آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں‏

تحریر: زبیر انجم صدیقی

اگر آپ کراچی میں اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل میں سفر کرتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آگے میں جو کچھ لکھنے جا رہا ہوں وہ بات آپ کے تجربے میں نہ ہو، مگر جو لوگ میری طرح پبلک ٹرانسپورٹ کے سفر کے عادی ہیں ان کے لئے ایک معمول کا مشاہدہ اور تجربہ ہوگی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بھی کبھی نہ کبھی اس طرح کے مکالمے کے مخاطب و متکلم رہے ہوں ۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ موسم بہار کی سہانی شام تھی، مجھے دفتر کے ایک ساتھی نے اپنی گاڑی میں دفتر سے ڈرگ روڈ تک چھوڑااور اس کے بعد ہم کھوکھرا پار اور ٹاور کے درمیان چلنے والی بس میں یو ٹی ایس 12 میں سوار ہوئے جس کو اس کی تیز رفتاری اور دروازوں سے ابلتے ہوئے مسافروں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، بہرحال اس دن بھی رش تو تھا مگر اتنا کہ کھڑے ہونے کی جگہ آسانی سے مل گئی، ہم نے جھٹ سے اس کونے کا انتخاب کیا جو کھڑکی پاس تھا اور جہاں زیادہ سے زیادہ مسافروں کو کھڑا رکھنے کے لئے سیٹوں کو اکھاڑ دیا گیا تھا۔ میں اسی کونے میں ہو لیا اور کھڑکی سے آنے والی ہوا اور باہر کے منظر میں مگن ہوگیا۔ اتنے میں کنڈیکٹر کرایہ وصولتا ہوا آن پہنچا ۔پہلے وہ میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا

۔‘‘ہاں بھائی ’’۔

میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر بٹوا نکالا اور اس میں سے بیس کا نوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھایا۔ کنڈیکٹر نے گزشتہ روز کے کرائے دس روپے کے بجائے بارہ روپے کاٹ کے جب آٹھ روپے میری جانب بڑھائے تو میرے چہرے پر احتجاج کا تاثر ابھرا مگر اسی لمحے میں مجھے یاد آیا کہ میں آج ہی تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے نتیجے میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کی خبر بنا کر آرہا ہوں ، میں نے اپنی ہتھیلی میں موجود سکوں کو پرس میں منتقل کیا اور دوبارہ بس کی کھڑکی سے نظر آنے والے بیرونی منظر میں مگن ہوگیا کہ کنڈیکٹر نے مرے برابر والے مسافر سے کہا ۔

۔‘‘ ہاں صاحب ! کرایہ ’’ ۔مسافر نے اپنی جیب سے دس کا نوٹ نکالا اور کنڈیکٹر کی جانب بڑھا دیا ، کنڈیکٹر نے جھٹ دس کا نوٹ اپنی مٹھی میں سمیٹا اور بولا

‘‘ صاحب دو روپے اور’’

۔ مسافر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ‘‘کیوں بھائی ’’

۔تو کنڈیکٹر نے جواب دیا ‘‘ بھائی بڑھ گیا ہےکرایہ’’

‘‘ کب بڑھا کرایہ ، میں کل ہی تو دس روپے میں گیا تھا’’

‘‘ کل کل تھی آج آج ہے ، رات گئی بات گئی ، آج کا کرایہ بارہ روپے ہے ،شاباش !بحث میں ٹائم ضائع نہ کرو دوروپے نکالو’’ کنڈیکٹر نے جواب دیا ۔مگر مسافر بھی شاید مزید سننے کے موڈ میں تھا ۔‘‘ کہاں لکھا ہے کرایہ بارہ روپے ہے ’’مسافر نے جواب دیا ۔ کنڈیکٹر نے میرے سر سے ذرا اوپر ہی بس کی دیوار میں چسپاں فوٹو اسٹیٹ کرایہ نامے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘وہ لگا ہوا ہے ، پڑھ لو مگر میرا وقت ضائع نہ کرو ’’۔مسافر مزید احتجاج کرتے ہوئے بولا‘‘ وہ لیٹر پر پانچ روپے بڑھاتے ہیں اور تم لوگ ایک ٹکٹ پر دو رپے بڑھا دیتے ہو ، پاکستان میں تو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے سب اپنا اپنا ہی بھرنے میں لگے ہوئے ہیں ’’ یہ کہہ کر مسافر نے دو روپے کا سکہ بڑھادیا ۔

‘‘اس پہلے تین دفعہ ڈیزل کے ریٹ بڑھے مگر ہم نے کرایہ وہی رکھا ، اور بھائی ہم سے مت لڑو ، ہم تو تمہارے ہی جیسے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والے ہیں ، جن سے لڑنا چاہیئے ان سے لڑتے نہیں ہو ، نکلو سڑکوں پر ، جو آٹا دو سال پہلے سترہ اٹھارہ روپے کلو خرید رہے تھے اب خاموشی سے چھتیس روپے لے آتے ہو ، وہاں احتجاج نہیں کرتے ، چینی تیس روپے سے پینسٹھ ہوگئی ، وہاں تم نہیں لڑے ، تمہارا زور بھی بس ہم پر ہی چلتا ہے ’’ ۔

کنڈیکٹر نے اسٹاپ قریب آتے ہی کھوکھرا پار ، کھوکھراپار، کالابورڈ ایئرپورٹ کی صدائیں بلند کرنا شروع کر دیں اور میں نے مسافر اور کنڈیکٹر کا مکالمہ ختم ہونے پر سکھ کا سانس لیا اور ایک بار پھر کھڑکی سے آنے والی اس ہوا سے محظوظ ہونے لگا جس سے آدھا اکھڑا ہو فوٹو اسٹیٹ کرایہ نامہ میرے سر کے اوپر ہی پھڑ پھڑا رہا تھا ۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

16 تبصرے

  1. نعمان says:

    ایسی اور پوسٹس لکھیں۔

  2. زبیر انجم صدیقی says:

    سو ہے وہ بھی آدمی

  3. جعفر says:

    بات تو عجیب ہے لیکن ایسا ہورہا ہے آج کل
    ایسے ایسے بندے سامنے آئینہ رکھ دیتے ہیں کہ ان سے بالکل امید نہیں ہوتی
    آپ کی یہ تحریر معمول سے ہٹ کر ہے (آپ کے معمول سے)
    نعمان کی فرمائش پر میں بھی صاد کرتا ہوں

  4. میں یا تو پیدل چلا کرتا تھا یا پھر آپ کی طرح بسوں اور ویگنوں میں سفر کرتا تھا ایسے واقعیات میرے ساتھ بھی کہیں دفعہ ہوئے
    ویسے بات تو دونوں کی سچ ہے
    احتجاج ہم نہیں کرتے لیکن اگر ہم احتجاج کریں تو پھر سنتا کون ہے ہاں اتنا ضرور ہوتا ہے اگر ہم احتجاج کرنے نکلیں تو اپنا ہی نقصان نظر آتا ہے اس لیے احتجاج چھوڑ ہی دیا ہے

  5. سائيکل رکھ ليں اس پر آيا جايا کريں نہ جھگڑا نہ کرايہ

  6. اسکا عنوان ہونا چاہئیے تھا. آتے ہیں جیب سے یہ مضامیں خیال میں. غریب آدمی کے لئے ایک ایک پیسے کی اہمیت ہوتی ہے. کیونکہ پیسے ہی گنے چنے ہوتے ہیں. لیکن ایک بات میں آپکو بتائووں کہ جب تک میں نے بسوں میں سفر کیا میرے پاس کہانیوں کے انبار رہتے تحے. مگر جب سے خدا نے اتنی سہولت دی کہ اپنی گاڑی میں سفر کروں تو ان قصوں کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے.

  7. ویسے اگر سفر کرنے والے ان بسوں، ویگنوں کا بایکاٹ کر دیں صرف ایک ہفتے کے لیے تو ان کرایہ بڑھانے والوں کو دن میں تارے نظر آ جائیں اور یہ ظالم کرایہ گھٹانے پےمجبور ہو جائیں.

  8. خرم says:

    کاش اس کنڈکٹر جتنا شعور ہی اس قوم کو میسر ہو جائے۔

  9. تلخابہ says:

    زبیر بھائی بہت خوب لکھا ہے.اس پراس دعا کے علاوہ کیا کہہ سکتے ہیں کہ’’ اللہ دے زور قلم اور زیادہ ‘‘

  10. ظفر اقبال says:

    کنڈکٹر کی گفتگو مین بہت سے کنکلوژنس موجود ہیں....جہان لڑنا ہے وہاں تو لڑتے نہیں.....

  11. بریکنگ says:

    زبیر اچھی آبزرویشن ہے۔۔ تحریر کا انداز بھی پسند آیا۔۔بس کنڈکٹر اور مسافر کے مقالمے میں گفتگو بہت ہی باادب ہوئی حالانکہ میرے مشاہدے کے مطابق بس کے سفر میں بات گالی سے شروع ہو کر گالی پر ہی ختم ہوتی ہے۔۔

  12. زبیر انجم صدیقی says:

    تحریروں کا موضوع عام آدمی کو بنانے کی تحریک نظیر اکبرآبادی سے ملی ،
    آدمی نامہ ، بنجار نامہ ، بندر نامہ اور ، روٹی نامہ نظیر اکبر آبادی کی نظموں کے موضوعات تھے جنہیں دیکھ کر مجھے کنڈیکٹر کے کرایہ نامہ کا واقعہ یاد آگیا ، جن لوگوں نے وقت نکال کر اس تحریر کو پڑھ لیا ہے ، مجھے ان سے ہمدردی ہے اورجنہوں نے تبصرہ بھی کر ڈالا ہے ، وہ ان کی محبت ہے
    بلال صاحب سے سوال ہے کہ وہ آخر اس تحریر میں چاہتے کیا ہیں ؟
    ایک بار دفتر میں کام کرتے ہوئے مجھ سے کسی نہ کہا کہ یار اپنے پروگرام میں وہ دکھا ئو جو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ان کی بات سن کر میں نے صرف اتنا کہا
    ’’وہ تو ہم دکھا ہی نہیں سکتے ‘‘

  13. فرحان ظفر شاہ says:

    بہت اچھا موضوع منتخب کیا ہے آپ نے،،،

  14. زبیر انجم says:

    اور جعفرصاحب
    کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ میرے موضوعات صرف جنگ و جدل ہی ہیں ؟
    کوشش کروں گا یہ تاثر ختم ہو جائے

  15. شاباش! لیکن ساری قوم سوئی ہوئی ہے

    The entire nation is fast asleep

  16. Hasan Jamil Syed says:

    achi tehreer he, buhat acha andaz he, degar qara'aeen ki tarha maiN bhi kahooN ga, ye bhi likha kareN.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.