قائل نہیں کر سکتے تو کنفیوز کر دو
جب سے سوات اور ملا کنڈ ڈویژن میں شدت پسندوں کو امن معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرا کر فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ہر جانب سے یہ غلغلہ بلند ہو رہا ہے کہ عوام کی اکثریت اس فوجی آپریشن کی حمایت کر رہی ہے یا کم از کم اب مخالف نہیں رہی ہے ۔۔حالانکہ حالات پر ذرا سا غور کرنے پر یہ سمجھنا ذرا مشکل نہیں ہے کہ جس چیز کو اتفاق رائے کا نام دیا جارہا ہے وہ کنفیوژن کے سوا کچھ نہیں ہے ۔۔ ملاکنڈ میں فوج کشی پر اتفاق رائے کا دعوی بالکل ایسا ہی ہے جس طرح جنرل پرویز مشرف اپنی نو سالہ آمریت کے دوران ملک کی ‘‘ خاموش اکثریت کی حمایت ’’ حاصل ہونے کا دعوی کرتے رہےتھے ۔سیاسی قائدین سے لے کر عام شہریوں تک آپ کسی سے بھی بات کر لیں ۔ کسی کی گفتگو میں وہ یکسوئی نظرنہیں آرہی ہے جو قومی معاملات میں اتفاق رائے کی صورت میں نظر آنی چاہیے ۔زیادہ دور نہیں جائیےچند ماہ قبل تک معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر ہی جو قومی اتفاق رائے موجود تھا ۔۔ اس کا بھی یہ عالم تھا کہ جب صدر زرداری پر ہر سمت سے طعن و تشنیع کی بوچھاڑ تھی اس وقت ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ وزراء بھی میڈیا پر آکر ان کا دفاع کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔۔نظام عدل معاہدہ طے پانے کے بعد مولانا صوفی محمد کے بیانات اور شدت پسندوں پر خلاف ورزیوں کے الزامات کی بنیاد پر شروع ہونے والی کارروائی کے بارے میں بھی ابھی یہ تعین ہونا باقی ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی پہلے کس جانب سے ہوئی تھی ۔۔حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ ۔معاہدے کی پہلی خلاف ورزی شدت پسندوں کی جانب سے چھبیس اپریل کو دیر میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی تھی ۔یہ دعوی اس لحاظ سے بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں آپریشن کا فیصلہ اس واقعے سے دو دن پہلے(24 اپریل ) ہی کو آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی صدر اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات میں کر لیا گیا تھا۔

جس کی تصدیق اس تاریخ کو ایوان صدرسے جاری ہونے والے اس بیان سے کی جاسکتی ہے ۔۔
حکومت کی جانب سےشدت پسندوں پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے انہوں نے ‘‘معاہدے کے مطابق ’’ ہتھیار نہیں ڈالے تھے ۔۔حالانکہ معاہدےمیں صرف یہ طے پایا تھا کہ سوات کے طالبان ہتھیار رکھ کر مسلح گشت ختم کر دیں گے ۔۔
معاہدے میں درج الفاظ میں ہتھیار‘‘ رکھنے ’’ کو ‘‘ڈالنے ’’ سے بدل کر شدت پسندوں کو معاہدےکی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہاہے ۔۔حالانکہ دنیا کی گزشتہ پچاس سالہ تاریخ میں جتنے بھی مسلح تصادم دنیا بھر میں ہوئے ہیں ۔ان کا جائزہ لےکر بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ طالبان سے ‘‘معاہدے کے مطابق ’’ جس رویئے کا مظاہرہ کیا گیا تھا اس کے لئے فریقین کو ایک طویل عرصے تک اعتماد سازی کے اقدامات کرنا ہوتے ہیں ۔۔جس معاہدے کی ‘‘خلاف ورزی’’ کا الزام شدت پسندوں پر لگایا جارہا ہے اس میں یہ بھی درج تھا کہ فوج ملاکنڈ ڈویژن کے تمام علاقوں سےنکل جائے گی ۔ فوجی چیک پوسٹیں ختم ہوں گی ۔۔ اور سیکیورٹی کے انتظامات پولیس اور ایف سی کے اہلکار سنبھالیں گے ۔ نظام عدل معاہدہ طے پانے کے بعد شدت پسندوں نے تو مسلح گشت ختم کر دیا تھا مگراس دوران فوج کو واپس بلائے جانے کے بجائے مزید فوج تعینات کی جاتی رہی۔۔اور چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی ۔۔جس کے نتیجے میں ۔۔اس فریق کا اعتماد ختم کرنے کی کوشش کی گئی جو معاہدے کے نتیجے میں دیوار سے لگنا شروع ہوگیا تھا ۔۔
مگر قصر سفید کی اطاعت گزار حکومت نے شاید یہ معاہدہ ہی کسی جنگی حکمت عملی کے تحت توڑنے کے لئے ہی کیا تھا جس کی تصدیق خود وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اکیس مئی کو پرائم منسٹر ہائوس میں پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اور فیڈرل کونسل کے اجلاس میں اس وقت کی جب ان یہ سوال کیا گیا کہ آل پارٹیز کانفرنس آپریشن شروع کرنے کے کئی دن بعد کیوں بلائی گئی ۔اس وقت وزیر اعظم نے یہ کہا کہ حکومت نے آپریشن کے فیصلے کو اس لئے خفیہ رکھا تھا کہ ماضی میں آپریشن اعلان کر کے شروع کرنے کا فائدہ شدت پسند اٹھاتے رہے ہیں ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر آپریشن اعلان کر کے شروع کیا جائے تو شدت پسندان علاقوں سے نکل جاتے ہیں اور فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں صرف عام شہری مارے جاتے ہیں ۔۔ابھی پیپلز پارٹی کی حکومت کو اس بیان کی بھی وضاحت کرنا ہے جو پانچ مئی کو خطے کے لئے امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے دیا ہے ۔۔

رچرڈ ہالبروک نے بغیر کسی لگی لپٹی رکھے بغیر کمیٹی کو بتایا کہ صدر زرداری انہیں پہلے ہی یہ بتاچکے تھے کہ ۔۔سوات امن معاہدہ نہیں چلے گا ۔۔مگر پیپلز پارٹی اور اے این پی کی حکومت کو یہ کریڈٹ تو دینا ہی پڑے گا ک انہوں نے الزامات کی اتنی دھول ضرور اڑا دی ہے کہ لوگ کنفیوز(ابہام کا شکار) ہوگئے ہیں ۔عوام کے کنفیوزہونے اور آپریشن کی مخالفت نہ کرنے کو حکومت نےآپریشن کی حمایت ۔مارکیٹنگ کے اس اصول پر کامیابی سے عمل کرکے کیا ہے کہ اگر لوگوں کو قائل نہیں کر سکتے تو انہیں کنفیوز تو کر ہی دو۔۔ حالانکہ اس آپریشن کو کتنی حمایت حاصل ہے ۔اس کا اندزاہآئندہ چند ہفتوں کے دوران ہی ہوجائے گا ۔۔ملاکنڈ ڈویژن کےمتاثرین کی اکثڑیت نے خیمہ بستیوںمیں پہنچنے کے بعد کہا کہ وہ اپنے گھروں سے طالبان کی وجہ سے نہیں بلکہ فوجی آپریشن کے باعث نکلے ہیں ۔۔
فوجی آپریشن کو کتنی حمایت حاصل ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جمعرات اکیس اپریل کو رلیف کیمپ میں پیدا ہونے والے دو جڑواں بچوں کے نام ان کے والدین نے صوفی محمد اور فضل اللہ رکھ دیئے ہیں ۔۔ایک اور واقعہ بھی ایسا پیش آیا ہے جس نے فوج اور برسراقتدار روشن خیالوںکی اعتدال پسندی کی قلعی کھول دی ہے ۔۔وہ طاقتیں جو پہلے ہی آپریشن راح حق شروع کرنے کا فیصلہ کر چکی تھیں انہوں نے عوام کو علاقے سے نکالنے کے بجائے بے یارو مددگار چھوڑ دیا تھا۔۔ ملاکنڈ ڈویژن کے آپریشن کے ستائے مصیبت زدہ خاندان ہجرت پر ہوئےتو انہیں نکالنے کے لئے فوج وفاقی و صوبائی حکومت ، پیپلز پارٹی اے این پی ،اور آپریشن کی حامی مسلم لیگ نوازکی جانب سے کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا ۔۔کیوں کہ جب ملاکنڈ ڈویژن کے مصیبت زدہ خاندان عورتوں ۔۔ بچوں اور رخت سفر کے ساتھ اپنے ہی وطن میں پیدل ہجرت پر مجبور ہوئے تو انہیں گاڑیوں میں پہنچانے کے لئے صرف آپریشن کی مخالف جماعت ،جماعت اسلامی اوراس کے فلاحی ادارے الخدمت فائونڈیشن کی گاڑیاں ہی موجود تھیں ۔ جماعت اسلامی کے کارکن اور الخدمت فائونڈیشن کے رضا کاراپنے اپنے علاقوں کے ایک ایک خاندان کوگاڑیوں میں بٹھا کر کیمپوں میں پہنچانے کا انتظام کرتےرہے ۔۔الخدمت کی اس خدمت کا اعتراف۔۔ جماعت اسلامی کے مخالفین میں شامل بائیں بازو کے صحافی نصرت جاوید نے بھی اپنے پرگرام بولتا پاکستان میں کیا
نصرت جاوید نے بجا طور پر کہا کہ یہ کیسے لبرل اور روشن خیال ہیں جوہزاروں خاندانوں کو ۔۔ خواتین ،شیرخواربچوں ، بیمار اور ضعیف العمرافراد کو کئی کئی میل پیدل ہجرت کرنے پر مجبور کر نے کے لئے بے یارو مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔۔انہیں خیمہ بستیوں تک پہنچانے میں نہ تو فوج کوئی مدد کرتی ہے اور نہی ہی روشن خیال مرکزی اور صوبائی حکومتوں اوراعتدال پسندوں کے دل میں کوئی انسانی ہمدردی کا احساس جاگتا ہے ۔۔ان کی روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے ۔۔ کہ متاثرین ملاکنڈ کا سب سے بڑا اورسب سے بہتر سہولیات دینے والا کیمپ۔۔ حماس کے بانی شیخ احمد یسین کے نام پر ۔۔ایک‘‘نان اسٹیٹ ایکٹر’’ لخدمت فائونڈیشن نے قائم کیا ہواہے ۔۔چند دن قبل متحدہ قومی موومنٹ نے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کو چوڑیاں پہننے کا طعنہ دیتےہوئے کہا تھا کہ انہوں نے سوات کے عوام کو ‘‘درندہ صفت ’’ طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔۔ مگر چند دن بعد اسی ‘‘ رحم دل ’’اور ‘‘فرشتہ صفت’’ جماعت نے متاثرین کو سندھ میں پناہ نہ دینے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ ۔۔ متاثرین کی آڑ میں طالبان کی یلغارہورہی ہے ۔۔








میں زبیر انجم صدیقی سے مکمل اتفاق رکھتا ہوں۔
اور بقول ابو شامل اگر قوم پرستی نے شدت اختیار کی تو پاکستان کا حال بھی خلافت عثمانیہ جیسا ھوگا۔
[جواب]
ابو شامل آپ جو لکھتے ہیں دل کو چھو جاتا ہے ۔ ۔ ۔
[جواب]
بلاگ میں مسئلے کے باعث چند تحاریر سے تبصرے اُڑ گئے تھے جن میں مندرجہ بالا 2 تبصرے بھی شامل تھے۔ انہیں بعد ازاں manually یہاں ڈالا گیا ہے۔
شارق بھائی! یہ تحریر میری نہیں بلکہ میرے محترم ساتھی بلاگر زبیر انجم کی ہے جو مہمان بلاگر کی حیثيت سے میرے بلاگ پر لکھتے ہیں۔ تحریر کو پسند کرنے پر میں اُن کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کر دیتا ہوں۔
[جواب]
[...] آپ کے بلاگ پر مہمان بلاگر زبیر انجم صدیقی کی تحریر ’’قائل نہیں کرسکتے تو کنفیوژ کردو‘‘ بھی پڑھنے کے لائق ہے۔ لکھتے ہیں: ’’جب سے سوات اور [...]