کافر کون

ملک کے داخلی و معاشی حالات انتہائی خراب ہونے کے باوجود آج کل ایک بحث بڑے زور و شور سے جاری ہے۔ [[زی]] المعروف بلیک واٹر کے اہلکار ملک کے کئی علاقوں میں دندناتے پھر رہے ہیں لیکن ہم ایسے گڑھے مردوں کو اکھاڑ رہے ہیں جنہیں ہم آج سے 35 سال قبل دفنا چکے تھے یعنی قادیانی مسئلہ۔ قادیانی عقائد کے مطالعے سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ پہلے انہوں نے مسلمانوں کو کافر قرار دیا، مسلمانوں کی جانب سے انہیں کافر قرار دینے کا معاملہ تو دہائیوں کے بعد پیش آیا۔ سب سے پہلے تو تکفیر کی گنگا میں انہوں نے ہاتھ دھوئے۔ انہوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں ہی اپنی کتابوں میں یہ واضح کر دیا تھا کہ "مسیح موعود" کا انکاری کافر ہے

کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں (حوالہ: آئینۂ صداقت مصدفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد، خلیفۂ قادیان، ص 35)

اس کے دیگر حوالوں سے قطع نظر معاملہ اگر قادیانیوں کو کافر قرار دینے پر ناراضگی کا ہے تو پہلا عتاب تو قادیانیوں پر نازل ہونا چاہیے۔ بہرحال یہ بہت زیادہ تفصیل طلب بحث ہے، جسے کسی اور وقت کے لیے چھوڑ رکھتے ہیں۔ فی الوقت صرف اتنا کہ قادیانی لٹریچر کے مطالعے سے اس امر میں کسی مسلمان کو شبہ نہیں رہے گا کہ وہ ختم نبوت کے انکاری ہیں اور اس لیے مسلمان نہیں ہیں۔ موقع محل کے مطابق میں اپنے ایک بزرگ صحافی کا واقعہ بھی پیش کرنا چاہوں گا جس سے ایک پڑھے لکھے اور زمانے کی سمجھ بوجھ رکھنے والے قادیانی کے ذہن کی عکاسی ہوتی ہے۔ محترم بزرگ انسانی حقوق کے بڑے ترجمان ہیں، ایک غیر سرکاری ادارے (این جی او) سے وابستہ ہیں۔ قوم پرست اور لبرل سیاست سے وابستہ رہے ہیں اور آزاد خیال و جدید سوچ رکھتے ہیں۔ اس لیے اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے علمبردار ہیں۔ ایک مشہور اخبار میں کالم بھی لکھتے ہیں۔

ایک مرتبہ محفل میں قادیانیوں کا ذکر چھڑا تو انہوں نے مجھے ایک واقعہ بتایا کہ ایک مرتبہ وہ ربوہ گئے۔ وہاں مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے قادیانیوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے "انسانی حقوق" کے جذبے سے مغلوب ہو کر ہمدردی کا اظہار کیا کہ مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اور انہیں ہمہ وقت اپنی مذہبی شناخت کے باعث جان کا خطرہ رہتا ہے۔ پاکستان کے آئین کے تحت اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہے، اس کے باوجود قادیانیوں سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے جو بہت افسوسناک ہے۔ ان کی اس ہمدردانہ گفتگو کے بعد ربوہ کی بار کونسل کے صدر موصوف فوراً کہنے لگے تو آپ مسلمان کیوں نہیں ہو جاتے؟ محترم پہلے تو ایک لمحے کو چونکے اور پھر پوچھا کہ کیا مطلب؟ مسلمان تو میں ہوں۔ تو ان وکیل صاحب نے کہا کہ نہیں میرا مطلب ہے آپ قادیانی کیوں نہ ہو جاتے کیونکہ حقیقی اسلام ہی یہی ہے ۔ جب آپ ہم سے اتنی ہمدردی رکھتے ہیں تو سب سے بہتر یہی ہے کہ آپ "مسلمان" ہو جائیں۔ یقین کریں میں نے زندگی میں پہلی اور آخری مرتبہ انہیں اپنے مذہب کے حوالے سے اتنا جذبات میں دیکھا۔ بہرحال یہ واقعہ بتانے کے بعد ان کا تبصرہ یہ تھا کہ"جاہل" مولویوں اور قادیانیوں میں کوئی فرق نہیں، جیسا سخت گیر موقف مولویوں کا ہے بالکل ویسی ہی حرکتیں قادیانیوں کی بھی ہیں (نوٹ: یہ ان بزرگ صحافی کا تبصرہ ہے، میرا نہیں)۔

قادیانیوں کی کچھ اعلیٰ ظرفیوں اور دل نشیں زبان کا مظاہرہ آپ یہاں اور یہاں تبصرہ جات میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

38 تبصرے

  1. Muneer says:

    يہ کفر کے فتوی قريبا چودہ سو سال پرانے نہيں ہيں؟ شيعہ سنی مسئلہ کافی پرانا ہے- قاديانی تو کافی بعد ميں آئے ہيں-

  2. خرم says:

    فہد بھائی پہلی بات تو یہ کہ بلیک واٹر کے نام پر جو افواہ سازی کی مہم چلائی جارہی ہے مجھے اس کے پس پردہ محرکات کی سمجھ نہیں آرہی۔ نہ تو پاکستانی فوج کسی بھی ایسی تنظیم کو کھلم کھلا چھوٹ دے سکتی ہے اور نہ ہی پاکستان پر قبضہ بھارت کے سوا دنیا کے کسی ملک کے مفاد میں ہے۔
    اب بات ہو قادیانیوں کی تو مجھے تو یہ بحث ہی وقت کا ضیاع لگتی ہے کہ وہ کافر ہیں یا نہیں۔ ہاں ارتداد کا فتوٰی ان پر جڑنا سمجھ سے باہر ہے۔
    الطاف نے جوش جذبات میں آکر اپنے روائتی عامیانہ انداز میں ایک نامناسب بات کرکے یہ شوشہ چھوڑ دیا وگرنہ ان کا انٹرویو اس وقت تک بالکل ٹھیک تھا جب تک انہوں نے قادیانیوں کے لئے مذہبی آزادی کی بات کی تھی اور یہ کہا تھا کہ دوسرے غیر مسلموں کی طرح انہیں بھی وہی حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ ان کے باقی انٹرویو کے بارے میں یہی کہوں گا کہ اگر لوگ ان سے مدبرانہ افکار کی توقع رکھتے ہیں تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی کیکر پر انگور لگنے کی آرزو کرے۔

    • خرم بھائی اگر یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ رائی کا پہاڑ بنایا جا رہا ہے تو کم از کم رائی تو موجود ہے نا؟ 🙂
      آخری جملے میں بہت اعلیٰ بات کہی ہے آپ نے۔

  3. نہیں معلوم کہ جب یہ مسئلہ آج سے پینتیس سال پہلے سیٹل کیا جا چکا ہے تو اس وقت اسکو پھر کیوں موضوع بحث بنایا جا رہا ہے۔ اسکے متعلق قوانین سب کی متفقہ رائے سے تشکیل دئیے جاچکے ہیں تو اب اچانک یہ خطرہ پھر کیوں کھڑا ہوگیا ہے۔
    لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ آپکو ورغلا دیں گے۔ میں نے انکا لٹریچر جب پڑھا تھا جب میری عمر سترہ اٹھارہ سال تھی۔ میں اس وقت قادیانی نہ ہوسکی۔ نہ ہی ایک لمحے کے لئے انکی تحریروں سے متائثر۔ اگر آپ اپنے مذہب کی حقانیت اور اسکی بنیادوں سے صحیح طور سے واقف ہیں تو انکی باتوں پہ صرف مسکرا سکتے ہیں ۔ انکے ساتھ بحث کر کے اپنے آپکو سچا ثابت کرنا وقت کا بہت بڑا زیاں ہے۔
    کیا مجھے کسی ہندو اور عیسائ کے ساتھ ہر وقت اپنے مذہب کی حقانیت پہ بحث کرنی چاہئیے، انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ جس کمیونٹی میں پیدا ہوتا ہے اسے زیادہ صحیح اور بہتر سمجھتا ہے۔ اسیطرح اقلیتوں کی ذہنی ساخت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپکو غیر محفوظ سمجھتے ہوئے زیادہ سخت ہوجاتے ہیں اور زیادہ ایک کمیونٹِی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جیسے مسلمان امریکہ یا کسی اور ملک میں کرتے ہیں جہاں وہ اقلیت میں ہیں۔
    کہنے کی بات یہ ہے کہ اگر آپ انکو اس چیز کی اجازت دیں کہ وہ جو ہیں وہ اپنے آپکو ظاہر کریں تو میراخیال ہے کہ انہیں اپنے آپکو چھپانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
    دوسرے یہ کہ انکے حقوق متعین کر دیں اور اس باب کو ہمیشہ کے لئیے بند کر دیں۔ وہ ہماری سرزمین پر پیدا ہوئے ہیں اور اب انکو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی انکو کسی قسم کا دیس نکالا مل سکتا ہے۔
    جہاں تک ملک کی سلامتی اور مذہب کو لاحق خطرات کا تعلق ہے اسکے لئیے ہم خود کافی ہیں ۔ پہلے ہم اپنی کوتاہیوں کو دور کر لیں تو پھر اسکے بعد دوسروں کو اڑانا شروع کریں تو بہتر نہ ہوگا۔

    • آپ کی بات صد فیصد درست ہے لیکن محترمہ قادیانیوں کا "طریقۂ واردات" تھوڑا مختلف قسم کا ہے۔ پھر ہمارے ہاں جہاں خواندگی کی شرح 40 فیصد بھی نہیں ہے وہاں عوام سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ قادیانیوں کی تبلیغ سننے کے بعد اپنی ذہنی استعداد کے مطابق کوئی فیصلہ کریں گے۔
      باقی آپ کی باتیں بہت مناسب ہیں۔ ایک اقلیت کی حیثیت سے انہیں وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں جو اسلام غیر مسلموں کو دیتا ہے۔ کسی کو ان پر انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کوئی خلاف قانون حرکت کرتے بھی ہيں تو ان کو سزا کا اختیار صرف عدالت کو ہے، عام شخص کو اس بات کی اجازت کبھی نہيں دی جا سکتی کہ وہ اپنی مرضی سے جس کی چاہے گردنیں اڑاتا پھرے۔

  4. جعفر says:

    جب سے یہ ڈفانگ دوبارہ کھڑا ہوا ہے، میں امید کررہا تھا کہ آپ اس پر کچھ لکھیں گے۔ جو جذبات کی بجائے دلائل اور سنجیدگی پر مبنی ہو۔ حمید اختر کے واقعہ بھی برمحل ہے
    آپ کا ذاتی طور پر ممنون ہوں۔۔۔

  5. نبیل says:

    یہ پوسٹ کچھ روزنامہ امت کی رپورٹنگ کا نمونہ لگ رہی ہے۔
    🙂

    • نبیل بھائی! لگتا ہے آپ روزنامہ امت مجھ سے زیادہ باقاعدگی سے پڑھتے ہیں 🙂

      • نبیل says:

        میں پڑھتا نہیں ہوں، مجھے پڑھایا جاتا ہے۔ محفل فورم پر روزانہ امت سے اقتباسات کا انبار لگا ہوتا ہے۔

        اور اردو ویب سائٹس میں کالے بیک گراؤنڈ پر سفید ٹیکسٹ مجھے کبھی پسند نہیں رہا۔ 🙁

        • ہاہاہاہا ۔۔۔۔ محفل کے کئی موجودہ اراکین تو اس لائق ہیں کہ انہيں فوراً بین کر دیا جائے۔ اگر میں ہوتا تو ایسا ہی کرتا۔
          تھیم کے حوالے سے رائے دینے پر بہت مشکور ہوں۔

      • نعمان says:

        میں نہیں سمجھتا قادیانیوں سے پاکستانیوں کے دین کو کوئی خطرہ ہے۔ چاہے ان کا طریقہ واردات کتنا ہی ہولناک ہو۔ پاکستان میں مسلم تبلیغی جماعتیں بہت زیادہ فعال ہیں۔ پاکستان کے ہر گاوں ہر محلے تک تبلیغی جماعت اور مختلف مسلم تنظیموں کی عوام تک براہ راست رہنمائی ہے وہ قادیانی پروپگینڈے کا بخوبی سد باب کرسکتے ہیں۔

        لیکن بطور ایک اقلیت قادیانی مذہب کے ماننے والوں کےساتھ تعصب پر مبنی، تشدد کی اجازت دینے والا رویہ بند ہونا چاہئے۔ بطور ایک غیر مسلم انہیں بھی پاکستان کی دیگر اقلیتوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جانا چاہئے۔

        اول تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے نظام انصاف کو پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہئے اس میں مسلم یا غیر مسلم کی تفریق بند ہونی چاہئے کیوں کہ یہ اقلیتوں کے خلاف تشدد کے فروغ کا اہم سبب ہے۔

  6. موضوع سے بالکل ہٹ کر ہے.. یہ بلیک واٹر کی پوسٹ کے ساتھ ہی اچانک تھیم بھی بلیک ہوگئی 🙂 بہت عمدہ لگ رہی ہے.

    • تھیم کی پسندیدگی کا شکریہ، ویسے اس تھیم کی موجودگی کا انحصار صارفین کی پسندیدگی پرہی ہے۔ سیاہ پس منظر پر سفید حروف پڑھنا شاید کچھ لوگوں کے لیے مشکل ہو۔

  7. مختلف براؤزرز پر ٹیسٹنگ کے دوران نئی تھیم میں متعدد مسائل سامنے آئے۔ جس کی وجہ سے عارضی طور پر گزشتہ تھیم بحال کر دی گئي ہے۔

  8. محترم ابو شامل صاحب!
    قادیانی یا احمدی مسئلے پہ بہت سے معاملات خلط ملط ہو جاتے ہیں۔ جس یہ تاثر پیدا ہوتا ہے، یا کر دیا گیا ہے۔ کہ شاید عام مسلمان احمدیوں کے بارے میں نہائت مذہبی جنونیت کا مظاہرہ کرتے ہیں ، ظالم اور قاتل ہیں ۔ جبکہ احمدی بیچارے بہت مظلوم ہیں۔ جنہیں پاکستان میں مذھبی آزادی نہیں حاصل ۔ نیز پاکستان میں ناجائز تنگ کیا جاتا ہے۔ اچھے خاصے عقل سلیم کے مالک لوگ اس پروپگنڈے کا شکار نظر آتے ہیں۔ جیسے کہ آپ نے اپنے کسی جانے والے صحافی کا واقعہ اوپر بیان کیا ہے۔جبکہ معاملہ اس کے بر عکس ہے۔

    آخر پاکستان میں باقی غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ ایسا کیوں معاملہ کیوں نہیں جو احمدیوں کے ساتھ ہے؟ ۔ اسکی ایک سادہ سی وجہ ہے کہ باقی اقلیتیں مسلمانوں میں رہتے ہوئے اپنی مذھبی شناخت نہ صرف قائم رکھتی ہیں۔ بلکہ واضح کرتی ہیں۔ مثال کے طور پہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب عیسائیت کے پیروکاروں کے نام یونس، رفاقت، اقبال وغیرہ ہو جس سے پہلی نظر میں انکے مزہب کا پتہ نہ چلتا ہو۔ تو وہ یونس ، رفاقت ۔ اقبال وغیرہ کے ساتھ لفظ “مسیح ،، کا اضافہ کر لیتےہیں یا اپنا کوئی انگریزی نام جیسے ڈانیل وغیرہ لکھتے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان میں بسنے والی دیگر اقلیتیں اپنے نام کے ساتھ سنگھ وغیرہ لکھتی ہیں یا انکے نام ہندی وغیرہ میں ہیں۔ جبکہ پاکستان میں بسنے والی مسلمان اکثریت کے نام عربی فارسی میں ہونے کی وجہ سے انکی مسلمان شناخت کا پتہ ملتا ہے ۔ جس سے پاکستان میں بسنے والے تمام مزاہب کا ، ہر لمحہ ان کی جدا مذھبی شناخت کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ اور نام لکھنے یا پکارنے سے ہر دوسرے فریق کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ اسکا مخاطب فریق ثانی کون ہے یا کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ یوں وہ ایک دوسرے سے بات چیت اور معاملات کرتے ہوئے حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ نادانستگی میں ان کی کی گئی کسی بات سے دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے کی دل آزاری نہ ہو ،تانکہ فسادِ خلق خدا کوپیدا ہونے سے روکا جاسکے ۔ کیونکہ جس خطے میں پاکستان واقع ہے ، اس خطے میں، قادیانی فتنے کی پیدائش سے بھی بہت قبل، اس خطے میں تاریخی پس منظر اور مخصوص اجزائے ترکیبی وجہ سے مذھب ہمیشہ ایک حساس موضوع رہا ہے۔اسلئیے مذھب کے بارے میں عام آدمی نہائت جذباتی ہے۔ کم وبیش یہ صورتحال خطے کے تمام ممالک ایران، پاکستان۔ بھارت، سری لنکا ، بنگلہ دیش اور نیپال وغیرہ میں پائی جاتی ہے۔ جسے ہر مذہبی فریق اپنے علاوہ دوسرے فریق یا فریقوں کو انتہاء پسند قرار دیتا ہے۔خطے کے ممالک عوام کی اس مذہبی جذباتیت یا بسا اوقات مذہبی انتہاء پسندی کو عوامی مزاج بنانے میں وقتا فوقتا ہر دور کے حکمرانوں نے محض اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لئیے ایسی مذھبی جذباتیت جس میں اچھے برے کی تمیز بھول جائے ۔ اس جذباتیت کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اسے مناسب خوراک مہیا کی ہے ۔ اس پس منظر میں باوجودیکہ نیک لوگوں کی صالح کوششوں کے مذھبی فسادات ہوتے رہے ہیں۔

    قادیانی جنہیں اب احمدی کہا جاتا ہے۔ اس فتنے کی پیدائیش سے پاکستان میں یہ صورتِ حال مزید گھمبیر ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب بشمول مسلمان اکثریت کے ایک دوسرے کی عبادت خانوں اور شعائر کا نہ صرف احترام کرتے ہیں ۔ بلکہ کبھی بھی ناموں وغیرہ کے دھوکے سے یا کسی بھی اور طریقے سے ایک دوسرے کو ان کے مذھب میں شامل ہو کر انھیں دہوکہ دینے کی کوشش نہیں کرتے ۔ جبکہ قادیانی یا احمدی فتنے کو ماننے والے لوگ اس کلیے کو کسی طور پہ اپنے آپ پہ لاگو کرنے سے نہ صرف انکاری ہیں۔ بلکہ دو قدم آگے بڑھتے ہوئے احمدی جنہیں پاکستان کے آئین اور مسلم اُمہ کے جید علماء اور دانشور و مفکروں نے انہیں کافر قرار دیا ہے۔ احمدی مسلمان اکثریت کے مذھب کا مذاق اڑاتے ہوئے ۔ ان جیسے نام رکھتے ہیں۔ مسلمان اکثریت کی طرز پہ اپنے عبادت خانوں کو مساجد کہتے ہیں۔ مسلمانوں کی عبادات کی نقل کرتے ہیں۔ مسلمان اکثریت کے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف آخری نبی ماننے سے انکاری ہیں بلکہ اسلام کی تعلیمات کے بر عکس انگریزوں کے پروردہ ایک جھوٹے شخص کو نعوز باللہ اللہ کے آخری نبی کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے اللہ کا بیجھا ہوا نبی مانتے ہیں اورپاکستان میں جہاں جہاں یہ احمدی بستے ہیں۔ وہاں پوری ڈھٹائی سے اپنے لغو نظریات کو ہی اصلی اسلام قرار دیتے ہوئے اور حد یہ ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان اور مسلم امہ کو کافر کہتے ہیں۔ پاکستان کی اکثریت ناخواندہ مسلمانوں کی ہے جنہیں پیدائشی طور پہ مسلمان ہونے کی وجہ سے اپنے دین اسلام کے بارے میں معلومات واجبی سی ہیں۔ جنھیں انکی سادہ لوحی کی وجہ سے احمدی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے دہوکہ دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں عام جزباتی مسلمان کا بھڑک اٹھنا اچنھپے کی بات نہیں کہ پاکستان میں عام عوام کا بالعموم یہ مزاج رہا ہے کہ ملک میں عدالتی حکومتی نظام کمزور اور سست ہونے کی وجہ سے وہ فوری انصاف کے بارے میں اپنے اقدامات کو ہی مقننہ، عدلیہ، اور اپنے فیصلوں پہ خود ہی فوری عمل درآمد کرتے ہوئے انتظامیہ کا کردار بھی کرتے ہیں۔ یہ صورتحال آپ کو پاکستان میں لوگوں کے ہر روز مرہ معمالے میں دیکھنے کو ملے گی ۔ جس میں ذاتی دشمنی سے لیکر مذھبی معامعلات تک میں عوام ضزباتی ہو کر کسی کی نہیں سنتے اور اپنے فیصلوں کو فوری انجام دیتے ہیں۔ جس سے ہر دن آخبارت میں قتل و غارت اور دنگا فساد کی خبریں عام ہیں۔ ایسے عمومی مزاج کے عام لوگوں سے یہ تقع رکھنی کہ جب کوئی انکے مذھب اسلام اور انکے نبی اللہ کے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بانگِ دہل کمی کرے اور ایک کافر فتنہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد کے لئیے انھیں دہوکہ دے۔ ان سے منافقت کرے ۔ تو ایسے پس منطر احمدیوں کو اپنی دہوکہ دہی اور مسلمانوں کے مذہبی عقائد کی توہین پہ عام جذباتی مسلمانوں کو اشتعال دلانے کا الزام ثابت ہوتا ہے اور فساد کا ماحول احمدیوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اس کا الزام مسلمانوں کو دینا سراسر زیادتی ہے۔

    دنیا کے کسی مذھب کو اسکے مذھب ہونے کی ایک تعریف اسکے عقائد کا اٹل ہونا بھی ہے۔ کہ اس میں ردوبدل نہ کیا جائے جبکہ مرزا طاہر احمد سے لیکر موجودہ دور کے احمدیوں کی تصنیفات کا جائزہ لیں تو یہ اپنے وقتی مفادات کے تحت ہر لحظہ اپنے نظریات کو بدلتے رہے ہیں۔ جس میں دہوکہ دہی کا عنصر نمایاں ہے۔ جس سے قادانی فتنے میں سازش کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔

    جب کسی قوم یا ملک کو کوئی مسئلہ در پیش ہوتا ہے تو اسکا سدباب کیا جانا ضروری ہوتا ہے ۔ اگر احمدی فتنے کا ابھی سے سدِباب نہ کیا گیا تو آنے وقتوں میں پاکستان کے لئیے یہ بہت بڑا فتنہ ثابت ہوگا۔ جسکے سامنے پاکستان کے موجودہ پریشان معاملات بہت کم ثابت ہونگے۔ اسلئیے عقل و شعور کا تقاضا ہے۔ کہ

    پاکستان کے انتہائی حساس مذہبی پس منظر میں احمدیہ تحریک کی تعلیمات پہ پابندی ہونی چاہئے ۔ کیونکہ کے ان کا معاملہ پاکستان کے دوسرے مذاھب سے مختلف ہے۔ کیونکہ کے احمدی فتنے کی تمام تر لغویات اسلام سے متصادم ہیں اور اسلام کی تعلیمات کا مذاق اڑاتی ہیں۔یوں مسلمانوں کا ردعمل بہت شدید ہوتا ہے۔ جسے قادیانی (آجکل احمدی) پاکستان کے خلاف عالمی قوتوں سے کئیش کرواتے ہوئے پاکستان کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔

    جس طرح پاسپورٹ فارم پہ مذھب کے خانے میں ختم نبوت کے اقرار یا انکار کی وضاحت ضروری ہے اسی طرح پاکستان کے آئین کی رُو سے مسلمانوں جیسے نام رکھنے والے مگر درحقیقت کافر کو احمدیوں کو قانون سازی کے تحت اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ قادیانی کا لاحقہ لکھا اور بولا کریں تاکہ عام مسلمان اپنی لاعلمی میں ان سے دھوکہ نہ کھائیں۔اور واضح رہے کہ انکا مخاطب مسلمان کی بجائے قادیانی ہے۔ پاکستان میں مختلف اسلامی مسالک کے لوگ فخریہ اپنے نام کے ساتھ رضوی۔ مفتی۔ قاضی۔ صدیقی۔ عثمانی ۔ نقوی وغیرہ لکھتے ہوئے اپنے مسلک تک کو واجح کر دیتے ہیں تو اگر قادیانی اپنے آپ کو سچے سمجھتے ہیں تو اپنے نام کے ساتھ قادیانی لکھتے ہوئے شرم محسوس نہ کریں۔

    قادیانیوں کے تمام فرقوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے آپ کو احمدی مت کہلوائیں کیونکہ قادیانیوں کے باطل عقائد کی ایک اساس لفظ "احمد " سے کو توڑ موڑ کر پیش کرتے ہوئے مرزا ملعون کو نبی ثابت کرنا ہے۔ جبکہ یہ اسم مبارک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔

    پاکستان میں ایک مستقل اتھارٹی قائم کی جائے جو پاکستان میں پاکستان کی سالمیت اور اسلام کے بارے میں قادیانیوں کی سازشوں کا مستقل جائزہ لے اور اسکا سدِباب کرتی رہے۔ ضروت پڑنے پہ باقی قوام عالم کو بھی انکی مذموم سازشوں سے آگاہ کرتی رہے۔

    نوٹ۔ اسطرح کی تجاویز پہ اعتراض کرنے والوں سے میری ایک التماس ہے کہ مجھ پہ اعتراضات کی بوچھاڑ کرنےوالے خواتین و حضرات پہلے قادیانیوں کی تصنیفات اور تعلیمات کا مطالعہ کر لیں اور قادیانیوں سے معاملہ کر دیکھ لیں پھر جتنے چاہیں مرضی اعتراضات کر لیں۔

    • کیا اسلامی اصطلاحیں مسلمانوں کا Patent ہیں ؟ مسجد، مسلمان، رضی اللہ عنہ، صحابی؟

      Close فہرست بند کریں
      کیا اسلامی اصطلاحیں مسلمانوں کا Patent ہیں ؟ مسجد، مسلمان، رضی اللہ عنہ، صحابی؟
      فہرست مضامین
      Close فہرست بند کریں

      سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے17؍جنوری 1994ء کو پروگرام ’’ملاقات ‘‘ میں بعض سوالوں کے جواب ارشاد فرمائے۔ ان سوال وجواب سے کماحقہ محظوظ ہونے کے لئے اصل پروگرام کی ریکارڈنگ دیکھنی اور سننی چاہئے ۔تاہم قارئین الفضل انٹرنیشنل کے افادہ کے لئے اس کا متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر پیش کررہاہے۔ (مدیر)

      سوال: پاکستان میں مولویوں کی طرف سے اس بات کابڑا شور ہے کہ اسلامی اصطلاحیں مسلمانوں کا Patent ہیں اور جو شخص بغیر اجازت کے اس Patent کو استعمال کرے گا اس کو بہت سخت سزا دی جائے گی ۔ اس پر آپ کا کیا تبصرہ ہے ؟ اورشرعی اور عقلی لحاظ سے اس کی کیا حیثیت ہے؟

      جواب: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا :

      سب سے پہلے تو لفظ Patent کو سمجھنا چاہئے کہ ہوتاکیاہے۔ Patent سے مراد یہ ہے کہ ایک کمپنی ایک چیز ایجاد کرتی ہے اور اس کو ایک نئی ایجاد کے طورپر بعض مخصوص دفاتر میں رجسٹر کراتی ہے اور اس کی ایجاد کا اس کو تحفظ ملتاہے کہ تم اس سے استفادہ کرو۔ تمہاری اجازت کے بغیر کوئی اس کو بنا نہیں سکے گا۔ اور کوئی بنا کر بیچ نہیں سکے گا ۔ یہ ہے Patent کا مفہوم۔ لیکن وہ چیز جو بن جائے اس کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ۔ یہ ایک باریک فرق ہے جو پاکستان کے دانشوروں کو ابھی تک نہیں پتہ چلا۔ یا دانشور وں کو پتہ ہوگا تو ان کے اندر جرأت اور زبان نہیں ہے۔ Patent تو صرف تخلیق کی حد تک ہے ۔ اور اس پہلو سے جہاں تک اسلامی اصطلاحات کا تعلق ہے یہ تواللہ تعالیٰ نے بنائی ہیں ، کسی مُلاّں نے نہیں بنائیں ۔ کسی فرقہ کے عالم نے تو نہیں بنائیں۔ اگر Patent کرنا ہوتاتو خدا نے کرانا تھا۔ لیکن اللہ نے کبھی اپنی کسی اصطلاح کو کسی قوم کے لئے Patent نہیں کیا بلکہ رَبُّ الْعٰلَمِیْن ہے کھلی دعوت ہے ۔ اور اگر Patent ہوتابھی تو استعمال میں کوئی سوال ہی نہیں کہ کسی کو اجازت ہو، کسی کو نہیں۔

      اسلامی تعلیم بنی نوع انسان کے لئے ہے اور یہ مولوی یہ نہیں سمجھتے کہ قرآن میں لکھاہواہے(وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّـلْعٰلَمِيْنَ‏) (الانبیاء:108) ۔ ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگرسارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجاہے ۔ اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نیکی کی تعلیم عام دیتے تھے اور ہر شخص کو نہ صرف اجازت تھی بلکہ دعوت تھی ۔ چنانچہ قرآن کریم میں خود اللہ تعالیٰ رسول اکرم ﷺکوہدایت دیتاہے (قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ۔۔۔)(آل عمران: 65)کوئی Patent نہیں ہے۔ہم تمہیں دعوت دیتے ہیں کہ تمہارے اور ہمارے درمیان جو اچھی قدریں مشترک ہیں آؤ ان میں اکٹھے ہو کر تعاون کرتے ہیں ایک دوسرے سے۔ تم ہم سے تعاون کرو ہم تم سے تعاون کرتے ہیں۔ یہ ہے رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْن جس کی وسعت سب جہانوں پر پھیلی ہوئی ہے ۔ کوئی تنگ نظری نہیں ، کوئی دل کی تنگی نہیں، فیض عام ہے۔ ان لوگوں نے پتہ نہیں کہاں سے اسلام سیکھاہے ۔بیچارے پاکستانی معصوموں کو کیا سکھا رہے ہیں اور کس کی نقل اتار رہے ہیں۔

      آج تک تاریخ اسلام میں Patentکی کوئی بات نہیں ہوئی۔ یہ وہی مولوی ہیں جو ہمیشہ سے ایک دوسرے سے لڑتے آئے ہیں ۔کیوں وہ نہیں یاد رکھتے۔ صرف احمدیوں کا قصہ تو نہیں ۔ ہر بات پر ایک دوسرے سے اختلاف کیاہے ۔آج تک بشر اور نور کا جھگڑا طے نہیں ہوا تو Patentکے لئے جائیں گے کہاں؟ کس سے پوچھیں گے؟اور کس کے لئے ؟ کیا چیز Patent ہے ؟کس کا حق ہے اس پر اور کون سا دفتر قائم ہے۔

      اگر حکومت پاکستان نے Patent بنوانا ہے تو پہلے ایک Patent آفس بنائے مذاہب کے لئے ۔ اور تمام مذاہب اس میں اپنی اپنی درخواست داخل کریں کہ ہم ان اصطلاحوں کو اپنے لئے Patentکرنا چاہتے ہیں۔ اس صورت میں Patentکا قانون یہ ہے کہ جس نے سب سے پہلے چیز کی ایجاد کی ہو ، سب سے پہلے جس کا استعمال ثابت ہوگااسی کوحق ملے گا ۔ اگر پاکستان Patentدفتر کھول لے تو سب سے پہلے یہودی آئیں گے۔کہیں گے حضرت ابراہیم ؑ ہمارے مذہب کے بانی مبانی ہیں اور تمہارا قرآ ن گواہی دیتاہے کہ لفظ اسلام سب سے پہلے ابراہیم ؑ کے لئے استعمال ہوا۔مسلم لفظ ابراہیم ؑ کے لئے، میرے پاس حوالے ہیں،مَیں آپ کو دکھاتاہوں ابھی۔ (وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا)(آل عمران:68) ۔

      اب سوال یہ ہے کہ یہودیوں کا یہ Patent کا مطالبہ ہے اسے پاکستان Patent Office کس طرح ردّ کرے گا۔ اور اگر ایک دفعہ یہ اصطلاح ان کی Patent ہوگئی تو نہ عیسائی مسلمان کہلاسکیں گے اور نہ مسلمان ،مسلمان کہلا سکیں گے ۔ سب پر پابندی ہوگی کہ پہلے یہود سے اجازت لو پھر تم اپنے آپ کو مسلمان کہلاؤ۔ سوال یہ ہے کہ یہود سے کیوں اجازت لیں ۔ یہی بنیادی سوال ہے ۔

      یہ اصطلاحیں خدا کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ بتاتاہے کہ ہراچھی چیز عام بنی نوع انسان کے لئے عام ہے ۔اچھی چیز کی نقل کرنا منع نہیں بلکہ اسلام اس کی طرف دعوت دیتاہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے ( ممَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا)(آل عمران:68)۔ وہ مسلمان تھا۔

      پھر فرماتاہے (رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَـكَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ)(البقرۃ:129)کہ ابراہیم ؑ دعا کرتے ہیں حضرت اسماعیلؑ کے ساتھ کہ اے ہمار ے رب ! ہمیں اپنے لئے دو مسلمان بنا دے۔( وَ مِنْ ذُرِّيَّتِنَآ) اور ہماری اولاد میں سے بھی اسی طرح مسلمان بناتا چلا جا (اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ) یہ امت مسلمہ تیرے لئے ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔

      اصل ہمارا ایمان تو یہ ہے کہ رسول کریم ﷺکا زمانہ سب زمانوں پرمحیط ہے ۔ مگر مَیں مولویوں کی منطق کے لحاظ سے جواب دے رہاہوں کہ آنحضورﷺ کی بعثت سے پہلے جتنے بھی حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے لوگ موجود تھے (وہ ) قرآن کے لحاظ سے مسلمان ہیں۔پاکستان کےPatent Office کو لازماً درج کرنا ہوگاکہ یہ ان کا حق ہے۔ آئندہ ان کی اجازت کے بغیر کوئی اپنے آپ کو مسلمان نہ کہے۔( مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ‌ؕ هُوَ سَمّٰٮكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ)(الحج:79)۔ابراہیم کی امت ہے جو مسلم ہے ۔ پس جو شخص بھی ابراہیم ؑ کی طرف منسوب ہوگا تو اس کو مسلم کہلانے کے حق سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ اور ویسے بھی یہ بات جہالت کی بات ہے ۔

      (قَالَتْ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّىْۤ اُلْقِىَ اِلَىَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ‏ ۔ اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِۙ‏)(النمل:31-30)

      لیں جی! یہودیوں کا ایک اور Patent نکل آیا۔یہودیوں کی اگلی درخواست ہوگی کہ مسلمان بھی ہم ہیں اور (بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ) ہمارا حق ہے۔اور احمدیوں بے چاروں کو بسم اللہ لکھنے کے جرم میں مارا پیٹا جاتاہے، عدالتوں میں گھسیٹا جاتاہے، سزائیں دی جاتی ہیں ۔ایک مردان میں کیس درج ہوا تھا ، غالباً مرد ان ہی کی با ت ہے کیس بہر حال درج ہواہے پاکستان میں کہ جب ہم نے ایک شخص کی تلاشی لی تو اس کے کمرے سے (بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ )نکلی۔اب بتائیں اس بے بڑھ کراور کیا جرم ہو سکتاہے ۔ وہاں لکھا ہوا تھا (بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ)۔ اللہ کے نام سے شروع کرتاہوں جو بے حد رحم کرنے والا ہے اور باربار رحم کرنے والاہے۔ یہ جرم ہے تعزیرات پاکستان کے لحاظ سے ۔ اورجہاں تک Patent کا تعلق ہے یہ Patent یہودکاہے۔ کیونکہ حضرت سلیمان ؑ نے جو خط بھیجا تھا ملکہ سبا کو اس پریہ لکھاہوا تھا(قَالَتْ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّىْۤ اُلْقِىَ اِلَىَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ) میرے پاس ایک بہت ہی معزز ایک رسالہ، ایک خط بھیجا گیاہے۔ (اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ)سلیمانؑ کی طرف سے(وَاِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ)۔اور وہ کہتاہے (بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ) ۔ اور پھر مسلمان ہونے کی دعوت کیا کہتی ہے کتاب ۔یعنی وہ خط۔( اَلَّا تَعْلُوْا عَلَىَّ وَاْتُوْنِىْ مُسْلِمِيْنَ)(النمل:32)۔ کہ مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ۔

      اب مسجد نہیں کہہ سکتے مسجد کوتو مسجد کو مسجد نہیں کہیں گے تو کیاکہیں گے؟ وہ مسجدیں جو خدا کے ذکر سے خالی ہو چکی ہوں ،جن کو محمد رسول اللہ ﷺویران قرار دے رہے ہوں ان کو یہ مسجد ہی کہتے ہیں۔ ’’ یَاْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَایَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہٗ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْ آنِ اِلَّا رَسْمُہٗ ۔ مَسَاجِدُھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِّنَ الْھُدٰی‘‘۔(مشکوٰۃ کتاب العلم فصل الثالث صفحہ38)۔ یہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ایسا بدنصیب زمانہ آنے والاہے کہ جب اسلام محض نام کا رہ جائے گا اورجب قرآن لکھنے کے لئے ہوگا۔ عمل کی طرف توجہ نہیں ہوگی۔ مَسَاجِدُھُمْ عَامِرَۃٌ تم دیکھو گے کہ ان کی مسجدیں آباد ہیں وَھِیَ خَرَابٌ مِّنَ الْھُدٰی حالانکہ ہدایت سے بالکل خالی ہوں گی۔ لیکن ان کو بھی مسجد ہی فرمایا۔

      اب ایک اور Patent عیسائیوں کی طرف سے آئے گا ۔کئی درخواستوں پریہودیوں نے قبضہ کر لیا۔ اب عیسائیوں کا Patent آنے والاہے۔ قرآ ن کریم فرماتاہے اور تسلیم کرتاہے اس بات کو کہ وہ عیسائی جو خدائے واحد کے نام پر ستائے گئے جس طرح آج احمدیوں کو ستایا جارہاہے اور زیر زمین چلے گئے جب ان کواللہ تعالیٰ نے بالآخریہ خوشخبری دی کہ باہر امن ہو گیاہے ۔تمہارے حقوق قائم ہو گئے ہیں ۔اب تم بے شک زیر زمین حالت سے باہر آجاؤ تو اس مقام پریہ فیصلہ ہوا تھاکہ یادگار کے طورپر کیا بنایا جائے۔ اس کا جواب قرآن کریم فرماتاہے(قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓى اَمْرِهِمْ) (الکہف:22) وہ لوگ جو فیصلہ کرنے میں زیادہ قوی تھے اور طاقت رکھتے تھے انہوں نے کہا (لَـنَـتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَّسْجِدًا‏) (الکہف:22)ہم ان کی یادگار کے طورپر اس مقام پر مسجد بنائیں گے ۔تو اب عیسائی کہیں کہ دیکھو تم نے خواہ مخواہ مسجدوں کا جھگڑا شروع کیاہوا ہے ۔یہ تو عیسائی اصطلاح ہے اور قرآن اس پر گواہ ہے ۔ تم کیسے اس کے موجد ہو سکتے ہو۔ یہ درخواست عیسائیوں کی ہوگئی اسلام پر ۔ اور(بِسْمِ اللّٰہِ) پر تو قبضہ کرلیا ہے یہودنے۔ اور اب رہا’ مسجد ‘ اس پر عیسائی قابض ہو گئے ۔اب مولوی کیا بنائیں گے پھر۔ ان کی درخواست قبول ہوگی اور ان کی کیوں قبول ہوگی۔ یہ سوال ہے۔ کس طرف قرآن کھڑا ہوگا؟۔

      اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے کہ جس Patentکو Patent کے مسلّمہ قواعد کے مطابق درج کرنا ضرور ی ہے تو لازماًجس کی طرف قرآن ہوگا اس کی بات مانی جائے گی اور نعوذباللہ گویا قرآن، قرآن کے خلاف گواہی دے رہاہوگا۔ اس لئے یہ ظالمانہ تصورہی بالکل بیہودہ اور لغو ہے۔ دین میں کوئی Patentنہیں ہے ۔ ہر اچھی بات کی طرف ہر سچا مومن بلاتاہے اور جب وہ اس کو اختیار کرتاہے تو خوش ہوتاہے۔

      اب دیکھیں مسجد ضرار کا قصہ ہے ۔آج تک اسے مسجد ضرارکہتے ہیں ۔ یہ مولوی بھی جب تقریروں میں حوالے دیتے ہیں مسجد ضرار کہتے ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن نے ا س کو مسجد ہی کہاہے پھر بھی (لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا ‌ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ‌ؕ)(التوبہ:108)یہ مسجد جو بنائی ہے (وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّكُفْرًا وَّتَفْرِيْقًۢا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ)(التوبہ:107)یہ جو لوگ ہیں جنہوں نے مسجد بنائی ہے اس نیت سے کہ کفرکریں ،تکلیف پہنچائیں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈال دیں پھربھی توُ اس مسجدمیں نہ کھڑا ہو۔ یہ نہیں فرمایا یہ مسجد ہے ہی نہیں۔ عظیم کتاب ہے ۔ حیرت انگیز حوصلے والا کلام ہے جو تمام دنیا کو اپنی رحمت کی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ انسانی ضمیر کی آزادی کا اس سے بڑا چارٹر کبھی دنیا میں کسی کی طرف سے پیش نہیں ہوا۔ تمام عالم کی کتب کا مطالعہ کرلو۔ ہمارے آقا محمدﷺ کی طرز پر جو آسمان سے ضمیر انسانی کی آزادی کا چارٹر نازل ہوا ہے اس کی کوئی مثال آپ کو دکھائی نہیں دے گی۔

      اور اب جہاں تک بشر اور رسول کا جھگڑا ہے اس قرآ ن سے یہ مولوی اصطلاحیں نکالتے ہیں ۔ایک کہتاہے دیکھو (سُبْحَانَ رَبِّىْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلاً)(بنی اسرائیل:94) ۔ صاف لکھاہواہے کہ مَیں تو ایک بشر رسول کے سوا کچھ نہیں ہوں۔ اور دوسری طرف کہتے ہیں نور بھی تو لکھاہواہے اس لئے نور والی آیت کو مانیں گے۔ اس آیت کو نہیں مانیں گے۔

      اور جہاں تک مسلمانوں کو دوسروں کو سلام کرنا ہے اس کے متعلق بعض اجنبی لوگ راستہ چلتے مسلمانوں کے خوف سے ان کو السلام علیکم کہہ دیا کرتے تھے ۔ اور یہ ردّعمل اگر کسی نے دکھایاہے توان کو کہا کہ تم ہمیں دھوکہ دینا چاہتے ہو توقرآن نے اس کی نفی فرمائی۔ آسمان سے اللہ نے یہ تعلیم ناز ل فرمائی (وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا‌ۚ)(النساء:95)کہ دیکھو جی جو بھی تمہیں سلام کہہ دے تمہیں کوئی حق نہیں ہے کہ پھریہ کہو کہ تم مومن نہیں ۔( تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا) (النساء:95)۔کیا تم دنیا کی زندگی کا فائدہ چاہتے ہو۔ ان لوگوں کوپکڑ کے کہ وہ دشمن قوم سے تعلق رکھتے ہیں بچنے کی خاطر ایسا کر رہے ہیں نہ صرف یہ کہ ان کو دینی تحفظ دیاہے بلکہ اس اصطلاح ’’السلام علیکم ‘‘ استعمال کرنے کا حق بھی دیاہے۔ اور اس کی اوٹ میں اپنے آپ کو بچانے کا حق دیاہے۔ اورمولوی کہتے ہیں دیکھوجی بچنے کی خاطر ہم سے ،لوگوں کو دھوکہ دینے کی خاطر کہ ہم بھی مسلمان ہیں،یہ ایسا کررہے ہیں۔ ایسا اسلام تم نے کہا ں سے بنایاہے ۔ تم تو سمجھتے بھی نہیں کہ اسلام کیا چیزہے ۔یہ تو اللہ کی تعلیم ہے ، اللہ بہتر جانتاہے اورایسے واقعات پہلے گزرے ہوئے ہیں۔ کوئی نئی بات نہیں تم پیش کررہے ۔ ان سب کا جواب قرآن کریم میں موجود ہے۔

      قرآن انسانی ضمیر کی آزادی کا جو تحفظ دیتاہے کوئی تم میں طاقت نہیں ہے کہ اس تحفظ کو اس سے چھین سکو۔ فرمایا(كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ)(النساء:95)۔ہوش کرو ، اس قسم کی جاہلانہ باتیں تم پہلے کیا کرتے تھے۔بہانے بنا بنا کے لوگوں کو پکڑ ا کرتے تھے ،ان پرظلم کیا کرتے تھے ،مارتے تھے،ان کی جائیدادیں چھینا کرتے تھے ۔لٹیرے ہی توتھے تم۔ تم پر اللہ نے احسان کیا ہے ، محمدمصطفی ﷺکی تعلیم کے ذریعہ تمہیں بچا لیا۔ پھر وہی حرکتیں شروع کر دو گے جو یہ کر چکے ہیں۔

      اور جہاں تک صحابہ کرام اور صحابہ کرام کی دوسری اصطلاحات کا تعلق ہے یہ سب لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺکے صحابہ کے بعد ان اصطلاحات کو ہر گزاستعمال نہیں کرنے دیں گے۔ تم ناپاک لوگ ہو ، ان کو ہاتھ نہیں لگانا ، بلکہ کوئی مسلمان دنیا کا ان اصطلاحوں کو اس لئے استعمال نہیں کر سکتا کہ یہ صحابہؓ کے لئے خاص تھیں ۔ یہ اصطلاحیں وہ تھیں جو مسلمانوں کے لئے خاص تھیں خواہ کسی زمانے کے ہوں۔ اب ان اصطلاحوں کی باتیں ہوں گی جو یہ کہتے ہیں کہ صحابہ تک تھیں ان کے بعد نہیں۔ لیکن اپنا عمل کیاہے؟ یہ سنئے ۔

      شیعہ صاحبان اپنے ائمہ کو’عَلَیْہِ السَّلَام‘ لکھتے ہیں۔یہ نبیوں کی اصطلاح ہے۔ ان کے نزدیک کسی اور پر علیہ السلام نہیں کہہ سکتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے کہ محمد رسول اللہ پر خدا درود بھیجتاہے(احزاب :57)، اور تم پر بھی ۔پس جن کو خدا السلام علیکم کہے اس کو یہ مولوی کیسے روکیں گے۔ مگر ان کی کتابوں میں لکھا ہواہے کہ ’علیہم السلام‘ ۔اور پھراس کے علاوہ دوسرے سنیوں میں بھی اس کی مثال ہے۔ مولانا اسماعیل صاحب شہیدکے خطبہ امارت صفحہ 13 پردرج ہے کہ’ حضرت ابوطالب علیہ السلام‘۔ اور خود مولانا اسماعیل شہید کے لئے ’علیہ السلام‘ لکھا ہواہے۔(مؤلفہ مولوی نجم الحسن کراروی پشاور۔انوار الشیعہ صفحہ 18 و324پر یہ حوالہ درج ہے)

      اسی طرح ترجمہ فتاویٰ عزیز جلد نمبر1 صفحہ15 پرحضرت مولوی عبدالحئی صاحب فرنگی محلی لکھتے ہیں کہ’علیہم السلام‘ کا لفظ قرآن و حدیث کی رو سےغیر انبیاء کے لئے ثابت ہے۔ یہی بات جو مَیں کہہ رہاتھا، بالکل نیا دین گھڑ رہے ہیں ، ان کوکوئی نہیں پکڑ رہا۔

      امہات المومنین کی بحث۔کہتے ہیں تم نے حضرت اماں جان کے لئے’رضی اللہ عنہا‘، ’ام المومنین ‘کا لفظ استعمال کیاہے۔ بڑی سخت دلآزاری ہو رہی ہے ہماری۔ یہ لفظ نبی کی بیگمات کے سوا کسی اورکے لئے استعمال کرنا تو جائز ہی نہیں اوراس سے دھوکہ ہوتاہے ۔ ہرشخص جب حضرت اماں جان کے ذکرمیں ام المومنین کا لفظ پڑھے گا توکون پاگل ہے جس کو یہ دھوکہ ہو کہ اس سے مراد ان کی’منکرین کی ماں‘ ہے ۔ تمہیں کہاں سے تکلیف ہوگئی۔ وہ ہماری دلآزاری ہو اگر تم منکرین پر بھی یہ لفظ کھینچ کرلگاؤ۔ لفظ مومنین نے حفاظت کر دی ہے۔ جب حضرت مرزا صاحب کی بیگم کے متعلق ام المومنین کہتے ہیں اس وضاحت کے بعد بھی تمہاری عقلیں کہاں گئی ہیں، غورکیوں نہیں کرتے ۔اس سے تمہاری بے عزتی کیسے ہوگئی ۔صاف ظاہر ہے جو ایمان لاتے ہیں ان کی ماں ہیں۔ تو لفظ ماں کو استعمال نہیں کرنے دو گے۔اور یہ اصطلاحیں وہ ہیں جو خود دوسروں کے لئے استعمال کر چکے ہیں۔ حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ کو ام المومنین کہاگیا ۔(اشارات فریدی حصہ سوم صفحہ 9 مطبوعہ مفید عام پریس آگرہ)۔1321 ہجری میں حضرت خواجہ جمال الدین ہانسوی کی اہلیہ کوام المومنین لکھا۔سیرالاولیاء پرلکھاہے کہ پہلے شیخ جمال الدین ہانسوی اپنی ایک خادمہ کو ’ام المومنین ‘ کہا کرتے تھے۔(سیرت الاولیاء تالیف محمد بن علی مبارک صفحہ 187)

      اب بتائیں حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی ایک خادمہ کو اُمّ المومنین کہا کرتے تھے۔ تاریخ المشائخ چشت ازخلیق احمد نظامی کے صفحہ 164 پر لکھاہے کہ حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی کی ایک خادمہ بڑی عابدہ ، صالحہ تھیں۔لوگ اسےاُمّ المومنین کہا کرتے تھے ۔ ایک جگہ ہے کہ حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی خود کہتے تھے۔ دوسرے حوالہ میں ہے کہ لوگ ان کو کہا کرتے تھے ۔پی ایل او کے سربراہ کی بہن بھی ام المومنین کہلاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔(یہ فرنچ کتاب ہے نے زانگ لے ۔ٹائم مارچ19؍1988ء)

      جہاں تک’رضی اللہ عنہ‘کی اصطلاح ہے ۔ قرآن کریم سچے مومنوں کے لئے اس اصطلاح کوعام کرتاہے اور اللہ تعالیٰ استعمال فرماتاہے ان کے حق میں (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِىْ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِىٌّ عَزِيْزٌ‏)(المجادلۃ:22) اللہ نے اپنے اوپر لکھ چھوڑاہے ، فرض کردیاہے(لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِىْ‌) مَیں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔ (اِنَّ اللّٰهَ قَوِىٌّ عَزِيْزٌ)اللہ تعالیٰ بہت طاقت والا اور بہت بزرگی والا اوربہت عزت والاہے اورغلبہ والاہے۔ (لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ)(المجادلۃ:23)کہ تم کبھی ایسی قوم نہیں پاؤ گے جو اللہ پر اور یوم آخرت پرایمان رکھتے ہوں اور اس کے باوجود ان لوگوں سے دوستی کرو جو اللہ سے دشمنی کرتے ہیں ۔(یہ ہو ہی نہیں سکتاکہ اللہ پرایمان لاتاہوں انسا ن اوریوم آخرت پر)۔یہ دو شرطیں ہیں کہ یہ لوگ خدا کے دشمنوں کے دوست بن جائیں (وَلَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ) خواہ ان کے باپ ہی کیوں نہ ہو۔(واَبْنَآءَهُمْ) یا ان کے بیٹے (اَوْ اِخْوَانَهُمْ) یا ان کے بھائی (اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ‌)۔یا ان کے قبیلے والے رشتہ دار۔ (اُولٰٓٮِٕكَ كَتَبَ فِىْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ) یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر۔ جن کی یہ صفات ہیں ان کے متعلق اللہ نے ایمان کا فتویٰ ان کے دلوں پر لکھ دیا ہے ۔(اُولٰٓٮِٕكَ كَتَبَ فِىْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ)۔خدا نے ان کے دلوں پر ایمان لکھ دیاہے۔ (وَاَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ‌ؕ) اور اپنی طرف سے روح سے ان کی تائید فرمائی ہے ۔ (وَيُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ) اور ان کو ایسی جنتوں میں یا باغوں میں داخل کرے گاجس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی (خٰلِدِيْنَ فِيْهَا‌)وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔(رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ‌) اللہ ان سے راضی ہوگیا وہ ا س سے راضی ہوگئے۔ (اُولٰٓٮِٕكَ حِزْبُ اللّٰهِ‌) یہ اللہ کا گروہ ہیں ۔ (اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ) ( المجادلہ: 23) خبردار!سنو! کہ اللہ ہی کا گروہ ہے جوکامیاب ہونے والاہے ۔ کامیاب ہونے والے یہی لوگ ہیں۔

      اب ان کی صفات کیا بیان ہوئی ہیں۔ایمان باللہ ، ایمان بالیوم الآخر ۔ اور خدا کے لئے غیرت ۔یہ تین ضروری اجزاء ہیں ان کو مومن بنانے کے لئے خدا کی نظر میں ۔ جن کے دلوں پرایمان لکھا جاتاہے اور اللہ فرماتاہے (رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُمْ) ہیں، اور بھی آیتیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔

      صحابی کا لفظ جو اسی طرح بڑی کثرت سے ملتاہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہیں :’’اِنَّہُمْ بَعْضُ اَصْحَابنَا‘‘۔بعض ہمارے صحابی۔ ا ور اسی طرح صحابی کا لفظ عام ہے ۔اس میں کوئی خصوصی بات نہیں ۔ ہاں ! یہ بات خصوصیت ہے کہ’’ رسول اللہ ﷺکا صحابی‘‘۔ اگر کوئی یہ کہے تویہ اور بات ہے۔ مگر آج تک کبھی کسی احمدی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کو رسول کریم ﷺکا صحابی نہیں کہا۔ باوجود اس کے کہ قرآن فرماتاہے کہ وہ آخرین کو اولین سے ملاد ے گا۔ اس کے باوجود ہمیشہ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود ؑ کا صحابی۔ اس سے تمہیں کیا تکلیف ہے ۔ وہ حضرت مسیح موعود ؑ کے صحابی تھے۔ اس حقیقت کو تمہاری تکلیف بدل تو نہیں سکتی۔ اور جہاں تک ان باتوں سے توہین رسالت کا تعلق ہے ان کا تو اب یہ حال ہو گیاہے کہ ہر چیز سے توہین رسالت ہونے لگ گئی ہے۔ شرعی عدالت کے خلاف بیان سے وزیر قانون توہین رسالت کے مرتکب ہوگئے ہیں۔

      اب یہ مولوی خدا بھی بن بیٹھے ہیں ۔رسول اللہ ﷺ بھی بن بیٹھے ہیں ۔ان پر ہاتھ اٹھاؤ تووہ رسو ل پر ہاتھ اٹھانا ہے ۔ نعوذباللہ من ذلک۔اور ان کی شکلیں دیکھو ، ان کے اطوار ، ا ن کے اخلاق دیکھو۔ یہ دھکا دینے والے لوگ ہیں۔ محمد رسول اللہ جاذب تھے۔غیر معمولی طاقت سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے تھے ۔ جو ان کو دیکھتا عاشق ہو جاتاتھا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں ؂

      اگر خواہی دلیلی عاشقش باش

      محمدؐ ھست برھان محمدؐ

      تم محمد ؐکے حسن کی دلیل کیا مانگتے ہو ۔ محمدؐخود اپنے حسن کی دلیل ہے ،’عاشقش باش‘۔ اس پر عاشق ہو جاؤ۔

      محمدؐ ھست برھان محمدؐ۔ محمدؐ ہی محمدؐ کی دلیل ہے۔ پس اللہ ہی ہے جو ان کو عقل دے ۔

      (الفضل انٹرنیشنل۳ دسمبر ۲۰۰۴؁)

      Copyright © by the Ahmadiyya Muslim Community 1995-2009. All rights reserved.

  9. ابو شامل
    السلام عليكم

    تھیم کی پسندیدگی کا شکریہ۔
    میں نے آپ کے دئے ربط پر تبصرہ کیا وہی یہاں پیش کرتا ہوں۔

    السلام علیکم

    میں اس مضمون میں صرف یہ اضافہ کروں گا کہ قادیانی خود پاکستان کے خلاف منصوبوں میں کام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم پھر بھی ان کا خیال رکھیں ایسا نہیں ہوسکتا۔

    حال ہی میں ایک اسرائیلی مصنف نے خود ان کا پول کھولا ہے کہ یہ لوگ اسرائیل میں بیٹھ کر موسادیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

    دوسرا اسلام کے ساتھ ان کا کوئی لین دین نہیں۔ الطاف حسین نے جو باتیں کی ہیں وہ چنداں اہمیت نہیں رکھتیں کہ یہ صاحب یوں ہی اول فول کہتے رہتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو اپنے آپ کو محب وطن ثابت کرتا ہوں اور 19 سال سے خود ساختہ جلا وطنی گزارتا ہوں اس کے کیا کہنے ۔۔۔ باطل ہے جتنا مرضی اپنے آپ کو چمکا لے۔

    خدا ان سے سے بدلہ لے جو اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ جس طرح یہ ان دونوں چیزوں میں خومخواہ ٹانگیں اڑاتے ہیں خدا انکی زندگی میں سنگ وخار بچھادے۔ آمین۔

    • راسخ صاحب، یہ بے پر کی بھی ملا کی ایر لاین سے تعلق رکھتی ہے۔ اسرایل میں عرب احمدی سن بیس کی دھای سے موجود ہیں۔ ان دنوں صیحونی ریاست کا وجود تک نہ تھا۔ اسرایلی فوج میں کوئ احمدی نہیں ہے۔ البتہ پاک فوج کے بھت سے ھیرو اھمدی ہیں۔

      • جتنا مرضی جو مرضی جیسا ویسا تیسا کہہ لو میں نے جو قادیانیوں کی کتابیں پڑھی ہیں مرزا کی تو اس کے بعد مجھے جو مرضی حجت اور دلیل دے کر قائل کرنے کی کوشش کرے میں تو اس کی بات سے (شووووووووں) کرکے گزر جاؤں گا۔

        • بے شک جو مرضی عقیدہ رکھیں، لیکن اس قسم کی تہمتوں سے گریز کریں۔ احمدی محب وطن پاکستانی ہیں اور ملا جو بھی خرافات بکیں، ان کے جھوٹ کو کم از کم جھوٹ کہنا سیکھیں۔

          • حضرت جو آپ کہہ رہے ہیں اس پر خود بھی عمل کیجیے۔ قادیانی ببانگ دہل دیگر مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اس وقت آپ اپنے قادیانیوں کو کیوں نہیں سمجھاتے ہیں کہ "جو مرضی عقیدہ رکھو، لیکن دوسروں کو کافر قرار نہ دو۔"

  10. آپ کو عید مبارک ہو

  11. Eid Mubarak says:

    شگفتہ آداب بے حد آداب
    پھولوں کی مہک آبشاروں کا ترنم
    شباب کا امنگ کلیوں کا تبسم
    فضاوں میں رچی خوشبو جیسی
    سحر انگیز شگوفوں دل آویز نغموں جیسی
    بھر پور گنگناتے خیال میں
    خوش کن اداوں جیسی
    خوش ادا مچلتی گنگناتی ریشمی لہروں جیسی
    حسین یادوں کے جل تھل جیسی
    پر کشش عید آئی ہے
    اس دھنک رنگ موقع پر میری جانب سے
    عید مبارک

  12. جناب، بطور ایک احمدی مسلمان، مجھے آپ لوگوں کی اھمدیت کے متعلق معلومات پر حیرت اور افسوس ہوتا ہے۔ کفر کے فتووں کا سلسلاہ آپ نے جماعت احمدیہ مسلمہ کے دوسرٖ خلیفہ کے اقتباس سے شروع کیا ہے، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ تکفیر کی ابتدا اس سے بہت پہلے ہو چکی تھی۔۔

    ۱۸۹۲ء میں مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے بانی سلسلہ احمدیہ کے متعلق فتویٰ دیا کہ ’ ’ نہ اس کو ابتداءً سلام کریں ۔۔۔ اور نہ اس کے پیچھے اقتداء کریں۔ ‘‘(اشاعۃ السنہ ۔جلد ۱۳نمبر ۶صفحہ ۸۵)

    مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے فتویٰ دیا کہ

    ’’ قادیانی کے مرید رہنا اور مسلمانوں کا امام بننا دونوں باہم ضدّین ہیں یہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ ‘‘(شرعی فیصلہ ۔صفحہ ۳۱)

    مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے فتویٰ دیا کہ

    ’’ اس کو اور اس کے اتباع کو امام بنانا حرام ہے۔ ‘‘(شرعی فیصلہ صفحہ ۳۱)

    مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے فتویٰ دیا کہ

    ’’اس کے خلف نماز جائز نہیں ۔‘‘(فتویٰ شریعت غرّاء ۔صفحہ ۹)

    مولوی عبدالسمیع صاحب بدایونی نے فتویٰ دیا کہ

    ’’ کسی مرزائی کے پیچھے نماز ہرگز جائز نہیں ۔ مرزائیوں کے پیچھے نماز پڑھنا ایسا ہی ہے جیسا ہندوؤں اور یہود ونصاریٰ کے پیچھے۔ مرزائیوں کو نماز پڑھنے یا دیگر مذہبی احکام ادا کرنے کے لئے اہلسنت والجماعت اور اہل اسلام اپنی مسجدوں میں ہرگز نہ آنے دیں۔ ‘‘(صاعقہ ربانی برفتنہ قادیانی ۔صفحہ ۹۔مطبوعہ ۱۸۹۲ء )

    مولوی عبدالرحمن صاحب بہاری نے فتویٰ دیا کہ

    ’’ اس کے اور اس کے متبعین کے پیچھے نماز محض باطل ومردود ہے ۔۔۔ ان کی امامت ایسی ہے جیسے کسی یہودی کی امامت۔ ‘‘(فتویٰ شریعت غرّاء ۔صفحہ ۴)

    مفتی محمد عبداللہ صاحب ٹونکی لاہور نے فتویٰ دیا کہ

    ’’ اس کے اور اس کے مریدوں کے پیچھے اقتداء ہرگز درست نہیں۔ ‘‘ (شرعی فیصلہ صفحہ ۲۵)

    مولوی عبدالجبار صاحب عمر پوری نے فتویٰ دیا کہ

    ’’ مرزا قادیانی اسلام سے خارج ہے ۔۔۔ ہرگز امامت کے لائق نہیں۔ ‘‘ (شرعی فیصلہ صفحہ ۲۰)

    مولوی عزیز الرحمن صاہب مفتی دیوبند نے فتویٰ دیا کہ

    ’’ جس شخص کا عقیدہ قادیانی ہے اس کو امام الصلوٰۃ بنانا حرام ہے۔ ‘‘ (شرعی فیصلہ صفحہ ۳۱)

    مشتاق احمد صاحب دہلوی نے فتویٰ دیا کہ

    ’’مرزا اور اس کے ہم عقیدہ لوگوں کو اچھا جاننے والا جماعت اسلام سے جدا ہے اور اس کو امام بنانا ناجائز ہے۔ ‘‘ (شرعی فیصلہ صفحہ ۲۴)

    مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی نے فتویٰ دیا کہ

    ’’ اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم بعینہ وہی ہے جو مرتدوں کا حکم ہے۔ ‘‘ (حسام الحرمین ۔صفحہ ۹۵)

    مولوی محمد کفایت اللہ صاحب شاہجہان پوری نے فتویٰ دیا کہ

    ’’ ان کے کافر ہونے میں شک وشبہ نہیں اور ان کی بیعت حرام ہے اور امامت ہرگز جائز نہیں۔ ‘‘(فتویٰ شریعت غرّاء ۔صفحہ ۶)

    جنازے کے متعلق ان حضرات کے فتوے یہ ہیں

    مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے فتویٰ دیا کہ

    ’’ ایسے دجّال کذّاب سے احتراز اختیار کریں ۔۔۔ نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں۔ ‘‘ (اشاعۃ السنہ۔ جلد ۱۳نمبر ۶ صفحہ۱۰۱)

    مولوی عبدالصمد صاحب غزنوی نے فتویٰ دیا کہ

    ’’ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔ ‘‘ (اشاعۃ السنہ۔ جلد ۱۳نمبر۶صفحہ ۱۰۱)

    قاضی عبید اللہ بن صبغۃ اللہ صاحب مدارسی نے فتویٰ دیا کہ

    ’’ جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر مرتد ہے ۔۔۔ اور مرتد بغیر توبہ کے مر گیا تو اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھنا۔ ‘‘ (فتویٰ در تکفیر منکر عروج جسمی ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام)

    مفتی محمد عبداللہ صاحب ٹونکی لاہور نے فتویٰ دیا کہ

    ’’ جس نے دیدہ دانستہ مرزائی کے جنازہ کی نماز پڑھی ہے اس کو اعلانیہ توبہ کرنی چاہئے اور مناسب ہے کہ وہ اپنا تجدید نکاح کرے۔ ‘‘(فتویٰ شریعت غرّاء ۔صفحہ ۱۲)

    پھر اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ ان لوگوں کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں بھی دفن نہ ہونے دیا جائے ۔ چنانچہ مولوی عبدالصمد صاحب غزنوی نے فتویٰ دیا کہ ان کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہ کیا جائے تا کہ :۔

    ’’ اہل قبور اس سے ایذاء نہ پائیں۔ ‘‘(اشاعۃ السنہ۔ جلد۱۳۔نمبر۶صفحہ ۱۰۱)

    قاضی عبیداللہ صاحب مدراسی نے فتویٰ دیا کہ ان کو

    ’’ مقابر اہل اسلام میں دفن نہیں کرنا بلکہ بغیر غسل وکفن کے کتے کی مانند گڑھے میں ڈال دینا۔ ‘‘(فتویٰ در تکفیر منکر عروج جسمی ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام)

    اسی طرح انہوں نے یہ بھی فتوے دئیے کہ کسی مسلمان کے لئے احمدیوں کو لڑکیاں دینا جائز نہیں چنانچہ شرعی فیصلہ میں لکھا گیا کہ

    ’’ جو شخص ثابت ہو کہ واقع ہی وہ قادیانی کا مرید ہے اس سے رشتہ مناکحت کا رکھنا ناجائز ہے۔ ‘‘ (شرعی فیصلہ صفحہ ۳۱)

    بلکہ اس سے بڑھ کر یہ فتویٰ دیا گیا کہ

    ’’ جو لوگ اس پر عقیدہ رکھتے ہوں وہ بھی کافر ہیں اور ان کے نکاح باقی نہیں رہے جو چاہے ان کی عورتوں سے نکاح کرے۔ ‘‘ (فتویٰ مولوی عبداللہ ومولوی عبدالعزیز صاحبان لدھیانہ۔ از اشاعۃ السنہ۔ جلد نمبر ۱۳صفحہ۵)

    گویا احمدیوں کی عورتوں سے جبراً نکاح کر لینا بھی علماء کے نزدیک عین اسلام تھا ۔ اس طرح یہ فتویٰ دیا کہ

    ’’ جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر مرتد ہے اور شرعا مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت حرام ہو تی ہے ۔ اور اپنی عورت کے ساتھ جو وطی کرے گا سو وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد ان کے پیدا ہوتے ہیں وہ ولد زنا ہوں گے۔‘‘ (فتویٰ در تکفیر منکر عروج جسمی ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام مطبوعہ ۱۳۱۱ھ)

    تحریک احمدیت کے مخالف علماء نے صرف فتاویٰ ہی نہیں دئیے بلکہ ان پر سختی سے عمل کرانے کی ہمیشہ کوشش کی جیسا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے مرید مولوی عبدالاحد صاحب خانپوری کی کتاب ’’ مخادعت مسیلمہ قادیانی ‘‘ (مطبوعہ۱۹۰۱ء ) کی مندرجہ ذیل اشتعال انگیز تحریر سے ظاہر ہے کہ

    ’’ طائفہ مرزائیہ بہت ذلیل وخوار ہوئے ۔ جمعہ اور جماعت سے نکالے گئے اور جس مسجد میں جمع ہو کر نمازیں پڑھتے تھے اس میں بے عزتی کے ساتھ بدر کئے گئے اور جہاں نماز جمعہ پڑھتے تھے وہاں سے حکماً روکے گئے ۔۔۔ نیز بہت قسم کی ذلتیں اٹھائیں۔ معاملہ اور برتاؤ مسلمانوں سے بند ہو گیا ۔ عورتیں منکوحہ اور مخطوبہ بوجہ مرزائیت کے چھینی گئیں ۔مردے ان کے بے تجہیز وتکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دبائے گئے۔ ‘‘ (صفحہ ۲)

    اب معزّز قارئین غور فرما سکتے ہیں کہ اگر سالہا سال تک تکالیف ومصائب کا نشانہ بننے کے بعد جماعت احمدیہ کے افراد کو ابتلاء اور فتنہ کے احتمال سے کوئی قدم اٹھانا پڑا تو یہ ان کی قابل رحم اور درد ناک حالت پر تو دلالت کرتا ہے ’’ ان کے خلاف اس جھوٹ کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا کہ ’’ مرزا صاحب کا حکم تھا کہ ان کے ماننے والے نہ تو کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھیں نہ ان سے شادی کریں اور نہ غیر احمدی کی نماز جنازہ میں شریک ہوں۔ ‘‘

    ’’جماعت احمدیہ کے نزدیک فتاویٔ کفر کی حیثیت اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کہ بعض علماء کے نزدیک بعض عقائد اس حد تک اسلام کے منافی ہیں کہ ان عقائد کا حامل عنداﷲکافر قرار پاتا ہے اور قیامت کے روز اس کا حشرنشر مسلمانوں کے درمیان نہیں ہوگا۔ اس لحاظ سے ان فتاوی کو اس دُنیا میں محض ایک انتباہ کی حیثیت حاصل ہے۔جہاں تک دُنیا کے معاملات کا تعلق ہے کسی شخص یا فرقے کو اُمّت مسلمہ کے وسیع تر دائرہ سے خارج کرنے کا مجاز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔یہ معاملہ خدا اور بندے کے درمیان ہے‘‘۔

    لہٰذا کسی فرقہ کے فتویٰ کے باوجود کوئی دوسرا فرقہ حقیقت اسلام سے کتنا بھی دور سمجھا جائے ، ملّتِ اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا۔

    • یہ مقدمہ تو بالکل ایسا ہی ہے کہ کل کو کوئی رسالت محمدی کا انکار کردے اور پھر بھی اپنے آپ کو مسلمانوں کا فرقہ جانے. پھر اللہ کو بھی مانے اور ساتھ میں شرک کرکے بھی اپنے اپ کو توحید پرست کہلاوانے پر بضد ہو. آپ نے غیر احمدی کا ذکر کیا تو لامحالہ جماعت احمدیہ نے بھی تو غیر احمدی کی کوئی نہ کوئی تشریح کر رکھی ہوگی جس کی رو سے غیر احمدی کا فیصلہ کیا جاتا ہے. کچھ نہ کچھ ایسے عقائد ہوں گے جن کو ماننے یا نا ماننے کی صورت میں کسی کو جماعت احمدیہ کا حصہ سمجھا جاتا ہو یا نا سمجھا جاتا ہو. بالکل اسی طرح مسلمان ہونے کے لیے بھی چند بنیادی عقائد پر ایمان لانا ضروری ہے اور انہی کی بنیاد پر مسلمان یا غیر مسلمان کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور عقیدہ ختم نبوت ان بنیادی عقائد میں سے ایک ہے اور اس کو کسی ما بعد الطبعیاتی منطق سے توڑا اور موڑا نہیں جاسکتا. جماعت احمدیہ، قادیانی اور لاہوری فرقے کے ماننے والوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے مظالم پر ہر ذی عقل کو تشویش ہونی چاہیے اور ہم سے کئی اس تشویش کا اظہار بھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے اکثریت کی مختلف تہمتوں کا نشانہ بنتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک غیر اسلامی عقیدے کو تسلیم کر کے اس پر ایمان لایا جائے اور پھر اپنے آپ کو مسلمان بھی سمجھا جائے. کل کو عیسی ابن اللہ کے لیے بھی یہی مطالبے اٹھائے جانے لگیں گے. آپ جو ہیں اس کو تسلیم کریں اور اس پر فخر کریں آپ جو نہیں ہیں وہ بننے پر کیوں بضد ہیں؟

      • جناب راشد صاحب، احمدی رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم پر مکمل ایمان رکھتے ہیں۔ بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں

        ’ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلی درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں ۔ یعنی وہی نبیوں کا سردار ۔ رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفےٰ و احمد مجتبیٰ ﷺ ہے ۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی تھی ۔ ‘ (سراج منیر صفحہ ۷۲)

        ’جو لوگ ناحق خدا سے بے خوف ہوکر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو برے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر ناپاک تہمتیں لگاتے اور بدزبانی سے باز نہیں آتے ان سے ہم کیونکر صلح کریں ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کرسکتے ہیں ، لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کرسکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ناپاک حملے کرتے ہیں ۔ خدا ہمیں اسلام پر موت دے ہم ایساکام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے ۔‘ (پیغام صلح صفحہ ۳۰)

        ہم احمدی مسلمانوں کو تو یہ حکم ہے

        ’نوع انسان کے لیے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن ، اور تمام آدم زادوں کیلئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ۔ سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبیؐ کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔ نجات یافتہ کون ہے ؟وہ جو یقین رکھتا ہے کہ خدا سچ ہے اور محمد ﷺ اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اور کتاب ہے ۔ اور کسی کے لیے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے ۔ مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لیے زندہ ہے ۔ ‘ (کشتی نوح ، صفحہ ۱۳)

        عقیدہ اختتام نبوت یا نظریہ قطع وحی و الھام سراسر اسلام کے منافی ہے۔ یہ تو بذات خود اجماع امت کے بھی خلاف ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت تو عیسی‘ نبی اللہ کی منتظر ہے جو نبی بھی ہوں گے اور صیحح مسلم کے مطابق ان کے ساتھی صحابہ کہلایںً گے اور ان پر وحی بھی نازل ہو گی۔

        ایسے بہت سے فتوے سرکاری مسلمانوں نے ایک دوسرے پر لگا رکھے ہیں جن کے مطابق ہر مسلمان کسی نہ کسی فرقے کے نزدیک مشرک ہے، رسالت کا انکاری ہے، یہاں تک کہ توہین رسالت کا مرتکب بھی ہے۔

        پس جو تعریف مسلمان کی قرآن سے ٖثابت ہے، احمدی اس پر پورا اترتے ہیں۔ البتہ جو تعریف غیر مسلم کی ملا حضرات نے کر رکھی ہے، تمام مسلمانوں کے فرقے اس کی رو سے کافر ٹھراےٖ جا سکتے ہیں۔

        • عقیدہ اختتام نبوت یا نظریہ قطع وحی و الھام سراسر اسلام کے منافی ہے۔ یہ تو بذات خود اجماع امت کے بھی خلاف ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت تو عیسی‘ نبی اللہ کی منتظر ہے جو نبی بھی ہوں گے اور صیحح مسلم کے مطابق ان کے ساتھی صحابہ کہلایںً گے اور ان پر وحی بھی نازل ہو گی۔

          لطف الاسلام صاحب! نجانے کون سے اجماع امت کی بات کر رہے ہیں آپ؟ یہ نظریہ امت مسلمہ میں صرف اور صرف آپ کے غلام احمد کا ہی تھا کہ انہوں نے خاتم النبیین کی نئی تعریف متعین کی۔ میرے خیال میں آپ سے یہاں گفتگو چلتی رہی تو قادیانیوں کے نظریات زیادہ واضح ہو کر سامنے آئیں گے۔ عیسی علیہ السلام کا بطور نبی دوبارہ دنیا میں آنے کا نظریہ قادیانیوں کا ہی ہو سکتا ہے، مسلمان تو ان کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کے طور پر واپس آنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔

    • لہٰذا کسی فرقہ کے فتویٰ کے باوجود کوئی دوسرا فرقہ حقیقت اسلام سے کتنا بھی دور سمجھا جائے ، ملّتِ اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا۔

      چلیں شکر ہے آپ نے قادیانیوں کو حقیقت اسلام سے دور تو سمجھا 🙂 ۔

  13. لطف السلام
    قادیانی حال میں احمدی کہلانے والے آخر اس دیدہ دلیری سے جھوٹ بول کر کیسے دھوکہ دیتے ہیں۔

    خاص لطف السلام سے سوال۔
    سوال۔
    قادیانیوں کا مرزا غلام احمد۔
    1۔ قادیانیوں ۔احمدیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد نبی تھا۔ یا
    2۔ مسیح موعود تھا ۔ یا
    3۔ امام مہدی تھا- یا
    4۔ یا کذاب ملعون تھا- یا

    لطف السلام ۔ یہ جو کافر احمدیوں نے مرزا کی شیطانی منافقت کا چولا پہن رکھا ہے کہ منہ سے اسلام ،اسلام اور پاکستان کرتتے ہیں اور دلوں میں اور اپنی اجتماعی دعاؤں میں پاکستان اور مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے اور قادینایت کی خباثت کا عہد کرتے ہیں ۔ اس دوغلی صورتِ حال کو واضح کرنے کے لئیے ضروری ہے کہ پہلے اوپر دئیے گئے سوالوں کا کوئی ایک جواب بتلا دو تانکہ ہمیں مخاطب کی اصلیت پتہ چل سکے پھر بات ہوگی ۔ کسی ایک جواب کو درست قرار دو پھر بات کریں گے اور خوب کریں کہ مرزا ملعون کیا تھا۔؟ اس لعین نے کیونکر ارتداد کیا۔ اسکے پس بردہ محرکات کیا تھے۔ احمدی کیونکر کس وجہ سے اپنے مذہب کا اظہار نہیں کرتے اور ہمیشہ مسلمان بن کر دہوکہ دیتے ہیں۔ ہر چیز پہ بات ہوگی ۔ پہلے ذرا سوال کا جواب تو آئے۔ اسکے بعد انشاء اللی مرزا ملعون لعین اور اسکے جھوٹے خلفاء کی لکھی ہوئی کتابوں سے صفحہ اور سطروں تک حوالے دونگا تانکہ مرزا لعین کی خرافات اور بازاری زبان سے سبھی کو واقفیت ہو۔ اور احمدیت کا خبث ِ باطن کا اصل چہرہ عام معصوم مسلمانوں کو نظر آئے۔ جس پہ احمدیوں نے ادہر ادہر کی ہانک کر دبیز پردہ ڈال رکھا ہے-

    محترم راشد کامران صاحب ! نے احمدیوں کو ایک نہائت صائب مشورہ دیا ہے کہ اگر احمدی اپنے آپ کو دوسروں افضل سمجھتے ہیں ۔ تو پھر اپنی الگ سے شناخت کیوں نہیں لکھتے۔ اپنے مرزا ملعون کے بتائے فتنے پہ فخر کیوں نہیں کرتےاور چھاتی پہ ہاتھ کر کیوں اپنے آپ کو احمدی مرزائی قادیانی وغیرہ کیوں نہیں کہلواتے۔ کیوں مرزا ملعون کی طرح منافقت اور جھوٹ در جھوٹ بول کر مسلمانوں کو دہوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔؟

    مرزا لعین اسی دنیا میں خوار ہو کر ٹٹی یعنی پاخانے میں گر کر مرا تھا۔ اور عبرت کا مقام ہے ۔ کیا نبیوں کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ ٹٹی میں گر کر مریں؟

  14. محترم ابو شامل صاحب، اگر آپ کے بلاگ پرگوندل مارکہ لوگ اس طرح آ کر گند پھیلایں گے، تو خاکسار مزید گفتگو سے قاصر ہے. ہمیں تو قرآن کے اس حکم کی پیروی کرنی ہے کہ جہلا کی مجلس سے سلام کہ کر اٹھ جاؤ.

    سو اگر آپ احمدیت کے بارہ میں مناسب بات چیت کرنا چاھتے ہیں تو نازیبا آراُ کو مٹا دی جیے.

    جاتے جاتے آپ کا مغالطہ دور کرتا جاوں- تمام مسلمان عیسی علیہ السلام کی بطور 'امتی نبی' واپسی کے منتظر ہیں. ہم احمدی بھی یہی کہتے ہیں. مرزا صاحب امت مسلمہ کے مسیح اور مہدی ہیں اور عیسی ابن مریم کا نزول انہیں معنوں میں ہونا ھے. اسرایلی نبی عیسی علیہ السلام تو فوت ہو چکے اور یہ بات قرآن سے ثابت ہے-

    اور جب عیسی کے نزول کا ذکر حدیث میں نبی اللہ کے خطاب کے ساتھ ہے۔ چنانچہ مسلم کی حدیث میں آپ کیلئے چار دفعہ نبی اللہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔(مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال وصفتہ )

    حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اپنی کتاب ’’ الخیر الکثیر ‘‘ میں فرماتے ہیں۔

    ’’حقٌ لہ ان ینعکس فیہ انوار سیّد المرسلین صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ویزعم العامۃ انّہ اذا نزل الی الارض کان واحداً من الامّۃ کلاّ بل ھو شرحٌ للاسم الجامع المحمّدی ونسخۃٌ منتسخۃٌ مّنہ فشتّان بینہ وبین احدٍ مّن الامّۃ ‘‘ (الخیر الکثیر صفحہ ۷۲مطبوعہ مدینہ پریس بجنور)

    یعنی امتِّ محمّدیہ میں آنے والے مسیح ؑ کا حق یہ ہے کہ اس میں سیّد المرسلین آنحضرت ﷺ کے انوار کا انعکاس ہو۔ عوام کا خیال ہے کہ مسیح جب زمین کی طرف نازل ہو گا تو وہ صرف ایک امّتی ہو گا۔ ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ تو اسمِ جامعِ محمّدی کی پوری تشریح ہو گا اور اسی کا دوسرا نسخہ ہو گا ۔پس اس میں اور ایک عام امّتی کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔

    • محترم ابو شامل صاحب، اگر آپ کے بلاگ پرگوندل مارکہ لوگ اس طرح آ کر گند پھیلایں گے، تو خاکسار مزید گفتگو سے قاصر ہے. ہمیں تو قرآن کے اس حکم کی پیروی کرنی ہے کہ جہلا کی مجلس سے سلام کہ کر اٹھ جاؤ.

      سو اگر آپ احمدیت کے بارہ میں مناسب بات چیت کرنا چاھتے ہیں تو نازیبا آراُ کو مٹا دی جیے.

      برادر لطف الاسلام! میرا شروع سے یہ اصول رہا ہے کہ کسی کو بات کرنے سے نہ روکا جائے بلکہ اسے اظہار کی آزادی دی جائے۔ بلاگ کے دو سالوں کے دوران میں نے کبھی بھی کسی کو یہاں لکھنے سے نہیں روکا۔ آپ کے عقائد سے تمام تر اختلافات رکھنے کے باوجود میں نے آپ کو اپنی رائے دینے سے نہیں روکا اس لیے میں گوندل صاحب کو بھی نہیں روک سکتا۔ اس حوالے سے معذرت خواہ ہوں۔

  15. محترم ابو شامل صاحب، اگر آپ کے بلاگ پرگوندل مارکہ لوگ اس طرح آ کر گند پھیلایں گے، تو خاکسار مزید گفتگو سے قاصر ہے.۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر آپ احمدیت کے بارہ میں مناسب بات چیت کرنا چاھتے ہیں تو نازیبا آراُ کو مٹا دی جیے.
    از طرف لطف۔۔۔۔
    نقل کفر کفر نہ باشد۔۔۔۔ مرزا صاحب امت مسلمہ کے مسیح اور مہدی ہیں۔۔۔
    از طرف لطف ۔۔۔۔
    یہ ایک اور نمونہ ہے قادینایت کی ڈھٹائی کا کہ کفرانہ دیدہ دلیری کی حد تو دیکھئیے۔ مسلمانوں کو اپنے قادیانی کفر کی تبلیغ کس شدو مد سے کی جارہی ہے اور مرزا کے ٹٹی میں گر کر مرنے کے بیان کو "گند پھیلانے " کا فرمان جاری کر کے قادیانی فتنے کے خلاف مگر حقائق پہ مبنی تبصرے حذف کرنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ لطف۔۔ اور دیگر قادیانی جو اپنے آپ کو احمدی کہلواتے ہیں ۔ دیکھئے گا کس طرح ڈھٹائی سے موضوع بدل دیں گے مگر اس پہ بات نہیں کریں گے ۔ یہ قادیانیوں کے جھوٹے نبی مسیح موعود یا جو بھی قادیانی مرزا لعین کو سمجھتے ہیں۔ زیر میں اسکے گند کا ہلکا سا عکس ہے جس سے اسکی گندی ناپاک اور نجس فطرت کا اطہار ہوتا ہے۔ اگر تھوڑی سی بھی دیناتداری قادیانیوں میں باقی ہے بتائیں ۔ کہ کیا ی یہ قادیانیوں کے جھوٹے نبی مسیح موعود یا جو بھی قادیانی مرزا لعین کو سمجھتے ہیں۔ اسکے الفاط نہیں۔؟

    نقل کفر کفر نہ باشد۔چند حوالہ جات یوں ہیں ” کل مسلمانوں نےمجھےقبول کر لیا ہےاور میری دعوت کی تصدیق کر لی ہےمگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نےمجھےنہیں مانا“ ۔ ” میرےمخالف جنگلوں کےسور ہو گئےاور ان کی عورتیں کتیوں سےبڑھ گئیں“
    مرزا لکھتا ہے:
    ” بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بد خواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے”
    (شہادت القرآن ص ۸۴، روحانی خزائن ص ۳۸۰، ج۲)
    “جنگ سے مراد تلوار و بندوق کی جنگ نہیں کیونکہ یہ تو سراسر نادانی اور خلاف ہدایت قرآن ہے جو دین کے پھیلانے کے لیے جنگ کیا جائے اس جگہ جنگ سے ہماری مراد زبانی مباحثات ہیں جو نرمی اور انصاف اور معقولیت کی پابندی کے ساتھ کیے جائیں ورنہ ہم ان تمام مذہبی جنگوں کے سخت مخالف ہیں جو جہاد کے طور پر تلوار سے کئے جاتے ہیں”
    (تریاق القلوب، ص۲ ، روحانی خزائن ص ۱۳۰ ج ۱۵)
    مرزا قادیانی کے فتنہِ قادیانیت کا بیج انگریزوں نے لگایا تھا ۔ اسلئیے مرزا لکھتا ہے:
    “حالانکہ میں جانتاہوں کہ خدا تعالٰی نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیرِ سایہ ہمیں حاصل ہے یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔ پھر میں خود اپنے آرام کا دشمن بنوں اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصوبہ دل میں مخفی رکھوں۔ اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بد خیال، جہاد اور بغاوت دلوں میں مخفی رکھتے ہوں، میں ان کو سخت نادان اورظالم سمجھتا ہوں۔”
    (تریاق القلوب ص ۲۸، روحانی خزائن ص۱۵۶، ج ۱۵)
    وہ لکھتا ہے: ” میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک، عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہےکہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں”
    وہ لکھتا ہے: ” میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے” ( مجموعہ اشتہارات ص ۱۹ ،ج ۳) (تریاق القلوب، ص ۲۷،۲۸ مندرجہ روحانی خزائن ص۱۵۵ ج۱۵)
    وہ لکھتا ہے: ” سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں، ایک یہ کہ خدا تعالٰی کی اطاعت کریں دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو، سو وہ سلطنت حکومتِ برطانیہ ہے” (شہادت القرآن ص ۸۴، روحانی خزائن ص۳۸۰،ج۳)
    مرزا ملعون نے اپنے زمانے میں اس بات کا اعلانیہ دعوٰی کیا تھا کہ اب مسلمان کبھی فتح یاب نہیں ہو سکتے۔اس کےاشعار پڑھیئے: “اب چھوڑ دو جہاد کا اے خیال دوستو دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال دوستو اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے دیں کے لیے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے اب آسمان سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اور قتال کا فتوٰی فضول ہے دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہےجو یہ رکھتا ہے اعتقاد اس نظم میں چند اشعار کے بعد کہتا ہے: یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا اک معجزہ کے طور سے یہ پیشگوئی ہے”(مرزا کی یہ پوری نظم تحفہ گولڑویہ ضمیمہ ص۴۲، روحانی خزائن ص۷۷، ج ۱۷ پر درج ہے)
    مرزا قادیانی ملعون لکھتا ہے: ” میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔میرا والد مرزا غلام مرتضٰی گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسانِ پنجاب میں ہے اور ۱۸۵۷ میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امدار میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے چٹھیات خوشنودی حکام ان کا ملی تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہو گئیں۔ مگر تین چٹھیات جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔ اور جب تموں کے گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا” (کتاب البریہ ص ۳، ۴، ۵ ۔ روحانی خزائن ص ۴، ج ۱۳) مجاہدین کو شدت پسند، دہشت گرد،رجعت زدہ کہنے والے اس عبارت میں موجود مناظر پر ایک نظر ڈالیں، مسلمانوں کے لیے انگریزوں سے لڑنا حرام، دین دشمنی اور بے مصلحتی، جبکہ انگریزوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑنا قابل فخر۔ انگریزوں کے لیے منہ میں گھی شکر اور انہیں برا بھلا کہنا خلافِ تہذیب اور بد اخلاقی، اور مجاہدین کے لیے حرامی اور بدکار جیسے الفاظ۔یہی تہذیب آپ کو وحید الدین خان کے قلم میں ملے گی۔بالکل یہی دو رنگی، ہندوؤں کے لیے سینہ فراخ اور اپنوں کو دو دو من کی گالیاں۔
    ۔ قادیانی تحریک کا اساسی مقصد مسلمانوں کو جہاد سے برگشتہ اور بیگانہ کرنا ہے، چنانچہ وہ فخر سے کہہ رہا ہے کہ میرے مرید جیسے جیسے بڑھتے جائیں گے جہاد کے انکار کی فضا عام ہوتی جائے گی۔ ۱۔ جہاد کے خلاف کتابیں اور اشتہارات لکھے ہیں۔ ۲۔ انہیں دوسرے ملکوں میں پھیلایا ہے۔ ۳۔ جہاد کو ماننا احمقوں کا کام ہے۔ ۴۔ جہاد کے مسائل جوش دلاتے ہیں ( معلوم ہوا کہ جہاد یعنی قتال فی سبیل اللہ کی مخالفت ہو رہی ہے) ۵۔ یہ سارے کام سلطنتِ برطانیہ کو بچانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

  16. یہ ہے قادیانیوں کا جھوٹا مسیح یا مہدی اور اسکی گندی اور ناپاک زبان۔ اور کسطرح وہ اگریزوں کا خیرخواہ اور خوشامدی تھا اور اس یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ کیونکر انگریزوں کا بویا ہوا فتنہ تھا۔ جس کےامننے والے کافر ابھی تک پاکستان اور ملتِ اسلامیہ کو زک پہنچنے کی ناپاک کوششں بدستور کر رہے ہیں۔ اور ڈھٹائی کی حد تو دیکھیں کہ بجاے اسکے کہ یہ خیر اور امن یعنی اسلام کی طرف آنے کے یہ مسلمانوں کو ورغلانے کی کوئی صورت خالی نہیں جانے دیتے اور حیلوں بہانوں سے ہر جگہ ہر موقع پہ اپنے جھوٹے اور کاذب کفر کے حق میں تاویلات گھڑتے رہتے ہیں۔ انکا ہر اگلا بیان پچھلے سے مختلف ہوتا ہے ۔ موقع مناسبت کے لحاظ سے یہ اپنی اصلیت چھپا کر مسلمانوں کو دہوکہ دینے سے باز نہیں آتے۔

  17. لعنت اللہ علی کاذبین ۔

    کیا ایسی گندی زبان استعما ل کرنے والا نعوذ باللہ مسیح ہوسکتا ہے۔قادیانی مذہب کے جھوٹے نبی کی گندی زبان تو آپ نے ملاحضہ فرمائی ۔ اب ذرا احوال جھوٹے نبی کی گندی ترین موت کا ، جسے بیان کرنا قادیانیوں کو گند لگتا ہے ۔

    مرزا کی اپنے ہی پاخانہ میں گر کر عبرت ناک موت کا منظر
    آپ کے سامنے مرزا قادیانی کے سسر کی کتاب کا عکس پیش کر رہا ہوں جس میں وہ لکھتا ہے کہ ہمارا نبی اور میرا داماد اپنے ہی پاخانہ پر گر کر مرا۔ جبکہ آجکل قادیانی اس بات سے انکاری ہیں۔ اور مسلمانوں کو اس بات پہ جی بھر کے گالیاں دیتے ہیں کہ وہ کیوں کہتے ہیں کہ مرزا واش روم میں گر کر مرا تھا۔
    مرزا ناصر قادیانی کا سسر مولوی محمد اعظم قادیانی حیاتِ ناصر نامی کتاب جسے شعبہ اشاعت نظارتِ دعواۃ و تبلیغ صدر انجمن احمدیہ قادیان پنجاب( انڈیا) نے مرزا ناصر کے مرنے پہ چھاپا۔ اسمیں میں مرزا ناصر قادیانی کا سسر مولوی محمد اعظم قادیانی صحفہ نمبر چودہ پہ ” وصالِ مسیح” کے نام سے لکھتا ہے۔ “کہ حضرت مسیح موعود پچیس مئی انیس سو آٹھ یعنی پیر کی شام کو بلکل اچھے تھے۔ حضرت مرزا صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جاکر سو چکا تھا۔۔۔۔جب میں حضرت مرزا صاحب کے پاس پہنچا۔۔۔ مجھے مخاطب کر کے فرمایا ُمیر صاحب مجھے وبائی ھیضہ ہوگیا ہے۔۔۔۔دوسرے روز آپکو ایک قے آئی ، قے سے فارغ ہو کر آپ فرمانے لگے ُ یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا، اتنے میں آپ کو ایک دست آیا مگر اب اسقدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ میں پہنچتے ہی گر گئے اور ہمیں تب معلوم ہوا جب آپ جہانِ فانی سے کوچ فرماچکے تھے۔
    لعنت اللہ علی کاذبین ۔
    قادیانی آج کیسے انکار کرسکتے ہیں کہ انکا مرزا کذاب ٹٹی پاخانے میں گر کر نہیں مرا تھا۔ ان موجودہ لنکس پہ اس کتاب کے دونوں عکس بھی آپ دیکھ سکتے ہیں۔
    http://www.flickr.com/photos/ajnabihope/3910549199/
    http://www.flickr.com/photos/ajnabihope/3910480821/
    لعنت اللہ علی کاذبین ۔

  18. لعنت اللہ علی کاذبین ۔

    مرزا کذاب کی اصل اور حقیقی تعلیمات سوائے کذاب اور افتراء باندھنے کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔۔
    قادیانی لوگ بہت مکار ہیں۔ مرزا ملعون ۔ لفظ خاتم کا مطلب ۔ “مہر” بیان کرتا ہے ۔ اسکے نزدیک خاتم النبین کا مطلب ۔ “نبیوں کی مہر “ہے یعنی دوسرے لفظوں میں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں مانتا بلکہ نبیوں کی مہر کہہ کر اپنے نبی ہونے کا جواز پیش کرتا ہے اور اسی طرح قرآن کریم کو وہ “خاتم” کتاب کہتا ہے یعنی “مہر کتاب” اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسی طرح قرآن کریم کو آخری الہامی کتاب ماننے سے انکاری ہے تاکہ اپنے کذب کو الہامی کہلوا سکے۔

    لعنت اللہ علی کاذبین ۔

  19. Uncle Tom says:

    اسلام علیکم
    میں سوچ رہا تھا کہ ایک دو قادیانی آگےء ہیں یہاں چلو کمنٹنے میں مزہ آے گا اور جب وہ جواب دیں گے تو اس سے بھی زیادہ مزا آے گا ۔۔۔ لیکن جاوید بھای نے بڑا ظلم کیا ۔۔۔ بھگا دیا بےچاروں کو ۔۔۔ ثابت ہوا جاوید صاحب شدت پسند ملا ہیں ۔۔۔ ویسے مزاق کے پرے رکھ کر جاوید بھای آپکے کمنٹس بہت اچھے تھے اور حوالے بھی تھے ۔۔۔ میرا اکثر قادیانیوں سے انٹرنیٹ پر واسطہ پڑتا رہتا ہے ابھی چند دن پہلے ایک فورم پر ایک صاحب سے گفتگو ہو رہی تھی ۔۔۔ آپ لوگوں کی طرح میں علمی مباحث میں پڑنا زیادہ پسند نہیں کرتا کیونکہ مرزا کا کردار ایسا نہیں تھا کہ اسکو ایک شریف آدمی بھی کہا جا سکے ۔۔۔ وہ زینب بیگم نامی ایک عورت سے رات بھر اپنی خدمت کروایا کرتا تھا (سیرت المہدی جلد3 صفحہ 272) اور بھانو سے ٹانگیں دبوایا کرتا تھا ۔۔ یہ بھی سیرت المہدی میں ہے ۔۔ صفحہ نمبر یاد نہیں شاید 210 ہے جلد 3 کا اسکے علاوہ اور بھی بہت سے حوالے پیش کیے جا سکتے ہیں ۔۔ قادیانیوں سے کہیں کہ دیکھیں آپ اپنے ماسی مردود کو نبی یا مہدی یا مسیح بعد میں ثابت کریں پہلے یہ تو ثابت کر دیں کہ وہ ایک شریف انسان تھے کیونکہ یہ سب درجے اسکے بعد ہی انکو مل سکتے ہیں ۔۔۔ قادیانیوں کو حیاتِ عیسیٰ پر بات کرنے کا بڑا شوق ہوتا ہے اسی لیے مجھے زینب بیگم کا ۔۔۔ اگر آپ کو قادیانیت پر کچھ بھی نہیں پتا تو آپ کسی بڑے سے بڑے قادیانی مربی سے صرف اتنا پوچھ لیں کہ زینب بیگم کون تھی ؟؟؟ مرزا کا اسکے ساتھ کیا تعلق تھا ؟؟؟ بس کسی قادیانی مربی کو بھاگنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے ۔۔۔ یہ میری آزمای ہوی بات ہے ۔۔۔ مفت میں دے رہا ہوں (lol)
    اور جاوید بھای حیاتِ ناصر میں قادیانیوں نے عجیب سے تحریف کی ہے لنک دے رہا ہوں ۔۔
    http://www.haqforum.com/vb/showthread.php?t=12493
    آیندہ کوی بھی قادیانی آے تو براے مہربانی پہلے گامے کانے کو ایک شریف انسان ثابت کروا لیں باقی کی باتیں بعد میں ہوتی رہیں گی ۔۔۔۔

  20. ali ya ali says:

    آپ کا سوال بهت اچها مين بتاتا هون ڪافر کون هين جو ان مين سي کسي ايک کان بهي منکر هون وه کافر هين .
    1) جوبهي ايمان الله تعالي ايمان نهين رکهتا
    2) جو بهي محمد رسول الله صلي الله عليه واله وسلم پر ايمان نهين رکهتا
    3)قيامت پر ايمان اور سزا اور جزا اور جنت اور جهنم پر ايمان رکهنا
    4) امام علي عليه السلام کي امامت کا اقرار کرنا اور باره امامون کا اقرار کرنا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.