’آزاد صحافت‘ دہشت گردوں کی غلام

آج سے کوئی تین سال قبل میں پاکستان کے ایک بہت بڑے ٹیلی وژن چینل میں ملازمت کے لیے انٹرویو کی غرض سے گیا۔ انٹرویو لینے والے پینل میں چینل کے ڈائریکٹر نیوز اور شعبہ تحقیق کے سربراہ کے علاوہ ملک کے ایک معروف صحافی بھی شامل تھے، جو پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بھی خدمات انجام دے چکے تھے اور انہیں اس چینل میں ملازمت اختیار کیے ہوئے چند ہی روز ہوئے تھے۔ گو کہ میں نیوز روم میں سب ایڈیٹر کےعہدے کے لیے انٹرویو دینے گیا تھا لیکن وہاں دورانِ گفتگو یہ عقدہ کھلا کہ ادارے کو ضرورت شعبہ تحقیق (ریسرچ ڈپارٹمنٹ) کے لیے ایک فرد کی ہے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ شعبہ تحقیق میں کام کر لیں گے؟ میرا جواب یہی تھا کہ میں نے آج تک کیا نہیں ہے اور نہ ہی مجھے تجربہ ہے کہ اس میں کام کس طرح ہوتا ہے۔ اس پر معروف صحافی نے کہا کہ شعبہ تحقیق کا کام یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی پروگرام میں کوئی مہمان آتا ہے تو اس کے لیے میزبان کو سوالات تیار کر کے دینا ہوتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی پروگرام میں وصی ظفر کو بلایا جاتا ہے تو ان سے جو سوالات پوچھے جائیں گے وہ سب شعبہ تحقیق بنا کر دیتا ہے۔ میں نے سوال کیا کہ کس طرح کے سوالات؟ انہوں نے ایک تاریخی جملہ کہا "ایسے سوالات جو آگ لگا دیں"۔ یہ سنتے ہی میرا ماتھا ٹھنکا اور بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا کہ میرے خیال میں میڈیا کا کام آگ لگانا نہیں بلکہ آگ بجھانا ہے۔ میرا یہی جملہ بعد ازاں میرا انتخاب نہ ہونےکی وجہ بنا۔ لیکن اس انٹرویو سے مجھ پر یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ ہمارے میڈیا کا کردار صرف اور صرف معاشرے میں انتشار پھیلانا ہے اور گزشتہ 10 سالوں میں نجی ذرائع ابلاغ نے یہی 'قومی خدمت' انجام دی ہے۔

اس ابتدائیے کے بعد تحریر کے آغاز سے قبل میں وضاحت کردوں کہ میں متحدہ قومی موومنٹ کو الگ اور اردو بولنے والوں کو الگ سمجھتا ہوں۔ تمام اردو بولنے والے متحدہ کے حامی نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی دہشت گردیوں میں ساتھی ہیں۔ اس لیے میں نیچے جہاں متحدہ لکھوں وہاں اس سے مطلب متحدہ ہی ہے نا کہ تمام اردو بولنے والے۔

چند روز سے کراچی کے خراب حالات سب پر عیاں ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی حکومت سے علیحدگی کے بعد سے مجھے بخوبی اندازہ تھا کہ اب کراچی کے حالات خراب ہوں گے کیونکہ متحدہ کو حکومت میں شامل کرنے کا مقصد کراچی میں امن کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کلاس کے سب سے بدمعاش لڑکے کو مانیٹر بنا دیا جائے۔

بہرحال، اس دگرگوں صورتحال میں جب متحدہ دو محاذوں پر یعنی پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے نبرد آزما تھی، میڈیا مکمل طور پر ایک فریق کی حمایت کے لیے کمر بستہ ہو گیا۔ تمام چینلوں کے کیمرے و صحافی قصبہ کالونی اور کٹی پہاڑی پر نظریں جما کر بیٹھ گئے اور متحدہ کے زیر اثر علاقوں میں پٹھانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے مکمل طور پر نظریں چرائیں تاکہ متحدہ کو مظلوم اور پٹھانوں کو دہشت گرد ثابت کیا جائے۔ متحدہ سے وفاداری کا دوسرا ثبوت جیو نیوز نے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ذوالفقار مرزا کے خلاف باقاعدہ مہم چلا کر پیش کیا تاکہ متحدہ کو اخلاقی برتری بھی حاصل ہو اور اس کی دوسری مخالف جماعت بیک فٹ پر چلی جائے۔ بتایا گیا کہ ذوالفقار مرزا نے جیو سے وابستہ چند صحافیوں کو پکڑ کر ان کو مارا، کیمرے توڑے اور ان کے کارڈز وغیرہ چھین کر لے گئے۔ اس واقعے کا کوئی ثبوت ان صحافیوں کے پاس موجود نہیں ہے لیکن اس کے ذریعے ذوالفقار مرزا کے خلاف بیانات کا ایک زبردست سلسلہ شروع ہو گیا جس کی واحد وجہ یہی ہے کہ موجودہ بزدل حکومت میں اگر کسی ایک بندے میں بولنے کا حوصلہ ہے تو وہ ذوالفقار مرزا ہے اور یوں چند روز ذوالفقار مرزا کے خلاف مہم چلائی اور اسے نام وہی دیا یعنی "آزادئ صحافت" اور مقصد سیاسی بلکہ صاف الفاظ میں کہا جائے تو متحدہ نوازی۔

گزشتہ روز ذوالفقار مرزا ایک تقریب کے دوران کچھ زیادہ ہی بول گئے، جیسا کہ ان کی عادت ہے۔ تقریر میں انہوں نے ایک غلطی تو یہ کی کہ متحدہ کو مخاطب کرتے ہوئے تمام مہاجروں کو رگڑ گئے، جو اُن لاکھوں اردو بولنے والوں کی دل آزاری کا سبب بنا جو متحدہ سے وابستگی نہيں رکھتے لیکن اُن کے بیانات کے بعد کراچی میں جو بدمعاشی و غنڈہ گردی کا سلسلہ شروع ہوا اس پر بجائے یہ کہ ہمارا میڈیا اس دہشت گردی کی مذمت کرتا وہ مکمل طور پر دوسرے پلڑے کی جانب جھک گیا جیسا کہ اس کی متحدہ نواز پالیسی ہمیشہ رہی ہے۔

