لاہور و غزہ

گزشتہ ہفتے لاہور میں قادیانی عبادت گاہ پر حملے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، اور اس واقعے نے ثابت کر دیا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے اور یہ بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب ہر کسی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ قادیانیوں کے عقیدے سے قطع نظر ایک پاکستانی کی حیثیت سے انہیں وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں جوآئین پاکستان کسی بھی شہری کو عطا کرتا ہے اور آئین کی نظر سے ان کی مال و جان اور عزت بھی اسی قدرمقدم رکھی جائے جتنی کہ کسی اور مذہب کے حامل فرد کی۔ یہ حکومت کا فرض ہے کہ ہر پاکستانی کی طرح قادیانیوں کی جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دے اور اس کے لیے بہترین انتظامات کرے۔

بلاشبہ لاہور میں پیش آنے والا پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جب ایک اقلیتی گروہ کو تہہ تیغ کیا گیا۔ اس واقعے سمیت دیگر تمام واقعات، جن میں عام شہری اور مسلمان مارے گئے، کی تحقیق کرنا اور ان کے پس پردہ عناصر کا قلع قمع کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

لیکن حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہو رہا ہے کہ لوگ اس واقعے کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر بہت سارے پاکستانی اس مہم پر لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح قادیانیوں کو مسلمان ثابت کریں، چاہے وہ فیس بک پر اسٹیٹس اپ ڈیٹ کر کے کریں یا پھر ٹویٹ کر کے یا پھر یو ٹیوب کی وڈیوز شیئر کر کے اور ان کا پورا زور اس بات پر ہے کہ قادیانی بالکل ویسے ہی مسلمان ہیں جیسے کہ دیگر مسلمان ہیں مثلا ایک وڈیو جو شیئرنگ میں زوروں پر ہے وہ یہ ہے کہ حملے کے وقت قادیانیوں کو درود شریف پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اس وڈیو کو شیئر کرنے کا بظاہر مقصد تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ بالکل عام مسلمانوں کی طرح قادیانی بھی درود پڑھ رہے ہیں لیکن اس کا کوئی سیاق و سباق پیش نہیں کر رہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے حوالے سے قادیانیوں کا حقیقی عقیدہ کیا ہے؟۔ اسلام کے بنیادی عقائد میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیثیت سے بے بہرہ یہ مسلمان انجانے میں بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ ایسے ہی نظریات رکھنے والے افراد کے مختلف بلاگز سے جو موقف سامنے آیا ہے اس کے مطابق قادیانیوں کے ساتھ ظلم ابھی نہیں ہوا ہے بلکہ ان پر دہائیوں سے ہوتا آ رہا ہے اور 1974ء میں آئین میں ترمیم کے ذریعے انہیں غیر مسلم قرار دے کر ان پر ظلم کی انتہا کر دی گئی۔ کونے کھدرے سے ان مسلم ممالک کو ڈھونڈ کر ان کی مثالیں پیش کی جا رہی ہیں کہ وہاں قادیانی غیر مسلم قرار نہیں دیے گئے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اس ذہنیت کے لوگ کس طرح آئین پاکستان سے وفاداری، آزادی عدلیہ اور آزادی اظہار رائے کی بات کرتے ہیں؟ اس کا مطلب ہے کہ انہیں آئین سے لگاؤ بھی اس حد تک ہے جب تک وہ ان کی مرضی کا رہتا ہے، عدلیہ کی آزادی بھی اتنی ہی پسند ہے جب تک وہ ان پر حدیں نہیں لگاتی اور اظہار کی آزادی بھی محض خود کے لیے چاہتے ہیں اور کسی اور کو اظہار کی آزادی حاصل نہیں ہے۔ کیا انہوں نے کبھی قادیانیت کا مطالعہ کیا ہے؟ اور کس بنیاد پر قادیانیوں کو مسلمان کہلوانے پر بضد ہیں؟ دہشت گردی کی اس واردات کے پیچھے موجود عناصر کا خاتمہ کرنا اور اس واقعے کی مذمت کرنا اپنی جگہ ضروری ہے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آپ لاعلمی میں اسلام کی بنیادوں کو ہلائیں اور اسلام کی بنیاد یہی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں۔

ابھی یہی ہنگامہ بپا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے محاصرین کے لیے امداد لے جانے والے ترک جہازوں پر حملے کا واقعہ پیش آیا۔ اسرائیل کے کمانڈو آپریشن میں 20 نہتے افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک ایسا واقعہ ہے جس کی نظیر کم ہی ملتی ہے۔ بین الاقوامی بحری حدود میں ایک جہازوں کے ایسے بیڑے پر حملہ کرنا جس کے ایک ایک رکن کے بارے میں دنیا بھر کو علم تھا کہ اس کا تعلق کس امدادی یا ابلاغی ادارے سے ہے۔ دنیا جانتی تھی کہ اس میں سوائے امدادی سامان کے کچھ لدا ہوا نہیں ہے اور اسرائیلی آپریشن کے بعد سامنے آنے والی تصاویر نے بھی یہ ظاہر کیا کہ جہازوں پر کوئی ایسی مشکوک چیز موجود نہیں تھی۔

اس واقعے کے فورا بعد دنیا بھر سے مذمتی بیانات کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور انٹرنیٹ کی ورچوئل دنیا میں بھی ایک بھونچال آگیا۔ ہر سمت سے اسرائیل کے اس جارحانہ اقدام کی مخالفت کی گئی لیکن اس دوران انہی قادیانی نواز عناصر کی جانب سے چند بودے دلائل منظر عام پر آئے جن سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ قادیانیوں کے غم میں گھلنے والے افراد دیگر انسانوں کی جانوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور اسرائیل کی مذمت کرنا ان کے لیے کتنا مشکل کام ہے۔ ایک دلیل یہ پیش کی گئی کہ "وطن عزیز میں 100 جانوں کے ضیاع پر خاموش رہنے والے کس طرح 20 جانوں کے ضیاع پر رو رہے ہیں"۔ اس طرح کے دلائل پیش کرنے والے لوگ نجانے کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں؟ اپنوں سے ہمدردی اپنی جگہ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دوسرے کی جان کی اہمیت کو گھٹائیں۔

اس طرح کی دلیل پیش کرنے والے افراد شاید دونوں واقعات کی نوعیت کو بھول رہے ہیں۔ لاہور میں جو واقعہ پیش آیا ہے وہ ایک نامعلوم گروہ کی کارروائی ہے، جس کی منصوبہ بندی (اب تک کی معلومات کے مطابق) نامعلوم مقام پر نامعلوم افراد نے کی ہےجبکہ اس کے مقابلے میں غزہ میں جارحیت ایک "سیکولر" ریاست کے وزیر اعظم کی منظوری سے کی گئی ہے اور اس کی منصوبہ بندی اسرائیلی وزارت دفاع اور فوج نے کی۔ یعنی کہ یہ انفرادی دہشت گردی اور ریاستی دہشت گردی کے دو علیحدہ واقعات ہیں اس لیے ان دونوں کا موازنہ کرنا سراسر بے وقوفی کی علامت ہے۔ ریاست کی جانب سے دہشت گردی کرنا کسی بھی شخص کے انفرادی فعل سے کہیں زیادہ قابل مذمت ہے اور وہ ریاست بھی ایسی جو امت مسلمہ کے قلب میں خنجر کی طرح پیوست ہے اور اس کے تیسرے مقدس ترین مقام "بیت المقدس" پر قابض ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

40 تبصرے

  1. سعد says:

    ذہنی غلامی! اور کیا

  2. محسن حجازی says:

    دو اصحاب تو جن کے نام میں لینا چاہوں گا۔ ایک تو عزت ماب جناب گورنر پنجاب۔ انہیں بھی اسرائیل کے خلاف مظاہروں پر تکلیف ہے۔دوسرے ایک فیصل قریشی جو نیوز ون پر ہوتے ہیں۔
    موصوف خود کو بہت بڑا علام سمجھتے ہیں۔ سٹیل مل لوٹنے والے سلمان فاروقی کے بھانجے اور شرمیلا فاروقی کے کزن ہیں۔ آپ کو بھی بہت تکلیف ہے۔
    غالبا اشرافیہ میں قادیانیوں کی یا تو تعداد زیادہ ہے یا اثر و رسوخ زیادہ ہے۔

    قادیانیوں کو اس ملک میں بالکل برابر کے حقوق ملنے چاہییں مگر بات اتنی سی ہے کہ مسلمان بہرطور وہ نہیں ہیں۔ فرقے تو یوں اور بھی بہت ہیں مگر اس قدر انحراف شاید کسی اور گروہ نے اسلام سے نہیں کیا۔

    • محسن بھائی، اشرافیہ کے "کھانچے" بھی اس کا اہم سبب ہیں، ان کی "ہابی" این جی اوز بنانا ہے اور اس کے لیے "بیرون ملک کھانچے" انہیں اس طرح کی باتوں پر مجبور کرتے ہیں۔ انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق اور نجانے کس کس کے حقوق کے ایشو اٹھا کر باہر سے پیسے بٹورنا ان کا مشغلہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی وجوہات گنوائی جا سکتی ہیں لیکن یہ باقاعدہ الگ موضوع ہو جائے گا۔
      اس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہئے کہ قادیانی بھی اس ملک کے ویسے ہی شہری ہیں جیسے کہ دیگر پاکستانی۔ انہیں وہ تمام حقوق اور مواقع ملنے چاہئیں جو کسی بھی شہری کو ملتے ہیں۔ چاہے کوئی کتنا بھی برا ہو، کسی شخص کو اس پر انگلی تک اٹھانے کا حق حاصل نہیں۔

  3. جناب موت سر پر آئی کھڑی ہو، اور درود شریف پڑھنے کی توفیق مل جاے یہی حب رسول (ص) کا ثبوت ہے- اختتام نبوت کا معاملہ الگ رکھئے اور یہ قبول کریں کہ احمدی بھی رسول اللہ (ص) سے سچی محبت کرتے ہیں-

    جہاں تک انحراف کا تعلق ہے تو وہ بھی سرکاری مسلمان ہیں جو قرآن کو منسوخ کرتے ہیں، وہ بھی موُمن ہیں جو طرح طرح کے شرکوں میں گرفتار ہیں- ایسے بھی مسلمان ہیں جنہیں نماز کا طریقہ ہی نہیں آتا اور قرآن کو کبھی بھول کر بھی ہاتھ نہیں لگاتے- اسی طرح جادو ٹونے کرنے اور کروانے والے، چور، ڈاکو، رہزن سبھی مسلمان ہیں- سب سے بڑھ کر بھٹو صاحب مسلمان ہیں جنہیں ختم نبوت کا محافظ کہا گیا- پھر انہیں کو عدالت میں اپنے مسلمان ہونے پر ضد کرنی پڑی۔

    ایک اور بات پوچھتا ہوں- کیا احمدی ملک دشمن ہیں؟

    • لطف الاسلام صاحب! قادیانیت کے حوالے سے بحث ایک بہت لمبا معاملہ ہے اور اس بلاگ پر پہلے بھی یہ ہو چکی ہيں اس لیے دوبارہ ان کو کھودنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

  4. Usman Chugtai says:

    “مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اس ذہنیت کے لوگ کس طرح آئین پاکستان سے وفاداری، آزادی عدلیہ اور آزادی اظہار رائے کی بات کرتے ہیں؟“

    بس جی کيا کريں کوئی فلسطينيوں کے حقوق کی بات کرتا ہے اسرائيل کا آئين چاہے جو کہے، کوئی کشمير کی آزادی کا کہتا ہے بھارت کا آئين مانے نا مانے- ان لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ انسانی حقوق کی کوئی ضرورت نہيں اپنے اپنے ملک کا آئين اہم ہے- اميد ہے آپکے مضمون سے ان لوگوں کو ہدايت ملے گي- اب آپ ہی بتائيے کے مندرجہ ذيل پاکستانی قانون ميں کونسی خرابی ہے،آخر ہر اکثريت کا حق ہے کہ دوسروں کے شہری اور مذہبی حقوق غصب کرے اور ان کو غلاموں کی طرح ٹريٹ کرے-

    ORDINANCE NO. XX OF 1984 PART II - AMENDMENT OF THE PAKISTAN PENAL CODE (ACT XLV OF 1860) (3) 298C... Any person of the Quadiani group or the Lahori group (who call themselves ‘Ahmadis’ or by any other name), who … invites others to accept his faith, by words, either spoken or written, or by visible representations, or in any manner whatsoever outrages the religious feelings of Muslims, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to three years and shall also be liable to fine.

    • عثمان صاحب! میں آپ کی بات کچھ سمجھا نہيں، شاید آپ اپنے کی موقف وضاحت نہیں کر پائے۔ اگر ممکن ہو تو ذرا واضح کر کے بتائیے۔

  5. شازل says:

    آپ نے بالکل درست عکاسی کی ہے
    ہم میں سے کچھ لوگ اس ٹوہ میں لگے رہتے ہیں کہ کب کوئی واقعہ پیش آئے اور ہم تمام پاکستانیوں کو رگیدیں. ہمارے وہ بلاگر جو باہر سے تعلق رکھتے ہیں یا ان کو امید ہوتی ہے کہ وہ مستقبل میں "باہر" تشریف لے جائیں گے، ایسے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جن پر متفق ہونا بحشیت مسلمان بہت ضروری ہوتا ہے
    شاید وہ اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ دیکھو ہم میں اور عام پاکستانیوں میں کتنا بڑا فرق ہے

  6. صرف درود پڑھنا حُب رسول صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نہيں ہے ۔ حُبِ رسول صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم يہ ہے کہ جو پيغام وہ لائے اُس پر عمل کيا جائے ۔ ايسے تو ميں نے کئی عسائی ديکھے ہيں جو کلمہ شہادت کی تسبيح کرتے ہيں مگر صاف کہتے ہيں کہ وہ مسلمان نہيں ہيں ۔ کئی ہندوؤں اور سکھوں کو ميں نے قرآن شريف پڑھتے ديکھا ہے اور اس مين لکھی کئی باتوں کی وہ تعريف بھی کرتے ہيں اور کچھ پر وہ عمل بھی کرتے ہيں ۔ ميں جس زمانہ ميں جرمنی ميں تھا وہاں پانی کی جگہ شراب پی جاتی تھی ۔ وہاں ميری دو ايسے جرمنوں سے دوستی ہوئی جو شراب اور سگريٹ نہيں پيتے تھے ۔ ميں نے وجہ پوچھی تو بتايا کہ تمہاری کتاب ميں لکھا ہے کہ نشہ حرام ہے ۔ اتفاق سے ہم نے سکول کے زمانہ ميں يہ کتاب پڑی ۔ اور اب ہم سمجھتے ہيں کہ واقعی ہی نشہ اچھی چيز نہيں ہے
    متذکرہ بالا سب لوگ مسلمان تو نہيں بن گئے
    اپنے آپ کو احمديہ کہنے والے يعنی مرزا غلام احمد کے پيروکاروں نے پہلے مرزا غلام احمد کو مجدد کہا پھر نبی پھر رسول اور اس کے مر جانے کے بعد اُسے مسيح موعود کہنا شروع کر ديا ۔ اس کے علاوہ يہ احمدی لوگ سيّدنا آدم عليہ السلام کو پہلا نبی کہتے ہيں مگر پہلا انسان نہيں سمجھتے جو قرآن شريف ميں اللہ کے فرمان سے صريح بغاوت ہے تو پھر يہ مسلمان کيسے ہوئے ؟

  7. Muhammad Ali Manzer says:

    That's what you expect from narrow minded parochial liberals. I remember a so-called liberal commenting on the incident in Peshawar, when more than 20 members of Jamat Islami got killed. He said "hor choopo!"...
    Every life taken in these incidents is innocent.

    • علی بھائی آپ کا یہ تبصرہ اس تحریر کے گوگل بز والے لنک پر آیا تھا، میں نے اسے یہاں منتقل کر دیا ہے۔

  8. فیصل says:

    ہاہا.
    کیا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے حضور. اب آپ پر بھی فرسودہ، بیک ورڈ، تنگ نظر، جاہل، وغیرہ وغیرہ ہونے کے فتوے لگیں گے. تیار رہیے. نیک تمنائیں قبول کیجیے.

