مطابقت نا رکھتی تو بھی وہ اسے تسلیم کرتے یعنی وہ پاکستان کو اپنی جاگیر نہیں سمجھتے تھے.

    • مسئلہ اصل میں یہی ہے کہ ہمارے پاس سیکولر ازم اور اسلام ازم دونوں کے لیے "اتاترک" اور "ملا عمر" جیسی مثالیں ہیں۔اور یہی مثالیں فریقین کے مابین تعلقات کو خراب کرتی ہیں۔ ملک کو ترقی دینے کے لیے دراصل ہمیں اسی خلیج کو کم کرنے کی ضرورت ہے اور بقول آپ کے قائد اعظم بھی دراصل ایسی ہی شخصیت تھے جو اس خلیج کو پاٹنے والے تھے۔ قائد کے علاوہ بھی ایسی شخصیات تھیں جو اسلام کو داڑھی، پائنچے اور برقعے تک محدود نہیں سمجھتی تھیں لیکن ان پر آج تک قیام پاکستان کا مخالف ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ میرا اشارہ مولانا مودودی کی طرف ہے، جنہوں نے انتہائی مدلل انداز میں مسلم لیگ سے قیام پاکستان کے بعد کے پروگرام کے بارے میں پوچھا جو بہرحال ان کے پاس نہ تھا۔ اگر مسلم لیگ کے پاس ایسا کوئی منصوبہ پہلے سے واضح ہوتا تو پاکستان کا یہ حال نہ ہوتا۔ کبھی کبھی تو مجھے ایسے لگتا ہے کہ سوائے قائد اعظم کے مسلم لیگ میں کسی کو امید ہی نہ تھی کہ پاکستان بن جائے گا۔ جب بن گیا اور قائد بھی اللہ میاں کو پیارے ہو گئے تو پھر وہ لوٹ مار مچی کہ الامان الحفیظ۔ آج بھی یہی صورتحال ہے۔
      ضرورت اس امر کی ہے کہ 1973ء کا آئین جس پر پاکستان کے دائیں، بائیں اور ہر حلقے کی سیاسی جماعتیں اور عوام متفق ہے، اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اس میں اللہ کی حاکمیت اور کتاب و سنت بنیادی ماخذ قانون ہونے پر نہ ولی خان تک کو اعتراض نہ تھا۔ اس لیے کم از کم ان نکات پر جن پر ہم متفق ہیں، انہیں آگے بڑھانا چاہیے۔ یہی جمہوریت کی بقاء کی ضامن ہے۔

  10. ماشاءاللہ
    بہت زبردست پوسٹ ہے.

  11. عبداللہ says:

    بہت خوب راشد، بہت ہی خوب!
    کیا نچوڑ پیش کیا ہے آپنے اصل صورت حال کا!

  12. arifkarim says:

    اسلام کا رونا رونے والا پہلے اس بات پر متفق ہو جائیں کہ آخر حقیقی اسلام ہے کیا۔ جیسے 1974 میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو کافر قرار دینے کیلئے تمام اسلامی فرقوں اور جماعتیں نے آپس کے دھکم پیل عقائد کو “بھلا“ کر جو کارنامہ سر انجام نہیں دیا تھا۔ آج وہی علما خاموش کیوں بیٹھے ہیں؟ جب قادیانیوں کیخلاف اتحاد بین المسلمین ممکن ہے تو صیہونیوں، فرنگیوں، اتحادیوں کے سامنے انکی ٹانگیں تھر تھر کیوں کانپتی ہے؟ کیا یہ محض ایک سیاسی اسٹنٹ تھا جو 1974 میں پیش آیا؟

    • بھائی عارف! ہم 1947ء سے پہلے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ آپ کی سوئی ہمیشہ کی طرح 1974ء پر اٹکی ہوئی ہے۔ اگر کبھی آپ کے اس پسندیدہ موضوع پر گفتگو ہوئی تو پھر یہ معاملہ بھی زیر بحث آ جائے گا، فی الوقت اس موضوع پر گفتگو نہیں ہو رہی۔

  13. نعمان says:

    ابوشامل معاف کیجئے مگر میں اس بحث سے تنگ ہوں کہ قائد اعظم سیکولر پاکستان چاہتے تھے یا اسلامی۔ قائد اعظم پاکستان کو ایک جمہوری ریاست دیکھنا چاہتے تھے اس بات پر تو سب متفق ہیں اور جمہوریت میں عوام کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ اپنے لئے لائحہ عمل کا انتخاب کریں۔

    مجھے افسوس ہے کہ میرے تبصرے سے آپ کو دکھ ہوا جو میرا منشا نہیں تھا اور اس کے لئے معافی چاہتا ہوں۔ ساتھ ہی وضاحت کردوں یہاں قائد کی تضحیک میرا مقصد ہرگز نہیں تھا بلکہ یہ بات واضح کرنا تھا کہ قائد اعظم ایک جمہوری سیاسی جماعت کے رہبر تھے نہ کہ پیغمبر۔ ان کے فرمودات ضروری نہیں کہ ہمیشہ درست ہوں اور ہماری ہمیشہ رہنمائی کرسکیں۔ وہ بانی پاکستان ضرور تھے مگر پاکستان ان کی جائیداد تو نہیں کہ جو ان کی وصیتوں کی روشنی میں چلایا جائے چاہے وہ عوام کو قبول ہوں یا نہ ہوں۔

    یہاں دونوں پہلو مد نظر رکھئے اگر قائداعظم ایک اسلامی فلاحی ریاست چاہتے تھے مگر اسوقت پاکستان کی عوام نہیں چاہتی تو ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ اور دوسرا پہلو کہ اگر قائد سیکولر پاکستان چاہتے تھے مگر پاکستان کی عوام اسلامی ریاست چاہتے ہیں تو ایسا ہی ہونا چاہئے۔

    میں آپ سے درخواست کرونگا آپ میرا پہلے والا تبصرہ مٹا کر یہ والا شائع کردیں تاکہ مزید کسی کی دلآزاری نہ ہو۔

    • نعمان! مسئلہ اصل میں یہی ہے کہ ہم جمہوریت اور اسلامی جمہوریت میں فرق نہیں سمجھتے۔ جمہوریت کا مطلب ہے عوام مکمل طور پر خود مختیار ہیں جو چاہیں اختیار کریں جبکہ اسلامی جمہوریت انہیں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے دائرے میں رہتے ہوئے پابند بناتی ہے کہ وہ اس دائرے سے باہر خواہش کے باوجود کچھ اختیار نہیں کر سکتے۔
      پاکستان کے عوام، جو نمائندگان کو منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں، جو چاہتے ہیں وہ 1973ء کی متفقہ آئین کی صورت میں موجود ہے۔ ضرورت صرف اس آئین پر عملدرآمد کی ہے اور وہ ایسا مسودہ ہے جس پر سب کو اتفاق ہے، انتہائی دائیں بازو کو بھی اور انتہائی بائیں بازو کو بھی۔
      انتہائی معذرت کے ساتھ یہ بھی عرض کروں گا کہ اگر قائد اور اقبال اسلامی فلاحی ریاست نہ چاہتے تو یقین جانیے آج دونوں شخصیات تاریخ کے کوڑے دان میں پڑی ہوتیں اور اس وقت کوئی بھی شخص ان کی آواز پر کان نہ دھرتا۔
      آپ کی خواہش کو پورا کروں تو نیچے آنے والے جوابی تبصرے کچھ بیکار ہو جائیں گے لیکن پھر بھی میں آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے پچھلا تبصرہ مٹا دیتا ہوں۔

  14. جعفر says:

    اس موضوع پر میں اپنے خیالات اپنے تک ہی محدود رکھنا چاہتا ہوں
    کیونکہ ابھی تک ہم لوگ رواداری کی اس منزل تک نہیں پہنچے جو ایسے خیالات ہضم کرتا تو دور کی بات ہے، سن ہی لیں۔۔۔

    • یہ ظلم نہ کرو جعفر میاں۔ یہاں بہت سارے ایسے خیالات بھی ہیں جنہیں ہضم کرنا واقعی مشکل ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس موضوع پر گفتگو نہ کریں۔ گفتگو کرنا زیادہ ضروری ہے، معاملات اسی سے سلجھیں گے۔

  15. نعمان says:

    جمہوریت کا مطلب ہے عوام مکمل طور پر خود مختیار ہیں جو چاہیں اختیار کریں

    یہ کہنا درست نہیں۔ مثلا امریکہ میں ایسی قانون سازی نہیں کی جاسکتی جو ان کے اعلان آزادی سے متصادم ہوں۔ ہر ملک کا آئین ایک بنیادی لائحہ عمل فراہم کرتا ہے جس کو بنیاد بنا کر قانون سازی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی جیسا کہ آپ نے اوپر لکھا کہ دستور سازی کے لئے قرار داد مقاصد کو رہنما اصول سمجھا جاتا ہے۔

    قائد اعظم کیا چاہتے تھے میرے خیال میں اگر آپ اس وقت قوم کی حالت دیکھیں تو قائد اعظم کیا چاہتے تھے اس سے ہم بہت دور نکل آئیں ہیں۔ قوم کو یہ سوچنا چاہئے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔

    مجھے اسلامی جمہہوریت جس کی آپ بات کرتے ہیں اس نظام میں کئی خامیاں نظر آتی ہیں مثلا جیسے آپ نے اوپر لکھا ہے کہ محدود آزادی۔ یہ محدودیت فکر و تلاش کی راہ میں رکاوٹ بنے گی جس سے معاشرے کی ترقی کی راہ رک جاتی ہے۔

    اظہار رائے کی آزادی سب سے زیادہ اور اظہار رائے کی آزادی کو کچلنے کی راہ میں استحصال کے نت نئے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس نظام میں خود نظام کو چند افراد کے ہاتھوں یرغمال بننے دینے سے روکنے کا کوئی طریقہ کار نہیں۔

    فکر کی آزادی سوچ کی آزادی اور تخلیق و تحقیق کی آزادی یہ سب چیزیں معاشرے کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہوتی ہیں۔ میری اور دیگر لوگوں کی تشویش کا سبب یہ ہے کہ مذہب کے زیر اثر چلنے والی ریاست میں یہ سب آزادیاں براہ راست خود مذہب اور اس کے ماننے والوں سے متصادم ہوجاتی ہیں اور ایسا کوئی طریقہ نہیں کہ آپ ایک مذہبی ریاست بھی چلائیں اور ان آزادیوں کی ضمانت بھی فراہم کریں۔

    • بھائی نعمان! آپ نے میرے جملے کو جس "محدود آزادی" کے پیرائے میں بیان کیا ہے، اسی محدود آزادی کو آپ اپنے بیان میں بھی دیکھ سکتے ہیں جیسا کہ آپ نے امریکہ کی مثال دی۔ تو ایک حد تک تو ہر معاشرہ روکے گا۔ لا محدود آزادی کے نتائج چند ملکوں میں آپ کو نظر آ رہے ہیں جہاں خلاف مذہب تو چھوڑیے خلاف فطرت تک اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بہرحال وہ موضوع بحث نہیں۔
      فکر، سوچ اور تخلیق و تحقیق میں تو مسلمان اسی دن سے پیچھے ہوئے جب انہوں نے اسلام کے زریں اصولوں کا دامن چھوڑا ہے۔ خلافت راشدہ اور بعد کے ادوار میں جب قرآن و سنت بنیادی ماخذ قانون تھے، اس وقت تو کسی کی فکر و آزادی پر پابندی عائد نہیں کی گئی (سوائے چند سلطانوں کے عاقبت نا اندیشانہ اقدامات کے)۔ مسلمانوں نے تمام تر سائنسی ترقی اسی دور میں کی ہے۔
      اسلامی ریاست کے حوالے سے آپ کا تصور کچھ مبہم ہے۔ آپ شاید اسے یورپ کی پاپائی ریاستوں سے ملا رہے ہیں۔ اسلامی ریاست میں پاپائیت کا کوئی تصور نہیں ہے اور نہ ہی خلیفہ مختار کل ہوتا ہے بلکہ وہ شوری اور عوام کو اپنے ہر عمل کا جوابدہ ہوتا ہے۔ آپ اسلامی ریاست کے بارے میں اگر کچھ مطالعہ کرنا چاہیں (کھلے دل کے ساتھ) تو میں کچھ کتابیں آپ کو ریفر کر سکتا ہوں۔

  16. فہد بھائی ،

    بہت اچھی تحریر ہے. نعمان صاحب نے اپنے رویے سے رجوع کرلیا ہے جو بہت اچھی بات ہے ورنہ یہ بات ہم سب کے لئے تکلیف دہ ہے.

    دراصل ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم خود اُسی تحریک کے زیرِ اثر آگئےہیں جو مغرب نے اسلام کو انتہا پسند ثابت کرنے کے لئے چلا رکھی ہے، ہم میں سے بہت سے لوگ شاید منہ سے نہ کہیں لیکن وہ اسلام کو انتہا پسند مذہب سمجھتے ہیں اور نتیجتاً سیکولرزم میں پناہ ڈھونڈتے ہیں. جبکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے اسلام ہرگز انتہا پسند مذہب نہیں ہے بلکہ اسلام تو ہر معاملے میں اعتدال اور میانہ روی کا حکم دیتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اسلام کے حامی بن کر یہ بات ثابت کرتے کہ اسلام انتہا پسند مذہب نہیں ہے ہم اسلام ہی سے بدظن ہوگئے ۔

    ہم میں سے بہت سوں کے لئے اسلام وہ مذہب ہے جسے طالبان یا دیگر شدت پسند لوگوں نے اپنا شیوہ بنایا ہوا ہے لیکن درحقیقت طالبان کا رویہ خود اسلامی اصولوں سے متصادم ہے۔ اس امر کو تقویت ملنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دینی جماعتیں نہ جانے کیوں طالبان سے اور اُن کے نام نہاد اسلام سے خود کو بری نہیں کرتیں اور مجرمانہ خاموشی کا شکار ہیں. یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اسلام کےنام سے ہی بدکتے ہیں۔

    یہ بحث علیحدہ ہے کہ جن لوگوں کو ہم طالبان کے نام سے جانتے ہیں وہ طالبان ہی ہیں یا کسی اور کے ایجنڈے پر کام کرنے والے کرائے کے قاتل۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم طالبان کے ظاہری پردے پر ہی ساری توجہ مرکوز کئے رہیں اور اس ظاہری پردے کے پیچھے کار فرما اپنے اصل دشمنوں سے غفلت ہمیں کہیں کا کہیں پہچای دے ۔

    یہاں میں راشد کامران صاحب کی بات سے اتفاق کروں گا کہ قائدِ اعظم معتدل مزاج رہنما تھے شاید یہی وجہ ہے کہ اُن کے اقوال میں سے کچھ مذہبی انتہا پسند لے اُڑتے ہیں اور کچھ سیکولر مزاج رکھنے والے لوگ۔

    • جی محمد احمد صاحب! اسلام سے بد ظن ہو کر سیکولر ازم میں پناہ ڈھونڈنا دراصل ایک طرح کا احساس کمتری ہے۔ اسی احساس کمتری کو ختم کرنے کی اقبال اور اکبر الہ آبادی نے بڑی کوششیں کیں اور اقبال کا فلسفہ خودی دراصل اسی کوشش کی پیداوار تھا۔ ہم مغرب کی تاریخ، ان کے اصولوں، طرز حکومت اور دیگر کے بارے میں جتنا مطالعہ کرتے ہیں کیا کبھی کسی نے اسلام کے بارے میں اتنا مطالعہ کیا؟ اصل میں یہ سب مطالعے کی کمی کے باعث آتا ہے۔ ورنہ کون ایسا بد بخت ہوگا جو اسلام کے بارے میں مطالعہ کرنے کے باوجود طالبان کی موجودہ سرگرمیوں اور ان کے طریقہ کار کی حمایت کرے گا؟ ایسی حرکات کرنے والے تو خود اسلام سے بھٹکے ہوئے لوگ ہیں۔

  17. باذوق says:

    اسی موضوع کے حوالے سے مزید مفید اقتباسات یہاں بھی ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں :
    13 جنوری 1948ء - پاکستان کا مقصد کیا ۔۔۔ سیکولرزم یا اسلام ؟

  18. اسید says:

    بہت عمدہ پوسٹ اور پیچیدہ سوالات کے مدلل جوابات دینے پر مبارکباد قبول کریں.. .
    بہت کچھ سیکھا.. .

  19. محمد احمد بھاءی نے تحریر کو بہت اچھے انداز میں پیش کیا، میں ان کے تبصرے سے اتفاق کرتا ہوں۔شکریہ

  20. بہت عمدہ ابو شامل ، کیا دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے . تبصرہ جات سے اندازہ تو ہو ہی رہا ہوگا.
    قائد اعظم کا احسان ماننا ہم سب پاکستانیوں پر فرض ہے کہ ایک شخص نے کیسی بے جگری دیانتداری اور اصول پسندی سے پاکستان کا مقدمہ لڑا اور جیت کر دکھایا. ہر قوم کا کوئی سربراہ اور محسن ہوتا ہے اور قائد اعظم اور علامہ اقبال اس قوم کے وہ محسنین ہیں جنہیں ہمیں اپنی ذاتی چپقلشوں سے پاک رکھنا چاہیے.

    نعمان ، قائد اعظم جیسے زیرک اور جہاندیدہ سیاستدان سے آپ توقع رکھتے ہیں کہ وہ عوام کے لیے وہ چیز منتخب کرتے جو انہیں پسند نہیں تھی. ایسا سوچنا بھی قائداعظم کی شخصیت سے ناواقفیت ہو سکتی ہے اور کچھ نہیں.

    دوسرا اگر لوگ اب سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے عوام اسلام کے سوا کچھ اور چاپتے ہیں تو ریفرنڈم کروا لیں، اب بھی اسی فیصد سے زیادہ لوگ اسلام کو ہی چاہتے ہیں اور باقی بیس فیصد بھی ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے انتہا پسندانہ اسلام دیکھا ہے اصل اسلام نہیں.
    طالبان کا نظام اسلام کا نمائندہ نظام نہیں ہے ، یہ قبائلی روایت کے زیر اثر اسلام کا متشددانہ اور مسخ شدہ نظام ہے جو اسلام کم اور قبائلی روایات پر زیادہ مشتمل ہے

    • پسندیدگی کا شکریہ محب۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ قائد اعظم کی شخصیت میں کوئی تضاد نہ تھا، یہ تضاد ہی دراصل اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مختلف فکر رکھنے والے افراد انہیں اپنے سانچے میں زبردستی ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں۔
      ہمارے ہاں ہر سیاسی جماعت "عوام" کا نام لے کر جو کام کرتی رہی ہے، اس سے سب آگاہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام پاکستان میں بہت بڑا محرک ہے، کوئی بھی سیاسی جماعت بغیر اسلام کا نام لیے چل نہیں سکتی۔ پیپلز پارٹی جیسی سوشلسٹ جماعت بھی اسلام کا نام لیتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سب سے اہم قوت اسلام ہی ہے۔ یہ الگ بات کہ ہر کوئی اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

  21. عرفان عادل says:

    کلمہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہی پاکستان کی بنیاد ہے . اس کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں . ہاں کوئی یہاں اسلام نہیں چاہتا تو اسے تاریخ مسخ کرنے اور اسلام میں میخیں نکالنے کی ضرورت نہیں اسے صاف کہنا چاہیے کہ بناتو اسی لیے تھا لیکن ہم یہاں اسلام نہیں چاہتے کوئی اور نظام چاہتے ہیں . اس سے اس فرد کی شخصیت کا کھرا پن سامنے آئے گا .بات کو موڑ تڑوڑ کر اپنا مطلب اس سے اخذ کرنا اور مان کر نا دینا اس سے اس کی شخصیت کا منفی پہلو ہی سامنے آتا ہے .