ایم کیو ایم کے غنڈوں نے رات بھر شہر کراچی کی اینٹ سے اینٹ بجائی۔ غریب لوگوں کی گاڑیاں نذر آتش کیں، دکانوں کو آگ لگائی، ٹھیلے جلائے، سڑکوں کو بند کیا، فائرنگ کر کے آسمان سر پر اٹھا لیا اور اس کے باوجودمیڈیا کے مطابق دودھ میں دھلے قرار پائے۔

آپ لوگوں کو شاید یاد ہوگا کہ اب مسلم لیگ ن کی گود میں جا کر بیٹھنے والی متحدہ قومی موومنٹ چند ماہ قبل اسی جماعت کے ساتھ تنازع میں الجھی ہوئی تھی۔ جس میں متحدہ کے سرخیل رہنماؤں نے اپنی اعلیٰ ترین اخلاقیات کا ثبوت دیا۔ متحدہ کی سب سے 'رطب اللسان' شخصیت وسیم اختر صاحب نے یہ تک کہہ ڈالا کہ پنجاب کے ہر گھر میں مجرا ہوتا ہے اور انہوں نے چودھری نثار کو 'سالا' کہا حتیٰ کہ دو بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کے خلاف ایسی زبان تک استعمال کی جس کو سن کر فردوس عاشق اعوان کا سر بھی شرم سے جھک گیا ہوگا۔

عمران خان کے خلاف کراچی میں وال چاکنگ کر کے متحدہ کے کارکنان نے اپنے اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دیا تھا

لیکن ۔۔۔۔۔۔ اس کے باوجود پنجاب میں احتجاجاً ایک گاڑی نہ جلی، کسی کو بے روزگار نہیں کیا گیا، اسٹاک ایکسچینج بند نہ ہوا، کاروبار زندگی کو مفلوج نہیں کیا گیا اور نہ ہی وہاں موجود مہاجروں کو دھتکارا گیا۔اور اسی واقعے کے مقابلے میں آپ آج کا کراچی دیکھ لیں۔ذوالفقار مرزا کا بیان تو وسیم اختر کے بیان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود جس بدمعاشی و غنڈہ گردی کا مظاہرہ کل رات سے متحدہ کے کارکنوں کی جانب سے اور ساتھ ساتھ کراچی میں قائم تمام ٹیلی وژن چینلوں کی جانب سے کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔

ابھی کچھ ہی دیر قبل ذوالفقار مرزا سے منسوب ایک بیان ٹی وی پر نشر ہوا جس میں انہوں نے اردو بولنے والوں کو اپنا بھائی قرار دیتے ہوئے ان سے معذرت کی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بال کی کھال نکالنے کے بجائے اس آگ کو بجھانے کی کوشش کی جاتی لیکن ہمارے ٹیلی وژن چینلوں کا کردار دیکھیں۔ جیو ٹیلی وژن کے معروف متحدہ نواز صحافی فیصل عزیز خان چینل پر آ کر اس معذرتی بیان کی مین میخ نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس پر کوئی دستخط نہیں ہیں اور یہ تک کہہ ڈالا کہ بیان جس طرح لکھا ہوا ہے اس طرح ذوالفقار مرزا بول کر دکھا دیں۔ بھائی فیصل! آپ کے قائد صاحب جو کانوں میں رس گھولنے والا خطاب کرتے ہیں، وہ کبھی اخبار میں چھپا ہوا دیکھا ہے؟ وہ حقیقی تقریر سے کتنا ملتا جلتا ہوتا ہے؟۔

دوسری جانب دیکھ لیں مسلم لیگ ن کا جلسہ ہو یا پیپلز پارٹی کا وہاں چلنے والا اسلحہ تو انہیں فوراً نظر آ جاتا ہے لیکن مجھے بتائیے کہ کراچی میں جب بھی حالات خراب ہوتے ہیں تو متحدہ کے غنڈوں کے ہاتھوں چلایا جانے والا اسلحہ کیوں ہمارے چینلوں پر نہیں آتا۔ حالانکہ اول الذکر پارٹیاں محض ہوائی فائرنگ پر اکتفا کرتی ہیں جبکہ متحدہ سیدھے فائر پر یقین رکھتی ہے۔ اورنگی میں متحدہ کے دہشت گردوں کی کھلی فائرنگ ہو یا عباسی شہید میں زخمی پختونوں کو قتل کر دینے کا واقعہ، لائنز ایریا میں درس قرآن کے دوران مدرس کو گولیاں مار کر قتل کر دینے کا دلخراش سانحہ ہو یا متحدہ کے زیر قبضہ علاقوں میں موجود پختون دکانداروں کو بے دخل کر دینے کا واقعہ آپ مجھے ایک چینل بتا دیں جس نے اِن واقعات کو رپورٹ کیا ہو۔ یہ سب اپنے مالی مفادات کے لیے متحدہ قومی موومنٹ نامی دہشت گرد جماعت کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ جیو کا پروگرام "ہم سب امید سے ہیں" سالوں تک الطاف حسین کی نقل اتارنے کے لیے اجازت طلب کرتا رہا اور اب بھی اس لیے نشر کر پاتا ہے کیونکہ اس کی پوری ٹیم پنجاب میں ہے، اگر یہ پروگرام کراچی میں بن رہا ہوتا تو یونس بٹ نجانے کب کے شہید ہو چکے ہوتے۔

اِس وقت بھی آپ ٹیلی وژن چینل کھول کر دیکھیں اور کراچی میں متحدہ کے احتجاجی مظاہروں کےشرکاء کی آراء دیکھ لیں۔ میں نے خود دیکھا اور سنا ہے کہ متحدہ کے مظاہرے میں شریک ایک شخص یہ کہتا ہے کہ ہم نے قلم پھینک کر ہتھیار اٹھا لیے تو پاکستان نہیں بچے گا۔ آپ شہر بھر میں آج کی گئی چاکنگ بھی ملاحظہ کر لیں جو متحدہ کے کارکنان کی اعلیٰ اخلاقی اقدار کو واضح کر رہی ہے۔ یہ اخلاقی و ذہنی دیوالیہ پن کی انتہا پر ہیں، ان کے برطانوی شہریت کے حامل رہنما سے لے کر نچلے درجے کے یونٹ انچارج تک سب کے سب۔

ذوالفقار مرزا کا بیان واضح طور پر ایک جماعت کے خلاف تھا (گو کہ وہ بے موقع و محل اور انتہائی جذباتی تھا) لیکن جس جماعت کے خلاف تھا اس کی دہشت گردی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، لیکن ہمارے چینلوں نے اسے ایک قوم کے خلاف بیان میں تبدیل کر دیا اور کراچی شہر پر مسلط دہشت گردی اور غنڈہ گردی کو عوامی ردعمل قرار دے دیا۔ یہ آزاد میڈیا ہے؟ اگر یہ آزادی ہے تو میں ایسی آزادی پر لعنت بھیجتا ہوں۔ یہی غلیظ ذہنیت کے حامل ٹیلی وژن چینل توہین رسالت کے خلاف مظاہروں پر تو خوب چیں بہ چیں ہوتے ہیں اور تحمل کے درس سمجھاتے ہیں لیکن 'پیر صاحب' کی 'توہین' پر اِن کا ردعمل دیکھیے۔

ابھی کچھ دیر قبل مہاجر رابطہ کونسل ذوالفقار مرزا اور شاہی سید کو 48 گھنٹوں کے اندر شہر چھوڑ دینے ورنہ سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ کیا پاکستان میں حق و سچ کی آواز کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہے؟ غنڈوں کی واضح اور کھلی دھمکیوں کو کوئی دھمکی بھی نہیں کہہ سکتا؟

پاکستان کا رہنے والا کوئی ذی حس و شعور رکھنے والا شخص متحدہ قومی موومنٹ جیسی دہشت گرد جماعت کی حمایت نہیں کر سکتا الا یہ کہ اس کے دماغ میں قوم پرستی کا خناس بھرا ہوا ہو یا اس کے مالی و دیگر مفادات اس دہشت گرد جماعت سے وابستہ ہوں۔ نجانے 'ابلاغی انقلاب' کا یہ ڈرامہ آخر کب تک چلے گا؟ اور نیوز چینل اور پوری قوم غنڈوں کے ہاتھوں کب تک یرغمال بنی رہے گی۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

43 تبصرے

  1. بالکل درست اور حقائق پر مبنی ہے says:

    بالکل درست اور حقائق پر مبنی اآرٹیکل ھے. آزاد میڈیا کی کارستانی!!!!

    • syed iqbal raza says:

      Now i know why you didn't selected in you first interview you were right Mutahida doesn't mean all urdu speaking community it means all community of this country for instance they got member of Parliament from Sindhi speaking tons of member from Punjabi speaking and lots of pushton speaking but one thing is clear they are the king makers believe it or not karachites love them. . Very simple example development of karachi every1 loves mustafa kamal.

  2. سعدی says:

    مرزا اتنے سادہ بھی نہیں۔انکے الفاظ کے چناو نے ہی بتادیا کہ وہ متعصب آدمی ہیں نہ صرف وہ بلکہ انکے عزیز دوست سراج درانی بھی۔ بہرحال کم از کم الطاف حسین کی شان میں جو گستاخی انہوں نے کی اس پر ان کی دلیری کی داد دی جانی چاہیے۔

  3. سعد says:

    اس لسانی اور سیاسی جنگ نے کراچی کو جہنم بنا دیا ہے۔ اللہ سب کو ہدایت نصیب کرے۔ آمین

  4. جعفر says:

    اگلے الیکشن کی تیاریاں ہیں جناب. اردوبولنے والوں کو یہ باور کرانا چاہ رہے ہیں انکل کہ ہم نہ رہے تو فلاں اور فلاں آپ کی زندگی حرام کردیں گے.
    ن لیگ کے بارے جو کچھ مہذب بھائ لوگوں نے فرمایا تھا وہ اصل میں ن لیگ والوں کا ہی قصور تھا، ورنہ ایسی زبان بھائی لوگ استعمال کر ہی نہیں سکتے. سننے میں تو یہ بھی آیا ہے کہ انکل پارٹی(؟) اجلاسوں میں اپنا خطاب مسلسل نظم کی صورت کرتے ہیں. ایسی اجلی زبان کے حامل لوگوں کو خراب کرنے والے یہی ن لیگیے ہیں. جیسے ایم کیو ایم کی بدمعاشی کی ذمہ داری ساری پختونوں پر عائد ہوتی ہے کیونکہ انہی کی جنگجو خصلت نے بھائی لوگوں کو مجبور کیا تھا... لاشیں گرانے پر.... در شاباش

  5. مکی says:

    ٹھاکر تو گیو....

  6. ذولفقار مرزا نے متحدہ کے خلاف جو کچھ کہا متحدہ نے سابقہ یاری کو سامنے رکھتے ہوئے اُسے سچ ثابت کرتا ضروری سمجھا!!!

  7. great work yar says:

    bht hi lajawab tabsra hai .....

  8. نبيل احمد خان says:

    بھت خوب

  9. عجب ہی دھما چوکڑی مچی ہوئی ہے کراچی میں...
    تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جہاں ملک کو ہر جانب سے (آفاقی، زمینی اور آبی) مشکلات کا سامنا ہے، وہیں ان سانحوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، ہمارے سیاستدان اپنی اپنی کرسیاں اور جماعت کو سب کچھ مان رہے ہیں... تو ثابت ہو گیا کہ ملک اور عوام کی کسے فکر ہے... فکر تو ہمیں ہمارے بھائی کی ہے، جو بے غیرتی کی اعلیٰ انتہاوں کو چھوتا ہوا ڈنڈے کے زور پر عوام کا معاشی اور حقیقی قتلَ عام کر اور کروا رہا ہے...
    اللہ کی لعنت ہو ہمارے سیاستدانوں پر...

  10. ساقب قیوم says:

    چلا دی چوک میں گولی یہ فن اُسی کا تھا حریف مر نہ سکے، راہ گیر مار دیے۔

  11. ان سب کو جہاز میں بٹھا کر سمندر میں غرقاب کر آنا چاہئیے۔ اورذوالفقار مرزا کو بھی۔ جو مارے گئے ہیں ۔ انکا کیا قصور تھا۔ ایم کیو ایم دہشت گرد ہیں مگرخالی خولی بیان بازی سے بے گناہ لوگوں کی موت کا اہتمام کرنا بھی درست نہیں۔ذولفقار مرزا، جیو ٹیلی وژن مالک میر فیملی، ایم کیو ایم کے چٹے بٹے، اور دیگران کو، ان سب کو سمندر برد کر دیں یا پھانسی چڑھا دیں ۔ کراچی میں امن ہوجائے گا۔ اور غریب آدمی سکھ کی نیند سوئے گا۔ پاکستانی قوم کے بے غیرت سیاہ ست دانوں سے بڑھ کر شاید ہی کوئی دنیا میں بے غیرت ایسا ہوگا۔ جو غریب اور مجبور لوگوں کے خون میں ڈبو کر نوالے تناول کرتا ہوگا۔ڈیکولا تو ایک فرضی کردار ہے مفت میں بدنام مگر پاکستانی سیاستدان درحقیقت موت کی ویوی کو مظلوموں اور بے گناہوں کی بلی چڑھا کر ، بلیدان دے کر اقتدار اور رسوخ کی پوجا کرتے ہیں۔ اور ایم کیو ایم کا تو ماضی، حال اور مستقبل بھی خباثت کی حد تک لالچ اور مفاد پرستی سے لکھا جائے گا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے مارکیٹ پراڈکٹس کی مانگ بڑھانے کے لئیے جو لوگ بھارت سے "امن آشا" کی منافقت رچانے تک پہ تیار ہوجاتے ہیں کیا وہ میڈیا چینل ایم کیو ایم کے ہاتھوں اس قدر مجبور ہے کہ ایم کیو ایم کی بدمعاشی کو مظلومیت کا رنگ دیتا پھرے؟ اور اس گروپ کی اقتداء میں باقی چینل بھی بازی لینے کی کوشش میں منافقت کی ہر حد سے گزرتے جارہے ہیں۔

    ایم کیو ایم کے اچھے دنوں میں لنڈن پیر جس دن صبح جماہی لے لیتا ۔ یہ بے غیرت ٹولہ اپنے اخبار میں تازی ترین میں اسکی خبر چھاپ دیتا۔ آپ انکا کوئی بھی شمارہ اٹھا کر دیکھ لیں۔ اگر کسی دن پاکستان کے کل سیاہ ست دانوں سے متعلقہ ۔ جن میں بڑی پارٹیوں کے بڑے پھڈے اور ہنگاموں کے دنوں میں بھی ان سب پارٹیوں کے اگر کل ملا کر تین یا چار خبریں اس روزنامے میں تازہ ترین میں چھپتیں اس دن بھی ان سب کے کل بیانات سے ،پیرِ لنڈن سے متعلق دو خبریں اضافی چھپتیں ۔ اور خبریں کیا ہوتیں؟ ۔ کہ پیر لنڈ ن نے شکیل بھائی بریانی والے کے بچے کے ختنے پہ مبارک دی۔ بھائی پیر نے کاشف بھائی کباب والے کے ابا حضور کی دوسری شادی کے لئیے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔ لعنت ہے ایسے میڈیا پر اور ایسے سیاہ ست دانوں پہ۔

  12. بس میڈیا نے آجکل ایم کیو ایم کو دودھ کا دھلا بنا دیا ہے ۔

  13. آپ نے بہت اچھا کیا کہ واضع کردیا کہ متحدہ کے ایکشن تمام اردو بولنے والوں کی نمائندگی نہیں کرتے.مجھے اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ میڈیا ایم کیو ایم کے اشاروں پر ناچ رہا ہے اور ہر اس چیز پر بات کرنے سے گریز کرتا ہے کہ جو ایم کیو ایم کے لیے بدنامی کا باعث ہو سکتی ہے.
    جو لوگ بھی کراچی میں رہے ہیں یا اردو بولنے والوں سے انکا واسطہ پڑا ہے ، یہ بات تسلیم کریں گے کہ اردو بولنے والوں کی ایک بہت بڑی اکثریت تشدد کو بالکل بھی پسند نہیں کرتی. تشدد کراچی والوں کے لائف اسٹائل سے بالکل بھی میچ نہیں کرتا . تاہم متحدہ بمقابلہ پشتون کا تاثر دینا بھی مکمل طور پر درست نہیں ہے. اس طرح آپ ان سارے اے این پی والوں، لینڈ مافیا والوں، منشیات فروشوں، پبلک ٹرانسپورٹ مافیا ، بھتہ خوروں اور سب سے بڑھ کر ایجنسیوں ( یا جنہیں نا معلوم لوگ کہنا زیادہ مناسب ہے) کے ہاتھوں کھیلنے والے اور خوں ریزی کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے والوں کو اس پس منظر سے نکال رہے ہیں جو اس کھیل کے دوسرے فریق ہیں جو ایم کیو ایم اور اردو اسپیکنگ لوگوں میں فرق کرنے کا قائل نہیں ہیں.
    میرے لیے یہ بات حیرانی کا باعث ہے کہ آپ کو متحدہ کا پر تشدد احتجاج تو نظر آگیا مگر جس طرح قصبہ کالونی والوں کو اسرائیلی انداز میں کئی روز تک بھوکا پیاسا انکے گھروں میں محصور کیا گیا وہ نظر نہیں آیا.آپکو یہ بات واضع طور پر کہنا چاہیے کہ بیگناہ اور معصوم جانوں کا اتلاف دونوں طرف سے بیدریغ کیا گیا ہے.
    کراچی کا مسئلہ بنیادی طور پر کنٹرول کا مسئلہ ہے صرف ایم کیو ایم ہی نہیں بلکہ ذوالفقار مرزا ، لیاری کے بھتہ خور، اے این پی وغیرہ بھی کراچی پر کنٹرول چاہتے ہیں.اس مسئلہ کا حل صرف اور صرف قانون کی حکمرانی میں ہے اور اسکے لیے ضروری ہے کہ رینجرز کو فوری طور سے ہٹا کر پولیس کی نفری بڑھائی جائے جو علاقے کے رہنے والوں پر مشتمل ہو اور ساتھ ساتھ پولیس میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں اور تبادلوں پر پابندی لگائی جائے..

  14. بہترین تحریر ہے says:

    خود کو آزاد کہنے والے میڈیا پر لعنت ہے، روز حشر اللہ ان اینکر پرسنز اور ان کے مالکان کو بھی قاتلوں کی صف میں کھڑا کریگا(انشااللہ)

  15. عثمان احمد خان says:

    خود کو آزاد کہنے والے میڈیاپر لعنت ہے،روز حشر اللہ ان اینکر پرسنز اور ان کے مالکان کو بھی قاتلوں کی صف میں کھڑا کریگا(انشااللہ)، ذوالفقار مرزا نے اگرچہ کچھ زیادہ بول دیا لیکن میڈیا نے متحدہ کے زرخرید غلام کے طور اس کی باتوں کو گھنٹوں بریکنگ نیوز کے طور پر چلا کر اپنی منافقت کا ثبوت دیا،اور اس آگ کو بھڑکایا،اس نام نہاد آزاد میڈیانے 2روز قبل ن لیگ کے کارکنوں کی فیصل آباد میں کی جانیوالی ہوائی فائرنگ تو خوب دکھائی لیکن ایم کیو ایم کی دہشتگردی کو انھوں نے عوامی ردعمل بنادیا، میرا تعلق اردو بولنے والے گھرانے سے ہے لیکن یں ای کیو ایم کو اپنی نمائندہ جماعت نہیں مانتا.

  16. عبداللہ says:

    برا نہ مانیئے گا مگر دہشت گردوں کے غلام توآپ بھی لگ رہے ہیں
    البتہ وڈے تے اعلی دہشتگردوں کے!!!!

    1)تمام چینلوں کے کیمرے و صحافی قصبہ کالونی اور کٹی پہاڑی پر نظریں جما کر بیٹھ گئے اور متحدہ کے زیر اثر علاقوں میں پٹھانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے مکمل طور پر نظریں چرائیں تاکہ متحدہ کو مظلوم اور پٹھانوں کو دہشت گرد ثابت کیا جائے۔

    اور جناب اس کا الٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں!
    اگر کیپٹل ٹالک دیکھا ہوتا تو پتہ چلتا کہ حامد میر نے ان علاقوں میں جاکر رپورٹنگ کی اور پٹھان اور اردو بولنے والے دونوں سے ہی بات کی،اوردونوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مورد الزام ٹھرایا کہ وہ ان کی فریاد کے با وجود چار روز تک ٹس سے مس نہ ہوئے ،کہ ہمیں آرڈر نہیں ہیں کچھ کرنے کے،یہ آرڈر بھی متحدہ ہی نے دینا تھے،ہیں نا؟؟؟؟؟؟؟؟

    2) متحدہ سے وفاداری کا دوسرا ثبوت جیو نیوز نے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ذوالفقار مرزا کے خلاف باقاعدہ مہم چلا کر پیش کیا تاکہ متحدہ کو اخلاقی برتری بھی حاصل ہو اور اس کی دوسری مخالف جماعت بیک فٹ پر چلی جائے۔

    ذوالفقار مرزا اتنے بھولے ہیں کہ اپنے خلاف کی ہوئی سازش پر منہ بند کر کے بیٹھ گئے؟؟؟؟؟
    اور یہ متحدہ والے بھی کیا پاور فل لوگ ہیں کہ پورے پاکستان کا میڈیا خرید رکھا ہےلگتا ہے تیل کی دولت ہاتھ لگ گئی ہے،پھر بھی چندوں پر خیراتی کام کرتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟

    2)موجودہ بزدل حکومت میں اگر کسی ایک بندے میں بولنے کا حوصلہ ہے تو وہ ذوالفقار مرزا ہے اور یوں چند روز ذوالفقار مرزا کے خلاف مہم چلائی اور اسے نام وہی دیا یعنی “آزادئ صحافت” اور مقصد سیاسی بلکہ صاف الفاظ میں کہا جائے تو متحدہ نوازی۔
    گزشتہ روز ذوالفقار مرزا ایک تقریب کے دوران کچھ زیادہ ہی بول گئے، جیسا کہ ان کی عادت ہے۔ تقریر میں انہوں نے ایک غلطی تو یہ کی کہ متحدہ کو مخاطب کرتے ہوئے تمام مہاجروں کو رگڑ گئے، جو اُن لاکھوں اردو بولنے والوں کی دل آزاری کا سبب بنا جو متحدہ سے وابستگی نہيں رکھتے

    3)ذوالفقار مرزا کا بیان تو وسیم اختر کے بیان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔

    آپ ہی اپنی ا داؤں پے زرا غور کریں ،ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی!
    ویسے یہ داؤ اب پرانا ہوگیا ہے کہ سارے اردو بولنے والے متحدہ میں نہیں کہ اب تو باقی قومیتوں کے لوگ بھی متحدہ میں شامل ہوئے چلے جارہے ہیں اور آپ اور آپ کے آقا کچھ نہیں کر پارہے!!!!!
    🙂

    4)ایم کیو ایم کے غنڈوں نے رات بھر شہر کراچی کی اینٹ سے اینٹ بجائی۔ غریب لوگوں کی گاڑیاں نذر آتش کیں، دکانوں کو آگ لگائی، ٹھیلے جلائے، سڑکوں کو بند کیا، فائرنگ کر کے آسمان سر پر اٹھا لیا اور اس کے باوجودمیڈیا کے مطابق دودھ میں دھلے قرار پائے۔

    5) حالانکہ اول الذکر پارٹیاں محض ہوائی فائرنگ پر اکتفا کرتی ہیں جبکہ متحدہ سیدھے فائر پر یقین رکھتی ہے۔ اورنگی میں متحدہ کے دہشت گردوں کی کھلی فائرنگ ہو یا عباسی شہید میں زخمی پختونوں کو قتل کر دینے کا واقعہ، لائنز ایریا میں درس قرآن کے دوران مدرس کو گولیاں مار کر قتل کر دینے کا دلخراش سانحہ ہو یا متحدہ کے زیر قبضہ علاقوں میں موجود پختون دکانداروں کو بے دخل کر دینے کا واقعہ آپ مجھے ایک چینل بتا دیں جس نے اِن واقعات کو رپورٹ کیا ہو۔

    اور یقینا وہ اپنی ہر کاروائی میں آپ کو اپنے ساتھ لے کر گھوم رہے تھے اس لیئے آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب آپ کے چہیتے دہشت گردوں نے نہیں بلکہ متحدہ کے کارکنوں نے کیا ہے؟
    آپ اپنی وہ گیدڑ سنگھی جس سے یہ حقائق معلوم کرتے ہیں باقی میڈیا کو بھی دے دیں ، تاکہ وہ بھی آپ ہی کی طرح غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کرسکیں!
    جو ڈیڑھ سو اور ڈھائی سو لوگ پولس اور رینجرز نے حیدر آباد اور کراچی سے پکڑے ہیں وہ سب بھی متحدہ ہی کے کارکن ہوں گے،کیوں ٹھیک کہا نا میں نے؟؟؟؟؟

    6)جیو کا پروگرام “ہم سب امید سے ہیں” سالوں تک الطاف حسین کی نقل اتارنے کے لیے اجازت طلب کرتا رہا اور اب بھی اس لیے نشر کر پاتا ہے کیونکہ اس کی پوری ٹیم پنجاب میں ہے، اگر یہ پروگرام کراچی میں بن رہا ہوتا تو یونس بٹ نجانے کب کے شہید ہو چکے ہوتے۔
    مگر اب تو متحدہ پنجاب میں بھی پہنچ چکی ہے ،آپ جیسے جعلی رپورٹروں کے جھوٹے پروپگینڈے کے باوجود،مگر ڈاکٹر یونس بٹ کی شہادت کی خبر ابھی تک ہم تک نہیں پہنچی!

    7)میں نے خود دیکھا اور سنا ہے کہ متحدہ کے مظاہرے میں شریک ایک شخص یہ کہتا ہے کہ ہم نے قلم پھینک کر ہتھیار اٹھا لیے تو پاکستان نہیں بچے گا۔ آپ شہر بھر میں آج کی گئی چاکنگ بھی ملاحظہ کر لیں جو متحدہ کے کارکنان کی اعلیٰ اخلاقی اقدار کو واضح کر رہی ہے۔ یہ اخلاقی و ذہنی دیوالیہ پن کی انتہا پر ہیں، ان کے برطانوی شہریت کے حامل رہنما سے لے کر نچلے درجے کے یونٹ انچارج تک سب کے سب۔

    اور آپکی یہ بغض معاویہ سے بھری تحریر آپکے ذہنی اور اخلاقی دیوالیئے پن کی تصویر ہے!

    8)ذوالفقار مرزا کا بیان واضح طور پر ایک جماعت کے خلاف تھا (گو کہ وہ بے موقع و محل اور انتہائی جذباتی تھا) لیکن جس جماعت کے خلاف تھا اس کی دہشت گردی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، لیکن ہمارے چینلوں نے اسے ایک قوم کے خلاف بیان میں تبدیل کر دیا اور کراچی شہر پر مسلط دہشت گردی اور غنڈہ گردی کو عوامی ردعمل قرار دے دیا۔

    آپکو اپنے کانوں کے ساتھ ساتھ ذہن کے علاج کی بھی سخت ضرورت ہے،زوالفقار مرزا نے صاف صاف اردو بولنےوالوں کو ذلیل کیا،
    مگر آپکے پر تعصب دماغ نے اسے بہت ہلکا لیا ،شرم تم کو مگر نہیں آتی

    9) ابھی کچھ دیر قبل مہاجر رابطہ کونسل ذوالفقار مرزا اور شاہی سید کو 48 گھنٹوں کے اندر شہر چھوڑ دینے ورنہ سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ کیا پاکستان میں حق و سچ کی آواز کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہے؟
    کونسا سچ جو آپ کے لاڈلے ذوالفقار مرزا اور شاہی سید بولتے ہیں،یا وہ جو آپ کے وڈے تے اعلی دہشت گرد بولا کرتے ہیں،
    ہاں میں تو بھول ہی گیا کہ ذوالفقار مرزا اور شاہی سید آج کل اس لیئے دودھ کے دھلے ہوگئے ہیں کہ دشمن کا دشمن میرا دوست!!!!!

    10)پاکستان کا رہنے والا کوئی ذی حس و شعور رکھنے والا شخص متحدہ قومی موومنٹ جیسی دہشت گرد جماعت کی حمایت نہیں کر سکتا الا یہ کہ اس کے دماغ میں قوم پرستی کا خناس بھرا ہوا ہو یا اس کے مالی و دیگر مفادات اس دہشت گرد جماعت سے وابستہ ہوں۔

    ذی شعور لوگ تو اصلی تے وڈے دہشت گردوں کی حمایت میں مصروف ہیں نا!!!!!!

  17. میں سوچ رہا تھا آجکل اہمیت آپا جب سے پیا دیس سدہاری ہیں۔ انکا لیلا بھی نظر نہیں آرہا مگر۔ ۔ ۔ ۔

  18. ظفر says:

    بالکل سچ ھے جناب! hamara media is dehshat gardi ki naam nihad jang mein b america ka bharpoor saath de raha he... so called owners waghera k mohtaj or advertisers ki hjootian chatne wale mulk ka bhala kabi nai sochien ge.... mqm k khilaf bolne se pehle hi in k haath paon phool jate hein....

  19. پير اور اندھی تقليد کا تو سُن رکھا تھا اور ديکھتے بھی رہتے ہيں ۔ حاليہ واقعات بھی اسی کی کڑی ہيں ۔ مريدانِ سرفروش اپنے پير کے خلاف کوئی بات کيسے برداشت کر سکتے ہ
    ميں تو کل شام سے اس فقرے پر غور کر رہا ہوں جو لندن پير نے کہا "ميں پورے پاکستان کے عوام کو کہتا ہوں کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنا پُرامن احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ ملتوی کردیں"

    اگر 2 درجن سے زائد بسيں جلانا ۔ درجن انسانوں کو ہلاک کرنا ۔ نامعلوم متعداد کو زخمی کرنا اور ہرسو گوليوں کی بوچھاڑ پُرامن احتجاج ہے تو تو تشدد کس بلا کا نام ہے ؟
    دوسرے کيا مظاہرے سارے پاکستان ميں ہو رہے تھے يا ايم کيو ايم کے بسيروں ميں ؟

  20. عبداللہ says:

    بابا جی آپ تو بس ان سوالوں کے جواب دے دیں جو سعیداحمد صاحب نے آپ سے کیئے تھے!!!!!!

    • جب آپ نے سعید احمد کے نام سے میرے بلا گ پر تبصرہ کیا، عبداللہ ، تو میں اسی وقت سمجھ گیا تھا یہ اپ کی حرکت ہے.

      یہ مت سمجھئے گا کہ آپ کو کوئی پہچان نہیں پایا.

  21. آپ کی تحریر کا موضوع اچھا ہے مگر بات وہی کہ مسئلہ اتنا حساس وہ چکا ہے کہ دوسروں کی بات آپ نہیں سنیں گے اور نہ دوسرے آپکی . جیسے آپ کی تحریر بھی کچھ مقامات پر جانبدار ہوئی. جہاں تک میری رائے کا سوال ہے تو اس ملک میں اخلاص ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا. چاہے وہ سیاستدان ہوں یا عوام. مزید براں یہ سوئی ہوئی عوام اپنے گٹھیا لیڈروں کی خاطر جان دے بھی دیں گے لے بھی لیں گے. لیکن اتنی ہمت نہیں کہ انہیں غلط لوگوں کو نکال باہر کریں. آج پاکستان میں ہر وہ شخص بیوقوف ہے جو کسی بھی پارٹی کا حامی ہے . اور ایسے سب حامیوں کی وجہ سے خون کا بازار گرم ہے. خدایا ! ہمیں ایسے حامیوں کے شر سے نجات عطا فرما آمین!

  22. کاشف says:

    اس میں کوئی شک نہیں کے ذولفقار مرزا بےلگام بولے، جیسا کے ان کہ خاصا ہے، جیسا کے جاگیردار اور وڈیرے اپنے کمیوں کو مخاطب کرتے ہیں. لیکن اس میں بھی کوئی دو راۓ نہیں ہونی چاہیے کے میڈیا نے اس معاملے کو متنازعہ بنانے اور بقول شخصے، جلتی پر تیل ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی.

    جیسا کے اوپر کہا گیا، میڈیا کی اکثریت کا کام آگ لگانا ہے، بجھانا نہیں. اپنی "ریٹنگز" بہتر بنانے کیلئے میڈیا بےدریغ جھوٹ بولتا ہے اور نفرتیں پھیلاتا ہے. دوسری جانب کم علم عوام میڈیا کی "ڈس انفورمیشن" کو نواے سروش سمجھ کر ایمان لے آتی ہے. ہم میں سے بہت سوں کی صبح جیو نیوز کی ہیڈلائنز سے ہوتی ہے، دن ٹالک شوز، تبصروں اور غیبتوں میں صرف ہوتا ہے، اور رات نیوز ٹکر دیکھ دیکھ کر گزر جاتی ہے.

  23. Buhat khobi se haqaiq ka parda chak kia gaya hai........ Mere khayal main ab waqt agaya hai kay TV kay tamam siyasi talk shows ko ya to band kardia Jae ya kam az kam muhazib banaya jae.
    jahan tak karachi kay halat aur MQM ka taluq hai to ye bilkul sach hai k jb tak wo hakomat main shamil hain sab khair hai

  24. راحیل says:

    http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101275205&Issue=NP_LHE&Date=20110629

    اس کالم کا آخری پیراگراف پڑھ لیں یہ میڈیا کے گھر کے بھیدی کی گواہی ہے-

  25. فیصل says:

    پوسٹ آپکی میں نے کل رات ہی پڑھ لی تھی لیکن اسکے بعد دو مرتبہ تبصرے پڑھنے آیا ہوں 😉
    میں کافی عرصے سے ایک سرمایہ دارانہ نظام میں چلنے والے میڈیا، کہ جسے کسی بھی دوسرے کاروبار کی طرح ایک کاروبار ہی لیا جاتا ہے، کی کمزوریوں اور انکے ممکنہ حل پر سوچتا آ رہا ہوں۔ افسوس کی وقت کی کمی مانع ہے لیکن انشااللہ مستقبل میں اس پر کچھ کام کرنے کا ارادہ ہے۔ مسئلہ دراصل یہ ہے کہ بطور ایک کاروبار چلائے جانے والا میڈیا بھی انہی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے جن کا شکار دوسرے کاروبار ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ پورا معاشرہ ہوتا ہے۔ ایک نظر ادھر دیکھ لیں:
    http://en.wikipedia.org/wiki/Market_failure
    اس موضوع پر بات آگے بڑھائیں گے انشااللہ۔
    ویسے اوپر کے سب تبصروں میں سب سے مزہ مجھے مکی کا تبصرہ پڑھ کر آیا ہے گرچہ ایسا کچھ ہو گا نہیں انشااللہ۔

  26. عبداللہ says:

    آپ غلط سمجھے ہیں منیر عباسی صاحب!!!!!
    🙂

  27. عبداللہ says:

    ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

  28. عبداللہ says:

    پاکستان میں صحافیوں کے خلاف پولیس کاروائی
    پاکستان کو صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک قرار دیا جاتا ہے اور درجنوں صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ اب ملک کے مختلف حصوں میں صحافیوں کے خلاف پولیس کارروائی کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔

    ڈیرہ غازی خان اور میاں والی میں صحافیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات کے اندراج کے بعد اب لاہور کے سینئر صحافیوں کے خلاف بھی ڈکیتی کے پرچے درج کیے گئے ہیں۔

    لاہور پریس کلب کے صدر سرمد بشیر نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ لاہور میں صحافیوں کے خلاف ڈکیتی کے پرچے حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے بعض ارکان اسمبلی کے ایماء پر درج کرائے گئے ہیں۔ ان کے بقول لاہور پریس کلب ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق ایک تنازعے کو بنیاد بنا کر عدالتی کارروائی کی آڑ میں بے گناہ صحافیوں کے خلاف پرچے وہ لوگ درج کروا رہے ہیں جن کا پس منظر مجرمانہ ہے اور ان کے خلاف انہی تھانوں میں کئی مقدمات درج ہیں۔
    http://www.dw-world.de/dw/article/0,,15236881,00.html?maca=urd-rss-urd-all-1497-rdf

  29. اس تحریر پہ لائیک بٹن کہاں ہے؟ 😀

  30. حجاب says:

    اتنی مشہوری سُنی اس تحریر کی کہ سیاسی تحریر پڑھنا ہی پڑی ۔۔۔۔۔۔۔ بہت اچھا سچ لکھا ہے ۔۔

  31. عبداللہ says:

    مگر سچ لکھنے والوں اوراس سچ کو سراہنے والوں نے اب تک میرے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ رینجرز اور پولس نے ہنگامہ آرائی کرنےوالےجو ڈیڑھ سو کراچی سے اور ڈھائی سو حیدرآباد سے گرفتارکیئے کیا ان سب کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے؟؟؟؟؟؟
    اگر نہیں تو پھر اس سب کا الزام ایم کیو ایم کے سر کیوں؟؟؟؟؟؟

  32. عبداللہ بھائی جان... کیسے ہیں...؟ کہاں غائب ہیں یار...؟ آج کل بہت کم نظر آتے ہیں...؟ طبیعت کیسی ہے...؟

  33. راحیل says:

    جن صاحبان کا خیال ہے کہ کراچی کے حالات "اچانک" بگڑ جاتے ہیں- وہ یہ کالم پڑھ لیں -

    http://jang.com.pk/jang/jul2011-daily/17-07-2011/col12.htm

  34. عرفان عادل says:

    محترم ابوشامل
    بہت حقیقت پر مبنی بات کہی اآپ نے .
    میری ہڑتال والے دن اپنے خالو سے بحث ہوگئی .موصوف متحدہ کے حامی ہیں . ان کا یہ اصرار تھا کہ مہاجروں کی محافظ صرف متحدہ ہے . اور مرزا کے اس بیان پر صرف اس نے ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے . میں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ کہ متحدہ اب پورے ملک کی تمائندہ ہونے کا اعلان کرتی ہے صرف مہاجروں کی نہیں . تو سوال یہ ہے صرف مہاجروں پر انگلی اٹھائے جانے پر اتنا احتجاج کیوں . بلوچوں اور فاٹا میں پختونوں پر ہونے والے ظلم پر بھی تو متحدہ آواز اٹھائے .
    دوم یہ کہ یہی مرزا صاحب کچھ دن بعد نائن زیرو میں ہوں گے اور مذاکرات ہوں گے اور ان کا استقبال ہوگا . اور ساری مہاجریت دھری کی دھری رہ جائے گی .
    الغرض یہ کہ آپ کی بات بجاہے .
    میڈیا کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہماری ذمہ داری ہے .

  35. عبداللہ says:

    متحدہ مہاجروں کی نہیں سارے مظلوموں کی محافظ ہے،ہاں مہاجروں کے لیئے صرف متحدہ ہی آواز اٹھاتی ہے،دیگر سیاسی جماعتیں نہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے!!!!
    متحدہ نے ہمیشہ بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والوں کے خلاف حتجاج کیا اور یہ بات ریکارڈپر بھی موجود ہے،یہ الگ الگ ناموں سے تبصرہ کرنے والے جو ہمیشہ یہ شوکرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کراچی کے اردو اسپیکنگ ہیں حقائق سے اتنے نابلد کیوں نظر آتے ہیں؟؟؟؟؟؟

  36. عبداللہ says:

    پڑھنے والوں کی یادداشت کے لیئے ذرا ایک نظراس لنک پر بھی ڈال لیں!
    کراچی قاتلوں اور بھتہ خوروں کے رحم و کرم پے
    http://www.dw-world.de/dw/article/0,,14967465,00.html

  37. عرض کیا ہے..
    اگر یونہی لکھی گئیں عداوتوں کی سرخیاں
    تیرا لہو بھی رائیگاں میرا لہو بھی رائیگاں

  38. آپ بھی کہیں ٹریفک کے چکر میں تو نہیں ؟ ہا ہا ہا
    جو آگ لگانے والا موضوع لکھ دیا. شاید آپ کی نیت ایسی نہ ہو مگر ذکر ان کا قیامت ڈھا جاتا ہے

  39. رواں برس جنوری میں دینی جماعتوں نے ایم اے جناح روڑ پر ایک تاریخی جلسہ کیا تھا جس میں لاکھوں کی تعداد میں شمع رسالت کے پروانے شریک تھے لیکن میڈیا نے اس پورے جلسے کو نظر انداز کیا جبکہ دوسری طرف ایم کیو ایم کے ہر جلسہ اور کارنر میٹنگ کی ناصرف کوریج ہوتی ہے بلکہ الطاف حسین کے ہر خطاب کو براہ راست دیکھایا جاتا ہے، میڈیا کے ان رویوں سے آپ کے الزامات اور اندیشے کو تقویت ملتی ہے۔

    لیکن دو باتوں پر مجھے اختلاف ہے :
    ایک تو زولفقار مرزا پر کہ میرے نزدیک یہ شخص ایک نمبر کا فسادی اور گڑبڑ ہے۔
    دوسرا یہ کہ ایم کیو ایم کو تنہا دہشت گرد نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اے این پی اور پیپلز پارٹی کے مدمعاش کسی سے کم نہیں، بلکہ جتنے بدمعاش اے این پی والے ہیں پورے کراچی میں کوئی اور نہیں ۔۔۔

  40. محسن حجازی says:

    اچھا تو ان میزبانوں اور اینکر حضرات کو بنے بنائے سوالات ملتے ہیں؟ تو پھر ان کا کام ایک اداکار سے زیادہ کیا رہ جاتا ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.