<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: ما بعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام قسط 1</title>
	<atom:link href="http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-1/</link>
	<description>مرے ہنگامۂ نو بہ نو کی انتہا کیا ہے</description>
	<lastBuildDate>Wed, 01 Sep 2010 07:14:10 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
	<item>
		<title>By: ابوشامل</title>
		<link>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-1/comment-page-1/#comment-427</link>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 01 Jan 1970 00:00:00 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=154#comment-427</guid>
		<description>بالکل شاکر بھائی (دوست) یہ مقالہ ہی لگتا ہے لیکن میرا نہیں بلکہ ہندوستان کے سعادت اللہ حسینی صاحب کا ہے۔

لاکھو صاحب! اگلی قسط پر کام کر رہا ہوں، انشاء اللہ جلد پیش ہوگی۔ انتظار کی زحمت پر معذرت خواہ ہوں۔

فیصل بھائی! آپ کے سامنے بھی وضاحت کر دوں گا کہ یہ میری کاوش نہیں بلکہ ہندوستان کے سعادت اللہ حسینی صاحب کی ہے جو گزشتہ دو ماہ اقساط کی صورت میں ترجمان القرآن کے صفحات کی زینت بنی۔
رہی آپ کی دوسری بات تو شاید آپ سمجھے نہیں مصنف نے یہ نہیں کہا کہ 17 ویں یا 18 ویں صدی میں یورپ میں مسلم عیسائی اختلاط ہوا بلکہ ان کا کہنا ہے یہ ہے کہ جدیدیت (modernism) کی تحریک دراصل 17 اور 18 ویں صدی میں بپا ہوئی۔ علاوہ ازیں مصنف کا مضمون یورپ پر مسلمانوں کے اثرات نہیں بلکہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی تحریک کا تعارف اور اس کے عالم اسلام پر پڑنے والے نتائج ہیں اس لیے یہ پورا مقالہ اسی موضوع کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ جلد دوسری قسط ملاحظہ کیجیے گا۔
آپ کی آخری باتوں سے میں بالکل متفق ہوں کہ جدیدیت کی تحریک دراصل کلیسائی استبداد کے ردعمل کا نتیجہ تھی اور عالمی قیادت یورپ کی گود میں گرنے میں اس تحریک کا بہت بڑا کردار ہے۔ اور یہ بات بھی سولہ آنے سچ کہ جب تک اسلامی نظام عملی صورت میں ہمیں نظر نہیں آئے گا اس کے بارے میں تمام باتیں ہوا میں تیر ثابت ہوں گی۔ المیہ یہ بھی ہے کہ اسلامی نظام کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو طالبان کا تصور ذہن میں آتا ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>بالکل شاکر بھائی (دوست) یہ مقالہ ہی لگتا ہے لیکن میرا نہیں بلکہ ہندوستان کے سعادت اللہ حسینی صاحب کا ہے۔</p>
<p>لاکھو صاحب! اگلی قسط پر کام کر رہا ہوں، انشاء اللہ جلد پیش ہوگی۔ انتظار کی زحمت پر معذرت خواہ ہوں۔</p>
<p>فیصل بھائی! آپ کے سامنے بھی وضاحت کر دوں گا کہ یہ میری کاوش نہیں بلکہ ہندوستان کے سعادت اللہ حسینی صاحب کی ہے جو گزشتہ دو ماہ اقساط کی صورت میں ترجمان القرآن کے صفحات کی زینت بنی۔<br />
رہی آپ کی دوسری بات تو شاید آپ سمجھے نہیں مصنف نے یہ نہیں کہا کہ 17 ویں یا 18 ویں صدی میں یورپ میں مسلم عیسائی اختلاط ہوا بلکہ ان کا کہنا ہے یہ ہے کہ جدیدیت (modernism) کی تحریک دراصل 17 اور 18 ویں صدی میں بپا ہوئی۔ علاوہ ازیں مصنف کا مضمون یورپ پر مسلمانوں کے اثرات نہیں بلکہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی تحریک کا تعارف اور اس کے عالم اسلام پر پڑنے والے نتائج ہیں اس لیے یہ پورا مقالہ اسی موضوع کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ جلد دوسری قسط ملاحظہ کیجیے گا۔<br />
آپ کی آخری باتوں سے میں بالکل متفق ہوں کہ جدیدیت کی تحریک دراصل کلیسائی استبداد کے ردعمل کا نتیجہ تھی اور عالمی قیادت یورپ کی گود میں گرنے میں اس تحریک کا بہت بڑا کردار ہے۔ اور یہ بات بھی سولہ آنے سچ کہ جب تک اسلامی نظام عملی صورت میں ہمیں نظر نہیں آئے گا اس کے بارے میں تمام باتیں ہوا میں تیر ثابت ہوں گی۔ المیہ یہ بھی ہے کہ اسلامی نظام کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو طالبان کا تصور ذہن میں آتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: فیصل</title>
		<link>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-1/comment-page-1/#comment-433</link>
		<dc:creator>فیصل</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 01 Jan 1970 00:00:00 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=154#comment-433</guid>
		<description>بہت اچھی کاوش ہے، معلوماتی بھی اور پر تحقیق بھی۔
البتہ مجھے تھوڑا سا اختلاف ہے، مسلم سپین کے ساتھ یورپ کا واسطہ غالبآ گیارہویں صدی میں پڑا تھا، نہ کہ سترہویں یا اٹھارویں صدی میں‌۔ ان دونوں‌کے درمیان مصنف غالبآ یورپ میں‌قائم ہونے ولی اولیں‌یونیورسٹیوں کا ذکر بھول ہی گیا جو مسلمانوں‌سے میل ملاپ کا نتیجہ تھیں۔ ان کے قیام کت تین چار سو سال یا اس سے بھی زیادہ کے بعد کہیں‌ جا کر یورپ میں کلیسا کے خلاف تحریک اٹھی۔ گویا یہ کوئی بین الاقوامی سازش نہیں بلکہ ایک عمل کا رد عمل تھا جو کئی صدیوں‌میں‌پک کر تیار ہوا۔
تیسری دنیا جیسی ہے، اپنی وجہ سے ہے۔ اگر یورپ یا امریکہ اسے اپنے رنگ میں‌ڈھالنا چاہتے ہیں‌تو غالبآ اسوجہ سے کہ انکے خیال میں‌بہترین راسطہ یہی ہے۔ انھیں اسلامی نظام کی گیرائی اور گہرائی کا اندازہ ہی نہیں‌اور ہو بھی کیسے کہ کہیں دکھائی بھی تو نہیں‌دیتا۔

فیصل کے بلاگ سے آخری تحریر ہے  ..&lt;a href=&quot;http://shahfaisal.wordpress.com/2008/08/07/%D9%87%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D9%86%D9%88%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D9%A1/&quot; rel=&quot;nofollow&quot;&gt;همارا نیا نوکیا -١&lt;/a&gt;</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>بہت اچھی کاوش ہے، معلوماتی بھی اور پر تحقیق بھی۔<br />
البتہ مجھے تھوڑا سا اختلاف ہے، مسلم سپین کے ساتھ یورپ کا واسطہ غالبآ گیارہویں صدی میں پڑا تھا، نہ کہ سترہویں یا اٹھارویں صدی میں‌۔ ان دونوں‌کے درمیان مصنف غالبآ یورپ میں‌قائم ہونے ولی اولیں‌یونیورسٹیوں کا ذکر بھول ہی گیا جو مسلمانوں‌سے میل ملاپ کا نتیجہ تھیں۔ ان کے قیام کت تین چار سو سال یا اس سے بھی زیادہ کے بعد کہیں‌ جا کر یورپ میں کلیسا کے خلاف تحریک اٹھی۔ گویا یہ کوئی بین الاقوامی سازش نہیں بلکہ ایک عمل کا رد عمل تھا جو کئی صدیوں‌میں‌پک کر تیار ہوا۔<br />
تیسری دنیا جیسی ہے، اپنی وجہ سے ہے۔ اگر یورپ یا امریکہ اسے اپنے رنگ میں‌ڈھالنا چاہتے ہیں‌تو غالبآ اسوجہ سے کہ انکے خیال میں‌بہترین راسطہ یہی ہے۔ انھیں اسلامی نظام کی گیرائی اور گہرائی کا اندازہ ہی نہیں‌اور ہو بھی کیسے کہ کہیں دکھائی بھی تو نہیں‌دیتا۔</p>
<p>فیصل کے بلاگ سے آخری تحریر ہے  ..<a href="http://shahfaisal.wordpress.com/2008/08/07/%D9%87%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D9%86%D9%88%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D9%A1/" rel="nofollow">همارا نیا نوکیا -١</a></p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: اکبر لاکھو</title>
		<link>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-1/comment-page-1/#comment-432</link>
		<dc:creator>اکبر لاکھو</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 01 Jan 1970 00:00:00 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=154#comment-432</guid>
		<description>جناب
 میں نے اس قسم کی پہلی تحریر ہی پڑھی ہے۔ اس سلسلے کی اگلی قسط کا انتظار رہے گا۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جناب<br />
 میں نے اس قسم کی پہلی تحریر ہی پڑھی ہے۔ اس سلسلے کی اگلی قسط کا انتظار رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: دوست</title>
		<link>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-1/comment-page-1/#comment-431</link>
		<dc:creator>دوست</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 01 Jan 1970 00:00:00 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=154#comment-431</guid>
		<description>پوسٹ تو لاجواب بلکہ پوسٹ کیا مقالہ ہے۔ لیکن فدوی اس لیے حاضر ہوا تھا کہ آپ کی اردو کوڈر پر ذرا ضرورت ہے ایک آدھ چکر لگا لیا کیجیے ہفتے میں۔ فی الحال اشد ضرورت ہے اس لیے جب یہ پڑھیں‌ تو تشریف لے آئیں۔
urducoder.com

دوست کے بلاگ سے آخری تحریر ہے  ..&lt;a href=&quot;http://dost.urducoder.com/archives/237&quot; rel=&quot;nofollow&quot;&gt;بابا مشرف (مرحوم)&lt;/a&gt;</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>پوسٹ تو لاجواب بلکہ پوسٹ کیا مقالہ ہے۔ لیکن فدوی اس لیے حاضر ہوا تھا کہ آپ کی اردو کوڈر پر ذرا ضرورت ہے ایک آدھ چکر لگا لیا کیجیے ہفتے میں۔ فی الحال اشد ضرورت ہے اس لیے جب یہ پڑھیں‌ تو تشریف لے آئیں۔<br />
urducoder.com</p>
<p>دوست کے بلاگ سے آخری تحریر ہے  ..<a href="http://dost.urducoder.com/archives/237" rel="nofollow">بابا مشرف (مرحوم)</a></p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ابوشامل</title>
		<link>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-1/comment-page-1/#comment-430</link>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 01 Jan 1970 00:00:00 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=154#comment-430</guid>
		<description>درست فرمایا جناب، جدیدیت کی جتنی ضرورت ہمیں ہے شاید ہی کسی کو ہو۔ ہمارے مولوی طبقے کا حال بالکل قرون وسطٰی (middle ages) کے کلیسائی رہنماؤں جیسا ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم اپنے مذہب کو تمام شعبوں سے اس طرح بے دخل نہیں کر سکتے جس طرح یورپیوں نے نشاۃ ثانیہ کے عہد میں عیسائیت کو بے دخل کیا۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>درست فرمایا جناب، جدیدیت کی جتنی ضرورت ہمیں ہے شاید ہی کسی کو ہو۔ ہمارے مولوی طبقے کا حال بالکل قرون وسطٰی (middle ages) کے کلیسائی رہنماؤں جیسا ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم اپنے مذہب کو تمام شعبوں سے اس طرح بے دخل نہیں کر سکتے جس طرح یورپیوں نے نشاۃ ثانیہ کے عہد میں عیسائیت کو بے دخل کیا۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