    • عرفان صاحب! بلاگ پر خوش آمدید۔ بہت خوبصورت بات کی ہے آپ نے کہ اسلام نہ چاہنے والے افراد اپنی منافقت چھوڑیں۔

  22. جناب عالی میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کس نے اور کب اور کس پیرائے میں قائد اعظم کو کافر اعظم اور پاکستان کو ناپاکستان کہا تھا

    آپ کا بھائی
    فرقان

    • بلاگ پر خوش آمدید فرقان!
      قائد اعظم کو کافر اعظم ایک شعر میں کہا گیا تھا جو مجلس احرار سے تعلق رکھنے والے مظہر علی اظہر ایڈوکیٹ کا تھا۔ ان کا یہ شعر کچھ یوں تھا:
      اک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا
      یہ قائد اعظم ہے کہ ہے کافر اعظم
      (ایسا گستاخانہ جملہ بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس بات کو واضح کیا جائے۔ نقل کفر، کفر نہ باشد)
      اب کیونکہ آپ نے یہ موضوع کھولا ہے تو میں کچھ بیان کرتا چلوں کہ سیکولر حلقوں کی "علمی بنیادوں" پر چوٹیں گزشتہ ایک صدی میں علامہ اقبال اور سید ابو اعلیٰ مودودی نے لگائی ہیں، ویسی کسی نے نہیں لگائیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بہت ہی گھٹیا انداز میں یہ الزام سید مودودی کے سر تھونپا ہے کہ انہوں نے قائد اعظم کو 'کافر اعظم' قرار دیا تھا اور یہ الزام اس قدر بڑھا کہ ہماری سابق وزیر اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو تک نے اپنی کتاب "مفاہمت: اسلام، جمہوریت اور مغرب" کے صفحہ 68 و 69 پر بھی یہ الزام سید مودودی پر تھونپا ہے جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ سید مودودی تو زندگی بھر خود ان کفر کے فتووں کی فیکٹریوں کے خلاف رہے اور ان کی بندش چاہتے تھے۔ لیکن کیونکہ مظہر علی اظہر کی کوئی حیثیت نہ تھی اور نہ ہی ان کے ان ناپاک الفاظ کی اس لیے ملک کے سیکولر حلقوں نے کمال ہوشیاری سے اس بیان کا رخ سید مودودی کی جانب پھیرا اور آج تک ان پر دشنام طرازی کرتے آئے ہیں۔ اس کی وجہ؟؟ اس کی وجہ سیدھی سی یہ ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دلوانے کے لیے عقلی سطح پر جو کام سید مودودی نے کیا، اس کی وجہ سے قادیانی لابی آج تک ان کے خلاف ہر سطح پر الزامات کی بوچھاڑ کرتی آئی ہے اور آپ نے خود ملاحظہ کیا ہوگا کہ ہمارے سیکولر و قادیانی حلقے ان سے کس قدر بدظن رہتے ہیں۔

  23. Mahi says:

    Abu Shamil good effort, Quaid e Azam was a Realy good and wonder full leader.He was the only one who made this possible that Pakistan came into being Existance. He gave the homeland of all Muslims where all Muslims could live according to their beliefs.

  24. mahi says:

    he is one of our great scholars no one can be like our babaye qom.he was a strong man.and he give us a lovely gift in shape of pakistan

  25. good effort and very great article.keep it up.best of luck

  26. TariqRaheel says:

    بہت عمدہ تحریر ہے
    پہلے نہیں پڑھ سکا پر آج نگاہ پڑی لوگ تاریخ کو جانے کہاں لیئے جا رہے ہین
    شائد کے ان کے من "آقا" کی خوشنودی اسی میں ہے

  27. عدنان says:

    شرم کر نعمان

  28. آپ دوستوں کو پتہ ہے کہ میں کافی دنوں سے مباحث سے گریز کر رہا ہوں ، مگر آپ کی پوسٹ کے جوابات نے ایک سوال پر مجبور کر دیا ہے

    اگر پاکستان کا قیام ایک سیکولر ریاست کا مقصد تھا تو ہندوستان کے ساتھ رہنا کیا برا تھا ؟؟؟ وہ تو پہلے ہی سیکولر جمہوری ریاست تھی ، ہم نے الگ وطن کیوں بنایا اور کیوں اتنی قربانیاں دیں ؟

    دوسری بات ، قائد اعظم کی اپنی ذات ہے ، جو ایک اثنائے عشرہ یا شعیہ برادری سے تھے ، انہوں نے غیر مسلم سے شادی کی اور صرف اسلام کے ساتھ بغاوت کی وجہ سے اپنی بیٹی کو چھوڑ دیا ، کیا کہوں بس یہ کہوں گا . . . . . کہ اصل میں ہمیں ڈر ہے اسلام سے ، اسلام کچھ پابندیاں لگاتا ہے ، جو ہماری زندگی کی سہل پسندی کو کم یا ختم کر دے گا . . . جو ہم نہیں چاہتے ، ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ ہماری "محنت" کی کمائی دوسرے "کمی کمین" کو دیا جاے . . .
    تھوڑا کہے کو زیادہ سمجھیے . . . اگر واقعٰی ہی آپ کو پاکستان سیکولر ملک چاہیے ، تو ایک گذارش ہے اپنی نماز پڑھتے ہوئے ایک بار سجدے میں یہ تصور کر لیجیے کہ پاکستان ایک سیکولر ملک ہونا چاہیے . . . . . . شاید جواب مل جائے . ..

    • ابوشامل says:

      شکریہ اظہر بھائی۔
      میں گزشتہ چند سالوں سے اپنے ’لبرل‘ دوستوں سے یہی سوال کر کر کے تھک گیا ہوں کہ اگر پاکستان کو ’سیکولر‘ بنانا تھا تو ہندوستان کے ساتھ رہنے میں کیا برائی تھی؟ اور مجھے ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں ملا۔ اسی بلاگ پر بہت بحثیں ہوئی لیکن جواب ندارد کیونکہ یہ جواب تو انہیں تبھی ملے گا جب وہ موجود ہوگا۔

  29. عمران says:

    ابوشامل صاحب انڈیا کے ساتھ رہنے میں کوئی برائی نہیں تھی وہاں اب بھی پاکستا ن سے زیادہ مسلمان ہیں ہم اتنے پاکستان میں پنجابی وہ کردار ادا کر رہے جو انڈیا میں ھندو مسلمانوں کے ساتھ کرتے فرق کچھ خاص نہیں پاکستان میں رہو یا انڈیا میں اچھے ہوتے تو بنگلہ دیش ہم سے جان نہ چھوڑا لیتا اور بلوچستان ، سندہ، پختون خاہ ہم سے الگ ہونے کی کوشش نہ کر رہا ہوتا پاکستان صرف پنجابستان ہے جو دوسروں صوبوں کو غلام بنا کر بیٹھا ہوا پاکستان کے سب صوبے الگ کلچررکھتے ہیں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں اب اس پر ایک نیا سعودی کلچر تھوپنے کو کوشش ہو رہی جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور رہیں گے پٹھاں کبھی پنجابی کو پسند نہیں کرے گا یہ اس کے خون میں شامل ہے اسلام ہہیں اکھٹا نہیں کر سکتا اگر ایسا ہوتا تو مسلم ممالک میں دشمنی نہ ہوتی

  30. Rahim says:

    so nice website

  31. Rahim says:

    not secular

  1. September 11, 2011

    [...] قائد اعظم – ایک سیکولر رہنما؟ [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.