قوم پرستی کی لعنت

قوم پرستی اور عصبیت آپ کی سوچ پر انتہائی منفی اثرات ڈالتی ہے، یہی منفی اثرات آپ کو پاکستانی معاشرے میں جابجا نظر آئیں گے۔ سندھی زبان کا یہ محاورہ "سچ کو سچ مانیں گے لیکن لڑیں گے بھائی کے لیے" (یہاں بھائی سے مراد قبیلہ یا قوم ہے) ہمارے معاشرے میں عصبیت و لسانیت کے گہرے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ عصبیت انسان کو اندھا کر دیتی ہے جیساکہ اس محاورے سے بھی ظاہر ہے کہ پہلے تو انسان سچ کو سچ نہیں سمجھتا اور اگر سمجھ بھی لیتا ہے تو خود میں اتنی اخلاقی جرات نہیں پاتا کہ وہ سچ کا ساتھ دے اور باطل کا ساتھ دینے سے انکار کر دے۔ یہی عصبیت و لسانیت وطن عزیز میں لسانی و قومی بنیادوں پر مختلف فسادات کا موجب بنی ہے خصوصا صوبہ سندھ اس کا بدترین شکار رہا ہے۔ ماضی کے سندھی مہاجر فسادات اور طویل عرصے سے جاری مہاجر پٹھان فسادات اس امر کے عکاس ہیں کہ اکیسویں صدی میں بھی ہمارے افراد اسی دقیانوسی سوچ کے حامل ہیں جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ زمانہ ترقی کر گیا ہے، ہر ٹیکنالوجیکل جدت ہم لوگوں نے اپنا لی ہے لیکن اپنے دماغ کو کھولنے سے ہم لوگ قاصر ہیں یا پھر اسے کھولنا چاہتے ہی نہیں کہ اسی غلاظت سے ہمارے مفادات وابستہ ہیں۔

سوچنے کی بات ہے کیا میں حق پر موجود ایک پنجابی، پٹھان، مہاجر اور بلوچی کا محض اس لیے ساتھ نہ دوں کہ اس کا جھگڑا میری قوم کے ایک سندھی فرد سے ہوا ہے، جو اس قضیے میں جھوٹا ہے؟ کیا میں صرف قوم کی بنیاد پر اس کا ساتھ دینے میں حق بجانب ہوں ؟۔ میرے خیال میں تو اخلاقی و فطری لحاظ سے بھی یہ بہت بڑی کمزوری ہے کہ آپ سچ کو سچ نہ کہہ سکیں۔ یہ جہالت کی وہ انتہا ہے، جس کے بعدیہی کہا جا سکتا ہے کہ آپ دماغی اندھے پن کا شکار ہیں۔

جہالت عصبیت کو دو آتشہ کر دیتی ہے اور انسان کو انسانیت کے مقام سے گرا کر حیوانیت پر لے آتی ہے۔ ذرا شہر قائد میں ماضی میں ہونے والے فسادات کو دیکھئے، جن میں محض پینٹ شرٹ پہننے کی بنیاد پر یا محض ظاہری سرخ و سپید رنگت پر کسی کو زدو و کوب کیا گیا حتی کہ بسا اوقات اسے جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔
شہر قائد کراچی میں گزشتہ کئی ماہ سے اسی قومیت و لسانیت کے نام پر روزانہ لوگوں کو مارا جا رہا ہے اور گزشتہ دو دنوں میں تو جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 150 سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دیے ہوئے پیغام کو بھلا دیا ہے۔ برادر عدنان مسعود نے اس موقع پر بہت اہم حدیث بیان کی ہے:

جس نے عصبیت کی طرف دعوت دی وہ ہم میں سے نہیں،

جس نےعصبیت کے لیے جنگ کی وہ ہم میں سے نہیں،

جو عصبیت پر مرا وہ ہم میں سے نہیں ہے (ابوداؤد)

جب سوائے تقوی کے کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں دی گئی تو ہم محض نسلی و لسانی بنیادوں پر کسی کو کسی پر فضیلت دینے والے کون ہوتے ہیں؟ یہ وقت ہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی طرف رجوع کرنے کا، ان احکامات پر عمل کرنے کا، خود کو بدلنے کا اور لسانیت، عصبیت، قبائلیت اور قومیت کے غلیظ گڑھوں میں سے نکلنے کا۔

اس حوالے سے ساتھی بلاگرز کی تحاریر:

عدنان مسعود کے بلاگ سے : عصبیت

شعیب صفدر کے بلاگ سے: منجانب اہلیان کراچی

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

29 تبصرے

  1. عصبیت کی آگ میں جل کر جلانے والے حدیث کو بھی نہیں مانیں گے.
    http://dosrarukh.wordpress.com/2010/08/02/48/
    ان کی سوچ یہ ھے کہ اس پر عمل کیا جائے تو حالات سدھر سکتے ہیں.
    میرا تو تبصرہ کرنے کو دل ہی نہیں مانا .
    تبصرہ کرنے سے یہ کیسے مانیں گے کہ یہ یہی کچھ کرنا چاھتے ہیں اور مخالف اسی کی مخالفت کر رہے ہیں. اسی لئے یہ خونی تماشہ ہو رہا ھے. قا نون کو ہر کوئی اپنے ہاتھ میں لینا پسند کرتا ھے.ایک قتل ہوتا ھے تو اس کے بدلے 100 قتل کر کے دل کو تسکین دی جاتی ھے.اور سب کے مقتول شہید ہوتے ہیں. شہید کس کا ہوتا ھے؟ غیر مسلم بھی اپنے مقتولوں کو شہید ہی کہتے ہیں.اگر اسلامی نقطہ نظر سے شہید کہتے ہیں.تو یہ جنگ کس کے خلاف ھے.؟

    • یاسر صاحب! حیرتناک بات دیکھیے کہ اس وقت "جنگ" کا سامنا کرنے والی دونوں پارٹیاں خود کو سیکولر جماعتیں کہتی ہیں لیکن جیسے ہی ان کا کوئی مارا جاتا ہے فورا ہی اسے "شہید" قرار دیا جاتا ہے۔

  2. جعفر says:

    آپ جیسی ذہنیت کے لوگ ہر بات میں حدیثیں نکال کے بیٹھ جاتے ہیں۔ اسلام کے ٹھیکیدار!۔۔۔ ہنہہہ
    معاشرتی، سماجی، سیاسی، اخلاقی، معاشی پس منظر اور مسائل کو نظر انداز کردیتے ہیں
    آپ کو کیا پتہ کہ دوسری پارٹی کتنی ظالم ہے
    اور 1782 میں انہوں نے کیسے ہماری پارٹی کے لوگوں کو شہید کیا تھا؟
    صرف ہم ہی درست ہیں اور حق پر ہیں۔۔۔

  3. آپ نے درست نشاندہی کی ہے ۔
    ايک پہلو رہ گيا جو اس عصبيت ميں کارگر ہے ۔ وڈيرا اپنی بادشاہی اور سيست کو قائم کرنے کيلئے عصبيت کو قائم رکھے ہوئے ہے
    يہ آگ سب سے زيادہ سندھ ميں ہے جو جی ايم سيّد نے لگائی اور ڈوالفقار علی ھٹو نے بڑھکائی اور الطاف حسين نے اپنائی ۔ اس کے بعد يہ بلوچستان ميں ہے پھر خيبر پختونخواہ ميں اور پھر پنجاب ميں
    اللہ ہميں عصبيت اور منافقت سے بچائے

    • افتخار اجمل صاحب سے بہت معذرت کے ساتھ ...بھٹو صاحب کے نظریات اور طرز سیاست سے شدید مخالفت کے باوجود انہیں متعصب ہونے کا الزام دینا مشکل ہے.ان کی زندگی میں پاکستانیوں کے لئے اس طرح کےرویے کا ثبوت نہیں ملتا..ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغ "تعصب"...
      باقی آپ کا فرمان سر آنکھوں پر .اللہ تعالٰی ہمین تعصب کی لعنت سے بچائے اور یوم حشر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندہ نہ کرے..کہ ان کی امت کے کسی جزو کو آزردہ کرنے اور دکھ پہنچانے کا داغ ہمارے دامن پر ہو.

  4. توارش says:

    ابو شامل گستاخی معاف لیکن آج کے حالات میں تو حق بھی کچھ خاص حق پرستوں کی بلا شرکت غیرے ملکیت ہے اور ہاں کیا آپ کراچی میں ؟ ہی رہتے ہیں. اگر ہاں تو بڑا جگرا ہے آپ کا کے آپ نے یہ سب کچھ لکھا ہے

  5. جزاک اللہ ابو شامل.

    اللہ آپ کو اور ہم سب کو حق بات کہنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے.

  6. سعد says:

    نہایت فکر انگیز تحریر ہے۔ موقع کی مناسبت سے شائع کرنے کا شکریہ

  7. نعمان says:

    اگر ایک غاصب دوسرے غاصب پر الزام لگارہا ہو۔ تو میں یہ الزام صرف اس لئے نہ سنوں کہ پہلا شخص غاصب ہے اور مجھے ناپسند ہے؟ میں اس غضب پر اس لئے آواز نہ اٹھاؤں کہ اس سے عصبیت کو فروغ ملے گا؟ 

    • میں اپنا مدعا انتہائی واضح الفاظ میں بیان کر چکا ہوں۔ میں نے مثال بھی اپنی زبان و نسل والوں یعنی سندھیوں کی دی ہے۔ باقی ہر شخص عقلمند ہے اور اس بات کو سمجھتا ہے کہ ناجائز اور جائز حمایت میں کیا فرق ہوتا ہے۔

  8. طالوت says:

    “سوچنے کی بات ہے کیا میں حق پر موجود ایک پنجابی، پٹھان، مہاجر اور بلوچی کا محض اس لیے ساتھ نہ دوں کہ اس کا جھگڑا میری قوم کے ایک سندھی فرد سے ہوا ہے، جو اس قضیے میں جھوٹا ہے؟ کیا میں صرف قوم کی بنیاد پر اس کا ساتھ دینے میں حق بجانب ہوں ؟۔ میرے خیال میں تو اخلاقی و فطری لحاظ سے بھی یہ بہت بڑی کمزوری ہے “؎
    شرم و حیا باقی ہو تو یہ مہذب الفاظ بھی ڈوب مرنے کو کافی ہیں مگر تعصب کے اندھوں کی تشفی تو گالیوں سے بھی نہیں ہوتی۔ اور فہد یہ بیماری ہرگز صرف سندھ میں نہیں ۔ بشمول دیگر صوبوں کہ یہاں عربیہ میں بھی ہم لوگ ایسی ہی لعنتوں میں بسیرا کئے ہوئے ہیں ۔ یہ حالات دیکھ کر جی کرتا ہے کہ کپڑے پھاڑ کر صحرا کی طرف نکل جاؤں ، شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہوں جب لوگ سوال کرتے ہیں سیلا بی صورتحال میں کراچی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
    اللہ آپ کو محفوظ رکھے کہ باوجود خطرات کے سچ کا دامن تو نہیں چھوڑا جا سکتا اور یہی باعث عزت و فخر ہے یہاں بھی اور وہاں بھی۔
    وسلام

    • بس طالوت بھائی، یہی کچھ حال اپنا بھی ہوتا ہے۔ اللہ آپ کو اور تمام لوگوں کو حفظ و امان میں رکھے۔

  9. جزاک اللہ برادر ابوشامل۔ آپ نے بجا فرمایا کہ جہالت عصبیت کو دو آتشہ کر دیتی ہے ، لیکن احقر کا مشاہدہ رہا ہے کہ عصبیت کے اس دیو کا تعلیم بھی کچھ زیادہ نہیں بگاڑ سکتی جب تک کہ یہ زیر نظر یہ نظریہ موجود نا ہو کہ ایک مسلمان کی دوستی اور دشمنی، اس کے رب کی رضا کےلئے مخصوص ہے ۔جن لوگوں نے اسی کی دہائی سے اس لسانی و صوبائی عصبیت کا مقابلہ کیا ہو انہیں اچھی طرح یاد ہوگا کہ بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی برملاایسی ہی جاہلانہ تعصبانہ باتیں کرتے دیکھاجاتاہے جتنا کہ ایک غیر تعلیم یافتہ فرد کے گمراہ ہونے کا گمان ہوتا ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں ایک امت واحدہ بننے کی توفیق عطا فرمائے،‌آمین
    بتان رنگ و بو کو توڑ کر ملت میں‌گم ہوجا
    نہ تورانی رہے باقی ، نہ ایرانی نہ افغانی

    • آپ کا مشاہدہ بھی بالکل درست ہے۔ میں نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ہے جن کی ذہنیت کا آکسفرڈ اور ہارورڈ کی تعلیم بھی کچھ نہ "بگاڑ" سکی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اصل مسئلہ تعلیم کا بھی نہیں بلکہ تربیت کا ہے۔
      قومیت کو تو میں وحدت امت کے لیے زہر قاتل سمجھتا ہوں۔ ہمارے ایک ساتھی نے کہا تھا کہ اگر شہر میں فسادات کے دوران آپ کا دل محض اس بات سے بھی مطمئن ہوتا ہے کہ چلو دوسری قوم کے اتنے فرد مرے ہیں، ہمارے کم مرے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے دل میں کہیں نہ کہیں عصبیت کے جراثیم موجود ہیں۔ لوگوں کے ذہن میں یہ بات اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہماری قوم وہ نہیں جو ہم زبان بولتے ہیں یا ہم جس نسل سے تعلق رکھتے بلکہ ہماری قوم تو وہ ہے جو ہمیں قرآن و حدیث نے قرار دیا ہے یعنی مسلمان۔
      "مسئلہ قومیت" کا مطالعہ ایک بار پھر کرنے کی ضرورت ہے۔

  10. ابوشامل صاحب....اوپردوسرارخ بلاگ کی ایک پوسٹ کا ذکر ہوا ہے . جوہماری ٹیم کے ایک ساتھی نے تحریر کی تھی .جس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ لوگ کراچی کے حوالے سے ایسا سوچتے ہیں.تاہم اس کا مدلل جواب دیا جاسکتاتھا.جس سے احتراز برتا گیا۔

    میں اسی شہر قائد کا باسی ہوں۔اور جہاں تک میری رائے کا تعلق ہے تومیں آپ کی اس پوسٹ سے مکمل اتفاق کرتا ہے ۔اور اس حوالے سے میں نے بھی اپنے ٹوٹے پھوٹے جملوں میں چند سطریں لکھیں ہیں۔
    https://dosrarukh.wordpress.com/2010/08/04/50

  11. قوم پرستی ایک بیماری اس پر منافقت ایک مزید ستم. ان دونوں کے ملاپ سے تیار شدہ قوم پر اسطرح کی تباہیاں تاریخی طور پر ثابت شدہ ہیں. بعض اوقات انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ہمارے مجموعی رویے ہی ایم کیو ایم ، اے این پی اور جیے سندھ جیسی جماعتوں کے قیام کا باعث بنتے ہیں پھر دوسری طرف مذہبی جنونیت فرقہ وارانہ جماعتوں کے لیے تازہ خون مہیا کرتی رہتی ہے... زمانہ امن میں ہم کوے کی قربانی کی بحث میں مشغول رہتے ہیں اور جب اس غفلت کا حتمی نتیجہ نکلتا ہے تو اپنے ہم فرقہ، ہم زبان اور ہم قوم کی لاشوں کی تعداد سے مظلومیت میں سر فہرست آنے کے لیے کوشاں ہوجاتے ہیں....

    • انتہا پسند و قوم پرست جماعتیں وہیں جنم لیتی ہے جہاں ہمارے جیسی منافق و دوغلی قوم موجود ہوں کیونکہ ایسی قوم کے وجود کے بغیر ان لوگوں کی دال نہيں گلتی۔ قومی سطح پر بدگمانی پیدا کرنے کے لیے جہالت و منافقت کا موجود ہونا ضروری ہے۔
      اب یہاں حالات آہستہ آہستہ معمول پر آ رہے ہیں، دفاتر میں واپسی پر لوگوں کی گفتگوؤں سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ظاہرا پڑھی لکھی صورت کے پیچھے کیسا بغض و عناد بھرا ہوا ہے۔

  12. ظفر اقبال says:

    آئیے رمضان المبارک کا استقبال کریں۔راتوں کو قرآن کی “پرانی کہانیاں“ سنیں دن میں مہاجر پٹھانوں کے خلاف تعصب کا درس دیں اور پٹھان مہاجروں سے افطار کریں۔نمازیں کندھے سے کندھا اور ایڑیوں سے ایڑیاں ملا کر پڑھیں اور مسجد سے نکلتے ہی اسلام اور نماز اور فرمان خدا کی ایسی تیسی کریں۔آپ یقین کریں یہ صرف ثقافتی سرگرمی کا مہینہ ہے۔ صرف ایکٹیویٹی ہے۔کوئی آخرت اور جواب دہی نہیں ہو گی۔کسی قتل اور تعصب کے زہر کا حساب نہیں ہو گا۔اپنی اولاد کو قرآن اور فرمان رسول سمجھنے مت دیجیے ورنہ وہ غلط راہوں پر چل کر تمام مسلمانوں کو ایک امت واحد سمجھنے لگ جائیں گے۔

  13. دنیا کا کوئی گروہ، برادری یا قوم ایسی نہیں جس میں تمام لوگ برے ہوں یا تمام لوگ اچھے۔ اس لیے اپنی ہم خیال قوم کو فرشتہ صفت یا مخالف قوم کو شیطان گرداننا کسی طور درست نہیں۔ اور اس سے بھی بڑا ظلم اپنے اندر موجود تعصب کا پرچار کرنا ہے۔ جو ہمیں آج کے دور میں جابجا نظر آرہا ہے۔

  14. محترم ابو شامل،
    بہت عمدہ تحریر ہے آپکی اور آپ نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں زرا سا بھی کوئی شک نہیں ہو سکتا..... آج صبح آپکے اس بلاگ پر اور ناجانے پتہ نہیں کس، کسکے بلاگ پر میرے نام سے کسی نے نہایت غلط تبصرے کیے ہیں ...... اسکے سدباب کا کوئی طریقہ کار ہو تو ضرور بتائیے گا........

    • معذرت کہ میں آپ کو جانتا نہ تھا اس لیے اس نامعلوم شخص کے آپ کے نام پر کیے گئے ایک تبصرے کو میں نے تنبیہ کے ساتھ شایع کیا بعد ازاں آپ کے بارے میں ایک بلاگر سے معلومات ملنے کے بعد وہ تبصرہ اڑا دیا ہے۔ یہ نامعلوم افراد کی جانب سے کسی بلاگر کے نام سے کیے جانے والے تبصروں کا معاملہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اسے روکنے کی ضرورت ہے۔ فی الوقت میرے ذہن میں کوئی ایسی تجویز موجود نہیں ہے کہ اسے کس طرح روکا جا سکتا ہے لیکن اس حوالے سے تجاویز اکٹھی کی جائیں اور پھر فیصلہ کیا جائے۔ ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنا ضروری ہے جو دوسرے کی شناخت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کریں۔

  15. جزاک اللہ ابو شامل

  16. جعفر says:

    دیکھنا یہ چاہیے کہ کسی بندے کا ایمیل ایڈریس نامعلوم کے پاس کیسے جاتا ہے؟
    یا تو یہ کسی بلاگر کی مہربانی ہے
    یا پھر وہ نامعلوم فرشتوں سے تعلق رکھتا ہے
    یا ولی اللہ ہے
    جسے کشف ہوجاتا ہے
    یا پھر وہ نامعلوم۔۔۔
    چلیں چھوڑیں، گگ ۔۔۔گالی نکلنے لگی تھی۔۔۔

  17. عبدالحميد says:

    سندهي محاوره کي غلط تشريح کي گئي هي. صحيح اس طرح هي. ”لٺ کڻجي ڀاءُ پاران، شاهدي ڏجي خدا ڪارڻ“ لڙائي مين هميشه بهائي کا ساته دو، مگر جب بات شاهدي ”سچ“کي هو تو سچ کا ساته دو. اس طرح کي رويي کو آپ مذهب کي آڙ مين بهي نهين چهپاسکتي. حج کي موقع پر ايڪ اردو بولني والي ني سندهيون کو ظالم ڪها، مين ني ڪها بهائي يه تو انصاف کي جگھ هي، چلو الله کا گھر سامني هي، دعا کرتي هين ڪه جو ظالم هو الله اسي غارت کري، يه کهه کر مين تو چلا کعبته الله کي طرف اور وه چلا الٽي طرف اور مين اسي آوازين ديتا ره گيا.

  1. August 4, 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Abu Shamil, Abu Shamil. Abu Shamil said: ابوشامل کے بلاگ سے تحریر "قوم پرستی کی لعنت" http://www.abushamil.com/karachi-target-killings/ [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.