اسامہ کی ایبٹ آباد میں ہلاکت: حقیقت یا افسانہ

الیکٹرانک میڈیا میں خبر کے ساتھ فوٹیج کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔اگر کوئی رپورٹر صرف خبر دے اور ساتھ اس کی فوٹیج نہ ہو تو ایسی خبر زیادہ توجہ حاصل نہیں کرپاتی ہے۔

امریکی صدر باراک اوبامہ نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا اعلان کیا تو خیال تھا کہ جلد ہی اس حوالے سے تصاویر اور فوٹیج بھی جاری کردی جائیں گی۔لیکن پھر وائٹ ہاؤس نے یہ اعلان کیا کہ اسامہ بن لادن کی تصاویر اس لیے نہیں جاری نہیں کی جائیں گی کیونکہ اس سے مسلم ممالک میں اشتعال پھیل سکتا ہے۔امریکی انتظامیہ کے اس بیان سے قطع نظر ماضی میں امریکا اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے بعد ان کی تصاویر یا ویڈیوز جاری کرتا رہا ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال عراقی صدر صدام حسین ہیں۔ دسمبر 2003ء میں صدام حسین کی گرفتاری کی ویڈیو بڑے فخر اور غرور کے ساتھ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کی گئی تھی۔

پھر جب صدام کو جب 2006ء میں پھانسی دی گئی تو ایک پھر یہ مناظر دنیا بھر میں نشر کیے گئے۔

اسی طرح جب جون 2006ء میں عراق میں القاعدہ کے رہنما ابو مصعب الزرقاوی ایک کاروائی میں جاں بحق ہوئے تو ان کی تصویر بھی میڈیا کے سامنے بڑی خوبصورتی کے ساتھ فریم کراکے پیش کی گئی۔ صدام حسین اور ابومصعب کی یہ تصاویر اور ویڈیوز ایک ایسے وقت جاری کی گئیں جب امریکی افواج عراق میں سخت نقصانات اٹھارہی تھیں۔ اگر امریکیوں کو مسلمانوں میں اشتعال پھیلنے کی اتنی ہی فکر ہوتی تو نہ وہ عید کے دن صدام کو پھانسی دیتے اور نہ ہی صدام اور زرقاوی کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کرتے۔ اگست 2009ء میں امریکی جاسوس طیاروں نے تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود کو نشانہ بنایا تو ان کی لاش کی ویڈیو بھی جلد نشر کردی گئی۔

ابومصعب الزرقاوی

سرد جنگ کے زمانے میں جب امریکی سی آئی اے کی رہنمائی میں بولیویا کی افواج نے معروف سوشلسٹ مزاحمت کار چی گویرا کو اکتوبر 1967ء میں گرفتاری کے بعد قتل کیا تو امریکیوں نےان کی لاش کی تصاویر بنا کر ساری دنیا میں نشر کیں۔

اس حقیقت کے علاوہ اسامہ بن لادن کے اب تک زندہ رہنے کا معاملہ بھی کافی بحث طلب ہے۔ ماضی میں متعدد عالمی شخصیات اسامہ کی طبعی موت کے حوالےسے اظہار کرتے رہی ہیں۔ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے عہدہ صدرات کے دوران جنوری 2002ء میں امریکی ٹی وی سی این این کو انٹرویو میں کہا کہ ان کے خیال میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ اسامہ کا انتقال ہوچکا ہے۔اسامہ گردوں کے مریض تھے اور انہیں علاج کی سہولیات میسر نہ تھیں۔پرویز مشرف نے کہا کہ اسامہ دو ڈائیلیسز مشینیں افغانستان لے کر گیا تھا۔جن میں سے ایک خاص طور پر اس کے ذاتی استعمال کے لیے تھی۔

اسی سال جولائی 2002ء میں امریکی ایجنسی ایف بی آئی کےانسداد دہشت گردی کے شعبے کے سربراہ ڈیل واٹسن نے اس بات کا اظہار کیا کہ ان کے خیال میں غالباً اسامہ بن لادن کا انتقال ہوچکا ہے۔ڈیل واٹسن نے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اسامہ زندہ ہے یا اس کا انتقال ہوچکا ہے میں اس کے جواب میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا تاہم میرا ذاتی خیال ہے کہ اب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہے لیکن اس بات کو ثابت کرنے لیے میرے پاس کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔

اکتوبر 2002ء میں افغان صدر حامد کرزئی نے سی این این کے پروگرام لیٹ ایڈیشن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسامہ بن لادن غالباً انتقال کرچکا ہے لیکن ملا عمر زندہ ہے۔اور ہم کئی بار ان کو گرفتار کرنے کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن ملا عمر بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔

دسمبر دو ہزار ایک میں فاکس نیوز نے پاکستان آبزرور کے حوالے سے یہ خبر دی تھی کہ گردوں کا علاج نہ ہونے کے باعث اسامہ بن لادن کی موت واقع ہوچکی ہے۔طالبان ذرائع کے حوالے سے دی گئی خبر میں دعوٰی کیا گیا تھا کہ اسامہ گردوں کے مریض تھے اور علاج نہ ہونے کے سبب ان کا تورا بورا کے پہاڑوں کے قریب انتقال ہوگیا۔تدفین سے قبل ان کا چہرہ زردی مائل لیکن پرسکون تھا۔ان کی نماز جنازہ میں ان کے خاندان کے افراد، قریبی ساتھی اور بعض سینئر طالبان رہنما بھی شریک ہوئے۔

2007ء میں پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسامہ کو عمر شیخ نے قتل کردیا تھا۔

اب ایک ایسے وقت جب کہ امریکی صدر اس بات کا اعلان کررہے ہیں کہ اسامہ کو ایبٹ آباد میں کاروائی کے دوران ہلاک کیا گیا ہے تو بعض حلقے یہ سوال بھی اٹھارہے ہیں کہ اسامہ کی لاش کو اتنی عجلت میں سمندر برد کیوں کیا گیا۔؟؟َاور کیا اسامہ کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوت ذرائع ابلاغ کو پیش کیے جائیں گے؟؟؟

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

6 تبصرے

  1. ابوشامل says:

    اسد، طویل عرصے کے بعد تحریر کے ذریعے واپسی پر خوش آمدید 🙂
    حقیقت یہی ہے کہ اس معاملے میں بہت سارے جھول ہیں، اور یہی کمزوریاں واقعے کو متنازع بنا رہی ہیں۔ تاہم ہمارے لیے جو سب سے اہم پہلو ہیں وہ ہیں نام نہاد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کا کردار اور مستقبل اقوام عالم میں پاکستان کی حیثیت کا تعین، اور اس پر محب وطن حلقہ بہت تشویش کا شکار ہے۔ اب پاکستان کو ایک نہیں بلکہ اندرونی و بیرونی کئی دشمنوں سے نبرد آزما ہونا پڑے گا۔

  2. میرے خیال میں ابھی وہ ایسی ویڈیو یا پھر فوٹو تیار کر رہے ہیں جو یہ بتا سکے کے یہ اسامہ کی ہے اس کے تیار ہونے کے بعد ہی منظر عام پر لائیں گے

  3. اقبال جہانگیر says:

    اسامہ کی موت سے القائدہ کی طرف سے شروع کیا ہوا ، دہشت گردی و قتل و غارت گری کا ایک باب اختتام پزیر ہوا۔ القائدہ اور طالبان کے وجود مین آنے پہلے پاکستان مین تشدد اور دہشتگردی نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ القائدہ نے طالبان کے ساتھ مل کر قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم کر دیا، کاروبار کا خاتمہ ہو گیا،مسجدوں،تعلیمی اداروں اور بازاروں مین لوگوں کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے اور پاکستان حیرت و یاس کی تصویر بن کر رہ گیا۔ پاکستانی معیشت تباہ ہو گئی اور اس کو ۴۵ ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
    حقیقت ہے کہ اس دہشت گردی کا زیادہ نشانہ خود مسلمان بنے۔ صرف پاکستان میں 35ہزار سے زیادہ انسان دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔سعودی عرب‘ یمن‘ سوڈان‘ عراق اور متعدد دیگر مسلمان ملکوں میں ان گنت افراد جان سے گئے۔ اسامہ خود تو ختم ہو گئے مگر پاکستان لئے دہشت گردی اور نفرتوں کے اثرات چھوڑ گئے‘ جو نہ جانے کب تک ہمیں مشکلات میں مبتلا رکھیں گے۔
    تشدد اور دہشت گردی کا راستہ کبھی آزادی اور امن کی طرف نہیں لے جاتا۔ تشدد کرنے والے بھی اسی طرح کے انجام اور سلوک سے دوچار ہوتے ہیں‘ جو وہ اپنے مخالفوں کے ساتھ روا ر کھتے ہیں۔
    اسامہ اور القائدہ لازم ملزوم تھے، اس کے جانے سے القائدہ کی ریڑہ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس کا خاتمہ یقینی ہو گیا۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ اسامہ میدان جنگ سے دور ایبٹ ٓباد کے ایک پر تعیش بنگلے مین چھپا بیٹھا تھا۔مزید براں قتل و غارت گری کرنے والوں کی زندگی لمبی نہیں ہوتی اور ان کی موت اسی طرح واقع ہوتی ہے۔
    اسامہ بن لاڈن سالہا سال سے پاکستان مین تھا اور طالبان نے اسے تحفظ فراہم کیا ہوا تھا۔ لگتا ہے انہیں نے پیسے کی خاطر اسامہ کی مخبری کر دی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے والا اپنے انجام کو پہنچا۔ اب القائدہ کے دوسرے چھوٹے موٹے لیڈران ،طالبان سے خوفزدہ رہین گے۔ طالبان نے پیسے کی خاطر اسامہ کو بیچ ڈالا اور اب ڈرامے بازی کر رہے ہین۔
    میرے خیال مین اسامہ کے ٹھکانہ کے اخفا کے معاملہ مین الاظواہری اور پاکستانی طالبان ،دونوں ملوث ہین۔ ظواہری ،اسامہ سے مصر کے معاملہ پر بیان نہ دینے کی وجہ سے ناخوش تھا۔ یاد رہے مصری ہونے کی وجہ سے ظواہری کی مصر سے جذباتی وابستگی ہے۔ ظواہری اقتدار کا بھوکا ،لالچی اور غیر وفادارشخص ہے اور ہمیشہ مصریوں کو آگے لانے کی کوشش میں رہتا ہے۔ مزید بران اگر الظواہری کی گذشتہ ۵ تقریروں کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ظواہری اپنے آپ کو ایک بڑے رول کے لئے پوزیش position)کر رہے ہین۔یہ ظواہری گروپ تھا جس نے اسامہ کو قائل کیا کہ وہ قبائلی علاقہ چھوڑ کر ایبٹ آباد منتقل ہو جائین۔ سیف العدل،کی ایران سے واپسی پر ،اسامہ کو ختم کرنے کا ایک منصوبہ بنایا گیا۔ اسامہ کی ہلاکت سے پہلے ہی القائدہ مین پھوٹ پڑ چکی تھی اور القائدہ دو گروپوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ القائدہ کا تکفیری گروپ اسے کنٹرول کر رہا تھا۔
    جعفر از بنگال و صادق از دکن
    ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن
    یہ شعر ملک و ملت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے انہی دو غداروں میر جعفر اور میر صادق کے متعلق ہے، آج بھی دنیا ایسے ہی بدبخت اور روسیاہ غدار موجود ہیں جن پر یہ شعر صادق آتا ہے ۔مسلمانوں مین میر صادق اور میر جعفر جیسے لوگوں کی کمی نہ ہے، عباسی وزیر، ابن علقمی منگولوں سے مل گئے اور سقوط بغداد کا سبب بنے۔ ہمیشہ اس قبیل کے لوگوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔اسامہ بن لادن بھی اپنے بھیدیوں کی وجہ سے مارا گیا۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔
    میرے خیال میں یہ لوگ ہین الظواہری اور طالبان جنہوں نے ذاتی جاہ و اقتدار ، حسد ،مخاصمت اور پیسے کے لالچ مین اسامہ کی مخبری کر دی۔اپنے آپ کو پاک صاف ظاہر کرنے کے لئے طالبان اب ڈرامہ بازی کر رہے ہین۔
    اسامہ کے جانے سے القائدہ کے مصری اور دوسرے گروپوں مین جانشینی کا جگھڑا اٹھ کھڑا ہو گا اور الظواہری ، جانشین بننے کی پوری کوشش کرے گا۔ ظواہری ، اسامہ کو عبداللہ عظام کی طرح اپنی امارت کی راہ کا روڑا سمجھتا تھا۔ وہ اسامہ سے اس لیئے ناراض تھا کہ اسامہ نے مصر کے معاملہ پر کوئی بیان جاری نہ کیا تھا۔ ظواہری، اسامہ کی طرح القائدہ کو متحد نہ رکھ سکے گا اور نہ دوسرے گروپ اس کو اپنی بیعت دیں گئے، کیونکہ وہ ظواہری کو اسامہ کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتے ہین

  4. تحریم says:

    اول میں نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ہماری گورنمنٹ اور افواج کے سربراہوں کے دیئے گئنے بیانات کہ انہیں تو خبر ہی نہیں ہو سکی کے ایبٹ آباد مین کیا ہورہا ہے اور امریکہ کا ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا ہے اور یہ خبر انہیں ایک پرائیوٹ خبروں کے چینل سے پتا چلی یہ سراسر عوام کو دینے کہ لئے ایک سیاسی بیان ہے انہیں سب علم تھا

    اب رہی بات کہ وہ اسامہ تھا بھی یا نہین مجھے امریکہ ڈرامے باز اور ہمای غدار حکومت پر بھی بھروسہ نہیں الیکشن قریب ہیں امریکہ میں امریکی عوام کو دلاسہ دینے اور پاکستان پر مزید الزامات عائد کرنے کہ لئے ایسا کیا جا رہا ہے

    اسامہ کے مارے جانے پر دیا جانے والا انعام بھی مشروط کر دیا گیا ہے کہ
    پاکستان لکھ کر دے انہیں خبر ہی نہ تھی کے اسامہ پاکستان میں تھا
    مزید حملوں پر پاکستانی فوج ساتھ دے گی جہاں بھی چاہین حملہ کریں اور پاکستان خاموش رہے گا

    ہماری لالچی بے ضمیر حکومت ایسا ضرور کرے گی پیسہ جو چاہیئ .... کی اولادون کو
    اب بس دعا ہے آنے والا کل ہمیں افغانستان اور عراق جیسے حملے دیکھنے پر مجبور نہ کر دے

    اللہ سب کو امان مین رکھے
    آمین

  5. مجھے تو لگتا ہے کہ القاعدہ اور طالبان ۔۔۔ امریکہ ہی کے ذیلی ادارے ہیں۔

  6. تمام دوستوں کے تبصرے قیمتی ہیں سب نے اچھی معلومات دیں اور درست اظہار خیال تحریر فرمائے میں اپنے دوستوں کی خدمت میں اظہار رائے کرنا چاہوں گا ا says:

    اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    تمام دوست بخوبی آگاہ ہیں کہ مسلمانوں پر جب بھی کوئی مشکل وقت آیا ہے وہ اللہ کی طرف سے یا تو آزمائش کے طور پر یا ناراضگی کی صورت میں آیا ہے مختصر یہ کہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں آزمائشیں تھیں مگر اب میں یہ سمجھتا ہوں کہ اللہ کی ناراضگی ہے کیوں کہ اللہ کے رسول ہمیں جو نسخہ کامیابی حاصل کرنے کا دے کر گئیے تھے اس کو ہم بھلا بیٹھے اور اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال چکے ہیں اور کافر ہم پر مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں آج بھی اگر امت مسلمہ صدق دل سے انفرادی اور اجتماعی طور پر توبہ کر لے تو اللہ پاک پھر مسلمانوں کو کافروں پر غالب کر دے گا یہ اس کا سچا وعدہ ہے ۔ والسلام سید مجاہد گیلانی کوئٹہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.