رومن اردو یا نستعلیق اردو

جب سے اردو پر انگریزی زبان کا اثر و رسوخ بڑھا ہے، ایک مطالبہ بڑی شد و مد کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے کہ اردو کا رسم الخط عربی سے بدل کر لاطینی یا رومن کر دیا جائے۔ مثالیں ترکی کی دی جاتی ہیں جس نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک کی حکومت کے دوران عربی رسم الخط کو موقوف کر کے نہ صرف ترکی زبان کو لاطینی رسم الخط کی جانب منتقل کیا بلکہ بڑے پیمانے پر زبان کی 'تطہیر' کا آغاز بھی کیا اور اس کو عربی و فارسی کی آمیزش سے "پاک" کردیا۔

اٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساں

مجھے حال ہی میں اردو کی لاطینی رسم الخط میں منتقلی کے ایک براہ راست مطالبے کا سامنا کرنا پڑا۔ جب پاک-بھارت سوشل میڈیا میلہ 2012ء کے دوران ایک سیشن میں بطور پینل رکن شرکت کے دوران مجھ سے سوال کیا گیا کہ کیا اردو کو رومن رسم الخط میں تبدیل کر لینا اس کے لیے زیادہ بہتر نہ ہوگا؟ اپنی نہاد میں سوال جتنا بے ضرر اور اردو کی محبت سے لبریز لگتا تھا کہ انگریزی نظام تعلیم میں رچ بس جانے والے افراد اپنی زبان سے جڑے رہنے کی شدید خواہش کے پیش نظر یہ مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو نہ صرف ایسا کرنا بہت مشکل ہے بلکہ ساتھ ساتھ لاحاصل بھی۔

بدقسمتی سے یہ سوال اس وقت کیا گیا جب سیشن اپنے بالکل اختتامی مراحل میں تھا، اس لیے تفصیلی جواب دینے کا سرے سے موقع ہی نہ تھا، لیکن بعد ازاں چند احباب نے کئی پہلوؤں پر توجہ دلائی کہ یہ موضوع متقاضی ہے کہ اس پر کچھ خامہ فرسائی کی جائے اور یوں یہ بوجھ مجھ ناچیز کے کاندھوں پر ڈال گئے، جسے میں کافی دنوں سے اٹھائے پھر رہا تھا، اب سوچا کہ اتار ہی دوں۔

اردو کا خمیر عوام سے اٹھا ، وہ کبھی طبقہ اشرافیہ کی زبان نہ تھی۔ اس زمانے میں اشرافیہ فارسی بولتی تھی، اور اب انگریزی بولتی ہے۔ جیسا کہ عالمی تاریخ میں ہمیشہ اشرافیہ کی عادت رہی ہے کہ وہ عوامی زبان سے ہٹ کر اپنے لیے ایک الگ زبان منتخب کرتی ہے۔ خود ترکی میں، جس کی مثالیں دی جاتی ہیں، خلافت عثمانیہ کے زمانے میں عوام ترک اور خواص فرانسیسی بولتے تھے۔ بہرحال، اشرافیہ سے قطع نظر اردو نیچے کس حد تک ہندوستان میں سرایت کر گئی تھی، اس کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ دو عظیم شعراء غالب اوراقبال نے اس کےبطن سے جنم لیا۔ اور اثر و رسوخ دیکھئے کہ اقبال کی شاعری نے تحریک پاکستان برپا کر دی، لوگوں کے اذہان تبدیل کر دیے یہاں تک کہ برصغیر کا جغرافیہ تک تبدیل کر ڈالا۔ ایسا کیوں کر ہوا کیونکہ اردو کی جڑیں عوام میں تھیں۔

چند صدیوں میں تو زبانیں گھٹنوں گھٹنوں چلنا سیکھتی ہیں لیکن اردو نے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر ڈالی اور آج اردو عربی کےبعد دنیا میں سب سے زیادہ اسلامی مواد کو خود میں سموئے ہوئے ہے۔ اور یہ تمام صدیوں کا ورثہ اور ترقی اسے ایک رسم الخط سے ملی جو عربی ہے۔

ترکی زبان قدیم و جدید رسم الخط ایک ساتھ

ترکی زبان قدیم و جدید رسم الخط ایک ساتھ

بدقسمتی سے ہمارے ہاں بیسویں صدی کے اوائل سے ایک تاثر نے تقویت پکڑی ہے کہ عربی رسم الخط جدید نہیں ہے، اور شکر ہے کہ اس تاثر کو بہت زیادہ تقویت نہیں ملی ہے اور یہ محض ایک مخصوص طبقے کے ایک حلقے تک ہی محدود ہے۔ دراصل یہ کارنامہ دراصل مصطفیٰ کمال اتاترک کا ہی تھا جس نے چند لسانی ماہرین کے ذریعے ایک رپورٹ مرتب کروائی جس میں عربی رسم الخط کی مبینہ خامیوں کی بنیاد پر ترکی کو لاطینی رسم الخط کی جانب منتقل کیا گیا۔ اتاترک کو اس میں اتنی دلچسپی تھی کہ اس نے ذاتی طور پر متبادل لاطینی الفاظ بنائے اور سکھائے۔ حالانکہ عربی رسم الخط کو جدید دور کے تقاضوں سے نابلد کہنا خود جہالت کی علامت ہے کیونکہ رومن رسم الخط کے مقابلے میں عربی رسم الخط پڑھنا کہیں زیادہ آسا ن ہے کیونکہ اس میں ہر لفظ جداگانہ شکل یا ligatureکا حامل ہے، یوں ہر لفظ کی جداگانہ حیثیت کے باعث عربی اور ملتی جلتی زبانیں پڑھنے کی رفتار رومن کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

اگر ترکی کے اس زمانے کے حالات اور پاکستان میں موجودہ صورتحال کا تقابل کیا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ترکی اُس وقت بھی سب سے زیادہ شرحِ خواندگی کا حامل مسلم اکثریتی ملک تھا اور آج بھی یہی صورتحال ہے۔ وہ اگر کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو ان کے پاس انسانی و مادی وسائل موجود ہیں جس کے ذریعے وہ اس فیصلے کو عملی قالب میں ڈھال سکتے ہیں۔ آج اگر اردو کو لاطینی رسم الخط میں منتقل کرنے کا کوئی فیصلہ ہوتا ہے تو یہ جو صدیوں کا مواد اردو میں جمع ہو گیا ہے اس کی منتقلی اور آنے والے وقتوں میں نئے رسم الخط کی بنیاد پر کام کرنے پر سب کو راضی کرنے کا کٹھن کام کون سر انجام دے گا؟ اس لیے سب سے پہلے تو زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے اردو کو رومن میں تبدیل کرنے کا مطالبہ سرے سے ہی درست نہیں لگتا ۔

بہرحال، سب سے پہلے تو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ مطالبہ اٹھانے والا طبقہ کون سا ہے اور خود اردو کے لیے ان کی کون سی خدمات ہیں، اور یہ رائے واقعتاً اہمیت بھی رکھتی ہے یا محض اپنی تن آسانی کے لیے معاملہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے تو یہ دیکھا جانا ضروری ہے کہ اس کا مطالبہ کرنے والوں کی خود اپنی لسانی و تکنیکی اہلیت کتنی ہے؟ اگر اس امتحان میں یہ گروہ ناکام ہوتا ہے تو ان کی طفلانہ خواہش کی بنیاد پر اتنا بڑا فیصلہ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ۔ بدقسمتی سے جس حد تک میں نے دیکھا ہے کہ یہ مطالبہ ایسے ہی افراد کی جانب سے کیا جاتا ہے جو دنیا بھر کو انگریزی کی عینک سے دیکھتے ہیں، بہرحال ان کی شخصیات میرا موضوع گفتگو نہیں ہیں۔

اور اس سے بھی پہلے یہ جانچنا چاہیے کہ لاطینی یا رومن رسم الخط کو آخر اپنانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اگر اس کی بنیاد اس بات کو بنایا جائے کہ انگریزی پڑھنے والے بچوں کو اردو کے حروف تہجی پہچاننے میں دشواری ہوتی ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے بچوں کی ملک میں تعداد ہی کتنی ہے؟ اردو کے موجودہ الفاظ سے توہر وہ بچہ واقف ہے جو ملک کے دور دراز علاقوں سے لے کر شہر کے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں اور مدارس میں اس مضمون کو پڑھتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا کہ جس شد و مد کے ساتھ یہ مطالبہ کیا جاتا ہے اس کے دو بنیادی محرکات ہو سکتے ہیں۔ ایک تو طبقہ اشرافیہ کے ان اسکولوں کے بچوں کو سمجھانے کے لیے جن کا سرے سے اردو سے واسطہ ہی نہیں پڑتا، بلکہ جہاں قومی ترانہ بھی روزانہ نہیں پڑھایا جاتا کہ وہ اردو زبان میں ہے اور اس سے بچوں کی انگریزی "خراب" ہوگی۔ دوسری وجہ شایداردو کے اس وسیع اسلامی کتب کے ذخیرے سے خوف کھانے والا طبقہ ہے جو خود کو آزاد خیال کہتا ہے۔ بہرحال، میرے پاس اس کا کوئی ثبوت تو نہیں ہے لیکن اکثر و بیشتر یہ مطالبہ اسی نظریہ فکر کے افراد کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

اب دیکھئے کہ ترکی میں لاطینی رسم الخط اختیار کرنے کا نقصان کیا ہوا؟ حکومت نے جو ادب ترجمہ کر کے آگے منتقل کروانا چاہا، اسی کو کیا اور باقی وہ تمام ادب جو لادین حکومت کی نظر میں درست نہیں تھا، بیک جنبش قلم زبان سے باہر پھینک دیا گیا۔ لوگوں نے انفرادی طور پر ضرور اس کو منتقل کرنے کی کوششیں کیں لیکن آخر کب تک۔ جس بڑے پیمانے پر سرکاری سرپرستی میں کام ہو رہا تھا، انفرادی طور پر تو کوئی اس کا مقابلہ ہی نہ کر سکتا تھا۔ ایک مثال ترکی کے شاعر اسلام محمد عاکف کی لے لیں۔ گو کہ وہ ترکی کے موجودہ ترانے کے خالق ہیں، لیکن ان کے مجموعہ کلام کو دہائیاں بیت گئیں نئے رسم الخط میں منتقل ہونے میں کیونکہ نئے صاحبان اقتدار کو عاکف پسند تھے اور نہ ہی ان کی فکر۔ اس لیے کئی سال گزر جانے کے بعد بالآخر عاکف کا کلام نئے رسم الخط میں منتقل ہو پایا لیکن اس لحاظ سے یہ کام بھی فائدہ مند نہیں ہو سکا کہ جس بڑے پیمانے پر فارسی و عربی کے الفاظ ترکی زبان سے نکالے گئے تھے، اس سے عاکف کی ترکی زبان نئی نسل کے لیے اجنبی بنتی چلی گئی یہاں تک کہ چند خیر خواہوں نے اس کی شرح لکھی۔ ایک اور مثال، آج عالم یہ ہے کہ آپ ترکی چلے جائیں، وہاں توپ قاپی محل یا دیگر تاریخی مقامات دیکھیں، وہاں دیواروں پرخطاطی کے وہ عظیم نمونے موجود ہیں جو شہنشاہوں اور معروف خطاطوں کے ہاتھوں کے لکھے ہوئے ہیں اور مقامی ترک باشندے آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کو کیونکہ عربی رسم الخط پڑھنا آتا ہے، اس لیے آپ صرف پڑھ کر ہمیں بتا دیں، سمجھ ہم خود لیں گے۔ کیا کوئی اپنے صدیوں کے ورثے سے یوں بھی کاٹا جا سکتا ہے؟ پھر ترکوں کا ورثہ کوئی معمولی ورثہ تو نہ تھا؟ اک ایسی سلطنت جو تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور تقریباً نصف امت مسلمہ براہ راست اس کی قلمرو میں تھی۔ جب زبان کے اتنا عظیم ورثہ رسم الخط کی تبدیلی کی مار نہ سہہ سکا تو اردو تو 'دو رکعت کی مار' بھی نہ ہوگی۔

استنبول کے توپ کاپی محل میں ترکی زبان میں لکھا خط نستعلیق کا ایک خوبصورت نمونہ، جسے آج خود ترکی بولنے والے نہیں سمجھتے

استنبول کے توپ کاپی محل میں ترکی زبان میں لکھا خط نستعلیق کا ایک خوبصورت نمونہ، جسے آج خود ترکی بولنے والے نہیں سمجھتے

ایک اور بات، زیادہ تر یہ مطالبہ کرنے والے افراد خود عربی اور آج اس کے رسم الخط میں آنے والے جدید انقلابات سے بالکل ناواقف ہیں۔ عربی مراکش سے لے کر عراق تک بولی جانے والی اور دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں وہاں پڑھی جانے والی زبان ہے۔ اس کا اثر کتنا زیادہ ہے کہ ہسپانوی سے لے کر ملائے اور اردو سے لے کر کردی زبان تک لاکھ کوششوں کے باوجود اس کی گرفت سے خود کو آزاد نہیں کر پائیں۔ اس تقریباً نصف دنیا کی زبانوں میں سینکڑوں سے لے کر ہزاروں الفاظ تک ایسے ہیں جو براہ راست عربی سے داخل ہوئے ہیں اور ان میں سے کئی زبانیں لکھی بھی عربی رسم الخط یعنی حروف ابجد میں جاتی ہیں۔

ان زبانوں میں مسلمانوں کے قیمتی ورثوں میں سے ایک فارسی زبان ہے۔ خود پاکستان میں سندھی جیسی خوبصورت بولی عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ پاکستان کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی، پشتو، بلوچی و دیگر تمام زبانیں پھر سرحد کے پار افغانستان میں درّی، آذری، ایران، ترکی و شام کے سنگم پر کردی زبان، حتیٰ چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں بولی جانے والی اویغور زبان بھی عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ ان کے علاوہ قرآن کی زبان کی وجہ سے انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک ہر جگہ عربی رسم الخط پھیلا ہوا ہے حتیٰ کہ ان علاقوں میں بھی جہاں قومی زبان لاطینی یا کسی اور رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ تو اس عربی رسم الخط سے جان چھڑانے کا مطلب ہے کہ ہم نہ صرف ترکوں کی طرح اپنے تاریخی ورثے سے بلکہ ارد گرد کے تمام خطوں سے جڑے اپنے تعلق کو بھی توڑ ڈالیں۔

لگتا ایسا ہی ہے کہ پاکستان میں اس آواز کے پس پردہ وہی حلقے ہیں جو 'عربی زبان' کا نام سن کر ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔

اگر ہم ماضی قریب کو دیکھیں تو، جب کمپیوٹر انقلاب رونما ہوا تو عربی ان اولین زبانوں میں سے ایک تھی جو اس اسٹیج پر بھی جلوہ گر ہوئیں۔ اور عربی کے آنے کا مطلب ہے اس رسم الخط میں آنے والی تمام زبانیں بھی۔ آج دنیا کے بڑے سافٹ ویئر ساز اداروں میں سے ایک ایڈوبے اپنے تمام سافٹ ویئرز، جیسا کہ فوٹو شاپ، السٹریٹر، ان ڈیزائن وغیرہ، کے جدید ورژن جاری کرتے ہوئے ایک مڈل ایسٹرن ورژن بھی جاری کرتا ہے اور جو عربی اور دائیں سے بائیں طرف لکھی جانے والی دیگر زبانوں کے لیے کام کرتا ہے۔ اگر عربی رسم الخط اتنا گرا پڑا ہوتا تو کیا یہ اتنا بڑا اداروں لاکھوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کرتا؟ آج بھی ہر نئے ورژن میں عربی رسم الخط کے لیے کوئی نئی جدت ضرور موجود ہوتی ہے حتیٰ کہ ایڈوبے ان ڈیزائن میں عربی کے لیے ایک خصوصی سافٹ ویئر تصمیم کے نام سے جاری کیا گیا جس نے عربی خطاطی کو جدید دنیا میں اک نیا مقام عطا کیا۔ اس کے علاوہ مائیکروسافٹ اپنے مشہور زمانہ آپریٹنگ سسٹم ونڈوز کے ہر نئے ورژن کے ساتھ ایک عربی ورژن جاری کرتا ہے۔ اس نے مستقبل قریب کے آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 8 کے لیے 'اردو ٹائپ سیٹنگ' کے نام سے ڈیفالٹ نستعلیق فونٹ تک تیار کر لیا ہے۔ دنیا کے بیشتر کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور موبائل فون ساز ادارے مشرق وسطیٰ کی مارکیٹ کے لیے خصوصی طور پر تیار شدہ مصنوعات پیش کرتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ متحدہ عرب امارات سے پاکستان درآمد ہو کر آنے والے لیپ ٹاپس پر ABC کے ساتھ عربی ا ب ت بھی لکھی ہوتی ہے۔

پھر اگر جائزہ لیا جائے کہ رومن اردو کے خواہشمند افراد نے اب تک کیا کوششیں کی ہیں تو ہمیں کوئی ایسی اچھی صورتحال نظر نہیں آتی۔ بالکل ایسی ہی کوششیں بھارت میں ہندی کے لیے بھی کی گئیں۔ لیکن تمام تر مدد کے باوجود یہ سب سعی لاحاصل نظر آ رہا ہے۔ آج اگر صرف کمپیوٹر و انٹرنیٹ کی دنیا ہی کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں وہی ویب سائٹس کامیاب ہیں جو اردو رسم الخط میں مواد پیش کرتی ہیں اور بھارت میں بھی وہی جو دیوناگری رسم الخط میں ہیں۔ کوئی ایک ویب سائٹ یا منصوبہ بتا دیں جس نے رومن رسم الخط میں اردو یا ہندی کو پیش کیا ہو اور کامیابی سمیٹی ہو اور اصلی رسم الخط کی حامل ویب سائٹس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہو۔ دراصل، رومن رسم الخط برصغیر کے لیے بالکل alien ہے، اس کی ہماری تاریخ میں کوئی بنیاد ہی نہیں ہے اور اس کو مسلط کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ پاک و ہند کے باشندوں کو اس عظیم ورثے سے محروم کر دیں جو گزشتہ چند صدیوں کے عروج و زوال کے نتیجے میں ہمیں ملا ہے۔

اگر ہمیں اپنے مشترکہ ورثے یعنی اردو کو بچانا ہے تو اس کی موجودہ صورت کو بہتر بنانا ہوگا۔ اردو کی ترقی کے لیے ابھی بہت کام کیا جانا باقی ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم اس کی موجودہ شکل و صورت کو خوبصورت بنائیں نا کہ پلاسٹک سرجری کر کے اس کا حلیہ بگاڑیں۔ پھر دنیا کی وہ کون سی بدبخت ترین قوم ہوگی جسے دنیا کا خوبصورت ترین خط "نستعلیق" ملا ہو اور وہ اس سے جان چھڑائے؟

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

45 تبصرے

  1. زین says:

    ایک شاندار تحریر 🙂
    فہد بھائی۔ یہ تحریر اشاعتی اداروں کو بھی ای میل کیجئے ۔

  2. معاف کیجئے گا.

    آپ کے سب دلائل اپنی جگہ پر درست ہیں، مگر کیا کیجئے کہ مجھے اپنے آس پاس کافی عرصے سے ارنگلش جیس زبان نظر آ رہی ہے. میں نے ماضی قریب میں کافی سفر کیا ہے اور جہاں پہ بھی گیا، وہاں نجی شعبے میں چلنے والے سکولوں کے نام انگریزی اصطلاحات سے مزین دیکھے. لائٹ ہاؤس پبلک سکول ایک عام سا نام ہے. ہماری زبان کی عام اصطلاحات اکثر انگریزی اردوائی صورت میں ہوتی ہیں.

    الحمد کریانہ اینڈ جنرل مرچنٹس جب کسی دکان پہ لکھا ہو تو کیا آپ کو اس میں اردو نظر آئے گی یا انگلش؟ بہت عرصہ ہو سپر ہائی وے پر سفر نہیں کیا میں نے، مگر آخری مرتبہ جب سفر کیا تو دیکھا کہ حد رفتار، اپنی لین میں رہنے اور اس طرح کے دوسرے تمام مشورے مکمل انگریزی میں لکھے گئے تھے. لانگ روٹ پر چلنے والی گاڑیوں کے اکثر ڈرائیور اردو تک ٹھیک نہیں پڑھ سکتے، ان انگریزی میں لکھی گئی ہدایات کو کیا سمجھیں گے.

    ہمارے شہروں میں سڑک کے درمیاں لگے ہوئے تقریبا تمام بورڈ انگریزی میں ہیں. حتی کہ حسن ابدال میں تو ایک عدد بورڈ ایسا ہے کہ جس پر روسی زبان میں بھی لکھا گیا ہے. نہیں لکھا گیا تو اردو میں نہیں لکھا گیا.
    میں کافی عرصے سے سوچ رہا تھا کہ ان سب اصطلاحات کی ایک عدد تصویر لے کر اپنے بلاگ پر اردو دانی کا مرثیہ لکھوں، مگر نہ کر سکا.

    ہم عام زندگی میں تقریبا انگریزی ہی بولتے ہیں، فرق یہ ہے کہ جس طرح ایغور اپنی زبان عربی رسم الخط میں لکھتے ہیں، ہم انگریزی اپنے رسم الخط میں لکھتے ہیں.

    جناب ان سب چیزوں کو درست کیا جانا چاہئے اور اس کے بعد ہی آپ کے دلائل کار آمد ثابت ہوں گے. میں نے اپنے شہر میں جتنے بھی نئے کاروباروں کو شروع ہوتے دیکھا، سب کے نام انگریزی میں ہیں، کوئی ایک اردو میں چلنے والا نام ہوگا؟ جنید جمشید کے برانڈ کے علاوہ جو جے جے استعمال کرتا ہے، جیم جیم نہیں؟؟

    ہم غلطی کر تو رہے ہیں اور یہ کسی ایک جگہ پہ نہیں، بہت سی جگہوں پہ ہے. اس سب کو نشان زد کرنا بہت ضروری ہے. اس کے علاوہ اردو کا مرثیہ، نوحہ یا مقدمہ پیش کرنا سعی لاحاصل ہی ثابت ہو سکتا ہے.

  3. کافی پرمغز تحریر ہے۔

  4. بہت خوب۔ میرا امارات کا تین چار مرتبہ جو چکر لگا تو اس میں سب سے زیادہ جو قابل تحسین بات لگی وہ عربوں کا اپنی ثقافت اور زبان کو جدت دینا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ امارات میں کوئی بھی کاروبار عوامی معلومات کے بورڈ پر صرف انگریزی نہیں لکھوا سکتا۔ لیکن صرف عربی لکھی جا سکتی ہے ورنہ عربی اور انگریزی دونوں لازمی ہیں اور مخصوص قسم کے فانٹ استعمال بھی کرنا لازمی ہے۔ پاکستان میں بھی شاید زبان پر کافی کام ہوتا مگر دراصل زبان کی نہ عزت کی گئی اور نہ اس میں سے کسی بھی زبان کی حوصلہ افضائی۔۔

  5. شیرازی says:

    بے شک - مزا ٰ گیا -

  6. جاپان میں جب ہمیں جاپانی پڑھنی نہیں آتی تھی۔
    تو حقارت اور طنز سے کہتے تھے یہ جاپانی جاہل اتنی ترقی کر گئے لیکن معلوماتی بورڈ انگلش میں ان سے لکھے نہیں جاتے۔
    جاپانی یونیورسٹی سے فارغ ا لتعلیم ہونے والا انگلش لکھ پڑھ لے گا لیکن بولے گا تو چارلی چپلن کی کاپی لگے گا۔
    کسی جاپانی کی زبان سے آج تک نہیں سنا کہ اسکا ملک یا اس کی زبان اسے پسند نہیں ۔
    جاپان کے کسی بھی سرکاری دفتر میں چلے جائیں،تمام کاغذی کاروائی جاپانی میں کرنی پڑتی ہے،
    ان دنوں صرف غیر ملکیوں کیلئے انگلش کی “درخواستیں“ میسر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
    لاکھوں میں سے کوئی ایک عدد جاپانی مستقل طور پر باہر ملک جا کر رہنے کی سوچتا ہے۔۔
    لیکن جاپانی زبان میں کتابیں نا ملنے کے “خوف“ کا اظہار ضرور کرتا ہے۔
    پاکستان میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پختون ، پنجابی ، سندھی ، بلوچی ، مہاجر ، سرائیکی ، ہزاروال ، نا جانے کون کون بستے ہیں۔۔
    جس دن سرکار پاکستانی ہو جائے گی۔ جس دن یہ ڈنگروں کا ہجوم قوم بن جائے گا۔
    پھر ہمیں اردو کی حفاظت کی پریشانی نہیں رہے گی۔
    کسی سرکاری آفس میں چلیں جائیں تو گلابی انگریزوں سے پالا پڑتا ہے۔

  7. جاپان میں جب ہمیں جاپانی پڑھنی نہیں آتی تھی۔
    تو حقارت اور طنز سے کہتے تھے یہ جاپانی جاہل اتنی ترقی کر گئے لیکن معلوماتی بورڈ انگلش میں ان سے لکھے نہیں جاتے۔
    جاپانی یونیورسٹی سے فارغ ا لتعلیم ہونے والا انگلش لکھ پڑھ لے گا لیکن بولے گا تو چارلی چپلن کی کاپی لگے گا۔
    کسی جاپانی کی زبان سے آج تک نہیں سنا کہ اسکا ملک یا اس کی زبان اسے پسند نہیں ۔
    جاپان کے کسی بھی سرکاری دفتر میں چلے جائیں،تمام کاغذی کاروائی جاپانی میں کرنی پڑتی ہے،
    ان دنوں صرف غیر ملکیوں کیلئے انگلش کی “درخواستیں“ میسر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
    لاکھوں میں سے کوئی ایک عدد جاپانی مستقل طور پر باہر ملک جا کر رہنے کی سوچتا ہے۔۔
    لیکن جاپانی زبان میں کتابیں نا ملنے کے “خوف“ کا اظہار ضرور کرتا ہے۔
    پاکستان میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پختون ، پنجابی ، سندھی ، بلوچی ، مہاجر ، سرائیکی ، ہزاروال ، نا جانے کون کون بستے ہیں۔۔
    جس دن سرکار پاکستانی ہو جائے گی۔ جس دن یہ ڈنگروں کا ہجوم قوم بن جائے گا۔
    پھر ہمیں اردو کی حفاظت کی پریشانی نہیں رہے گی۔

  8. اردو کو رومن حرفوں میں لکھنے کی خواہش کرنے والے لوگ ۔ ہندوستان کے لوگ ہوں گے اور اصل میں یہ چاہتے ہوں گے کہ
    ان کو بھی اردو میں لکھی جانے والی تحاریر پڑہنے کا موقع ملے
    لیکن اردو کو رومن میں کردینا مسئلے کا حل نہیں ہے
    بلکہ یہ خود ایک بڑا مسئلہ ہے
    ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی سوفٹ وئر ہو جو ہندی اور گرومکھی کو اردو اور شاہ مکھی میں تبدیل کردے
    یا اس کے متضاد!!

    उर्दू को रोमन अक्षरों में लिखने की इच्छा करने वाले लोग. भारतीय लोग होंगे और वास्तव में यह चाहते होंगे कि
    उनको भी उर्दू में लिखी जाने वाली ्षारीर पड़हने का मौका मिले
    लेकिन उर्दू को रोमन में देना समस्या का समाधान नहीं है
    बल्कि यह खुद एक बड़ी समस्या है
    हां यह हो सकता है कि सॉफ्टवेयर ोयर जो हिन्दी और गरोमखे को उर्दू और शाह मक्खी में तब्दील कर
    या परस्पर विरोधी!!

  9. ظہیر اشرف says:

    چند جزوی باتوں سے اختلاف مگر مقدمہ کے دلائل مضبوط ، حقیقی اور جامع ہیں . عربی رسم الخط سے چڑنا ، عربی کو( کم از کم پرائمری سطح تک) لازمی زبان قرار دینے کی مخالفت کرنا ، پاکستان میں بولی جانے والی دیگر زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کی مخالفت ، اور قومی رابطے کی زبان اردو کی ترقی و بہتری میں روڑے اٹکانے والے نام نہاد اردو چیمپئنز عملا ایک دوسرے کے ساتھی ہیں. پہلے ہی ہم اس خطے میں اردو کو اسلامی زبان قرار دے کر اس کا خاصا نقصان کر چکے ہیں.

  10. بہت خوب جی۔ زبردست تحریر ہے اور بڑے بہتر انداز میں بات سمجھائی گئی ہے۔
    یہ موضوع تو عالمی اردو کانفرنس میں بھی زیربحث آ چکا ہے، ساتھ ساتھ کئی اہم شخصیات بھی اس تبدیلی کے حق میں بول چکی ہیں۔
    مجھے حیرانگی ان لوگوں پر ہوتی ہے جو یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ ٹیکنالوجی میں انگریزی لکھنا و پڑھنا آسان ہے اس لئے اردو کا رسم الخط رومن کر دینا چاہئے۔ بڑی عجب بات ہے کہ ان لوگوں کو یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ فرق صرف یہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی وہ لوگ تیار کر رہے ہیں جن کی زبان انگریزی ہے، ظاہر ہے وہ لوگ اپنی زبان کی سہولت سب سے پہلے رکھیں گے۔ اگر ان کی زبان اردو ہوتی اور ہماری انگریزی ہوتی تو پھر اس جدید ٹیکنالوجی میں اردو لکھنا ہی آسان ہوتا اور ہم نے اردو رسم الخط کے پیچھے دوڑ لگائی ہونی تھی۔ بس جی فرق صرف ترقی کا ہے۔ جو قوم ترقی کرے گی اس کی زبان خودبخود غالب آ جائے گی۔ ہاں یہ بات بھی درست ہے اور تاریخ اس کی گواہ ہے کہ اپنی زبان کو اپنانے سے ترقی کی منازل نہایت آسان ہو جاتی ہیں۔

  11. ایک بہترین تحریر

  12. جناب آپ نے بہت اچھے طریقے سے بیان کیا ہے۔ یہ شوشا ہر کچھ عرصے بعد چھوڑا جاتا ہے حالانکہ اردو میں اتنی آوازیں ہیں جو لاطینی حروف تہجی میں موجود نہیں ہیں پھر بھی اس پر اصرار بذات خود ایک اسرار ہے۔ اس کی ایک سنجیدہ کوشش اردو پوئٹری ڈاٹ کام کی صورت میں موجود ہے جہاں اچھے اچھے اردو پڑھنے والے اشعار کو کشش ثقل سے آزاد کردیتے ہیں کیونکہ اردو کی زائد آوازوں کے لیے مرکب الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے یا پھر ڈاٹ لگا کر غنہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے جو بہت پیچیدہ ہے۔
    بھئی ہماری زبان تو اسی رسم الخط میں ہے جس کو پڑھنا ہے اسی میں پڑھے 🙂

    ڈاکٹر صاحب کا مشاہدہ اور اعتراض بالکل بجا ہے لیکن یہ بھی اردو کی ایک خاصیت ہے کہ وہ دوسری زبانوں کے الفاظ اسطرح سمو لیتی ہے کہ جنید کاپی کارنر اور جمشید جوس ہاؤس اردو ہی معلوم ہوتے ہیں اور ہر اردو پڑھنے والا جانتا ہے کہ دستاویزات کی نقل کہاں سے تیار کروانی ہے اور پھلوں کا رس کدھر دستیاب ہوگا 🙂

  13. زبردست تحریر
    میرا خیال ہے کہ اس کام میں حکومت براہ راست ملوث ہے۔ پہلے تو انہوں نے درسی کتب سے اُردو کے الفاظ ختم کرنا شروع کیے۔ جیسے ہم کیمیا کی کتاب پڑھتے رہے اب کیمسٹری ہی ملتی ہے۔ پھر ساتھ میں انہوں نے انگریزی لاطینی رسم الخط میں لکھنا شروع کر دی۔ اب وہ اُردو میڈیم کو ہی ختم کرنا چاہتی ہے۔ دوسری اور سب سے بڑی وجہ ایس ایم ایس ہے جو شروع شروع میں تو موبائلز میں اُردو کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے رومن اپنانے کا باعث بنے اب رومن لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔چاہے موبائل میں سہولت ہو یا نہ ہو۔

  14. دوست says:

    تین چار باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔
    1۔ کوئی بھی رسم الخط برتر یا کمتر نہیں ہوتا۔ ہر کسی میں کچھ وراثتی خامیاں ہوتی ہیں۔ عربی نژاد رسوم الخط میں واؤل لکھنا اضافی مشقت سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے آج ہم دیکھیں تو اردو الفاظ کا تلفظ زیر زبر پیش نہ لکھنے کے چلن کی وجہ سے بگڑ گیا ہے۔ یہی بات لاطینی رسم الخط کے لیے کہی جا سکتی ہے جس کے اپنے مسائل ہیں، مثلاً متعلقہ آوازوں کے لیے حروف کا نہ ہونا۔ اگرچہ حروف دوسری لاطینی زبانوں سے مستعار لیے جا سکتے ہیں یا نقطے ڈال کر بنائے جا سکتے ہیں تاہم بات وہیں آ جاتی ہے کہ اتنے بڑے ذخیرہ علم کو منتقل کرنا ناممکنات کے قریب ہی ہے۔
    2۔ ٹیکنالوجی آنے سے اردو رسم الخط کے استعمال میں دھڑا دھڑ اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف چھ سال قبل تک اردو لکھنا محال سمجھا جاتا تھا آج ہمارے پاس ایک پوری کھیپ ہے جو اردو لکھتی ہے اور اردو پڑھتی ہے۔ اسی طرح یہ مزید پھیلے گا۔ موبائل پر رومن کی بات ایک اور طرز میں بیان کرنا چاہوں گا۔ ایس ایم ایس کی اپنی زبان ہے، جس کے لیے کم ترین سپیس چاہیے ہوتی ہے، وہاں اردو کی سہولت نہیں بھی تھی (ٹی نائن سسٹم پر اردو لکھنا انگریزی کی نسبت زیادہ دشوار ہے، وجہ زیادہ حروف تہجی) تو لوگوں نے رومن میں لکھنا شروع کر دیا۔ لیکن وہ صرف ایک ڈومین ہے۔ (جگہ، موضوع اور مخاطب کے مجموعے کو ڈومین کہتے ہیں)۔ لیکن اور ڈومین دیکھیں تو کمپیوٹر کا ڈومین ہے، ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون ہیں۔ وہاں جگہ کی پابندی نہیں، مکمل کی بورڈ دستیاب ہیں اور لوگ اردو لکھنے کی طرف مائل ہوں گے بھی انشاءاللہ۔ چناچہ ویب پر ایک محدود طبقے کے ہاتھوں رومن اردو لکھے جانے یا فون پر رومن اردو لکھے جانے پر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اردو کا رسم الخط ہی خطرے میں پڑ گیا، پرانا ہو گیا ہے بدل دو۔ زبان کوئی ایک چٹان سے تراشی ہوئی عمارت کا نام نہیں، زبان بہت سی چھوٹی 'زبانوں' کے مجموعے کا نام ہوتا ہے جنہیں ہم اصطلاحاً ورائٹیز کہتے ہیں۔ چناچہ رومن میں لکھی جانے والی اردو بھی اردو کی ذرا مارجنل قسم کی ورائٹیاں سمجھ لیں۔ مرکزی دھارے کی اردو وہی ہے جو یہاں لکھی اور پڑھی جا رہی ہے۔ یہ سائیڈ لائن کیس ہمیشہ ساتھ رہیں گے، اقلیت کو مار تو نہیں سکتے اب۔ لیکن عموماً اکثریت پر نظر رکھی جاتی ہے۔
    3۔ اردو میں انگریزی ناموں کو مستعار لینے کا عمل ایک اور طرف چلا جاتا ہے۔ زندہ زبانیں ایک دوسرے سے استفادہ کرتی ہیں۔ انگریزی عالمی زبان ہے اور یہ اردو کو ہی نہیں دنیا کی ہر زبان کو متاثر کرتی ہے۔ ہمارے نو آبادیاتی ماضی کی وجہ سے یہاں اس کا اثر کچھ زیادہ ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ لفظ چاہے زبانِ غیر کا ہو، اسے آواز و تحریر کا جو جامہ پہنایا جاتا ہے وہ اپنی زبان سے ہی لیا جاتا ہے۔ پنجابی کے ایک لفظ کی مثال دے کر بات ختم کرنا چاہوں گا۔ ہم ویلا (وقت) کی جگہ ٹےم (ٹائم) استعمال کرتے ہیں۔ لیکن آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انگریزی کے Time کو پنجابیوں نے کیا بنا دیا، اگرچہ یہ کبھی انگریزی تھا اب یہ پنجابی کے ذخیرہ الفاظ کا حصہ ہے۔ چناچہ اگر الفاظ درآمد ہو رہے ہیں تو پریشان نہ ہوں۔ اردو آج سے سو سال پہلے بھی غیر زبانوں سے الفاظ لیتی تھی آج بھی لے رہی ہے۔ تب فارسی عربی سے آتے تھے تو 'محسوس' نہیں ہوتے تھے، آج ذرا زیادہ درد اٹھ جاتا ہے، کچھ روایتی طعنہ زنی اور اردو کے رونے رونے کا ایک ٹرینڈ ہے جس میں یہ ڈسکورس لازمی ڈالا جاتا ہے کہ اردو تے ماری گئی لُٹی گئی۔ حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اردو ترقی پذیر ہے اور بہت ترقی کرے گی بھی۔
    4۔ ہمیں زبانوں کی پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ سندھ کے قوم پرستوں نے شناختی کارڈ سندھی میں بنوا لیے، وہاں اسکول سندھی میڈیم بھی چلتے ہیں، یہی حالات خیبر والوں کے بھی ہیں۔ رہ گئے پنجابی، ہزارہ اور بلوچ وغیرہ ان کی زبانیں بس بولیاں رہ گئیں۔ پاکستان میں علاقائی زبانوں کو بھی سرکاری سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ان کے فروغ اور ترقی کے لیے کوششیں ہونی چاہئیں۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ایک زبان بطور اختیاری مضمون رکھی جا سکتی ہے، اس میں ایم اے اور پی ایچ ڈی ہو سکتی ہے لیکن بنیادی سطح پر اس کا ایک بھی قاعدہ نہیں لگایا جاتا۔ پنجابی ہو یا سرائیکی، ہر کسی کا یہی المیہ ہے۔ ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ ہم کثیر السان ہیں۔ اور کثیر السان ہونے کے تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے۔ ریت میں سر دینے سے کچھ نہیں ہو گا۔ پالیسی سازی وقت کی ضرورت ہے، کاش ہمارے حکمران یہ بات سمجھ جائیں اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے۔ کیونکہ زبان آج کی دنیا میں شناخت کا بہت بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ اور زبان بیک ورڈ کا مطلب ہے کہ وہ قومیت بیک ورڈ ہے، جس کا نتیجہ پھر اردو بنگالی تنازعے کی صورت میں نکلا کرتا ہے۔
    وسلام

  15. دوست صاحب کی یہ بات بجا ہے کہ زندہ زبانیں ایک دوسرے سے استفادہ کرتی ہیں اردو آج سے سو سال پہلے بھی غیر زبانوں سے الفاظ لیتی تھی آج بھی لے رہی ہے.
    ایک وقت تھا کہ عربی کا دور دورہ تھا. آپ کو انگریزی کے کئی الفاظ ایسے ملیں گے جو عربی سے آئے یا لائے گئے.اسی طرح انگریزی کے الفاظ اردو میں اس لئے آتے ہیں کہ آجکل ٹیکنالوجی کی زبان انگریزی ہے جس طرح م بلال م نے کہا.
    اردو ویسے بھی کسی کی جاگیر نہیں ہے . یہ زبان ایک ارتقائی عمل کے ذریعےوجود میں آئی ہے.اور ارتقا کا یہ عمل اب بھی جاری ہے. انگریز ہمارے ساتھ رہا کئی الفاظ لے گیا اور کئی دے گیا. محض رسم الخط تبدیل کرنا ایک بے بنیاد اور مضحکہ خیز بات ہے. جو لوگ اردو کی کوئی خدمت کرنے سے قاصر ہیں وہ ایسی بے تُکی باتیں کرتے رہتے ہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ جدید سائنسی اصطلاحات کو اردو سے اس طرح ہم آہنگ کیا جائے کہ ایک عام اردو کا قاری سائنس کو جب پڑھے تو اس کے مغز میں کوئی بات تو بیٹھے جب ساری اصطلاحات انگلش میں ہوں گی تو سائنس صرف ان لوگوں کی جاگیر بن جائے گی جو رویتئ طریقے سے سکول کالج یونی ورسٹی کا سفر ظے کرتے ہیں اور ایک عام شہری سائنس کو جن ومجھ کر ڈرتا ہی رہے گا

  16. آپ نے ماشاء اللہ بہت اچھا لکھا ہے ۔ کچھ تبصرے بھی موزوں ہیں ۔ میں اپنی کم علمی کے باوجود چند تجربات پیش کروں گا
    1 ۔ لاطینی زبان عصرِ حاضر میں مفقود ہو چکی ہے اور اسے سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے سنسکرت کو سمجھنا لیکن بنیاد اگر لاطینی رسم الخط کی ہو تو اس میں عربی کا ہی اسلوب تھا اور اعراب بھی تھے ۔ اس کی تبدیل شدہ شکل جرمن زبان ہے جس میں عربی کی طرح فاعل کے ساتھ فعل کی ہیئت بھی بدل جاتی ہے اور ابھی تک چند نقطے یعنی اُملاؤٹ وغیرہ استعمال ہوتے ہیں ۔ ہمارے ہاں انگریزی رسم اخط کا چند لوگوں کے پیٹ میں کبھی کبھی بل پڑتا ہے
    2 ۔ عربی زبان میں الفاظ کا جتنا ذخیرہ ہے اتنا موجودہ کسی زبان میں نہیں چنانچہ عربی رسم الخط اپنانے سے اس تھوڑا فائدہ تو ضرور ہوتا ہے ۔ اعراب کا ذکر ہوا تو عربی زبان میں عام لوگ اعراب استعمال نہیں کرتے اور نہ ہی عام کُتب میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن شریف میں اعراب کا خیال اسلئے رکھا جاتا ہے کہ اسے وہ لوگ بھی پڑھتے ہیں جو عربی کے ماہر نہیں ہیں یا جن کی مادری زبان عربی نہیں ہے ۔ میرے پاس قرآن شریف کا مصر میں چھپا ہوا نسخہ موجود ہے جس میں اعراب نہیں ہیں ۔ یہ میری والدہ کی نشانی ہے وہ پڑھا کرتی تھیں
    3 ۔ اردو کو انگریزی رسم الخط میں لکھنے کا مطالبہ کرنے والے کچھ جاہل ہیں اور باقی کم علم ۔ اُن پر تو یہ مثال صادق آتی ہے "واہ بھئی واہ انگریزوں کی ترقی کی کیا بات ہے اُن کا بچہ بچہ انگریزی بولتا ہے ۔ حالت یہ ہے کہ ہمارے ساتھ گیارہویں میں 5 لڑکے انگریزی سکول جس میں اردو بالکل پڑھائی نہیں جاتی تھی سے آ کر داخل ہوئے تھے ۔ جب بارہویں کا سالانہ امتحان ہوا تو ان میں سے 4 یعنی 80 فیصد انگریزی میں فیل ہو گئے تھے ۔ اُردو میں پڑھ کے آنے والوں میں سے صرف 10 فیصد انگریزی میں فیل ہوئے تھے ۔ چنانچہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے
    4 ۔ مسئلہ دراصل یہ ہے کہ پاکستان بننے سے قبل انگریزوں کی حکومت تھی اسلئے انگریزی میں لکھی گئی کتب کا ترجمہ اُردو میں نہ ہوا اور پاکستان بننے کے صرف 13 ماہ بعد انگریزوں کا ذہنی غلام گورنر جنرل بن گیا جس نے پہلی جمہوری حکومت کی بساط بھی بعد میں لپیٹ دی تھی تاکہ پاکستان کا جمہوری آئین نہ بن سکے ۔ اس کے بعد انگریزوں کا ایک اور ذہنی غلام گورنر جنرل اور پھر صدر بن گیا ۔ اُس نے حالات کو اپنی گرفت میں رکھنے کیلئے جرنیل کو حکومت دے دی ۔ نتیجہ کہ تعلیم کی طرف توجہ نہ دی گئی کہ کہیں عوام پڑھ لکھ کر قابو سے باہر نہ ہو جائیں ۔ اور تراجم جو کسی بھی قوم کی تعلیمی اساس بنتے ہیں میسّر نہ ہو سکے ۔ اس کے بر عکس عربی میں تراجم موجود ہیں اور ترجمہ کرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے
    5 ۔ دراصل اردو کو انگریزی رسم الخط میں لکھنے کا کہنے والے احساسِ کمتری میں مبتلاء ہیں

  17. ام عروبہ says:

    السلام علیکم
    سخت نالائق اور عاقبت نا اندیش لوگ ہیں وہ جو اردو کے عربی رسم الخط کو لاطینی یا رومن سے بدلنا چاہتے ہیں-
    اور ویسے بھی اب تو اسلام کے غلبے کا وقت آن لگا ہے، اب تو ہر طرف عربی اور اردو کا ہی طوطی بولے گا انشاءاللہ-

    • دوست says:

      معذرت کے ساتھ. اسلام کو کسی زبان کا محتاج نہ کریں. انگریزی بھی اتنی ہی اسلام زبان ہے جتنی عربی یا اردو. قرآن اور سنت نبوی ﷺ میں یہ کہیں بھی نہیں لکھا کہ اسلام کی زبان کونسی ہے. اسلام کی زبان ہر وہ زبان ہے جو مسلمان بولتے ہیں. الحمداللہ بے شمار انگریز بھی مسلمان ہیں اور ان کی زبان سے بھی ہمیں اتنی ہی محبت ہے جتنی اپنی زبان سے ہے. آپ براہ کرم خالصتاً غیر مذہبی معاملے میں مذہب کا تڑکہ نہ لگائیں.

  18. ام عروبہ says:

    معزرت کیساتھ
    اگر انگریزی بھی اتنی ہی اسلامی زبان ہے تو آ پ اپنی نماز انگریزی میں پڑھ لیا کریں- کیا انگلش میں قرآن پڑھنے سے بھی ہر حرف کی دس نیکیاں ملتی ہیں؟ عربی کی تو ملتی ہیں-

    اسلام کی زبان اور مسلمان کی زبان میں فرق ہے- اسلام کی زبان عربی ہے اور مسلمان کی ہر وہ زبان ہے جو وہ بولتا ہے-
    مسلمان ہر زبان سیکھ اور بول سکتا ہے کیونکہ علم اسکی میراث ہے اور اسکاحاصل کرنا اس پر فرض ہے-
    مگر عربی کو فوقیت اسلئے حاصل ہے کہ یہ قرآن کی زبان ہے اور اللہ نے اسکو چنا ہے -

  19. دوست says:

    سوا ارب مسلمانوں میں سے عربوں کے سوا عربی سمجھنے والے کتنے؟؟؟
    اللہ نے کہاں کہا کہ مسلمانوں سارے عربی سیکھ کے عرب ہو جاؤ؟؟؟ مسلمان ہو جانے کا تو اس نے بارہا کہا ہے، عرب ہو جانے کا اگر کہا ہو تو ارشاد فرمائیے گا۔ ہاں اس کے نبی ﷺ نے یہ ضرور کہا تھا کہ جس نے دشمن کی زبان سیکھ لی وہ اس کے شر سے محفوظ ہو گیا۔
    مبصرین بحث میں پڑ جائیں تو اصل تحریر کا مزہ کرکرہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہیں اپنے جوابات کو بریک لگاؤں گا۔ آخری بات کہ ہمارا اسلام عربی کا محتاج نہیں ہے، اور ہمارا رسول ﷺ سارے جہان کا رسول جس میں ساڑھے چھ ہزار بولیاں بولنے والے ہیں۔ اور ہمارا رب پنجابی سندھی میں بھی دعا سنتا ہے۔ اور ہم قرآن پڑھتے اور سنتے عربی میں ہیں، سمجھتے اردو اور پنجابی میں ہیں۔
    وما علینا الا البلاغ

    • حیرت says:

      دوست صاحب سے مکمل اتفاق! زبان الگ چیز ہے مذہب الگ، ہر زبان قابلِ احترام ہے! ایک دوسرے کی زبانوں، تہذیبوں نظریات اور عقائد کا احترام کریں، ایسے لسانی مباحث میں مذاہب کو نہ گھسیٹا جائے تو بہتر ہے، کسی عقیدے کے حوالے سے غلبے کی باتیں کرنا اور دنیا پر چھانے کی تمنا رکھنا انتہائی نامناسب ہے، اس دنیا کی خوبصورتی اسکی رنگا رنگی میں ہے۔ اپنے آپ سے ضرور محبت کریں لیکن دوسرے سے نفرت کرنا اچھا نہیں!

  20. بہت خوب تحریر برادرم ابو شامل اور اعلی تبصرہ جات؛ کیونکہ ہمارا بھی اس بارے میں وہی موقف ہے جو کہ صاحب تحریر اور بیشتر مبصرین کا ہے لہذا کوئ نئی بات کہنے کو نہیں۔ موجودہ ترکوں کے عربی رسم الخط سے نابلد ہونے اور اپنے ماضی سے نارسائ کی کسک کا میں نے بھی ذاتی مشاہدہ کیا ہے ۔ نیز 'اردشی' رجحانات اور اردو کی دیگر زبانوں کے الفاظ کو سمونے کی صلاحیت کے بارے میں گوپی چند نارنگ کا شفیع نقی جامعی کے ساتھ بی بی سی اردو کے لیے دیا جانے والا حالیہ انٹرویو یقینا سننے سے تعلق رکھتا ہے۔

  21. اسماعیل صدیقی says:

    اردو کی رومنائزیشن کا یہ مطالبہ اور خیال کچھ نیا نہیں ۔ دروغ برگردنِ راوی مگر کہا یہ جاتا ہے کہ صدر ایوب خان کے دل میں بھی اس خواہش نے انگڑائی لی تھی لیکن جب کسی نے ان کی اس طرف نشاندہی کی "صدر ایوب اجمیر گئے" کہ شہہ سرخی کو کوئی "صدر ایوب آج مر گئے" نہ پڑھ بیٹھے تو انہوں نے اپنا یہ خیال ترک کردیا۔

  22. ام عروبہ says:

    السلام علیکم
    @ دوست
    آپ کی باتوں سے تعصب کی بو آتی ہے-
    کیا عربی سیکھ کر ہم عربی بن جاتے ہیں؟ یہ کیسی منطق ہے-

    اللہ نے قرآن عربی میں نازل کر کے عربی کو ہمیشہ کے لئے زندہ و جاوید کر دیا اور اسکو تمام زبانوں پر فوقیت دے دی-آپ کے نا ماننے سے حقیقت نہیں بدلے گی-

    ایک طرف آپ کو کثیر اللسان ہونے کا اعتراف ہے تو دوسری طرف عربی کی اہمیت اور اس کوا پنی زندگی میں داخل کرنے سے انکار-

  23. علی says:

    ہم باز آئے جی اردو کو رومن کرنے سے روم میں تو رہ نہیں رہے جو ویسا کریں جیسے رومن کریں۔

  24. ابوشامل says:

    تمام احباب کا تبصروں پر بہت شکر گزار ہوں جن سے کئی دیگر پہلو بھی سامنے آئے اور چند حقیقتیں بھی منکشف ہوئیں۔ اردو سے اردو بولنے والوں کے سلوک کے موضوع کو پھر کسی وقت کے لیے لٹکا رکھتے ہیں 🙂

  25. انتہائی تاخیر سے حاضری کیلیے معذرت فہد صاحب، زندہ باد آپ نے بہت شاندار اور جاندار تحریر لکھی۔

    میں اب کیا کہوں، بہت کچھ کہا جا چکا ہے سو ایک ڈائیلاگ بولنا چاہوں گا کہ اردو زبان کا رسم الخط ہماری لاشوں پر سے گزر کر ہی بدلا جا سکتا ہے
    🙂

    • ابوشامل says:

      یہ معذرت کے الفاظ استعمال کر کے کیوں شرمندہ کرتے ہیں جناب۔
      آپ کا 'ڈائیلاگ' خوب ہے 🙂

    • منصور نورالدین says:

      وارث بھائی زندہ باد۔ بالکل بجا فرمایا

  26. ھارون اعظم says:

    بہترین تحریر ہے۔ ہمیں ترکی کے تجربات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

  27. rai azlan says:

    Sir ji chaa gaye hain aap. Shayad k un k dil main uter jaaay apni baat. Yeh yabsara roman main karny ki jasaarat kar rha hoon kion k mera phone nehayat jahil hay aor urdu parh sakta hay kikh nahi sakta. Dora e safar aor koi zariya na tha tabsara karny ka to isi nalaiq ko isgamaal karna parha.
    Pesh kiyay gaye dalaail se pass mojood cousin mohtaram ko khasa la jawab kar dia hy jo yaksar angrezi k ijra aor ufrdu ki mazooli ki bast karty hain

    • ابوشامل says:

      بہت شکریہ رائے۔ مجھے خوشی ہے کہ یہ چند دلائل لوگوں کے کام آئے ہیں۔

  28. آپکا انداز تحریر مجھے بہت پسند آیا- الله کرے زور قلم اور زیادہ

  29. کفایت اللہ ہاشمی says:

    السلام علیکم
    آپ کی تحریر جاندار ہے. ایسے مطالبے اٹھانے والے اس کا نقصان نہیں جانتے. ترکی کی مثال یہ لوگ تبدیلئ رسم الخط کے حوالے سے دیتے ہیں جبکہ انھیں معلوم نہیں کہ جب ترکی میں زبان کی تبدیلی کی گئ تو کچھ سالوں بعد آنے والی نسل کے پاس اپنی تاریخ جاننے کا کوئی زریعہ نہیں تھا. مجبوراٰ حکومت نے ایسے ادارے کی داغ بیل ڈالی جس کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ وہ عثمانی ترکی (جو عربی رسم الخظ میں لکھی جاتی تھی) میں موجود تاریخ اور دوسرے موضوعات پر مشتمل مفید کتب کا ترجمہ کریں.
    اب بھی وہاں پر ایسے افراد کا حلقہ قائم ہے جو اپنی پرانی زبان سیکھتے ہیں اور انھیں اس کا شوق ہوتا ہے کہ وہ اپنے پرانے ورثے کو جانیں.
    خدانخواستہ اگر یہاں رسم الخط تبدیل کیا گیا تو جو حکومت اپنے فرائض پانچ سالوں میں پورے نہیں کرتی، جہاں ہر ادارے میں کرپشن اوپر سے نیچے تک ہو، کیا وہ ہمارے لیے تراجم کا "بار گراں " اٹھائیں گے ؟

  30. منصور نورالدین says:

    میں اس بات سے کلی طور پہ متفق ہوں کہ اردو کا رسم لاخط جیسا ہے، ویسا ہی اسے رہنا چاہیئے۔ اسے عمداً رومی رسم الخط میں تبدیل کرنے کی کوشش اردو زبان اور اس کی تاریخ کو مٹانے کے مماثل ہوگی۔ آخ ان حضرات کو کیا مُصیبت پڑی ہے جو انگریزی سے اس درجہ متاثر ہیں کہ ایک بیحد خوبصورت اور وسیع زبان، جس کا زورِ بیان قابل رشک ہے۔

    بخدا، ایسے حضرات کی سرزنش کی جائے اور اُنہیں اپنے ذہن کا فتور پھیلانے سے روکا جائے۔

  31. منصور نورالدین says:

    میں اس بات سے کلی طور پہ متفق ہوں کہ اردو کا رسم لاخط جیسا ہے، ویسا ہی اسے رہنا چاہیئے۔ اسے عمداً رومی رسم الخط میں تبدیل کرنے کی کوشش اردو زبان اور اس کی تاریخ کو مٹانے کے مماثل ہوگی۔ آخر ان حضرات کو کیا مُصیبت پڑی ہے جو انگریزی سے اس درجہ متاثر ہیں کہ ایک بیحد خوبصورت اور وسیع زبان، جس کا زورِ بیان قابل رشک ہے مٹانے کے درپے ہیں۔
    اس سے زیادہ بیہودہ مطالبہ، ایک زبان کی نسبت شاید ہی کسی نے کیا ہو۔

    بخدا، ایسے حضرات کی سرزنش کی جائے اور اُنہیں اپنے ذہن کا فتور پھیلانے سے روکا جائے۔

  32. تلمیذ says:

    فہد صاحب نے ایک اہم موصوع پر قلم اٹھایا ہے اور خاصا پُر مغز مقالہ تحریر کیا ہے ، اہل علم احباب کے معلومات سے بھر پور تبصرہ جات اس پر مستزاد ہیں۔ مجھے اس کے بارے میں اردو محفل سے پتہ چلا ہے۔ میری اس تحریر کو اگر رسم الخط تبدیل کرنے کی تجویز کی حمایت نہ سمجھا جائے تو عرض کروں گا کہ رسوم الخط میں تبدیلی اتنے مختصر عرصے میں نہیں آیا کرتی اور عوامی سطح پر اس کے اپنانے اور رائج ہونے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں کیونکہ اس کا تعلق بے شمار عوامل سے ہوتا ہے جن میں سے چند کا ذکر احباب نے کیا ہے مثلاً، بنیادی ادبی ذخیرے کو نئے رسم الخط میں تبدیل/ترجمہ کرنا۔ چنانچہ رومن رسم الخط کی بات کرنے والوں کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جانا بھی امستحسن نہیں ہے۔ میں اس سلسلے میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اردو سے قطعی نابلد لوگ جیسے دوسری زبانیں بولنے والے غیر ملکی یا دیگر ممالک میں جا بسنے والے پاکستانیوں کی اولاد جو اردو سےبالکل شناسائی نہیں رکھتی، اردو بولنا، (اردو رسم الخط میں) لکھنا اور پڑھنا سیکھنے میں اگر رومن اردو کی مدد لیتی ہے تو یہ کوئی اتنی خطر ناک بات بھی نہیں جس سے خدا نخواستہ ہمارے نستعلیق یا نسخ کےرفتہ رفتہ معدوم ہو جانے کا اندیشہ ہو۔ اس کے لئے میں تقسیم سے پہلے برصغیر میں رہنے والے ان بیسیوں انگریزوں کی مثال دوں گا جنہوں نے فوج اور دیگر شعبوں میں ملازمت کے دوران رومن اردو کے استعمال سے اردو سیکھی فوج میں تو انگریزوں کے ساتھ بات چیت میں روانی و آسانی کے لئے مقامی لوگوں کو رومن اردو کے باقاعدہ کورس کروائے جاتے تھے ۔ مغرب میں تو اردو سکھانے کے لئے اب بھی غالباً اس سے مدد لی جاتی ہوگی۔ ہندی کی مثال ہی لے لیں جس کو سکھانے کے لئے بھی کئی جگہ اس طریقے سے مدد لی جاتی ہے۔ لہذا (مذکورہ بالا افراد کو) اردو سکھلائی کےمقصد سے رومن اردو کے اس جزوی استعمال میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ایس ایم ایس وغیرہ کے لئے تو یہ پہلے ہی سے مروج و مقبول ہے۔

    • منصور نورالدین says:

      حضرت تلمیذ، میں آپ کی رائے سے قطعی غیر متفق ہوں. چاہے ایسی تبدیلی کتنے ہی عشروں میں آئے، قابلِ قبول نہیں. اس کی ہر قیمت پر اور ہر سطح پر حوصلہ شکنی کرنی ازحد ضروری ہے. ایسا نہ کرنا، اردو کے قتلِ عمد کے مترادف ہے.

      جہاں تک ترجمہ اور نئے الفاظ ڈھالنے کا تعلق ہے، وہاں قومی کاہلی ناقابلِ معافی ہے. ابتداء پاکستان میں مولوی عبدالحق نے اس سلسلے میں اردو کی بہت خدمت کی ہے. حیدرآباد دکن کے نظام نے بھی اپنے وقت میں یہ کام کیا ہے.

      ایسے میں رومن اردو کا بہانہ صرف کاہلی، کام چوری اور قومی تنزلی کا نامعقول استعمال ہے.

      مجھے روسی زبان پر دسترس ہے اور میں نے خاص طور پر روسی حروفِ تہجی سیکھے تاکہ میں زبان کی اصل چاشنی سے آگاہ ہوسکوں. مجھے آج تک کوئی ایسا روسی مصنف نہیں ملا جس نے روسی حروفِ تہجی ترک کرنے کی بات کی ہو.

  33. منصور نورالدین says:

    مولی عبدالحق اور نظامِ دکن کے بارے میں یہ کہ اُنہوں نے داراتراجم قائم کیئے تاکہ مختلف زبانوں کے الفاظ کا اردو میں مناسب اور متبادل ترجمہ کیا جاسکے. ایک زبان کا دوسری زبانوں سے متاثر ہونا اور اپنے اندر نئے الفاظ ضم کرنا ناگزیر ہے مگر ایک زبان کا رسم الخط محظ کاہلی اور غلامانہ ذہنیت کی بناء پر ترک کرنا قطعی قابلِ قبول نہیں.

  34. منصور نورالدین says:

    ایک اور نکتہ بعد میں ذہن میں آیا کہ اسرائیلیوں نے ایک مردہ زبان یعنی عبرانی اور اس کے رسم الخط کو زندہ کیا اور اس کی ترویج میں کوشاں ہیں تو اگر ہم اپنی اردو جیسی خوبصورت زبان اور اس کے رسم الخط کو قتل کرنے میں مددگار ہوں تو اس سے زیادہ شرمناک بات میرے نزدیک کوئی اور نہیں.

    میں نے گوگل، ویکیپیڈیا اور دوسری لاتعداد ایسی جگہوں پر مختلف رسم الخطوط بالخصوص جنوبی ہندوستان کی علاقائی زبانوں کے رسم الخط کو پھلتے پھولتے دیکھا. یہ وہ وقت تھا جب تک اردو رسم الخط ان جگہوں پر دستیاب نہیں تھا اور اس میں کوئی خاطرخواہ کوشش بھی نظر نہیں آرہی تھی، مجھے اس بات پر غصہ، حسد اور شرمندگی، اپنی تمام تر شدت کے ساتھ محسوس ہوتی تھی.

  35. عبدالخالق بٹ says:

    السلام علیکم
    فہد آپ کا پرمغز مقالہ آج بلکہ ابھی پڑھا ہے ۔ماشااللہ بہت خوب ہے ۔ ۔

  36. ابو فیضان says:

    میاں فھد! گستاخی ماف
    اقبال کو رحمۃ اللہ علیہا لکھ دیا جبکہ مرد کے لئے علیھا نہیں علیہ لکھا جاتا ہے۔

  37. پرویزقادر says:

    ١۔اسلام آباد تے کراچی وچ اردو یونی ورسٹی ھے پئی۔ہک سرائیکی میڈیم :سرائیکی یونیورسٹی برائے صحت انجینئرنگ تے سائنس آرٹس ٻݨاؤ جیندے کیمپس ہر وݙے شہر وچ ھوون۔.

    ٢۔ تعلیمی پالسی ڈو ھزار نو دے مطابق علاقائی زباناں لازمی مضمون ھوسن تے ذریعہ تعلیم وی ھوسن۔ سرائیکی بارے عمل کرتے سرائیکی کوں سکولاں کالجاں وچ لازمی کیتا ونڄے تے ذریعہ تعلیم تے ذریعہ امتحان بݨاؤ۔

    ٣۔ پاکستان وچ صرف چار زباناں سرائیکی سندھی پشتو تے اردو کوں قومی زبان دا درجہ ڈیوو.۔

    ۔٤۔ نادرا سندھی اردو تے انگریزی وچ شناختی کارݙ جاری کریندے۔ سرائیکی وچ وی قومی شناختی کارڈ جاری کرے۔

    .٥۔ ھر ھر قومی اخبار سرائیکی سندھی تے اردو وچ شائع کیتا ونڄے۔کاغذ تے اشتہارات دا کوٹہ وی برابر ݙتا ونڄے

    ٦۔ پاکستان دے ہر سرکاری تے نجی ٹی وی چینل تے سرائیکی، سندھی، پشتو ، پنجابی،بلوچی تے اردو کوں ہر روز چار چار گھنٹے ݙتے ونڄن۔

    ٧۔سب نیشنل تے ملٹی نیشنل کمپنیاں سرائیکی زبان کوں تسلیم کرن تے ہر قسم دی تحریر تے تشہیر سرائیکی وچ وی کرن۔

    ٨۔۔سرائیکی ہر ملک وچ وسدن ایں سانگے سرائیکی ہک انٹر نیشنل زبان اے۔ سکولاں وچ عربی لازمی کائنی ، تاں ول انگریزی تے اردو دے لازمی ھووݨ دا کیا ڄواز اے؟

    ٩۔ دوائیاں تے سرائیکی وچ ناں ،فائدے تے طریقہ استعمال کائنی لکھے ھوندے۔ غلط استعمال نال کائی انسان مر وی ویندن۔ سرائیکی وسیب وچ اردو انگریزی دی شرح تعلیم ٻہوں گھٹ اے۔ لوک قرآن تے قرآنی لکھائی نال مانوس ھن۔ سرائیکی الف بے نال لکھی ویندی اے۔ دوائیاں تے دوائی دا ناں فائدے تے ورتݨ دا ݙا سرائیکی زبان وچ وی لکھیا کرو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.