نئی سیاسی فلم: مفاہمت سے منافقت تک

تحریر: حارث رقیب عظیمی

(مہمان بلاگر)

پرویز مشرف کی نو سالہ آمریت کے بعد خدا خدا کرکے وطن عزیز میں جمہوریت بحال ہوئی تو اسے دیگر چھوٹے چھوٹے امراض کے علاوہ شخصی آمریت اور بدعنوانی جیسے دو بڑے عارضے لاحق تھے۔ لیکن یہ تمام امراض و عوارض تو پچھلی جمہوریتوں میں بھی الحمدللہ موجود رہے ہیں۔ سو نئی جمہوریت کی یہ بڑی مشکل تھی کہ گزشتہ جمہوریتوں کے گناہوں میں اب کیسے اضافہ کیا جائے۔

خدا کا کرم ہوا کہ ہمارے پیارے پاکستان کو اک ایسی دانائے راز شخصیت کی قیادت میسر آئی جس نے مفاہمت کی پالیسی کے تلے فنِ سیاست کی تمام خوبیوں اور اچھائیوں کو دفن کردیا۔ ابتداء این آر او سے ہوئی جس کو ماشا اللہ آمریت کی آشیر باد بھی حاصل تھی، اور انتہا کا تو نہ ہی پوچھیے۔ مفاہمت کے نام پر منافقت کا ہر ہنر آزمایا گیا۔ ایسے ایسے فقید المثال اتحاد وجود میں آئے جن سے سیاست، ریاست، سماجیات اور اخلاقیات سب شرما گئیں۔ مگر آفرین ہے ہمارے رہبروں اور رہنماؤں پر کہ ذرا جو حیا آئی ہو۔ مگر کیا کریں کہ سانجھے کی ہانڈی ہمیشہ چوراہے پر ہی پھوٹتی ہے۔

سو یہی ہوا پیار کی پینگیں بڑھاتی حکراں جماعت پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان۔ ایم کیو ایم حکومت سے علیحدہ کیا ہوئی، مفاہمت کی ’ہ‘ غائب ہوکر درمیان میں ایک ’ق‘ چھوڑ گئی۔ اور سب جانتے ہیں کہ یہ قاف قائد اعظم کی نہیں بلکہ منافقت کی ہے۔ جس سے بانیان پاکستان کا دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔

ایک دوسرے کے قصیدے پڑھتی جماعتوں نے پھر وہ فضائل و مناقب بیان کیے جنہیں سن کر مفاہمت مارے شرم کے منافقت کے سمندر میں غرق ہوگئی۔

ایک دوسرے کو ٹوپیاں۔۔۔ یعنی سندھی ٹوپیاں پہناتے رہنماؤں نے آناً فاناً سروں سے دستار فضیلت کھینچ لی۔ پھر کوئی جیل میں مخالفین سے ملاقات کرتا اور ٹیلی فون لائنیں کاٹتا پکڑا گیا تو کوئی یہ یاد دلاتا رہا کہ یہ نہ بانوے ہے نہ پچانوے، چھیڑا گیا تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ منافقت کا یہ جامہ ابھی تار تار ہونا شروع ہوا ہی تھا کہ گرینڈ الائنس ایکسپریس ٹرین چلاتی نون لیگ کمشنری کے جنگل نما ویران اور چھوٹے سے اسٹیشن پر ہی متحدہ کا ساتھ چھوڑ گئی۔ اب لوگ کہتے ہیں کہ ہم سب کو بے نقاب کریں گے، مزید صبر نہیں کرسکتے۔ جبکہ لفظ صبر سن کر اس لفظ کے مارے عوام ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور بے صبری کی منزل ایک قدم اور قریب آجاتی ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

8 تبصرے

  1. اعلی ہے ۔۔۔۔۔۔ اور میں جو محسوس کر رہا ہوں اپنے ملک کے سیاستدانوں کے لئے انکو یہاں لکھنے سے قاصر ہوں ۔۔۔ باقی ماشاءاللہ آپ خود کافی سمجھدار ہیں 🙂

  2. بلکل درست تجزیہ ہے... اور ضیا بھائی والی بات... کہ میں جو اپنے سیاستدانوں کے بارے میں سوچتا ہوں... یہاں لکھنے سے قاصر ہوں... کہ سینسر بھی کوئی چیز ہوتی ہے... 🙂

  3. عبداللہ says:

    جس طرح مفاقمت کو زبردستی منافقت بنایا ہے،باقی کا مضمون بھی بس ویسے ہی بھرتی کا لگ رہا ہے!!!!

  4. تحریم says:

    لٹیرے ملک کو ملکر لوٹنے میں خوش ہیں
    عوام کی کیا کہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  5. بہت خوب لیکن یہ جماعتیں اور ان کے نمائیدے بس عوام کو بیوقوف بناتی ہیں جوکہ ان کا جدی پشتی کام ہےاورہم بیوقوف بن رہےہیں

  6. جعفر says:

    بالکل جی بالکل، بھرتی کا مضمون ہے۔
    پھرتی کا مضمون تو وہ ہوتا ہے جس میں ارنے بھینسے کی ٹیلی فونی بلبلاہٹ کو اخبار میں اقوال آنٹی زریں کے نام سے چھاپا جاتا ہے۔

  7. عبداللہ says:

    ارنے بھینسے کی بلبلاہٹ تو یہاں بھی اوپر اور دیگر تحاریر پر بطور تبصر ہ پڑھی جاسکتی ہے!!!!!
    🙂

  8. بہت خوب لیکن کافی generic approach

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.