مودودی دا کھڑاک

تحریر: زبیر انجم صدیقی

یہ نگارشات لکھنے کا محرک بی بی سی اردو پر آٹھ فروری کو شائع ہونے والا محمد حنیف کا بلاگ بنا ہے جس کا عنوان ہے ’’مودودی دا کھڑاک‘‘۔ میں خود بھی محمد حنیف کےاسلوب تحریر کا مداح ہوں اور ان کے بعض واقعات پر لکھے گئے کالم انتہائی شاندار ہیں جن کا مشاہدہ بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ پر جا کر کیا جا سکتا ہے۔ ۔مگر ان کے اس مضمون نے ہمارے قلم کاروں ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک خامی کو بے نقاب کیا ہے۔ اور وہ ہے تحقیق و اکتشاف سے جی چرانا اور صلاحیتوں اور کاوشوں کو سہل کاموں تک ہی محدود رہنا۔ میرا مقصود ان انگارشات میں حنیف صاحب یا کسی بھی شخصیت کو موضوع بنانا نہیں ہے بلکہ اس معاملے پر بات کرنا ہے جس کی نشاندہی محمد حنیف کا بلاگ پڑھ کر ہوئی ہے اسی لئے نمونے کے طور پر انہی کے کالم کا ایک حصہ ملاحظہ فرمایئے:

خدا کے لیئے فلم سے زیادہ ایک قوم کی پکار ہے جس میں ہر ایک کو بظاہر اپنا چہرہ دکھائی دیا، اپنے دل کی دھڑکن سنائی دی۔اس فلم کا سب سے مقبول ڈائیلاگ وہ ہے جو ہندوستانی اداکار نصیر الدین شاہ کمرہ عدالت میں کہتے ہیں۔
'داڑھی اسلام میں ہے، اسلام داڑھی میں نہیں۔'
یہ ڈائیلاگ جماعت اسلامی کے بانی حضرت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا لکھا ہوا ہے۔ اور جب نصیر الدین شاہ اپنی پیٹ تک آئی داڑھی کو سہلا کر یہ ڈائیلاگ بولتے ہیں تو سینما ہال میں دیر تک تالیاں بجتی ہیں۔ راقم کو کبھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ تالیاں اسلام کے لیے بج رہی ہیں، داڑھی کے لیے، ان کے باہمی آسان تعلق کے لیے یا پھر نصیر الدین شاہ کے لیے۔ کیونکہ راقم یہ سوچنے لگتا ہے کہ ہماری ہی زندگی میں یہ کیسے ہوا کہ ناصر ادیب کی بجائے ہمارے پاپولر ڈائیلاگ رائٹر حضرت مودودی قرار پائے

محمد حنیف کا مکمل بلاگ یہاں ملاحظہ کیجیے

جن لوگوں نے بی بی سی اردو پر محمد حنیف کا مذکورہ بلاگ پڑھا ہے ان پر یہ واضح ہو جائے گا محمد حنیف مولانا مودودی کے نظریات و افکار شدید اختلاف رکھتے ہیں یا ناپسند کرتے ہیں اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے ۔ہر کسی کو کوئی بھی رائے رکھنے اور اس کا ابلاغ لوگوں تک کرنے کا حق حاصل ہے۔

حنیف صاحب نے مودودی کے بارے اپنی رائے کا اظہار ان کی بھد اُڑانے کے انداز میں کیا ہے۔ وہ ایک اچھا مزاحیہ کالم ضرور ہے۔ مجھے بھی یہ کالم پڑھ کر بہت مزہ آیا ہے خاص طور پر عنوان ’’ مودودی دا کھڑاک ‘‘ کا جواب نہیں ہے۔ مگر میں صرف یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مودودی صاحب کے افکار کا مقابلہ مزاحیہ کالموں اور لطیفوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے سنجیدہ تحقیقی اور علمی کام کیا ہے جس سے صرف پاکستان ہی کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں لوگ براہ راست واقف ہیں۔ جن تحریر کردہ کتابوں کی تعداد ساٹھ سے زائد ہے اور ان کا دنیا کی چھیالیس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ جو فکری کام مولانا مودودی نے کیا ہے وہ بالکل اسی سطح کا ہے جو بیسویں صدی میں ان کے ہم عصر علامہ اقبال ، ڈاکٹر علی شریعتی اور سید قطب کر چکے ہیں۔ اگر آپ مودودی کے نظریات کو غلط سمجھتے ہیں تو فکری اور نظری دلائل کے ذریعے ان کا جواب پیش کریں۔ اور ان کے افکار کو غلط ثابت کر کے وہ ’’سحر‘‘ توڑ دیں جو انہوں نے پاکستان اور بیرون ملک کے لکھوکھا ذہنوں پر طاری کر رکھا ہے۔

جس وقت مولانا مودودی نے تحریر و تصنیف کا آغاز کیا اس وقت روس میں سرخ انقلاب آچکا تھا اور کارل مارکس کا معاشی و سیاسی نظریہ چہار دانگ عالم میں ذہنوں کو اپیل کر رہا تھا۔ دنیا کے کئی ملکوں میں اشتراکیوں نے تختے الٹ دیئے تھے اور پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک میں اشتراکی تحریکیں موجود تھیں۔ اس لئے کہ کمیونزم ایک جامد اور مجرد نظریہ نہیں تھا بلکہ اپنے جلو میں ایک مکمل سیاسی و معاشی نظام لئے ہوئے تھا جس کا عملی تجربہ بھی ہو چکا تھا۔ اس وقت مولانا مودودی نے اشتراکیت اور سرمایہ داری کی مخالفت محض کمیونسٹ اور اشتراکی شخصیت کی بھد اڑا کر نہیں کی بلکہ کارل مارکس اور اینجل کے سارے کام کا جائزہ لکھ کر اس کو فکری اور نظری اعتبار سے رد کیا اور اس کے مقابلے میں اسلام کا معاشی اور سیاسی نظریہ اس طرح پیش کیا کہ اسلام کاوہ سیاسی نظام جو کئی صدیوں سے عملاً کہیں موجود نہیں ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کے متبادل اور زیادہ بہتر تصور کے طور پر واضح ہو گیا۔ اگر وہ چاہتے تو وہ بھی کارل مارکس اور اشتراکی حکومتوں اور ان کے نظریات کی بھد اڑا سکتے تھے مگر ان ہتھکنڈوں سے مزاح تو پیدا کیا جاسکتا تھا مگر سوشلزم اور کمیونزم کے افکار کامقابلہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ علامہ اقبال کی مثال ہی کو لے لیں وہ فلسفے کے طالب علم ہوئے، انہوں نے بھی مغربی مفکرین کی بھد اڑانے جیسے سہل کام کرنے کے بجائے Reconstruction of Religious Thoughts in Islamجیسا شہرہ آفاق مقالہ لکھ کر اپنے فلسفے کی عمارت اس طرح تعمیر کی کہ کانت، نطشے، ہیگل ، برکلےاور گوئٹے جیسےمغربی فلسفیوں کے فلسفے کے پرخچے اڑا دیئے۔ انہوں نے افکار و نظریات کا مقابلہ افکارو نظریات ہی سے کیا۔ کسی بھی ذہن میں کوئی رائے حتمی نہیں ہوتی آپ اس سے اچھی رائے اور خیال پیش کریں وہ اس رائے کا قائل ہو جائے گا۔

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیئے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا

کیونکہ بھد اڑانے سے مزاح تو پیدا ہو سکتا ہے مگر افکار کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ، افکار کا مقابلہ افکار کرتے ہیں ، نظریات کی جنگ نظریات ہی سے جیتی جا سکتی ہے ، بالکل اسی طرح جیسے کہا جاتا ہے کہ نظام کا متبادل نظام ہی ہوسکتا ہے انارکی نظام کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ کسی ٹھوس اور علمی کا م کا جواب طعن و طنز سے کرنے سے خود اپنا ہلکا پن ہی نمایاں ہوتا ہے۔ اور یہ پیغام جاتا ہے کہ جواب دینے والا اپنی بات میں کوئی سنجیدہ ، علمی اور تعمیری پیغام نہیں رکھتا۔ محسن انسانیتﷺ میں نعیم صدیقی کیا خوب لکھتے ہیں:

جو لوگ خود کوئی تعمیری نصب العین نہیں رکھتے وہ کسی تعمیری کام کو محض اس لئے نہیں ہونے دینا چاہتے کہ کہ ایسا ہونے سے خود ان کا کھوکھلا پن دنیا کے سامنے نمایاں ہونے لگتا ہے

ہمارا معاشرہ کیونکہ تحقیق و اکتشاف سے جی چرانے والا اور سہل پسند ہے اس لئےہمارے لکھاری بھی اپنی تحریروں میں اس مرض کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ صرف محمد حنیف ہی پہ کیا موقوف تمام اخبارات کے کالمز اٹھا کر دیکھ لیں کہ کتنے کالم نگاروں نے سنجیدہ معاملات کو اپنے کالم کا موضوع بنایا ہے۔ بقول اقبال:

یہ اک مرد تن آساں تھا، تن آسانوں کے کام آیا

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

25 تبصرے

  1. بلا شبہ افکار کا مقابلہ افکار ہی کر سکتے ہیں محض کسی کی ہنسی اُڑا دینے سے آپ اُس کے افکار کو رد نہیں کر سکتے . پھر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ مودودی صاحب کا علمی کام انتہائی قابلِ قدر ہے .کچھ اور نہ بھی ہو تو اُن کا تفسیرِ قران کا کام ہی بڑی اہمیت کا حامل ہے.

  2. میرے آپ کے کچھ کہنے لکھنے سے ایک مخصوص اقلیت کی فکر اور نمائیندگی رکھنے والوں کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا ۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ مکر وفریب اور غلط بیانی کا بھونڈاسلسلہ "مزاح" کے نام پہ جاری رہے گا۔

    مولانا مورددی رحمتہ علیہ یا سلام کے کسی بھی اس عالم دین جس نے قادیانیوں کو کافر قرار دلوانے کی کوشش کی ہے ان لوگوں سے آج تک ہضم نہیں ہو پارہی ، اسلئیے یہ سنگ تراشی آئیندہ بھی جاری رہے گی ۔

    لکھنے والوں میں آج کل ایک ایسہ طبقہ وجود میں آچکا ہے جو محض اپنے مادی اور اپنی سرکولیشن بڑھانے کے لئیے ٹھوس بنیادوں پہ طے شدہ یا ماضی میں دفن ہر بات کو متنازع بنا کر پیش کرنا ضروری سمجھتا ہے اور ایسے کام انہائی شاطرانہ ، عیار اور چالاک لوگ سائیسی طریقے سے کر رہے ہیں۔

    " کہ کیا نام نہ ہوگا گر بدنام ہوئے تو۔؟"

  3. میں نے یہ کالم پہلے پڑھ رکھاتھا، بس جناب بی بی سی کے بلاگرز کے کیا کہنے
    چن چن کر ایسے گدھے بلاگر رکھے ہوے ہیں، جو چراغ لے کر بھی ڈھونڈیں تو نہ ملیں۔ انہوں نے پتہ نہیں کیسے ڈھونڈ لیے۔

  4. فرحان ظفر شاہ says:

    Well written Zubair

  5. مجھے آپ کی رائے سے مکمل اتفاق ہے۔تا ہم میں اتنا اضافہ ضرور کرنا چاہوں گا کہ دوسروں کی گمکردہ منزلوں کی تلاش کے لئے اپنے سفر کا قیمتی وقت ضائع نہ کریں۔کرنے کو اور بھی خاصے کام ہیں۔
    اس کا قطعی یہ مطلب نہ لیا جائے کہ آپ نے جو کیا وہ نہ کرنا چاہئے تھا بلکہ اسے یوں سمجھا جائے کہ اس طرح کے مفید سلسلے کو متعلقہ مقام پر شائع کرنے کی کوشش کی جائے تا کہ زہر کا علاج بھی متاثرین کو وہیں سے دستیاب ہو سکے جہاں سے خڑابی پائی تھی۔

  6. قیصر محمود says:

    اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں
    خود نہیں رکھتے جو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ

  7. جعفر says:

    قادیانیوں والی بات بالکل ٹھیک لکھی
    ان کا پروپیگنڈہ بھی یہودیوں کی طرح بہت پیشہ وارانہ ہوتا ہے.
    بی بی سی نے اس بلاگ پر میرے تبصرے کو بھی ایسے شائع کیا کہ اس کا مطلب ہی کچھ کا کچھ ہوگیا.
    وہ ہمارے "جید علما کرام" بھی اک مودودی سو یہودی کے نعرے لگایا کرتے تھے.... یہاں پہنچ کر دو رکعت کے امام اور شام ڈھلنے کے بعد روشن خیال بالکل ہم خیال ہوجاتے ہیں...
    ایک اور بات... یہ آزادی فکر کی ہر تحریک آزاد جنسی تعلقات کی اتنی حمایت کیوں کرتی ہے؟؟؟؟؟

  8. اسید says:

    بہت عمدہ جواب دیا ہے زبیر بھائی آپ نے، اس کا لنک اس بلاگ پر بھی دے دیا جائے تو اچھا ہے کہ لیجئے جناب اس کا جواب بھی ملاحظہ کر لیجئے۔۔ ۔
    ویسے
    "بی بی سی" کے بلاگ سے اور امید بھی کیا رکھی جا سکتی تھی ا س کے علاوہ۔۔ ۔

  9. عبداللہ says:

    یہ جان کر خوشی ہوئی کہ جب اپنی رگ دبتی ہے تو لوگ ذیادہ ذہن کھول کر سوچنا شروع کردیتے ہیں:)

  10. میرا خیال ہے محمد حنیف کا یہ بلاگ اس قابل نہیں تھا کہ اتنے سارے لوگ اس پر اپنا وقت ضائع کرتے۔

  11. Well written!!! says:

    A very fine rebuttal Zubair. Well done. While you have pointed out this disease to be common in our society, I will be blunter and accuse the leftists, secularists and liberals (and similar species), who have always used this theatrical and humorous approach against Islam and Muslim thinkers. And with their hollow heads, they have played havoc with the nation for decades. The sad part of the rightist ideological forces is that it produces Maududi-like men once in decades, but the good part is that once such a Maududi is born, his thoughts haunt the leftists for eternity.
    As bias as they are, they have been using the media to propagate their weak viewpoints.
    Once again, thumbs up to you!!!

  12. خرم says:

    مودودی صاحب یقیناً ایک انداز فکر کے داعی تھے۔ ان کے نظریات سے اختلاف کے باوجود ان کے تبحر علمی سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہر ہما شما کو ان کی برابری کی ہی دعویداری زیبا ہے برتری تو چیزے دیگر است۔ مجھ ناچیز کی رائے میں تو یہ ایک اجتہادی مسئلہ تھا۔ مودودی صاحب کا ایک نقطہ نظر تھا، یقیناً بہت سوں سے الگ تھا لیکن اس کی بنیاد میں کوئی خبث باطن نہیں موجود تھا۔ علمی اختلاف تو نظریاتی ارتقاء کے لئےمفید ہوتا ہے۔ ہمارے ایک دوست کہا کرتے ہیں کہ مودودی صاحب نے دراصل اس طبقہ کو اسلام کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی جو مغرب زدہ یا اشتراکیت سے متاثر تھا۔ اس طبقے کو روایتی طریقوں سے دین کی طرف مائل نہیں کیا جاسکتا تھا سو مودودی صاحب نے انہیں اس زبان اور لہجے میں مخاطب کیا جس سے یہ لوگ متاثر تھے اور اس مقصد کے لئے انہوں نے “عقلیت“ کا استعمال لیا جس کا سہارا لے کر غربی مفکرین اسلام پر وار کررہے تھے۔ میرے ناقص خیال میں یہ بات کافی حد تک درست ہے۔

  13. عبداللہ says:

    مودودی صاحب نے تفہیم القرآن لکھ کر بر صغیر پاک و ہند کے عوام تک قرآن کا پیغام ان کی ذبان میں پہنچانے کی سعی کی اور الحمدللہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہے اللہ ان کے درجات بلند فرمائے آمین

  14. محمد عثمان خان, برطانیہ says:

    جناب محمد حنیف (وڈے پینڈو صاحب) کی خدمت میں علامہ اقبال کا ایک بہترین شعر پیش کیا جاتا ہے جو اُن کی شخصیت پر پورا اترتا ہے۔۔

    تیرا وجود سراپا تجلئ افرنگ ، کہ تو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیر
    مگر یہ پیکر ِ خاکی خودی سے ہے خالی ، فقط نیام ہے تو زر نگا رو بے شمشیر

    آداب عرض ہے ۔ ۔ ۔

  15. بہت اچھی تحریرہے اورمحمد حنیف کی تحریرکا بہترین جواب۔

  16. ظفر اقبال says:

    حنیف صاحب نے مودودی صاحب پر جس سطح پر آکر گفتگو شروع کی ہے وہ ان کی سنجیدگی کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔۔ویسےحنیف صاحب اب اتنے سطحی بھی نہین ہیں۔داڑھی کو سب کچھ سمجھنے کے حوالے سے مودودی صاحب کے دئیے گئے جواب کا حوالہ دے کر انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ معلومات میں نہیں تجزیہ کے انداز میں ہی ہلکے پن کے قائل ہیں۔ایک نئی جہت کو متعارف کروایا ہے جناب نے۔ ان کا اسکول آف تھاٹ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ضروری نہیں قومی امور میں ہمیشہ سنجیدہ ہی رہا جائے۔ ویسے مودودی صاحب کے “ڈائیلاگز” کو نصاب اور کتابوں میں دیکھ کر تکلیف کا اظہار کرنے والوں کی “عالمی” اور وسیع تحریک کے ارکان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ مودودی اور اقبال جیسوں کی بیشتر باتیں چربہ ہیں۔وہی پرانی داستانیں۔اساطیرالاولین۔بعض تو ہو بہو قرآن اور حدیث کا ترجمہ ہیں۔ خدا گواہ ہے۔یقین نہ آئے تو قرآن حدیث اٹھا کر دیکھ لیں۔ آزمایش شرط ہے.

    • ڈاکٹر صاحب آپ کو یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ ویسے حنیف صاحب کے اگلے بلاگز نے یہ بات ثابت کر دی کہ وہ صرف بغض کے قائل ہیں دلیل کے نہیں۔

  17. تلخابہ says:

    زبیر بھائی آپ نے بڑا اچھا اور مثبت جواب دیا ہے ۔ جزاک اللہ
    لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی اصلیت بھی سامنے آنی چاہیے۔
    ان کے جماعت اسلامی سے بغض کی وجہ سامنے ہے۔ جماعت اسلامی کو سرخوں کے قبلے و کعبہ سویت یونین کو گرانے کا کریڈیٹ جاتا ہے۔ خود سرخوں کی لاش اب گل سڑ چکی ہے اور اس میں سے تعفن اُٹھنے لگا ہے ۔ اس کی بدبو حنیف صاحب کے اس بلاگ کی شکل میں سامنے آئی ہے ۔

    لوگوں کو پتا ہونا چاہیے کہ ماضی کے سرخے آج بڑے بڑے ابلاغی گروہوں میں مالکان کے مشیر بنے بیٹھے ہیں۔ ان کا ’’ایجنڈا‘‘تبدیل ہوگیا ہے ۔ کسی نے سوال کیا کہ’’ استعمار‘‘ کے یہ دشمن ملازمین کے لئے آواز اٹھانے کے بجائے مالکان کے ساتھ کیوں نظر آتے ہیں؟ اس پر ایک اور صاحب نے جواب دیا کہ یہ ’’کسوٹی والے‘‘ اور زندگی کے ’’شام‘‘ ہونے والے سرخے کیمونسٹ نہیں رہے آپرچونسٹ ہوگئے ہیں۔ ان کی یہی آپرچونزم ان کو امریکا کے گود میں لے گئی ہے۔ اگر اپنے ( یعنی سرخوں‘‘ اوپر بلاگ لکھیں تو بہت اچھا لکھ لیں گے۔

    ویسے میں حنیف صاحب کو مشورہ دیا ہے کہ ایک اسکرپٹ لکھیں۔
    سلطان رہی تو نہیں رہے لیکن مولا جٹ کے کردار آج بھی ’’اوے جاگیرداراں ‘‘ کہہ کر ’’کسی‘‘ کو للکار رہے ہیں۔

    یہاں ایک واقعہ بیان کروں تو غیر متعلق نہیں ہوگا۔ میں کسی زمانے میں ٹی وی پروڈکشن پڑھ رہا تھا۔ کلاس کے احتتام پر ٹی وی پر ڈاکیومنٹریز اور کسوٹی (اوپر جن صاحب کا تذکرہ کیا ہے وہ الگ ہیں) کی شہرت رکھنے والے نے میرے ہاتھ میں ایک کتاب دیکھ لی۔ کتاب لی تو چند سیکنڈ ز میں ایسے واپس کردی جیسے ان کو کرنٹ لگا ہو۔ وہ کتاب مولانا کی تصنیف ’’تنقیحات ‘‘ تھی۔ ان لوگوں کا یہ عالم ہے ۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ انہوں نے مولانا کو کتنا پڑھا ہوگا؟

  18. باذوق says:

    دلی بغض کی آڑ میں تحریر کردہ مزاحیہ مضامین کا محاکمہ بھی بعض اوقات ضروری ہوتا ہے. آپ کا شکریہ بھائی ابوشامل کہ آپ نے حق ادا کر دیا. جزاک اللہ خیر.

    • تحریر کو پسند کرنے کا شکریہ باذوق لیکن یہ میری تحریر نہیں بلکہ بلاگنگ میں میرا ساتھ دینے والے دوست زبیر انجم کی ہے۔ وہ میرے بلاگ پر وقتا فوقتا لکھتے رہتے ہیں۔

  19. بھایئو حنیف صاحب تو صرف مودودی کے پاکستان اور جناح کے پاکستان کا موازنہ کر رہے ہیں۔ یہی تضاد تو سب مسائل کی جڑ ہے۔

    مودودی جیسے بھی صاحب علم ہوں، بالآخر تنگ نظر اور شدت پسند تھے۔ ان کی اسلامی تبلیغ میں شمشیر کی ضرورت دیکھ کر موجودہ حالات میں ان کے کردار کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔

  20. ڈفر says:

    میں نے تو بی بی سی پہ تبصرہ کرناہ ی چھوڑ دیا
    مجھے لگتا ہے میں وہان بلیک لسٹ ہو گیا ہوں

  21. abu.ukashah says:

    السلام علیکم !
    بہت شکریہ زبیر
    میرا نہیں خیال ہے کہ سستی شہرت حاصل کرنے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ ہو سکتا ہے ـ

  22. کفایت says:

    جزاک اللہ
    اصل میں مولانا مودودی نے جس تناظر میں یہ بات کہی تھی، اس کا پس منظر اور سیاق و سباق اور تھا، حنیف صاحب نے اس کو خدا کیلئے فلم میں فٹ کردیا ، یہ تو صریح بد دیانتی ہے ... فلم خدا کیلئے کا مقصد اور پیغام بالکل دوسرا ہے اور حنیف صاحب نے مودودی صاحب کو عوام میں اور گندا کرنے کیلئے ان کی لکھی بات کو خدا کیلئے سے جوڑ دیا ...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.