ٹیگ کی رسی

ٹیگ کی ڈوری برادر راشد کامران کے بلاگ سے ہوتی ہوئی اب ایک رسی کی صورت میں ہمارے گلے میں آ پھنسی ہے۔ سو اس کو اتارنا بھی ضروری ہے۔ برادر راشد کے شکریے کے ساتھ سوالات کے جوابات:
انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
تقریباً 9 گھنٹے روزانہ، کیونکہ کام کی نوعیت ہی ایسی ہے۔ اختتام ہفتہ پر نیٹ سے دو دن کی چھٹی کبھی کبھی بہت گراں گزرتی ہے لیکن اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ان دو دنوں میں مطالعہ اور بہت سارے اہم کام نمٹ جاتے ہیں بلکہ بسا اوقات بلاگ کے لیے تحاریر بھی انہی دو دنوں میں لکھتا ہوں۔
انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
زندگی میں تبدیلی تو آئی ہے خصوصاً خیالات و نظریات میں تو کافی زیادہ۔ بھڑکنے پھڑکنے کے بجائے اب بات کو تحمل سے سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ زندگی میں آنے والی چند تبدیلیوں کو میں انٹرنیٹ ہی کی مرہون منت سمجھتا ہوں جن میں مطالعے کی عادت اور لکھنے کا آغاز اہم ہیں۔ البتہ اس کے چند نقصانات بھی ہوئے ہیں۔ خطاطی، جس کا کسی زمانے میں بڑا شائق تھا، اب اتنی خوبصورتی سے نہیں کر سکتا جتنی کہ پہلے کرتا تھا، اب ہاتھ کے بجائے فونٹس اور خطاطی کے سافٹ ویئرز پر انحصار ہے۔

کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
بہت زیادہ اس لیے نہیں کیا کیونکہ فی الوقت گھر پر انٹرنیٹ استعمال نہیں کرتا، اس لیے تعطیلات میں زیادہ تر وقت گھر والوں کے ساتھ ہی گزرتا ہے۔ سماجی زندگی میں میں پہلے بھی اتنا زیادہ متحرک نہیں تھا اس لیے انٹرنیٹ کے آنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ ہاں یہ ہے کہ دوستوں سے اب ملاقاتیں بہت کم ہو گئی ہیں لیکن اس کا دوش انٹرنیٹ کو نہیں دوں گا۔

اس لت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
جان چھڑانے کی از خود کوشش کو کبھی نہیں کی لیکن ایک واقعے کے بعد دو سال تک انٹرنیٹ استعمال نہیں کیا تھا۔ یہ شاید 2002ء اور 2003ء کا زمانہ تھا۔ شاید اس کے بعد ہی انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے استعمال میں زیادہ محتاط ہوا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ گیمز کے بجائے کمپیوٹر کے مثبت استعمال کی جانب راغب ہوا۔ دوسری بات یہ کہ بھلا میں کیوں جان چھڑاؤں اس انٹرنیٹ سے، جس کے ذریعے مجھے اتنے با علم اور اچھے دوست ملے جن کا زندگی میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے میں اسے نعمت متبرکہ سمجھتا ہوں اور اسے ٹھکرانا کفران نعمت۔ البتہ یہ سب اس کے استعمال پر منحصر ہے ورنہ انٹرنیٹ پر شیطان کے پردادے بھی موجود ہیں، اب آپ کی مرضی ہے کہ اچھے ساتھیوں کا انتخاب کریں یا برے کا۔

کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
نہیں ایسا ہر گز نہیں۔ ایک تو گھر سے باہر کھیلنے کے مواقع بہت کم ملتے ہیں اور ایسا تب ہی ہوتا ہے جب عید وغیرہ پر خاندان بھر کے لوگ جمع ہوتے ہیں تو پھر جوانوں اور نوجوانوں کا کرکٹ میچ کھیل لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب کبھی گھومنے یا باہر جانے کا منصوبہ بنے تو فوری عملدرآمد کرتے ہیں، اس میں کسی کو رکاوٹ نہیں بننے دیتے۔

کچھ اندازہ نہيں کہ یہ سلسلہ کہاں سے کہاں تک پہنچ چکا ہے لیکن پھر بھی اپنے تکے لگا کر ڈوری ان پانچ ساتھیوں کی جانب بڑھا دیتے ہیں
شاکر عزیز، محمد علی مکی، خرم شہزاد، ابو سعد اور سیدہ شگفتہ کی جانب۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

13 تبصرے

  1. تلخابہ says:

    ہمارے جوابات سوالات کے نیچے ہی درج ہیں۔

    انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
    روزانہ تقریبا چودہ گھنٹے گزارتا ہوں جس میں آفس کا کام بھی شامل ہے۔ لیکن بلاگ کے لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ تقریبا روز ۳ گھنٹے نکالتا ہوں۔
    انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
    مختصر اگر کہوں تو کوئی خاص تبدیلی نہیں۔ آپنے آپ کو نظریاتی کہتا ہوں لیکن یہاں آنے کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ مکالمہ کی افادیت سے آگاہ ہوا ہوں ۔ میں نے بہت سارے لوگوں کو اپنا ہم نوا بنادیا ہے اور میری سوچ اور فکر میں جو خامیاں تھیں یا جو منفی پہلو میری شخصیت میں تھے وہ ان دوستوں کے سبب ختم ہوگئے۔ میں اپنے آپ کو اسلام پسند کہتا ہوں لیکن میری نیٹ یا بلاگ سے شروع ہوئی دوستی ان لوگوں کے ساتھ بھی ہیں جن کو آپ ان درجوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔ اسلام پسند، سیاسی اسلام کے حامی ، مذہبی رجحان رکھنے والے ، وہ جو اپنے آپ کو ماڈریٹس کہتے ہیں ، وہ جو لبرلز ہیں ، سوشلسٹ نظریات کے حامل ‘ مذہب مخالف اور دہریے وغیرہ۔ کئی دہریوں سے میری بہت گہری دوستی ہے۔

    کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟

    بہت زیادہ۔ اتفاق کی بات ہے جب بیچلر تھا تب انٹرنیٹ کا استعمال اتنا نہیں تھا۔ لیکن شادی کے بعد بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ البتہ میں کوشش کرتا ہوں کہ کسی طرح توازن پیدا کروں۔ اس کے لیے اب میں اپنی سوشل لائف کی قربانی دے رہا ہوں۔ عرصہ ہوا ہے کہ ہوٹلوں پر رات گئے تک بیٹھنا چھوڑ دیا ہے۔ دوستوں کے ہاں آنا جانا کم ہوگیا۔ اپنی پیاری جامعہ گئے ہوئے بھی عرصہ ہوگیا۔ اتوار کے دن کہیں نہیں جاتا مگر بیگم اور سعد خان صاحب کے ساتھ ان کو گھمانے ۔ اتوار کے روز کمپیوٹر اور انٹر نیٹ سے اتنا دور رہتا ہوں کہ جیسے یہ گناہ کبیرہ کی فہرست میں سب سے اوپر ہو۔

    اس لت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟

    نہیں کبھی نہیں کی۔ انٹرنیٹ پر میں زیادہ تر بلاگنگ کرتا ہوں یا پھر میگزین کے آرٹیکلز کے لیے ریسرچ ۔ فیس بک کا اکاونٹ بھی بلاگ کو مشتہر کرنے کے لیے بنایا ہے۔ مافیا گیم کیا ہوتے ہیں، چیٹ کیا چیز ہے یہ جاننے کی کوشش کبھی نہیں کی۔ بلاگنگ میرا مشغلہ بھی اور ترویج خیالات کا ذریعہ بھی ہے اس لیے اس کو میں لت کہتاہوں نہ ہی اس سے جان چھڑانے کی کوشش کبھی کی ۔

    کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
    گیم کھیلنا بہت پہلے چھوڑ دیا تھا۔ سال میں ایک مہینہ آبائی گائوں میں گزرتا ہے۔ ٹی وی خبریں دن میں ایک مرتبہ ۔ اس کے علاوہ نہ اخبار اور نہ ہی نیٹ۔ گھر ، دوست اور شام کو کرکٹ خوب کرکٹ کیوں کہ یہ مہینہ کرکٹ کھیلنے کے لیے مختص ہے۔ اب سولہ نومبر سے ایک مہنے یعنی پندرہ دسمبر تک گیم ہی گیم۔

  2. ابو شامل یہاں تو بڑی چیزیں چل رہی ہیں. اور ہم اپنی بھول کی سزا پا رہے ہیں. یہاں معلوم کیا تو پتہ چلا کہ نیا پاور سپلائ دو ہزار بھات کا ملے گا. سوچا کچھ دن اسکے بغیر سہی. یہ تو پاکستانی تقریبا پانچ ہزار بنیں گے. خیر تو راشد کامران صاحب نے یہ سارا کھڑاگ کاہے کو پھیلا دیا ہے.

    • نہیں جی میں نے نہیں پھیلایا .. یہ تو افضل صاحب نے پھیلایا ہے.. میں تو پہلا شکار تھا 🙂 لیکن اس بار سوالات بڑے اچھے اور ہر ایک سے متعلق ہیں. امید ہے جلد آپ کے کمپیوٹر کی پاور سپلائی کا مسئلہ حل ہوجائے گا.

    • عنیقہ صاحبہ! عجیب بات ہے۔ میری معلومات کے مطابق تو بنکاک اور کوالالمپور میں کمپیوٹر کی مصنوعات بہت سستی ہیں۔ خیر، آپ کی کمی بلاگستان میں بڑی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ امید ہے جلد واپسی ہوگی۔

  3. انٹرنیٹ کے ذریعے اچھے دوستوں تک رسائی والی بات بڑی درست ہے اور میں صرف اردو بلاگنگ کمیونٹی کو ہی دیکھتا ہوں تو انٹرنیٹ کا ایک ایسا مثبت پہلو سامنے آجاتا ہے کہ اس کے سامنے چھوٹے موٹے برے پہلو ویسے ہی گہنا جاتے ہیں.. اور یہ تو ہمیشہ سے فرد کی صوابدید ہے کے سہولت کا استعمال کس طرح کرتا ہے؛ مثلا موبائل فون کو ہی لیجیے 🙂

  4. مکی says:

    لو کر لو بات.. ہم بھی لپیٹ میں آگئی..!

    خیر لکھتے ہیں ابھی تو اردو کوڈر ڈاؤن پڑا ہوا ہے..

    • کل میں آپ کے بلاگ پر یاد دہانی کرنے آیا تو بار بار "گوگل" کی شکل دکھاتا رہا۔ سمجھ گیا کہ کوئی مسئلہ ہے۔

  5. مکی says:

    لو کر لو بات.. ہم بھی لپیٹ میں آگئے..!

    خیر لکھتے ہیں ابھی تو اردو کوڈر ڈاؤن پڑا ہوا ہے..

  6. سر آپ سے درخواست ہے کہ بلاگرز انٹر ویوز میں اپنا انٹرویو عنائیت فرما دیں شکریہ

  7. جناب، آپکی یہ بات بنکاک کے لئیے کسی حد تک صحیح ہے. میں نے یہاں سے لیپ ٹاپ لیا تھا اور کراچی کے مقابلے میں فرق تھا. لیکن میں تو اسوقت تھائ لینڈ کے ایک اور شہر پھوکٹ میں ہوں. یہ ایک خالصتا سیاحوں کے لئیے بنا ہوا شہر ہے. ایسے علاقوں میں چیزوں کی قیمت کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے.

    • Phuket کے ساحل تو دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ سونامی نے یہاں بڑی تباہی مچائی تھی اور عرصہ تک یہ علاقہ ویران رہا۔ اب کیا صورتحال ہے؟ اگر روشنی ڈالنا پسند کریں تو میری معلومات میں اضافہ ہوگا۔

  1. October 21, 2009

    [...] راشد کامران  کی طرف سے برادر ابوشامل کو آئی ٹیگ کی ڈوری انہوں نے ہماری طرف بڑھا دی ہے ۔ یہ [...]

  2. October 24, 2009

    [...] خدا جانے کہاں سے شروع ہوا اور گھومتے گھامتے میرے دوست ابو شامل کے گلے میں جا اٹکا اور انہوں نے اپنے گلے سے اتار کر میرے [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *