موریسکوز، وہ جو "ایمان فروش" تھے

میں فلموں کو ادب کی ایک جدید شکل سمجھتا ہوں، گو کہ یہ ادب کی ذرا بے ادب قسم ہے لیکن آنکھوں دیکھی پر یقین بھی زیادہ آتا ہے اس لیے فلم کی اثر انگیزی بہت زیادہ ہے۔ کچھ ایسا ہی اثر مشہور ڈائریکٹر مارٹن اسکورسیز کی فلم "Silence" دیکھ کر ہوا تھا۔ یہ فلم جاپان میں عیسائیت کی تبلیغ کے لیے جانے والے چند مبلغین کی کہانی ہے۔ اس فلم کی کہانی کے کئی پہلو ہیں جیسا کہ فلم مذہب کے حوالے سے مختلف انسانوں کے مختلف رویّوں کو اچھی طرح عکاسی کرتی ہے۔ بہرحال، سخت اداسی طاری کر دینے والی فلم ہے لیکن اس کو دیکھتے ہی ذہن میں ایک خیال کوندا، ایک منظر اُبھرا، زمان و مکان تبدیل ہوئے اور پہنچ گیا سولہویں صدی کے ہسپانیہ میں، ایک گھر کے تہہ خانے میں والدین اپنے ایک چھوٹے سے بچے کو اسلام کی بنیادی تعلیمات دے رہے ہیں، اللہ، رسولؐ اور قرآن کے بارے میں بتا رہے ہیں، بنیادی عقائد سکھا رہے ہیں، شرم و حیا کے اسباق دے رہے ہیں لیکن ساتھ ہی خبردار بھی کر رہے ہیں کہ اِن عقائد کا اظہار اُس کے لیے کتنی بڑی مصیبت کھڑی کر سکتا ہے۔ اُس دکھ اور کرب کو ایک لمحے کے لیے محسوس کرکے دیکھیں جو ہسپانیہ کے ان مسلمانوں نے اٹھایا ہوگا جنہیں سقوطِ غرناطہ کے بعد اسلام ترک کرکے مجبوراً اور دکھاوے کے لیے عیسائیت اختیار کرنا پڑی۔ ان مسلمانوں کو تاریخ میں "Moriscos" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اُن کے دکھ درد کو آج ایک وڈیو نے تازہ کردیا۔

یوٹیوب نے "مدیحِ موریسکی" نامی ایک وڈیو suggest کی، کھول کر دیکھا تو ابتدائیے نے ہی فلم Silence کی یادیں تازہ کردیں۔ اسکرین پر پہلے ایک جملہ ابھرتا ہے کہ 1884ء میں ایک چھوٹے سے ہسپانوی گاؤں میں ایک گھر کی تزئین و آرائش کے دوران چھت سے ایک قلمی نسخہ برآمد ہوتا ہے۔ یہ 17 ویں صدی عیسوی کا نسخہ تھا جو اُس زبان میں لکھا گیا تھا جو ہسپانیہ میں وہ لوگ بولتے تھے جنہوں نے مظالم سے بچنے کے لیے اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرلی تھی، یعنی موریسکوز کی زبان اور یہ ہے بھی اُس زمانے کا جب موریسکوز کو بھی ہسپانیہ سے نکال دیا گیا تھا۔ غالباً اُس گھر کا مالک جلاوطنی کیے جانے سے قبل انتہائی مجبوری کی حالت میں اِس نسخے کو چھت میں چھپا گیا ہوگا، جو صدیوں بعد برآمد ہوا۔

اس نسخے میں کیا تھا، آپ بھی سنیے اور اندازہ لگائیے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت مسلمانوں کے دل میں کتنی گہری ہے کہ سقوطِ غرناطہ کو ڈیڑھ پونے دو صدیاں ہو چکی ہیں لیکن وہ نعمت جو مسلمانوں سے چھیننے کی کوشش کی گئی تھی، وہ اب بھی دل کے نہاں خانے میں موجود تھی۔ کچھ یہی کہانی Silence کی ہے اور موریسکوز کی بھی۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

3 تبصرے

  1. فیصل says:

    حضور بلاگ پر واپسی مبارک ہو 🙂 آپکی تحریر میں تشنگی باقی ہے۔
    مورسکوز غالباً شمالی افریقہ کے بربر تھے، وہ افریقی لیکن انگریزوں کی طرح گورے چٹے تھے اور ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ ہسپانیہ میں وہ کیا زبان بولتے تھے (شمالی افریقہ میں انکی عربوں سے الگ شناخت تھی) لیکن غالباً ہسپانوی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔
    کسی زمانے میں، میں بھی امت مسلمہ کے گزرے دور کے بارے میں بہت رومانوی خیالات کا حامل تھا لیکن تاریخ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ دکھ درد تو ماضی کی ہر قوم میں مشترکہ ہے۔ آسٹریلیا، شمالی اور جنوبی افریقہ، تبت، منگول سلطنت وغیرہ۔ اور ویسے بھی نام نہاد اسلامی سلاطین نے بھی مغلوب قومیتوں پر ظلم و ستم کرنے میں کوئی کمی نہیں کی اور ان میں سے ہر ایک کا ادب اور موسیقی اسکا ثبوت ہے۔
    اگر مزید اداس ہونا ہے تو پرتگالی موسیقی کا ژانرا "فادو" سنیں ؛)

    • فیصل says:

      ٭ شمالی اور جنوبی امریکہ۔۔۔ غلطی کیلئے معذرت 🙂 لیکن یہ غلطی بھی حسب حال ہی ہے کہ افریقہ کی مالی سلطنت بھی اپنے وقت کی امیر ترین اور عظیم ترین سلطنت تھی۔

  2. ابوشامل says:

    واپسی شاپسی کوئی نہیں، بس ایک تحریر کا خیال آیا تو لکھ ڈالی 🙂
    آپ نے جو اضافہ کیا ہے وہ بہت اہم معلومات رکھتا ہے۔ بلاشبہ تاریخ بہت مشکل موضوع ہے، خلافت و ملوکیت پڑھ کر ہی دم نکل جاتا ہے آدمی کا۔
    "فادو" کو رہنے دیں، اداس ہونا ہے تو ارمنی دودُک سنیں۔ بغیر کوئی لفظ کہے پوری داستان بیان کرتی موسیقی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.