    • ہاہاہا ۔۔۔۔ فیصل بھائی، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ الزامات کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہمارا تو معاملہ ہی عجیب ہے صاحب، مولوی کے پاس جاؤ تو وہ ہمیں "بگڑے ہوئے" کہہ کر دھتکارتے ہیں اور ادھر آؤ تو "بیک ورڈ پیپل" کی پھبتی کسی جاتی ہے "ہمارا کیا ہے اے بھائی نہ مسٹر ہیں نہ مولانا!" 🙂 ۔

  9. بھوپال صاحب- حضرت مرزا غلام احمد علیہ لسلام کا دعویٰ مسیحیت 1889 سے ہے- جہاں تک سوال ہے آدم علیہالسلام کے پہلے انسان ہونے کا تو یہ باہبل کا عقیدہ ہے- قرآن کا نہیں- قرآن تو آدم علیہ لسلام کو زمین پر خلیفہ کہتا ہے- اور خلیفہ کے لہے لازم ہے کہ اس کی پیروی کرنے والے پہلے موجود ہوں-

  10. تلخابہ says:

    محسن حجازی
    کیا فیصل قریشی سلمان فاروقی کے بھانجے ہیں؟

  11. تلخابہ says:

    ان نام نہاد لبرلز کے بارے میں کچھ لکھا ہے ۔ پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

  12. لطف الاسلام صاحب
    قرآن تو پھر مرزائی ہی سمجھے ہيں باقی سب اَن پڑھ ہيں ۔ اور وہ جو حضرت عيسٰی عليہ السلام کی قبر کشمير ميں آپ لوگ بتايا کرتے تھے اُس کا کيا ہوا ؟ بہرحال آپ سے بحث کرنا فضول ہے
    اللہ سب کو نيک ھدائت دے

  13. Usman Chugtai says:

    ديکھيں يہ ہم شريف لوگوں کو کيسے بدنام کررہے ہيں؛

    Dear Israel… thank you

    Thank God for Israel. We should be sending them bouquets right now. Great big arrangements of tube-roses and gladiolas, with a little card pinned to a leaf. Inside should be a cute drawing of a teddy bear with hearts popping around him and a hand-written message saying “Dear Israel, stay villainous! You make us look good! Love, Pakistan.”

    http://tribune.com.pk/story/18198/dear-israel%e2%80%a6-thank-you/comment-page-2/#comments

    مانا کہ ہمارے ہاں نوے مرے ليکن ايک مومن دس کافروں کے برابر ہوتا ہے اسليئے اسرائيل نے بھی نو ضرب دس نوے ہی مارے- اب ذرا اسرائيل سے التماس ہے کہ نہ تو بتايو نہ ہم بتائيں گے-

  14. Usman Chugtai says:

    “کیا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے حضور. اب آپ پر بھی فرسودہ، بیک ورڈ، تنگ نظر، جاہل، وغیرہ وغیرہ ہونے کے فتوے لگیں گے. تیار رہیے. نیک تمنائیں قبول کیجیے“

    فکر نہ کريں بھائی جی ہم بھی پيچھے ہٹنے کے ان طعنوں سے، کافروں کے خلاف جہاد زندہ باد۔۔۔ او۔۔۔ البتہ۔۔۔ ديشتگردوں کا کوئی مذہب نہيں ہوتا-

  15. جعفر says:

    ہاں جی قادیانیوں کے ہی حقوق ہیں صرف ۔۔۔۔
    نہ فلسطینیوں کے نہ کشمیریوں کے
    جہاں تک قادیانیوں کے اثر و رسوخ کی بات ہے تو
    اسبغول تے کجھ نہ پھول۔۔۔
    مرزا صاحب اگر انگریزوں کے راج کی بجائے پاکستان بننے کے بعد یہ بے ہودگی کرتے تھے شاید چار نمبر کی بس میں بٹھائے جاتے یا پھر گدو بندر منتقل کردیئے جاتے
    مقصد ان کا بھی وہی تھا جو آج کل کے روشن خیالوں کا ہے
    جہاد کو گالی۔۔۔۔

  16. دنیا کے تمام مذاہب کی تبلیغ کے لئے مبلغین اپنی کتابوں سے چن چن کر اچھی باتیں نکالتیں اور اسکا چرچہ کرتے ہیں لیکن قادیان کے فتنہ گر وہ واحد نام نہاد مذہبی گروہ ہے جو اپنے باطل عقیدے (فتنہ) کی ترویج اور پھلاوں کے لئے خوبروں حسیناوں، مال و دولت کے انبار اور پرکشش عہدوں کو ہتیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ آپ تھوڑی سی تحقیق سے یہ حقیقت جان لیں گے کہ قادیانیوں کی اکثریت کا تعلق وسطی پنجاب کے پسماندہ دیہاتوں سے ہے۔ وہاں کے غریب اور ضعیف العقیدہ لوگ اس فتنہ کا حصہ بن کر راتوں رات صاحب سروت خاندان کی فہرست میں شامل ہوئے اور مسلح افواج، عدلیہ اور بیوروکریسی میں بڑی تعداد میں اپنے لوگوں کو شامل کیا۔ یہ لوگ آج بھی اپنی انتہائی قلیل تعداد اور قانونی رکاوٹوں کے باوجود انتہائی طاقت ور ہیں۔ کچھ عرصہ قبل محترم جسٹس وجیہ الدیں احمد صاحب کا "پاکستان میں سودی بین کاری کا عدالتی پس منظر" پر ایک لکچر سننے کا اتفاق ہوا جس میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح دو احمدی (قادیانی) ججوں نے (جو بعد میں پتہ چلا کہ قادیانی ہیں) انکے اور جسٹس تقی عثمانی صاحب کے سودی بنکاری پر پابندی کے تاریخی فیصلے کو ختم کیا۔ فتنہ قادیان کے مندجہ بالا کچھ حقائق کو اردو کی نامور مصنفہ عمیرا احمد نے اپنے شرہ اآفاق ناول "پیر کامل" میں بھی بیان کیا ہے۔
    ان کجفہموں کو سمجھنا چاہئے کہ 1948 میں ہی قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے قائد اعظم رحمتہ اللہ کا جنازہ نا ہڑھ کر اور خود کو کافر ملک کا مسلمان وزیر قرار دیکر معاملا صاف کردیا تھا.
    آپ کو شاید یاد ہو کہ 1953 کی تحریک ختم نبوت کو کچلنے کے لئے جب پر تشدد ہنگاموں کا سلسلہ شروع ہوا تو جسٹس منیر کی صدارت ایک عدالتی کمیٹی معاملے کا جائزہ لینے قائم کی گئی. لیکن قادیانی گروہ کی مظبوط لابنگ کی وجہ سے اس کمیٹی نے قادیانی مسلہ پر بحث سے گریز کرتے ہوئے مسلمان کی تعریف کے نئے مسلہ کو اٹھا دیا تھا.
    رہی بات دوسری ترمیم کی بے تکی مخالفت کی تو جناب 1974 میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے جو کام کیا اسے آج سے چودا سو سال پہلے انسانی کی ہدایت کے لئے اتری مقدس کتاب نے "مکان محمد ابا احدم من رجالکم ولاکن رسول اللہ و خاتم النیب" کی صورت مین پہلے ہی نافظ کرچکا تھا.

  17. فہد بھائی آپ نے خاص طرح کی ذہنیت کو بہت اچھے اندز سے واضح کیا ہے.
    قادیانی عبادت گاہوں پر حملے کے چند گھنٹوں کے اندر غم و اندوہ میں ڈوبے ہوئے بلاگ جن کی تان جہاد اور جہادیوں پر ٹوٹتی....
    لیکن غزہ کے امدادی قافلے پر حملے میں مرنے والے شاید انسان بھی نہیں تھے تب ہی لوگوں نے اس موقع پر بھی طنز و تشنیع سے بھرپور مذاح کے شاہکار تخلیق کرڈالے....

  18. لطیف السلام صاحب سے گزادش ہے کیا وہ جو قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شرکت سے انکار کردے محب وطن کہلائے گا. قادیان ناصرف ملک دشمن ہیں بلکہ میرے انکی جماعت کو قلعدم قرار دے کر اس کے ارکان ملک بدر کردینا چاہئے.

  19. کاشف نصیر صاحب- قائد اعظم کا جنازہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھایا تھا- منافقت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ تقسیم سے قبل عثمانی صاحب اور ان کے ہم مشربوں کے لئے یہی کافر اعظم تھے۔ عثمانی صاحب نے احمدیوں کو واجب القتل قرار دیا ہوا تھا- سر ظفراللہ خان نے دینی غیرت اور دیانتداری کا ثبوت دیا اور ایسے شخص کی اقتدا نہیں کی۔ اسی طرح احمدی ایسے لوگوں کی اقتداُ نہیں کرتے اورایسوں کے جنازے نہیں پڑھتے جو ہمیں کافر کہتے ہوں یا بانئ جماعت کی تکذیب کرتے ہوں۔ ویسے بھی ہم “کافروں“ کی دعاؤں کی آپ جیسوں کو کیا پروا؟

    یہ پرکشش عہدے جو اکا دکا آپ کو نظر آتے ہیں، تعلیم اور قابلیت کی وجہ سے ہیں۔ ملا ذھنیت پورے ملک پر ّحاوی ہے اس کے باوجود اگر کوئی قابل احمدی کسی مقام پر پہنچ جاے تو ملا تلملانے لگتا ہے۔

    آپ کے بلاگ سے ایک اقتباس۔ پڑھیں اور عش عش کریں- واہ سرکاری مسلمانو- واہ-

    “ لیکن آخر کیا بات ہے کہ خون میں لتھڑے ہوئے یہ قادیانی، انکی عورتوں کا گریہ و ماتم، انکے گھروں میں رکھے جواں لاشے، انکے چہرے پر خوف اور وحشت کی جھلک اور انکی بے بسی میرے لئے اس درد کا درمہ بن گئی ہے جس کی شدت سے میں کئی سالوں رو رہا ہوں۔ اس سوال کا جواب ہر وہ شخص دے سکتا ہے جسے قادیانی فتنہ سے کچھ اگاہی ہو، اس مکار کمیونٹی کے طریقہ واردات کا کچھ ادراک ہو۔“ لیکن آخر کیا بات ہے کہ خون میں لتھڑے ہوئے یہ قادیانی، انکی عورتوں کا گریہ و ماتم، انکے گھروں میں رکھے جواں لاشے، انکے چہرے پر خوف اور وحشت کی جھلک اور انکی بے بسی میرے لئے اس درد کا درمہ بن گئی ہے جس کی شدت سے میں کئی سالوں رو رہا ہوں۔ اس سوال کا جواب ہر وہ شخص دے سکتا ہے جسے قادیانی فتنہ سے کچھ اگاہی ہو، اس مکار کمیونٹی کے طریقہ واردات کا کچھ ادراک ہو۔

    لیکن آخر کیا بات ہے کہ خون میں لتھڑے ہوئے یہ قادیانی، انکی عورتوں کا گریہ و ماتم، انکے گھروں میں رکھے جواں لاشے، انکے چہرے پر خوف اور وحشت کی جھلک اور انکی بے بسی میرے لئے اس درد کا درمہ بن گئی ہے جس کی شدت سے میں کئی سالوں رو رہا ہوں۔ اس سوال کا جواب ہر وہ شخص دے سکتا ہے جسے قادیانی فتنہ سے کچھ اگاہی ہو، اس مکار کمیونٹی کے طریقہ واردات کا کچھ ادراک ہو۔
    http://smkashif.blog.com/2010/05/29/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%b2%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a8%db%92-%da%af%d9%86%d8%a7%db%81-%db%81%db%8c%da%ba/

  20. سب پنجابی طالبان کا کیا دھرا ہے

  21. کیا غزہ کیا لاہور
    سب پنجابی طالبان کا کیا دھرا ہے

  22. پہلی بات تو یہ ہے کہ قائد نے خود وصیعت کی تھی کہ انکا جنازہ شبیر احمد عثمانی پڑھائیں اور اسکے کئی ثبوت موجود ہیں. رہی بات میرے مضمون کی جو میں نے اپنے بلاگ پر تحریر کیا ہے تو مجھے اس پر کوئی ندامت نہیں اور میں آج بھی اپنی اس رائے پر قائم ہوں. میرے دل میں ان لوگوں کے لئے کوئی ہمدردی نہیں جو شعور رکھتے ہوئے بھی اس فتنہ قادیان کا حصہ بنیں. اور ہاں مجھے آپ سے بحث نہیں کرنی

  23. Usman Chugtai says:

    “لطیف السلام صاحب سے گزادش ہے کیا وہ جو قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شرکت سے انکار کردے محب وطن کہلائے گا“

    نہيں جی صرف پاکستان کو ناپاکستان کہنے والے مودودی صاحب اور انکي جماعت، پاکستان کے بنانے کو گناہ کہنے والے مفتی محمود اور ہمنوا اور پاکستان کو بازاری رنڈی گرداننے والی مجلس احرار (موجودہ مسلم کانفرنس کشمير) ہی محب وطن کہلانے کے قابل ہيں- کافراعظم کہنے والے مولوی تو ہيں ہی محب وطن اس ميں کيا شبہ ہے- ظاہر ہے محب وطن وہی ہو سکتے ہيں جو پاکستان بنانے ہی کے
    سخت خلاف تھے-

    • عثمان صاحب! آپ سب سے پہلے تو حوالہ دیجیے کہ مودودی صاحب نے پاکستان کس جگہ ناپاکستان کہا ہے؟ سنی سنائی بات کو بغیر تصدیق کیے آگے بڑھا دینا منافق کی نشانی ہے۔

  24. Usman Chugtai says:

    معتدل عالم ڈاکٹر اسرار احمد نے بالکل ٹھيک کہا؛
    http://www.youtube.com/watch?v=eRywfRwrTWA

    البتہ ديشتگردوں کا کوئی مذہب نہيں ہوتا، ڈاکٹر اسرار احمد والا بھی نہيں-

  25. Usman Chugtai says:

    اسلام آباد (عمر چیمہ) لاہور میں حالیہ دہشت گردی کے دوران زندہ بچ جانے والے حملہ آور عبداللہ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں گمراہ کیا گیا تھا کہ قادیانی گستاخانہ خاکوں کے معاملے میں ملوث ہیں اور ان کا خون بہانا اسلام کیلئے بڑی خدمت ہے۔

    http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=438729

    البتہ ديشتگردوں کا کوئی مذہب نہيں ہوتا۔۔۔

  26. فیصل says:

    جناب لطف اسلام صاحب
    میں تو ایک بڑا بے عمل قسم کا مسلمان ہوں جسکی اسلام سے متعلق تعلیمات بھی بڑی محدود ہیں. ایک گزارش البتہ یہ کہ آپ نے فرمایا کہ ہر خلیفہ کے پیروکار پہلے سے موجود ہوتے ہیں اور چونکہ آدم علیہ السلام کو قرآن مجید میں خلیفہ کہا گیا ہے لہذا وہ پہلے انسان نہیں.
    عرض یہ کہ خلیفہ ہونے کا مطلب اللہ تعالیٰ کی نیابت ہے، یعنی انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنا نائب بنا کر اس دنیا میں بھیجا اور باقی ساری مخلوق کے اسکے تائب کر دیا. یہی بات کہ انسان اشرف المخلوقات ہے. اب چونکہ اللہ تعالیٰ نے نیابت کا فرض دیا تو خلافت کی گدی بھی دی. بات کافی کمبی ہے لیکن امید ہے کچھ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں.

  27. Tahir Anjam says:

    aap ko bht mubarik ho..... yeh hia ke ap aik different chez logon ko dikha rahey hian.......you really deserve this award.

  28. جناب موت سر پر آئی کھڑی ہو، اور درود شریف پڑھنے کی توفیق مل جاے یہی حب رسول (ص) کا ثبوت ہے- اختتام نبوت کا معاملہ الگ رکھئے اور یہ قبول کریں کہ احمدی بھی رسول اللہ (ص) سے سچی محبت کرتے ہیں
    June 4th, 2010لطف الا سلام بوقت 02:43

    گزارش ہے کہ اگر ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ الگ کر دیا جائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی آخرالزمان ماننے سے انکار کرتے ہوئے بات کی جائے تو مسلمان مسلمان رہتا وہ قادیانی زندیق بن جاتا ہے۔ اسلئیے قادیانی مسلمانوں کے قلب میں رہتے ہوئے مسلمانوں کا ٹھٹھا اڑانا بند کریں کیونکہ اسطرح قادیانی اپنے لئیے مسلمانوں کی غیرت کو لکارتے ہیں جس کے ردعمل کے طور پہ جو نتائج سامنے آتے ہیں اسکی ذمہ داری قادیانیوں پہ آتی ہے کہ یہ محض شرارتی لوگ ہیں۔قادیانیوں کی عادت رہی ہے کہ کبھی بھی کسی بھی دلیل کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور جب بات نہ بن سکے تو بات کو الجھانے لگیں گے ۔ اور کبھی بھی ڈھٹائی سے باز نہیں ائیں گے۔

    فیصل بھائی کی بات وہ دلیل ہے جو قادیانی بھی جانتے ہیں مگر محض بات کو الجھانے کی خاطر اؤٹ پٹانگ کی ہانکنا شروع کر دیتے ہیں تانکہ عامۃ الناس کا دہیان انکی بجائے ادہر ادھر ہوجائے ۔ یہ مرزا قدیان کزاب کی عادت رہی ہے ۔ اور قادیانی اسے مرزا کی سنت سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک بڑی وجہ رہی ہے کہ قادیانیوں کو جب بھی کافر قرار دینے کی کوشش کی گئی ۔ قادیانیوں نے لایعنی بحثوں کو جنم دیا ۔ چونکہ مسلمانوں کے نزدیک انصاف مقصود تھا اسلئیے بھی انہوں نے ہمیشہ قادینایوں کو موقع دیا کہ وہ اپنا نکت نظر بیان کر سکیں مگر قادیانی حسب عادت اور مرزا قادیان کزاب کی سنت کے مطابق ثواب کماتے ہوئے اپنی لن ترانیاں شروع کر دیتے۔ حتٰی کہ قادیانیوں کے خلیفہ کو قومی اسمبلی میں متواتر مواقع دئیے گئے کہ وہ اپنا نکتہ نظر واضح طور پہ بیان کرے کہ مبادا قادیانی سلام کی حقانیت کو جانتے ہوئے مسلمان ہوں اور قادیانیت سے تائب ہو چکے ہوں تو انہیں غیر منصفانہ طور پہ غیر مسلم نہ قرار دیا جائے۔ مگر خلیفہ قادیان کذاب چھپن گھنٹے کی لایعنی لن ترانی کے باوجود اپنی صفائی میں کوئی دلیل نہ دے سکا اور بڑی مشکل سے بعد از سوالات در سوالات قومی اسمبلی کے معزز اراکین اس نتیجے پہ پہنچے کہ قادیانی کافر ہیں ۔ اور اس بات کو توثیق کی جو قرآن کریم چودہ سو سال پہلے کرچکا ہے۔ کہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکار کرنے والے مرتد، زندیق اور کافر ہیں۔ دوسرے لفظوں میں قادیانی مرتد ہیں۔

    بہت کم مسلمان جانتے ہیں کہ قادیانی جب درود اور کلمہ پڑھتے ہیں تو ان کے نزدیک اسمِ "محمد" سے مراد مرزا قادیان کاذب ہوتا ہے۔ یعنی دوسرے لفظوں میں یہ مرزا قادیان کذاب پہ سلام بیھج رہے ہوتے ہیں ۔ یعنی کبھی بھی کسی بھی جگہ درود میں سلام بیجھنے سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہوتے ۔

  29. کاشف نصیر صاحب- قائد اعظم کا جنازہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھایا تھا- منافقت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ تقسیم سے قبل عثمانی صاحب اور ان کے ہم مشربوں کے لئے یہی کافر اعظم تھے۔ عثمانی صاحب نے احمدیوں کو واجب القتل قرار دیا ہوا تھا- سر ظفراللہ خان نے دینی غیرت اور دیانتداری کا ثبوت دیا ا
    June 5th, 2010 بوقت 15:54 لطف الا سلام

    غیرت۔؟ کونسی غیرتـ؟ یہ غیرت اس وقت کہاں جاتی ہے۔ جب نوخیز قادیانی دوشیزاؤں کے لالچ میں مسلمان نوجوانوں کو مذھبی فریضہ سمجھ کر پھانسا جاتا ہے۔؟ غیرت ان لوگوں میں ہوتی ہے جو گرد کتا دیتے ہیں مگر حق سچ سے پیچھے نہیں ھٹتے اور غیرت کے ھاتھوں جان دینے کو گردن کٹانے کو سرمایہ حیات سمجھتے ہیں ۔ لیکن جو لوگ قادیانیوں کی طرح جس پلیٹ میں کھتے ہیں اُسی میں چھید کرتے ہیں۔ جو انھیں پناہ دیتے ہیں انھی کو ہاتھ دکھاتے ہیں۔ جس ملک میں رہتے ہیں اسی کے خلاف سازشیں کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں میں مکاری و بزادلی تو کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوتی ہے ۔ جو جھوٹ اور نفاق کو ایک پالیسی کے طور پہ استعمال کرتے ہیں۔ جس کے تانے بانے بے حیائی سے تو ملتے ہیں مگر غیرت سے کبھی نہیں ملتے ۔ سازشی لوگ کا سازشی ہونا ہی انکی بے غیرتی کی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے۔ وہ سب کچھ ہو سکتے ہیں مگر غیرتمند کبھی نہیں ہوسکتے ۔ کہ غیرتمند چونکہ چناچہ اور ایں آں دیگر است کے پردوں کے پیچھے نہیں چھپتے جو کہ قادیانیوں کا وطیرہ ہے اور جسے قادیانی مرزا قادیان کذاب کی سنت سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔۔ جو جھوٹ اور نفاق کو ایک پالیسی کے طور پہ استعمال کرتے ہیں۔ وہ کبھی غیرتمند نہیں ہوا کرتے۔
    ظفر اللہ خاں نے قائدِ اعظم رحمتہ اللہ علیہ کا جنازہ پڑھنے سے جس وجہ سے انکار کیا تھا وہ وجہ وہ نہیں جو اوپر ایک قادیانی نے جھوٹ اور مکر سے کام لیتے ہوئے بیان کی ہے ۔ بلکہ یہ صرف اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں ۔ قادیانیوں کی ستم ظریفی ملاحضہ ہو کہ انکا ایمان ہے اور یہ آپس میں اس بات کی تبلیغ کرتے ہیں کہ جو لوگ مرزا قادیان ملعون کی نبوت پہ ایمان نہیں لائے وہ کافر ہیں ۔ یعنی یہ ماسوائے قادیانیوں کے باقی ساری مسلم اُمہ کو غیر مسلم سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے اور کہلواتے ہیں۔ یہ قادیانیوں کے فتنے کی بنیاد ہے اور انکی تعلیمات کا حصہ ہے۔ اور یہ وہ وجہ تھی کہ ظفراللہ خان نے محض اس وجہ سے قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کا جناز پڑھنے سے انکار کر دیا تھا کہ ظفر اللہ خان اپنے تئیں اپنے آپ کو مسلمان اور قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کو کافر سمجھتا تھا۔

    اللہ تعالیٰ ابوشامل صاحب کو جزائے خیر دے آمین

  30. قادیانیوں اور پاکستان میں بسنے والی دوسری مذھبی اقلیتوں میں واضح فرق ہے۔ پاکستان کی دیگر اقلیتیں یعنی نصرانی ، ھنود اور سکھ وغیرہ اپنی بودوباش۔ ناموں ۔ عبادتگاھوں ۔اور طریقہ عبادت سے واضح طور پہ اپنی الگ شناخت قائم رکھتے ہیں جن سے کسی مسلمان کو اُن کے مسلمان ہوننے کا دہوکا نہیں ہوتا۔ اور یہ اقلیتیں اپنی واضح اکثریت کے ساتھ پاکستان کے محب ہیں ۔ اور پاکستانی شہری ہونے کے ناطے اپنے فرائض دیگر بخوبی ادا کرتے ہیں۔ جان بوجھ کر مسلم اکثریت کو مذھبی اشتعال نہیں دلاتے۔ جب کہ قادینایوں کے ساتھ مسئلہ الگ ہے ۔ پاکستان کے آئین میں کافر قرار دئیے جانے کے باوجود یہ مسلمانوں کے سے نام رکھتے ہیں ۔ انہی جیسے معبد بناتے ہیں اور مسلمانوں جیسی ہی عبادات کرتے ہیں ۔اور جہاں جہاں بس چلے اپنے کو "اصلی" مسلمان بیان کرتے ہیں۔ سادہ لوح مسلمانوں کو دہوکہ دیتے ہیں۔ اپنی شناخت چھپاتے ہیں۔ اور ہر اپنے ناموں اور عبادتوں سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں ۔ جبکہ یہ درحقیقت اور پاکستان کے آئین کی رُو سے کافر ہیں۔ ختم نبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انکاری ہیں۔ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپگنڈا اور سازشیں کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو طیش دلواتے ہیں ۔ جب عامۃ الناس جذباتی ردعمل کا اظہار کرتے ہیں تو اس پہ اپنی مظلومیت کا ڈھونگ رچاتے ہیں ۔ مغرب و امریکہ سے امداد کھانے کے ساتھ ساتھ ان پہ پاکستان کو ایک ظالم ریاست ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔

    قادیانیوں کو چاہئیے کہ وہ اپنی الگ سے شناخت اختیار کریں ۔ مسلمانوں کے سے شعائر اور طریقہ عبادت ۔ نام اور رسم رواج کی نقل کرنا چھوڑ دیں۔ اپنے آپ کو برملا غیر مسلم کہلوائیں۔ تو انھیں پاکستان کے غیر مسلم شہری ہونے کے ناطے ریاست پاکستان پہ انکی حفاظت پہ اگر کوئی آنچ آتی ہے تو بے شک پاکستان کے خلاف عالمی عدالت اور فورموں سے سے رجوع کریں۔ اگر قادیانی ایسا کرنے سے عاری ہیں ۔ تو علم معاشریات کا ادنٰی سا ادراک رکھنے والا طالب علم بھی یہ فیصلہ دے گا کہ ایسی صورت میں فتنے کی جڑ خود قادیانی ہیں (جو کہ قادیانیوں کا مقصد ہے) نا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس سے متعلق جذباتی اور حساس پاکستانی عوام ہیں۔

    تو پھر اپنی شرارتوں کا مسلمانوں پہ الزام کیوں ؟

  31. عثمان says:

    آپ نے کبھی Flying Carpet Fallacy کے متعلق سنا ہے؟

  32. علی says:

    محب وطن وہ ہے جو اس وقت اس موقع پر... ملک کے لیے کچھ کرے. دہشت گردی چاہے وہ کراچی کے معصوم شہریوں پر ہو، پشاور میں ہو یا لاہور میں... دہشت گردی ہے- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داران کا قتل بھی دہشت گردی ہے اور لاہور میں معصوم قادیانیوں کا بھی.
    وقت کی ضرورت ذمےداران کو سزا دینے کی ہے. نہ کہ غزہ کے معصومین سے مقابلے کی.

  1. June 4, 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Abu Shamil, Abu Shamil. Abu Shamil said: سانحہ لاہور و غزہ کے تقابل کے حوالے سے ایک تحریر - http://wp.me/p7Afl-js [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.