ٹیگ: ’اخباری غلطیاں‘


ذکر جب چھڑ گیا ۔۔۔۔

برادر راشد کامران نے ایک چنچل کا ذکر کیا تو ہماری رگ خبریت بھی پھڑک اٹھی ہے۔ سوچا کہ جس سے عرصہ ہوا تائب ہو چکا ہوں، کیوں نہ ایک مرتبہ پھر اس کا ذائقہ چکھ لیا جائے۔ تو جناب جیسے ہی یہ ارادہ کیا، ہمارے موقر اردو روزنامے “جنگ” نے ایک عظیم الشان خبر پہلے ہی تیار کر کے رکھی تھی۔

چند روز قبل پاکستان مسلم لیگ (عوامی) کے سربراہ شیخ رشید احمد پر قاتلانہ حملہ ہوا، نتیجے میں 3 محافظوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے اور خوش قسمتی سے شیخ صاحب بچ گئے۔ اس کے بعد سے الزامات کا ایک سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ اسی شور و غوغے کے دوران ان تین جاں بحق ہونے والے محافظین کی تدفین عمل میں آئی۔ اس خبر کی سرخی جنگ سے کیا جمائی ہے، ذرا ملاحظہ کیجیے۔ اور اس سرخی سے آپ کیا سمجھے ہیں؟ ہمیں بھی سمجھا دیجیے:

روزنامہ جنگ کراچی 10 فروری 2010ء صفحہ نمبر 16

Google Buzz

یوم مہران، شاہراہ مہران پر

عرصہ سے میں نے اخبارات میں آنے والی غلطیوں پر اپنے قلم کو روکے رکھا ہے لیکن آج جتنی بڑی غلطی جنگ اخبار سے کی ہے، اس نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ اس کا ذکر یہاں کیا جائے۔
آج جنگ اخبار کے صفحۂ اول پر سرخی کے نیچے ایک خبر کچھ یوں ہے

“سندھ کے عوام اتوار کو انڈس ہائی وے کے طور پر منائیں، وزیر اعلیٰ”

یہ دراصل وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی جانب سے اتوار کو “انڈس ڈے” منانے کا مطالبہ ہے جسے جنگ اخبار کے عظیم مدیران نے “انڈس ہائی وے” کر دیا۔

یوں جنگ کے کارناموں کی فہرست میں ایک اور شاندار اضافہ ہوا۔ اس کارنامے پر تو جنگ اخبار کے مدیران کا نام سنہری حروف سے لکھا جانا چاہیے۔

Google Buzz

خبر کے ساتھ اجتماعی زیادتی

پاکستان کے اردو اخبارات سے مجھے ہمیشہ یہی گلہ رہا ہے کہ انہیں خبر کے مندرجات کو جانچنے پرکھنے کی ذرا توفیق نہیں ہوتی۔ اغلاط سے بھرپور خبروں کی اشاعت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بڑی بڑی تنخواہوں پر کام کرنے والے ایڈیٹرز کو اپنا اخبار تک دیکھنے کی “فرصت” نہیں ملتی۔ ورنہ ہر مرتبہ ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار غلطیاں وجود میں نہ آتیں۔
حالانکہ اس عہدِ کمپیوٹر (کمپیوٹر ایج) میں مندرجات کو پرکھنا محض چند سیکنڈوں کا کھیل ہے۔ آپ کسی لفظ کے تلفظ میں پھنسے ہوئے ہوں یا اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں، انٹرنیٹ پر محض چند سیکنڈ آپ کی ذہن کی گھتیاں سلجھا سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود غلطیاں اور وہ بھی اجتماعی طور پر؟ ذرا ملاحظہ کیجیے
جمعرات 16 جولائی کو ملک بھر کے روزناموں میں ایران میں پیش آنے والے فضائی حادثے کی خبر شایع ہوئی۔ یہ حادثہ ایرانی دارالحکومت تہران سے آرمینیا کے دارالحکومت یریوان (Yerevan) جانے والے طیارے کو پیش آیا۔ یہ بد قسمت طیارہ قزوین کے قریب گر کر تباہ ہوا اور اس میں سوار 168 افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ خبر پاکستان کے تمام اخبارات میں شایع ہوئی جس میں جو غلطی اجتماعی طور پر کی گئی وہ آرمینیا کے دارالحکومت کا نام تھا۔ آرمینیا کے دارالحکومت کے نام کا درست تلفظ یہاں سنیے

روزنامہ ایکسپریس کراچی اسے “پیریوان” قرار دیتا ہے اور نوائے وقت کراچی نے “پریوان” لکھا ہے۔ روزنامہ جسارت نے “بڑے” اخبارات کی طرح بالکل ہی غلط تو نہیں لکھا لیکن اسے “یرویوان” قرار دیا ہے جبکہ روزنامہ امت نے اسے “یروان” قرار دیا۔ روزنامہ خبریں نے ذرا ہوشیاری دکھاتے ہوئے یریوان کا ذکر گول کر دیا لیکن قزوین کے معاملے میں دھر لیے گئے کیونکہ انہوں نے قزوین کو “قضوین” لکھا ہے۔

اب ذرا پاکستان کے سب سے بڑے اخبار اور “جو ہمارے پاس نہیں، وہ خبر نہیں” کی بڑھکیں مارنے والے “روزنامہ جنگ” کا احوال سنیے۔ انہوں نے سرخی میں آرمینیا کو آرمینا لکھا ہے۔ قزوین کو انہوں نے “قازون” قرار دیا ہے جبکہ آرمینیا کے دارلحکومت کو وہ “باریوان” کہہ رہے ہیں۔ ماشآ اللہ ۔۔۔۔ اللہ جنگ کے مانیٹرنگ سیل کو مزید صلاحیتیں، قوتیں اور “عقل” عطا فرمائے۔ جنگ اخبار کے کرتا دھرتا نجانے کتنی مرتبہ قزوین اور یریوان کے دورے کر چکے ہوں گے لیکن ان سب کو یہ توفیق نہیں کہ اپنے اخبار میں اس کا نام ہی درست لکھوا لیں۔
روزنامہ جنگ سے میری گزارش ہے کہ “جیو” پر ذرا اپنا دھیان کم کریں، گو کہ وہ بھی اِس وقت یہی عظیم غلطیاں دہرا رہے ہیں، اور اپنی تھوڑی سی توجہ جنگ پر بھی ڈالیں اور وہاں سوئے ہوئے ایڈیٹرز کو جگائیں۔ اس خبر سے جو اندازہ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کے صحافتی حلقوں میں ایک بھی شخص ایسا نہیں ہے جسے آرمینیا کے دارالحکومت کا درست نام معلوم ہو :( ویسے آپ کو یہ نام درست معلوم ہو سکتا ہے یہاں دیکھئے

Google Buzz

کیا اخبارات میں اغلاط کی دوڑ شروع ہو چکی ہے؟

پاکستان کے اردو قومی اخبارات فاش غلطیوں کے باعث اپنی ساکھ کو ہمیشہ نقصان پہنچاتے آئے ہیں۔ لیکن جب سب سے زیادہ تحقیق پر مبنی رپورٹیں شایع کرنے والا اخبار بھی فاش غلطی کر جائے تو دھچکا لگتا ہے۔ کراچی سے شایع ہونے والا روزنامہ امت سب سے زیادہ تحقیقی رپورٹیں پیش کرتا ہے خصوصاً عسکری موضوعات پر اس کے مضامین اور رپورٹیں معلومات سے بھرپور ہوتی ہیں لیکن گزشتہ روز (06 جولائی 2009ء) کی اشاعت میں صفحہ 8  پر ایک ایسی فاش غلطی کی گئی ہے جس کی ہر گز روزنامہ امت سے امید نہ تھی۔
اخبار نے امریکہ کی معروف طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے شہرۂ آفاق ایف 16 لڑاکا طیارے کی ایک بے محل تصویر شایع کی لیکن اس کے کیپشن میں اسے سویڈن کی کمپنی ساب کا ملٹی رول تیار قرار دیا ہے۔

روزنامہ امت 06-06-09

حقیقت میں یہ تصویر 22 مارچ 2003ء کو عراق پر حملے میں شریک ایک امریکی فضائیہ کے ایف 16 طیارے کی ہے۔ (اصل تصویر یہاں ملاحظہ کیجیے

اصل تصویر

سویڈن کی کمپنی ساب گریپن (Gripen) لڑاکا طیارے تیار کرتی ہے جو کسی طرح ایف 16 سے میل نہیں کھاتے۔ملاحظہ کیجیے:

گریپن لڑاکا طیارہ

علاوہ ازیں اخبارات سے التجا ہے کہ بے موقع و محل تصاویر شایع نہ کی جائیں، ان تصاویر کی حیثیت بالکل ویسی ہی ہوتی ہے جیسی کسی تقریب میں شریک خاتون کی تصویر کی۔ قاری تصویر کے قرب و جوار میں متعلقہ خبر تلاش کرتا ہی رہ جاتا ہے۔

Google Buzz