کیا آپ کو یہ کمال حاصل ہے؟

پاکستان میں اک نیا رحجان پنپ رہا ہے، وہ ہے ذرائع ابلاغ کی مذمت۔ کہاں وہ پرویز مشرف دور کا زریں عہد تھا کہ ہر کوئی ذرائع ابلاغ کے گن گاتا تھا اور کہاں آج کے دن کہ جہاں کسی محفل میں کوئی موضوع زیر بحث بنا ، محض ایک دو باتوں کے بعد تان ذرائع ابلاغ پر جا ٹوٹتی ہے کہ یہ سب میڈیا کا کیا دھرا ہے، اس نے یہ کر دیا، اس نے وہ کر دیا۔ اس بہتی گنگا سے بچنے کی ہم حتی الامکان کوشش کرتے ہیں لیکن آخر کب تک؟ بالآخر یہ ہمارا شعبہ ہے اور اس کی زبوں حالی پر دل تو کڑھے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ 'پہلے سے مراسم بھی نہیں'، کہاں وہ ابلاغی ادارے تھے کہ لوگ زبان و بیان کی درستگی اور تلفظ کی بہتری تو کرتے ہی تھے لیکن ساتھ ساتھ ذخیرۂ الفاظ میں اضافے کے لیے بھی اسی سے استفادہ کرتے تھے اور کہاں یہ عالم کہ تمام بنیادی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خبر کو عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ آج سے 20 سال قبل کس نے تصور کیا ہوگا کہ خبر کو پیش کرنے کے لیے آپ کو صرف ایک 'ہنر' پر کمال حاصل کرنا ہوگا اور وہ یہ کہ آپ کو صورتحال کے اعتبار سے ایک انڈین گانا آنا چاہیے۔ بس!

خبر کی نوعیت چاہے کتنی ہی سنجیدہ کیوں نہ ہو؟ اس پر ایک واہیات سا گانا جوڑیے اور خبر تیار۔ اچھی بھلی سنجیدہ خبر اس بے حسی کی نذر ہو جایا کرتی ہے۔

بدقسمتی سے معاملہ صرف یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب تو ایسی خبریں تلاش کی جاتی ہیں جن پر کوئی گانا فٹ بیٹھ سکے۔ صرف ایک واہیات سا ہندوستانی گانا فٹ کرنے کے لیے ایسا واقعہ تلاش کیا جاتا ہے، جو اس کے "عین مطابق" ہو اور پھر اس خبر کو ناظرین کے ذہنوں پر سوار کر دیا جائے گا۔

الیکٹرانک میڈیا کے ظہور سے اک اور نقصان یہ ہوا کہ پرنٹ میڈیا کی وقعت کم ہو گئی، اور بھاری تنخواہوں کے باعث اک بڑی اکثریت جدید صنف کی جانب ہجرت کر گئی جہاں کام کرنے کا انداز اور ماحول بالکل مختلف ہے نتیجتاً مقدار کے ساتھ ساتھ معیار بھی گرتا چلا گیا اور آج پاکستانی میڈیا زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں ہے یعنی بقول شاعر: نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو، ترس گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

7 تبصرے

  1. مختصر مگر جامع تحریر۔۔۔۔۔اس تحریر سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے ذرائع ابلاغ اپنے حقیقی مقصد(حقائق کو عوام کے سامنے من و عن پیش کرنا) سے قطع نظر، اپنے ادارے کی رینکنگ بڑھانے اور دولت کمانے کےدر پہ ہے۔ جو کہ افسوسناک امر ہے۔۔۔ گانوں کا اہتمام بھی ناظرین کے ذوق کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے۔ میوزیکل خبر بڑی "پرکشش" لگتی ہے۔ اور اب تو ہر نیوز چینل خبر کے ساتھ ساز باز ضروری خیال کرتا ہے۔

  2. مانی says:

    پاکستانی میڈیا پستی کی اس حد کو چھو رہا کہ مستقبل قریب کا کوئی مورخ جب تجزیہ کرے گا تو یہ ضرور کہے گا ، "میڈیا ہائوسز،"کوٹھے" اور صحافت "طوائف کا مجرا" بن چکی۔۔۔ لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ابھی تک کئی آشفتہ سر مِٹی کی محبت میں واجب الادا قرض کے علاوہ بھی اتار رہے ہیں۔ بہت سوں کی دیانت و صداقت پر انگلی اٹھانا مشکل ہوتا ہے۔

  3. مختصر مگر خوب لکھا ، سوائے پرویز مشرف دور کا" زریں عہد "تھا ۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان میں ضمیر فروشی کی عالمی منڈی کھلنے، قومی لوٹ مار اور یا میڈیا سمیت ہر فورم پر فحاشی و عرنایت کی پذیرائی کے حوالے سے وہی دور بدترین تھا، جسے "زریں" نہیں کہا جا سکتا ۔۔ خوش آباد

  4. سعید says:

    مختصر پر بہت عمدہ........آپ تو پھر بھی غنیمت ہیں ہمارا کیا حال ہوتا ہوگا جب ہمیں ہندی میڈیا جھیلنا پڑتا ہوگا.......وہ تو اس سے زیادہ اتھاہ گہرائیوں میں ہے

  5. یہی تو ایک مسئلہ ہے۔ پاکستان کی تقریبا نوے فیصد آبادی کو کوئی بھی خبر میڈیا کے ذریعے ہی ملتی ہے۔ اور عوام کو خبر میڈیا والے اپنی مرضی سے رٹاتے ہیں۔ اور پھر ہمیں وہ خبر ایسے ہی یاد ہوتی ہے جس طرح میڈیا چاہتا ہے۔ یہ آزادی نہیں جانبداری ہے۔ ہر چینل والے کے اپنے مفاد اور مقاصد ہیں اور انہیں کے پیشِ نظر خبریں بھی دی جاتی ہیں۔

  6. چند دن پہلے ایک خبر پڑھی کہ قربانی کے جانور نے اپنے مالک کی جان لے لی۔ خبر کچھ اس انداز سے دی گئی کہ پہلے میری ہنسی نکل گئی، بعد میں مجھے خود افسوس ہوا کہ یہ میں کیا کر رہا ہوں 🙁 خبر دینے کا یہ طریقہ واقعی برا ہے

  7. ساجد says:

    آپ کی تحریر کابلے تعریف ہے 🙂

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.