رمضان اور عوام

دنیا بھر میں خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں اہم تہواروں کے موقع پر عوام کو خصوصی رعایت اور سہولیات دی جاتی ہیں لیکن غریب ممالک میں عقیدت و تکریم کے حامل روایتی و مذہبی تہوار عوام کے لیے نئے مسائل کا باعث بن جاتے ہیں۔

رمضان المبارک کا مہینہ اسلامی تقویم میں خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں مسلمان تزکیۂ نفس کے لیے روزے رکھتے ہیں اور خصوصی عبادات کا اہتمام کرتے ہیں۔

ماہ رمضان میں روزے کے لیے سحری و افطار کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، رمضان کی اہم سوغاتیں کھجلہ، پھینی، پکوڑے، سموسے اور جلیبیاں ہر گھر کی زینت بنتی ہیں اور ہر روز نت نئے پکوان پکائے جاتے ہیں تاکہ دن بھر بھوکا پیاسا رہنے والے روزہ داروں کی طمانیت کا سامان کیا جا سکے اور کھانے پکانے کے حوالے سے رمضان المبارک کی یہی اہمیت ہمارے ایمان فروش باشندوں کو عوام کو لوٹنے کا سالانہ موقع فراہم کرتی ہے۔

ایک جانب جہاں گزشتہ چند سالوں سے مہنگائی کے طوفان نے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور سبزی، دال، گوشت، آٹے، اناج اور دیگر بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے اس صورتحال میں رمضان المبارک عوام کے لیے مہنگائی کا ایک نیا طوفان ثابت ہو رہا ہے۔

سال رواں کیونکہ مہنگائی کے حوالے سے پرانے تمام ریکارڈز توڑ چکا ہے اس لیے یہ ماہِ مقدس بھی ریکارڈ اہمیت کا حامل لگتا ہے۔ ابھی گزشتہ روز کراچی کے صدر بازار میں پھلوں کی قیمتیں پوچھنے کا اتفاق ہوا تو دماغ ٹھکانے آ گیا۔ انگور 120 سے 150 روپے کلو، سیب 40 سے 50، آڑو 70 سے 80، خربوزہ 50 سے 60، کھجور (ایرانی) 200 اور کیلا 50 روپے درجن۔ یہ تمام پھل درمیانے درجے کے ہی تھے جبکہ ان کی قیمتیں درجۂ اول سے بھی آگے کی تھیں۔ یہ قیمتیں سننے کے بعد مزید پھلوں کی قیمتیں سننے کا حوصلہ نہ رہا اور زندگی میں پہلی مرتبہ رمضان میں اخراجات کو کچھ کنٹرول کرنے کے بارے میں سوچا۔ دیگر اشیائے ضرورت کا احوال تو روزانہ ہی اخبارات کی زینت بن رہا ہے۔ اس وقت پنجاب میں آٹے کا بحران سر فہرست ہے۔ دوسری جانب لاہور میں سبزی منڈی کے آڑھتیوں نے بھی ہڑتال کی دھمکی دے رکھی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مقررہ قیمتوں پر سبزی پھل فروخت نہيں کر سکتے اور اگر زبردستی کی گئی تو وہ کام بند کر دیں گے۔ بالکل یہی صورتحال آٹے کے سلسلے میں بھی پیش آئی جہاں مل مالکان نے چابیاں حکومت کے حوالے کر دیں کہ لیں آپ چلا لیں ملیں، ہم اس قیمت پر آٹا نہیں بیچیں گے۔

لیکن اس تمام صورتحال کے باوجود روایتی جوش و خروش میں ذرہ برابر کمیدیکھنے میںنہیں آ رہی بلکہ کئی مقامات پر تو توقعات سے کہیں زیادہ رش دکھائی دیا جیسے شاہراہ فیصل پر واقع بین الاقوامی چین اسٹورمیکرو کے مرکز پر رش تو قابل دید تھا۔

بہرحال اس امر میں تو کوئی شک نہیں کہ غریب طبقہ اس مہنگائی سے بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہے اور اس کے لیے ماہ مقدس میں جینا اور زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ ایک جانب جہاں مختلف اشیائے ضرورت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے عوام کو پریشان کیے رکھا ہے تو اس ماہ میں دیگر مسائل بھی سامنے آئے ہیں جن میں سر فہرست ٹریفک جام کا مسئلہ ہے۔

کراچی جیسا بڑا شہر جہاں ویسے ہی ٹریفک کے گوناگوں مسائل ہیں، اس ماہ مقدس میں ان میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ خصوصاً صبح و شام کے دفتری اوقات میں کراچی کی ہر سڑک پر گاڑیوں کی طویل قطاریں نظر آتی ہیں۔ دفتر کے لیے کیونکہ میرا راستہ شہر کی سب سے بڑی سڑک شاہراہ فیصل سے گزرتا ہے اس لیے عام دنوں میں اتنے زیادہ مسائل کا شکار نہیں ہوتا لیکن رمضان شروع ہوتے ہی گویا شہر بھر کا ٹریفک اسی شاہراہ پر امڈ آیا ہے۔ وجہ دراصل یہ ہے کہ رمضان سے قبل دفتری اوقات صبح 9 بجے شروع ہوتے ہیں اور اسکول 8 بجے لیکن ماہ مقدس میں دفتری اوقات میں معمولی ردو بدل واقع ہونے سے دفاتر اور اسکولوں، کالجوں، جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلباء کی گاڑیاں اور دفتر کے جانے لیے والے افراد کی گاڑیاں بیک وقت سڑکوں پر آ جاتی ہیں جس سے ٹریفک کی روانی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے میں دفتری وقت سے ایک گھنٹہ پہلے گھر سے نکلتا تھا اور بروقت پہنچ جاتا تھا اب ڈیڑھ گھنٹہ پہلے نکلتا ہوں اور ایک دن تو بروقت نہ پہنچ پایا اور دو دن بمشکل پہنچ سکا۔

اب آتے ہیں کہ ان دونوں بڑے مسائل کا حل کیا ہے؟ پہلے مسئلے کا حل تو مجھے یہ دکھائی دے رہا ہے کہ اگر کوئی چیز آپ کی پہنچ سے باہر ہے تو آپ اسے بالکل نہ خریدیں۔ اصل میں رمضان کا اصل پیغام ہی تزکیۂ نفس اور صبر ہے لیکن ہم اپنی نئی نسل کو یہ سبق پڑھانے کے بجائے اس ماہ کو کھانے پینے کا مہینہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ اس لیے ایک تو یہ کیا جا سکتا ہے کہ ایک روز افطار کے تمام لوازمات دسترخوان پر رکھے جائیں اور دوسرے روز صرف کھانا۔اس سے نہ صرف اچھی بچت ہو سکتی ہے بلکہ بچوں کی اچھی تربیت بھی ہوگی اور انہیں رمضان کا اصل پیغام "ایثار، صبر اور تزکیۂ نفس" ملے گا۔

دوسرے مسئلے کا حل تھوڑا مشکل ہے لیکن اس سے نمٹنے کے لیے مقامی شہری حکومت کی کوششیں قابل ستائش دکھائی دیتی ہیں۔ رضاکار فورس کے ذریعے ٹریفک کو سنبھالنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں صرف اور صرف اسے منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم عوام کے ہاتھ میں لے دے کر ایک ہی حل رہ جاتا ہے کہ تعلیمی اداروں اور دفاتر کے لیے جتنا جلدی ممکن ہو سکے گھر سے نکل جائیں تاکہ بروقت پہنچ سکیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہ مبارک کی برکتیں بھرپور طریقے سے سمیٹنے کا موقع فراہم کرے (آمین)۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

3 تبصرے

  1. شامل صاحب اہم مسئلہ ہے اور آپ کی بات درست ہے ۔۔ لوگوں کے اجتماعی نظم سے ہی یہ مسئلے حل ہونگے ۔۔ ٹریفک کا زیادہ تر مسئلہ تو نظم کا ہے جو شوگر لیول کم ہونے کی وجہ سے افطار سے تھوڑا پہلے کافی تتر بتر ہوجاتا ہے۔۔ اور مہنگائی کی ایک لہر تو ہر تہوار اور خاص‌موقع کے ساتھ گویا مربوط ہے۔۔

    راشد کامران کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..کیا طالبان مسلمان ہیں؟

  2. ابوشامل says:

    بس بنیادی مسئلہ یہی ہے کامران صاحب کہ ہم معاشرے میں تبدیلی تو دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے خود کو تبدیل کرنے پر راضی نہیں۔ "شہری شعور" نہ ہونا ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

  3. ڈفر says:

    ہم سب یہ سوچتے ہیں کہ ’کیا یہ صرف میرے ذمہ داری ہے؟ ‘
    بے شک حکومت کی ذمہ داریاں بھی ہیں لیکن عوام اگر اس میں اپنا حصہ ڈالیں تو ہمارے کافی مسئلے حل ہو جائیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.