سقوط کریمیا: مسلم ہولوکاسٹ - قسط 1

[[وسط ایشیا]]، [[قفقاز]]، وولگا-یورال و [[کریمیا]] کی وادیوں کے مسلم اکثریتی علاقوں کا روسی غلامی میں جانا "تاریخ ملت اسلامیہ" کا ایک المناک باب ہے۔ یہ علاقے مسلم اکثریت کے حامل تھے اور کئی علاقوں میں تو اب بھی مسلمانوں اکثریت میں ہیں لیکن اسلامی علوم کی ترویج میں ان علاقوں نے قرون وسطیٰ میں جو کردار ادا کیا اس کے باعث ان علاقوں خصوصاً [[وسط ایشیا]] کو بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی ۔ جہاں [[بخارا]] و [[سمرقند]] جیسے عظیم تہذیبی و ثقافتی مراکز تھے جو اسلامی علوم کا منبع تھے۔
ملوکیت کے جابرانہ عہد کے خاتمے کے بعد گو کہ [[سوویت یونین|سوویت]] عہد میں مسلم اکثریتی علاقوں میں علاقوں میں بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی ہوئی اور مسلمانوں کا معاشی استحصال اس پیمانے پر نہیں ہوا جتنا نوآبادیاتی دور میں دیگر مسلم مقبوضہ علاقوں میں [[برطانیہ]]، [[اٹلی]]، [[فرانس]] و دیگر قوتوں نے کیا لیکن یہ معاشی ترقی مسلمانوں کو اپنی شناخت اور ثقافت کے بدلے میں ملی۔ اس کے علاوہ [[سوویت یونین|سوویت اشتراکی عہد]] کا ایک کریہہ باب [[جوزف اسٹالن]] کا دورِ حکومت تھا جس میں دیگر اقوام کی طرح [[مسلمان]] بھی ظلم کی چکی میں بری طرح پسے۔
اشتراکی روس کیونکہ ایک 'بند معاشرہ' تھا اس لیے وہاں اقلیتوں یا مختلف نسلوں پر ہونے والے مظالم کے بہت کم اعداد و شمار ہی منظر عام پر آئے۔ حقیقتاً اشتراکی عہد میں ہونے والے مظالم "[[مرگ انبوہ|ہولوکاسٹ]]" سے بھی بھیانک تھے لیکن وہ آج بھی اقوامِ عالم کی نظروں سے اوجھل ہیں یا ان سے جان بوجھ کر صرفِ نظر کیا جاتا ہے، شاید اس لیے کہ وہ مسلمانوں کا لہو تھا جو بہت ارزاں ہے۔
بہرحال اشتراکی عہد میں جو اقوام بدترین ظلم و جبر کا نشانہ بنیں ان میں کریمیا کے وہ تاتاری مسلمان بھی شامل تھے جو صدیوں سے [[جزیرہ نما کریمیا]] کے باسی تھے۔ کریمیا کا جزیرہ نما [[بحیرہ اسود]] کے شمالی ساحلوں پر واقع ہے اور آجکل خود مختار ریاست کی حیثیت سے [[یوکرین]] کا حصہ ہے۔
اس مضمون میں ہم کریمیا اور کریمیائی تاتاریوں کی مختصر تاریخ کا جائزہ لیں گے اور اگلی قسط (یا اقساط) میں زار اور اشتراکی عہد میں ان کی حالتِ زار اور موجودہ صورتحال پر ایک نظر ڈالیں گے۔ امید ہے یہ مضمون ہولوکاسٹ، روس میں مسلمان، جوزف اسٹالن کے عہد اور سقوط سوویت یونین کے بعد قائم ہونے والے مسلم ممالک کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے نئی معلومات کا حامل ہوگا۔

کریمیا کی مختصر ابتدائی تاریخ

"جزیرہ نما کریمیا" ازمنہ وسطٰی(Middle Ages)سے مئی 1944ء تک کریمیائی تاتاری باشندوں کا وطن رہا ہے۔ کریمیائی مسلمان کا تعلق ترک اقوام کے اُس گروہ سے تھا جو 13 ویں صدی میں [[باتو خان]] کے [[لشکر زریں]] (Golden Horde)کا حصہ تھے اور پھر انہوں نے کریمیا کو اپنا وطن بنایا۔ کریمیائی تاتاری سنی مسلمان ہیں اور [[ترکی زبان]] کا ایک لہجہ "قپچاق ترک" بولتے ہیں۔

ریاست کا قیام

پندرہویں صدی کے وسط میں یہاں کے مسلمان ایک زبردست قوت کے طور پر ابھرے اور 1428ء میں انہوں نے ایک ریاست قائم کی جو [[ریاست خانان کریمیا|ریاستِ خانانِ کریمیا]] کہلاتی تھی۔ اِسے انگریزی میں Crimean Khanate کہتے ہیں۔ یہ ریاست 1478ء میں [[سلطنت عثمانیہ]] کے زیرِ نگیں آ گئی اور 1772ء میں روسی قبضے تک عثمانیوں کی زیرِ سیادت رہی۔

عثمانیوں کے زیر نگیں

سلطنت عثمانیہ کی سیادت میں جانے کے باوجود کریمیائی تاتاریوں کی ریاست کی حیثیت باجگذار کی نہیں تھی، بلکہ بابِ عالی (یعنی سلطنت عثمانیہ) اور خانان کے درمیان بہت خوشگوار تعلقات قائم ہوئے، منتخب سلطان کو [[قسطنطنیہ]] سے منظوری تو لینا پڑتی تھی تاہم وہ عثمانیوں کا مقرر کردہ نہیں ہوتا تھا۔ خانان کو اپنا سکہ چلانے اور جمعہ کے خطبے میں اپنا نام شامل کرنے کی بھی مکمل اجازت تھی، جو ان کی خود مختاری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ عثمانی عہد خانانِ کریمیا کا زرّیں دور (Golden Age) تھا خصوصاً عسکری طور پر کوئی قوت ان کا سامنا نہیں کر سکتی تھی۔ کریمیائی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پانچ لاکھ فوجیوں کا لشکر بھی میدان میں اتارنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہ ریاست بلاشبہ 18 ویں صدی تک مشرقی یورپ کی بڑی قوتوں میں سے ایک تھی۔

تاتاری مسلمانوں کی تاریخ کا کریہہ باب

کیونکہ اسلامی تعلیمات اِن تاتاری مسلمانوں کی زندگیوں میں اچھی طرح راسخ نہ تھیں اس لیے انہوں نے اپنی اِس قوت کا ناجائز حد تک فائدہ اٹھایا۔ وہ محض غلاموں کے حصول کے لیے روس اور پولینڈ کے علاقوں پر حملہ کرنے میں بھی تامل نہ کرتے، پھر ان غلاموں کو فروخت کر کے دولت سمیٹتے۔ یہ تاتاری مسلمانوں کی تاریخ کا ایک کریہہ باب ہے اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والے تاثر کے باعث ہی اشتراکی عہد میں جب ان پر مظالم ڈھائے گئے تو ان کے حق میں کوئی آواز نہ ابھری۔ تجارت کے علاوہ غلاموں کی واپسی کے لیے روس اور پولینڈ کی ریاستوں سے تاوان بھی وصول کیا جاتا تھا۔ یعنی انہوں نے غلاموں کی تجارت اور تاوان کی وصولی کو باقاعدہ معیشت بنایا ہوا تھا۔

کریمیائی تاتاریوں کی خدمات

اس امر کے باوجود کریمیائی تاتاریوں کی اسلامی علاقوں کے لیے سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے عرصۂ دراز تک مسلم علاقوں کی جانب روس اور پولینڈ کی پیش قدمی کو روکے رکھا اور شمالی جانب سے اسلامی سرحدوں کی بھرپور حفاظت کی۔ ان کی بھرپور قوت سے علاقے میں طاقت کا توازن برقرار رہا اور جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو طاقت کا یہی توازن بگڑا اور روس بپھرے ہوئے ریچھ کی طرح دولتِ اسلامیہ پر ٹوٹ پڑا۔
اس ریاست کا ایک اور کارنامہ یہ تھا کہ اس نے محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل بحیرہ اسود میں طویل عرصے تک روسی اثر و رسوخ نہ بڑھنے دیا اور روس اور بحیرہ اسود کے درمیان ایک بہت بڑی رکاوٹ بن گئی۔ تجارت کو پھیلانے کے مواقع اور عسکری توسیع کی اسی خواہش نے روس کو کریمیا پر قبضہ کے لیے پرکشش بنادیا تھا۔ اسی لیے سترہویں صدی کے اواخر میں روس نے یہاں دو مرتبہ قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا البتہ اٹھارہویں صدی کے بالکل اوائل میں کچھ عرصہ کے لیے انہوں نے ایک اہم بندرگاہ پر قبضہ بھی کر لیا لیکن وہ زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکا۔

روسی قبضہ

دوسری جانب سلطنت عثمانیہ کے تیز تر زوال کے باعث روسی سلطنت کو یہ سنہری موقع ملا کہ وہ تجارتی و عسکری توسیع کے لیے موقع سے فائدہ اٹھائے اور خانان کریمیا کی ریاست کو کچل دے۔ [[ترک-روس جنگیں|ترکی اور روس کے درمیان ہونے والی جنگوں کے سلسلے ]] (Russo-Turkish Wars)کےدوران ایک معاہدہ ([[معاہدۂ کوچک کناری]]) طے پایا جس کے تحت کریمیا کی ریاست عثمانی اثر سے باہر نکل گئی البتہ اس پر روسی سیادت قائم نہیں ہوئی لیکن چند ہی سالوں بعد ملکہ کیتھرائن اعظم نے سلطنت عثمانیہ سے کيے گئے تمام معاہدے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 1783ء میں کریمیا کو روس میں شامل کر لیا۔

مسلمان اقلیت بن گئے

اس فتح کے بعد کریمیا میں کچھ اس طرح کی صورتحال پیدا ہو گئی کہ محصولات میں زبردست اضافے، مذہب کی جبری تبدیلی اور غیر مقامی باشندوں کی آبادکاری کے باعث مسلمانوں کا وہاں دوبھر ہو گیا اور پھر اُن کی اکثریت سلطنت عثمانیہ کے مختلف علاقوں کی جانب ہجرت کر گئی۔ اِس نقل مکانی کا نتیجہ یہ نکلا کہ زار کے عہد میں ہی میں کریمیا میں مسلمان اقلیت میں بدل گئے۔

سقوط کریمیا، سقوط غرناطہ جیسا عظیم سانحہ

معروف مؤرخ ثروت صولت [آپ پاکستان میں ترکی زبان پر عبور رکھنے والے معدودے چند لوگوں میں سے ایک ہیں] اپنی کتاب "ترکی اور ترک" میں لکھتے ہیں کہ کریمیا پر روسی قبضے کے بعد آبادی کا تناسب انتہائی تیزی سے بدلنا شروع ہو گیا۔ پہلے زمینوں پر جبری قبضے اور روسی آبادی کی آبادکاری کو کامیاب بنانے کے لیے مسلمانوں کی زمینوں پر جبری قبضہ کیا گیا اور مزاحمت کرنے والے 30 ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ اس صورتحال میں وہاں آباد تاتاری باشندے ہجرت پر مجبور ہو گئے اور روسی قبضے کے محض 6 سالوں میں تین لاکھ تاتاریوں کو عثمانی سلطنت کے علاقوں کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ آپ مزید لکھتے ہیں کہ 1860ء میں حالات ایک مرتبہ پھر خراب ہونے بعد ڈیڑھ لاکھ مزید تاتاری مسلم علاقوں کی جانب ہجرت پر مجبور ہوئے۔ اندازے کے مطابق روسی قبضے کے بعد کریمیا اور ملحقہ علاقوں سے ہجرت کرنے والے تاتاری مسلمانوں کی تعداد 20 لاکھ تک ہے۔ ان ہجرتوں کے نتیجے میں کریمیا اور ملحقہ تمام علاقہ جہاں 18 ویں صدی تک مسلمانوں کی اکثریت تھی، زار کے عہد میں بھی وہاں مسلمان اقلیت میں آ گئے۔ باقی جو آبادی رہ گئی [[جنگ عظیم دوم]] کے بعد [[جوزف اسٹالن]] کے دور میں مکمل طور پر کریمیا سے بے دخل کر دی گئی۔ کریمیا اور اس سے ملحقہ علاقوں سے جس بڑے پیمانے پر مسلم آبادی کا انخلاء ہوا، وہ کسی طرح [[سقوط غرناطہ]] سے کم نہیں تھا، ہاں البتہ دونوں سانحات میں فرق یہ ہے کہ کریمیا کے تاتاری مسلمانوں کے بارے میں ہم بہت کم واقف ہیں۔
اگلی قسط میں ہم [[انقلاب روس]] کے بعد کریمیا میں مسلمانوں پر ڈھائے گئے مظالم کے بارے میں پڑھیں گے۔ اس موضوع پر مفید کتب اور حوالہ جات بھی اگلی قسط میں پیش کیے جائیں گے۔

جاری ہے ……………………

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

27 تبصرے

  1. جعفر says:

    اتنی معلوماتی تحریر کے لئے شکریہ۔۔۔

  2. بہت خوبصورت اور معلوماتی تحریر ہے فہد صاحب، لاجواب اور بہت شکریہ اس اہم موضوع پر قلم اٹھانے کیلیے!
    اور اسکی باقی اقساط کا انتظار رہے گا۔

  3. جعفر اور وارث برادران!
    دراصل تاریخ کے بہت سارے ابواب ایسے ہیں، جن پر اردو میں معلومات یا تو دستیاب ہی نہیں یا بہت کم ہے حالانکہ ان سے مسلمانوں کا براہ راست تعلق ہے۔ کوشش ہوگی کہ اسی طرح کے دیگر موضوعات کو 'تاریکی' سے نکالا جائے۔ فی الوقت تو اس مضمون کی اگلی اقساط نکالنی ہیں۔ پسندیدگی کے لیے بہت شکریہ۔

  4. دوسری قسط کا شدت سے منتظر ہوں.

  5. تاتاری مسلمانوں کی تاریخ کا کریہہ باب
    کیونکہ اسلامی تعلیمات اِن تاتاری مسلمانوں کی زندگیوں میں اچھی طرح راسخ نہ تھیں اس لیے انہوں نے اپنی اِس قوت کا ناجائز حد تک فائدہ اٹھایا۔ وہ محض غلاموں کے حصول کے لیے روس اور پولینڈ کے علاقوں پر حملہ کرنے میں بھی تامل نہ کرتے، پھر ان غلاموں کو فروخت کر کے دولت سمیٹتے۔ یہ تاتاری مسلمانوں کی تاریخ کا ایک کریہہ باب ہے اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والے تاثر کے باعث ہی اشتراکی عہد میں جب ان پر مظالم ڈھائے گئے تو ان کے حق میں کوئی آواز نہ ابھری۔ تجارت کے علاوہ غلاموں کی واپسی کے لیے روس اور پولینڈ کی ریاستوں سے تاوان بھی وصول کیا جاتا تھا۔ یعنی انہوں نے غلاموں کی تجارت اور تاوان کی وصولی کو باقاعدہ معیشت بنایا ہوا تھا۔

    محترم ابو شامل صاحب!
    ہم آپ کی تحریروں کی وجہ سے آپ کی بہت عزت کرتے ہیں۔ مگر مندرجہ بالا الفاظ سے اتفاق نہیں کرتے۔

    آپ کے مندرجہ بالا ارشادات گرامی سے ہمیں اسلئیے بھی اختلاف ہے کہ آپ نے ایک موضوع میں جس سے مسلمانوں اور کریمیا کے تاتاری مسلمانوں ناجائز طور پہ غلام گرفت اور غلام فروش ثابت کیا ہے جبکہ اس دور میں وسطی ایشا ، مشرقی و مغربی یوروپ اور شمالی افریقہ میں دشمن علاقوں پہ چڑہائی کے دوران اپنے لوگوں کو بازیاب کروانے کے لئیے یا محض دشمن کو شرارت سے باز رکھنے کے لئیے پیشگی طور پہ اس ملک کے باشندے یرغمال بنا لیے جاتے تھے ۔ اور اس دور میں مندرجہ بالا سب علاقوں میں یہ رواج عام تھا اور اسے ایک جنگی حکمت عملی سمجھا جاتا تھا۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس دور کی نصرانی ریاستیں اور بادشاہ ان شرمناک کاروائیوں میں پیش پیش تھے اور چونکہ زیادہ تر تایخی مواد مغرب سے لکھا گیا ہے اور اس مٰن بھی انہوں نے کمال ڈھٹائی سے اسے بنیاد بنا کر اس کا سارا بوجھ اور ذمہ داری ناحق طور پہ مسلمانوں اور خلافت عثمانیہ پہ ڈال دی ہے۔ جبکہ تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تب ایسے غلاموں کا کاروبار اور انہیں دنیا میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہر طرف سے وسطی ایشا ، مشرقی و مغربی یوروپ اور شمالی افریقہ تک لانے پہچانے بیچنے اور اپنا اثرو رسوخ بڑھانے میں نصرانی پیش پیش تھے ۔ ایسے میں ایک عام سی فوجی حکمت عملی کو محض مغربی اور نصرانی تاریخ دانوں کی بدنیتی پہ مبنی اس بھونڈی کوشش کو کہ مسلمان ممالک میں بردہ فروشی ہوتی تھی ۔ نیز کاروبار غلاماں مسلمانوں کا پیشہ تھا ۔ کو غیر ضروری طور پہ آپ نے اپنے محققانہ تحریر پہ جگہ دے کے ، ہماری نظر میں متحسن قدم نہیں اٹھایا۔ اس سے کئی ناپختہ ذہن پراگندہ ہونگے۔ کوئی بھی فوجی حکمت عملی ہر دور کے لحاض سے بدلتی رہی ہیں۔ جیسے تب جنگ میں تلوار سے ٹھنڈے پیٹوں کسی کی گردن اڑا دینے کی ضروری تربیت دی جاتی تھی کہ تب جنگیں اسی طرح ہوتی تھیں۔لہذاہ یکطرفہ طور پہ کریمیا کے مسلمانوں کو ۔۔ وہ محض غلاموں کے حصول کے لیے روس اور پولینڈ کے علاقوں پر حملہ کرنے میں بھی تامل نہ کرتے، پھر ان غلاموں کو فروخت کر کے دولت سمیٹتے۔ ۔ ان الفاظ میں الزام دینا ۔ انصاف پہ مبنی نہیں۔ خاصکر جب آپ سقوط کریمیا پہ کریمیا کے مسلمانوں کے ہولوکاسٹ کی بات کرنا چاہ رہے ہیں۔
    میرا مقصد قطعی طور پہ آپ کے علم کو چیلنج کرنا نہیں ۔ بلکہ ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلانا ہے۔

    اللہ آپ کے قلم میں مزید زور پیدا کرے ۔آمین
    دعا گو
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    • گرامی قدر برادر جاوید گوندل صاحب! مشکور ہوں آپ کا اس نامے پر، خصوصاً مضمون پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالنے پر۔ صحت مندانہ ماحول میں کئی موضوعات پر گفتگو و بحث کرنے کی ہمیں اشد ضرورت ہے۔ بہرحال موضوع کی جانب آتا ہوں، اگر دل کی حقیقی کیفیت بتاؤں تو یہ چند جملےمیری طبیعت پر بھی بہت گراں تھے لیکن حقیقیت یہ ہے کہ آپ اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق تاریخ کا منہ نہیں پھیر سکتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے معاملے میں ہمارا وژن ہمیشہ مختلف رہا ہے کیونکہ ہم ایک خاص زاویے میں اسے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں اور جو بات ہمارے خلاف جائے، اُسے تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔
      غلاموں کی تجارت یورپ کی تاریخ کا ایک بھیانک باب ہے، لیکن اس سلسلے میں اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں کہ چند بے عمل مسلمان بھی اس کریہہ عمل میں اُن یورپیوں کے دست راست تھے۔ اُن عاقبت نااندیش حکمرانوں نے محض اپنے خزانے بھرنے کے لیے بلاتخصیص مذہب لوگوں کو غلام بنا بنا کر یورپیوں کے ہاتھوں بیچا تاکہ وہ 'نئی دنیا' (امریکہ) میں اپنا خون پسینہ ایک کر کے یورپ کو ترقی کی راہوں پر گامزن کریں۔ مغربی افریقہ اور مشرقی افریقہ کے کئی نام نہاد مسلم حکمران ایسے تھے جن کا 'دانہ پانی' اسی دھندے سے چلتا تھا۔ مغربیوں کی لکھی گئی تواریخ درکنار آپ مسلم مورخین کی تواریخ میں بھی یہ حوالے پڑھیں گے۔
      تاتاریوں کی جانب سے روس اور پولینڈ پر حملوں اور انہیں جبری غلام بنائے جانے کے واقعات کی رد میں آپ نے چند توجیہات پیش کی ہیں جو عین ممکن ہے کہ درست ہوں اور مجھ جیسے حقیر طالبعلم کے مطالعے سے نہ گزری ہوں جیسا کہ 'دشمن علاقوں پہ چڑھائی کے دوران اپنے لوگوں کو بازیاب کروانے کے لیے یا محض دشمن کو شرارت سے باز رکھنے کے لیے پیشگی طور پہ اس ملک کے باشندے یرغمال بنا لیے جاتے تھے' اور آپ نے اسے 'جنگی حکمت عملی' کا حصہ قرار دیا ہے۔
      اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں کہ غلامی کو عالمی سطح پر پھیلانے میں یورپ کے عیسائی سب سے آگے تھے لیکن میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ پس پردہ کچھ مسلم حکمران اور تاجر بھی اس کام میں شریک تھے، حالانکہ ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں لیکن پھر بھی یہ فعلِ قبیح ہمی سے سرزد ہوا، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ یورپی مورخین کی جانب سے مسلمانوں کو 'بردہ فروش قوم' قرار دینا چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے۔ جواب میں کوئی ان سے پوچھے کہ حضور! وہ Great Slave Trade کیا ہوئی؟ اور یہ افریقی-امریکیوں کی بڑی تعداد کہاں سے آئی؟ Liberia کیوں تشکیل دیا گیا؟ وغیرہ وغیرہ۔
      میں نے زیر نظر مضمون میں مسلمانوں کے اس فعل کو کریہہ باب قرار دیا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ مسلمانوں کے ایسے اعمال کو پیش کرنے کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ انہیں غلط ثابت کیا جائے بلکہ مطالعہ تاریخ کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ عبرت حاصل کی جائے، اور عبرت ہمیشہ ناکامیوں اور غلطیوں کو بیان کرنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ تو کیا ہم صرف 'ناپختہ ذہنوں کے پراگندہ' ہونے کے خوف سے یہ باب بیان نہ کریں؟ کیا ہم اس لیے مسلم تواریخ کے اہم ابواب کو سامنے ہی نہ لائیں کیونکہ اس سے کئی ذہنوں پر غلط اثرات پڑ سکتے ہیں؟ مثلاً خلافت کے احیاء کی بات کرنے والوں کو ان اسباب پر غور کرنے کی توفیق نہ ہو کہ خلافت کے خاتمے کے پیچھے کیا عوامل اور غلطیاں تھیں؟ تو یہ ان کی تحریک کے لیے کتنی زیادہ نقصان دہ بات ہوگی۔ مجھ ناچیز کی رائے میں یہ بہتر ہے کہ ہم مسلمانوں کی فتوحات سے زیادہ ان کی شکستوں اور زوال کے اسباب پر اپنا مطالعہ وسیع کریں تو شاید ہمیں ماضی کی عظمتیں دوبارہ مل جائیں۔ بس یہ چند متنازع جملے پیش کرنے کا یہی مقصد تھا۔

  6. محترم!
    بصدِ احترام عرض ہے ۔ آپ اپنی تحریر کا موضع سقوط کریمیا: مسلم ہولوکاسٹ کی بجائے Slave Trade رکھیں۔

    یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ موضوع بھارتی مسلمانوں کی مظلومیت کی ہو ۔ آغاز کچھ اس طرح کیا جائے ۔ مگر۔ ہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارتی مسلمانوں پہ بھارتی ریاست کے خلاف دہشت گردی کے سنجیدہ الزامات تھے ۔ وغیرہ وغیرہ۔

    یا بھارت کے زیرِ تسلط مقبوضہ کشمیر میں میں مسلمانوں کی جدو جہد آزدی کو موضوع بناتے ہوئے ۔ کچھ اس طرح آغاز لیا جائے۔ کشمیری مسلمانوں نے آزادی کی جدو جہد کی مگر انھوں نے بے شمار نہتے لوگوں کو نشانہ بنایا ۔

    آپ صدق دل سے بتائیے یہ موضوع کے ساتھ انصاف ہوگا یا موضوع کو مشکوک کرنا۔ کہ یار لوگ جو صرف سطعی نظر سے سب معاملات دیکھتے ہیں ۔ کہیں کہ اگر کریمیا کے تاتاری مسلمان ہوں تھے جو ہوا جائز ہوا۔؟

    آپ سے بحث نہیں کرنا چاہتا۔ نہ یہ میرا مقصد ہے ۔ صرف یہ عرض کرنا ہے ۔ کہ آپ نے غالباً اُس دور تک کی تجارتِ غلاماں کا بغور مطالعہ نہیں کیا۔ کہ غلام اور لونڈیاں کیوں اور کس وجہ سے بنائے جاتے۔ اس میں کون کون سی قومیں شامل تھیں ۔ انکی باہمی چپقلشیں کس قدر اور کیونکر تھیں ۔ اس کی ایک وجہ صرف مذاھب ہی نہیں تھے ۔ بلکہ بہت سی نصرانی ریاستیں بھی آپس میں ایک دوسرے پہ حملہ آور ہوتے ہوئے ۔ ایک دوسرے کے باشندے اٹھا لاتی تھیں ۔
    یہ بہت لمبا موضوع ہے ۔

    مسلمانوں پہ ناجائز طور پہ یہ تہمت کہ وہ غلاموں اور لونڈیوں کی تجارت کرتے تھے ۔ درست نہیں ۔ بلکہ غلاموں کی تجارت میں نصرانی ریاستیں اور نصرانی سوداگر پیش پیش تھے۔

    جس دور کا آپ نے ذکر کیا ہے ۔ تب بھی مشرقی اور وسطی یوروپ کے سفید غلاموں کی تجارت میں ۔ علاقے کے نصرانی فرمانرواں کی آشیر باد سے فلورینسیہ (فلورینیس) موجودہ اطالیہ کے طاقتور نصرانی تاجر تاجر غلاموں کی تجارت میں سب سے آگے تھے۔

    جبکہ مغربی مؤرخ کمال بدنیتی سے یہ الزام عثمانی خلفاء پہ رکھتے ہیں۔ جبکہ حقیقت محض اتنی سی ہے۔ کہ خلافت عثمانیہ اور شمالی افریقہ وغیرہ کی مسلمان ریاستوں نے ان تاجروں سے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کو خرید کر انھیں معاشرے میں انکی اہلیت کے مطابق ذمہ داریاں سونپیں۔ اور خلافت عثمانیہ کے مسلمان خلفاء نے تو لاکھوں غلاموں کو اپنی افواج کا حصہ بنایا اور ان کو جنگوں میں اہم زمہ داریاں سونپیں ۔ جن میں سے بہت سے غلام ہو کر آنے والے افراد نے تاریخ میں اپنا نام محفوظ کیا ۔ خواہ وہ غلام خرید کردہ تھے یا مفتوح علاقوں میں متواتر جنگوں کی وجہ سے یتیم و یسریٰ رہ جانے والے بچے تھے ۔ اور خرید کردہ غلاموں کی زندگی ہی بدل جاتی تھی ۔ انھیں ان کے نصرانی سوداگروں کی ملکیت سے منہ بولی رقمیں دے کر خرید کر ہزار درجے بہتر زندگی کا بندوبست کیا جاتا تھا۔ کیونکہ تب اس وقت رائج رواج کے مطابق غلام کہیں بھی بکتے انھیں بکنا ہوتا تھا اور جبری مشقت اور بیگار ان کا نصیب بنا دیا جاتا خواہ وہ کسی زمانے میں کس قدر معتبر اور آزاد رہے ہوں یا اپنی اصل میں کوئی بھی تھے۔ صرف مسلمانوں کی مذمت سے نصرانی تاجر انھیں آزاد کرنے سے تو رہے ۔وہ ان غلاموں کو ادہر ادھر کم قیمت پہ بیچ ڈالتے اور ان سے غلامی کی زندگی کی تمام لعنتیں برداشت کرتے کرتے مر کھپ جانا پڑتا۔ مگر مسلمانوں نے انھیں خرید کر بہتر زندگی دی۔ اس نقطہ نظر سے تحقیق کو جان بوجھ کر مغربی مؤرخوں نے نظر انداز کیا اور کمال بدنیتی سے مسلمانوں پہ تجارت غلامانہ کا الزام بھی تھونپ دیا۔ حیرت ھوتی ہے ۔ کہ مغربی مؤرخوں کی بدنیتی پہ مبنی تاریخ کو من و عن مسلمان بھی تسلیم کئیے جارہے ہیں۔

    جبکہ مغرب نے مسلمان علاقوں سے مار دھاڑ اور چڑہائی کر کے جو مسلمان عورتیں مرد اور بچے اپنے غلام اور قیدی بنائے ان میں سے بڑی تعداد نصرانی حکمرانوں کے لئیے بیگار کاٹتے ہوئے مر کھپ گئے ۔ ازمنہ وسطٰی کے بہت سے قلعوں اور دیگر تعمیرات کا ذکر ملتا ہے جن کی بنیادوں میں پاپہ زنجیر مسلمانوں کا خون اور ہڈیاں شامل ہیں۔ اور وہ بد نصیب غلام ( جسے مغربی مؤرخ کمال بدنیتی سےمسلمان جنگی قیدی لکھتے ہیں) اسوقت تک بیگار کاٹتے جب تک وہ دم نہ توڑ دیتے ۔ مسلمان عفت مآب خواتین کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا وہ اس سے بھی بڑھ کر شرمناک ہے ۔

    جن احباب کو اسمیں شک ہے انہیں ہم تمام ثبوت اور حوالے دیں گے انشاءاللہ ۔جبکہ مغرب کی جنگی حکمت عملیاں ہم سب پہ عیاں ہیں ۔ دور حاضر کی صرف ایک مثال ہی کافی ہے ۔ کچھ سال جاتے ہیں کہ سربوں کے ھاتھوں مسلمانوں کی شناخت بگاڑنے کے لئیے ۔ بوسینائی مسلمانوں کی نسل ختم کرنے یا اقلیت میں بدلنے کے لئیے بوسنیا کی مسلمانوں کی عورتوں بڑوں، بوڑھوں، بچوں کا قتل عام مسلمان خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی اور مسلمان عورتوں کی کثیر تعداد کو سربی فوجیوں کے ھاتھوں حاملہ کر دینا ۔ ابھی کل کی بات ہے، اور اس دور میں جب مغرب نے نام نہاد انسانی حقوق کا واویلا اور ڈھنڈورا ابھی نہیں پیٹا تھا ۔ اور نہ ہی ذرائع ابلاغ نے اس قدر ترقی کی تھی کہ نہ چاھتے ہوئے بھی اصل حالات کہیں نہ کہیں سے عام لوگوں تک پہنچ سکیں اور تب مغرب کی اخلاقی اقدار کا پیمانہ مزید پست تھا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ تب مسلمان مفتوحہ علاقوں سے مسلمان رعایا کو کسطرح غلام بنایا گیا ہوگا ۔ جسے مغربی مؤرخ کمال ڈھٹائی سے جنگی قیدی قرار دیتے ہوئے اس وقت کی جنگی حکمت عملی کے تحت جائز قرار دیتے ہیں ۔

    محترم ابوشامل
    جبکہ آپ نے بغیر کسی تردد کے کریمیا کے مسلمانوں کے خونی سقوط کو تجارت غلاماں سے جوڑ دیا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کریمیا کے مسلمان گھوڑے کی پیٹھ پہ رہے باوجود تعداد میں کم ہونے کے اس دور کی مضبوط نصرانی بادشاہتوں کے لئیے عذاب بنے رہے اور اپنی آزادی کی حفاظت بھی خوب کی ۔ جب گھوڑے کی پیٹھ چھوڑی تو تب سے اب تک غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔

    اگر پھر بھی آپ کریمیا کے مسلمانوں کو تجارت غلامانہ کے ساتھ جوڑنے پہ بضد ہیں تو پھر کم از کم اس دور کے سیاسی اور جغرافیائی حالات اور جنگی حکمت عملیوں پہ بھی روشنی ڈالیں ۔ نیز کون کون سی قومیں اور کس حد تک اس میں شامل تھیں ۔ تانکہ قاری اپنے ذہن میں اٹھنے والے شکوک و شبہات کو دور کر سکے۔

    ایک اور اہم نکتہ جسے ایسے موضوعات پہ کام کرتے ہوئے ذہن میں رکھنا چاھئیے ۔ کہ ضروری نہیں ہمارے ہیرو حریف قوموں کے بھی ہیرو ہوں ۔ اسلئیے اس بات سے بے نیاز رہنا چاھئیے کہ ہمارے حریف ہماری تاریخ یا ہمارے ہیرؤں پہ لعن طعن کیوں کرتے ہیں ۔ اس لئیے ہمیں صرف وہ اجاگر کرنا چاہئیے جو ہمارے نقطہ نظر سے درست ہے۔ آپ شاید اس لنک سے میری بات سمجھ پائیں گے۔

    http://www.jasarat.com/2008/11/22/columns/details/02.gif

    آپ رقطراز ہیں۔
    ۔۔ لیکن میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ پس پردہ کچھ مسلم حکمران اور تاجر بھی اس کام میں شریک تھے، حالانکہ ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں لیکن پھر بھی یہ فعلِ قبیح ہمی سے سرزد ہوا،۔ ۔

    وہ کونسے مسلمان حکمران تھے ۔ جن کے بارے میں آپ یہ بات اتنے وثوق سے لکھ گئے ہیں ۔ اگر آپ کوئی مستنند حوالہ جات بتاتے تو میرے علم میں بھی اضافہ ہوتا۔

    جہاں تک تاجروں کا تعلق ہے ۔ دولت کی حرص کے لئیے آج بھی لوگ بہت سے قبیع کاموں کو اپنا پیشہ بنا لیتے ہیں ۔ ہماری معلومات کے مطابق اس قبیح تجارت کو دنیا میں فروغ دینے اور مسلم علاقوں سے غلاموں کو پکڑ کر لانے والوں میں تقریبا سو فیصد نصرانی تاجروں اور بادشاہوں کا ہاتھ رہا ہے۔

    اپنی کتاب Slavery from Roman times to the early transatlantic trade میں william d phillips jr میں صحفہ 156 کے پہلے پیرا گراف پہ رقم طراز ہیں ۔
    ۔۔ازمنہ وسطٰی میں اطالوی اور خاص طور پہ وینیسین نے مشرقی بحر روم کے تاجروں کو۔ قیمتی اشیاء کے بدلے ۔ وسطی یوروپی غلام اور لکڑی مہیا کرنے کا کام کیا۔ بارہویں اور تیرہویں صدی میں غلاموں کے بدلے قیمتی اشیاء کی جگہ پارچات جیسے کاتی ہوئی اون نے لے لی ۔ اور غلاموں کے اطالوی تاجران۔ غلاموں کی تلاش میں وسطی یوروپ سے بحیرہ اسود (بلیک سی )کی طرف منتقل ہو گئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حالانکہ پوپ نے بارہا کوشش کی اور(اطالوی نصرانی تاجروں کو)۔( مذھبی طور پہ)منع قرار دیا ۔ کہ وہ ( اطالوی غلاموں کے تاجران) مسلمانوں کو جنگی سازو سامان ، ھتیار اور غلام برآمد نہ کریں ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ جینوا میں 1190 ء میں غلاموں کی تجارت اپنے عروج پہ تھی ۔ اس سے پہلے کبھی کبھار غلاموں کی خریدو فروخت ہوتی تھی ۔ اور وہ بھی مسلمان حبشیوں کی۔۔۔۔۔۔۔1190ء کی دھائی میں غلاموں کی خریدوفروخت اور تجارت باقاعدہ طور پہ پھیل چکی تھی۔۔۔۔ بالبی (محقق) نے 1186 اور 1226 ء کے دوران غلاموں کی تجارت کی تحقیق کی ہے ۔اور بالبی نے کم از کم 58 غلاموں کی فروخت کے اعداو شمار کے گوشوارے تک رسائی حاصل کی ہے ۔ جسکا چارٹ یوں ہے۔
    مسلمان غلام۔۔۔۔17 مرد( جن میں 3 حبشی )۔۔۔۔13 مسلمان عورتیں ( جنمیں 1 حبشی عورت۔
    سیراد نسل سے غلام ۔۔ 3 مرد۔۔۔۔10 عورتیں
    کروسو نسل سے غلام ۔۔۔۔۔۔۔1 مرد۔۔۔۔0 عورت
    یونانی نسل سے غلام ۔۔۔۔۔۔۔۔0 مرد۔۔۔۔1 عورت
    جن کی وضاحت نہیں وہ غلام۔۔2 مرد۔۔۔ 11 عورتیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹوٹل۔۔ 35 عورتیں اور 23 مرد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صحفہ نمبر
    چودہویں اور پندرہوی صدی عیسوی تک بحیرہ اسودکی طرف سے غلام بنا کر لوگوں کو لایا جاتا اور انہیں نصرانیت کا بتیسمہ دیا جاتا اور نصرانی بنا لیا جاتا ۔ حتیٰ کہ ترکوں نے و پندرہویں صدی کے وسط میں بحیرہ اسودسے بحیرہ روم کی گزرگاہوں سے جنیوائین کو بے دخل کر دیا۔
    ر 1360ء اور 1397 ء کے درمیان اوریگو کی فہرست کے مطابق جن 362 غلاموں کے جسموں پہ نمر یا ملکیت کندہ کی گئی انکی تفضیل یوں ہے
    تاتاری غلام ۔۔274
    یونانی غلام۔۔30
    روسی غلام۔۔ 13
    ترک غلام ۔۔۔8
    کاؤکس غلام۔۔۔4
    بوسنی غلام۔۔5
    جزیرہ کریٹ غلام ۔ 1
    مسلمان غلام ۔۔۔۔ 22
    توٹل غلام 362 جن میں سے 329 عورتیں تھیں ۔
    بالبی کے مطابق بحر اسود کے ارد گرد سے ۔ پاگان۔۔ غیر نصرانی غلاموں کی پکڑ اور فروخت کا کاروبار اطالوی نصرانی تاجر زور شور سے کرتے تھے ۔

    محترم اجمل صاحب !
    جب تاتاری خود نصرانی قوموں کی طرف سے غلام بنائے گئے تو پھر تاتاریوں پہ یہ الزام کہ وہ غلام بنانے والوں میں سے تھے۔ یہ تاریخ کے ساتھ بہت بد عہدی ہے جو مغربی مورخوؤں نے کر رکھی ہے ۔ از راہ کرم اسے درست کر لی جئیے ۔ آپ جیسے دردمند مسلمان کی طرف سے خود ہی مسلمانوں پہ بردہ فروشی کا الزام لگنا درست نہیں ۔ خواہ اس الزام کا مآخذ آپ کی نظر میں کسقدر ہی معتبر کیوں نہ ہو۔ اسلئیے ہم مے آپ کو ایک مغربی مورخ اور محقق کے حوالے دئیے ہیں ۔ ہر چہ کہ اس کتاب میں موصوف مؤرخ کا موضوع کچھ مختلف سا ہے ۔
    امید ہے آپ ہمار کسی بھی بات کو زاتی مت خیال کریں گے ۔ اور کریمیا کے مسلمانوں کے بارے میں وہ کریہ باب اپنے مضمون سے ہٹا دیں گے،

    دعا گو
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    حوالہ جات :،

    william d phillips j کی Slavery from Roman times to the early transatlantic trade

    Race and Slavery in the Middle East: an Historical Enquiry, Oxford University Press, 1992

    Race and Slavery in the Middle East: an Historical Enquiry (1990).
    Titulo: PRISIONEROS DE LOS INFIELES. گناہ گاروں(مسلمانوں کے قبضے میں) قیدی
    Vida y rescate de los cautivos cristianos en el Mediterráneo musulmán (s. XVI-XVII).
    مسلم (دور) بحر روم میں نصرانی قیدیوں کی زندگی اور بازیابی
    Tema: Historia Isbn: 84-7290-271-4
    Autor: Martínez Torres, Jose Antonio
    Editorial: Bellaterra
    Lugar de Publicacion: Barcelona
    Fecha de Publicacion: 2004
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    Bernard Lewis نے بڑی محنت اور کمال جانفشانی سے مسلمانوں کے متعلق تحقیق کے نام سے مسلمانوں کی کردار کشی کی ہے ۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں رہتی کہ مغرب میں بھی سب کے علم میں ہے کہ موصوف یہودی ہیں۔ اسکے باوجود مغرب میں اسے مسلمانوں کے انداز فکر وغیرہ میں ایک ماہر تسلیم کیا جاتا ہے۔
    ایسے میں ہم بھی نقل پہ زور دئیے جائیں تو دل کو تکیلف ہوتی ہے۔
    The Origins of Ismailism (1940).
    - A Handbook of Diplomatic and Political Arabic (1947).
    - The Arabs in History (1950).
    - The Emergence of Modern Turkey (1961).
    - Istanbul and the Civilizations of the Ottoman Empire (1963).
    - The Assassins: A Radical Sect in Islam (1967).
    - The Cambridge History of Islam (2 vols. 1970, 4 vols. 1978).
    - Islam: From the Prophet Muhammad to the capture of Constantinople (1974, editor).
    - History — Remembered, Recovered, Invented (1975).
    - Race and Color in Islam (1979).
    - Christians and Jews in the Ottoman Empire: The Functioning of a Plural Society (1982).
    - The Muslim Discovery of Europe (1982).
    - The Jews of Islam (1984).
    - Semites and Anti-Semites (1986).
    - Islam from the Prophet Muhammad to the Capture of Constantinople (1987).
    - The Political Language of Islam (1988).
    - Race and Slavery in the Middle East: an Historical Enquiry (1990).
    - Islam and the West (1993).
    - Islam in History (1993).
    - The Shaping of the Modern Middle East (1994).
    - Cultures in Conflict (1994).
    - The Middle East: A Brief History of the Last 2,000 Years (1995).
    - The Future of the Middle East (1997).
    - The Multiple Identities of the Middle East (1998).
    - A Middle East Mosaic: Fragments of Life, Letters and History (2000).
    - Music of a Distant Drum: Classical Arabic, Persian, Turkish, and Hebrew Poems (2001).
    - The Muslim Discovery of Europe (2001).
    - What Went Wrong?: The Clash Between Islam and Modernity in the Middle East (2002).
    - The Crisis of Islam: Holy War and Unholy Terror (2003).
    - From Babel to Dragomans: Interpreting the Middle East (2

    • محترم جاوید صاحب! اگر آپ مجھے روایتی و سکہ بند نقطۂ نظر کا حامل فرد سمجھ رہے ہیں، جو بہر صورت اپنی (یعنی مسلمانوں کی) کوئی برائی تسلیم کرنے پر راضی نہیں، تو معاف کیجیے گا یہ مجھ سے نہیں ہو سکے گا۔ ہماری تاریخ کا المیہ یہی رہا ہے کہ ہم تاریخ کو ایک مخصوص سانچے میں ہی دیکھتے آئے ہیں یا دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ رویہ تاریخ کے علم کو سکیڑنے اور اسے مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ تاریخ سے فیض حاصل کرنے کی جتنی ضرورت اس وقت مسلمانوں کو ہے اتنی شاید کسی کو نہیں بالفاظ دیگر کہ تاریخ کا مطالعہ شاید غالب اقوام کے لیے اتنا ضروری نہیں جتنا ہمارے لیے ہے، اس لیے ہمارے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی تاریخ کا مطالعہ تمام پہلوؤں سے کریں۔ ضروری نہیں کہ ہم مستشرقین کا مطالعہ کریں یا مغربی نام نہاد مفکرین کی کتابیں زیر مطالعہ لائیں۔ ہمارے مسلمان مفکرین کا اس حوالے سے اتنا کام موجود ہے کہ وہ ہمیں تاریخی مغالطوں سے نکال لانے کے لیے کافی ہے۔ میرے ذاتی خیال میں اگر آپ بھارتی یا کشمیری مسلمانوں کی تاریخ کا احاطہ کرنے کی کوشش کریں گے تو بلاشبہ ان میں کمزوریوں اور خامیوں کا ذکر بھی ہوگا، اگر آپ جان بوجھ کر ان سے صرفِ نظر کریں گے تو یہ عمل تاریخی بد دیانتی اور اپنی قوم کے ساتھ ناانصافی اور انہیں اندھیرے میں رکھنے کے مترادف ہوگا۔ اس لیے مجھے کم از کم اتنی رعایت ضرور دیجیے کہ میں مسلمانوں کے عظیم و شاندار ماضی کے بیان میں اُن چند تاریک پہلوؤں کو بھی اجاگر کر سکوں جو زوال کے اہم اسباب رہے۔ ان پہلوؤں کو سامنے لانے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ مسلمانوں کو وحشی یا ظالم قوم ثابت کرنا بلکہ صرف ضمنی حیثیت میں بیان کرنا مقصود ہے تاکہ موضوع کو سمیٹاجا سکے۔
      محترم! میں آپ کی آراء، جذبات اور احساسات کا تہہ دل سے احترام کرتا ہوں اور آپ نے جس محنت سے دلائل اکٹھے کیے ہیں اور کتب کے حوالے دیے ہیں میں انہیں قدر کی نگاہوں سے دیکھتا ہوں۔ آپ کا مطالبہ بھی سر آنکھوں پر کہ مذکورہ پیراگراف مضمون میں حذف کر دیا جائے لیکن شاید یہ میرے لیے ممکن نہ ہوگا کیونکہ یہ وہ اہم ترین نکتہ ہے جس کو بنیاد بنا کر دوسری جنگ عظیم کے بعد مسلمانوں کا بدترین استحصال کیا گیا، اس لیے بصد معذرت کہ میرے لیے اسے حذف کرنا ممکن نہیں۔
      آپ نے فرمایا کہ قارئین سطحی نظر سے تمام معاملات کو دیکھتے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ وہ اس سے کچھ اور اخذ کر لیں۔ حضور! مسلمانوں کی تاریخ میں دلچسپی کا حامل کسی بھی فرد کے لیے ہماری اپنی لکھی گئی تاریخوں میں ایسا ایسا مواد موجود ہے کہ اس میں سے نجانے کیا کیا اخذ کیا جا سکتا ہے۔
      محترم! آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں پر غلاموں کی تجارت کا الزام غلط ہے، اس میں یورپی پیش پیش تھے، تو حضور میرا موقف بھی تو یہی ہے کہ سوائے چند ایک مثالوں کے، جن میں عاقبت نا اندیش حکمران شامل تھے، مسلمان اس بڑے پیمانے پر غلاموں کی تجارت میں شامل نہیں تھے جتنے یورپی تھے۔ غلاموں کے ساتھ مسلمانوں کا حسن سلوک تو تاریخ کا کوئی مجھ سا ادنیٰ سا قاری بھی پڑھ سکتا ہے کہ مسلم ادوار میں غلاموں کو اتنی اہمیت دی گئی کہ دو اہم ترین مسلم خطوں مصر اور ہندوستان میں وہ حکومت تک بنانے میں کامیاب ہو گئے (مملوک اور خاندان غلاماں) اس کے پیچھے بھی غلاموں سے حسن سلوک کی تلقین پر مبنی وہ اسلامی تعلیمات تھیں جنہوں نے کبھی بھی مسلم معاشرے میں غلاموں کے ساتھ زیادتی کی روش کو پنپنے نہیں دیا۔
      اس کے مقابلے میں ہم غلاموں کے ساتھ سلوک کا موازنہ اگر یورپ اور امریکہ سے کریں تو گھن آنے لگتی ہے۔ سلطنت روما میں اکھاڑوں میں غلاموں کی لڑائیوں (Gladiators) اور عظیم تجارتِ غلاماں (Great Slave Trade) جیسے تاریخی ورثے کے حامل افراد کو تو یہ زیب ہی نہیں دیتا کہ وہ مملوک سلطنت، خاندان غلاماں، طولونی ریاست اور غلاموں کی دیگر کئی شاندار حکومتوں کی حامل مسلم تاریخ کی جانب انگلی اٹھائے۔ یورپی تاریخ سے صرف یہی دو واقعات اٹھا لیں تو میزان میں مسلمانوں پر لگائے گئے الزامات سے زیادہ بھاری ہوں گے۔ عثمانی ادوار اور شمالی افریقہ اور تمام مسلم اکثریتی علاقوں میں غلاموں کو اُن کی حیثیت سے کہیں بڑھ کر معاشرے میں اعلیٰ مقام عطا کیا گیا۔ اس کی مثالیں مسلم تاریخ میں بکھری پڑی ہیں۔
      مسلمانوں کی تاریخ میں زنجبار کے عمانی حکمران، مالی سلطنت اور گھانا کے مسلمان حکمران ایسے رہے ہیں جو عظیم تجارتِ غلاماں میں یورپی تاجروں کی مدد کرتے رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے افریقہ کے دور دراز علاقوں میں چھاپے مار کر لوگوں کو غلام بنا کر فروخت کیا جاتا رہا۔ دعوے تو نجانے کیا کیا کیے جاتے ہیں حتیٰ کہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جیسے معروف دائرۃ المعارف میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا ہےکہ خانان کریمیا کے عہد میں کریمیا کی کل آبادی کا 75 فیصد غلاموں پر مشتمل تھا۔ زنجبار کے عمانی حکمران تو اس وقت تک غلاموں کی تجارت سے باز نہ آئے جب تک انگریزوں نے زنجبار پر حملہ کر کے اس تجارت کا خاتمہ نہیں کر دیا۔
      یورپ و امریکہ غلاموں کی تجارت کا خاتمہ اس لیے چاہتے تھے کیونکہ ان کے زیر قبضہ علاقوں میں غلاموں کی آبادی ان کی اپنی آبادی سے بھی بڑھ گئی تھی اور اس بگڑتے ہوئے توازن کو درست کرنے کے لیے انہوں نے افریقہ میں لائبیریا کے نام سے ریاست بسا کر سیاہ فام باشندوں کو خود جہازوں میں لا لا کر یہاں بسایا تاکہ سفید فام اقلیت میں نہ بدل جائیں۔ دنیا سے غلامی کے خاتمے کے پیچھے جہاں کئی عوامل ہیں وہاں سفید فاموں کا اقلیت میں بدل جانے کا خوف بھی شامل ہے۔
      آخر میں ایک وضاحت کرنا چاہوں گا کہ آپ نے ولیم فلپس کی کتاب سے دو حوالے دیے ہیں جو 12 ویں، 13 ویں اور 14 ویں صدی کے ہیں جبکہ کریمیا میں مسلمانوں کی ریاست 15 ویں صدی (1441ء) میں قائم ہوئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ اعداد و شمار خانان کریمیا کی ریاست کے قیام سے قبل کے ہیں۔
      یہ بات بھی کہنا چاہوں گاکہ میں آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے اس بحث کا آغاز کر کے مندرجہ بالا مضمون کے حوالے سے اہم پہلوؤں کا اضافہ کیا ہے، اور اس میں جو تشنگی رہ گئی تھی اس کو مکمل کیا ہے۔ امید ہے ایسے علمی مباحث معلومات میں مزیداضافے اور مطالعے کے ذوق کو پروان چڑھانے کا باعث بنیں گے۔ والسلام

  7. محترم اجمل صاحب کو ازراہ کرم محترم ابو شامل سے تبدیل کر دیں۔

  8. گوندل صاحب اور فہد بھائی بہت شکریہ تفصیلی تبصرہ جات کا اس سے مضمون کے حسن میں مزید اضافہ ہوگیا۔

    مسلمانوں کی جانب سے غلاموں کی تجارت کوئی بعید از قیاس واقعہ نہیں۔ بہت سے مسلمان فاتحین نے امپیریل ازم کے جذبے کے تحت فتوحات کیں۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کے بعض گروہ طاقت کے نشے میں اتنے بے خود بھی ہوئے کہ اپنے ہم مذہب لوگوں پر چڑھائی سے گریز نہ کیا۔ یہ تاریخ کا وہ حصہ ہے جو ہمیں پسند نہیں اور اس کی کڑواہٹ دور کرنے کے لیے ہم دوسروں کی تاریخ میں جھانکتے ہیں۔ اپنے زوال کے اسباب ہمیں اپنی ہی تاریخ سے تلاش کرنے پڑیں گے۔

    کیونکہ مضمون میں تقابلی جائزہ نہیں ہے اس لیے یہاں یہ سوال نہیں پیدا ہوتا کہ آیا غلاموں کی تجارت میں مسلمانوں کا زیادہ حصہ تھا یا یوروپیوں کا۔

  9. آپ نے مندرجہ بالا تحریر سقوطِ کریمیا اور کریمیا کے مسلمانوں کو موضوع بنایا ہے۔ اسلئیے میں نے اپنی بات چیت کریمیا سے متعلق تک محدود رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس لئیے میں نے کریمیا اور اس سے متعلق اس دور کے حوالے دیے کہ کس طرح کریمیا کے لوگوں کو بشمول دیگر غلام بنایا جاتا تھا اور اور وہ یورپی نصرانی منڈیوں میں فروخت ہوتے تھے ۔اور تب اس پورے علاقے ( علاقے سے مراد مشرقی یوروپ ۔ وسطی ایشیا ۔ باقی ماندہ یوروپ اور شمالی افریقہ کے تاجدار ممالک وغیرہ) میں غلاموں کی تجارت اور لین دین تمام نصرانی ممالک کے تاجداروں اور پوپ کی رضامندی سے ہوتا تھا۔ اور یہ وہ کلچر تھا جس میں مسلمان ریاستیں اور عثمانی خلافت پھلی پھولی۔ اور یہ وہ ثقافت تھی جو نئے مسلمان ہونے والے علاقوں میں رائج تھی۔ اور کسطرح مسلمانوں نے اس دور کی رائج الوقت تجارت غلاماں میں سے غلاموں کو خرید کر ان سے جو حسن سلوک بحثیت مجموعی کیا ۔ اس پہ بشمول آپ کے اور مغربی مورخین ایک بنے بنائے فار مولے کے تحت اس کا الزام مسلمانوں پہ منڈھ رہے ہیں ۔ جبکہ آپ کی تحریر کا موضوع سے اس کا وسطہ نہیں ۔ ۔ اس دور کی تمام بڑی بڑی نصرانی ریاستوں کا غلاموں اور مسلمانوں کو غلام بنائے جانے ۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائے جانے اور بیچے جانے کو مکمل طور پہ نظر انداز کرتے ہوئے ۔ ہم عصر نصرانی طاقتوں کے بڑے بڑے قلعوں اور تجارتی کوٹھیوں تعمیر کے لئیے تادم مرگ مسلمان جنگی قیدیوں سے بیگار لینے کو صرف نظر کرتے ہوئے بغیر کوئی تقابلی حوالہ دئیے کہ قاری اپنے ذہن میں مسابقت پیدا کر لے ۔اور اآپ ہر صورت میں بقول آپ کے تاریخ سے انصاف کرنا چاھتے ہیں اور کریمیا کے مسلمانوں کو انکے سقوط کے نام پہ نہ صرف غلاموں کی تجارت بلکہ انھیں غلام پکڑنے کا الزام متواتر دینا چاھتے ہیں ۔ پھر صدق دل سے بتائیں ۔ کہ آپ کریمیا کے مسلمانوں اور جزیرہ نما کریمیا کے سقوط پہ اسطرح ٹھریر لکھ کر انکی مظلومیت ثابت کرنا چاہتے ہیں یا کریمیا کے مسلمانوں کو ظالم ثابت کرنا چاھتے ہیں۔؟ اگر آپ پھر بھی ۔۔ اپنے ۔۔۔ حساب کا انصاف کرنا چاہتے ہیں تو اپنی تحریر سے سقوط کا ، ساقط کا لفظ ختم کر دیں اور تا کہ کریمیا کے مسلمانوں کے ساتھ ؐطلومیت کا تاثر ختم ہو سکے ۔

    آپ نے جب کبھی عمانی حکمران، مالی سلطنت اور گھانا کے مسلمان حکمران کو موضوع تحریر بنیا تو اس پہ بھی بات ہوگی ۔مجھے آپ کے تاریخ حوالہ جات کا انتظار رہے گا ۔ مجھے کبھی وقت کے قلت کی دقت رہتی ہے ۔ اسلئیے انشاءاللہ پھر کبھی سہی ۔

    واللہ ہمیں آپ سے کو رنجش نہیں بس مسلمانوں کو ہر ہر کوئی رگیدنے کے چکر میں ہیں ہے۔ اور اب ہم خود ہی اٹھ کر اپنی تاریخ کو بھی غلط سلط بیان کیئے جائیں ۔ اسکی بہر حال حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی۔ آپ کہیں گے تو ایک چھوڑ ایک سو مستند حوالے لکھ بیجھوں گا مگر پھر آپ کو اس تحریر کے شکائتی حصے کو درست کرنا چاھئیے۔

    دعا گو

    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

  10. آپ کا مطالبہ بھی سر آنکھوں پر کہ مذکورہ پیراگراف مضمون میں حذف کر دیا جائے لیکن شاید یہ میرے لیے ممکن نہ ہوگا کیونکہ یہ وہ اہم ترین نکتہ ہے جس کو بنیاد بنا کر دوسری جنگ عظیم کے بعد مسلمانوں کا بدترین استحصال کیا گیا، اس لیے بصد معذرت کہ میرے لیے اسے حذف کرنا ممکن نہیں۔

    نکتہ۔ــ؟ کونسا نکتہ ؟ اس دور کے کریمیا کے مسلمانوں کی غلاموں کی تجارت اور مار دھاڑ یا آپ یہ کہنا چاھتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد مسلمانوں کا استحصال ۔ اللہ نہ کرے مسلمانوں کی غلاموں کی تجات سے کوئی تعلق ہے۔ اسکی وضاحت فرما دی جئے ۔

    جبکہ ہم سمجھتے ہیں مسلمانوں کا کی موجودہ حالت زار کی بنیاد بغداد پہ ہلاکو کی چڑھائی اور قتل و غارت سے شروع ہوئی اور مسلمانوں کو پر سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔ بحرحال

  11. برادر محترم! اس "کریہہ باب" کو پیش کرنے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ جوزف اسٹالن کے دور میں دوسری جنگ عظیم کے بعد جب مسلمانوں کے خلاف چارج شیٹ تیار کی گئی اور انہیں جلا وطن کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تو رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے کریمیائی تاتاریوں کے اسی ماضی کو سامنے لایا گیا جو میں نے آپ کو پیش کیا اور کہا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو تمہیں غلام بنا لیتے تھے۔ اس طرح عوامی سطح پر ان سے ہمدردی کے جذبات کو ختم کر کے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرائی گئی کہ ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے ٹھیک ہو رہا ہے۔ اسی لیے میں نے کریمیائی تاریخ کے اس باب کو بیان کیا تاکہ آگے جب اسٹالن کے عہد کی بات کی جائے تو قارئین کو معلوم ہو کہ ماضی کا سہارا لے کر مسلمانوں کا مستقبل برباد کرنے کا کس طرح منصوبہ بنایا گیا۔
    "عذر گناہ بد تر از گناہ" سب سے اہم بات یہ کہ آپ دوسروں کے عمل سے اپنے عمل کو درست ثابت (justify) کرنے کی کوشش نہ کریں۔ مسلمانوں کو جو اخلاقی تعلیم دی گئی ہے وہ ان سے اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ دشمن چاہے گھٹیا اور بد تر سے بد تر عمل کر جائے لیکن اس کے جواب میں مسلمان وہی کر سکتا ہے جس کی اسے دین اجازت دیتا ہے۔ مثلہ کرنے کے جواب میں مثلہ کرنے سے اسی لیے منع کیا گیا۔ بالکل اسی طرح یورپ اور امریکہ کے عیسائی چاہے کچھ بھی کرتے رہے ہوں، جواب میں مسلمان خدائی قانون کے پیرائے میں رہتے ہوئے ہی کچھ کر سکتا ہے۔ جہاں وہ تجاوز کرتا ہے، اس کا شمار بھی انہیں ظالموں میں ہونا چاہیے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اپنے کسی غلط عمل کے جواب میں یہ توجیہ نہ لائی جائے کہ جناب ہمارے دشمن نے تو یہ کیا، ہم نے جو کیا وہ تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔
    جواب در جواب کا بہت شکریہ۔

  12. محترم ابو شامل صاحب!

    قیدی ۔ یرغمالی اور غلام بنانے میں فرق ہے۔ اؤل الذکر جنگوں میں قیدی بنائے جانے پہ تقریبا سبھی تہذیبیں متفق ہیں۔ دوئم یرغمالی، انتشار اور حالت جنگ کے زمانے میں غنیم کے قبائیل اٹھا لانا اور انہیں یرغمال بنا لانا تانکہ انکے بدلے میں اپنے لوگوں کو بازایاب کروایا جاسکے ۔ یا دشمن کو کسی ایسے قدم سے باز رکھنے کے لئیے ایسا پیشگی قدم اٹھان بھی جنگ حکمت عملی کے تحت جائز ہے۔ جبکہ غلام بنائے جانے کی اسلام نے حوصلہ شکی کی ہے، بلکہ یہ اسلام کے اصول حریہ کی ضد ہے۔ اسکی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔

    میں نے اپنی سی حجت اتمام کی ہے۔آپ کی نیت پہ شک نہیں۔ مگر آپ کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں۔ کریمیا کے مسلمانوں کی اشتراکی دور میں اکھاڑ پچھاڑ کے پیچھے ۔ کریمیا کے مسلمانوں پہ کئی سو سال پہلے روسی اور پولینڈ کے باشندوں کو غلام بنانے کا اسٹالن کا الزام بھی کوئی درست نہیں مانے گا ۔بلکہ لاکھوں تاتاری مسلمانوں کی وطن بدری کے پیچھے انکی مسلم شناخت اور اس طرح کی انتہائی مختلف وجوہات تھیں۔ میں، مسلم بیزار اسٹالن کے حوالے سے بھی متفق نہیں ہوں۔ جو آپ نے دیاہے۔ اور آپ کے ان unilateral الفاظ سے ۔۔تاتاری مسلمانوں کی تاریخ کا کریہہ باب۔۔ سے اور خصوصا انکے بارے میں لفظ ۔۔کریہہ۔۔ سے بھی اختلاف ہے۔

    بلاگ تاریخ کی کتاب نہیں ہوتا۔ جس پہ موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جاسکے ۔ اسلئیے میں نے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنی کی کوشش کی ہے جو میری نظر میں ضروری تھے تاکہ قاری پڑھتے وقت ہر اینگل سے دیکھ سکے۔

    امید ہے آپ میری کسی بات کو ذاتی نہیں لیں گے۔
    اللہ آپکے زور قلم میں اضافہ کرے۔

    دعا گو

  13. برادر جاوید! اب بحث اس جگہ پہنچ چکی ہے کہ اگر اس کے بعد میں متنازع جملے ہٹاتا ہوں تو یہ تمام تبصرے بیکار ہو جائیں گے۔ یہ زبردست علمی بحث اس بات کی متقاضی ہے کہ متنازع جملوں کو بحال رکھا جائے تاکہ ان جملوں کو پڑھنے کے بعد تبصروں میں اس پوری بحث کو پڑھنے کا لطف آئے۔
    میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت نکال کر اس موضوع کو قابلِ توجہ سمجھا اور مفید روابط و حوالات اکٹھے کیے جو یقیناً مجھ سمیت دیگر تاریخ کے طلباء کے بہت کام آئیں گے۔
    آپ کہہ رہے ہیں کہ بلاگ تاریخ کی کتاب نہیں ہوتا کہ اس میں موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے لیکن حضور! میری یہی خواہش ہوتی ہے کہ بلاگ کو کتاب بنا ڈالوں۔ بس وہ طویل تحاریر کے باعث قارئین کو ہونے والی کوفت کا خوف نہ ہو طوالت کے ریکارڈ ٹوٹ جائیں 🙂
    میں نے آپ کی کسی بات کو ذاتی حیثیت میں نہیں لیا بلکہ یقین کریں مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔ دعاؤں کا بہت مشکور ہوں۔
    والسلام

  14. محترم ابو شامل صاحب

    مجھے آپ کی بات سے اتفاق ہے۔

    اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر دے۔آمین

    والسلام

  15. جعفر says:

    اور ناظرین میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا!!!
    اب کچھ سنجیدہ
    آپ دونوں اصھاب کا شکریہ
    اتنی معلومات فراہم کرنے پر
    اسی لئے اختلاف رائے کو نعمت کہا جاتا ہے
    کہ اس سے علم میں اضافہ اور وژن وسیع ہوتا ہے۔۔

    • جاوید صاحب بہت شکریہ۔ اللہ آپ کو بھی جزائے خیر عطا کرے۔
      برادر جعفر! اختلاف رائے اگر صرف علمی سطح پر ہو اور اس کا مقصود دوسرے کو نیچا دکھانا نہ ہو تو واقعی بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن اگر اسے انا کا مسئلہ بنا لیا جائے تو اس سے بڑی زحمت کوئی نہیں۔ تبصرے کا بہت شکریہ۔

  16. فیصل says:

    بہت معلوماتی مضمون ہے.
    ویسے ایک بات تو طے ہے کہ مسلمان بھی کوئی فرشتے نہیں تھے. ایسے ایسے کارنامے کیے ہیں جب بھی موقع ملا تو. اور اب بھی کر رہے ہیں. اب سو دو سو سال بعد کوئی کہنا شروع کر دے کہ انڈیا سے لوگ آ کر پاکستان میں خود کش حملے کرتے تھے یا بیت اللہ محسود یو پی میں پیدا ہوا اور اسکا ختنہ نہیں ہوا تھا تو شائد کچھ لوگ اسے مان بھی لیں. ختنہ تو اسکا میں نے بھی چیک نہیں کیا لیکن یہ کم از کم پتہ ہے کہ وہ پاکستانی ہی ہے 🙂

  17. بہت شکریہ فیصل بھائی۔
    میرا نکتہ نظر بھی یہی تھا کہ اپنی تاریخی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی سب سے زیادہ ضرورت اِس وقت ہمیں ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی خود کو اس دھوکے میں رکھنا کہ ہم دودھ میں دھلے ہوئے ہیں، ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
    ہم نے اپنی ترجیحات و اہداف کا واضح تعین کرنا ہے بصورت دیگر بقول شاعر "تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں"۔

  18. کفایت اللہ ہاشمی says:

    اشتراکیت جیسے ظالم نظام اور اس کے کرتا دھرتاؤں نے ترکستان کی سرزمین پر ایسے ایسے ظلم ڈھائے ہیں کہ جس کی تفصیل جان کر انسانیت لرز جاتی ہے۔ایسی ہی ایک داستان میرے دادا جناب اعظم ہاشمی ترکستانی(۱۹۱۵ ـ۱۹۷۳) رحمہ اللہ نے اپنی روداد ہجرت ’’سمرقند و بخارا کی خونیں سرگزشت ‘‘ میں بیان کی تھی۔ اس داستان کو جو پڑھنا چاہے ، وہ درج ذیل لنک سے کتاب ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے نیز براہ راست بھی پڑھ سکتا ہے۔
    http://www.archive.org/details/Samarqand-O-Bukhara--Ki-Khuni-Sargazisht
    برادر عزیز ابو شامل صاحب ’’روس میں مسلمان قومیں ‘‘ از آباد شاہ پوری کے انتساب کتاب کو پڑھ چکے ہوں گے۔ یہ وہی اعظم ہاشمی مجاھد ترکستانی رحمہ اللہ ہیں۔

    • ابوشامل says:

      کفایت اللہ صاحب، مجھے ایسے طالبعلموں کے لیے یہ بات قابل فخر ہے کہ اعظم ہاشمی جیسے مجاہدین کی اولاد مجھ ناچیز کو پڑھ رہی ہے۔ میں کتاب کے تحفے پر آپ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

  1. June 15, 2009

    [...] سلسلے کی پہلی قسط یہاں دیکھی جا سکتی [...]

  2. July 4, 2009

    [...] اہم باب سے پردہ اُٹھایا ہے ابوشامل نے۔ یہ داستان ہے ’سقوطِ کریمیا‘ کی جب مسلمانوں کا بڑی تعداد میں خون بہایا گیا۔ [...]

  3. August 28, 2009

    [...] ہی کافی ہے، ان کے تبصرے کافی جاندار و بھرپور ہوتے ہیں۔ کریمیائی مسلمانوں کا قتل عام نامی تحریر پر ان کے تبصروں نے جان ڈال دی [...]

  4. May 20, 2012

    [...] چل بسے۔ (اس جبری ہجرت کی مکمل تفصیل میرے ان پرانے بلاگز (پہلی قسط، دوسری قسط) پر پڑھیے: [...]

  5. October 9, 2012

    [...] بعد عربی رسم الخط کی جگہ سیریلک  رسم الخط کا اجراء اور کریمیا کے مسلمانوں کی وسط ایشیا کی جانب جبری ہجرت تھا۔ اس طرح مسلمانوں کو جدت کی راہوں پر گامزن کرنے کے [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *