ما بعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام قسط 2

ما بعد جدیدیت (Post Modernism) کا چیلنج اور اسلام کے عنوان سے شروع کردہ سلسلے کی یہ دوسری قسط حاضرِ خدمت ہے۔ پہلی قسط یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

ما بعد جدیدیت کیا ہے؟

جدیدیت کے علم برداروں نے اپنے مخصوص افکار پر جس شد و مد کے ساتھ اصرار کیا اور ان کی تنفیذ کے لیے جس طرح طاقت اور حکومت کا بے دریغ استعمال کیا اس نے فکری استبداد کی وہی صورت حال پیدا کر دی، جو عہد وسطٰی کے یورپ میں مذہبی روایت پسندی نے پیدا کی تھی اور جس کے ردعمل میں جدیدیت کی تحریک برپا ہوئی تھی۔ اس استبداد کا لازمی نتیجہ شدید ردعمل کی شکل میں رونما ہوا اور یہی ردعمل ما بعد جدیدیت (Post Modernism) کہلاتا ہے۔

ما بعد جدیدیت ان افکار کے مجموعے کا نام ہے جو جدیدیت کے بعد اور اکثر اس کے ردعمل میں ظہور پذیر ہوئے۔ اس کے علم بردار نہ تو کسی منظم نظامِ فکر کے قائل ہیں اور نہ منظم تحریکوں کے۔ اس لیے یہ فکر اشتراکیت یا جدیدیت کی طرح کوئی مبسوط یا منظم فکر نہیں ہے اور نہ اس کی پشت پر کوئی منظم تحریک ہی موجود ہے۔ بلکہ ما بعد جدیدیت کے عمل بردار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ کسی نظریے کا نام نہیں ہے، بلکہ اُس عہد کا نام ہے جس سے ہم گزر رہے ہیں اور اُن کیفیتوں کا نام ہے جو اس عہد کی امتیازی خصوصیات ہیں11۔ ظاہر ہے کہ یہ محض دعویٰ ہے اور چونکہ وہ اپنے خیالات کی تائید میں کتابیں لکھ رہے ہیں، فلسفیانہ مباحث چھیڑ رہے ہیں اور بحثیں کر رہے ہیں اس لیے دنیا ان کے خیالات کو ایک آئیڈیالوجی ماننے پر مجبور ہیں۔

اکثر امور میں ما بعد جدیدیت کے مفکروں میں اتفاق رائے بھی نہیں ہے اور علمی حلقوں میں یہ اصطلاح مختلف معنوں میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس لیے اس کی تعریف بیان کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ تاہم بعض خیالات ما بعد جدیدیت مفکرین میں بھی مشترک ہیں اور یہی مشترک فکر اُن کا امتیاز ہے۔ لیوٹارڈ، جس کا اس فکر کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے، اس نے اس کی تعریف یوں بیان کی ہے:

I define Postmodernism as incredulity towards meganarratives12

(میرے نزدیک ما بعد جدیدیت کا مطلب عظیم بیانات پر عدم یقین ہے)

ما بعد جدیدیت کے حامی کہتے ہیں کہ جدیدیت نے عقل کی بالاتری، آزادی، جمہوریت، ترقی، کھلی منڈی اور اشتراکیت جیسے خیالات عالم گیر سچائیوں کی حیثیت سے پیش کیے۔ یہ ایک کھلا فریب تھا۔ زمانہ کے امتداد نے ان ساری خود ساختہ حقیقتوں کا جھوٹ واضح کر دیا ہے، اس لیے اب اس عہد میں اس طرح کے عظیم بیانات (Meganarratives) نہیں چلیں گے۔ یہ اس عہد کا خاصہ ہے۔ اس میں جدیدیت کے تمام دعوؤں کی عمارت ڈھا دی گئی ہے۔ اور اس عہد کی یہ خصوصیت ہی ما بعد جدیدیت ہے13۔

سچائی کی اضافیت کا نظریہ

ما بعد جدیدیت کے تصور کے مطابق دنیا میں کسی آفاقی سچائی کا وجود نہیں ہے۔ بلکہ آفاقی سچائی کا تصور ان کے نزدیک محض ایک خیالی تصور (Utopia) ہے۔ جدیدیت کے علم برداروں کا خیال ہے کہ جمہوریت،آزادی و مساوات، سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت (یا اشتراکیوں کے نزدیک اشتراکیت) اور ٹکنالوجیکل ترقی وغیرہ پر مبنی جو ماڈل یورپ میں اختیار کیا گیا، اس کی حیثیت ایک عالمی سچائی کی ہے اور ساری دنیا کو اپنی روایات چھوڑ کر ان عالمی سچائیوں کو قبول کرنا چاہیے۔ چنانچہ 20 ویں صدی میں ساری دنیا کو جدید بنانے کا کام شروع ہوا۔ روایتی معاشروں سے کہا گیا کہ وہ صنعتیں قائم کریں، شہر بسائیں، آزادی کی قدروں کو نافذ کریں،جمہوری طرز حکومت اپنائیں،جدید ٹکنالوجی کو اختیار کریں اور اس طرح جدید بنیں کہ فلاح و ترقی کا یہی واحد راستہ ہے۔ ما بعد جدیدی دوسری انتہا پر جا کر عالمی یا آفاقی سچائی کے وجود ہی سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک چاہے سچائی ہو یا کوئی اخلاقی قدر، حسن و خوبصورتی کا احساس ہو یا کوئی ذوق، یہ سب اضافی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا تعلق انفرادی پسند و ناپسند اور حالات سے ہے۔ یعنی ایک ہی بات کسی مخصوص مقام یا مخصوص صورتوں میں سچ اور دوسری صورتوں میں جھوٹ ہو سکتی ہے۔ دنیا میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو ہمیشہ اور ہر مقام پر سچ ہو۔ تصورِ جہاں (World view) سچائی کی پیداوار نہیں ہوتا بلکہ طاقت کی لڑائی میں ایک  محض ایک ہتھیار ہوتا ہے۔ لوگوں نے دنیا پر حکومت کرنے اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے اپنے من پسند خیالات کو عالم گیر سچائیوں کے طور پر ان پر مسلط کیا ہے۔ اس طرح وہ سرمایہ داری، جمہوریت اور اشتراکیت وغیرہ جیسے نظریات کے سخت ناقد ہیں، جو اپنے خیالات کو عالم گیر سچائی کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ مذہبی عقائد اور تصورات کے بھی منکر ہیں کیونکہ مذاہب کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ ان کے معتقدات کی حیثیت اٹل حقائق کی ہے14۔

اس نظریے کی تائید میں ان کی دلیل یہ ہے کہ صدیوں کی علمی جستجو کے باوجود انسانی ذہن کسی ایک سچائی پر متفق نہیں ہو سکا۔ آج بھی صورت حال یہ ہے کہ ہمارے اطراف کئی ایک اور بسا اوقات باہم متضاد سچائیاں (یعنی سچ کے دعوے) پائی جاتی ہیں۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم سچائی سے متعلق اپنے نقطۂ نظر کو ہی بدل لیں اور یہ تسلیم کر لیں کہ سچائی نام کی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ سچائی محض ہمارے مشاہدے کا نتیجہ ہوتی ہے اور مشاہدہ ہمارے ذہن کی تخلیق۔ سچائی کی تلاش نہیں، بلکہ سچائی کی تشکیل ہوتی ہے۔ حالات کے مطابق ہمارا ذہن سچائی کی تخلیق کرتا ہے۔ اور چونکہ بیک وقت ایسی کئی تخلیقات ممکن ہیں اس لیے یہ ماننا چاہیے کہ کوئی بھی تخلیق حتمی نہیں ہے۔

ما بعد جدیدیت کے ماننے والے سائنس کو بھی حتمی سچائی کی حیثیت سے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ لیوٹارڈ کہتا ہے:

