مشرقی ترکستان میں سلطنت کاشغریہ کا بانی، اتالیق غازیؒ

عربی کے مشہورمقولے : ’’اطلبو العلم ولو بالصین‘‘۱؂ (علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے) میں جہاں اشہب جستجو کو مہمیز دی گئی ہے وہیں اس میں اہل چین کے علم وفن کا اعتراف اور سرزمین عرب سے اس کی طویل مسافت کا ذکر موجود ہے۔

یوں تو عرب چین تعلقات زمانہ قبل از اسلام قائم ہوچکے تھے ،مگر اس تعلق کی نوعیت تجارتی تھی، ابھی عرب و چین کے مابین مثبت یا منفی کسی بھی طرح کے سیاسی اورعسکری معاملات کا آغازنہیں ہواتھا۔

یعقوب بیگ

جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی تواُس وقت تک کم وبیش دس لاکھ مربع میل کا علاقہ اسلام کے زیر نگیں آچکا تھا ۔بعد ازاں عہدے خلافت راشدہ میں ان حدود میں غیر معمولی توسیع ہوئی اور ایک جانب ایران کی ساسانی حکومت حرف غلط کی طرح مٹ گئی تو دوسری طرف قیصر روم کو اپنے ایشیائی مقبوضات سے دستبردار ہونا پڑا۔ مملکت اسلامیہ کی توسیع کا سلسلہ اموی دور میں بھی جاری رہا ۔چنانچہ موصل (عراق) کی چھاؤنی سے دنیا کے مختلف سمتوں میں روانہ ہونے والے عظیم سپہ سالاروں موسیٰ بن نُصیرؒ ،محمد بن قاسمؒ اور قتیبہ بن مسلم باہلی ؒ نے ان سرحدوں کو بالترتیب شمالی افریقہ و مشرقی یورپ ،بلاد سندھ و ہند اور چین کی حدود تک دراز کردیا۔

قتیبہ بن مسلم باہلیؒ نے ماوراالنہر (وسط ایشیا)میں سمر قند و بخارا کی فتح کے بعد چین کی جانب پیش قدمی کی تو چین نے پیش بندی کے طور اسلامی افواج کووسط ایشیاء میں ہی روکنے کا فیصلہ کیااور کئی معرکوں میں غیر مسلم ترکوں کی مدد کی۔اس ضمن میں جب ایک موقع پر اہل’’ صغد ‘‘نے مغلوب ہونے کے بعد سرکشی کی تو چین کے بادشاہ نے اس بغاوت کو تقویت پہنچانے کے لیے اپنے نامور جرنیلوں اور شہزادوں کی سرکردگی میں فوج روانہ کی ۔سمر قند کے قلعے پر دونوں افواج کی مڈبھیڑ ہوئی ۔ چینی امداد اہل’’ صغد‘‘ کا ساتھ نہ دے سکی اور اس معرکے میں ناصرف’’ صغد‘‘ کا علاقہ مکرر اسلامی عملداری میں شامل ہوابلکہ نامور ترک اور چینی جرنیلوں کے ساتھ شاہ چین کا بیٹا بھی مارا گیا۔

قتیبہ بن مسلم باہلی ؒ نے سرحد چین کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے’’ خوقند‘‘فتح کیا اور درۂ تیرک سے ہوتے ہوئے مشرقی ترکستان کے مرکز ’’کاشغر‘‘جا پہنچے ۔ جلدہی ’’خُتن ‘‘۲؂ اور ’’یار قند‘‘بھی مسلمانوں کے زیر نگیں آگئے ۔ بعدازاں مسلم سپاہ نے ’’ترفان‘‘کی جانب پیش قدمی کی اور قتیبہ بن مسلم باہلیؒ نے شاہ چین ’’ یون چونگ‘‘(۷۱۳ء ۔۷۵۵ء)کے پاس دعوت اسلا م بھیجی اور دعوت رَد کئے جانے کی صورت میں عہد کیا کہ :’’جب تک میں سرزمین چین کو نہ روند لوں اور اس کے شہزادوں کو سزا نہ دے لوں یہاں سے واپس نہیں جاؤں گا۔‘‘

اس اثناء میں جبکہ مملکت چین کی شمال مغربی سرحدیں پائمال ہونے کوتھیں اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک(۶۶۸ء۔۷۱۵ء) کا انتقال ہوگیا اور اس کی جگہ سریر آراء خلافت ہونے والے خلیفہ سلمان بن عبدالملک (۶۷۴ء۔۷۱۷ء)نے تمام جر نیلوں (موسیٰ بن نُصیرؒ ،محمد بن قاسمؒ اور قتیبہ بن مسلم باہلی ؒ) کومحاذ جنگ سے واپسی کا حکم دیا۔اس صورت حال میں جبکہ قتیبہ بن مسلم اور اس کی سپاہ مخمصے کا شکار تھی، شاہ چین کی جانب سے ایک وفد چند شہزادوں اور مٹی کے ٹوکروں کے ساتھ حاضر ہوا اور بادشاہ کا پیغام دیا کہ:’’ آپ شہزادوں کو سزا دے کر اور چین کی مٹی کو اپنے قدموں تلے روند کر اپنی قسم پوری کرلیں ۔‘‘چنانچہ قتیبہ ؒ نے ایسا ہی کیا اور وہاں سے پلٹ آئے ۔

ترکستان کے مذکورہ مفتوح علاقوں میں آباد (تاتاریوں کی ایک شاخ) ’’ اویغور‘‘ اور چینی نسلی گروہ ’’ہوی‘‘(جنہیں ڈُنگن بھی کہا جاتا ہے)سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعدادجلد ہی حلقہ بگوش اسلام ہوگئی اور یوں عربوں کے بعد چین کے سیاسی تعلقات انہیں اویغور مسلمانوں سے قائم ہوئے ۔ منگ خاندان (۱۳۶۸ء۔۱۶۴۴ء) کے عہد میں اویغورمسلمانوں کا اثرو نفوذ کافی بڑھ گیا اورانہیں کلیدی عہدے حاصل ہوئے ۔ یہ لوگ منگ خاندان کے وفادار سمجھے جاتے تھے ۔اس عہد میں چین نے اسلام کا گہرا اثر قبول کیا ۔

مانچو حکومت کی مسلم کش پالیسی:

منگ خاندان کا زوال اور چنگ/مانچو خاندان(۱۶۵۵ء۔۱۹۱۱ء) کا عروج ’’ہوئی‘‘اور’’ اویغور‘‘ مسلمانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔انہیں سرکاری عہدوں سے الگ کردیاگیا اوران کے شہری حقوق سلب کرلیے گئے۔مانچو عہد میں منچوریا ،،منگولیا اور تبت سمیت مشرقی ترکستان پر بزور قوت قبضہ کرلیا گیا۔ ۱۶۶۰۰۰۱ مربع کلومیٹر(۶۴۰۹۳۰ مربع میل) پر پھیلے ہوئے مشرقی ترکستان کے اس مقبوضہ علاقے کوپہلے چینی ترکستان اور بعدازاں سنگیانگ (نیا صوبہ/نئی سرزمین)کا نام دیا گیا۔

۱۷۳۱ء میں بادشاہ ینگ چنگ (۱۷۲۳ء۔۱۷۳۵ء)نے گانسو کے علاقے میں مسلمانوں کی تحریک آزادی کو بدترین مظالم کے ذریعے دبادیا اور اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کے سفر حج ،مسلم علاقوں میں مساجد کی تعمیراور گائے کے ذبیحہ پر بھی روک لگا دی گئی مزید یہ کہ چین میں علماء کا داخلہ ممنوع قرار پایا ۔معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ چینی حکومت نے صوبہ شنسی /شان سی ،صوبہ گانسو کے شہر ہوچاؤ اور صوبہ یوننان میں تمام مسلم آبادی کو تہ تیغ کردیا۔

روس اور برطانيہ نے مسلمانوں کی ’’سلطنت کاشغریہ‘‘ کو تسلیم کیا لیکن یعقوب بیگ کی شہادت کے بعد چین نے مسلم ریاست کا خاتمہ کر دیا

روس اور برطانيہ نے مسلمانوں کی ’’سلطنت کاشغریہ‘‘ کو تسلیم کیا لیکن یعقوب بیگ کی شہادت کے بعد چین نے مسلم ریاست کا خاتمہ کر دیا

۱۸۱۸ء میں مسجد کے بے حرمتی نے مسلمانوں کو ایک بار پھر مشتعل کردیا تاہم اس احتجاج کو بھی بزور قوت ختم کردیا گیا۔بعدازاں ۱۸۳۴ء میں ’’من مائن تنگ‘‘ کے علاقے میں ۱۶۰۰ مسلمان شہید کردیے گئے۔اس صورتحال میں مسلمانوں نے مانچو حکومت کے خلاف مختلف علاقوں میں جدا گانہ مزاحمت کے بجائے منظم مزاحمت کا فیصلہ کیا اور۱۸۶۳ء میں مانچو افواج کو مقبوضہ علاقوں سے پرے دھکیل دیا۔مگر ۱۸۷۰ء میں چینی افواج نے ایک بڑے حملے کے بعد اس علاقے پر دوبارہ قبضہ کرلیا اور آبادی کے دو تہائی حصے کو فنا کے گھاٹ اتار دیا۔

برطانوی ایڈووکیٹ برائے فارن مشن، بینجمن بروم ہال(۱۸۲۹ء۔۱۹۱۱ء)کے مطابق۱۸۶۲ء سے ۱۸۷۸ء کے دوران چین کے شمال مغرب اور مغرب میں دس ملین مسلمان مارے گئے ۔سڑک کے کنارے درختوں پر ان مارے جانے والوں کی سربریدہ نعشوں کو لٹکایا گیا ۔

مانچو حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک کی قیادت کرنے والوں میں محمد امین (۱۷۸۲ء)، سوشی شان (۱۷۸۵ء) ، جہانگیر خان (۱۸۲۱ء۔۱۸۸۹ء) اور تووین شوی(۱۸۵۵ء۔۱۸۸۰ء)کے نام نمایاں ہے۔تاہم انیسویں صدی کے نصف دوم میں یعقوب بیگ (۱۸۵۵ء۔۱۸۸۹ء) کی شخصیت ابھرکر سامنے آئی، ’’اتالیق غازی‘‘ کے نام سے شہرت پانے والے اس مرد مجاہد نے دیکھتے ہی دیکھتے مشرقی ترکستان کے بڑے علاقے کو مانچو افواج سے واگزار کروالیا۔

اتالیق غازی ۔۔۔ ابتدائی حالات:

یعقوب بیگ ۱۸۲۰ء میں ریاست ’’خانات خوقند‘‘ ۳؂کے قصبے (موجودہ ازبکستا ن کے صوبے تاشقند کے علاقے) پسقند میں پیدا ہوئے۔انہوں نے ریاست میں فوجی ملازمت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور تیزی سے ترقی کے منازل طے کیے ۱۸۴۷ء میں قلعہ آق مسجد۴؂ کے کمانڈر بنادیے گئے۔ ۱۸۵۳ء میں روسی جنرل ’’واسیلی الیکسی ویچ پرووسکی‘‘ کی قیادت میں حملہ آورروسی افواج کی جانب سے قلعے کی تسخیر کے بعد یعقوب بیگ بخارا مہاجرت کرگئے۔جہاں ۱۸۶۵ء میں انہیں خوقند کا میر سپاہ بنادیا گیا۔

سلطنت کاشغریہ کا قیام:

یعقوب بیگ نے مشرقی ترکستان (موجودہ سنکیانگ)میں ’’ہوئی بغاوت‘‘ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کاشغر اور یار قند کے علاقے چینیوں سے واگزار کروالیے اور ۱۸۶۷ء میں’’ جہانگیر خوجہ‘‘ کے واحد بچ رہنے والے بیٹے اور کوہ سفید کے سابق حکمران نقشبندی شیخ’’ بزرگ خان‘‘ کو معزول کر دیا اورابتدائی چند سال ’’خان آف خوقند‘‘ کے باجگزار کے طورپرگزارنے کے بعد آزادی اعلان کردیااوراپنی فتوحات کا دائرہ بتدریج بڑھاتے ہوئے ۱۸۶۷ء تک ’’آ ق سو‘‘ (آب سفید) اورکو چہ (ایغوری:کوچار) سمیت متعد د شہروں پر قبضہ کرلیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے نوآزاد علاقوں پر مشتمل’’ سلطنت کاشغریہ‘‘ کا اعلان کیا جس کا دارالحکومت کا شغر قرار پایا۔یہ وہ وقت جب یعقوب بیگ کے قائدانہ جوہر کھل کر سامنے آئے۔یعقوب بیگ کی ان شاندار فتوحات پر انہیں ’’اتالیق غازی‘‘ کا لقب دیا گیا،بعد کے دور میں وہ اسی نام سے جانے گئے۔

۱۹۲۷ء میں روسی اور برطانوی حکومتوں نے ’’سلطنت کاشغریہ‘‘کو تسلیم کرلیاجبکہ خلافت عثمانیہ کی جانب سے انہیں ’’امیر المومنین‘‘ کا خطاب دیا گیا۔یوں انہیں عالمی سیاست میں بڑی اہمیت حاصل ہوگئی ،اور یہ آثار نظر آنے لگے کہ شمال مغربی چین میں ایک ایسی اسلامی ریاست کاقیام عمل میں آجائے گاجس میں یوننان،مشرقی ترکستان ،گانسو اور شنسی کے علاقے شامل ہوں گے۔

اتالیق غازی نے گریٹ گیم کے دور ان میں ایک ایسے وقت میں حکمرانی کی جب کہ برطانیہ، روس اور چین کی حکومتیں وسط ایشیا کے حصے بخرے کرنے کی منصوبہ بندی کررہی تھیں ۔

اتالیق غازی نے حکومت چین کے وفادار چینی مسلمانوں سے لڑائی کے لیے Hsu Hsuehkung کی ماتحتی میں غیرمسلم ہان چینیوں پرمشتمل ملیشیا ترتیب دی۔انہوں نے چینی حکومت کے وفادارسپاہ سالارتاؤمنگ (داؤد خلیفہ) کی سپاہ کو شکست دینے کے بعد جُنگاریہ ۵؂ کی فتح کا منصوبہ بنایا ،وہ درحقیقت ڈُنگن (مسلم چینیوں)کا تمام علاقہ آزاد کرانا چاہتے تھے۔اس سلسلے میں اتالیق غازی کی افواج کے حوصلے بڑھانے کے لیے چینی اور ڈُنگن(مسلم چینی) افواج کے خلاف رزمیہ نظمیں تخلیق کی گئیں۔

اتالیق غازی نے ڈُنگن( چینی مسلم)فورسز سے’’ آق سو ‘‘ چھین لیا اور انہیں ’’سلسلہ کوہ تیان شان‘‘ کے شمالی جانب پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ اتالیق غازی کے ہاتھوں چینی افواج کی مسلسل شکست کے باعث چینی انہیں’’چینیوں کو کچلنے والا ‘‘ پکارنے لگے۔

اتالیق غازی نے اپنا اقتدار مستحکم ہوتے ہی روسی اور برطانوی حکومتوں سے کئی ایک معاہدات کئے تاہم جب انہوں نے ان حکومتوں سے چین کے خلاف تعاون چاہا تو انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

اتالیق غازی کی پیش قدمی چینی حکومت کے لیے چیلنج بن چکی تھی، چنانچہ مانچو فورسز نے جنرل Cui اور جنرلHua کی قیادت میں اتالیق غازی کی فورسز پر بھرپور حملہ کر کے اسے تباہ کردیا۔

اتالیق غازی کی شہادت اور اس کے اسباب:

مشرقی ترکستان کا پرچم

اتالیق غازی کی شہادت کے اسباب کیا رہے،اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم ’’ٹائمز آف لندن‘‘اور ’’دی رشین ترکستان گزٹ‘‘ کے مطابق انہوں نے مختصر علالت کے بعد انتقال کیا۔ جب کہ ایک ہم عصر مؤرخ موسیٰ سیرامی (۱۸۳۶ء۔۱۹۱۷ء)کے مطابق اتالیق غازی کو یار قند کے سابق حکمران نیاز حاکم بیگ نے ۳۰ مئی ۱۸۷۷ء کو’’ کورلا‘‘۶؂میں زہر دے کر ہلاک کردیا تھا۔ ’’اتالیق غازی‘‘ کی شہادت درحقیقت مانچو فورسز اور نیازحاکم بیگ کے درمیان جنگاریہ میں ہونے والے ایک سازشی معاہدے کا نتیجہ تھی۔تاہم نیاز بیگ نے مانچو حکام کو لکھے جانے والے ایک خط میں اس الزام کی تردید کی ہے کہ یعقوب بیگ (اتالیق غازی)کے قتل میں اس کا ہاتھ ہے بلکہ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ کاشغریہ کے حکمران نے خود کشی ہے۔جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ(جس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں) یعقوب بیگ چینی افواج سے مقابلہ کے دوران شہیدہوئے۔

تاہم متعدد ہم عصر مسلم مؤرخین اور مغربی ذرائع ’’موسیٰ سیرامی‘‘ کے اس بیان کی تائیدکرتے ہیں کہ اتالیق غازی کو زہردیا گیایا کسی دوسرے ہتھکنڈے سے قتل کیا گیا۔اتالیق غازی کی خود کشی کا نظریہ اس وقت کے مانچو جنرلز کی جانب سے پیش کیا گیا تھا جسے سراہا گیا۔

دوسری طرف کورین مؤرخ ’’کِم ہوڈونگ‘‘ (پیدائش:۱۹۵۴ء) نے یہ خوشنما وضاحت کی ہے کہ ’’اتالیق غازی‘‘ وہ اختلاج قلب کے عارضے کا شکار ہوئے۔

اتالیق غازی کب شہید ہوئے؟ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم معاصر شواہد کی روشنی میں جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ اُن کی شہادت مئی ۱۸۷۷ء کے آخری ہفتے میں کسی وقت ہوئی۔

چینیوں کا انتقام:

اتالیق غازی اور ان کے بیٹے ایشانہ بیگ کی نعشوں کو کاشغرمیں برسرعام جلاکرخاک کردیاگیا ۔چینی فوج کے اس اقدام نے اہل کاشغر کو مشتعل کردیا،اور ایک بار پھر بغاوت پھوٹ پڑی تاہم چینی افواج نے اس تحریک مزاحمت کو زور پکڑنے سے پہلے ہی حاکم خان کی مدد سے کچل دیا۔چینیوں نے اتالیق غازی کے چار بیٹوں اور دوپوتوں کوگرفتار کرلیا ۔ایک بیٹے کا سر قلم کردیا گیا جبکہ ایک پوتا بدترین تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہوا۔ان افراد کے علاوہ اتالیق غازی کے دیگر چار بیٹوں، دوپوتوں ، دو پوتیوں اور چار بیواؤں کے بارے میں خیال ہے کہ یاتو یہ افرادشمال مغربی چین کے ’’صوبے گانسو‘‘ کے مرکز ’’لانژو‘‘ میں دورانِ اسیری انتقال کر گئے یا پھر انہیں بھی چینی فوجیوں نے کسی وقت شہید کردیا۔

۱۸۷۹ء میں اتالیق غازی کے زندہ بچ جانے والے اہل خانہ میں اُن کے بیٹے یما قلی، قاتی قلی، مایتی قلی اور پوتا آئسن اہنگ شامل تھے۔ یہ تمام افراد نابالغ تھے، تاہم انہیں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا اور طے کیا گیا کہ اگر یہ لوگ اپنے والد اتالیق غازی کے ساتھ بغاوت میں شریک پائے گئے تو انہیں درد ناک موت کا سامنا کرنا پڑے گا جب کہ بے گناہ ثابت ہونے کی صورت میں انہیں آختہ (نامرد) کر کے غلام بنالیا جائے گا۔ ۱۸۷۹ء کے عدالتی فیصلے میں اتالیق غازی کے بیٹوں اور پوتے کو بے قصورقراردیا گیا اور یوں انہیں آختہ کرکے شاہی محل کے خدمتگاروں میں شامل کرلیا گیا۔

اتالیق غازی کی شہادت کے ساتھ ہی سلطنتِ کاشغریہ کا بھی خاتمہ ہوگیا۔اور اس پر مانچو سلطنت نے دوبارہ قبضہ کرلیا، بعد ازاں یہ علاقہ جمہوریہ چین کاحصہ قرارپایا۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اتالیق غازی کی سوختہ نعش کاشغر میں دفن کی گئی تھی تاہم ۱۸۷۸ء میں چینی افواج نے ان کی قبرکواس خوف سے مسمار کردیاکہ کہیں یہ قبر مرجع خلائق بن کر مزید ’’بغاوتوں‘‘ کا سبب نہ بنے۔

حواشی:

۱؂ : عام طورپر مقولہ ’’اطلبو العلم ولو بالصین‘‘حدیث کے طور پر بیان کیا جاتاہے۔ واضح رہے کہ یہ جملہ حدیث ہرگز نہیں۔ اسے بیہقی ؒ نے بیان کیا ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے۔ امام ابن جوزی ؒ (متوفی ۵۹۷ھ) نے اپنی کتاب ’’الموضوعات‘‘ میں اسے من گھڑت قراردیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’یہ حدیث رسول اللہ ا سے صحیح سند سے ثابت نہیں۔ اس کے راوی حسن بن عطیہ کو فی کو امام ابو حاتم رازیؒ نے ضعیف قرار دیا ہے اور اسے حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک سے سننے والے راوی ابو عاتکہ کو امام بخاری ؒ ’’منکر حدیث‘‘ (جس کی روایت قابل قبول نہیں) قرار دیتے ہیں جبکہ ابن حبان ؒ کہتے ہیں کہ یہ حدیث باطل ہے جس کی کوئی اصل نہیں (کتاب الموضوعات، ص ۱۵۴۔۱۵۵)

۲؂ خُتن مشرقی ترکستان کا تاریخی شہر ہے، اس کی وجہ شہرت ہرن کی وہ کمیاب نسل ہے جس کے نافے سے مشک پیداہوتا ہے ۔فارسی ادب میں ختن اور آہو ختن کی اصطلاح و استعارہ قریب قریب ہر بڑے شاعر کے ہاں موجود ہے ۔ اس ضمن میں علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں ؂

اے وہ کہ تو مہدی کے تخیل سے ہے بیزار

نومید نہ کر آہوئے مشکیں سے خُتن کو

۳؂ خاناتِ خوقندوسطی ایشیا کی ایک ریاست تھی جس کی بنیاد امیر شاہ رخ نے۱۷۰۹ء میں خانان بخارا سے آزادی کا اعلان کرکے رکھی یہ ریاست ۱۷۰۹ء سے ۱۸۷۶ء تک قائم رہی۔اس کی حدود موجودہ ازبکستان، قازکستان، کرغیزستان اور تاجکستان کے کچھ حصوں پر مشتمل تھیں۔

۴؂ قلعہ آق مسجد۱۸۲۰ء میں خوقند کے علاقے میں تعمیر کیا گیا تھا ،اسے ’’گریٹ گیم ‘‘کے دوران ۱۸۵۳ء میں روسی جنرل ’’واسیلی الیکسی ویچ پرووسکی‘‘ کی قیادت میں تسخیر کیا گیا اور یوں یہ روس کے قبضے میں چلا گیا۔ جس علاقے میں یہ قلعہ تعمیر کیا گیا تھا وہ آج ’’قیزیل اوردا‘‘ شہر کے نام سے جانا جاتا ہے جو موجودہ قازقستان کے اسی (قیزیل اوردا) نام کے صوبے کا صدر مقام ہے۔

۵؂جنگاریہ: اسے زنگاریہ بھی کہتے ہیں۔ یہ سنکیانگ کے نصف شمال پر مشتمل ریاست تھی،جو چین کے شمال مغرب میں واقع تھی،جو کم و بیش ۰۰۰۷۷۷ مربع کلو میٹر پر محیط تھی۔یہ نام اصلاً منگولین زبان کے لفظ ’’Zuun/Juun‘‘ (بایاں) اور ’’Gar‘‘ (ہاتھ) سے مرکب ہے، یہ علاقہ منگولوں کے عہد میں انتظامی اعتبار سے دائیں اور بائیں( مشرقی اور مغربی )حصوں میں تقسیم تھا ، چونکہ یہ علاقہ منگول سلطنت کے بائیں جانب واقع تھا اس لیے اسے Zungar (بائیں ہاتھ) کہا گیا ۔

۶؂:کورلا خود مختار منگول کمشنری /پریفکچر ’’باے اِن گولین‘‘کا دارالحکومت ہے ، یہ چین کی سب سے بڑی کمشنری ہے جس کارقبہ فرانس سے بھی بڑا ہے ،یہاں کی خوشبودار ناشپتیاں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

محترم عبد الخالق بٹ سے abdulkhaliq_butt@yahoo.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

10 تبصرے

  1. ابوشامل says:

    بٹ صاحب، اس بہترین مضمون کے لیے بہت شکر گزار ہوں۔ میں نے اب تک یعقوب بیگ کے بارے میں بہت کم پڑھا تھا، اس مضمون سے کسی حد تک تشنگی پوری ہو گئی۔ بدقسمتی سے عالمِ اسلام کے موجودہ حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ اب کوئی جانتا تک نہیں ہے کہ مشرقی ترکستان کا مسئلہ کیا ہے؟ رہی سہی کسر چین کے ساتھ ”دوستانہ تعلقات“ نے پوری کر دی ہے۔

  2. بہت بہت شکریہ.

    • ابوشامل says:

      منیر بھائی، اب آپ کا شکوہ دور ہو جانا چاہیے کہ ہم اس بارے میں بات نہیں کرتے 🙂

      • کرک نامہ کی ایک تحریر کے بعد اب اس تحریر سے اندازہ ہوا کہ آپ لکھتے وقت واقعی لوگوں کے خیالات کو ذہن میں رکھ کر جواب دیتے ہیں.
        نوازش. شکریہ.

  3. علی says:

    بہت عمدہ
    لاجواب

  4. سعود says:

    بہت معلوماتی مضمون ہے . آج بھی سنکیانگ کے عوام چینیوں کو اپنے اوپر قابض سمجھتی ہے اور ان سے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں. نتیجتاً چینی حکومت بھی ان سے تعصب برت رہی ہے اور نسلی طور پر مختلف "ہن" چینیوں کی سنکیانگ میں آبادکاری دھڑا دھڑ کر رہی ہے. ویغر عوام کو ان کی زبان اور ثقافت سے دور کیا جا رہا ہے. ذریعہ تعلیم صرف چینی زبان ہے جس کی وجہ سے ویغر عوام کی اکثریت پسماندہ اور انپڑھ ہے. اہم سرکاری عہدے اکثر چینیوں کے پاس ہیں. سونے پے سوہاگہ کہ یہ علاقہ معدنیات کی دولت سے بھرا پڑا ہے. نتیجتاً چند سال قبل ارمچی ( سنکیانگ کا دارلحکومت ) میں خوں ریز فسادات ہوئے. جبکہ امریکا اس چپقلش کو تیل دیکھا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے.

    مستقبل میں پاکستان کے لیے یہ مسلہ یقیناً انگاروں پر چلنے جیسا ہی ہو گا .

    • مستقبل میں کہاں جناب، پاکستان کی "متعلقہ" قیادت پہلے ہی اس انگاروں پہ چلنے والے کام سے تائب ہو چکی ہے. آپ تسلی رکھیں. کچھ نہیں ہونے والا. ہاں اگر غیر ملکی طاقتوں نے چین میں ریشہ دوانیوں کا سوچا تو یہ جگہ بہت مناسب رہے گی، اسلام کا نام استعمال کر کے بے گناہوں کو مروا کر اپنا مطلب نکالنے کے لئے. جیسا کہ شیشان و داغستان میں ہوا.

  5. فیصل says:

    میری ناقص رائے میں نہایت گاڑھی تحریر ہے
    🙂
    اگر اس مضمون کو تین یا چار حصوں میں شائع کیا جاتا تو شاید کچھ سمجھ آتی، خصوصا ہم جیسے تاریخ سے ناواقف اور کم پڑھے لکھے لوگوں کو۔ برادر ابو شامل کے تبصرے سے اندازہ ہوا کہ یہ تحریر مشرقی ترکستان کے مسئلے پر ہے جبکہ بندہ اسے کسی تاریخی شخصیت کی سوانح سمجھ کر پڑھ رہا تھا، جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس مسئلے کی عصر حاضر میں کیا حیثیت ہے، اس جانب بھی کوئی اشارہ نہیں۔ یہ بھی کہ موجودہ منگولیا، تبت، وغیرہ کی کیا رائے اور حیثیت ہے اور اقوام عالم کیا کہتی ہیں، خصوصا یو این کے پلیٹ فارم پر۔
    معافی چاہتا ہوں اگر تبصرہ ناگوار گزرے تو۔

  6. اپنی ہی تاریخ سے ناواقف خوابیدہ امت کیلئے انتہائی معلوماتی تحریر۔
    اس تحریر کے لکھاری محترم عبدالخالق بٹ صاحب کو سلام پیش کرتا ہوں اور شئیر کرنے پر عزیزی فہد صاحب کا ممنون ہیں ۔ ۔ سدا خوش آباد و خوش مراد

  7. Zill-e-Ahmed says:

    incredible article but'sab the article is so complicated that you need a detailed map / maps to completely grasp the magnitude of the happening but yet so simply written can finish it with out a pause. I loved the subject because this part of our history it unavailable to common knowledge .... love what you have dont, we will have to sit together latter with a large map and have a long talk ( insahallah)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.