سٹی وارڈن کاقیام ۔۔۔ریاست کے اندر ایک اور ریاست

تحریر از مہمان بلاگر: ڈاکٹر ظفر اقبال
کراچی میں کمیونٹی پولیس کا نام تبدیل کر کے سٹی وارڈن رکھا جا رہا ہے ۔شہریوں نے اس پر اپنی گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایک غیر قانونی اور غیر آئینی ادارے کا نام تبدیل کر کے اسے قانونی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور امن عامہ کی بحالی کے لئے پولیس کا ادارہ قائم ہے مگر ایم کیوایم نے پولیس کے ادارے کے متوازی ایک نیا ادارہ قائم کر کے ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کوشش کی ہے ۔ آئین اور قانون میں اس طرح سٹی وارڈن یا کمیونٹی پولیس کا کوئی تصورنہیں اور نہ ہی قانون پارٹیوں کو پولیس اور فوج کے قیام کی اجازت دیتا ہے ۔ ایم کیوایم نے اس ادارے کو قائم کرکے اپنے حلف یافتہ اور مجرمانہ ریکارڈ کے حامل کارکنوں کو اس میں بھرتی کیا ہے اور ایم کیوایم کے یہ حلف بردار کارکن کمیونٹی پولیس کی گاڑی میں پورے شہر کا گشت کررہے ہیں ۔ اسٹریٹ کرائمز بالخصوص موٹر سائیکل گاڑیاں اورموبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے کمیونٹی پولیس کے قیام کے بعد شہر میں امن وامان کی صورت حال بہتر ہونے کے بجائے اس میں مزید خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں ۔ آج پورا شہر ڈاکؤں اور چوروں کے رحم وکرم پر ہے ۔ جن افراد کو کمیونٹی پولیس میں بھرتی کیاگیا ان ایک ہی معیار ہے ۔شہر میں دوسری تمام ملازمتوں کا فیصلہ تو ایم کیو ایم کے مرکز پر ہوتا ہی تھا،مگر کمیونٹی پولیس کے لیے بھی کسی نزاکت کا خیال نہیں رکھا گیا۔ شہرکے وسائل کو متحدہ اپنے کارکنوں پر صرف کررہی ہے جس سے شہریوں میں احساس محرومی پیدا ہورہا ہے۔ کیا پاکستانی فوج اور حکومت کراچی کو ملک سے کاٹنے اور خونریزی کا شکار کرنے کا حتمی فیصلہ کر چکی ہے ۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ سٹی وارڈن کو ختم کیا جائے اور اسے غیر قانونی قرار دیا جائے ۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

9 تبصرے

  1. ڈفر says:

    ایم کیو ایم کی حرکتوں پ احتجاج؟ 😮
    سمجھ سے باہر ہے 😕

  2. میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا پڑھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے جیسے الطاف حیسن مجیب کا رول ادا کر رہا ہے

  3. ڈفر says:

    آپ نے اپنے بلاگ سے کچھ کام کے وجٹس نکال دئے ہیں 😥

  4. اگر یہ مسئلہ بالکل اسی طرح ہے جیسا کہ بیان کیا گیا ہے تو نہایت افسوس سے کہنا پڑے گا کہ ایم کیو ایم نے سبق حاصل کرنے کا دروازہ مکمل بند کررکھا ہے۔ بجائے پولیس کے ہاتھ مضبوط کرنے کے ایک متوازی ادارے کا قیام نہ سمجھ میں‌آنے والی بات ہے اور اس کے مقاصد بلا شبہ دوسرے ہی معلوم ہوتے ہیں

  5. ابوشامل says:

    راشد بھائی اس وقت اپنوں اپنوں کو ریوڑیاں بٹ رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی "بے نظیر بھٹو یوتھ سپورٹ پروگرام" کے نام پر اہم قومی اداروں میں نا اہلوں کو بھرتی کررہی ہے دوسری جانب متحدہ کراچی میں اپنے قدم مضبوط کر رہی ہے۔

    ڈفر! اصل میں ابھی کچھ دن قبل بلاگ پر ایک مسئلہ آ گیا تھا جس کی وجہ سے اسے کچھ ہلکا کرنے کا سوچا۔ اس کام کے دوران "گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس گیا ہوگا" 🙂

  6. عارف کریم says:

    ضیاء الحق قادیانیوں کو ریاست میں ریاست کہا کرتا تھا۔ اب دیکھیں کتنی ریساتیں پاکستان کے اندر موجود ہیں اور کتنی ابھی اور منظر عام پر آئیں گی۔

  7. ابوشامل says:

    میں نے پوسٹ کچھ روابط (لنکس) شامل کر دیے ہیں تاکہ اس خبر کے سیاق و سباق کے بارے میں علم ہو سکے۔

  8. آپ نے اپنی پوشاک کیوں بدل ڈالی؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.