سائنس کی زبان اور اخلاقیات،اور سیاسیات کی زبان میں گہرا تعلق ہے اور یہ تعلق ہی مغرب کی تہذیبی تناظر کی تشکیل کرتا ہے 15۔

یعنی سائنس بھی مغرب کی سیاست اور اخلاقی فلسفوں سے آزاد نہیں ہے۔

دنیا کے غیر حقیقی ہونے کا نظریہ

ما بعد جدیدیت کے مطابق جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں،اس کی حیثیت سچائی کی نہیں ہے۔ اس کے علم برداروں کا خیال ہے کہ ہم وہی دیکھتے ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں اور ہم وہی دیکھتے ہیں جو مخصوص وقت اور مخصوص مقام پر مخصوص احوال خود کو دکھانا چاہتے ہیں۔ وہ دنیا کو حقیقی اور ٹھوس اشیا اور مناظر کی بجائے ایسے عکسوں (images) اور مظاہر (representations) سے عبارت سمجھتے ہیں جو غیر حقیقی (unreal) اور غیر محسوس (untangible) ہیں۔ یعنی پوسٹ ماڈرن ازم کے نزدیک یہ دنیا محض ایک وڈیو گیم ہے جس میں ہم اپنی پسند کی سچائیاں دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں۔ ضیاء الدین سردار نے اس کی تشریح یوں کی ہے:

اس کا مطلب ہے کہ یہ دنیا ایک ایسی تھیٹر ہے جس میں ہر چیز مصنوعی طور پر تشکیل کر دہ ہے۔ سیاست عوامی استعمال کے لیے کھیلا جانے والا ایک ڈراما ہے۔ ٹیلی وژن پر دستاویزی فلمیں تفریحات کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ صحافت حقیقت اور افسانے کے بیچ فرق کو دھندلا دیتی ہے۔ زندہ افراد، سوپ اوپیرا کے کردار بن جاتے ہیں اور افسانوی کردار زندہ انسانوں کی جگہ لے لیتے ہیں۔ ہر چیز اچانک واقع ہو جاتی ہے اور ہر شخص عالمی تھیٹر میں واقع ہونے والی ہر چیز کا بر موقع نظارہ کرتا ہے17۔

رد تشکیل کا نظریہ

جیسا کہ عرض کیا گیا، ما بعد جدیدیت کے نزدیک جمہوریت، ترقی، آزادی، مذہب، خدا، اشتراکیت اور اس طرح کے دعوؤں کی وہی حیثیت ہے جو دیومالائی داستانوں اور عقیدوں کی ہے۔ اس لیے انہوں نے ان تمام دعوؤں کو عظیم بیانوں (meganarratives) کا نام دیا ہے۔ جدیدیت کے مفکرین کا خیال ہے کہ انہوں نے بہت سی 'سچائیاں' تشکیل دی ہیں اور چاہے مذاہب ہوں یا جدید نظریات، ان کی بنیاد کچھ خود ساختہ عالمی سچائیوں پر ہے، اس لیے جدیدیت کے دور کی تہذیب، علم وغیرہ انہی مفروضہ سچائیوں پر استوار ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان تشکیل شدہ سچائیوں کی رد تشکیل (deconstruction) کی جائے، یعنی انہیں ڈھا دیا جائے۔ چنانچہ ادب، فنون لطیفہ، آرٹ، سماجی اصول و ضابطے ہر جگہ ان کے نزدیک خود ساختہ سچائیاں اور عظیم بیانے ہیں جن کی رد تشکیل ضروری ہے تاکہ ما بعد جدیدی ادب فنون لطیفہ وغیرہ میں ایسے 'غلط مفروضوں' کا عمل دخل نہ ہو۔ جیسا کہ ما بعد جدیدیت کا ایک تجزیہ نگار لکھتا ہے:

ما بعد جدید مفکرین کا خیال ہے کہ ہماری طرح کے ایک آفاقی اور غیر مرکزی سماج میں خود بخود ما بعد جدید کی طرح کے ردعمل جنم لیتے ہیں۔ یعنی عظیم بیانات کے فکری استبداد کا استرداد، ساخت اور طرز کی وحدت کے روایتی سانچوں کی شکست و ریخت اور منطق کی مرکزیت اور اس طرح کے دیگر مصنوعی طور پر مسلط کردہ نظاموں کو اٹھا کر پھینک دینے کا عمل18۔

شاید بحث پیچیدہ اور فلسفیانہ ہو گئی۔ لیکن چونکہ اس فکر کی بنیادی فلسفیانہ ہیں اس لیے اس مختصر فلسفیانہ بحث کے بغیر اس نظریے پر کماحقہ روشنی نہیں ڈالی جا سکتی تھی۔

ما بعد جدیدیت کے عملی اثرات

ما بعد جدیدیت ایک دقیق فلسفیانہ بحث ہے۔ لیکن اس کے پیش رو، جدیدیت کے افکار بھی ایسے ہی دقیق فلسفے تھے۔ عام لوگ ان گہرے فلسفوں کا مطالعہ نہیں کرتے لیکن عملی زندگی میں ان کے اثرات قبول کرتے ہیں۔ جدیدیت کے عروج کے زمانے میں بھی سب لوگ والٹیر اور روسو کی دقیق کتابیں نہیں پڑھتے تھے، لیکن آزادی، مساوات، جمہوریت، اپنے حقوق کا احساس، مساوات مرد و زن، روایات کے خلاف بغاوت اور عقل پر اصرار جیسی چیزیں عام آدمی کے رویوں کا بھی حصہ تھی۔ ٹھیک اسی طرح ہمارے عہد میں بھی عام لوگ چاہے ما بعد جدیدیت کی اصطلاحات اور بحثوں سے واقف نہ ہو، لیکن محسوس اور غیر محسوس طریقوں سے اپنی عملی زندگی اور رویوں میں اس کے اثرات قبول کر رہے ہیں۔ مسلمان اور بعض اوقات اسلام کے فروغ کے لیے کام کرنے والے بھی اس کے اثرات سے خود کو نہیں بچا پا رہے ہیں۔

ما بعد جدیدیت کا سب سے نمایاں اثر یہ ہے کہ افکار، نظریات اور آئیڈیالوجی سے لوگوں کی دل چسپی نہایت کم ہو گئی ہے۔ عہد جدید کا انسان مخصوص افکار و نظریات سے وفاداری رکھتا تھا اور ان کی تبلیغ و اشاعت کے لیے پُر جوش و سرگرم رہتا تھا۔ ما بعد جدید دور کے انسان کے نہ کوئی آدرش ہیں نہ اصول۔ اس کے سامنے کسی بھی موضوع پر نظری بحث شروع کیجیے دامن جھاڑ کر اُٹھ جائے گا۔ اس لیے بعض مفکرین اس عہد کو 'عدم نظریہ کا عہد' Age of No Ideology قرار دیا ہے 19۔  اصول اور افکار کے مبسوط نظام (doctrine) کے بالمقابل ما بعد جدید انسان کے پاس صرف جذبات و احساسات ہیں یا عملی مسائل (pragmatic issues)۔ ما بعد جدیدیت کا کہنا ہے کہ زندگی کی تمام بحثیں 'مسئلہ' اور 'حل' (problem and solution) تک محدود کی جا سکتی ہیں۔ اس لیے اصولوں اور نظریوں کے بجائے ایک ایک مسئلے کو الگ الگ لیا جانا چاہیے اور اس کے حل پر بات ہونی چاہیے۔ چنانچہ ما بعد جدیدی انسان کی بحث و گفت گو کا سارا زور یا تو روز مرہ کے عملی مسائل پر ہے یا روابط و تعلقات کی جذباتیت پر۔ مختلف فیہ اور متنازعہ فیہ مسائل میں وہ باہم متضاد خیالات میں سے ہر خیال کو بیک وقت درست سمجھتا ہے، ان کی تنقیح اور درست فیصلے سے اسے کوئی دل چسپی نہیں۔

مذہبی معاملات میں وحدت ادیان کا نظریہ بہت قدیم ہے۔ ما بعد جدیدیت نے اس طرزِ فکر کو تقویت دی ہے۔ اب دنیا بھر میں لوگ بیک وقت سارے مذاہب کو سچ ماننے کے لیے تیار ہیں۔ اور بین المذاہب مکالمات و مباحث سے لوگوں کی دل چسپی رو بہ زوال ہے۔ جبکہ دوسری طرف الحاد و مذہب بیزاری کی شدت بھی ختم ہو رہی ہے۔ چونکہ الحاد بھی ایک 'دین' یا ایک 'دعویٰ' ہے، اس لیے ما بعد جدید انسان اسے بھی ایک مسلک کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے اس عہد کو لادینیت کے خاتمے کا عہد (Age of Desecularisation) بھی کہا جاتا ہے20۔ ایک شخص خدا پر یقین نہ رکھتے ہوئے بھی روحانی سکون کی تلاش میں کسی مذہبی پیشوا سے رجوع کر سکتا ہے۔ اور آج اسے کسی ہندو بابا کے ہاں سکون ملتا ہے تو کل کوئی عیسائی راہب اسے مطمئن کر سکتا ہے۔ یہ ما بعد جدیدیت ہے۔

قدروں کی اضافیت کے نظریے سے سماجی اداروں اور انضباطی عوامل (Regulating Factors) کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاندانی نظام اور شادی بیاہ کے بندھنوں کا انکار ہے نہ اقرار۔ عفت، ازدواجی وفاداری اور شادی کے بندھن ما بعد جدیدیوں کے ہاں 'عظیم بیانات' ہیں۔ اسی طرح جنسوں کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ رول کو بھی وہ آفاقی نہیں مانتے۔ نہ صرف مرد عورت کے درمیان تقسیم کار کے روایتی فارمولوں کے وہ منکر ہیں، بلکہ جنسی زندگی میں بھی مرد اور عورت کے جوڑے کو ضروری نہیں سمجھتے۔ شادی مرد اور عورت کے درمیان بھی ہو سکتی ہے، اور مرد مرد اور عورت عورت کے درمیان بھی، کوئی چاہے تو اپنے آپ سے بھی کر سکتا ہے۔ مرد اور عورت شادی کے بغیر ایک ساتھ رہنا پسند کریں تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ایک ساتھ بھی نہیں رہنا ہے تو صرف تکمیل خواہش کا معاہدہ ہو سکتا ہے۔ یہ سب ذاتی پسند اور ذوق کی بات ہے۔ فیشن، لباس، طرز زندگی ہر معاملے میں کوئی بھی ضابطہ بندی گوارا نہیں ہے۔ مرد بال بڑھا سکتا ہے، چوٹی رکھ سکتا ہے، اسکرٹ پہن سکتا ہے، زنانہ نام رکھ سکتا ہے، کسی بھی رنگ اور ڈیزائن کا لباس پہن سکتا ہے۔ سوسائٹی کو کسی بھی رویے کو ناپسند کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ حتٰی کہ اگر کوئی مادر زاد برہنہ رہنا چاہے تو سوسائٹی اس پر بھی معترض نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ بعض ما بعد جدیدی، لباس کو آفاقی ضرورت قرار دینے پر معترض ہیں۔ آدمی اگر موسم اور اپنے ذوق کی مناسبت سے کوئی لباس پسند کرنا چاہے تو کرے اور اگر عریاں رہنا چاہے تو انسانی جسم سے بڑھ کر خوبصورت لباس اور کیا ہو سکتا ہے؟ وہ عریانیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اس طرز زندگی کے فروغ کے لیے ویب سائٹس، ہیلپ لائنیں، ڈسکشن فورمز اور نہ جانے کیا کیا ہیں۔

سیاسی محاذ پر ما بعد جدیدی، قوموں کے وجود اور قوم پرستی کے منکر ہیں۔ ان کے نزدیک قوم، قومی مفاد، قومی تفاخر، قومی کردار، قومی فرائض، یہ سب 'عظیم بیانات' ہیں۔ ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ضرورت اور مفاد کے مطابق افراد کسی بھی قسم کے دوسرے افراد سے تعامل کرتے ہیں اور اس طرح گروہوں کی تشکیل ہوتی ہے۔ یہ تشکیل ضروری نہیں کہ قوم اور نسل کی بنیاد پر ہو۔ قوموں کے اقتدارِ اعلٰی کا تصور بھی ان کے نزدیک 'عظیم بیان' ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ما بعد جدیدی سماج میں ایک طرف گلوبلائزیشن کے عمل کے نتیجے میں ریاست کے اقتدارِ اعلٰی کو عالمی معاشی قوتوں کے تابع کر دیا گیا اور دوسری طرف مقامی معاشروں کے مفادات کو بھی ریاست کے اقتدار اعلٰی پر فوقیت اور بالاتری دے دی گئی۔ اگر کوئی علاقہ، قبیلہ یا گروہ ریاست کے اقتدار سے خوش نہیں تو ریاست کو اس پر زبردستی کا کوئی حق نہیں 21۔

اس طرح پالیسی کی سطح پر 'ترقی' ٹکنالوجی وغیرہ جیسے تصورات کو چیلنج کیا گیا۔ ما بعد جدیدی ترقی کے 'یکساں فارمولے' کے خلاف ہیں۔ یہ بات کہ جدید شہروں کی شان و شوکت اور ٹکنالوجی پر مبنی تعیشات پس ماندہ علاقوں کی منزل اور ان کی کاوشوں کا ہدف ہونا چاہیے، اب مسلّمہ نہیں رہی۔ ما بعد جدید تحریکوں نے دیہی زندگی اور روایتی معاشروں کی افادیت بھی اجاگر کی۔ اگر باسی اپنے قبائلی طرزِ زندگی سے مطمئن اور خوش ہیں تو کوئی ضروری نہیں کہ انہیں جدید شہری ترقی کے لیے مجبور کیا جائے۔ ان کے نزدیک جنگل کی آزاد فضا ہی سچائی ہے۔ دیہی لوگوں کو ان کی زمین سے ہٹا کر وہاں نئی صنعتیں قائم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے، خواہ اس کے بدلے میں ان کو زیادہ آرام دہ زندگی ہی کیوں نہ میسر آئے۔ ما بعد جدید پالیسی کا حاصل یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی مرضی اور پسند کی زندگی گزارنے کی آزادی دی جانی چاہیے اور تعلیم، سائنس، ٹکنالوجی، ترقی اور نہ تعیشات، کوئی بھی چیز اس پر مسلط نہیں کی جانی چاہیے۔

آرٹ اور فنون لطیفہ میں وہ ہر طرح کے نظم اور پابندی کے خلاف ہیں۔ جدیدیت نے ان محاذوں پر جو اصول تشکیل دیے تھے، ما بعد جدیدی ان کی رد تشکیل کرنا چاہتے ہیں۔ گوپی چند نارنگ کے الفاظ میں:

ہر طرح کی نظری ادعائیت سے گریز اور تخلیقی آزادی پر اصرار ما بعدجدیدیت ہے 22

ما بعد جدیدی کہتے ہیں کہ ادب اور فنون لطیفہ حقیقت کی ترجمانی کے لیے نہیں بلکہ حقیقت کی تخلیق کے لیے ہیں۔ اس لیے وہ آرٹ کو ہر طرح کے ادبی، سیاسی اور مذہبی دعوؤں سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔

اس طرح ما بعد جدیدیت کی تحریک نے سوسائٹی میں ہر جگہ مقتدر افسر شاہی اور ضابطوں اور اصولوں کی سخت گیری کو چیلنج کیا۔ نظام مراتب (hierarchy) کے مقابلے میں انارکی، بندشوں کے مقابلے میں آزادی، اختیارات کی مرکزیت (centralisation)  کے مقابلے میں غیر مرکزیت (decentralisation) اور ضابطے اور اصول کے مقابلے میں انفرادی پسند اور آزادی کا احترام وغیرہ اس تحریک کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ اس صورت حال نے منظم ہمہ گیر تحریکوں کے مقابلے میں ایشوز پر مبنی وقتی اور موضوعاتی تحریکیں، سخت گیر بیوروکریٹک انتظام کے مقابلے میں ڈھیلی ڈھالی قیادت وغیرہ کی کیفیتیں پیدا کیں۔ عملی زندگی کے مختلف معاملات میں ما بعد جدیدی کی ہر طرح کی روایت، اصول اور ضوابط کی عالم گیری کے خلاف ہیں اور ذاتی پسند و نا پسند کو اہمیت دیتے ہیں۔ طرز ہائے زندگی سے متعلق معاملات میں ذاتی پسند افراد کی ہوتی ہے۔ اس کو منضبط کرنے کا معاشرے کو کوئی حق نہیں ہے اور اجتماعی معاملات میں پسند و نا پسند قبیلوں، آبادیوں، تنظیموں یا کسی بھی اجتماعی گروہ کی ہو سکتی ہے۔ اس پر کنٹرول کے لیے کسی عالمی یا قومی ادارے کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

حوالہ جات:
11۔ اس موضوع پر تفصیلی مطالعے کے لیے دیکھیے:
Bauman, Zgmunt (2000) Liquid Modernity, Cambridge: Polity Press.
12۔Lyotard, J. F. (1984) The Postmodern Condition: A report on knowledge, Geoff Bennington and Brian Massumi (trans.) Minneapolis: University of Minnesota Press p. xxiv
13۔ Anderson, Walter Truett (1995) The truth about Truth: De-confusing and Re-constructing the Postmodern World. New York: Penguin p 239-44
14۔ حوالہ سابق، ص 111
15۔ A report on Lyotard, J. F. (1984) The Postmodern Condition: knowledge, Geoff Bennington and Brian Massumi (trans.) Minneapolis: University of Minnesota Press p. 8
16۔ حوالہ سابق p. xxiii
17۔ Sardar, Ziauddin (1998) Postmodernism and the other, the New Imperialism of Western Culture, London: Pluto Press p. 23
18۔ Charles Upton (2001) The System of Antichrist Truth & Falsehood in Postmodernism & the New Age Sophia: Perennis p. 45
19۔ Stephens Mitchel (2007) We are all Postmodern Now, at http://journalism.nyu.edu/faculty/files/stephens-postmodern.pdf
20۔ لادینیت کے خاتمے کی بحث کے لیے دیکھیے ایک دل چسپ کتاب:
Peter L. Berger (1999) The Desecularization of the World, Resurgent Religion and World Politics; Michigan: William B. Eerdmans Publishing Co.
21۔ Anderson Walter Truett (1991) Postmodern Politics in Context#30 (Reclaiming Politics) Fall/Winter 1991, Langley p. 32.
22۔ گوپی چند نارنگ (2004ء) ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات، نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، ص 530

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. ابوشامل "ما بعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام" کے دونوں اقساط پڑھ کر ذہن میں خیالات کی ایک کھڑکی کھل گئی ہے جس میں اڑے جارہا ہوں۔

    تیسری قسط کا شدّت سے انتظار رہے گا، تب تک میں ان دونوں تحاریر کو بار بار پڑھ کر انتظار کی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کروں گا۔ 😆

    خورشیدآزاد کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..حسن مجتبیٰ کا بلاگ

  2. ابوشامل says:

    آزاد صاحب! چند روز میں تیسری اور چوتھی قسط پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ انتظار کی زحمت کے لیے معذرت خواہ ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *