سقوط کریمیا: مسلم ہولوکاسٹ - قسط 2

کریمیا میں مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے گزشتہ تحریر میں خطے کے مسلمانوں کی ابتدائی تاریخ سے لے کر روس کے قبضے تک کا احوال درج کیا گیا۔ اس پر قارئین کے سیر حاصل تبصروں نے مضمون کو حقیقتاً چار چاند لگا دیے اور موضوع کو دیگر کئی زاویوں سے دیکھنے میں بھی مدد ملی۔ اس پر تمام قارئین بالخصوص محترم جاوید گوندل کا مشکور ہوں جنہوں نے گزشتہ قسط کے چند متنازع پہلوؤں پر گہری نظر ڈالی اور اس ناچیز سمیت تاریخ کے کئی طالبعلموں کی معلومات میں زبردست اضافہ کیا۔
یہ سقوط کریمیا کے سلسلے کی دوسری و آخری قسط ہے۔ اس میں حوالہ جات اور موضوع کے مطابق کتب کی فہرست بھی شامل ہے۔ جبکہ تحریر کے دوران دیے گئے روابط بھی مفید معلومات کے حامل ہیں۔

اس سلسلے کی پہلی قسط یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

زار کے عہد میں

1771ء میں [[روس]] نے [[جزیرہ نما کریمیا ]]میں در اندازی کی اور [[سلطنت عثمانیہ|عثمانیوں]] سے ایک معاہدے کے تحت 1772ء سے 1783ء کے دوران یہ علاقہ اس کے زیر تحفظ رہا۔ 1783 میں ملکہ [[کیتھرین ثانی]] نے عثمانیوں سے کیے گئے تمام تر معاہدوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کریمیا کو براہ راست روسی قلمرو میں شامل کر لیا۔
کریمیا اور ملحقہ علاقوں پر روسی قبضے کے بعد وہاں اس طرح کے حالات پیدا کیے گئے تاکہ مسلمان از خود علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔ اس کی وجوہات داخلی سے زیادہ خارجی تھیں۔ کیونکہ [[بحیرہ اسود]] میں بحری قوت کو مضبوط بنانا اور خصوصاً [[قسطنطنیہ]] پر قبضے کے ذریعے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو تقویت دینا روس کا پرانا خواب تھا اس لیے اپنی 'منزل' کو پانے کے لیے پہلی رکاوٹ یعنی کریمیا کو ہٹانا ضروری تھا اور یہ حکمت عملی صرف زار کے عہد میں ہی اختیار نہیں کی گئی بلکہ جب [[جنگ عظیم دوئم]] میں فتح کے بعد توسیع پسندانہ عزائم کو مزید تحریک ملی تو اس خواب کی تعبیر کی ایک مرتبہ پھر کوشش کی گئی اور درحقیقت کریمیائی مسلمانوں کو جبری ہجرت پر مجبور کرنا اسی حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔
اس سلسلے میں سب سے پہلا کام زراعت پر محصولات میں زبردست اضافے کے ذریعے کیا گیا جس کے بعد مذہب کی جبری تبدیلی کے ذریعے مسلمانوں کو زیر کرنے کی کوشش کی گئی جب دونوں حربے ناکام رہے تو آخری حربے کے طور پر غیر مقامی باشندوں یعنی سلافی (slav) نسل کے عیسائیوں کو آباد کرنا شروع کر دیا گیا اور اس پر طرّہ یہ کہ مقامی زمینیں ان نو آباد کاروں کو دے دی گئیں۔ اس سہ طرفہ زیادتی کے نتیجے میں مسلمانوں کی بڑی اکثریت اپنے ہم مذہب اور ہم نسل عثمانی علاقوں کی طرف ہجرت کر گئی جو معاشی طور پر بھی ان کے لیے فائدہ مند تو تھی لیکن اس جبری ہجرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ہی عرصے میں کریمیا مسلم اقلیتی علاقہ بن گیا اور محض 6 سال کے عرصے میں تین لاکھ مسلمانوں کو عثمانی علاقوں کی جانب ہجرت کرنا پڑی[1]۔

انقلاب روس اور ابتدائی خوشگوار دور

اس کے باوجود جو مسلمان وہاں رہ گئے وہ وہ ملوکیت کے جبر تلے گھٹ گھٹ کر جیتے رہے حتیٰ کہ [[انقلاب روس|روس میں انقلاب]] کی صدائیں آنے لگیں۔ کریمیا کے مسلمانوں کے لیے مساوات اور مزدور دوستی کے نعرے بہت خوشگوار تھے اس لیے انہوں نے انقلابیوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعد از انقلاب  مسلمانوں کو اقلیت میں ہونے کے باوجود کریمیا میں خوب مراعات ملیں حتیٰ کہ   Nativization کے عہد میں انہیں جزیرہ نما کریمیا کے اصل باشندے تک قرار دے دیا گیا۔

کشیدگی کا آغاز

لیکن 1930ء کی دہائی میں زراعت کو قومیانے کے عمل نے تاتاریوں کو اشتراکی حکومت سے برگشتہ کر دیا اورحکومت سے ان کے  تعلقات کشیدہ ہونا شروع ہو گئے۔ یہ مسلمانوں پر معاشی صورت میں پہلی ضرب تھی کیونکہ مسلمانوں کا تمام تر انحصار زراعت پر تھا اور اسے قومیانے کا عمل معاشی طور پر تاتاریوں کے قتل عام کے مترادف تھا اس لیے اس کی زبردست مخالفت کی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشیدگی کے باعث  علاقے میں زراعت تباہ ہو کر رہ گئی اور 1932ء میں علاقے میں زبردست قحط آیا جس نے حکومت اور تاتاریوں کے درمیان رہی سہی امیدوں کا بھی خاتمہ کر دیا۔
اسٹالن حکومت کا اگلا ہدف تاتاری ثقافت تھی جو 1935ء میں زیر قبضہ علاقوں کو روسیانے کی پالیسی کا نشانہ بنی۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے ان کے ثقافتی مراکز کو بند کیا گیا اور 1935ء سے 38ء کے دوران کریمیائی تاتاری زبان کے 23 میں سے 14 جرائد و رسائل کو بندش کا سامنا کرنا پڑا[2] ۔ 1937ء اور 38ء کے دوران کئی دانشوروں کو قتل کیا گیا[3]۔ قتل ہونے والے مسلمان دانشوروں میں ولی ابراہیموف اور بکر چوبان زادہ بھی شامل تھے۔

دوسری جنگ عظیم

[[دوسری جنگ عظیم]] سے کریمیا کے تاتاریوں کی تاریخ کا ایک اہم باب شروع ہوتا ہے کیونکہ اس کےدوران روسی اور جرمن دونوں جانب سے تاتاریوں نے جنگ میں حصہ لیا۔ جرمنی نے 1942ء میں کریمیا پر قبضہ کیا لیکن روس کی خفیہ فوج اور اس کےجنگجوؤں کی گوریلا کاروائیاں 1944ء تک جاری رہیں جس کا مقابلہ کرنے کے لیے جرمنی نے مقامی آبادیوں کے تحفظ کے لیے کریمیائی تاتاری جنگی قیدیوں  پر مشتمل ایک مزاحمتی گروپ تشکیل دیا اور یہی وہ جرم تھا جس کی بنیاد پر کریمیا کے تاتاریوں کو تاریخ کے بدترین مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگی قیدیوں نے محض اس بنیاد پر مزاحمتی گروپ میں شمولیت پر رضامندی کا اظہار کیا کہ انہیں کیمپوں کی زندگی سے چھٹکارا ملا اور بہتر غذائی سہولیات بھی میسر آئیں۔
کریمیائی تاتاریوں کے حوالے سے لکھی گئی ایلن فشر کی مشہور کتاب "The Crimean Tatars" کے مطابق بحیثیت مجموعی ان گوریلوں کی تعداد تقریباً 20 ہزار تھی[4]۔جبکہ ان کی مدمقابل روسی افواج میں شامل کریمیائی باشندوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ روسی افواج میں کریمیائی تاتاریوں کی تعداد کا ذرا سا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جنگ کے بعد تاتاری نسل کے 8 فوجیوں کو  Hero of the Soviet Union جیسا اعلیٰ اعزاز بھی عطا کیا گیا۔
اشتراکی روس کے لیے اپنے ہی ملک کی آبادی کا دشمن کے ساتھ مل جانا بہت بڑا صدمہ تھا اس لیے بحیثیت مجموعی پوری کریمیائی تاتاری قوم کو اس کی کڑی سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا اوراس سے کسی کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا ۔ اس سلسلے میں پہلا قدم 1942ء میں اٹھایا گیا جب جرمن، رومانیوں اور یونانیوں کے علاوہ کریمیائی تاتاریوں کے بھی روس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی اور ان کی تمام آبادیوں کو خالی کرا دینے کے احکامات صادر کیے گئے۔
ویسے تو  روس کے کئی علاقوں سے مسلمانوں کو جبری ہجرت کرائی گئی لیکن ان میں سے بیشتر دیہی علاقوں کے رہنے والے تھے لیکن کریمیا کے تاتاری ایک جیتی جاگتی ثقافت رکھتے تھے اور ان کی آبادی کی بڑی تعداد شہری علاقوں میں رہتی تھی [5]اور جدیدیت کی جو تحریک زار روس کے آخری ایام میں روس میں اٹھی تھی وہ بھی کریمیا اور قازان سے اٹھی تھی۔ اسماعیل گسپرالی جیسا عظیم رہنما بھی کریمیائی تاتار تھا جو اپنے کارناموں کے باعث بلاشبہ "روس کے سرسید" کہلانے کے قابل ہے۔

دور ابتلاء

11 مئی 1944ء کو جب روس کی "سرخ افواج" نے جزیرہ نما کریمیا میں آخری جرمن مقبوضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کیا تو اسی روز جوزف اسٹالن کے دستخط کے ساتھ ایک پروانہ (GKO resolution N5859ss)جاری کیا گیا جس میں کریمیائی تاتاریوں کی مکمل آبادی کی جبری طور پر [[ازبکستان]] بے دخل کرنے  کا حکم دیا گیا تھا۔ اس اہم کام کا بیڑا خفیہ پولیس NKVD کے بدنام زمانہ سربراہ لیورنتی بیریا اور عوامی رسد رساں برائے ذرائع نقل و حمل (NKPS) کے جلاد صفت سربراہ لازار کاگانووِچ کو سونپے گئے۔ حکم نامے کے تحت کریمیائی تاتار باشندوں کے گھر، فرنیچر، پالتو جانور اور زرعی زمین و پیداوار روسی حکومت کی ملکیت قرار دی گئی اور ہجرت کرنے والے ہر خاندان کو زیادہ سے زیادہ 500 کلو سامان اٹھانے کی اجازت دی گئی۔ حالانکہ قرارداد کے تحت انہیں گھر کے بدلے میں زر تلافی ادا کیا جانا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک باشندے کو معمولی ادائیگی بھی نہیں کی گئی۔ حتیٰ کہ 1956ء میں روسی حکومت نے واضح و باقاعدہ اعلان کر دیا کہ وہ جبری ہجرت کے دوران جائیداد سے محروم ہو جانے والے کسی بھی کریمیائی باشندے کو کوئی زر تلافی ادا نہیں کرے گی لیکن جائیداد کا کھو جانا ان مسلمانوں کے لیے اتنا بڑا المیہ نہیں تھا جتنا ان کی قومی شناخت اور آبائی زمین چھین لینا تھا۔
20 ہزار کریمیائی گوریلوں کی بڑی تعداد نے تو شکست کے بعد جرمنی میں پناہ حاصل کر لی لیکن مسلمانوں کی بڑی تعداد اب بھی جزیرہ نما میں موجود تھی اور جب قرارداد کی صورت میں ہجرت کا پروانہ جاری ہوا تو بیشتر مسلم آبادی عورتوں اور بچوں پر مشتمل تھی[6]۔ اشتراکیوں نے بلا تخصیص تمام مسلمانوں کو ایسی ٹرینوں میں ٹھونس دیا جن میں شاید جانوروں کو بھی سفر نہ کرایا جاتا ہو۔ جبری ہجرت کا نشانہ بننے والوں میں بچوں، عورتوں اور بزرگوں کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی کے اراکین اور سابق فوجی بھی شامل تھے، جن کا واحد 'قصور' یہ تھا کہ وہ 'باغی' مسلمان تھے۔

جبری ہجرت

جبری بے دخلی کا یہ آپریشن روس کے NKVD اسکواڈز نے کیا جنہوں نے بغیر کو پیشگی نوٹس دیے قصبوں اور دیہات کو خالی کرانا شروع کر دیا اور کریمیا میں تاتاری باشندوں کو صرف پندرہ منٹ میں اپنے گھر خالی کرنے کے احکام دیے گئے[7]۔
ہر مرد بچے اور عورت کو جانوروں کے ڈھونے والی گاڑیوں میں لاد دیا گیا اور ٹرینوں کے ذریعے ازبکستان جا کر چھوڑ دیا گیا۔ دوران سفر غذا اور پانی کی کمی اور صفائی ستھرائی کے انتظامات نہ ہونے کے باعث 45 فیصد افراد رستے میں ہی لقمہ اجل بن گئے۔ نئے مقامات پر پہنچنے کے بعد انہیں خالی و بنجر میدانوں میں لے جا کر چھوڑ دیا گیا جہاں نہ کسی قسم کی رہائش گاہیں نہ تھیں یوں وہ مکمل طور پر مقامی حکومتی عہدیداروں کے رحم و کرم پر تھے اور خیراتی اداروں کے محتاج ہو گئے[8]۔
[[وسط ایشیا]] کی جانب بے دخل کیے گئے ان مہاجرین کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھے۔ اس 'دہشت گردی' کا ایک واضح پہلو "کھلی نسل پرستی" تھا۔ زیر عتاب قومیت سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کو بلا تخصیص رویہ، ماضی و طبقہ اس "جرم" کی سزا دی گئی حتیٰ کہ کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹریوں کے ساتھ ساتھ فنکاروں، مزارعوں اور کارکنوں کو بھی جبراً علاقے سے بے دخل کر کے عقوبت گاہ نما کیمپوں میں مقید کر دیا گیا[9]۔
روسی دستاویزات کے مطابق مارچ 1949ء میں کی گئی مردم شماری میں 9 ہزار ایسے کریمیائی تاتاری نکلے جو سرخ فوج میں خدمات انجام دے چکے تھے جن میں 534 افسران، 1392 سارجنٹ اور 7079 عام فوجی تھے۔ 742 کمیونسٹ پارٹی اراکین بھی ہجرت پر مجبور کیے گئے۔
صرف یہی بات کریمیائی مسلمانوں پر تاریخ کا عظیم ترین ظلم کرنے کے لیے کافی گردانی گئی کہ ان کے ایک چھوٹے سے گروہ نے بیرونی جارحیت کا ساتھ دیا اور اسٹالن اور این کے وی ڈی کے سربراہ لیورینتی بیریا کے ہاتھوں یہ سزا پوری قوم کا مقدر ٹھیری[10]۔

روس بھر میں مسلمانوں کا قتل عام

ملک بھر میں "مادر وطن سے غداری" کے الزام میں جن افراد کو موت کا سامنا کرنا پڑا ان میں سب سے اہم 20 لاکھ روسی مسلمانوں کا قتل عام ہے جن میں چیچن، انگش، کریمیائی تاتاری، تاجک، باشکر اور قازق شامل ہیں۔ آج [[چیچنیا]] میں آزادی کی جنگ لڑنے والے جانباز سوویت عقوبت گاہوں سے بچنے والے افراد ہی کی اولاد ہیں۔
[[اسٹالن]] کے دور میں اپنے ہی عوام پر مسلط کی گئی اس جنگ میں خفیہ پولیس کے اسکواڈ کو جماعت مخالف عناصر کے خاتمے کا حکم دیا گیا اور اسٹالن کے مقرر کردہ جلاد لازار کاگانووِچ نے فی ہفتہ 10 ہزار افراد کے قتل کا ہدف مقرر کر رکھا تھا۔ اس عظیم قتل عام میں [[یوکرین]] سے تعلق رکھنے والے اسی فیصد دانشوروں کو قتل کیا گیا۔ 1932ء اور 33ء کی سخت سردیوں میں یوکرین میں ہر روز 25 ہزار افراد روسی افواج کی گولیوں یا بھوک و سردی سے موت کا نشانہ کنتے۔ مورخ رابرٹ کوئسٹ کے مطابق یوکرین ایک بڑے مذبح  خانے کا منظر پیش کر رہا تھا۔
معروف صحافی ایرک مارگولس 1998ء میں یوکرین کی انہی اقوام گم گشتہ پر قلم اٹھایا۔ "The Forgotten Genocide"  میں مارگولس کہتے ہیں کہ روس بھر میں 70 لاکھ افراد کے اس عظیم قتل عام اور 20 لاکھ افراد کی جلاوطنی کو سوویت پروپیگنڈے کے پردوں میں چھپایا گیا۔ ان میں 30 لاکھ مسلمان بھی شامل تھے جن میں 15 لاکھ کریمیائی اور قازق تھے۔ اس عظیم قتل عام پر بھی ان لوگوں کی یاد میں کوئی "ہولوکاسٹ یادگار" قائم نہیں کی گئی۔
مارگولس کمیونسٹ نواز مغربی دانشوروں کا بھی رونا روتے ہیں کہ انہوں نے روسیوں کے ہاتھوں اس قتل عام کا اقرار نہیں کیا بلکہ اس کےخلاف آواز اٹھانے والوں کو فاشسٹ ایجنٹ کہا۔ امریکی، برطانوی اور کینیڈا کی حکومتوں نے علم ہونے کے باوجود اپنی آنکھیں بند رکھیں حتی کہ امدادی گروپوں کو بھی یوکرین جانے سے روکا گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ جب دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا اور امریکی صدر روز ویلٹ اور برطانوی وزیراعظم چرچل نے اسٹالن سے قربتیں بڑھائیں، اس امر کا علم ہونے کے باوجود کہ اس کے ہاتھ کم از کم 30 لاکھ افراد کے خون سے رنگے ہیں اور یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب ہٹلر نے یہودیوں کے قتل عام کا آغاز بھی نہ کیا تھا۔ تو پھر حیرت ہوتی ہے کہ یہودیوں کے قتل عام کا اتنا واویلا کیوں کیا گیا اور جرمنوں کو مورد الزام ٹھیرا کر اس کا خراج مسلمانوں سے کیوں وصول کیا گیا؟
اسٹالن نے ہٹلر سے تین گنا زیادہ افراد کا قتل کیا اور برطانیہ اور امریکہ کا روس کے ساتھ اتحاد کرنا دراصل اس قتل عام میں شرکت کے مترادف تھا۔

ذرائع ابلاغ کا پروپیگنڈہ

حیرت کی بات یہ ہے کہ سوویت مظالم پر پردہ ڈالنے کی اتنی بھونڈی کوششیں کی گئیں کہ [[ژاں پال سارتر]] اس امر تک سے منکر ہو گئے کہ گولاگ (بطور سزا جبری مشقت کا سوویت طریقہ، Gulag) کا وجود بھی ہے  اور وہ اسے ذرائع ابلاغ کا پروپیگنڈہ قرار دیتے رہے۔ اتحادیوں کے لیے صرف نازی ازم ہی سب سے بڑا شیطان تھا اور اس کے لیے انہوں نے یہودیوں کے قتل عام "[[ہولوکاسٹ]]" کی ترویج کا سہارا لیا اور اس کو اتنا بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا کہ روسیوں کے ہاتھوں کیے گئے قتل عام کہیں چھپ گئے۔ یہودی اپنے عظیم قتل عام کو تاریخ کا منفرد ترین واقعہ سمجھتے ہیں حالانکہ ان سےچند سال قبل روسی علاقوں کے مسلمان کا ان سے کہیں زیادہ منظم قتل عام کیا گیا۔
ادبی و ابلاغی سطح پر حتی کہ فلموں میں بھی یہودیوں کے قتل عام کو نمایاں جگہ دی جاتی ہے۔ یوکرین میں قتل عام کی تصاویر بھی بہت کم موجود ہیں اور اس سے بچنے والے افراد بھی۔ روس نے اپنے کسی جلاد صفت قاتل پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا جیسا کہ جرمنی نے کیا۔
اسی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اب لوگوں کی بڑی تعداد نازی قاتلوں [[ایڈولف ایش مان]] اور ہنرخ ہیملر اور [[بابی جار|بابی یار]] کے بارے میں تو جانتی ہے لیکن اشتراکی جلادوں زیرزنسکی، کاگانووچ، یاگودا، یے زوف اور بیریا کے بارے میں کون جانتا ہے؟ آشوٹز اور دیگر قتل گاہوں کا علم رکھنے والے کتنے لوگ مگادان، کولیما اور وورکوتا کی عقوبت گاہوں کے بارے میں جانتے ہیں؟ نازی شیطانیت کے بارے میں ایک کے بعد ایک فلم جاری کی جاتی ہے لیکن روسی مظالم پر کتنی فلمیں بنائی گئیں؟

مرے وطن تیری جنت میں۔۔۔۔!

نکیتا خروشیف کو اپنی حکومت کے ابتدائی دنوں میں اسٹالن کے بد ترین جرائم سے نمٹنا تھا جو Destalinization کا عہد کہلاتا ہے۔ جبراً بے دخل کی جانے والی اقوام کی آبائی علاقوں کی جانب واپسی کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا تھا اور حکومت کے لیے یہ ایک بڑا درد سر تھا کیونکہ ان افراد کی آبائی علاقوں کی جانب واپسی نسلی بنیادوں پر نئے تنازعات اور فسادات کا باعث بن سکتی تھی۔ جبراُ بے دخل کیے گئے افراد کی ملکیت اور رہائش گاہیں اب دوسرے لوگوں کے زیر تصرف تھیں۔ 1957ء میں جب چیچن، انگش، کراچئی اور بلکار قوموں کے باشندوں کو قفقاز واپسی کی اجازت دی گئی تو انہیں نوآبادکار روسی باشندوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور 1958ء میں گروزنی نسلی فسادات کا نشانہ بنا۔
انہی اقوام گم گشتہ میں سے کریمیا کے تاتاری باشندے بھی شامل تھے جن کی خودمختار ریاست کا خاتمہ کر کے ان کی رہائش گاہیں اور ملکیتیں تک روسی اور یوکرینی باشندوں تقسیم کر دی گئیں۔ 1950ء کے اواخر میں بیشتر اقوام کو "جرائم" سے بری قرار دیتے ہوئے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں رہنے کی اجازت دی گئی لیکن کریمیا کے مسلمانوں کو اس امر کی اجازت نہ دی گئی کہ وہ اپنی آبائی سرزمین پر جا کر رہائش اختیار کریں۔ حتیٰ کہ روس کا خاتمہ قریب آن پہنچا۔ جب 1989ء کے اواخر میں کریمیائی مسلمانوں کے چند ابتدائی خاندان واپس جزیرہ نما پہنچے[11]۔ ۔ ان افراد میں معروف کریمیائی رہنما مصطفی عبد الجمیل قرم اوغلو (مصطفی جمیلوف) بھی شامل تھے۔ آج جزیرہ نما پر بسنے والے کریمیائی تاتاری باشندوں کی تعداد تقریباً 250،000 ہے[12]۔
یہ تاتاریوں کی اس پرامن جدوجہد کا نتیجہ ہے جو انہوں نے دہائیوں تک جاری رکھی۔ اس دوران انہوں نے کریمیائی تاتاریوں کی آبائی سرزمین پر واپسی کےلیے ایک دستخطی مہم بھی چلائی جس میں 30 لاکھ افراد نے دستخط کیے[13]۔

تحقیقات کا آغاز

اب یوکرین کی حکومت نے سوویت جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی یونٹ تشکیل دیا ہے جو قومی سلامتی کے ادارے کے ماتحت ہوگا۔ گو کہ تحقیقات کے نتیجے میں کسی کو سزا ملنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ اس انسانی جرم کے مرتکب افراد میں سے کوئی بھی زندہ نہیں لیکن پھر بھی مصطفی عبد الجمیل کے مطابق اس جرم کی مکمل تصویر عوام کے سامنے لانے کے لیے تحقیقات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
کریمیا کے تاتاری ہر سال 19 مئی کو جبری ہجرت کی یاد میں دن مناتے ہیں۔ اس موقع پر دنیا بھر میں مقیم کریمیائی تاتاریوں کی پرامن ریلیاں منعقد ہوتی ہیں۔

مفید کتابیں

Alan W. Fisher: The Crimean Tatars, Hoover Press, 1978, ISBN 0817966625, 9780817966621

Pavel Polian, Against their Will, History and Geography of Forced Migrations in USSR, Central European University Press, 2004

Allworth, Edward A. (ed.): The Tatars of Crimea: Return to the Homeland (Durham, N.C., and London: Duke University Press, 1998).

Aleksander Nekrich: The Punished Peoples: The Deportation and Fate of Soviet Minorities at the End of the Second World War (New York: Norton, 1978), pp. 13-35

Peter Kenez: A History of the Soviet Union from the Beginning to the End, Cambridge University Press, New York, ISBN 978-0-521-68296-1

Dominic Lieven, The Cambridge History of Russia, Vol. II - Imperial Russia, 1689-1917, Cambridge University Press, New York, ISBN-13 978-0-521-81529-1

Ronald Grigor Suny, The Cambridge History of Russia, Vol. III - The Twentieth Century, Cambridge University Press, New York, ISBN-13 978-0-521-81144-6

The Hidden Ethnic Cleansing of Muslims in the Soviet Union: The Exile and Repatriation... Williams Journal of Contemporary History.2002; 37: 323-347

Ayshe Seytmuratova, 'The Elders of the New National Movement: Recollections', in Edward A. Allworth (ed.), The Tatars of Crimea: Return to the Homeland (Durham, N.C., and London: Duke University Press, 1998)


حوالہ جات

[1] ترکی اور ترک، ثروت صولت، اسلامک پبلیکیشنز

[2] Alan Fisher, The Crimean Tatars Stanford, CA: Hoover Institution, 1978

[3] Alan Fisher, The Crimean Tatars Stanford, CA: Hoover Institution, 1978

[4] Alan Fisher, The Crimean Tatars Stanford, CA: Hoover Institution, 1978

[5] Pavel Polian, Against their Will, History and Geography of Forced Migrations in USSR, Central European University Press, 2004

[6] Brian Glyn Williams, A Homeland Lost. Migration, the Diaspora Experience and the Forging of Crimean Tatar National Identity (Ph.D. diss., University of Wisconsin, 1999)

[7] Ayshe Seytmuratova, 'The Elders of the New National Movement: Recollections', in Edward A. Allworth (ed.), The Tatars of Crimea: Return to the Homeland (Durham, N.C., and London: Duke University Press, 1998), pp. 155-179; 155

[8] The Cambridge History of Russia, Volume III - The Twentieth Century page no. 502

[9] Peter Kenez, A History of the Soviet Union from the Beginning to the End, Cambridge University Press, page no. 148

[10] Aleksander Nekrich, The Punished Peoples: The Deportation and Fate of Soviet Minorities at the End of the Second World War (New York: Norton, 1978)

[11] The Cambridge History of Russia, Volume III - The Twentieth Century page no. 502

[12] "Repatriation of the Crimean Tatars," Forced Migration Monitor, no. 13, September 1996

[13] The Cambridge History of Russia, Vol. III، page no. 229 - 230

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

15 تبصرے

  1. محترم ابو شامل صاحب!

    آپکی تحریر پہ آپکی محنت بلاشبہ داد دئیے جانے کے قابل ہے ۔ اور ہماری دئا ہے کہ اللہ سبحان و تعالیٰ آپ کا قلم مذید اسی طرح مسلمانوں کو خواب گراں سے جگانے کی کوشش کرتا رہے۔ اور اس نیک مقصد میں کامیاب رہے۔آمین

    آپ کی اس تحریر سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو بطور ایک قوم کو کبھی دوسری قوموں اور تہذیبوں پہ اعتماد نہیں کرنا چاہئیے۔ خواہ انکے وعدے اور معائدے کتنے ہی خوشنما کیوں نہ ہوں۔

    جب ان پہ جنگ مسلط کر دی جائے تو مسلمانوں کو بہحثیت قوم ڈٹ جانا چاھئیے خواہ دشمن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اور مسلمانوں کو اس کی کتنی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔اسی میں مسلمان قوموں کا فائدہ ہے۔ ٭خواہ وہ یہ جنگ ہار ہی کیوں نہ جائے ، ایسی صورت میں دشمن کا بھی کافی نقصان ہوتا ہے اور وہ سالوں پھر سے جنگ کی تیاری نہیں کر سکتا۔ اور بہت دفعہ دوبارہ جنگ کی حماقت نہیں کرتا۔ ٭٭جو ناگزیر جنگیں اپنے آپ کو کمزورظاہر کرتے ہوئے وعدوں اور معائدوں سے ٹال دی جائیں وہ نہ کی گئیں جنگیں آگے چل دشمن قوموں کہ ہلہ شیری میں اضافہ اور مسلمان عوام میں اسقدر مایوسی پھیلا دیتی ہیں۔ ٭٭٭ اسکے نتیجے میں بعض اوقات ، آئیندہ کچھ سالوں میں مسلمان قومیں ہی مفقود ہو جاتی ہیں ۔ یا انکی قلمرو ساقط ہو گئیں ۔ خلافت قرطبہ کے حکمران اور قوم ۔ اندلس غرناطہ کی مسلمان قوم وغیرہ وغیرہ ۔ موجودہ

    حال میں جو جنگیں لڑی جاچکی ہیں یا لڑی جارہی ہیں اور جن میں مسلمان اپنے موقف سی ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور انہوں نے اپنے دشمن کو اسقدر الجھا رکھا ہے کہ وہ مزید مسلمان قوموں پہ چڑھائی کے بارے سوچنے پہ مجبور ہو گئے ہیں ۔ اسکی چند مثالیں پیش خدمت ہیں ۔
    ٭نہائت جدید اسلحے اور اس وقت تک سپر پاور روس کی پشت پناہی سے لیس سربوں کے خلاف مسلمان بوسنیا کی کامیاب مزاحمت اور آزاد ریاست کا حصول ۔
    ٭مسلم البانوی قوم کی آزادی اور آزاد ریاست کا حصول ۔
    ٭لبنان پہ اسرائیلی ننگی جارحیت کے خلاف مسلم ملیشاء حزب اللہ کی کامیاب چھاپہ مار جنگ اور دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل اسلحے سے لیس اور امریکہ جیسی دنیا کی واحد سپر پاور کی مکمل پشت پناہی اور تعاون کے باوجود اسرائیلی فوج کی تاریخی شرمناک شکست اور لبنان سے پسپائی ۔
    ٭ نہتے فلسطینیوں پہ غزہ میں اسرائیل کی پوری جنگی طاقت سے چڑھائی اور فلسطینیوں کی بھرپور مزاحمت اور اپنے کاز پہ ڈٹے رہنے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کی ناکامی( اسرائیلی فوج کا ہدف اس جنگ میں فلسطینیوں کی کم اس حد تک توڑنا تھا کہ وہ اپنے نہتے لوگوں پہ انسانیت سوز فوجی دہشت گردی اورمظالم کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں اور اسرائیل کی شرائط پہ صلح کی درخواست کریں ۔ مگر پھر ساری دنیا نے دیکھا اسرائیل اپنے اس مقصد میں بری طرح ناکام ہوا۔)۔
    عراق اور افغانستان میں عددی اور عسکری طور پہ امریکہ اور نیٹو ممالک کی جدید ترین افواجِ قاہرہ کے سامنے عام لوگوں کی نہائیت شدید مزاحمت نے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے مسلمانوں کے معدنی وسائل اور اسلامی تشخص کی وجہ سے مسلمان ممالک پہ سوسالہ قبضے کے منصوبے خواب پریشان میں بدل دئیے ہیں۔
    ٭ کشمیر پہ بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف کشمیروں کی تاریخی جدوجہد اور حصول آزادی کے لئیے اتنی قربانیوں کے باوجود حصول موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹنا۔
    ٭ چیچنیا اور دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کی آزادی کے حصول کے لئیے جدو جہد اور کوششیں ۔

    وہ جنگیں جو لڑی نہ گئیں ۔
    ٭٭ مشرقی پاکستان میں جرنیلوں اور خاص کر جرنل نیازی ی بزدلی کی بدولت ہم ساری دنیا میں شرمسار ہیں ۔ کیا تھا اگر جرنیل بزدلی دکھاتے ہوئے ھتیار پھینکنے کی بجائے بہادری سے لڑتا ہوا مارا جاتا اور شہد کہلواتا ۔ مگر سالوں بعد اپنی طبعی موت سے کچھ عرصہ قبل جرنیل موصوف نے اپنی بزدلی کو مصلحت کا لبادہ چڑھاتے ہوئے بیان دیا ۔ کہ اس نے سابقہ مشرقی پاکستان میں ھتیار اس لئیے پھینکے کہ وہ (جرنل نیازی) وطن واپسی پہ نوے ھزار فوجیوں کی بیواؤں اور یتیموں کا سامنا کرنا کا حوصلہ نہیں پاتا تھا ۔ تب اس جرنل سے یہ پوچھا جانا چاھئیے تھا کہ آپ کی تیاری تنخواہ ۔ اور قوم کا اعتماد کیا آپ سے قوم کی خاطر مرنے یا مارنے کا تقاضہ نہیں کرتا۔ جرنیل نے پیٹھ دکھائی اور بھارت کی وزیزاعضم نے لن ترانی کی کی آج ہم نے نظریہ پاکستان کو بحر ہند میں ڈبو دیا ہے۔ اور بھارت کے حوصلے اس قدر بڑھے کہ وہ اب بقیماندہ پاکستا اور پاکستانی قوم کا تیا پانچہ کرنے کے خواب دیکھنے لگا۔ کیا جرنیل کی بھرپور مزاحمت کے بعد بھارت ایسے خواب دیکھ سکتا تھا۔ـ
    ٭٭اگر جرنل مشرف محض ایک کال پہ ڈر نہ جاتا اور بزدلی کا مظاہرہ نہ کرتا تو امریکہ اسقدر پاکستان کے معاملات میں دخیل نہ ہوتا۔ پابندیاں وغیرہ ہم پہ ضرور لگتیں ۔ مگر ایران اور شمالی کوریا کیوبا شام وغیرہ کی طرح ہم بھی زندہ رہنے کے بعد امریکہ وغیرہ کی طرف سے خود سے باہمی برابری کی سطح پہ تسلیم کرتے ہوئے اختلافات پہ گفت و شنود کے لئیے مدعو کیے جاتے اور عالمی برادری میں امریکن پٹھو نہ جانے جاتے جن کی ایک بھکاری سے بڑھ کر کوئی اوقات نہیں۔

    ٭٭٭خلافت قرطبہ کے حکمران اور قوم ۔ اندلس غرناطہ کی مسلمان قوم وغیرہ وغیرہ ۔

  2. آپ کی دونوں پوسٹس نہایت میعاری اور معلوماتی تھیں خاص کر گذشتہ تحریر پر سیر حاصل تبصروں سے بھی کئی تاریخی پہلو نمایاں ہوئے. اللہ آپ کو جزائے خیر دے

  3. عبداللہ says:

    بہترین تحاریر اور سب سے اچھی بات یہ لگی کہ آپ حقائق سے نظر نہیں چراتے اور ہم مسلمانوں میں جو خامیاں رہی ہیں ان سے صرف نظر نہیں کرتے حقیقت تو یہ ہے کہ علمائے سو نے نام کے خلیفہ اور اصل میں بادشاہوں کے لیئے دین میں جو رد و بدل کیا اور جس طرح غلامی کو جائز قرار دیا یہ سب اسی کا شاخسانہ ہے ورنہ اسلام تو آیا ہی غلامی کو ختم کرنے کے لیئے تھا،
    ایک بات بے حد عجیب لگتی ہے کہ جب یہ یورپیئن اور رشیئن ہستری میں یہ سب موجود ہے تو پھر اس سے پہلے کسی مسلمان تاریخ دان کو اس حوالے سے تحقیق کرنے یا کم سے کم ان ہی کتابوں کے ترجمعے کا خیال کیوں نہیں آیا،صرف ایک ہی کتاب ہے اور یہ بھی غالباحال ہی میں شائع ہوئی ہے خیر دیر آئد درست آئد اللہ آپکے قلم کو مزید طاقت عطا فرمائیں،آمین،آپکی آئندہ تحریروں کا انتظار رہے گا،امید ہے پچھلے تبصرے کی طرح اسے مٹائیں گے نہیں 🙂

  4. جاوید صاحب! مفصل تبصرے کا بہت شکریہ، آپ کے لفظ لفظ سے اتفاق ہے۔ جنگ کی خواہش نہ کرنا اور اگر جنگ کی صورت پیش آ جائے تو میدان میں پیٹھ نہ دکھانا مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔
    راشد صاحب! پسندیدگی کا شکریہ۔ واقعی ان مضامین کا نچوڑ دراصل تبصرے تھے اور امید ہے کہ قارئین اپنے ان تبصروں سے اس ناچیز کے علم میں اضافہ کرتے رہیں گے۔
    عبد اللہ صاحب! اصل میں کتاب طلب پر چھپتی ہے۔ اب آپ تاریخ عرب اور تاریخ ہندوستان کو ہی لے لیں، اس پر آپ کو سینکڑوں کتابیں ملیں گی کیونکہ لوگ اس پر پڑھنا چاہتے ہیں لیکن وسط ایشیا اور مشرقی یورپ کے بارے میں اتنا مواد اس لیے موجود نہیں کیونکہ اس کی طلب کم ہی ہوتی ہے۔ ثروت صولت صاحب کی "ترکی اور ترک" حال ہی میں نہیں شایع ہوئی اس کو چھپے ہوئے کم از کم چار دہائیاں تو گزر چکی ہوں گی۔ ویسے اس کتاب میں کریمیا کے مسلمانوں کا ذکر سرسری طور پر ہی تھا۔ علاوہ ازیں آباد شاہ پوری کی ایک کتاب "روس میں مسلمان قومیں" تلاش کر رہا ہوں، کہیں سے نہیں مل رہی۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ اس موضوع پر بہت اچھی کتاب ہے۔
    دعاؤں کا بہت شکریہ لیکن آپ نے آخر میں ڈنڈی ماری ہے 🙂 میں انتہائی ذمہ داری کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ میں نے آج تک کسی بھی تبصرہ نگار کا کوئی تبصرہ بلاگ سے نہیں مٹایا۔ میں خود آزادی اظہار رائے کا قائل ہوں، اس لیے تمام تبصروں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ البتہ اخلاق سے گرے ہوئے یا گالم گلوچ پر مشتمل تبصرے حذف کرنے کا حق رکھتا ہوں لیکن الحمد للہ اس کی کبھی نوبت نہیں آئی۔ امید ہے آپ اس مغالطے میں نہیں رہیں گے۔

  5. جعفر says:

    بہت اعلی۔۔۔
    آپ کی محنت اور عرق ریزی کی داد دیتا ہوں۔۔۔

  6. عبداللہ says:

    ہو سکتا ہے کہ وہ تبصرہ سہو میں رہ گیا ہو جب اپ بلاگ منتقل کررہے تھے اس وقت، خیر کوئی بات نہیں،پہلے تو آپ کا شکریہ کہ اپ نے ایک اچھی کتاب کا نام بتایا میں کچھ عرصہ میں پاکستان جانے والا ہوں انشاءاللہ وہاں اسے ضرور ڈھونڈوں گا،دوسری بات آپ نے صحیح کہا طلب نہ ہونا اس کی وجہ ہو سکتی ہے اور اس کی بڑی وجہ لوگوں کو اتنا علم نہ ہونا، آپ یقین کریں میں اکثر جب رشیا سے آزاد ہوئی مسلم ریاستوں کے بارے میں پڑھتا تھا تو یہ بات دماغ میں آتی تھی کہ ان کی بھی تو کوئی نہ کوئی اسلامک تاریخ ہوگی، ترکوں کے حوالے سے تو تاریخ بھری پڑی ہےمگر ان ریاستوں کا کوئی حوالہ نہیں ملتا کم سے کم اردو میں،مسلم ھولو کاسٹ پر بھی آپ نے خوب روشنی ڈالی ہمارے مسلمانوں میں بھی بہت سےا یسے ہیں جنہیں وہ ظلم تو ظلم لگتا ہے اور ہوگا بھی اور اس پر جان توڑ بحثیں کی جاتی ہیں مگر جو مسلمانوں پر بیت گیا خواہ اس کی وجہ ہمارے اعمال ہی رہے ہوں ان پر نہ کوئی دکھ ہے نہ تکلیف،بہر حال ایک بار پھر شکریہ

  7. فیصل says:

    معلوماتی تحریر کےلئے بہت بہت شکریہ.
    نیٹیوائزیشن کیلئے مقامیانے کا لفظ استعمال ہو سکے شائد.
    فونٹ مسئلہ کر رہا ہے، تبدیل کر لیجئے. شکریہ۔
    اسکے علاوہ کمنٹ باکس کے مسئلے کی وجہ سے اب پی سی کا اردو کی بورڈ استعمال کر رہا ہوں۔
    اس ساری کہانی سے ایک بات تو کم از کم واضح ہوتی ہے. جیسے یہود کی قوم کے سارے مرد فراعین کے ہاتھوں قتل ہو جاتے تھے کہ کوئی لیڈر شپ پیدا نہ ہوسکے اسی طرح اس قوم میں بھی لیڈرشپ پا فقدان نظر آتا ہے یا کم از کم آپکی تحریر اس حوالے سے کچھ تشنہ ہے۔ ایک اشارہ اس طرح ملتا ہے کہ کچھ لوگ تو روسی افواج کی نوکری کرتے تھے اور کچھ لوگ جرمن افواج سے جا ملے ورنہ کم از کم اس پر کوئی متفقہ فیصلہ لے لیا جاتا۔
    اسکا دوسرا پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ قوم تو پوری طرح بیدار تھی اور جرمنوں کا ساتھ بھی دیا لیکن کچھ میر جعفر ان میں تھے جو نان نفقے کے چکر میں پہلے روسی اور پھر جرمن فوج کے لئے لڑے اور اسی ٹولے کا خمیازہ باقی ساری قوم نے بھگتا۔

    • فیصل بھائی! سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ تبصرہ خانے میں کیا مسئلہ ہے؟ فائر فاکس اور انٹرنیٹ ایکسپلورر پر تو میں نے چیک کیا ہے درست کام کر رہا ہے۔ اس بارے میں ذرا کچھ تفصیلاً بتائیے۔ اور فونٹ کا کیا مسئلہ ہے؟ میں جمیل نوری نستعلیق استعمال کر رہا ہوں کیونکہ یہ علوی نستعلیق کے مقابلے میں بہت کم مسائل پیدا کرتا ہے اور تقریباً تمام مشہور براؤزرز میں اچھے نتائج دیتا ہے۔ اسٹائل شیٹ میں فونٹ کی ترتیب کچھ یوں ہے: جمیل نوری نستعلیق، علوی نستعلیق، نفیس ویب نسخ، اردو نسخ ایشیا ٹائپ، ٹاھوما، ساں سیرف۔
      اب آتے ہیں تحریر کی طرف۔ بلاگنگ کرنے کا فائدہ یہی ہے کہ قارئین تحریر پر کئی زاویوں سے نظریں ڈالتے ہیں اور اس کے نتیجے میں معلومات میں کافی اضافہ ہوتا ہے۔ اس تحریر پر پہلے بھی بہت سیر حاصل تبصرے کیے گئے ہیں اور آپ کے تبصرے نے بھی ایک اہم پہلو پر روشنی ڈالی ہے۔
      زار کے عہد کے آخری ایام میں کریمیا کے مسلمانوں میں زبردست شخصیات پیدا ہوئیں جن میں اسماعیل گسپرالی سب سے نمایاں ہیں۔ گو کہ انہوں نے ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی اختیار نہیں کی لیکن وہ مسلم علاقوں کو روسیانے کی پالیسی کے شدت سے مخالف تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ایسی ترک زبان کی تشکیل کے لیے کام کرنا تھا جو قسطنطنیہ سے لے کر کاشغر تک کے ترک باشندوں کو قریب لانے کا باعث بنے اور انہوں نے اس پر کام بھی کیا لیکن بعد ازاں اتاترک کی "اصطلاحات" اور پھر روس کی جانب سے مسلمانوں کی زبانوں کو سیریلک رسم الخط میں بدلنے کے اعلانات نے صورتحال بدل ڈالی۔ یہ حقیقت ہے کہ کریمیا کے تاتاری مسلمان چونکہ زار کے مظالم کے باعث انقلاب کے حامی تھے اس لیے انقلاب روس کے بعد وہ بڑی تعداد میں فوج میں بھی شامل ہوئے لیکن حکومتی اقدامات نے عام افراد کو بڑے پیمانے پر برگشتہ کیا۔ مسئلہ دراصل یہ تھا کہ مسلمانوں کا پیشہ زراعت تھا، جسے سوویت حکومت نے قومیا لیا، اس طرح وہ شدید مسائل سے دوچار ہوئے اور اسی کے نتیجے میں یوکرین کا وہ عظیم قحط بھی آیا جس میں ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے۔ دوسری جانب واقعتاً اس وقت مسلمانوں میں کوئي ایسی شخصیت نہیں تھی جو ان کی درست سمت میں رہنمائی کرتی نتیجتاً وہ تمام لوگ جو جرمنوں نے جنگی قیدی بنالیے "رہائی" کے لیے روسی چھاپہ ماروں کے خلاف اپنے علاقوں کی حفاظت پر مجبور ہو گئے اور یوں یہ دفاعی جنگ ان کا سب سے بڑا جرم قرار پائی۔ یہ ایک قلیل سے گروہ کی مجبوری تھی اور اتنا بڑا جرم نہ تھا کہ اس کی سزا بحیثیت مجموعی پورے ایک نسلی گروہ کو دی جاتی۔ بعد ازاں روس نے اس امر کو قبول کیا کہ کریمیا کے تاتاری مسلمانوں پر لگائے گئے الزامات درست نہ تھے لیکن صرف قسادات کے خدشے کے پیش نظر انہیں اپنے آبائی وطن میں واپسی کی اجازت نہیں دی گئی۔ صرف کریمیا کے تاتاری مسلمان کیا؟ سوویت عہد میں ہر نسل کے مسلمانوں کا بدترین استحصال کیا گیا۔ ثقافت اور مذہب سے استوار ان کے رشتوں کو کاٹ کر رکھ دیا گیا۔
      مضمون واقعی بہت تشنہ ہے لیکن میں اسے حد سے زیادہ طول نہیں دینا چاہتا تھا کہ قارئین کی طبع نازک پر گراں نہ گزرے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے دونوں اقساط میں روابط (لنکس) اور حوالے (ریفرینسز) دیے گئے ہیں۔ مزید معلومات کے خواہشمند ان سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

  8. فیصل says:

    مفصل جواب کا شکریہ فہد بھائی
    فونٹ کا مسئلہ یہ کہ کبھی کبھار آدھی سطر غائب ہو جاتی ہے اور کبھی ہائی لائٹ یعنی دایاں کلک اور سیلیکٹ کرنے سے نظر آ جاتی ہے کبھی نہیں. یہ مسئلہ آپکے نہیں بلکہ کئی دوسرے بلاگز میں بھی دیکھا ہے. اب نظر آیا تو مزید تفصیل یعنی سطر نمبر کےساتھ بتاؤنگا.
    کمنٹ..... چلیے جی مسئلہ شروع. آدھے آدھے حرف نظر آ رہے ہیں یعنی صرف اوپر کا حصہ
    انٹر کرنے کے بعد ہی پوری سطر واضح ہوئی.
    کمنٹ باکس کا یہ مسئلہ تھا کہ لکھتا کچھ تھا اور لکھا کچھ اور جا رہا تھا یعنی کی بورڈ کا کی میپ ہی تبدیل ہو گیا تھا. آج تو ٹھیک ہے ویسے.

  9. اوہووووو!! فیصل بھائی مسئلہ سمجھ گیا ۔ یہ اصل میں بلاگ کا نہیں بلکہ علوی نستعلیق فونٹ کا مسئلہ ہے۔ اسی وجہ سے میں نے اپنے بلاگ پر جمیل نوری نستعلیق کو ترجیح دے رکھی ہے۔ جمیل میں اس طرح کے مسائل کم آتے ہیں جبکہ علوی میں بہت زیادہ۔
    آپ ایسا کریں اپنے کمپیوٹر پر جمیل نصب کر لیں۔ جمیل کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ لینکس پر بھی خوب چلتا ہے۔ اوپن آفس میں بھی اس کے نتائج 100 فیصد ہیں، باقی گمپ اور انک اسکیپ میں تو دونوں خوب چلتے ہیں۔
    یہ مسئلہ دونوں فانٹس میں ہے کہ لائن گر جاتی ہے۔ علوی میں زیادہ ہے لیکن جمیل میں کم۔ اس لیے میں جمیل کو ترجیح دیتا ہوں۔

  10. سید سلمان رضوی says:

    شاندار مضمون ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہوتا ہے ہہ مسلمان اپنی تاریخ سے بخوبی واقف نہیں۔ ایسے موضوعات پر لکھنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ نوجوان ان باتوں سے واقف ہو سکیں گے جن کو جدید کتب میں موضوعِ بحث نہیں بنایا جاتا۔

  11. سلمان رضوی صاحب! بلاگ پر آپ کا تبصرہ میرے لیے باعث مسرت و فخر ہے۔ زیادہ خوشی اس بات کی بھی ہے کہ آپ کی جانب سے سند مل گئی ہے۔ میں جلد اس مضمون کو اردو وکیپیڈیا کے انداز میں ڈھال کر پیش کرنے کا خواہشمند ہوں۔ وہاں آپ کا تعاون درکار ہوگا۔ بلاگ پر آمد کا بہت شکریہ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *