تھامس جیفرسن کا نسخۂ قرآن - پہلی قسط

گزشتہ سال کے اوائل میں عزیز بلاگر عدنان مسعود نے امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی شہرۂ آفاق لائبریری آف کانگریس کے سفر اور وہاں امریکہ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن کے ذاتی کتب خانے کا حصہ رہنے والے قرآن مجید کے ایک قدیم نسخے کے بارے میں تحریر لکھی۔ 18 ویں صدی کے اوائل میں برطانوی مترجم جارج سیل کی جانب سے کیا گیا یہ ترجمہ اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ان اولین نسخوں میں شامل ہے جنہیں براہ راست عربی سے ترجمہ کیا گیا۔ اس سے قبل تمام انگریزی ترجمے فرانسیسی و لاطینی زبانوں سے کیے گئے تھے۔ خیر، عدنان بھائی کی اس دلچسپ داستان کے پیچھے قرآن مجید کے اس تاریخی نسخے کے بارے میں ایک طویل کہانی ہے جو گزشتہ سال سعودی ارامکو ورلڈ جریدے میں شایع ہوئی۔ اس مضمون کو پڑھتے ہی ترجمہ کرنے کی خواہش پیدا ہوئی تاکہ انگریزی سے نابلد افراد تک اس قیمتی معلومات کو پہنچایا جائے جو لکھاری سباستین آر پرانژ کے قلم سے بہت خوبی سے نکلی ہیں۔ سباتین یونیورسٹی آف لندن کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹیڈیز سے تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کر چکے ہیں۔

بہرحال، میں اپنے بلاگ پر توجہ کم ہونے کی وجہ اس تحریر کو بروقت نذرِ قارئین نہ کر سکا، ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا، اور ابھی چند روز قبل جب کچھ فرصت ملی تو مجھے اپنی کتب میں ارامکو میگزین کا وہی شمارہ نظر آ گیا، جس کے سرورق پر جلی حروف میں The Koran, commonly called The Alcoran of Mohammed جگمگا رہا تھا۔ فوری طور پر تمام کاموں کو چھوڑ کر اس کے ترجمے کا آغاز کیا۔ پہلے عدنان بھائی کی تحریر سے دماغ کو تر و تازہ کیا۔ پھر ان کے بلاگ کے ذیل میں تبصروں میں موجود اردو ڈائجسٹ کی تحریر دیکھی، جو ارامکو میگزین کی اسی تحریر سے نقل شدہ بھی تھی اور نامکمل بھی۔ بہرحال، میں اس طویل مضمون کو چند قسطوں میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

تھامس جیفرسن کا قرآن

تحریر: سباستین آر پرانژ

ترجمہ و تلخیص: ابوشامل

واشنگٹن ڈی سی میں امریکی پارلیمان کے سامنے جیفرسن بلڈنگ واقع ہے، دنیا کے سب سے بڑے کتب خانے 'لائبریری آف کانگریس' کی مرکزی عمارت، جس میں 140 ملین سے زائد کتب و دیگر مطبوعہ چیزیں محفوظ ہیں۔ اپنے جدید کلاسیکی بیرونی حصے، تانبےسے ملمع زدہ گنبد اور سنگ مر مر کے ایوانوں کے ساتھ یہ پرشکوہ عمارت تھامس جیفرسن سے موسوم ہے، ریاستہائے متحدہ امریکہ کے "بانیوں" میں سے ایک، 1776ء کے اعلان آزادی کے اہم ترین مولفین میں سے ایک اور 1801ء سے 1809ء تک ایک نئی جمہوریہ کے تیسرے صدر۔ لیکن ان کا نام اس کتب خانے کے قیام میں بانی کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ بطور صدر انہوں نے ادارے کو قانونی حیثیت دی اور 1814ء میں اینگلو-امریکی جنگ کے دوران برطانوی سپاہیوں کی جانب سے آگ لگائے جانے کے باعث کتب خانے کے 3 ہزار جلدوں کے مجموعے کے ضایع ہونے کے بعد انہوں نے اپنے کتابوں کے ذخیرے کا تمام یا کچھ حصہ اس نقصان کے ازالے کے لیے فراہم کیا۔

اس تاریخی نسخے کی ایک تصویر، برادر عدنان مسعود کے کیمرے سے

اس تاریخی نسخے کی ایک تصویر، برادر عدنان مسعود کے کیمرے سے

جیفرسن کی کتب خانے کو عطیہ کردہ تقریباً 6500 کتب میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کا ایک دو جلدوں پر مشتمل ترجمہ بھی شامل ہیں۔ پہلے جیفرسن کے نجی کتب خانے اور بعد ازاں لائبریری آف کانگریس میں اس مجموعے کی موجودگی اس سوال کو پیدا کرتی ہے کہ جیفرسن نے یہ کتاب کیوں خریدی، وہ اسے کس استعمال میں لائے، اور وہ اسے اک نئی قوم کے ذخیرۂ معلومات میں کیوں لائے۔

دور جدید کے چند مبصرین کے دعووں کے مطابق جیفرسن نے قرآن مجید کا یہ نسخہ 1780ء کی دہائی میں امریکہ اور شمالی افریقہ کی "بربر ریاستوں" – موجودہ مراکش، الجزائر، تونس اور لیبیا- کے ساتھ تنازع کی وجہ سے خریدا تھا۔ یہ ایسا تنازع تھا جس کا جیفرسن نے قریبی مشاہدہ کیا تھا – اور 1786ء میں انہوں نے مراکش کے ساتھ معاہدے کے لیے مذاکرات میں مدد فراہم کی جو ریاستہائے متحدہ امریکہ کا کسی بھی غیر ملکی قوت کے ساتھ پہلا معاہدہ تھا۔ بعد ازاں الجزائر کے ساتھ تعلقات بہت پریشان کن رہے، کیونکہ وہاں کے حکمران نے امریکی تاجروں کے جہازوں پر نیم سرکاری پشت پناہی والی قزاقی کے خاتمے کے جواب میں خراج کی ادائیگی کا مطالبہ کر ڈالا تھا۔ جیفرسن نے خراج کی ادائیگی کی شدت سے مخالفت کی۔ اس تناظر میں، عام دعووں کے مطابق، جیفرسن نے دشمن کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے قرآن کا مطالعہ شروع کیا تھا۔ لیکن اگر ہم جیفرسن کے کتب خانے میں قرآن مجید کے اس نسخے کی جگہ – اور ان کی سوچ – اور اس مخصوص ترجمے کے سیاق و سباق کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک مختلف کہانی سامنے آتی ہے۔

نوجوانوں کے لیے تھامس جیفرسن نے کتب کی بڑی تعداد کا مطالعہ کیا اور انہیں اپنے کتب خانے کی زینت بنایا، جس کا وسیع مجموعہ بالآخر لائبریری آف کانگریس کو عطیہ کیا گیا جو 6487 جلدوں پر مشتمل تھا جس میں قدیم فلسفہ سے لے کر کھانے پکانے تک کے موضوعات پر مشتمل کتب تھیں۔ اس وقت کے بیشتر شوقین حضرات کی طرح جیفرسن نے نہ صرف کتب کا فہرست نامہ مرتب کیا بلکہ ان کو نشان زد بھی کیا۔ یہ کتب کو نشان زد کرنے کا ان کا طریقہ تھا جس نے تصدیق کی کہ آج لائبریری آف کانگریس کی لاکھوں کتب میں قرآن مجید کا یہ نسخہ فی الواقع انہی سے وابستہ ہے۔

اپنے کتب خانے کو ترتیب دینے کا جیفرسن کا طریقہ ان کے ذہن میں قرآن مجید کے مقام پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ جیفرسن کی 44 زمرہ کی ترتیب کا منصوبہ فرانسس بیکن کے مطابق ترتیب دیا گیا تھا جو تقریباً جیفرسن ہی کی طرح قانون دان سے سیاست دان اور پھر فلسفی بن گئے۔ بیکن کے مطابق انسانی دماغ تین شعبوں پر مشتمل ہے: یادداشت، عقل اور تخیل۔ یہ 'تثلیث' جیفرسن کے کتب خانے میں جھلکتی ہے، جس کو انہوں نے تاریخ، فلسفے اور فنون لطیفہ میں تقسیم کیا تھا۔ ان میں سے ہر ایک ذیلی زمروں پر مشتمل تھا: مثال کے طور پر فلسفے کو اخلاقی و ریاضیاتی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا تھا؛ جن میں سے اول الذکر اخلاقیات اور علم قانون کے مزید تقسیم تھا، جو خود بھی مذہبی، ریاستی اور "کفایت شعاری" پر مشتمل تھا۔

اپنے کتب خانے کو ترتیب دینے کے جیفرسن کے نظام کو بسا اوقات "ان کے ذہن کا نقشہ" قرار دیا جاتا ہے۔ جیفرسن نے قرآن مجید کے اپنے نسخے کو مذہب کے حصے میں جگہ دی، جہاں وہ اساطیر اور زمانہ قدیم کے خداؤں کے بارے میں ایک کتب اور عہد نامہ عتیق کے درمیان رکھا گیا۔ یہ واضح ہے کہ جیفرسن مذہبی کتب کو تاریخ یا اخلاقیات پر مبنی کتب نہیں سمجھتے تھے – جیسا کہ عموماً توقع کی جاتی ہے – بلکہ انہیں علم قانون کا حصہ قرار دیتے تھے۔

جیفرسن کی جانب سے قرآن مجید کے اس نسخے کی خرید کی کہانی ہمیں اس زمرہ بندی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ ورجینیا گیزٹ، جن کے ذریعے جیفرسن نے اپنی کتب کا آرڈر دیا، کے ریکارڈز کی تحقیق کے مطابق دانشور فرینک ڈیوی نے دریافت کیا کہ جیفرسن نے قرآن مجید کا یہ نسخہ 1765ء کے قریب قریب خریدا تھا، جب وہ ورجینیا میں کالج آف ولیم اینڈ میری کے طالب علم تھے۔ یہ امر اس عام تصور فی الفور خاتمہ کر دیتا ہے کہ جیفرسن کی اسلام میں دلچسپی امریکہ کی جہاز رانی کو بربر ریاستوں کی جانب سے لاحق خطرے کے باعث پیدا ہوئی۔ بجائے اس کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں ان کی دلچسپی قانون کی تعلیم کے تناظر میں تھی – یہی وجہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے کتب خانے کے علم قانون کے حصے میں قرآن مجید کو رکھا۔

قرآن میں جیفرسن کی قانونی دلچسپی بغیر وجہ کے نہیں تھی۔ بلاشبہ شریعت کی صورت میں اسلامی قانونی روایت موجود ہے جو قرآن مجید کی تشریحات پر مشتمل ہے، لیکن جیفرسن کے پاس ایک وجہ تھی: وہ یہ کہ ان کے زمانے میں تقابل قوانین کی معیاری کتاب جرمن اسکالر سیموئل وون پوفندورف کی قانون فطرت و اقوام (Law of Nature and Nations) تھی جو پہلی بار 1672ء میں شایع ہوئی۔ جیسا کہ فرینک ڈیوی ظاہر کرتے ہیں کہ جیفرسن نے پوفندورف کا کافی مطالعہ کیا، اور اپنی قانونی تحاریر میں کسی بھی دوسرے کے مقابلے میں سب سے زیادہ انہی کے حوالے دیے۔ پوفندورف کی کتاب اسلام اور قرآن کے مختلف حوالہ جات کی حامل تھی۔ گو کہ ان میں سے بیشتر اہانت آمیز تھے – جو اس وقت کے یورپی ادب میں کوئی انوکھی بات نہ تھی – جبکہ چند مواقع پر پوفندورف نے قرآن مجید کی قانونی مثالوں کا پسندیدگی کی نگا ہ سے حوالہ دیا ہے، جس میں اخلاقیات پر قرآن مجید کا زور، جوئے پانسے کی ممانعت اور جنگ کرنے والے ملکوں کے درمیان امن کی نصیحت شامل ہیں۔ جیسا کہ اور ایک معروف جیفرسن دانشور کیون ہائیز لکھتے ہیں: "اپنے قانونی مطالعے کو حتی الامکان حد تک بڑھانے کی خاطر جیفرسن نے قرآن مجید کی جانب توجہ مبذول کی۔"

ایک قانون کی کتاب کی حیثیت سے قرآن مجید کے مطالعے کے لیے جیفرسن نے ایک نسبتاً جدید انگریزی ترجمے کا سہارا لیا جو پچھلی کوششوں سے نہ صرف تکنیکی لحاظ سے بہتر تھا، بلکہ اسی اثر پذیری کے ساتھ کیا گیا تھا جو جیفرسن کے اپنے رویے سے مختلف نہ تھی۔ 'قرآن: المعروف محمد کا القرآن' کے عنوان سے یہ ترجمہ ایک انگریز جارج سیل نے کیا تھا اور یہ 1734ء میں لندن میں شایع ہوا۔ دوسرا ایڈیشن 1764ء میں شایع کیا گیا، اور یہی وہ ایڈیشن ہے جس کی ایک نقل جیفرسن نے خریدی۔ جیفرسن کی طرح سیل بھی ایک قانون دان تھے، البتہ ان کا قلبی رحجان مشرقی علوم کی جانب زیادہ تھا۔ اپنے ترجمے کے دیباچے میں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ "ترجمے کا کام انہوں نے اپنے تکلیف دہ پیشے کے کاموں کے درمیان ملنے والے فارغ وقت میں کیا۔" یہ دیباچہ قاری کو سیل کے مقاصد کے بارے میں بھی آگاہ کرتا ہے: "اگر دیگر قوموں کے مذہبی اور معاشرتی اداروں ہماری معلومات کے لیے اہمیت رکھتے ہیں تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، عربوں کے قانون ساز، اور دنیا کے اس عظیم تر حصے پر ایک صدی کے اندر اندر پھیل جانے والی ریاست کے بانی جس پر کبھی رومیوں سردار تھے، کو جاننا بہت ضروری ہے۔" پوفندورف کی طرح سیلز نے بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کردار کو ایک "شارع قانون" اور قرآن کو ایک خاص قانونی روایت کی نظر سے دیکھا ہے۔

جاری ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

10 تبصرے

  1. معلومات میں اضافے کا بہت شکریہ۔ اگلی قسط کا انتظار ہے۔

    • ابوشامل says:

      میں کوشش کروں گا ایک دو روز میں اگلی (یعنی آخری) قسط جاری کردوں۔

  2. فیصل says:

    فدوی کا قانون یا متعلقہ مضامین کا علم نہایت محدود ہے لیکن اسلام کو بطور ایک مجموعہ قوانین دیکھنے کا دو مرتبہ اتفاق ہوا۔ ایک مرتبہ جب آئی یو سی این کی ملازمت کے دوران وہ احادیث اکھٹی کرنے کی کچھ کوشش کی جو ماحولیات سے متعلق ہیں اور اسی سے ملتی جلتی وہ احادیث جو جانوروں، پرندوں اور پودوں کے حقوق سے متعلق ہیں۔
    دوسری مرتبہ یہ موقعہ تب ملا جب یورپ میں ماسٹرز کے دوران پولیٹیکل سائنس اور خصوصا انسٹیٹیوشنل اکنامکس کا کچھ مطالعہ کیا اور حیرت انگیز طور پر جدید (یا حالیہ کہہ لیجئے) دنیا کے قوانین اور اسلام میں بے تحاشا مماثلت پائی۔
    ان دو تجربوں سے ناچیز کا رحجان بھی کچھ ایسا ہی بن گیا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ باتیں کہہ گئے ہیں جو آجکل کے ماہرین نفسیات بڑی عرق ریزی کے بعد دریافت کر رہے ہیں، اور ان دریافتوں کی روشنی میں سوشل سائنسز مثلا اکنامکس اور پولیٹیکل سائنس میں بہت زیادہ تبدیلیاں آ رہی ہیں اور ساٹھ ستر برس پرانے تصوورات جو بڑی حد تک فزکس اور میتھس میں ہونی والی پیشرفت سے متاثر تھے، اب تبدیل ہو رہے ہیں۔ مختصرا کہوں تو positivists کے مقابلے میں antipoistivists کو خاطر خواہ کامیابی ہو رہی ہے۔

  3. جعفر says:

    بہت ہی دلچسپ مضمون ہے۔ ترجمہ رواں ہے اور محسوس نہیں ہوتا کہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ اگلی اقساط کا شدت سے انتظار اور اس عمدہ کام کے لیے آپ کو بہت بہت شاباش اور داد۔ ویل ڈن سر۔

    • ابوشامل says:

      حضور حضور! آپ کی ”تریف“ سے ساری محنت وصول ہو گئی۔ ناچیز نے تو کوشش ہی کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ترجمے میں ابھی کافی اصلاح کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ جب 100 سے 200 ایسے مقالے ترجمہ کر لوں گا تو کچھ بہتری آ ہی جائے گی۔

  4. السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    بہت ہی عمدہ پیرائے میں ترجمہ کیا ہے اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

  5. zain khan says:

    dosri qist ka intezar rahega

  1. July 23, 2012

    [...] تھامس جیفرسن کا نسخۂ قرآن- پہلی قسط یہاں ملاحظہ کیجیے [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.