آسٹریلیا میں آسٹریلیا کی تلاش

تسوید و ترجمہ: عبدالخالق بٹ

یورپ میں عہد ِنشاۃ ثانیہ(14ویں تا17ویں صدی) کامیابی اور سرفرازی کے نئے امکانات کے ساتھ طلوع ہوا۔ اس عہد میں تعمیرات، سائنس، فلسفہ، ادب، مصوری، موسیقی، رقص اور فنِ حرب سمیت ہر شعبۂ زندگی میں بیداری کی لہر پیدا ہوئی اور جب یورپ نے خود کو جہانبانی کا اہل ثابت کردکھایا تو انہیں ’’شانِ کئی‘‘ بھی ملی اور’’ دنیانئی ‘‘بھی ملی، اور یہ عین قانونِ فطرت تھا، بقول شاعر:

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں

ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں


ابھی نئی دنیا(امریکا) کی دریافت کا غلغلہ نہیں تھا کہ یورپی جہاز راں مشرقِ بعید میں انجانے ساحلوں پر لنگر انداز ہونے لگے، بحرالکاہل اور بحر ہند کے درمیان گھری، 7,617,930 مربع کلومیٹر(2,941,299 مربع میل) پرمحیط اس انجان سرزمین کو دنیا آج براعظم اوقیانوسیہ (اوشیانا/آسٹریلیا) کے نام سے جانتی ہے۔

مہینے اور سالوں کے فرق سے آسٹریلیا پہنچنے والوں میں سات ولندیزی، دو برطانوی اور ایک ہسپانوی مہم جو شامل تھے مگر آسٹریلیا کی کھوج کاسہرا برطانوی جہاز راں’ کیپٹن جیمز کُک‘ کے سر باندھا گیا۔ جو ولندیزی جہاز راں’ولیم کانسزون ‘سے کم وبیش ڈیڑھ سو سال بعد یہاں پہنچا تھا۔

برطانیہ کی نوآبادیاتی دائرے میں آتے ہی یہاں آباد کاری کا سلسلہ شروع ہوگیا تاہم اس آبادکاری میں تیزی کا رجحان 1851ء میں نیو ساؤتھ ویلز کے علاقے ’’باتھرسٹ‘‘میں سونے کی دریافت کے بعد دیکھنے میں آیا۔ 1851ء میں شمار کی گئی 29,000 ہزار کی آبادی 1861ء میں 139,916 تک پہنچ گئی۔ اور یوں ملبورن کو بہت جلد آسٹریلیا کے پہلے اور سلطنت ِ برطانیہ کے دوسرے سب سے بڑے شہر کی حیثیت حاصل ہوگئی۔

اس زمانے میں برطانیہ، آئرلینڈ اورجرمنی سے سونے کے متلاشی تعلیم یافتہ افراد کی آمد کی وجہ سے یہاں بہت تیزی سے اسکولوں، کلیساؤں، علمی مجالس، کتب خانوں اور نگار خانوں کا قیام عمل میں آیا۔ 1855ء میں یونیورسٹی آف ملبورن اور 1856ء میں اسٹیٹ لائبریری آف وکٹوریہ کی بنیاد رکھی گئی۔ جبکہ 1854ء میں انسٹی ٹیوٹ آف وکٹوریہ قائم کیا گیا جسے 1859ء میں شاہی فرمان کے نتیجے میں رائل سوسائٹی آف وکٹوریہ میں بدل دیا گیا۔

یورپی آسٹریلیا کے مختلف سواحل پر آباد ہوتے رہے، جبکہ وسطی آسٹریلیا کا علاقہ موسمی تفاوت اورمناسب ذرائع نقل و حمل کے فقدان کے سبب اُن کے لیے معمہ بنا رہا۔ تاہم سونے کی دریافت اور نئے امکانات کے پیش نظر ہر سطح پر وسطی آسٹریلیا کوکھوجنے (Explore) کی ضرورت پر زور دیا جانے لگا۔ اس سلسلے میں ایک مؤثر تجویز 1922ء میں’ کونرڈ مالٹے-برن‘ (1755ء تا1826ء)کی جانب سے پیش کی گئی:

ہمیں اس مہم کے لیے تلاش و جستجو میں دل چسپی رکھنے والے حوصلہ مند افراد کا انتخاب کرنا ہوگا، اور انہیں اس کے لیے تمام ضروری سامان کے ساتھ ایسے مخصوص جانور بھی فراہم کرنا ہوں گے، جو اس کام میں بخوبی معاونت کرسکیں۔ مثلاً جھاڑ جھنکار والے علاقوں میں نقل وحمل کے لیے بیونس آئرس اور برطانوی علاقوں کے بیل، پہاڑی اور پتھریلے علاقوں سے بحفاظت گزرنے کے لیے سینیگالی خچر اور ریلے خ میدانوں اور صحراؤں میں سفر کے لیے افریقی و عربی اونٹوں کا انتظام کیا جائے۔ جبکہ شکار اور پانی کے سوتوں کی تلاش کے لیے تربیت یافتہ کتوں اور مخصوص پودوں کی خوردنی جڑوں کی تلاش کے لیے سؤروں سے مددلی جائے۔ اس کے علاوہ بھیڑوں کاریوڑ بھی اُن کے ہمراہ کیا جائے تاکہ جن علاقوں میں کینگرو سمیت کوئی اور شکار دستیاب نہ ہو تو انہیں بطور خوراک استعمال کیا جاسکے۔

ایکسپلوریشن کمیٹی کی تشکیل:

1857ء میں فلاسیفکل انسٹی ٹیوٹ نے ایک ایکسپلوریشن کمیٹی تشکیل دی، تاکہ نودریافت شدہ براعظم کے دور افتادہ اور دشوارگزار علاقوں تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ ایکسپلوریشن کمیٹی نے وکٹورین ایکسپلورنگ مہم میں دلچسپی رکھنے والوں کو مدعو کیا۔ اس سلسلے میں کمیٹی نے مختلف افراد کے انٹرویو لینے اورمسلسل اجلاسوں کے بعد 1860ء کے آغاز میں’ رابرٹ او‘ہارابرک‘ (مئی 1820-21 ء تا جون 1861ء)کو اس مہم کی قیادت کے لیے منتخب کرلیا۔ جب کہ’ ولیم جان ولس‘ (جنوری1834ء تاجون/ جولائی 1861ء)کے لیے بحیثیت سرویئر، نیوی گیٹراور تھرڈ اِن کمان کی سفارش کی گئی۔

آئرلینڈ میں پیدا ہونے والا ’برک‘ آسٹرین آرمی کا سابق آفیسر تھا، جو بعد ازاں پولیس سپرنٹنڈنٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکا تھا، جب کہ ’ولس ‘ جنگلوں کی زندگی کا خوگر اور برک سے زیادہ تجربہ کار تھا۔

سفر کی تیاریاں:

اس مہم کے لیے 1859ء میں صر ف 7 اونٹ درآمد کئے گئے تھے تاہم بعد میں وکٹورین حکومت نے اونٹوں کی افادیت کے پیش نظر ہندوستان سے مزید 24 اونٹ منگوائے جو 1860ء میں اپنے ہندوستانی ساربانوں کے ساتھ ملبورن پہنچے جبکہ ایکسپلوریشن کمیٹی نے چھ مزید اونٹ ایک مقامی تاجرسے حاصل کیے، جبکہ مہم کے لیے ان کل اونٹوں میں سے 26 کو منتخب کیا گیا۔ مہم کے ہمراہ بطور خوراک جانور روانہ کرنے کے بجائے کمیٹی نے خشک گوشت کا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ملبورن سے تاریخی سفر پر روانگی:

تاریخی سفر پر روانگی، نکولس کیویلیئر کا بنایا گیا فن پارہ 1860ء

تاریخی سفر پر روانگی، نکولس کیویلیئر کا بنایا گیا فن پارہ 1860ء

یہ قافلہ 20 اگست 1860ء کو شام چار بجے رائل پارک سے روانہ ہوا تو کم وبیش 15,000 افراد اس موقع پراسے الوداع کہنے کے لیے موجود تھے۔ قافلے میں کل 19 افراد شریک تھے جن میں پانچ برطانوی، چھ آئرش، چار انڈین، تین جرمن اور ایک امریکی باشندہ تھا، جبکہ باربرداری اور سواری کے لیے 23 گھوڑے، 26 اونٹ اور 6 چھکڑے موجود تھے۔

اس قافلے کے سفری انتظامات پر بھاری لاگت آئی تھی، اس میں کیمپ، میزاور کرسیوں کے علاوہ دو سال کی خوارک بھی شامل تھی۔ اس سارے سامان کا کل وزن تقریباً 20 ٹن تھا۔ برک نے کمیٹی کے رکن ’کیپٹن فرانسس کاڈیل‘ (1822ء تا 1879ء) جو خود بھی مہم جو تھے، کی اس پیشکش کو رد کردیا کہ بھاری سامان بذریعہ بحری جہاز روانہ کیا جائے جنہیں آگے جاکر دریائے ’مرے اور ڈارلنگ‘ سے وصول کرلیا جائے (واضح رہے کہ’ کیپٹن فرانسس ‘بحیثیت لیڈر ’برک‘ کی تقرری کے خلاف تھے)۔ یہ سارا سامان چھکڑوں پر لاد دیا گیا، ان میں سے ایک چھکڑا رائل پارک چھوڑنے سے قبل ہی خراب ہوگیا۔ اس قافلے نے اپنا پہلا پڑاؤ نصف شب کو ملبورن کی سرحد پر ’ایسنڈن‘ میں کیا۔ جہاں پہنچتے پہنچتے مزید دو چھکڑے بھی جواب دے گئے۔ شدید برساتوں اور خراب راستوں نے سفر کو دشوار اور سست بنا دیا تھا۔ اس قافلے نے 23 اگست کو چوتھا کیمپ ’لانس فائلڈ‘ میں اور 26 اگست 1860ء کو چھٹا کیمپ ’میامیا‘ کے علاقے میں کیا۔

یہ قافلہ منزل پے منزل کرتا ہوا 15ستمبر کو ’بالرانالڈ‘ پہنچا، جہاں انہوں نے اپنا بوجھ کم کرنے کے لیے شکر، لائم جوس، کچھ بندوقیں اور بارود وہاں چھوڑدیا اور یہاں سے روانہ ہوکر 24 ستمبر کو’گمبالا‘ میں پڑاؤکیا۔ یہاں ’برک‘ نے سامان کا کچھ حصہ پہلی مرتبہ اونٹوں پر منتقل کیا۔ جبکہ گھوڑوں کو آرام دینے کی غرض سے سواروں کو پیدل چلنے کا حکم دیا۔ اس کا حکم تھا کہ ہر فرد کا ذاتی سامان 30پونڈ (14کلو )سے زیادہ نہ ہو۔ ’کنچیگا‘ پہنچنے پر مہم کے سیکنڈ اِن کمان’ لانڈلز‘ نے مہم میں شامل سرجن ’ڈاکٹرہرمنن بیکلر‘ کی پیروی میں مہم سے استعفیٰ دے دیا جس کے نتیجے میں تھرڈ اِن کمان’ولس‘کو سیکنڈ اِن کمان اور’ ولیم رائٹ ‘کو تھرڈ اِن کمان بنادیاگیا، اور ساتھ ہی 13 ارکان کو مہم سے خارج کر کے ان کی جگہ آٹھ نئے افراد بھرتی کرلئے گئے۔ یہ لوگ 12 اکتوبر 1860ء کو ’میننڈی‘ پہنچے۔ ان کو سفر پر نکلے دوماہ گزر چکے تھے اور اس دوران فقط 750 کلومیٹر (470میل) کی مسافت طے ہوئی تھی۔ جبکہ اس زمانے یہ فاصلہ ایک عام میل کوچ زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں طے کرلیتی تھی۔

1859ء میں ساؤتھ آسٹریلین گورنمنٹ نے اعلان کیا کہ جو کوئی براعظم آسٹریلیاکو جنوباً شمالاً عبور کرے گا اسے 2000 پاؤنڈز (موجودہ تقریباً 30 لاکھ امریکی ڈالرز) بطور انعام دیے جائیں گے۔ حکومت کے اس چیلنج کو ’جان میکڈیول اسٹیورٹ‘ (1815ء تا 1866ء)نے قبول کیا۔ ’برک‘ اس بات سے آگاہ تھا مگر اس کا قافلہ تام جھام کی کثرت کی وجہ سے سست روی کا شکار تھا، وہ اب تک 2 میل(3.2کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا، چنانچہ اس نے شمالی ساحل تک ’اسٹیورٹ‘ سے قبل پہنچنے کے لیے اپنے قافلے کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ اس نے توانا گھوڑوں اور 7 مضبوط جسامت کے حامل افراد کا انتخاب کیا اور مختصر سامان کے ساتھ برق رفتاری سے ’کوپر کریک‘ کی جانب بڑھنے لگا، اور پیچھے رہ جانے والوں کو حکم دیا کہ وہ اُس سے ’ کوپر کریک‘ پر آملیں۔ بارشوں کی وجہ سے موسم نہایت خوشگوار تھا چنانچہ سفرنسبتاً آسان رہا اور ’کوپرکریک‘ پہنچنے سے قبل درجہ حرارت صرف دو مرتبہ 90 فارن ہائٹ (32سینٹی گریڈ)سے زیادہ ہوا۔ ’برک‘ 11 نومبر 1860ء کو ’کوپر کریک‘ پہنچا جہاں اُس نے کیمپ 65 میں ایک ڈپو قائم کیا تاکہ وہاں سے شمال کے سفر کو بہتر بنایاجاسکے۔ مگر وہاں طاعون پھوٹ پڑنے پر اسے اپنا کیمپ نیچے کی جانب ’ بُلّاہ بُلّاہ واٹر ہول‘ کے علاقے میں قائم کرنا پڑا۔ اس نے اس جگہ کا نام ’فورٹ ولس‘ رکھا۔ ’برک‘ کا خیال تھا کہ وہ آسٹریلیا کے جھلسا دینے والے موسم میں سفر سے گریز کرے گا اور موسم خزاں (اگلے سال مارچ) تک’کوپر کریک‘میں انتظار کرے گا۔

تاہم اس نے 16 دسمبر 1860ء تک انتظار کیااور ایک بار پھر گروپ کو دوحصوں میں تقسیم کیا۔ اور ڈپو انچارج ولیم ’برہے‘ کے پاس ’دوست محمد، ولیم پاٹون اور تھامس میک ڈونو‘ کو چھوڑکر خود ’ولس، جان کنگ اور چارلس گرے ‘ کے ہمراہ چھ اونٹوں اور ایک گھوڑے اورتین ماہ کی خوراک کے ساتھ خلیج ’کارپینٹریا‘ روانہ ہوگیا۔

’صحرائے اسٹرزیلیکی اور صحرائے اسٹورٹ اسٹونی‘ میں اُن کا یہ سفر موسم گرما کے وسط میں شروع ہوا، یہاں سایہ کمیاب اور گرمی کی شدت 122 فارنہائٹ (50ڈگری) تھی۔ ادھر’ برہے‘ کو ’برک‘ کے حکم کے مطابق تین ماہ تک انتظار کرنا تھا۔

خلیج کارپینٹریا:

برک اور ولس دریائے فلنڈرز پر، ایڈورڈز جیوکس گریگ کا فن پارہ 1862ء

برک اور ولس دریائے فلنڈرز پر، ایڈورڈز جیوکس گریگ کا فن پارہ 1862ء

توقع کے برخلاف یہ صحرائی سفر قدرے آسان ثابت ہوا جس کا ایک اہم سبب حالیہ برسات تھی۔ یوں یہ لوگ 9 فروری 1861ء کو دریائے ’لٹل بیونے‘ کے ڈیلٹا کے علاقے میں پہنچے جو دریائے ’فلنڈرز‘ کا معاون دریا ہے، جہاں جا کر انہیں اندازہ ہو کہ وہ سمندر تک نہیں پہنچ سکتے کیونکہ ان کی راہ میں تمر( منگروو) کی دلدل حائل تھی۔ ’برک اور ولس‘ کیمپ 119 میں ’کنگ اور گرے‘ کو چھوڑ کر خود دلدل کے راستے آگے بڑھ گئے۔ تقریباً 15میل آگے بڑھنے کے بعد انہوں نے اس مقام سے واپسی کا فیصلہ کیا، کیونکہ انہیں غذائی قلت کا سامنا تھاجبکہ اس سے آگے اشیاء خور ونوش کی ترسیل ممکن نہیں تھی۔ 4 مارچ کو ’’گولہ سنگھ‘‘ نامی اونٹ کو جبکہ وہ مزید چلنے کے قابل نہ رہا کھلا چھوڑ دیا گیا۔ جبکہ آنے والے دنوں میں یک بعد دیگرے تین اونٹوں کو بطورخوراک استعمال کرلیاگیا۔ 10 اپریل کو دریائے ’ڈیامنٹینا‘ کے کنارے ’بلّے‘ نامی گھوڑے کو بھی گولی مار دی گئی۔ اس مقام پر اب’ برڈزویلے‘ شہر آباد ہے۔ چند دنوں بعد ہی انہیں اشیاء خورونوش کی مزید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ نتیجتاًانہوں نے خود رو پودے’ خرفہ‘( PORTULACA) کو بطور خوراک استعمال کرنا شروع کیا مگر اس کے نتیجے میں برک اور گرے اسہال کا شکار ہوگئے۔ ’گرے ‘ کے لیے یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوئی (کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ’ برک‘ نے ’گرے‘ کو قتل کردیا تھا)۔ بچ جانے والے تین افراد شدید کمزوری کاشکار تھے چنانچہ ان کی صحت کی بحالی تک اس مقام پر رُکنے کا فیصلہ ہوا اور جب وہ سفر کے قابل ہوگئے تو یہ بچا کچھا قافلہ 21 اپریل کو ’کوپر کریک‘ کے لیے روانہ ہوا۔

کوپر کریک واپسی:

برک نے ’برہے‘ اور ڈپو پارٹی سے کہا تھا کہ وہ ’کوپرکریک‘ میں 13 ہفتے تک اُس کا انتظار کریں، جبکہ ان لوگوں نے 18 ہفتے تک ’برک ‘کا انتظار کیا۔ اس دوران ان کا ایک ساتھی زخمی ہوچکاتھا، پھر سپلائی لائن بھی متاثر تھی۔ ’برہے‘ کوجب یقین ہوگیا کہ اب ’برک‘ اس طرف نہیں آئے گا، تو اس نے ’میننڈی‘ واپسی کا حکم دیا۔ تاہم اس نے ’برک ‘کی امکانی واپسی کے پیش نظر اشیائے خوردونوش کا ذخیرہ وہاں موجودایک درخت کے کھوکھلے تنے میں چھپادیا اور چند مخصوص اشارات کے ذریعے اس کی جانب رہنمائی کردی۔

21 اپریل 1861ء کو ’برہے‘نے ’ کوپر کریک‘ کیمپ کو خیر باد کہا جبکہ اسی روز شام کو ’برک‘ اپنے ساتھیوں ’ولس اور کنگ ‘کے ہمراہ وہاں پہنچا، مگر وہاں کسی کو نہ پا کر انہیں شدید مایوسی ہوئی، تاہم انہوں نے خوراک کا پوشیدہ ذخیرہ تلاش کرلیا۔ ساتھ ہی انہیں ’برہے‘ کا خط بھی ملا جس کے مطابق وہ لوگ صبح ہی اس مقام سے راونہ ہوئے تھے۔ یوں ’برک‘ صرف 9گھنٹے کی تاخیر کے باعث ان سے ملاقات نہیں کرپایا۔ اب وہ تین افراد تھے جب کہ ان کے پاس دو اونٹ تھے اس صورت حال میں ان کا اپنی پارٹی تک پہنچنا بظاہرناممکن تھا۔

’ برک‘ نے فوری طور پر ’برہے‘ تک پہنچنے کے بجائے آرام کر کے اپنی توانائی بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اس مہم میں شاید پہلی بھیانک غلطی تھی۔ بعد ازاں جب ’ولس اور کنگ ‘ نے ’برہے‘کے نشانات راہ پر ’میننڈی‘ جانے کامشورہ دیا تو ’برک‘ نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے ایک دوسرے راستے سے ’جبل یاس‘(Mount Hopeless) پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا مطلب تھا کہ انہیں جنوب مغرب کی جانب صحرا میں 240 کلومیٹر (150میل) سفر کرنا ہوگا۔ یہ ’برک‘کی دوسری ہولناک غلطی تھی جس نے اسے ان کے ساتھیوں سے ہمیشہ کے لیے جداکردیا۔ ’برک ‘نے اپنے آئندہ سفر سے متعلق ایک خط تحریر کر کے اسی مقام پر رکھ دیا جہاں ’برہے‘نے رکھا تھااور’صحرائے اسٹرزیلیکی ‘میں ’جبل یاس‘کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔

برک اور ولس جبل یاس کی جانب محو سفر، جارج لیمبرٹ کا شاہکار 1907ء

برک اور ولس جبل یاس کی جانب محو سفر، جارج لیمبرٹ کا شاہکار 1907ء

اس دوران ’برہے‘ اپنے ساتھی ’رائٹ‘ کے ہمراہ واپس ’کوپرکریک‘ آیا تاہم جب وہ دونوں اتوار 8 مئی کو وہاں پہنچے تو ’برک‘ ان کی آمد سے قبل ہی ’جبل یاس‘کے لیے نکل چکا تھا۔ ان کو وہاں نہ پاکر انہوں نے گمان کیا کہ ’برک‘ شاید اب اس مقام پرلوٹ کر نہ آئے یوں وہ لوگ واپس’ میننڈی‘آگئے۔

برک، ولس اور کنگ کی’ کوپرکریک ‘میں تنہائی:

کھوکھلے درخت سے روانہ ہونے کے بعد ’برک ‘ایک دن میں فقط 8.0 کلومیٹر (5میل) کی مسافت طے کرسکا کیونکہ ان کے بچ رہنے والے دو اونٹوں میں سے ایک ’لاندا‘’منکی واٹرہول‘کے پاس دلدل میں پھنس گیا جبکہ دوسرے اونٹ ’راجا‘ کو اس لیے گولی مار دی گئی کہ وہ مزید سفر کے قابل نہیں رہا تھا۔ جانوروں کے بغیر ان کے لیے یہ ممکن نہیں رہا تھا کہ وہ اپنے ساتھ اتنا پانی ذخیرہ کرسکیں کہ باآسانی صحرائے ’اسٹرزیلیکی‘ عبور کر کے ’’جبل یاس‘‘ تک پہنچ سکیں۔ لہٰذا وہ ’کوپرکریک‘ لوٹ آئے۔ سچ تو یہ کہ تینوں اب کریک چھوڑنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ ان کا ذخیرہ خوردونوش ختم ہو رہا تھا۔ وہ ناکافی خوراک اور شدیدتھکان کا شکار تھے۔ انہوں نے خوراک کے لیے ’ کوپرکریک‘ کی مقامی آبادی جو ’یندروواندا‘ لوگوں پر مشتمل تھی، سے شکر کے عوض مچھلی، پھلیوں کے بیج (جسے وہ لوگ ’پڈلو‘(padlu) پکارتے تھے ) اور دوسری اشیاء حاصل کر کے اپنا کام چلانا شروع کردیا۔ مئی1861ء میں ’ولس‘ کھوکھلے درخت کے پاس واپس آیا اور وہاں اپنی ڈائری، نوٹ بک اور روزنامچہ محفوظ کردیا۔ اس روزنامچے کے مطابق’ برک‘ نے ’برہے‘ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ’’ اس نے پیچھے کوئی جانور یا سامان خورونوش نہیں چھوڑا‘‘۔ ایک روز جب کہ ’ ولس‘ کیمپ میں موجود نہیں تھا ’برک‘نے ایک مقامی باشندے کو گولی مار کرہلاک کردیا، جس کے باعث ان سب کو اس مقام سے فرار ہوناپڑا۔

برک، ولس اور کنگ کی آمد، جان لانگ اسٹاف کا فن پارہ 1861ء

برک، ولس اور کنگ کی آمد، جان لانگ اسٹاف کا فن پارہ 1861ء

موت:

جون1861ء کے اختتام تک یہ تینوں افراد’ کوپرکریک‘ میں دریا کے مخالف چلتے ہوئے کیمپ سائٹ تلاش کرتے رہے۔ ’ولس ‘مستقل کمزور ہورہا تھا، چنانچہ جب وہ مزید چلنے کے قابل نہیں رہا تو وہ لوگ اُس کے اصرار پر اُسے ’بریریلے واٹرہول‘ کے پاس ایک پناہ گاہ میں ضروری سامانِ خورونوش کے ساتھ چھوڑ کر آگے روانہ ہو گئے۔ اس سفر میں’ برک‘ مستقل کمزور ہوتا چلا گیا۔ ایک مقام پر جب وہ دونوں رات گزارنے کے لیے رُکے تواگلی صبح ’برک‘ کا انتقال ہوگیا۔ ’کنگ‘ دوروز تک اس کی لاش کے پاس ٹھہرا رہا اور پھر واپس ’بریریلے واٹرہول‘ کی جانب چل پڑا اور جب وہ وہاں پہنچا تو اس نے ’ولس‘ کو مردہ پایا۔ کنگ ان دونوں کے مقابلے میں خوش نصیب رہا کیونکہ مقامی باشندے اسے پناہ اور کھانا دینے پر بخوشی تیار ہوگئے تھے۔

’برک اور ولس ‘کی درست تاریخ وفات کیا ہے؟ اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم وکٹوریہ میں مختلف تاریخوں پر ان کی یاد میں تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔ ریسرچ کمیٹی نے 28 جون 1861ء ان کی تاریخ وفات متعین کی ہے۔

امدادی مہمات :

مہم روانہ ہونے کے چھ ماہ بعد ہی سے ذرائع ابلاغ نے مہم سے متعلق کسی بھی قسم کی کوئی اطلاع نہ ملنے پرمہم سے متعلق سوالات اٹھانے شروع کردیے جس کے ساتھ ہی عوامی دباؤ بھی بڑھتا گیا۔ چنانچہ ’برک اورولس‘ کی تلاش کے لیے ’’ایکسپلوریشن کمیٹی‘‘ نے دو، رائل سوسائٹی آف وکٹوریہ نے تین اور ساؤتھ آسٹریلیا حکومت نے ایک تلاش مہم روانہ کی۔ ان مہمات میں سے دو خلیج ’کارپینٹیریا‘ کی جانب سے جبکہ دیگر مختلف اطراف سے تلاش پر روانہ ہوئیں۔

وکٹورین ریلیف مہم:

وکٹورین مہم ملبورن سے 26 جون 1861ء کو ’الفرڈ ولیم ہاؤٹ‘ کی قیادت میں روانہ ہوئی۔ ’دریائے لوڈون‘کے پاس’ہاؤٹ‘ کی ملاقات ’برہے‘سے ہوئی جو وہ واپس ’کوپرکریک‘ آرہا تھا۔ تاہم اسے ’برک‘ سے متعلق کسی قسم کی معلومات نہیں تھیں۔ ’ہاؤٹ‘نے فیصلہ کیا کہ گمشدہ پارٹی کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر تلاش مہم کی ضرورت ہوگی۔ اس کے تین ساتھی دریا کے پاس ٹھہر گئے جبکہ ’ہاؤٹ‘ اپنے ہمراہ’برہے‘ کو لے کرواپس ملبورن روانہ ہوگیا، تاکہ ’برہے‘ ایکسپلوریشن کمیٹی کو پیش آمدہ واقعات سے آگاہ کرسکے۔ 30جون کو’ برک‘ کے اختیار کردہ راستے پر ایک مہم کو روانہ کیا گیا۔ 3ستمبرکو یہ لوگ ’کوپرکریک‘ اور 11 ستمبر ’کھوکھلے درخت‘ تک پہنچے گئے، جبکہ چار دن بعد یہ پارٹی ’کنگ ‘کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئی جو مقامی باشندوں کے درمیان رہ رہا تھا۔ اگلے نو دن ’ہاؤٹ‘نے ’برک اور ولس‘ کی باقیات اور مدفون اشیاء دریافت کرنے میں گزارے۔ یوں دوماہ کے سفر کے بعد’ کنگ‘ قابل رحم حالت میں واپس ملبورن پہنچ گیا۔ اس مہم کے بعداس کی صحت کبھی اچھی نہیں رہی اوروہ 11سال بعد 33 برس کی عمر میں انتقال کرگیا۔

بعد ازاں:

وکٹورین گورنمنٹ نے ’برک اور ولس‘ کی موت کے اسباب جاننے کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا، ساتھ ہی ان دونوں کی میتیں واپس لانے کے لیے ’ہاؤٹ‘ کو ایک بار پھر ’کوپر کریک‘روانہ کیا۔ میتوں کے ملبورن پہنچنے پر 21 جنوری 1863ء کو انہیں ’ویلنگٹن‘ کے ڈیوک کے لیے مختص خصوصی میت گاڑی میں ملبورن کے عوامی قبرستان میں شایان شان طریقے سے دفنایا کیا گیا۔ ان کے جنازے میں کم و بیش 40 ہزار افراد نے شرکت کی۔ ان کی یہ المناک مہم کسی طور بھی بیکار نہیں تھی، کیونکہ اس مہم کی وجہ سے ہی جدید دنیا اندرون آسٹریلیا سے واقف ہوئی، اور وسطی آسڑیلیا میں کسی سمندر کی موجودگی سے متعلق اندازے باطل ثابت ہوئے۔ اس طرح آسٹریلیا کی ایک مکمل تصویر سامنے آئی اور تعمیر و ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. ابوشامل says:

    بہت معلوماتی مضمون ہے، بغیر رکے پورا مضمون پڑھا ہے۔ شکریہ بٹ صاحب

  2. بہت ہی عمدہ تحریر ہے۔ ایسی تحریریں چھاپتے رہیے۔

  3. فیصل says:

    بہت شکریہ جناب، اپنا بھی آسٹریلیا کا تجربہ کچھ ایسا ہی رہا ہے 🙂
    ویسے میں اس تحریر کے آغاز میں سمجھا کہ یہ اس جزیرے میں اولیں مسلمانوں کی آمد سے متعلق ہو گی، یا وہ افغان ساربان جنکی اولاد آج بھی یہاں آباد ہے.

  4. عبدالخالق بٹ says:

    فہد بھائی پذیرائی کا ایک بار پھر شکریہ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *