لبرل طبقہ اور "کافر"

گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ایئربلیو کے طیارے کو حادثہ پیش آیا جس میں جہاز میں موجود تمام افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس افسوسناک واقعے کی خبر کے ساتھ ہی غم کی ایک چادر تھی جو پورے ملک پر تن گئی۔ جاں بحق ہونے والو ں میں یوتھ پارلیمنٹ کے چھ اراکین بھی شامل تھے جن میں ایک اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ہمارے بھائی پریم چندکے علاوہ اویس بن لئیق، بلال جامعی، حسن جاوید خان ، سید ارسلان احمد اور سیدہ رباب زہرہ نقوی شامل تھے۔ یوتھ پارلیمنٹ کے یہ اراکین اسلام آباد میں اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے تاہم ان کی موت نے پارلیمنٹ کے اس اجلاس کو سوگوار کر دیا۔

آجکل بلاگستان اور میڈیا میں پریم چند کے حوالے سے کچھ باتیں گردش کر رہی ہے کہ لاشوں کی حوالگی کے لیے جو تابوت لواحقین کو دیے گئے ان میں پریم چند کے تابوت پر "کافر" لکھا ہوا تھا۔ گو کہ اس کے بہت زیادہ شواہد موجود نہیں ہیں محض چند ایک لوگوں کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے "کافر" لکھا ہوا دیکھا تاہم مرحوم کے رشتہ داروں، عزیزوں حتی کہ اسلام آباد میں پمز ہسپتال میں ان کی لاش وصول کرنے والے رشتہ دار نانک رام تک نے ایسا کچھ تابوت پر لکھا ہوا نہیں دیکھا۔

لیکن اگر حقیقتا ایسا کوئی لفظ مرحوم کے تابوت پر لکھا بھی گیا ہے تو میرے خیال میں اصل مسئلہ یہاں پیدا ہوا ہوگا کہ مسلمان کا تابوت اٹھاتے ہمارے ہاں کلمہ شہادت کہنے کی رسم ہے اور ایک غیر مسلم کی میت اٹھنے پر کلمہ شہادت نہیں پڑھا جاتا۔ اس لیے لاشوں کو تابوتوں میں رکھنے والے عملے نے "مناسب" سمجھا ہوگا کہ پریم چند کے تابوت پر ایسا کوئی نشان لگا لیا جائے تاکہ وضاحت ہو جائے کہ یہ غیر مسلم کا جنازہ ہے۔ مجھے اس طبی و امدادی عملے کی تعلیمی قابلیت کا کچھ اندازہ تو نہیں ہے لیکن امکان یہی ہے کہ وہ معمولی تعلیم کے حامل افراد ہوں گے جنہوں نے اپنی عقل کے مطابق اس پر "کافر" لکھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس پر "ہندو" یا "غیر مسلم" لکھ دیتے تو شاید اتنا اعتراض نہ ہوتا لیکن ہمارے لبرل و سیکولر حلقوں نے ہمیشہ کی طرح موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس معاملے کو بہت زیادہ اچھالا، جیسا کہ ان کی عادت ہے کہ جہاں مذہب کا معاملہ آئے فورا ہی اسے آڑے ہاتھوں لو، ان کے دلائل تھے کہ پریم چند کو کافر کیوں قرار دیا گیا ہے؟ اس خبر کی رپورٹ کرنے والی ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹر ماہا مصدق نے گو کہ اس تابوت کو خود نہیں دیکھا لیکن انہوں نے یوتھ پارلیمنٹ کے رکن احسان نوید، جو میڈیکل کے چوتھے سال کے طالب علم ہیں، کا حوالہ دیا ہے کہ انہوں نے خود اس تابوت کو دیکھا جس پر کافر لکھا تھا جسے بعد میں انہوں نے خود مٹایا۔

درحقیقت عربی کی اصطلاح "کافر" غیر مسلم ہی کا متبادل ہے اور اسے غیر مسلم کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں کی چند شدت پسند جماعتوں نے اس لفظ کا اتنا بے دریغ استعمال کیا ہے کہ اب یہ لفظ ایک اصطلاح کے بجائے ایک گالی بن کر رہ گیا ہے۔ اس لیے پریم چند کے حوالے سے یہ خبر سامنے آتے ہی لبرل حلقوں میں گویا آگ لگ گئی اور انہوں نے جذبات میں وہی حرکتیں کرنا شروع کر دیں جو ہمارا نام نہاد "مذہبی حلقہ" کرتا ہے۔ ایک طرف لبرل حلقوں نے اس حرکت کے مرتکب افراد پر اعتراض اٹھایا کہ وہ کسی کے مذہب پر انگلی اٹھانے والے یا کافر قرار دینے والے کون ہوتے ہیں اور پھر خود بھی یہی بعینہ حرکت کی کہ کافر لکھنے والے خود کتنے مسلمان ہیں؟ ان کی اپنی قبروں پر منافق لکھنا چاہیے، منافق بہتر ہوتا ہے یا کافر؟ وغیرہ وغیرہ۔

ہمارے لبرل و سیکولر طبقے کو سمجھنا چاہیے (اگر ان میں سمجھ ہے تو) کہ جس طرح وہ فوری طور پر جذباتی ہو جاتے ہیں، یہ بالکل وہی انداز ہے جیسا کہ ہمارا مذہب سے محبت کا دعوی رکھنے والے طبقہ کرتا ہے کہ بجائے عقلی دلائل کے دوسرے کو قائل کرنے کے فوری طور پر چڑھ دوڑو، منہ سے جھاگ اڑاؤ اور جتنا اونچی آواز میں بول سکتے ہو بولو تاکہ دوسرے کی آواز دب جائے۔ لیکن نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جو بھی نکلتا ہے ان کے حق میں نہیں نکلتا۔ میں پہلے بھی اس موقف کا قائل رہا ہوں کہ مسلم ممالک میں انتہا پسندی پھیلانے کا سب سے بڑا سبب ہمارے لبرل طبقے کا اپنے موقف پر انتہا پسندانہ حد تک ڈٹے رہنا اور زمینی حقائق کو دیکھنے بغیر اپنے موقف کا جبرا نفاذ کرنا ہے۔ اس کی کئی عملی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اگر آپ اتنی شدت کے ساتھ اپنے موقف کی حمایت کر سکتے ہیں اور دوسرے کی معمولی غلطی کو برداشت نہیں کر سکتے تو آپ میں اور ایک انتہا پسند میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟

ایک جانب جہاں پے در پے آفات و حادثات کے باعث ہزاروں افراد کی جانیں جا چکی ہیں اسی دوران بد قسمت طیارے کو پیش آنے والا حادثہ ایک عظیم سانحہ تھا اور اس حادثے میں یوتھ پارلیمنٹ کے ان چھ اراکین کی موت نے پاکستان کو مستقبل کی ممکنہ قیادت نے محروم کر دیا ہے۔ اللہ جاں بحق ہونے والے تمام افراد کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی خطاؤں سے درگزر فرمائے اور ان کے درجات کو بلند فرمائے۔

لنکس

خبر، جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ پریم چند کے تابوت پر کافر لکھا تھا

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

36 تبصرے

  1. ایک بات تو یہ کہ پاکستان میں جسطرح مذہب کا مذاق بنایا گیا ہے وہاں "لبرل" کی اصطلاح کے ساتھ بھی جو کچھ کیا گیا ہے اسے نرم الفاظ میں بھی زنا کہنا چاہیے. لبرل ہونے کا تعلق سوچ سے ہے جسے ہمارے یہاں مذہب بیزاری یا مغرب کی نقالی سے تعبیر کیا جاتا ہے. جہاں ایک طبقے کو داڑھی دیکھ کر بخار چڑھ جاتا ہے وہاں دوسرے کو ہر بات میں اسلام کی بنیادیں ہلتی محسوس ہوتی ہیں.. اس کا کسی سیاسی یا مذہبی نظریے سے کوئی تعلق نہیں یہ سراسر نفرت اور عدم برداشت ہے.. یہاں دائیں بازو اور بائیں بازو کے نظریات کہاں ہیں یہاں مفاد کے حصول کے لیے ہر حدیں پھلانگی جاتی ہیں. مثلا جو جماعتیں مشرف حکومت کی سب سے بڑی مخالف تھیں وہی اس کو اقتدار میں رکھنے کی سزاوار بھی تھیں اور جس جماعت کی بنیاد ہی فوج نفرت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تھیں اس نے خوب خوب اقتدار کے مزے لوٹے.. ایسے میں ایک شخص کےلیے آپ سے بڑا مذہبی کوئی نہیں اور دوسرے کے نزدیک آپ ہی کفر کے اعلی ترین منصب پر فائز.... یہاں ایک ہی نظریہ ہے منافقت..

    • آپ نے بالکل درست جگہ ہاتھ رکھا ہے راشد بھائی۔ ہمارا اصل المیہ کسی "ازم" سے وابستگی نہيں بلکہ نفرت اور عدم برداشت ہے اور اسی کی وجہ سے آج وطن عزیز کے طول و عرض میں آگ لگی ہوئی ہے۔

  2. راشد میں آپ سے اختلاف کی جسارت کروں گا.

    یہاں ایک ہی نظریہ ہے ... نفس پرستی. بس.

  3. شازل says:

    غیرمسلم لکھ کر بھی ہم ذمہ داری سے عہدہ برا ہو سکتے تھے.
    یہ بات زیادہ قرین قیاس لگتی ہے کہ کم تعلیم یافتہ لوگوں نے ایسا کیا ہوگا.

  4. عثمان says:

    "...میں پہلے بھی اس موقف کا قائل رہا ہوں کہ مسلم ممالک میں انتہا پسندی پھیلانے کا سب سے بڑا سبب ہمارے لبرل طبقے کا اپنے موقف پر انتہا پسندانہ حد تک ڈٹے رہنا اور زمینی حقائق کو دیکھنے بغیر اپنے موقف کا جبرا نافذ کرنا ہے۔..."

    میں سمجھ گیا. پاکستان کا "لبرل طبقہ" (پاکستان میں لبرل نام کی کوئی چیز نہیں) جو شائد ایک فیصد ہے پاکستان میں شدت پسندی پھیلانے کا اصل ذمہ دار ہے.
    جیسا کہ میں ایک لبرل ہوں اور اپنے رویے پر "اتنہا پسندی کی حد تک ڈٹے رہنے" کی وجہ سے پاکستان کی مذہبی جنونیت کی اصل وجہ ہوں.
    میرے دوست ابوشامل..
    میں تو آپ کا پنکھا ہو گیا! 🙂

  5. لگتا یہی ہے کہ کسی کم عقل نے یہ لکھ دیا ہو گا ۔اس بات کا بھی امکان ہے کہ کسی لبرل انتہا پسند نے یہ کھیل کھیلنے کے لئے تمہیدا" یہ کام کیا ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو اس کا ثبوت ان لبرل انتہا پسندوں کے ذمہ ہے کہ بتائیں کہ یہ کس نے کیا تا کہ اس کو حالات و واقعات کی روشنی میں کاروائی کا سامنا کرنا پڑے۔کہ کیوں مسلمانوں کی بدنامی کے لئے اس طرح کی حرکت کی۔اگر ثبوت نہیں تو معاشرے میں انتشار کی کوششوں کے جرم میں ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے۔

  6. حیرت ہے کہ اتنی عام سی بات کو بتنگڑ کیوں بنایا گیا ہے؟
    ویسے آپ کی یہ بات درست ہے کہ اب یہ لفظ ایک اصطلاح کے بجائے ایک گالی بن کر رہ گیا ہے۔
    لبرل طبقہ ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ہندوستان میں بھی اسی طبقہ نے ایک مولوی صاحب کو اپنے قابو میں لے کر یہ بیان دینے لگایا کہ : آئیندہ سے کسی غیرمسلم کو کافر نہ کہا جائے۔

    ایک مشہور ہندی فلم میں امیتابھ بچن کا مخصوص ڈائیلاگ تھا : شرابی کو شرابی نہیں تو کیا جواری کہو گے؟
    🙂

  7. مجھے نہیں معلوم کہ یہ لبرل یا انتہا پسندی کی بحث ہو سکتی ہے یا نہیں.....
    اگر یہ خبر سچ ہے تو مجھے اتنا پتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند نہیں آئی تھی. ہو سکتا ہے کہ یہ کسی غیر تعلیم یافتہ نے لکھا ہو، اگر ایسا ہے تو بھی یہ قابلَ مذمت ہے. عمومی رویہ ایسا ہی ہے جسکو بدلنا چاہیئے. جہاں تک بات ہے لفظ کافر یا غیر مسلم کی.... تو ’کافر‘ ایک گالی ہی کی طرح استعمال ہوتا ہے، دونوں الفاظ کے معنی کا ایک ہونا ان کو متبادل نہیں بناتا...... اصل اور قانونی اصطلاح میں غیر مسلم ہے .
    کم از کم اس ’ان پڑھ‘ کو یہ ہی خیال کرنا چاہیئے تھا کہ یہ حادثہ کس نوعیت کا ہے، اس وقت عوام کی حالت کیا ہے.

  8. نعمان says:

    آپ نے اپنی پوسٹ کا یو آر ایل یقینا سوچ سمجھ کر منتخب کیا ہے۔ infidel-liberals
    کیونکہ ورڈپریس یہ اردو بلاگز کے لئے بائی ڈیفالٹ منتخب نہیں کرتا بلکہ اسے خود لکھنا پڑتا ہے۔ کیا آپ کی تحریر کے یو آر ایل کا ترجمہ کافر لبرل بنتا ہے؟

    لبرل انتہاپسندی مذہبی انتہاپسندی کا ردعمل ہے۔ اور جیسے جیسے مذہبی انتہاپسند شدت سے اپنا نظریہ فورس کریں گے ویسے ویسے لبرل انتہاپسند بھی شدت سے اپنا موقف منوانے کی کوشش کریں گے۔

    جب ہم کسی لفظ کی معنویت اور استعمال کو جانچتے ہیں تو اس لفظ کے لغوی تراجم نہیں بلکہ اس کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہیں۔ پاکستان میں لفظ کافر بکثرت ان گروہوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جن سے نفرت کرنا ہر مسلمان کے ایمان کا ایک لازمی جزو بن گیا ہے۔ مجھے فہرست پیش کرنے کی ضرورت تو نہیں؟ جب ہمارے ملک میں کسی کو کافر کہا جاتا ہے تو اس میں منہ بھر کر نفرت، ناک سکیڑ کر اور بھنویں چڑھا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم جب کسی کافر سے ملتے ہیں تو یہ نہیں کہتے اوہ کافر بھائی آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ بلکہ اس لفظ کو اپنی نفرت کے اظہار کے لئے محفوظ رکھتے ہیں۔

    • معذرت نعمان، غلطی سے یہ پرمالنک بن گیا تھا۔ آپ کو تو معلوم ہوگا کہ میں کفر کے فتووں کے کلچر سے سخت بیزار ہوں، اور ہر گز میرا مقصد کسی کو کافر قرار دینا نہيں تھا۔ میں نے آپ کی نشاندہی کے بعد پرما لنک میں تبدیلی کر دی ہے۔ امید ہے کہ آپ درگزر فرمائیں گے۔
      آپ نے یہاں ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے کہ لبرل انتہا پسندی دراصل مذہبی انتہا پسندی کا ردعمل ہے۔ ہو سکتا ہے یہ بات مغرب کی تاريخ کے تناظر میں ہو، جو درست ہے لیکن اگر آپ مشرق میں یعنی مسلم آبادیوں کے حامل ممالک میں دیکھیں تو یہاں معاملہ الٹ ہے۔ یہاں پہلے لبرل انتہا پسندی نے جنم لیا، ترکی، مصر، تیونس اور الجزائر اس کی مثالیں ہیں۔ اس کے بعد مذہبی انتہا پسندی نے خوفناک روپ دھارا۔
      کافر کے حوالے سے آپ نے جو کہا وہ بالکل درست ہے میں بھی اپنی تحریر میں اس بات کا اظہار کر چکا ہوں کہ گو کہ اصطلاحا اس لفظ میں کوئی برائی نہيں ہے لیکن ہمارے ہاں یہ لفظ ایک گالی بن چکا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ نسل پرست مغربی پاکستانیوں کے لیے پاکی کا لفظ استعمال کرتے ہيں۔ ہمیں تو سنتے ہوئے کوئی برائی محسوس نہيں ہوتی لیکن اس لفظ کے پیچھے جو نفرت پوشیدہ ہے اس کا اندازہ وہاں رہنے والوں کو بخوبی ہے۔ بالکل یہی حرکت ہم متحدہ پاکستان کے عہد میں کر چکے ہيں کہ ہم کسی بھی شخص کو اس کی بدصورتی، کوتاہ قامتی یا کمزوری کے باعث بنگالی کہہ دیتے تھے، بلکہ شاید آج بھی استعمال کرتے ہیں۔ اب بنگال والے تو خود کو بنگالی ہی کہتے ہیں لیکن ہمارے ہاں یہ لفظ اچھے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔

      • نعمان says:

        ابوشامل لبرل انتہاپسندی کے پہلے جنم لینے کی جو مثالیں آپ نے عرض کی ہیں وہ پاکستان کی نہیں ہیں ہمارے معاشرے میں مذہبی انتہاپسندی کا آغاز سوویت یونین کے افغانستان پر قابض ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ اور جیسے مذہب پسندی انتہا اور پھر تشدد کی حدوں کو چھونے لگی تو ہی پاکستانی لبرلز نے آواز اونچی کی ہے۔ اس سے پہلے کبھی پاکستان میں لبرلز یا سیکولرز کی آواز اتنی سنائی نہ دیتی تھی۔ اور میرے خیال میں اس آواز میں ایسی شدت اور انتہاپسندی آتی جائیگی اگر پاکستان میں مذہبی غنڈے دندناتے پھرتے رہے اور مذہب پسند لوگ ان کی صفائیاں پیش کرتے رہے۔

        • نعمان بھائی! مجھے لگتا ہے آپ کا "مطالعۂ پاکستان" کمزور ہے 🙂 یا پھر آپ پاکستان کا آزادی کا سال 1947ء کو نہیں بلکہ 1977ء کو سمجھتے ہیں 🙂
          میں صرف دو ادوار کی مثال دوں گا ایک ایوب خان کا دور اور دوسرا بھٹو کا دور۔ ان دونوں لبرل ادوار، خصوصا دور اول، میں اس ملک کے مذہبی طبقوں کو جس طرح کچلنے کی کوشش کی گئی، ان کے رہنماؤں کو سالوں جیلوں میں سڑایا گیا، ان کی جماعتوں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا، ملک کے آئین کو معطل کر کے قرارداد مقاصد کو کوڑے کے ڈھیر میں پھینکا گیا، ملک کے نام سے اسلامی جمہوریہ کے لیبل کو مٹایا گیا، یہ سب دراصل لبرل شدت پسندی کی ابتدائی مثالیں تھیں۔ جب آپ جمہوریت کی خواہاں مذہبی جماعتوں کا راستہ روکتے ہیں تو دراصل آپ جمہوری کلچر پر یقین نہ رکھنے والی انتہا پسند تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور یہی غلطی ایوب خان کے دور میں ہوئی۔ بھٹو کے دور میں جس طرح میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے ایک نئے کلچر کو ہمارے ہاں متعارف کرانے کی کوشش کی گئی اس نے ملک کی اخلاقی بنیادوں کی چولیں ہلا دیں۔ اس کے بعد آپ کا یہ استدلال کہ پاکستان میں لبرل انتہا پسندی کی مثال کوئی نہیں، بے معنی رہ جاتا ہے۔
          آپ کی دوسری بات، اگر کوئی مذہب کا لیبل لگا کر دہشت گردی کی کاروائیاں کرتا ہے تو میرے خیال میں مذہب پسند لوگوں کو اس کی سب سے زیادہ مذمت کرنی چاہیے اور اگر کوئی انفرادی یا اجتماعی حیثیت میں ان کی مذمت نہیں کرتا تو وہ بہت بڑی غلطی کرتا ہے اور افسوس کی بات ہے کہ یہ غلطی ہماری مذہبی جماعتیں کر رہی ہیں۔ ایسے عسکریت پسندوں کی حوصلہ شکنی ضروری ہے ورنہ جمہوری کلچر پر یقین رکھنے والی مذہبی جماعتوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔

  9. اگر یہ خبر سچ ہے تو مجھےیہ بات پسند نہیں آئی تھی.کافر کا مطلب کچھ بھی ہمارے معاشرے میں اسے ایک گالی کے طورپر یا اظہار نفرت کیلئے استعمال کیا جاتا ھے.

  10. جعفر says:

    دل پر ہاتھ رکھ کے سوچیے
    کیا ہلاکو کے بغداد آنے سے پہلے کا منظر نامہ پوری طرح تیار نہیں ہوگیا؟
    میں تو ذرا جاہل (اور منافق) سا بندہ ہوں
    تاریخ میں درک رکھنے والے دوستوں کو پتہ ہوگا کہ اس نے بلا تخصیص سب کو جام شہادت نوش کروایا تھا
    نہ اس نے کسی سے پوچھا کہ بھیا! کون ہو؟ روشن خیال یا بنیاد پرست۔ اور نہ ہی کسی کو لباس یا زبان کی وجہ سے بخشا۔۔۔۔
    تو میرے سب پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کو متوقع شہادت مبارک۔

  11. Javed Iqbal says:

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    دراصل بات یہ ہےکہ جولبرل حضرات ہیں وہ خودبہت بڑےانتہاء پسندہیں کیونکہ وہ تصویرکاایک رخ دیکھتےہیں یاان کی کوشش ہوتی ہےکسی طرح پاکستان کوبدنام کیاجائےکہ اوروہ ایسی ہی خبروں کواچھال کراپنامقصدپوراکرتےہیں۔ اللہ تعالی میرےپراپنارحم و کرم کردے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

  12. ایسی باتوں کو اچھالنا اور پھر اس پر مباحث اس دور ابتلا میں ناقابل یقین ہیں۔

  13. میرے خیال میں یہ بات درست نہیں ہے. اس حادثہ میں انسان پہچانا مشکل تھا، شکل اور مذہب بہت دور کی بات. اگر ایسا ہوا ہے تو یہ اس معاشرے کے منہ پر طماچہ ہے.

    • عمران صاحب، بلاشبہ یہ افسوسناک واقعہ ہے کہ ایک ایسے لڑکے کو جو اس ملک کا سرمایہ افتخار تھا، کو بعد از موت اک ایسے لفظ کا تحفہ دیا گیا جو عموما گالی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن مجھے شکایت لبرل طبقے کے اس رویے سے ہے جو وہ اس طرح کے واقعات کے بعد ظاہر کرتا ہے اور مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں اس وقت دو انتہا پسند قوتیں موجود ہیں ایک مذہبی انتہا پسندی دوسری لبرل انتہا پسند۔

  14. عثمان says:

    ابو شامل..
    دو "بچگانہ" سوالوں کے جواب عنایت کردیں.
    ۱) پاکستان میں "لبرل انتہا پسند" کتنے فیصد ہوں گے؟
    ۲) "لبرل انتہا پسندوں" نے اب تک کتنے بندے پھڑکائے ہیں۔ یا چلو کتنے بندوں کے ناک پر بیٹھی مکھی ماری ہے؟

    • فیصل says:

      پاکستان میں لبرل انتہا پسند تو بہت کم تعداد میں ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وسائل اور اختیارات پر وہی قابض ہیں. بندے انھوں نے بھی بہت مارے ہیں لیکن لوگوں کو نظر نہیں آتا.

    • عثمان صاحب! اگر آپ زبردستی بحث کرنا چاہ رہے ہیں تو الگ بات ہے ورنہ پاکستان کی تاریخ لبرل و سیکولر سیاست دانوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے۔ پھر ایک حالیہ مثال ہی دیکھ لیجیے کراچی میں دو لبرل سیکولر جماعتوں کے کارکنان کیا گل کھلا رہے ہیں؟
      ویسے آپ کو "مکھی" کا بڑا غم ہے 🙂

      • عثمان says:

        بہت خوب!..یعنی پاکستان میں لسانی و قومی جماعتوں کو "لبرل اور سیکولر" کہا جاتا ہے. آپ واقعی ان اصطلاحات سے نابلد ہیں.
        بحث میں یہاں کوئی نہیں کررہا. البتہ اگر آپ اپنی ہر تحریر کے جواب میں ماشااللہ اور جزاک اللہ ہی سننے کے عادی ہیں تو الگ بات ہے.

        • بھائی صاحب! پاکستان کی دو جماعتوں کے نام بتائیے جو خود کو سیکولر اور لبرل کہتی ہیں۔ یہی دو جماعتیں جن کا میں آپ سے ذکر کر رہا ہوں۔ باقی آپ کی نظر میں کوئی اور ہے تو بتا دیں۔ اب خدارا کینیڈا کی کسی جماعت کو سیکولر ازم کے معیار کے طور پر بیچ میں نہ لے آئیے گا۔ 🙂
          باقی آپ کے آخری جملے سے مجھے تکلیف پہنچی ہے، بھائی، میں تو اس وقت بھی لکھتا تھا جب تحاریر پر صفر تبصرے ہوتے تھے، نہ اس وقت ستائش کی تمنا تھی اور نہ اب ہے۔ والسلام

          • عثمان says:

            بھائی جی...
            پاکستان کی "لبرل و سیکولر" جماعتیں اتنی ہی "لبرل و سیکولر" ہیں جتنی پاکستان کی "اسلامی جماعتیں" "اسلامی" ہیں. کوئی مذہب کا نعرہ لگا کر مال بیچ رہا ہے تو کوئی لبرل و سیکولرازم کا. مقاصد سب کے ایک ہی ہیں یہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی.
            یہ بتاتا چلوں کہ میں مغربی سیکولرازم کا دلدادہ نہیں.نیز لبرل ازم اور سیکولرازم کو ایک دوسرے کا نعم البدل اور لازم و ملزوم نہیں سمجھتا.

          • بات تو بڑی زبردست کہی ہے آپ نے کہ لبرل و سیکولر جماعتیں بھی اتنی ہی لبرل و سیکولر ہیں جتنی اسلامی جماعتیں اسلامی ہیں 🙂 بہت خوب۔

  15. جعفر says:

    لال مسجد میں کس نے کس کو مارا تھا؟
    اچھا حکومتی رٹ۔۔۔
    پھر کراچی میں حکومتی رٹ چھولے بیچ رہی ہے۔۔۔

  16. جہاں تک میرا خیال ہے کراچی میں بدامنی پھیلانے میں کوئی تیسرا ہاتھ ملوث ہے. جس کی حکومتی اداروں کو بھی سمجھ نہیں آرہی.

    • کراچی میں دو اتنے بڑے ہاتھوں کی موجودگی میں کسی تیسرے ہاتھ کی کیا ضرورت ہے صاحب؟ ان دو میں سے ایک ہاتھ تو ویسے بھی اتنا بڑا ہے کہ اس سے اپنی بڑائی کا زعم برداشت نہیں ہوتا اور اپنے بڑے پن کی نمائش گاہے بگاہے کرتا رہتا ہے۔ بارہ مئی بھول گئے کیا؟

  17. طالوت says:

    افسوس کی بات ہے اگر ایسا ہوا ہے ۔ سب جانتے ہیں کہ یہ لفظ ایک گالی بن چکا ہے اس لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے تھا مگر یہ کوئی ایسی بھی قیامت نہیں آئی کہ اس پر واویلا کیا جائے ۔
    وسلام

  18. السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
    ایک کم خرچ اور آسان سائنسی تجربہ۔
    تین ہزار اوسط پاکستانی مسلمان لے لیں۔
    ایک ایک ہزار کے تین گروہ بنائیں۔
    پہلے ایک ہزار کو کہیں: "تم کافر ہو"۔
    دوسرے ایک ہزار کو کہیں: "تم غیر مسلم ہو"۔
    تیسرے ایک ہزار کو کہیں: "تم دائرہ اسلام سے خارج ہو"۔
    پہلی صورت: اگر پہلے گروہ کے علاوہ کوئی آپ کو پھینٹی نہیں لگاتا تو اس کا مطلب ہے کہ واقعی جو لبرلزم کے دعوے دار کہہ رہے ہیں، وہ درست ہے اور لفظ "کافر" کے استعمال کے خلاف تحریک چلنی چاہیے۔
    دوسری صورت: اگر پھینٹی کا تناسب تینوں یا کم از کم دو گروہوں میں بھی ایک جیسا رہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک اوسط پاکستانی مسلمان کو جن الفاظ میں بھی غیر مسلم کہا جائے، اسے برا ہی لگے گا۔ یعنی وہ اس پر گالی سننے جیسا ردِ عمل ہی ظاہر کرے گا۔ ایسی صورت میں نتیجہ یہ اخذ کیا جائے گا کہ کسی غیر مسلم کو کافر کہنا کوئی ایسی بڑی بات نہیں جتناس اسے کچھ مخصوص لوگ اچھال رہے ہیں۔ اور کافر (یا غیر مسلم) قرار دیے جانے کو صرف مسلمان ہی گالی تصور کرتے ہیں۔ چنانچہ غیر مسلموں کو اس بات پر کسی طرح کی ٹینشن نہیں لینی چاہیے۔

    اپنی تحقیق اور تجربے کی روشنی میں میں پیشن گوئی کرتا ہوں کہ 90 فیصد سے زائد لوگوں کو دوسری صورت والا نتیجہ ہی حاصل ہوگا۔ میری پیشن گوئی ناکام ہونے کی صورت میں سارا قصور عثمان کا تصور کیا جائے۔

    والسلام۔

  19. ابو احمد says:

    ((((((محض چند ایک لوگوں کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے “کافر” لکھا ہوا دیکھا تاہم مرحوم کے رشتہ داروں، عزیزوں حتی کہ اسلام آباد میں پمز ہسپتال میں ان کی لاش وصول کرنے والے رشتہ دار نانک رام تک نے ایسا کچھ تابوت پر لکھا ہوا نہیں دیکھا۔
    لیکن اگر حقیقتا ایسا کوئی لفظ مرحوم کے تابوت پر لکھا بھی گیا ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔))))))
    ابو شامل صاحب اچھی پوسٹ لگائی آپ نے۔ مگر مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ وہ غیر مسلموں کے مرنے کے بعد اُن کے لیے رحمت و مغفرت کی دُعا کریں۔ اللہ تعالٰی نے خود حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کے بظاہر مسلمان مگر بباطن کافر منافقین کے لیے دعا کرنے سے منع فرما دیا۔
    آپ نے پریم چند کےلیے مرحوم کا لفظ استعمال کیا ہے جو ایک دعائیہ لفظ ہے جس کا مطلب ہے (رحم کیا گیا شخص)۔ شاید بعض لوگ اس کا مطلب فوت شدہ یا مرا ہوا لیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ اس لیے غیر مسلموں کے لیے یہ لفظ استعمال کرنا مناسب نہیں۔ مرنے والے غیر مسلموں کےلیے ہماری زبان میں آنجہانی (اگلے جہان والا) استعمال کرنے کی روایت رہی ہے۔

  20. میرے خیال سے اگر پریم چند کی میت پر کافر لکھا گیا ہے تو یہ ایک انتہائی غلط قدم تھا. لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے اس خبر کی تصدیق ہوجائے. دوسرا یہ کہ لبرل انتہا پسندوں نے اس مسئلے کو کچھ زیادہ ہی اچھالا جو انکی موقع پرستی اور بد نیتی کا بین ثبوت ہے.
    دوسرا عثمان کی یہ بات کہ لبرل انتہاپسندوں نے کتنے کھڑکائے، صاحب اگر گنوانا شروع کروں تو بلاگ کہ بلاگ بھر جائیں گے اور نعمان کی یہ بات کہ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی یا شدت پسندی کے نتیجے میں لبرل انتہاپسندی نے جنم لیا حقیقت کے برخلاف ہے. اگر آپ پیچھے جائیں تو آپ کو پاکستان میں اول دن سے لبرل انتہاپسند نظر آئیں گے. کیا آپ کو راولپنڈی سازش کیس، مختلف کمیونسٹ پارٹیاں اور سوشلسٹ ادب وغیرہ آپ کو یاد نہیں، صاحب کیا یہ بھی یاد نہیں کہ جماعت اسلامی نے رد عمل کے طور سوشلزم کے خلاف کام کیا تھا ورنہ سوشلزم کے لبرل خیالات اور مقید معیشت کے تصورات تو پاکستان بننے سے بھی پہلے کہ ہیں. آج وہی سوشلسٹ لوگ آمریکی گود میں ہیں اور خود کو لبرل کہتے ہیں.

  21. محترم، کافر ہونے کے لئے اللہ کے نبی کا انکار کرنا ضروری ہے۔ پریم چند صاحب ہندو تھے۔ اورغالب امکان ہے کہ انہو ں نے کبھی بھی اسلام کی تکذیب نہیں کی۔ لکم دینکم والا رویہ رکھا ہوگا۔ ان کو کافر کہنا ظلم ہے۔ مودودی صاحب البتہ تکفیری نظریات رکھتے تھے۔ ان کے پیروکار اگر کافر لکھیں تو ان کی مرضی۔

  22. یہاں لبرل اور سیکیولر میں فرق بھی کر لیں۔ سیکیولر ہونا عین اسلامی نظریہ ہے۔

  1. August 7, 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Abu Shamil, Urdu Blogz. Urdu Blogz said: Post: لبرل طبقہ اور “کافر” http://bit.ly/991XwY [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.