ٹیگ: ’اردو وکیپیڈیا‘


وکی نامہ

2007ء کے اواخر میں مختلف ساتھیوں کی تحریک میں نے انٹرنیٹ پر اپنی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے بلاگنگ کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس وقت بلاگنگ کے بارے میں “ککھ” نہیں پتہ تھا اور نہ ہی اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا ارادہ تھا۔ لیکن جتنے اچھے ساتھی اس میدان میں میسر آئے اور ان کی حوصلہ افزائی اور بلاگنگ سے خود کو پہنچنے والے فوائد کے باعث اسے نہ صرف مستقل چلا پایا بلکہ تحریروں کی “ڈبل سنچری” تک کر ڈالی۔

اب تک میرے بلاگ پر پیش کی جانے والی 200 تحاریر پر تقریباً 1750 تبصرے ہو چکے ہیں جو میری توقعات سے کہیں زیادہ ہیں۔ ویسے میں ذاتی طور پر بلاگ کا حوالہ بہت زیادہ نہیں دیتا لیکن جہاں ضرورت پڑتی ہے وہاں یہی کہتا ہوں کہ میرے بلاگ پر تحریر سے زیادہ تبصرے سیر حاصل ہوتے ہیں، اور یہ سب ان تبصرہ نگاروں کی بدولت ہے جو اپنا قیمتی وقت لگا کر کسی موضوع کر قابل گفتگو سمجھتے ہیں۔

اس “ڈبل سنچری” کی خوشی میں نے اپنے بلاگ پر ایک قدم آگے بڑھایا ہے اور وہ ہے وکیپیڈیا پر لکھے گئے بہترین مضامین کی بلاگ پر منتقلی تاکہ بلاگ دنیا سے وابستہ افراد اپنے قیمتی تبصروں کے ذریعے ان مضامین کو مزید بہتر بنا سکیں یا پھر نت نئے مضامین کی راہ دکھا سکیں۔ ابھی گزشتہ بلاگرز ملاقات میں ایک مرتبہ پھر کئی بلاگرز نے مطالبہ کیا کہ میں اپنے لکھے گئے وکیپیڈیا کے مضامین کو اپنے بلاگ پر منتقل کروں اور اس ضمن میں سب ڈومین بنا کر اس پر کام کا آغاز کرنے کی تجویز دی گئی۔ تکنیکی دشواریوں کے باعث میں نے عذر تراشا کہ میرے لیے یہ ممکن نہیں لیکن اردو بلاگرز بھی بڑے سیانے نکلے، عمار ضیاء خان نے چند ہی گھنٹوں میں میرے بلاگ پر سب ڈومین بنا کر اس میں ورڈپریس انسٹال کر کے حوالے کر دیا کہ اب آپ جانیں اور آپ کا نیا بلاگ۔

تو صاحبو! اب ہم پر ایک اور بلاگ لاد دیا گیا ہے “وکی نامہ” جہاں میں فی الوقت تو وکیپیڈیا پر لکھے گئے بہترین مضامین کو پیش کرنے میں جتا ہوا ہوں لیکن ایک مرتبہ بڑی تعداد میں مضامین منتقل ہو جانے کے بعد میرا ارادہ اس کو بلاگنگ کی دنیا میں اردو وکیپیڈیا کے ترجمان کے طور پر پیش کرنے کا ہے۔ لیکن فی الوقت اسے صرف مضامین تک ہی محدود رکھوں گا۔

وکی نامہ کو بہتر بنانے کے لیے مجھے قارئین کی مدد ہمیشہ کی طرح اب بھی درکار ہوگی۔ امید ہے کہ ساتھی اس سلسلے میں ضرور اپنی قیمتی آراء سے نوازیں گے۔

ابو شامل کا وکی نامہ

Google Buzz

پاکستان کی سیاسی جماعتیں- مدد درکار

اردو وکیپیڈیا پر پاکستان کے حوالے سے مقالوں پر کام کرنے کے دوران موجودہ و سابق معروف قومی سیاسی جماعتوں کے پرچموں کی ضرورت بھی پڑی اور بہت سارے پرچم وکی میڈیا کامنز میں مل گئے لیکن چند جماعتیں ایسی بھی تھیں جن کے پرچم موجود نہیں تھے۔ “اپنی دنیا آپ پیدا کرنے” کا عزم لے کر ناموجود پرچم خود بنانے کی ٹھانی۔ ابتدائی طور پر جن پرچموں کی نشاندہی کی گئی، انہیں معروف اوپن سورس ویکٹر گرافکس سافٹ ویئر انک اسکیپ پر بنایا گیا۔ نتائج آپ ذیل میں دیکھ سکتے ہیں، یہ صرف امیچز ہیں، آپ پرچم پر کلک کر کے ویکٹر ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں:

متحدہ مجلس عمل کا پرچم

متحدہ مجلس عمل کا پرچم

نیشنل پارٹی بلوچستان کا پرچم

نیشنل پارٹی بلوچستان کا پرچم

بلوچستان نیشنل پارٹی کا پرچم

بلوچستان نیشنل پارٹی کا پرچم

جمعیت علمائے اسلام کا پرچم

جمعیت علمائے اسلام کا پرچم

اسلامی جمہوری اتحاد کا پرچم

اسلامی جمہوری اتحاد کا پرچم

اب اس سلسلے کو کچھ مزید آگے بڑھانے کا ارادہ ہے۔ اگر بلاگ قارئین پہلے وکی میڈیا کامنز کے اس زمرے پر ایک نظر ڈالیں، یہاں میرے اور دیگر وکی صارفین کے تیار کردہ پاکستان کی قومی سیاسی جماعتوں کے جھنڈے موجود ہیں۔ اس فہرست کو دیکھنے کے بعد براہ مہربانی نشاندہی کریں کہ وہ کون سی معروف قومی سیاسی جماعتیں ہیں جن کے پرچم موجود نہیں ہیں اور بعد میں ان پرچموں کا کوئی بھی نمونہ پیش کر دیں ، چاہے وہ کسی بھی فارمیٹ میں ہو، تو اس کام کو مزید آگے بڑھایا جا سکے گا۔ امید ہے کہ بلاگ کے قارئین اس سلسلے میں میری اور اردو وکیپیڈیا کی ضرور مدد کریں گے تاکہ اردو کی ترویج کو ہر سمت میں آگے بڑھایا جا سکے اور پاکستان کے حوالے سے معلومات کو بہتر سے بہترین بنایا جا سکے۔

Google Buzz

بلاگ بھگوڑے کی سرگرمیاں

اردو وکیپیڈیا پر کام کرنے کا دورانیہ اس مرتبہ کچھ ایسا بڑھا ہے کہ بلاگنگ سے توجہ بالکل ہٹ گئی ہے۔ گو کہ پہلے بھی کبھی بہت زیادہ مستقل مزاجی کے ساتھ بلاگ نہيں لکھا لیکن ایسے طویل وقفے پہلے کبھی نہیں آئے جو اب آ رہے ہیں۔ امید ہے کہ وکیپیڈیا پر جاری منصوبے جلد تکمیل کو پہنچیں گے اور بلاگ کی جانب کچھ توجہ کرنے کا وقت ملے گا۔ دوسری طرف منظرنامہ ایوارڈ کے لیے ووٹنگ کا بھی آغاز ہو چکا ہے اور ووٹنگ کے خاتمے میں محض چند روز باقی ہیں۔ اتنے اعلی بلاگرز کی فہرست میں خود کو پا کر بہت خوشی ہوتی ہے اور ساتھ ہی اپنی نالائقی پر شرمندگی بھی۔ تاہم میری التجا یہی ہوگی کہ حقدار کو اس کا حق ضرور دیں اور دوستیاں نبھانے کے بجائے حقدار کو ووٹ دیں۔

چلیے اب یہاں بلاگ پر آ ہی  گئے ہیں تو وکیپیڈیا پر اپنے لکھے گئے کچھ تازہ ترین مضامین سے ہی آگاہ کرتے جائیں۔ میں نے اس حوالے سے گزشتہ تحریر میں بتایا تھا کہ انگریزی وکیپیڈیا پر پاکستان کے حوالے سے مقالہ جات کا حال بہت برا ہے اور اس لیے اردو وکیپیڈیا پر میں نے اور چند دیگر ساتھیوں نے ارادہ کیا ہے کہ اردو وکیپیڈیا پر پاکستان کے حوالے سے مقالوں کو بہتر شکل دی جائے اور انہیں انگریزی والوں کے لیے رہنما بنایا جائے۔ اسی لیے آج کی فہرست میں پاکستان کے حوالے سے مقالہ جات زیادہ ہیں۔ امید ہے بلاگ کے قارئین کی معلومات میں اضافہ ہوگا۔ ساتھ ہی یہ گزارش بھی ہے کہ اگر اغلاط نظر آئیں یا کسی معلومات کے اضافے کا ارادہ ہو تو بلا جھجک ان مضامین میں اضافہ فرماتے جائیں۔ ان مضامین میں سے چند ایسے ہیں جن میں دیگر وکی ساتھیوں کا تعاون بہت حد تک شامل رہا ہے۔

بلاگ ماہرین میری مدد کریں کہ یہاں میرے بلاگ پر چند مقامات پر بجائے متن کے سوالیہ نشان بنے آ رہے ہیں۔ یہ مسئلہ بیٹھے بیٹھے نجانے کہاں سے آ گیا۔ اسے حل کرنے میں میری کچھ مدد کریں، مشکور ہوں گا۔

پاکستان

اہم سرکاری عہدے

سیاسی جماعتیں

انتظامی تقسیم

قومی شاہراہیں

کراچی کے قصبہ جات

متفرق مضامین

Google Buzz

وکیپیڈیا سرگرمیاں

گزشتہ چند ہفتوں سے وکیپیڈیا پر سرگرمیاں کچھ زیادہ بڑھ گئی ہیں اور بلاگ پر توجہ کچھ کم ہوئی ہے، کبھی کبھی یہ بھی سوچا کہ شاید خاک وہیں پہنچ گئی ہے جہاں کا خمیر تھا :) کیونکہ میں نے انٹرنیٹ پر اردو کے لیے اپنی سرگرمیوں کا آغاز وکیپیڈیا ہی سے کیا تھا لیکن پھر بلاگ قارئین کا خیال آیا تو یہاں کا رخ کرنے کی جانب مائل ہوا، کیونکہ میں اپنے بلاگ کا اصل اثاثہ ان قارئین کو سمجھتا ہوں جو اپنے قیمتی تبصروں سے نوازتے ہیں۔

گزشتہ چند دنوں میں چند ساتھی ایسے سامنے آئے جو وکیپیڈیا کا رونا روتے رہے۔ حیرت بھی ہوتی ہے، افسوس بھی ہوتا ہے، شاید غصہ بھی آتا ہو لیکن کیا کیجیے؟۔ تقریبا تمام ہی لوگ اردو وکیپیڈیا پر “مشکل اردو” کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ اب صورتحال یہ ہے کہ میری بلاگ پر گزشتہ تحاریر کے بعد انتظامیہ نے اس معاملے پر کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ دیکھتے ہیں معترضین کیا انقلابی اقدامات اٹھاتے ہیں۔ لیکن اب وہ بڑے بڑے معترض حضرات وکیپیڈیا پر نہیں دکھائی دے رہے جو اپنے بلاگز پر یا بالمشافہ و آن لائن ملاقاتوں میں وکیپیڈیا کی “زبوں حالی” کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں اور زبان کے غم میں مرے جاتے ہیں۔ میرا ان تمام ساتھیوں سے مطالبہ ہے کہ آئیے اردو سے اپنے لگاؤ کو ظاہر کیجیے، آپ کے لیے میدان کھلا ہے، اپنے قلم کا جادو دکھائیے اور بتائیے کہ اردو اب بھی ایک زندہ زبان ہے۔ لیکن شاید یہ پکار بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوگی۔

میں پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ اصطلاحات کے مسئلے سے دور ہٹ کر ایسے ہزاروں موضوعات ہیں جن پر اردو میں معلومات منتقل کرنے کی فوری ضرورت ہے لیکن شاید لوگوں کو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کا شوق ہے۔ ایک بہت بڑے اردو فورم نے بھی اپنی مسجد الگ بنانے کی کوشش کی تھی اور اردو وکیپیڈيا کے مقابلے پر ایک الگ “انسائیکلوپیڈیا” سجانے کا اعلان کیا لیکن آدھی اینٹ ہی اٹھا پائے اور آج ان کا ڈومین تک بند ہو چکا ہے۔ بہت اچھا ہوتا اگر ان کی کوششیں ایک مشترکہ منصوبے پر لگتیں لیکن انا اور ضد کا کیا کیا جائے؟

کوئی مجھے یہ بتائے کہ متنازع اصطلاحات کے حامل مضامین کی تعداد اردو وکیپیڈیامیں کتنی ہے؟ 10 فیصد؟ 20 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 30 فیصد؟ باقی 70 فیصد کام کو کتنا سراہا گیا؟ اس سلسلے میں کام کرنے والوں کی کتنی حوصلہ افزائی کی گئی؟ میرے علاوہ تو کوئی اور بلاگ بھی نہیں لکھتا کہ اسے اپنی دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع ملے۔ کبھی کسی “اردو کے عاشق” نے وکیپیڈیا پر جا کر ان کی کوششوں پر انہیں سلام پیش کیا؟ کبھی مسجد، افغانستان، شام، عراق، تونس، لبنان، صلیبی جنگیں، غزوۂ بدر، قرآن مجید کی سورتوں پر مضامین  دیکھنے کے بعد کسی کو توفیق ہوئی کہ ان ہزار ہا الفاظ پر مشتمل معلومات کے مصنفین کو دو لفظ خراج تحسین کے کہہ دیں۔ باقی اصطلاحاتی انتشار کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لیے تو ہر شخص اپنی قابلیتیں جھاڑتا دکھائی دیتا ہے۔ اصطلاحات پر تحفظات مجھے بھی ہیں، اور میں ان کا اظہار بھی بارہا وکیپیڈیا پر اور بلاگ پر کر چکا ہوں، لیکن اس کا ہر گز یہ طریقہ نہیں ہے جسے ہمیشہ ہماری اردو کی “عاشق” برادری استعمال کرتی ہے کہ اردو وکیپیڈیا اور اس کے منتظمین و صارفین کو تذلیل کا نشانہ بنایا جائے۔ چند دوست ایسے بھی ہیں جنہوں نے ہمیشہ سنجیدہ انداز میں اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی بلکہ چند نے عملا وکیپیڈيا پر حصہ ڈالنا بھی شروع کیا لیکن بیشتر ساتھی ایسے ہیں جو فورا ہی دامن جھاڑ کر اٹھ جاتے ہیں کہ وکیپیڈیا والے تو اردو کی ایسی تیسی پھیر رہے ہیں۔ اور یہ ایک جملہ کہہ کر وہ مکمل طور پر بری الذمہ ہو جاتے ہیں اور اس اہم منصوبے کو پیروں تلے روند کر گزر جاتے ہیں۔

بہرحال اس جذباتی تقریر کے بعد مدعا یہ ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے اردووکیپیڈیا پر مصروف ہوں، بلاگ پر تحاریر بہت کم ہو گئی ہیں، جس کا احساس ہے لیکن طبیعت کی ناسازی فارغ وقت میں بلاگ کے لیے کچھ لکھنے کا موقع نہيں دے رہی۔ کوشش کروں گا کہ بلاگ کے لیے جلد از جلد کچھ لکھ پاؤں۔  فی الحال بلاگ کے کرم فرما وکیپیڈيا پر لکھے گئے تازہ مضامین ملاحظہ کریں۔

بلاد و اماکن

  • آبادان‏ – عراق کی سرحد کے قریب واقع ایک ایرانی شہر
  • ابوجا‏ – نائجیریا کا موجودہ دارالحکومت، باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قائم کیا گیا شہر
  • ارومچی‏ – چین کے مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ کا دارالحکومت
  • ازنیق‏ – ترکی کا ایک قدیم شہر جو یونانی عہد میں نیقیہ کہلاتا تھا
  • اسٹینلے‏ – جزائر فاکلینڈ کا دارالحکومت
  • بلغراد‏ – سربیا کا دارالحکومت
  • جوہانسبرگ‏ –  جنوبی افریقہ کا ایک اہم شہر
  • عین شمس‏ – مصری دارالحکومت قاہرہ کا ایک قدیم علاقہ
  • کاشغر‏‏ – چین کے مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ کا ایک اہم شہر
  • کویت شہر‏ – کویت کا دارالحکومت
  • ماپوتو‏ – موزمبیق کا دارالحکومت
  • ملبورن‏ – آسٹریلیا کا ایک اہم شہر و بندرگاہ، کھیلوں کے حوالے سے دنیا بھر میں معروف
  • ممباسا‏ – کینیا کا ایک اہم شہر و بندرگاہ
  • موریہ‏ – یونان کا جزیرہ نما
  • نواکشوط‏ – موریتانیہ کا دارالحکومت
  • ہرارے‏ – زمبابوے کا دارالحکومت

جغرافیہ

  • برقہ‏ – لیبیا کا ایک جزیرہ نما جسے انگریزی میں سائرینیکا (Cyrenaica) کہا جاتا ہے
  • جربہ‏ – بحیرۂ روم میں تونس کا ایک جزیرہ
  • کوہ کینیا‏ – کینیا کا بلند ترین اور افریقہ کا دوسرا سب سے بلند پہاڑ، عالمی ثقافتی ورثے میں شامل
  • المغرب ‏‏ – جغرافیائی اصطلاح، مغربی افریقہ کے لیے استعمال کی جاتی ہے، عموما مراکش کو کہا جاتا ہے

پاکستان

سندھ کے اضلاع

اس مرتبہ پاکستان کے اضلاع کے بارے میں مضامین کو مکمل کرنے کی ایک مہم کا آغاز کیا گیا اور ابتدائی طور پر سلمان رضوی صاحب نے پنجاب کے اضلاع اور میں نے سندھ کے اضلاع پر مختصر مضامین لکھنے کی ٹھانی۔ میرے لیے پہلا اور کٹھن مرحلہ سندھ کے اضلاع کے درست اور تازہ ترین نقشے اور ان کی درست معلومات کی دستیابی کا تھا جس میں کافی وقت صرف ہوا بلکہ یہ کہنا درست ہے کہ درست نقشوں کی تیاری نے اس مرتبہ کافی وقت ضایع کروایا بہرحال سندھ کے اضلاع کے درست ترین نقشے اور معلومات کے ساتھ پہلی مرتبہ پوری معلومات انٹرنیٹ پر دستیاب ہوئی ہے۔ یہ معلومات نہ ہی حکومت سندھ کی ویب سائٹ پر موجود ہے اور نہ ہی ضلعی حکومتوں کے مضامین میں بلکہ انگریزی وکیپیڈیا پر بھی غلط معلومات کی بھرمار ہے۔

علاوہ ازیں ضلع کراچی اور اس کے قصبہ جات (ٹاؤنز) پر مضامین لکھنے کا آغاز کیا گیا ہے اور ابھی تک تین مضامین لکھے جا چکے ہیں:

متفرق

تاریخ

  • جنگ آزادی بنگلہ دیش ‏‏ – بنگلہ دیش کی پاکستان سے  علیحدگی کے لیے لڑی جانے والی جنگ، مضمون ابھی ابتدائی صورت میں ہے

ترکیات

Google Buzz

اردو وکیپیڈیا پر تازہ سرگرمیاں

گزشتہ چند ہفتوں سے بلاگ سے غیر حاضری کی وجہ یہ تھی کہ بہت عرصے بلکہ سالوں کے بعد اردو وکیپیڈیا پر بھرپور انداز میں متحرک ہوا اور کافی مضامین تحریر کیے۔ فی الوقت مضامین لکھنے کا یہ سلسلہ بھرپور انداز میں جاری ہے، سنچری کے بعد ناٹ آؤٹ اننگ جاری ہے۔ ذیل میں حال ہی میں تحریر کردہ مضامین کی فہرست پیش کر رہا ہوں، امید ہے بہت سارے قارئین کے لیے کارآمد ہوں گے۔ مضامین کی یہ فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دی گئی ہے۔ چند مضامین صرف ابتدائی صورت میں ہیں، ان میں وقتا فوقتا اضافہ کیا جاتا رہے گا۔ اس مرتبہ یہ فہرست کچھ زیادہ طوالت کا شکار ہے اس لیے اگر کوئی پڑھ پڑھ کر تھک جائے تو اس سے پیشگی معذرت۔

تاریخ

  • امارت بخارا – وسط ایشیا کی ایک ریاست، 1785ء تا 1920ء
  • پرل ہاربر حملہ – دوسری جنگ عظیم کا ایک اہم معرکہ، جنگ کا پانسہ پلٹنے میں اس معرکے کا اہم کردار تھا۔
  • جنگ ویت نام – دور جدید کی ایک اہم جنگ، ویت نام میں اشتراکیوں کی فتح اور موجودہ ریاست کا قیام
  • چنگ خاندان – یا مانچو خاندان، چین پر حکومت کرنے والا آخری خاندان
  • خانان خیوہ – وسط ایشیا کی ایک سابق ریاست، 1511ء تا 1920ء
  • خدیو – عثمانی عہد میں مصر کے والی کا لقب۔
  • سیاہ موت – قرون وسطی میں یورپ میں طاعون کی ایک زبردست وبا، بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے باعث Black Death کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
  • عظیم کھیل – 19 ویں و 20 ویں صدی میں وسط ایشیا پر بالادستی کے لیے روس اور برطانیہ کے درمیان مسابقت کے بارے میں استعمال ہونے والی اصطلاح
  • کساد عظیم – 1930ء کی دہائی میں امریکی و عالمی معیشت کا ایک زبردست بحران Great Depression
  • محاصرۂ مالٹا – عثمانی ترکوں کی جانب سے بحیرہ روم کے جزیرے مالٹا کا ناکام محاصرہ
  • معاہدۂ ورسائے – پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور اتحادی قوتوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ
  • نازی جرمنی – دوسری جنگ عظیم سے قبل نازی پارٹی اور ایڈولف ہٹلر کے زیر اقتدار جرمنی
  • نشاۃ ثانیہ –قرون وسطی میں جہالت کے اندھیروں سے یورپ کی کروٹ، مغرب میں ایک نئے دور کا آغاز

شخصیات

بلاد و اماکن

  • برسلز – بیلجیئم کا دارالحکومت
  • بیونس آئرس – ارجنٹائن کا دارالحکومت
  • ترکی – ایشیا و یورپ کے سنگم پر واقع ایک اہم ملک
  • تل ابیب – اسرائیل کا اہم ترین شہر
  • تونس شہر – تونس کا دارالحکومت
  • الجزائر شہر – الجزائر کا دارالحکومت
  • ریو دے جینیرو – برازیل کا مشہور شہر
  • ساؤ پالو – برازیل کا سب سے بڑا شہر
  • طرابلس، لیبیا – لیبیا کا دارالحکومت
  • قارص – ترکی کا ایک شہر
  • قرطاجنہ – فونیقیوں کا قائم کردہ قدیم شہر، آج صرف کھنڈرات کی صورت میں باقی ہے
  • کنشاسا – عوامی جمہوریہ کانگو کا دارالحکومت
  • کیپ ٹاؤن – جنوبی افریقہ کا اہم شہر و بندرگاہ
  • لاس اینجلس – امریکہ کا مشہور شہر، تعلیمی و تفریحی لحاظ سے دنیا میں ممتاز مقام کا حامل
  • لاس ویگاس – امریکہ کا شہر، قمار بازی کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور
  • لاگوس – نائجیریا کی اہم بندرگاہ و سابق دارالحکومت
  • ماسکو – روس کا دارالحکومت
  • مالدووا – مشرقی یورپ کا ایک ملک
  • میکسیکو شہر – میکسیکو کا دارالحکومت
  • نیروبی – کینیا کا دارالحکومت

تعمیرات

متفرق

جغرافیہ

Google Buzz

Wikipedia meetup “Karachi 1″

18 اکتوبر 2009ء بروز اتوار

بمقام میک ڈونلڈز، نجیب سینٹر، طارق روڈ، کراچی

شرکاء:

  1. ثاقب قیوم (صارف وکی میڈیا کامنز)
  2. رابعہ ظفر (صارف انگریزی وکیپیڈیا)
  3. فہد احمد کیہر (منتظم اردو وکیپیڈیا)
  4. محمد علی مکی (صارف اردو وکیپیڈیا)
  5. ندیم احمد اعوان (صارف اردو وکیپیڈیا، مقامی صحافی)
  6. جمال عبد اللہ عثمان (مقامی صحافی، کالم نگار)

لائحہ عمل:

  • شرکاء کا تعارف
  • وکیپیڈیا کے بارے میں آپ کے تاثرات، تجربات
  • وکی پروجیکٹ پاکستان
  • اردو وکیپیڈیا
  • پاکستان میں وکیپیڈیا کی تشہیر تاکہ ملک میں آزاد معلومات کے نظریے کو پھیلایا جا سکے
  • سوالات و جوابات
  • اگلی ملاقات

وکیپیڈيا کے بانی جمی ویلز کا پیغام برائے شرکائے “کراچی 1″

بہت خوب! حال ہی میں میرا چین میں پاکستانی سفیر کے گھر جانا ہوا۔ میرے ايک دوست بھی ہیں جو پاکستان میں ٹی وی پر کام کرنے والے صحافی ہیں۔ اس پہلے اجلاس کا سن کر بہت خوشی ہوئی اور میں بہت مشتاق ہوں کہ اگلے سال میں کسی وقت پاکستان جاؤں اور ادھر کے وکیپیڈیا گروہ سے ملاقات کروں۔ یہ بڑا اچھا ہوگا کہ پاکستانی وکیپیڈیا گروہ متحرک و منظم ہو جائے تاکہ ہم ایسی ملاقاتوں سے بذریعہ تشہیر (پریس کوریج) زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے اور مختلف امکانات، خصوصاً ان پر جو اردو وکیپیڈیا سے متعلق ہوں، اپنی توجہ مبذول کر سکے۔ میرے لیے سب سے قابلِ توجہ موضوعات میں ہندی و اردو وکیپیڈیا کا آپس میں تعاون ہے کیونکہ دونوں زبانیں کافی ملتی جلتی ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ لوگ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ خود آپ کے لیے زیادہ قابلِ توجہ موضوعات کون سے ہیں۔

تعارف:

ابتداء میں شرکاء نے ذاتی تعارف پیش کیا اور وکیپیڈیا کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کیے اور بتایا کہ وہ کس طرح وکیپیڈیا سے متعارف ہوئے اور بعد ازاں کیسے اس میں شمولیت اختیار کی۔

مسائل:

انگریزی وکیپیڈیا پر (تخریب کاری) vandalism کا مسئلہ ، نئے صارفین کے لیے کام میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

ہندوستانی وکی صارفین کی بہت بڑی تعداد کے باعث پاکستانی صارفین کے لیے کام کرنا بہت زیادہ مشکل ہے۔ افرادی قوت کی کمی وکی پروجیکٹ پاکستان کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب ہے۔

انگریزی وکیپیڈیا پر صارفین کی تعداد بہت زیادہ ہونے کے باعث ایک نئے صارف کے لیے چومکھی جنگ لڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کی بہ نسبت اسے اردو وکیپیڈيا پر زیادہ آسان میدان میسر ہے جہاں وہ با آسانی اپنا کام کر سکتا ہے۔

اردو وکیپیڈيا پر لکھنے اور پڑھنے کے حوالے سے درپیش مسائل سے زیر بحث آئے۔ جن پر شرکاء کو اس ضمن میں تکنیکی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

انگریزی وکیپیڈیا پر پاکستان کے حوالے سے بہت سارا مواد تفصیل کا طالب ہے جبکہ اردو وکیپیڈیا پر تو صورتحال بہت ہی زیادہ خراب ہے، وہاں پاکستان کے حوالے سے مواد بہت زیادہ موجود نہیں۔ کئی پاکستانی صدور، وزرائے اعظم اور اہم رہنماؤں پر مقالے سرے سے موجود نہیں حتیٰ کہ تقسیم ہند اور تحریک پاکستان کا مقالہ بھی نہیں پایا جاتا۔ اس کے علاوہ پاکستان پر جغرافیائی مضامین کی بھی بہت کمی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر کام کیا جائے۔

انگریزی پر پاکستان کے حوالے سے اچھے مضامین کی کمی ہے۔ پورے وکی پروجیکٹ پاکستان میں ایک بھی “منتخب مقالہ” (Featured Article) نہیں ہے۔

ہندی سے تعاون کرنے کی جو رائے جمی ویلز کی جانب سے پیش کی گئی ہے اس پر عملدرآمد کے امکانات کم ہیں، کیونکہ ہندی وکیپیڈیا پر سنسکرت کی مشکل ترین اصطلاحات بالکل اسی طرح استعمال کی جا رہی ہیں جس طرح اردو وکیپیڈیا پر عربی اصطلاحات۔

اردو وکیپیڈیا پر کام کرنے والے افراد کمیونٹی میں زیادہ متحرک نظر آتے ہیں، وہ یا تو خود بلاگر ہیں یا بلاگرز سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں انگریزی وکیپیڈیا پر کام کرنے والے افراد کمیونٹی میں زیادہ متحرک نہیں ہیں، جس کی وجہ سے انہیں افرادی قوت کی کمی کا مسئلہ درپیش آ رہا ہے۔

انگریزی وکیپیڈیا پر تمام تر مسائل کے باوجود ہمیں اردو کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے کیونکہ انگریزی وکیپیڈیا، گو کہ زیادہ موثر ہتھیار ہے، کے مقابلے میں اردو وکیپیڈیا کی اہمیت ہمارے لیے اس لیے زیادہ ہے کیونکہ ایک کم پڑھے لکھے معاشرے کے لیے اردو زبان کا مواد زیادہ موثر ہوگا۔

اردو وکیپیڈیا پر زیر استعمال اصطلاحات کے حوالے سے شرکاء نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تاہم اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ سائنسی و تکنیکی مضامین کے علاوہ ایسے بہت سے اہم موضوعات ہیں جن پر تنازع پیدا کیے بغیر لکھا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں خاص طور پر تاریخ ہند و پاک پر زور دیا گیا۔

تجاویز:

اخبارات میں وکیپیڈیا پر مضامین شایع کروانے چاہئیں، خصوصاً اس صورتحال میں مضامین کی اشاعت کی ضرورت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ اخبارات انگریزی و اردو وکیپیڈیا سے بڑی حد تک استفادہ کرتے ہیں۔

پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے نکلنے والے جرائد میں وکیپیڈيا کے حوالے سے مضامین کی اشاعت کے امکانات بہت زیادہ ہیں اس لیے اس جانب توجہ کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین وکیپیڈيا کی جانب متوجہ ہوں خصوصاً اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے۔ اس سلسلے میں اسپائیڈر اور انٹرنیٹ میگزین کے نام خاص طور پر لیے گئے جبکہ اردو وکیپیڈیا کے لیے گلوبل سائنس وغیرہ کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں قومی اخبارات میں شایع ہونے والے آئی ٹی کے صفحات کو بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے وکیپیڈیا کا معلومات کے آزادانہ پھیلاؤ کا نظریہ زیادہ سے زیادہ آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور اس طرح وکیپیڈیا کو نیا خون بھی میسر آ سکتا ہے۔

انگریزی وکیپیڈیا کے صارفین مقامی کمیونٹی میں متحرک ہوں، خصوصاً بلاگرز کو اس جانب متوجہ کریں کہ وہ انگریزی وکیپیڈیا پر پاکستانیوں کی افرادی قوت میں اضافہ کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پروجیکٹ پاکستان کئی ماہ سے غیر فعال ہے۔

اردو وکیپیڈیا کی تشہیر کے لیے ‘تشہیری بٹن’ بنا کر اردو ویب سائٹس اور بلاگز پر فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ پاکستان میں معلومات کے آزادانہ پھیلاؤ کے نظریے کی ترویج کا حصہ بنیں۔

وکیپیڈیا پر کام صرف اور صرف مضامین لکھنا نہیں بلکہ زمرہ جات (کیٹگریز) کی درستگی، روابط (لنکس) ڈالنا، املاء کی غلطیاں درست کرنا، تصاویر شامل کرنا اور دیگر چھوٹے موٹے کام بھی اپنی جگہ بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کو انجام دینے کے لیے بھی خاص طور پر اردو وکیپیڈیا کو افراد کی ضرورت ہے، جبکہ انگریزی میں پروجیکٹ پاکستان وغیرہ کو متحرک کرنے کے لیے صارفین کی اشد ضرورت ہے۔

تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے اردو وکیپیڈیا زیادہ موثر ہے نسبتا انگریزی وکیپیڈيا کے۔ کیونکہ انگریزی میں مضامین پہلے سے تیار شدہ ہیں، جن میں آپ ایک حد تک اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اردو میں تخلیقی مواد پیش کرنے کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ انگریزی وکیپیڈیا کے مقابلے میں اردو وکیپیڈیا ابھی تعمیری مراحل میں ہے اور اس پر بہت زیادہ مواد کیے جانے کی ضرورت ہے۔

اردو وکیپیڈیا کی ترویج کے لیے ہندی وکیپیڈیا والی حکمت عملی اپنائی جا سکتی ہے جس کے مطابق انگریزی وکیپیڈیا پر کام کرنے والے افراد کسی بھی مضمون پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ابتدائیے کا اردو ترجمہ اردو وکیپیڈیا پیش کریں گے۔ اسی حکمت عملی کو اپناتے ہوئے آج ہندی وکیپیڈیا جو کچھ عرصہ قبل اردو سے بہت پیچھے تھا، اب کہیں آگے نکل چکا ہے۔

فیصلے:

انگریزی وکیپیڈیا پر مضامین میں کام کرنے والے افراد کم از کم تعارفی حصہ اردو میں ترجمہ کر کے اردو وکیپیڈیا کے لیے پیش کریں گے۔

عربی وکیپیڈیا سے تراجم اردو وکیپیڈيا پر پیش کیا جائیں گے۔

اردو وکیپیڈيا پر پاکستان کے حوالے سے موجودہ مضامین میں اضافہ کیا جائے گا اور اہم مضامین کی تخلیق کے لیے منصوبہ تشکیل دیا جائے گا۔

پاکستان کے حوالے سے تصاویر کی کمی ہے۔ جو ساتھی اپنی تصاویر دائرۂ عام میں دینا چاہتے ہیں، وہ اس سلسلے میں ثاقب قیوم کی مدد کریں گے۔

اگلی ملاقات موجودہ میٹنگ کے فیصلوں پر عملدرآمد کی روشنی میں جلد از جلد طے کی جائے گی۔

ویب سائٹس/بلاگز پر اردو وکیپیڈیا کی تشہیر کے لیے ‘تشہیری بٹن’ بنائے جائیں گے۔

انگریزی وکیپیڈیا سے وابستہ افراد کمیونٹی میں متحرک ہوں تاکہ بلاگرز اور دیگر انٹرنیٹ صارفین کو انگریزی وکیپیڈيا پر لکھنے پر آمادہ کیا جا سکے۔

سوالنامہ:

آخر میں شرکاء سے سوالنامہ بھروایا گیا جس سے اندازہ لگایا گیا کہ صارفین وکیپیڈیا کے بارے میں کتنا جانتے ہیں۔

Google Buzz

جہان تازہ، افکار تازہ

اردو وکیپیڈیا پر سرگرمیاں بدستور جاری ہیں اور مندرجہ ذیل وہ مضامین ہیں جو گزشتہ تحریر کے بعد اب تک “دریا میں ڈال” چکا ہوں۔ ان میں بیشتر مضامین ابتدائی صورت میں ہیں کیونکہ فی الوقت ابتدائیہ کی حد تک معلومات اردو میں منتقل کرنے کو ہدف بنا رکھا ہے اس کے بعد تفصیلات کو شامل کیا جاتا رہے گا۔ البتہ چند مضامین تفصیلی بھی ہیں۔
امید ہے کہ اردو میں نئی معلومات کے خواہاں افراد کے لیے دلچسپی کے حامل ہوں گے۔ ساتھ ساتھ “اصطلاحات سازی” پر معترض ساتھیوں کو بھی اندازء ہوگا کہ اصطلاحات سازی کے علاوہ اور بھی بہت کچھ اردو وکیپیڈیا پر ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ مندرجہ ذیل تمام تحاریر حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دی گئی ہیں۔

تاریخ

  • آہنی پردہ – سوویت اتحاد کے زیر نگیں ممالک کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح جسے برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے استعمال کیا (انگریزی: Iron Curtain)
  • انقلاب اکتوبر – انقلاب روسکا دوسرا حصہ جس میں ولادیمیر لینن کی زیر قیادت بالشیوک انقلابی بر سر اقتدار آئے
  • انقلاب فروری – انقلاب روس کا پہلا حصہ جس میں زار نکولس دوئم کے اقتدار کا خاتمہ ہو گیا
  • برلن ناکہ بندی – دوسری جنگ عظیم کے بعد منقسم برلن کے مغربی حصے کی سوویت ناکہ بندی، سرد جنگ کا اہم واقعہ
  • پرتگیزی سلطنت – دنیا کی پہلی نو آبادیاتی سلطنت
  • ترک جنگ آزادی – پہلی جنگ عظیم کے بعد اتاترک کی زیر قیادت ملک کو اتحادیوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی مہم،
  • جرمن اتحاد مکرر –مشرقی و مغربی جرمنی کا دوبارہ اتحاد، دیوار برلن کا انہدام، سرد جنگ کا خاتمہ (انگریزی: German Reunification)
  • سفید تحریک – انقلاب کے بعد  روس میں بالشیوک اقتدار کے خلاف ناکام تحریک
  • سلطنت روس – 18 ویں سے 20 صدی تک کا روس
  • سلطنت ہسپانیہ – عالمی تاریخ کی سب سے بڑی نو آبادیاتی ریاست
  • عرب بغاوت – پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ سے عربوں کی گئی بغاوت۔ نتیجتاً عرب علاقے عثمانیوں کے ہاتھوں سے نکل گئے  (انگریزی: Arab Revolt)
  • فرانسیسی استعماری سلطنت – نو آبادیاتی دور میں فرانس کے زیر نگیں علاقوں پر مشتمل سلطنت
  • کریمیائی تاتاریوں کی جبری ملک بدری – دوسری جنگ عظیم میں سوویت اتحاد کی جانب سے کریمیا کے مسلمانوں کی جبری ملک بدری
  • گولاگ – استالن دور میں سزا کے طور پر جبری مشقت کا نظام(انگریزی: Gulag)
  • مارشل منصوبہ – دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی معاشی بحالی کے لیے پیش کیا گیا امریکی منصوبہ  (انگریزی: Marshal Plan)
  • مشرقی اتحاد – سرد جنگ کے دوران سوویت اتحاد کے زیر اثر یورپی ممالک کا اتحاد  (انگریزی: Eastern Bloc)
  • معرکۂ استالن گراد – دوسری جنگ عظیم کا اہم ترین معرکہ، نازی جرمنی کی شکست سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا
  • وارسا معاہدہ – سوویت اتحاد کے زیر اثر اشتراکی ممالک کے درمیان طے پانے والا دوستی کا معاہدہ  (انگریزی: Warsaw Pact)
  • ولندیزی سلطنت –ولندیزیوں کی نو آبادیاتی ریاست

شخصیات

بلاد و اماکن

  • افلاق –مشرقی یورپ کا تاریخی علاقہ، موجودہ رومانیہ میں شامل، (انگریزی: Wallachia)
  • سرائیوو ‏ -بوسنیا کا دارالحکومت
  • طرابلس –لیبیا کا دارالحکومت
  • طلیطلہ –ہسپانیہ کا تاریخی شہر
  • فلپائن‏ – مشرق بعید کا اہم ملک
  • مشرقی برلن – سرد جنگ کے دوران نقسم برلن کا مشرقی حصہ جو سوویت اتحاد کے زیر انتظام تھا
  • مشرقی جرمنی – سرد جنگ کے دوران منقسم جرمنی کا مشرقی حصہ جو سوویت اتحاد کے زیر انتظام تھا
  • مغربی برلن‏ – سرد جنگ کے دوران منقسم برلن کا مغربی حصہ جو اتحادیوں (امریکہ، برطانیہ، فرانس) کے زیر انتظام تھا
  • مغربی جرمنی – سرد جنگ کے دوران منقسم جرمنی کا مغربی حصہ جو اتحادیوں (امریکہ، برطانیہ، فرانس) کے زیر انتظام تھا
  • میدرد –ہسپانیہ کا موجودہ دارالحکومت

متفرق

  • اولمپک مقاطعے –مختلف مواقع پر مختلف ممالک کی جانب سے اولمپک کھیلوں کا مقاطعہ
  • کوجاتپہ مسجد –ترک دارالحکومت انقرہ کی ایک شاندار مسجد
  • اچ شریفلی مسجد –ترکی کے شہر ادرنہ کی ایک تاریخی مسجد
  • زرخیز ہلال – مشرق وسطیٰ کے ایک علاقے کے لیے استعمال ہونے والی ایک قدیم اصطلاح (انگریزی : Fertile Crescent)
Google Buzz

اردو وکیپیڈیا پر اصطلاحات – وکی انتظامیہ کا موقف

سوائے شاعری ، نثر (ادبی) اور مذہب کے ، تمام تر علوم میں انتہائی پسماندہ اردو زبان کے لیے اردو دائرۃ المعارف نے ابتداء سے ہی یہ کوشش رکھی کہ جس قدر ہوسکے ان علوم کی اصطلاحات کو اردو ہی میں درج کیا جائے جو کہ اردو سے غالباً یکسر ناپید ہیں۔ اس کوشش کے دوران جب کسی اصطلاح کا ایسا اندراج سامنے آئے کہ جو عربی ابجد کو استعمال کرتے ہوئے انگریزی میں (یعنی عربیزدہ انگریزی) لکھا گیا ہو تو دائرۃ المعارف کی جانب سے اس کی اصلاح کر کے اردو متبادل سے تبدیل کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ اس سعی پر جو بار بار کا ایک گھسا پٹا رد عمل سامنے آتا ہے وہ ہے کہ ؛ “—–اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے—–” اور اس دقیانوسی رٹے رٹائے جملے کو ادا کر کے سمجھ لیا جاتا ہے کہ تمام مسائل حل ہو گئے اور اب اردو میں کسی ترقی کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ وہ تو ہر زبان سمو لینے کی قدرتی صلاحیت سے مالا مال ہے ہی ، ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔

مولوی یا کچھ اور؟

فی الحقیقت یہی “—–اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے—–” والی سوچ ہے کہ جس نے اردو کو ترقی یافتہ زبانوں کی جانب لے جانے والے تمام دروازوں کو ہمیشہ بند رکھا۔ گو اردو میں علومِ دنیا کے موضوعات پر ناکافی (سائنسی) ادب ہونے اور بطور خاص سائنس میں اسلامی دنیا کی پسماندگی کا الزام تجزیہ نگاروں نے مولویوں پر بارہا لگایا ہے کہ ان مولویوں نے اسلامی زبانوں کو سائنس سے دور رکھا ، یہ بات مکمل طور پر درست نہیں بلکہ شائد بالکل درست نہیں ، اسلامی ممالک میں بولی جانے والی زبانوں (خواہ وہ عربی ابجد استعمال کرتی ہوں یا غیر عربی) اور بالخصوص اردو میں دنیاوی علوم پر مستند مواد کی ناقصیت و ناپیدی مولویوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی متعدد وجوہات کے ساتھ ساتھ مذکورہ بالا دقیانوسی سوچ بھی ایک وجہ ہے جس نے ہر زمانے میں سائنسی اصطلاحات کو اردو میں تلاش کرنے سے متعلق ناصرف عدم دلچسپی پیدا کی بلکہ ان اصطلاحات کو رائج العام ہونے سے بھی روکے رکھا۔

سمونا کیا ہے؟

اگر اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے تو پھر اول تو یہ کہ اس میں سوائے انگریزی کے دیگر زبانوں کے الفاظ کیوں نہیں سموئے جاتے؟ اگر اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے تو پھر اس میں کتنے الفاظ جاپانی کے ہیں ؟ کتنے فرانسیسی کے ہیں ؟ اور جو انگریزی کے سوا دیگر زبانوں کے چند ایک الفاظ ہیں بھی (جیسے جاپانی کا رکشا) تو وہ بھی انگریزی ہی سے سموئے گئے ہیں ؛ بلکہ مضحکہ خیز بات یہ کہ انگریزی کا سمجھ کر ہی سموئے گئے ہیں۔ اگر اردو دیگر زبانوں کے الفاظ سے مل کر وجود میں آئی تھی تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے یہ بہانہ تراش لیا جائے کہ اردو میں تمام کے تمام الفاظ بس انگریزی سے لے لے کے لکھے جاتے رہیں؟ آج کی بولی جانے والی زبانوں میں سے کون سی زبان دنیا کی ایسی ہے کہ جو اپنے سے قدیم (بسا اوقات ناپید) زبان سے الفاظ نہیں لیتی؟ مگر ان زبانوں کے بولنے والے تو کبھی یہ بہانا نہیں تراشتے کہ ہماری زبان میں ہر لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے! کیوں؟ انتہائی عام مثال ہے ؛ germ کے لیے بنے ہوئے الفاظ جرثوم ، جراثیم حتیٰ کے اس میں عربی قاعدے کے مطابق ہ کے اضافے سے جرثومہ تک بن جانے کے باوجود آج بھی عربی کی لغات میں اسے غیر عربی ہی لکھا جاتا ہے۔

کیا صرف اردو؟

یہ دوسری زبانوں کو اپنے اندر سمو لینے والی بات محض اردو زبان کے لیے مخصوص نہیں ہے؛ ہر زبان انسانی رابطے کا ایک ذریعہ ہوتی ہے اور اس زبان کو استعمال کرنے والے افراد اس میں وہ الفاظ استعمال کر سکتے ہیں کہ جس کے بارے میں ان کو یہ اندازہ ہو کہ وہ مخاطب کی سمجھ میں آ جائیں گے۔ کسی بھی زبان میں اس کے قواعد کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے ، کسی دوسری غیر زبان کا کوئی بھی لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے؛

جیسے اردو میں کہا جائے کہ : اس نے خود کو اس کام کے لیے کمیٹڈ کر لیا ہے۔

تو ایسے ہی انگریزی میں کہا جاسکتا ہے کہ : He was a prominent mufassir of his time.

مذکورہ بالا دونوں مثالوں میں جب تک مُخاطِب اور مُخاطَب واضح کیے گئے بالترتیب اردو اور انگریزی کے لیے غیر زبان کے الفاظ سے واقف نہیں ہونگے ان الفاظ کا استعمال نہیں کیا جائے گا، یعنی کسی — روزمرہ — گفتگو کی زبان میں وہی الفاظ اختیار کیے جاتے ہیں کہ جو رائج ہوں (رائج پر بحث آگے کسی قطعے میں آئے گی)۔ انگریزی اور اردو کے ان دو چھوٹے سے جملوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اردو میں کوئی ایسی انوکھی خوبی نہیں ہے کہ وہ دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر سموتی رہے ، ایسا تو ہر زبان میں ممکن ہے گو یہاں محض نویسات کی طرزیاتی قیود کے باعث منگولی ، بنگالی اور جاپانی وغیرہ کی مثالیں نہیں لکھی گئیں۔

سموئے ہیں یا ٹھونسے گئے؟

درحقیقت یہ سمونے والا لفظ ایک دھوکا اور فریب ہے، معاملہ کچھ یوں ہے کہ اردو میں انگریزی کے جو الفاظ روزمرہ گفتگو میں دھڑا دھڑ اور بلا کسی شرم و افسوس کے استعمال کیے جاتے ہیں وہ بیچاری اردو نے اپنے اندر سموئے نہیں ہیں ، وہ تو اس کے اندر زبردستی ٹھونسے گئے ہیں۔ کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ پندرھویں صدی کے اوائل سے انیسویں صدی کے اواخر تک ہندوستان پر قائم رہنے والی حکومت میں ابتدائی طور پر فارسی اور پھر اردو کے بجائے انگریزی زبان استعمال کی جاتی تھی؟ اور کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ اس قدر طویل المیعاد حکومت کسی بھی قسم کی سائنسی سرگرمی سے یکسر نا بلد رہی ہو؟ کیا ہندسیات ، طرزیات اور ریاضیات کے علوم سے لاعلم افراد ہمایوں کا مقبرہ ، فتح پور سیکری اور تاج محل و لال قلعہ جیسی تعمیرات کر سکتے ہیں؟ کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ جدید علوم اور دنیاوی ترقی سے ناآشنا حیدر علی اور پھر ٹیپوسلطان کی افواج ، چین میں دریافت ہونے والے بارود کے استعمال کو نفاست اور ترقی کی انتہا پر لے جا کر اسے کامیابی کے ساتھ بطور missile استعمال کرسکتی ہو؟ [1]یا پھر کیا یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ مذکورہ بالا تمام تر دنیاوی علوم کی ترقی اس زمانے میں فارسی اور اردو میں نہیں بلکہ انگریزی میں ہو رہی تھی؟ یہ تو وہ زمانہ تھا کہ جب انگریزی کے رنگ برنگے الفاظ تو کجا ، خود لفظ —- انگریزی —- بھی ناپید تھا۔

کہاں بنی اور کہاں بگڑی؟

عہد مغلیہ کے ابتدائی دور میں عربی اور فارسی کو سرکاری زبان کی حیثیت حاصل رہنے اور پھر درجہ بہ درجہ شاہجہاں کے دور تک اردو کے ایک مسلمہ زبان صورت اختیار کرنے [2]سے  یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اردو کی ابتداء بھی کوئی پندرھویں صدی سے ہی ہوئی ہوگی، لیکن ایسا نہیں ہے آج سے کوئی نو سو سال قبل ، سلطنت دلی سے بھی پہلے ، وسط ایشیا کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لشکروں میں ایک بین اللسانی رابطے کی زبان وجود پاچکی تھی جس کو ریختہ بھی کہا جاتا ہے [3]اس زبان ریختہ میں وسط ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی وجہ سے فارسی کا بہت گہرا اثر تھا، اس میں ترکی بھی پائی جاتی تھی اور عربی بھی۔ اور پھر جب ان لشکروں کا ہندوستان پر اثر بڑھتا گیا اور سلطنت دلی کے وجود پا جانے کی وجہ سے ان کی زبان ریختہ ہندوستان کے علاقائی لسانی قواعد سے امتزاج کرتی گئی اور رفتہ رفتہ بارہویں صدی کے آغاز سے اردو کی تشکیل کا آغاز ہوا۔ دنیا کے دوسری جانب کا منظر بطور اندازہ بیان کیا جائے تو یہ وہ زمانہ تھا کہ جب اسپین میں امارت غرناطہ اپنی بقا و فنا کی کشمکش سے ابھی دور اور نسبتاً پرسکون سی تھی۔ امیر خسرو(1253ء1325ء) کو اس نئی بننے والی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ہے۔

عروج

یہ بات تو بکثرت لکھی جاتی ہے کہ عرب سائنسدانوں (جن میں تمام مادری زبان والے عرب نہیں تھے) نے اعداد اور صفر کا تصور ہندوستان سے لیا اور اسی وجہ سے اعداد کو ہندسہ بھی کہا جاتا ہے لیکن اس بارے میں تحقیق بہت ناکافی ہے کہ طارق بن زیاد کے اسپین میں داخل ہونے کے ساتھ 711ء میں ہی ہندوستان میں داخل ہو کر 1857ء تک موثر رہنے والے ان افراد کی سائنس و طرزیاتی میدانوں میں سرگرمیاں کیا رہیں کہ جن کا رسم الخط موجودہ اردو کی پیدائش کا موجب بنا۔ لیکن بہرحال ایک بات طے ہے کہ ہڑپہ کے زمانے سے انیسویں صدی تک جو بھی سائنسی ترقی ہوئی اس میں انگریزی زبان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ عہد مغلیہ کی بات کی جائے تو یہ بات متعدد تاریخی دستاویزات سے ظاہر کہ تعمیرات (اور اس سے متعلقہ ہندسیات و ریاضیات، پارچہ بافی، حرکابی ہندسیات ، علم طب اور ادویہ سازی کے شعبہ جات جامد نہیں تھے بلکہ مغل اپنے ساتھ ہندوستان میں اسلامی دنیا کی طرزیات اور علوم بھی لائے تھے؛ مغل بادشاہ بہادر شاہ اول کے پوتے محمد شاہ (روشن اختر) کے کہنے پر جے سنگھ سوائی (1688ء تا 1743ء) نے دلی میں جنتر منتر کے نام سے رصد گاہ تعمیر کی[4]،  جس میں قدیم ہندوستانی اور اسلامی علوم فلکیات سے استفادہ کیا گیا اور اردو چونکہ شاہجہاں کے زمانے سے سرکاری دستاویزات تک رسائی حاصل کر چکی تھی لہذا اس جنتر منتر کی تعمیر  کے دوران درکار روابط میں اردو کا کردار غیر موجود کہنا بھی غیر منطقی بات ہوگی۔ اب اس بات میں کلام نہیں کہ یہ تمام سرگرمیاں اور تحاریک ، انگریزی کی بیساکھیوں کے بغیر جاری تھیں۔

انگریزی کی بھرمار کا پس منظر

عربی کی ایک ضرب المثل یہاں صادق آتی ہے جس کا ترجمہ ہے کہ ‘لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں’۔ اردو کا مسئلہ بھی یہی ہے کہ انگریزوں نے برصغیر پر راج کیا اور اپنا اقتدار برصغیر کو آزاد کرنے کے بعد بھی کسی نہ کسی حد تک قائم رکھا۔ لارڈ میکالے اور دیگر انگریزوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ اگر اس علاقے پر اپنا اقتدار قائم رکھنا ہے تو انہیں ان کی زبان سے محروم کر دو اور ایسے لوگ پیدا کرو جو رنگ و نسل میں تو ہندوستانی ہوں مگر چال ڈھال اور نظریات میں انگریز بننے میں سبقت کی کوشش کرتے رہیں۔ اگر انگریز نہ ہوتے تو اردو کی ترقی اس نہج پر آ چکی تھی کہ برما (رنگون) سے لے کر کابل تک بے شمار لوگ اردو بول اور سمجھ سکتے تھے حالانکہ یہ ان کی مادری زبان نہ تھی۔ اردو ایک انتہائی بڑے علاقے کی مشترک زبان بن رہی تھی جس کی آبادی دنیا کا پانچواں حصہ تھی۔ مگر پہلے تو انگریزوں نے تعلیم کا طریقہ بدلا اور انگریزی کو رائج کیا۔ پھر رسم الخط کا جھگڑا کھڑا کیا جس سے اردو ایسی زبان بن گئی جسے دو مختلف رسوم الخط میں لکھنے روایت پڑی۔ ہندو اکثریت نے اردو کو ہندی کہا اور اس میں عربی اور فارسی کے الفاظ جو بخوبی اردو کا حصہ بن چکے تھے انہیں نکال کر سنسکرت کے الفاظ رائج کئے اور یہ سلسلہ پچھلے ساٹھ سال سے جاری ہے۔ دوسری طرف اردو میں انگریزی الفاظ کی بھرمار شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ ایسے الفاظ متروک ہو گئے ہیں جو اردو میں موجود تھے مگر اب ان کی جگہ انگریزی کے الفاظ بولنا فخر سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً مختلف ممالک کے نام لوگ وہ لینا پسند کرتے ہیں جو انگریزی میں رائج ہوں چاہے اس ملک کے لوگ کچھ اور کہتے ہوں۔ مثال کے طور پر ‘اطالیہ’ لفظ اردو میں رائج تھا اور خود اطالیہ کے لوگ اپنے ملک کو ایسے ہی پکارتے ہیں مگر احباب اسے اٹلی کہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ اس قسم کی مثالیں ممالک کے ناموں تک محدود نہیں بلکہ بے شمار ہیں۔

انگریزوں کے اقدامات

1900ء میں انگریزوں نے بغیر کسی طلب کے اردو اور ہندی کو برابر کی زبانیں قرار دیا جس کا مقصد تھا کہ ایک ہی زبان کو دو رسوم الخط کی بنیاد پر دو زبانیں قرار دیا جائے۔ اس کے بعد اردو اور ہندی جو بنیادی طور پر ایک ہی زبان تھی ایک دوری پیدا ہونا شروع ہو گئی۔انگریزوں نے اس خیال کو ترقی دی کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے اور ہندی ہندو لوگوں کی۔ اس سے غیر مسلموں میں اردو سے ایک نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس نے مسلمانوں اور ہندو اقوام کے درمیان لسانی فسادات کو جنم دیا[5]۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد 1950ء میں بھارت کے آئین کے تحت دیوناگری رسم الخط رکھنے والی ہندی زبان کو بھارت کی سرکاری زبان قرار دیا گیا۔

موجودہ دور کی انگریزی زدگی

موجودہ دور کی انگریز زدگی کی واضح مثال خود اخبارات و جرائد ہیں جہاں ایسی اردو استعمال کی جاتی ہے جس میں ایسے انگریزی الفاظ موجود ہوں جن کے اردو متبادل اردو الفاظ نہ صرف موجود ہیں بلکہ ماضی میں بخوبی استعمال ہوتے رہے ہیں۔ یہ کام نام نہاد اردو کے اخبارات و جرائد کر رہے ہیں۔ یہاں کچھ ایسی مثالیں درج کی جا رہی ہیں جس میں اردو لفظ اور اس کے ساتھ آج کل استعمال ہونے والے الفاظ دیے گئے ہیں۔ اردو لفظ (اردو لفظ کی جگہ استعمال ہونے والا لفظ): انگریزی (انگلش)، نشست (سیٹ)، اطالیہ (اٹلی)، مزاح (کامیڈی)،سمندر پار (اوورسیز)،بین المدتی (مڈ ٹرم)، مجلس یا پارلیمان (پارلیمنٹ)،کھیل (گیمز) ۔ ۔ دوسری مثال پاکستان میں، جہاں کی 90 فی صد آبادی اردو سمجھتی ہے، تمام سرکاری سطح پر انگریزی یا انگریزی زدہ اردو کا استعمال ہے۔ پارلیمان میں تمام حلف انگریزی زبان میں اٹھائے جاتے ہیں، تمام سرکاری بیانات انگریزی میں دیے جاتے ہیں، تمام عدالتی فیصلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں، مقابلے کے امتحانات میں انگریزی لازمی ہے مگر اردو نہیں۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ بھارت میں اخبارات و دور درشن وغیرہ پر اردو اور ہندی دونوں میں ایسی زبان استعمال ہوتی ہے جو عام بھارتی افراد نہیں بولتے۔ اس میں سنسکرت کی بھرمار ہوتی ہے جبکہ عام لوگ جو زبان آج بھی بول رہے اس میں سنسکرت کی اتنی بھرمار نہیں۔

وہ بد حواسی ہے کہ ۔۔۔

یہ بات ہر اس شخص پر عیاں ہو جائے گی جو اردو میں استعمال کیے جانے والے الفاظ کی اصل الکلمہ کا متلاشی ہوگا کہ اردو کا گھر عربی ہی ہے۔ ان الفاظ کی اکثریت بھی کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فارسی ہیں ، اصل میں عربی سے ہی فارسی میں آئے ہیں اور یوں عربی ہی ہیں۔ وہ زمانہ تھا کہ جب مسلمانوں میں کتابوں سے محبت کا جذبہ سویا نہیں تھا اور مسلمان مختلف موضوعات پر کتابیں تخلیق کر رہے تھے اور ان میں تمام لکھنے والے عرب نہ ہونے کے باوجود تمام کتب کی زبان عربی ہی ہوا کرتی تھی۔ عربی میں کوئی خاص بات نہیں ، وہ بھی بس ایک انسانی رابطے کا ذریعہ ہی ہے ، جیسے اردو اور فارسی یا انگریزی؛ مگر اس کے باوجود یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ عربی میں علمی (سائنسی) اصطلاحات پیدا کرنے کی صلاحیت اردو اور فارسی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ سائنس میں انتہائی ضروری بات ، اصطلاحات کا زندہ ہونا ہے۔ اگر اصطلاحات کے بجائے عبارات (یعنی پورے پورے جملے) لکھے جائیں گے تو سائنسی موضوعات پر کچھ لکھنا نا صرف ناممکن ہوگا بلکہ نوبت یہاں تک آئے گی کہ ترجمہ اور ہو بہو انگریزی سائنسی مضامین کی نقل تک نا ممکن ہو جائے گی۔ فارسی میں ایک رجحان پیدا ہوا ، فارسی کو خالص بنانے کا ، باالفاظ دیگر فارسی کو عربی سے پاک کرنے کا۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ آج فارسی میں سائنسی مضامین لکھنا دشوار ترین ہو چکا ہے۔

کدھر کو جائیں گے اہلِ سفر نہیں معلوم
وہ بد حواسی ہے اپنا ہی گھر نہیں معلوم

اردو والوں کو فارسی سے لگے رہنے کا نقصان یہ اٹھانا پڑا کہ ایک طرف تو یہ کہ بدحالی کی جانب گامزن فارسی سے جدید اصطلاحات کے الفاظ نہیں مل سکے اور دوسری جانب وہ انگریزی میں سیلاب کی طرح بہی چلی آنے والی اصطلاحات کا متبادل تلاش کرنے کے لیے عربی کی جانب متوجہ ہونے سے بھی ہچکچاتے رہے یعنی اس اصطلاحات کا بروقت متبادل دستیاب نہ ہونے کی صورتحال نے اردو دانوں کی اکثریت (تمام نہیں) میں ایک ایسی بدحواسی پیدا کر دی کہ وہ اس انگریزی میں برستے ہوئے سائنسی اصطلاحاتی اولوں سے اپنا سر چھپانے کے لیے اپنے گھر کی چھت کے نیچے بھی نہ آسکے ، خود اردو کو بدحواسی کے عالم میں اپنے گھر کی جانب بھی جانے کا موقع نہ دے سکے۔

فارسی پاک کرو!

عرصۂ دراز تک عربی سے مستفید ہونے کے بعد ، عرصۂ دراز تک مادری زبان فارسی رکھنے والے مسلم سائنسدانوں کے اپنی شہرۂ آفاق تصانیف عربی میں لکھتے رہنے کے بعد بالآخر نفرت کی دیواریں لسانیات میں بھی کھڑی کی جانے لگیں۔ فارسی کو عربی سے پاک کرنے کا رجحان انیسویں صدی کے اواخر سے دکھائی دیا جانے لگا اور آج اس کو پرانی فارسی کی کتب اور پھر موجودہ فارسی کتب کو پڑھنے والے باآسانی محسوس کر لیتے ہیں۔ فارسی سے عربی الفاظ کو نکالنے کے سلسلے میں ایران کے جنوب میں واقع قدیم شہر جنداق سے تعلق رکھنے ابوالحسن یغمۂ جنداقی کا نام ابتداء کرنے والوں میں شامل کیا جاسکتا ہے، جنداقی نے اپنی کتاب کلیاتِ یغمۂ جنداقی[6] فارسی کو عربی سے پاک کرنے کی اس روش یا طرز عمل کو “تازہ روشِ نو دیدار” کا نام دیا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس روش نے نہ صرف یہ کہ فارسی کو عربی کی بلاغت سے محروم کرنا شروع کر دیا بلکہ اسلام سے قریب الفاظ (یہاں مذہبی تفریق سے مقصود نہیں بلکہ صرف اس حقیقت کا بیان ہے کہ عربی الفاظ اسلام سے قریب ہی تصور کیے جاتے ہیں) سے بھی فارسی کو محروم کرنا شروع کر دیا ، اسلامی عربی ناموں کی جگہ پہاڑوں اور غاروں میں سے ڈھونڈ دھونڈ کر قبل از اسلام کی اصطلاحات بھری جانے لگیں اور اس تمام صورتحال نے فارسی کو سائنس کے میدان میں مفلوج کر ڈالا کیونکہ ایک تو اس سے وہ صدیوں کی آزمودہ اصطلاحات غائب ہونا شروع ہو گئیں جو کہ مسلم سائنسدان ؛ مسلم اندلس اور اور بغداد کے مدینۃ الحکمت میں عربی اور فارسی کو عطا کر چکے تھے اور امت سے ہم آہنگی کا ایک رشتہ بھی کمزور ہو گیا[7]۔ آج کی فارسی وہ فارسی نہیں ہے کہ جس میں اقبال نے شاعری کی تھی

علم از سامانِ حفظِ زندگی است
علم از اسبابِ تقویمِ خودی است

مندرجہ بالا اقبال کا فارسی شعر پڑھنے کے بعد یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے اصل فارسی پر عربی کا کس قدر گہرا اثر ہے اور اس میں کس کثرت سے عربی اصطلاحات و الفاظ استعمال ہوتے ہیں؛ مذکورہ بالا —– فارسی شعر —– میں کل 12 الفاظ ہیں جن میں سے 5 (علم ، حفظ ، اسباب ، تقویم اور خودی) عربی ہیں۔ یہ تو صرف ایک عام فہم شعر کی مثال ہے اگر دیگر قدیم کتب کا مطالعہ کیا جائے (مسلم سائنسدانوں کی کتب کی تو خیر بات ہی الگ ہے کہ وہ تو مکمل عربی ہی میں ہیں) تو وہ اس شعر کی نسبت بہت زیادہ عربی الفاظ سے بھری ہوتی ہیں۔

اردو کا خسارہ

غضب یہ نہیں ہوا کہ فارسی سے عربی الفاظ نکالنے سے صرف فارسی ہی علمی اصطلاحات سے محروم ہوتی گئی بلکہ غضب یہ ہوا کہ اس خطے میں بسنے والے تمام افراد جدید علوم کو اپنے اندر سمولینے کے بجائے اس سے ذہنی طور پر مغلوب ہوتے چلے گئے؛ یہ ذہنی مغلوبی براہ راست سائنس یا جدید علوم الدنیا سے تو ہوئی ، ساتھ ہی ساتھ اس زبان سے بھی ہوئی کہ جس میں یہ سائنسی اور جدید علوم کی اصطلاحات آنا شروع ہوئیں۔ جدید علوم الدنیا کو اردو میں سمونے کے بجائے اردو میں انگریزی سموئی جانے لگی۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے لے کر مغلیہ دور کے اواخر تک یہاں فارسی ہی کا سکہ چلتا رہا اور ہندوؤں نے بھی فارسی کو بخوشی و بخوبی اپنایا کیونکہ یہ ناصرف تمام اداروں اور دفاتر میں لازم تھی بلکہ اس کا سیکھنا تہذیب یافتہ اور تعلیم یافتہ ہونا تصور کیا جاتا تھا ، بالکل ایسے ہی کہ جسے آج کسی انگریزی نہ سمجھنے والے کو انگریزی سمجھنے والے کی نسبت جاہل سمجھا جاتا ہے۔ فارسی کے یوں اہم ترین زبان کا رتبہ رکھنے والے دور میں بھی عربی کی علمی حیثیت اپنی جگہ برقرار تھی اور عربی زبان کی تحصیل کے بغیر اعلیٰ تعلیمی اسناد کا حاصل ہونا ممکن نہیں تھا۔

اردو نوازی

بہرحال یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ انگریز قوم جب یہاں آئی تو اس کے سامنے سب سے اہم ہدف یہ تھا کہ یہاں عرصے سے حکومت کرتی چلی آنے والی قوم کو ذہنی طور پر کمزور اور ناتواں کیا جائے اور اس سلسلے میں سب سے اہم کردار علوم الدنیا سے ہم آہنگ نہ رہ سکنا کرتا ہے یعنی نفسیاتی طور پر جب کوئی قوم (یا فرد) علوم الدنیا (یا اپنے ماحول میں آنے والی تبدیلیوں) سے ہم آہنگ نہ رہ سکے تو وہ قوم ذہنی طور پر ناتواں اور مغلوب ہو جایا کرتی ہے۔ قرون وسطٰی (middle ages) ہی نہیں بلکہ ساتویں صدی سے تیرھویں نہیں تو بارہویں صدی تک عربی زبان دنیا میں جدت کی علامت رہی؛ جو کام آج اس وکیپیڈیا پر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کام کو 1492ء کے بعد سے تمام یورپی کرنے میں جنون کی حد تک ملوث تھے اور عربی سائنسی مواد کے تراجم لاطینی و دیگر زبانوں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر کئے جا رہے تھے۔ گیارھویں اور تیرھویں صدی کے زمانے میں انگلستان میں عربی زبان سیکھنے کا رجحان زوروں پر تھا[8] اور برصغیر میں بہروپیوں کی شکل میں وارد ہونے والی اور عربی سے نفسیاتی طور پر خوفزدہ اسی انگلستانی قوم سے زیادہ اس بات کو اور کون بہتر جان سکتا تھا کہ جب تک عربی اصطلاحات کا پتہ صاف نہ کیا جائے گا اس برصغیر کی قوم میں یہ احساس پیدا ہی نہیں کیا جاسکتا کہ یہ جدید علوم کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی ؛ یہاں بات مذہب پر لانا مقصود نہیں لیکن یہ کہنا ضروری ہے کہ انگریز کو ہندی یا مغلیہ دور کی دیگر زبانوں سے پریشانی نہیں تھی کیونکہ ان میں بغداد اور اندلس جیسے کتب خانوں کی طرح علمی اور سائنسی اصطلاحات موجود نہیں تھیں اور ان زبانوں کو جب چاہے انگریزی سے بھرا جاسکتا تھا (ہندی جاننے والے آج بھی اس حقیقت کو باآسانی ہندی وکیپیڈیا پر ملاحظہ کرسکتے ہیں)۔ پس انگریز نے علمی اصطلاحات کے ذخائر سے اس نو محکوم قوم کو محروم کرنے کی خاطر فارسی کی جگہ اردو کو ترجیح دینا شروع کی، مقصد اس کا ایک ہی تھا کہ فارسی کی موجودگی میں عربی سے تعلق نہیں توڑا جاسکتا تھا لہٰذا اردو کو لاڈ پیار دیا جانے لگا۔

ڈنڈے نہیں سوٹی سے مارو!

مغلیہ دور کے اواخر سے اردو زبان درباروں میں جگہ پانے لگی تھی اور اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اس زمانے کے شعراء اور ادباء نے اس میں نئی اور پر مغز اصطلاحات کا عربی اور فارسی امتزاج ڈالنا شروع کر دیا تھا اب اردو بالغ ہو چکی تھی اور اس میں ناصرف مقامی زبانوں کے میٹھے الفاظ تھے بلکہ علمی عربی و فارسی روایات بھی تھیں۔ اسی وجہ سے ہندو اور مسلمان سمیت تمام قوم اس سے کسی نہ کسی قسم کا تعلق محسوس کرتی تھی[9] اور اس کی یہی وہ کیفیت تھی کہ جس سے فائدہ اٹھا کر انگریز نے فارسی اور عربی کا خاتمہ کر کے اس قوم کو جدید علوم سے ہم آہنگ ہونے سے محروم رکھا ، انگریز کے پاس اس کے سوا چارہ ہی نہیں تھا کہ اردو کو اہمیت دے ، اب اردو اسے ایک ایسی سوٹی نظر آ رہی تھی کہ جس سے مارا بھی جاسکے اور مار کھانے والا مرے بغیر مار بھی کھاتا رہے۔ انگریز کو بخوبی اندازہ تھا کہ فارسی اور عربی سے جدا کر دیا جائے تو اس قوم کے پاس ہندی کے سوا کچھ نہ بچے گا خواہ اس کو عربی حروف استعمال کر کے اردو کا نام دیا جاتا رہے یا کوئی اور[10] ۔ ایک بار عربی سے جان چھڑا لی جائے تو بعد میں صرف یہ کرنا ہوگا کہ ہندوؤں کو عربی رسم الخط سے بیزار کیا جائے اور بس! کام ختم! ایسا ہونے کے بعد اس قوم کے ہاتھ رہے گا کیا؟ اس کے پاس سوائے انگریزی سے چمٹ جانے کے اور انگریزی زبان کا ذہنی غلام بن جانے کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں بچے گا۔ بابائے اردو کہلائے جانے والے مولوی عبدالحق نے اس مکار اور عیار حکمت  عملی اور اس قوم سے دشمنی کو انگریز کے احسان کا نام دیا ہے؛ سبحان اللہ!9 ۔

وکالت یا مخالفت

قطعہ اردو کا خسارہ ، بظاہر ایسا احساس اجاگر کرتا ہے کہ یہاں اردو کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے؛ یہ قطعہ اس زبان کی بات کر رہا ہے کہ جس سے اس کی روح چھین لی گئی ہو، جس سے بے پناہ علمی الفاظ کا ذخیرہ چھین لیا گیا ہو9 جس سے اس کی شناخت چھین کر صرف نام برقرار رکھا گیا ہو۔ یہ قطعہ اردو کی مخالفت میں نہیں بلکہ اس دھوکے کی مخالفت میں ہے کہ جو اردو کے نام پر جاری رکھا گیا، اردو سے عربی اور فارسی کے الفاظ نکال دیئے جائیں تو باقی جو رہ جاتا ہے وہ ہندوی ہو سکتی ہے ہندوستانی ہو سکتی ہے یا صاف الفاظ میں ہندی ہوسکتی ہے اردو ہرگز نہیں10۔ اور جب اس مستقبلیاتی بصیرت سے کام لیتے ہوئے (جسے اردو دان دانستہ یا نا دانستہ نظر انداز کرتے رہے یا اس زمانے کے مسائل سے بھرپور حالات میں سمجھ نہ سکے) انگریز نے اردو کی پشت سے عربی و فارسی کا سہارا الگ کر دیا تو عربی کی اصطلاح سازی کی خداداد صلاحیت سے محروم ہو جانے والی اس ہندوستانی )کہ جس کو عربی رسم الخط میں عرصے تک لکھ کر اردو کہا جاتا رہا) کے پاس نئی اصطلاحات کے لئے انگریزی کے سامنے دست دراز کرنے کے سواء کوئی چارہ باقی نہ رہا۔

بر صغیری مسئلہ

اس قطعے کا عنوان مسلم قوم کا مسئلہ بھی رکھا جاسکتا تھا لیکن چونکہ احاطہ مقصود ہے ان تمام اقوام کا جو کہ سائنس میں یوں چکر پھیری کھا رہی ہیں کہ جیسے لٹو۔ عرصے تک محکومی و لاچاری اور اقتصادی بدحالی نے ان کا وہ حال کیا ہے کہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آ رہا کہ سائنس کو کس طرح اپنایا جائے؟ ایک بات طے ہے کہ آپ اردو میں لاکھ لکھ لیں ، کامیابی نہیں ہوگی اگر اس میں شامل تمام الفاظ اس بر صغیری قوم کے لیئے قابل قبول نہ ہوئے کہ جو عربی رسم الخط سمجھ سکتی ہے (پنجابی ، پشتو ، سندھی اور بنگالی و حیدر آبادی وغیرہ وغیرہ)۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اردو میں تمام علمی مواد بھر دیا جائے اور پھر نہ پنجابی اپنی الگ اصطلاح سازی کرے ، بلوچی اپنی الگ اصطلاح سازی کرے ؟ اور اس قسم سے اصطلاحاتی ٹکڑوں میں منتشر ہونے کے بعد آپس کی سائنسی تحقیق میں کوئی مشترکہ کاوش ممکن ہوگی ؟ کیا اس سے قسم کی اردو محبت سے خود اردو کو کوئی فائدہ ہوگا جو دیگر علاقائی زبانوں کے لیئے کوئی رہنمائی نہ کرسکتی ہو؟ کیا صرف اردو بولنے والوں کی ترقی سے پورے علاقے میں ترقی کی آسکتی ہے؟

سائنسی تحقیق میں اشتراک و یکسانیت

ہندی میں آج جو مسائل ہیں ان میں سب سے بڑا مسئلہ ان کو یہ درپیش ہے کہ تقسیم ہند کے موقع پر ہندی کو ایک بہت ہی بڑی زبان کے طور پر دکھانے کی جو فریب النظری دی گئی وہ آج نہ صرف ہندی زبان کی ترقی بلکہ ان تمام اقوام کو سائنسی اصطلاحات پر متفق ہونے کے قابل نہ کرسکنے کی وجہ سے کہ جن کی الگ الگ زبانوں کو تقسیم ہند پر پر فریب انداز میں ( زبردستی ملا کر ) ہندی کا نام دے دیا گیا تھا ، ان کی سائنسی ترقی میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے اور ان کو انگریزی کے سوا کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ جو مشترکہ عربی رسم الخط (یا الگ رسم الخط مگر عربی الفاظ) استمعال کرتے ہیں ؛ جیسے سندھی ، پنجابی ، فارسی ، پشتو ، اردو ، بلوچی ، عربی اور بنگالی وغیرہ۔ اگر ان سب میں الگ الگ سائنسی اصطلاحات بنائی جانے لگیں تو وہ حال ہوگا کہ دماغ کی دہی بن جائے! نہ وہ سائنسی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے آپس میں رابطہ کر سکیں گے اور نہ ہی سندھ کے علاقے میں کیا جانے والا کوئی سائنسی تحقیقی کام پنجاب کے علاقے والوں کے کسی کام کا ہوگا ، نہ اردو والے کی تحقیق سے بلوچی استفادہ کرسکے گا نہ پنجاب کی تحقیق سے پشتو والا کوئی استفادہ اٹھا سکے گا۔ کیا اس قسم کی محدود (ایک ہی ملک کے مختلف علاقوں میں رنگ برنگی اور ایک دوسرے سے الگ الگ) اصطلاح سازی کا واقعی کوئی فائدہ ہوگا ؟ یہ تمام کام تو ان علاقے والوں کی محنت کو کوئی مشترکہ سمت دینے کے بجائے ان کے مابین علمی اور تحقیقی روابط کو توڑنے کا باعث بنے گا۔

کیا یہ اردو سے نفرت ہے؟

اگر اصطلاحات سازی کا کام کرنا ہی ہے اور علمی مواد کو برصغیر کے ان تمام افراد تک پہنچانا ہی ہے کہ جو عربی رسم الخط پڑھ سکتے ہیں تو کیوں نہ ایسی صورت میں پہنچایا جائے کہ جس کو وہ بعد میں یکسانیت کے ساتھ اپنی اپنی علاقائی زبانوں میں بخوشی منتقل کرنے پر متفق ہوں؟ اس میں کیا برائی ہے؟ کیا اردو میں پیش کیے جانے والے اس کام کو اس طرح پیش کرنے کی منصوبہ بندی کرنا کہ یہ کام اردو میں ہی نا ٹھیر جائے بلکہ پورے علاقے کی چھوٹی چھوٹی زبانوں میں یہ ترقی اور تحقیق کی لہر شروع کر سکے ، اردو سے نفرت کے زمرے میں آئے گا ؟ سائنسی ترقی جس زبان میں بھی ہوئی ہے وہاں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ان معاشروں کو رنگ برنگے زبانوں والے معاشرے سے واسطہ نہیں رہا اور ان میں لسانی یکسانیت موجود تھی جیسے جاپانی ، انگریزی ، جرمنی وغیرہ (واضح رہے کہ اس جملے سے مراد اسی زبان میں سائنسی اصطلاحات سے ہے)۔ یہاں تو ہندی کی چھتری کے نیچے رہنے والے آپس میں عام لہجوں پر ہی متفق نہیں ہو پاتے ، یہاں تو ایک عربی رسم الخط استعمال کرنے والے آپس میں ایسے الفاظ پر بھی متفق نہیں ہوتے جن پر اتفاق کیا جاسکتا ہے۔ کیا وکیپیڈیا پر سائنسی مواد کو اردو میں لکھنے کے ساتھ ساتھ ایسی منصوبہ بندی کا خیال رکھنا کہ یہ مواد علاقے کی دیگر زبانیں بھی بلا تعصب قبول کر لیں ، اردو سے محبت نہ کرنے کے مترادف ٹھہرایا جائے گا ؟ یہ تو اردو سے حقیقی محبت کے مترادف ہے کہ جس کے ذریعے اردو سے دیگر علاقائی زبانوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

مستقبلیات اور حیثیت میں اضافہ

کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ اردو وکیپیڈیا پر اس قدر محنت کر کے علمی مواد پیش ہی کیا جائے تو ایسے پیش کیا جائے کہ اس چراغ سے چراغ جلتے جائیں اور اس قسم کا رجحان علاقائی زبانوں میں بھی پیدا ہو جائے؟ تو کیا اس کے لئے عربی رسم الخط استعمال کرنے والی زبانوں کے لئے اصطلاحات کے انتخاب کی خاطر عربی کا استعمال ممکنہ حد تک یکساں قبولیت کا زیادہ امکان نہیں رکھتا ؟ کیا ایسا کرنا اردو سے محبت نہ کرنے کے مترادف ہے ؟ اگر اتنے بڑے علاقے کے افراد کم از کم اصطلاحات کو ہی مشترکہ طور پر اختیار لیں گے تو اس سے مستقبل میں تحقیق کے اجتماعی فوائد آنے کا امکان زیادہ نہیں ؟ کیا اس طرح اردو سے بہت زیادہ ترقی یافتہ عرب زبان اور اقوام کی ترقی سے براہ راست فائدہ اٹھاتے رہنے کا امکان زیادہ نہیں ہوگا ؟ جب ہر اردو لغت عربی کے الفاظ سے بھری ہوئی ہے تو پھر ہر عربی لغت سے کوئی بھی لفظ اردو میں لکھا جاسکتا ہے اور اسے اردو ہی کہا جائے گا۔ اور جب اس قدر محنت سے اردو میں ہی علم پیش کرنا ہو تو پھر اسے ایسے پیش کیا جانا بہتر نہیں کہ اس کا فائدہ صرف اردو تک محدود نہ رہے بلکہ اردو کے انداز میں لکھی جانے والی ہر علاقائی زبان اس کو ایک غیرجانبدار اصطلاح کی حیثیت سے اختیار کرنے پر رضامند ہو ، یا کم از کم ایسا ہونے کا امکان زیادہ ہو۔ کیا یہ اردو کی جانب سے دوسری زبانوں کے لیئے خدمت نہیں ہوگی ؟ کیا اس سے اردو کی حیثیت میں اضافہ نہیں ہوگا ؟ کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوگا کہ اردو میں تمام لسانی طبقات کو ترقی اور تحقیق کے لئے مشترکہ سائنسی رابطہ فراہم کرنے کی صلاحیت ہے۔

تحقیق نو کا رونا

ایک رجحان اس وکیپیڈیا پر ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ جسے ہر کوئی اسی سوٹی کی مانند استعمال کرتا ہے کہ جیسے انگریز نے حاکم قوم سے حکومت چھیننے کے بعد اسی کی زبان اردو کی سوٹی سے اس کو مارا اور مار مار کر تتر بتر کیا اور یوں تتر بتر کیا کہ تتر بتر ہونے والے جھک جھک کر آج بھی تتر بتر کرنے والوں کو سلام کرتے ہیں۔ ان کے بڑے بڑے دانشور اور اردو دان انگریز کے اس منصوبے کو انگریز کا احسان قرار دیتے ہیں اور فورٹ ولیم کالج کی عمارت کے بوجھ سے آج بھی ان اردو دانوں کی ہڈیاں چرخ چوں کرتی رہتی ہیں۔ یہ فورٹ ولیم کالج ہی کا عظیم کارنامہ تھا کہ جس نے ہزاروں سال سے ساتھ چلی آنے والی قوموں میں (صدیوں قبل ناپید ہو جانے والی سنسکرت کو دوبارہ تخلیق کر کے) سنسکرت اور عربی رسم الخط کا نفاق پیدا کیا اور وہ کیفیت پیدا کی کہ فارسی اور عربی سے منقطع ہونے کا مسلمانوں کو احساس تک نہ ہونے دیا[11] [12]۔ بالکل ایسے ہی یہ معترضینِ تحقیقِ نو بھی کچھ ایسی ہی کیفیت پیدا کر رہے ہیں کہ تخلیقی کاموں میں رکاوٹ کے لئے ہر جگہ ناجائز طور پر اس حربے کو استعمال کرتے ہیں۔ وکیپیڈیا کے بارے میں اس تحقیق نو کے ابہام کے سوا ایک اور ابہام یہ بھی دور ہونا چاہیے کہ وکیپیڈیا کا مقصد اس زبان میں لکھنا ہے کہ جس زبان میں وہ وکیپیڈیا ہو اور اگر اس زبان میں ثنائیِ لسان (diglossia) کی کیفیت پائی جاتی ہو تو پھر کیا کیا جائے گا ؟ پھر تو منطقی بات ہے کہ اس انداز کو چنا جائے گا جو کہ کتب اور لغات میں دستیاب ہے نہ کہ اس diglossia کے اس انداز کو چن لیا جائے کہ جو شرح خواندگی میں کمی کے سبب اور غیر تعلیم یافتہ افراد کی کثرت کے سبب ، زیادہ افراد استعمال کرتے ہوں۔ تحقیق نو کے بارے میں چند محفوظات کا خیال یہاں متعدد صفحات پر دیگر منتظمین بھی کر چکے ہیں (ایک مثال اسی صفحے کے تبادلۂ خیال پر دیکھی جاسکتی ہے)۔

تحقیق نو سے مراد اصل میں کوئی خود تحقیقی بیان یا نظریہ پیش کرنے کے ہوتے ہیں

تحقیق نو ، لغات سے نئے الفاظ لکھنے کو نہیں کہا جاسکتا کیونکہ کسی بھی تحریر میں ضرورت پڑے تو ظاہر ہے کہ نئے الفاظ لغات سے ہی لیئے جائیں گے

اگر کسی بیان یا نظریے کا حوالہ درج ہے تو وہ بات خواہ کسی بھی لب و لہجے میں لکھی گئی ہو تحقیق نو کے زمرے میں نہیں آسکتی (جیسے یہ صفحہ)

اردو کی ہر لغت عربی اور فارسی الفاظ سے بھری ہوئی ہے اور وہ تمام الفاظ درج کرنا تحقیق نو کے زمرے میں نہیں آتا

ہر عربی اور فارسی لغت کا کوئی بھی لفظ درج کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس کی وضاحت اور اس کا ماخذ بھی بیان کر دیا گیا ہو اور اسے اردو لفظ ہی کہا جائے گا نہ کہ تحقیق نو کہا جائے


[1] اخبار ہندو پر حیدر علی کا تذکرہ اور عبد الکلام سے متعلق موقع پر ٹیپوسلطان کا تذکرہ

[2] عہد مغلیہ میں ہندوستانی لسانیات کا ایک بیان

[3] اردو زبان کے 900 سال قبل آغاز کا بیان

[4] ہندوستان میں سائنسی سرگرمیوں کی تاریخ

[5] Religious Controversy in British India by Kenneth W. Jones, p124, ISBN 0791408272 Google book

[6] Abu al-Hasan Yaghma Jandaqi, Kulliyat-i Yaghma Jandaqi (Tihran: Ibn Sina), p. 49; Aryanpur, Az Saba ta Nima, p. 114

[7] The Constitutionalist Language And Imaginary. Mohamad Tavakoli

[8] Is Arabic the language of science and modernity? روئے خط مضمون

[9] قواعد اردو ؛ مولوی عبد الحق : الناظر پریس واقع خیالی گنج لکھنؤ

[10] Hit it with a stick and it won’t die by Christopher Lee; Syracuse university روئے خط مضمون

[11] The Jewish conspiracy is British Imperialism by Henry Makow PhD روئے خط مضمون

[12] پاکستان کے ایک انگریزی اخبار ڈان میں ایک مضمون روئے خط

Google Buzz

تازہ بہ تازہ نو بہ نو

چند دوستوں نے کہا تھا کہ اردو وکیپیڈیا پر جو کام کرتے رہیں اس بارے میں اپنے بلاگ پر بھی مطلع کرتے جائیں تاکہ اردو بلاگنگ کی دنیا بھی اردو وکیپیڈیا پر ہونے والی پیشرفت سے آگاہ رہ سکہے۔ گزشتہ ماہ کے اواخر سے میں وکی پر دوبارہ متحرک ہوا ہوں گو کہ ہر ماہ یہ کوشش رہتی ہے کہ کام کا نئے سرے سے آغاز کیا جائے اور وہاں مضامین کی شمولیت کی رفتار میں جو کمی آ گئی ہے اسے پورا کرنے کی کوشش کی جائے لیکن ہمیشہ کچھ نہ کچھ ایسا آڑے آ جاتا کہ یہ منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے۔
فی الحال تو میں اپنے شامل کیے گئے مضامین کے روابط (links) ہی یہاں پیش کر رہا ہوں۔ اگر ممکن ہوا تو آئندہ یہاں دیگر احباب کے لکھے گئے اچھے مضامین کو بھی پیش کروں گا تاکہ اردو وکیپیڈیا پر جاری علمی سرگرمی کے حوالے سے بلاگرز اور قارئین کو آگاہ رکھا جا سکے۔ ملاحظہ کیجیے حالیہ چند ہفتوں میں مکمل کیے گئے مضامین:

تاریخ

بلاد و اماکن

  • اوٹرانٹو – جنوبی اٹلی کا ایک شہر
  • بنگلہ دیش – جنوبی ایشیا کا ملک (مضمون بالکل ابتدائی صورت میں ہے)
  • تاجکستان – وسط ایشیا کا ایک مسلم اکثریتی ملک
  • خرطوم – سودان کا دارالحکومت
  • دوحہ – قطر کا دارالحکومت
  • دہلی – بھارت کا دارالحکومت، عظیم تاریخی ورثے کا حامل شہر (مضمون بالکل ابتدائی صورت میں ہے)
  • قیصری – وسطی ترکی کا ایک اہم صنعتی شہر
  • مالدیپ – بحر ہند کا ایک خوبصورت مجموعہ الجزائر، سب سے کم آبادی کا حامل مسلم اکثریتی ملک
  • ممبئی – بھارت کی اہم بندرگاہ و تجارتی دارالحکومت، (مضمون بالکل ابتدائی صورت میں ہے)

شخصیات

تعمیرات

متفرق

مندرجہ بالا مضامین کے علاوہ کچھ مضامین ایسے بھی ہیں جو زیر تکمیل ہیں اور جلد وکیپیڈیا کی زینت بنیں گے۔ مندرجہ بالا یا زیر تکمیل مضامین کے حوالے سے اگر کوئی قاری کسی متعلقہ کتاب یا مقالے کا حوالہ دینا چاہے تو یہ میرے لیے خوشی کی بات ہوگی اور کوشش کی جائے گی کہ مضمون میں نئی معلومات کو حوالہ دے کر شامل کیا جائے۔ فی الوقت مندرجہ ذیل مضامین زیر تکمیل ہیں:

  • انڈونیشیا – مشرقی ایشیا کا اہم ملک، دنیا بھر میں سب سے زیادہ مسلم آبادی کا حامل
  • بدیع الزماں سعید نورسی – قیام جمہوریہ کے بعد ترکی کی ایک اہم اسلامی شخصیت
  • پہلی صلیبی جنگ – یورپ کے جنگی و مذہبی جنون کی انتہا، جب پورا یورپ مسلمانوں پر چڑھ دوڑا اور مقدس سرزمین (فلسطین) پر قبضہ کر لیا
  • دوسری صلیبی جنگ – مقدس سرزمین پر قائم صلیبی ریاستوں پر مسلم حملوں کے آغاز کے جواب میں دوسری یورپی کاروائی
  • تورانیت – ترک قوم پرستی کا نظریہ
  • جوزف اسٹالن – اشتراکی روس کا حکمران،ہٹلر ثانی
  • سرگون – اشتراکی روس کے دور میں کریمیا کے مسلمانوں کی جبری ہجرت کی داستان
  • سفید افواج – یورپ میں پیش قدمی کرتی ہوئی سرخ افواج کا مقابلہ کرنے والا ایک گروہ
  • ضیاء گوک الپ – ترک قوم پرست ادیب
  • عرب بغاوت – پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف عربوں کی بغاوت
  • محمد عاکف ارصوی – ترکی کے شاعر اسلام، قومی ترانے کے خالق
  • نامق کمال – ترکی کے عہدِ جدید کے معروف ترین ادیب
Google Buzz

اردو وکیپیڈیا پر اصطلاحات – میرا موقف

ایک گزشتہ تحریر پر قارئین کے تبصرہ جات کے بعد ضروری ہو گیا تھا کہ میں اردو وکیپیڈیا پر اصطلاحات سازی کے عمل پر اپنا موقف بیان کروں۔ سو یہ حاضر ہے:

اردو وکیپیڈیا سے احقر کا تعلق تقریباً تین سال پرانا ہے اور ابتدائی تقریباً دو سال انتہائی متحرک رہا۔ یہ وہ منصوبہ تھا جس سے مجھے ہمیشہ دلی لگاؤ رہا اور اس منصوبے کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے اپنی بساط کے مطابق بھرپور کوششیں کی۔ انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کے لیے جاری منصوبوں کی طرح کچھ خامیاں اس میں بھی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان خرابیوں کو درست کرنے کے لیے عملی طور پر خود آگے بڑھا جائے کیونکہ یہ ایک “Community Project” ہے اس لیے اردو کے چاہنے والے تمام لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کچھ نہ کچھ حصہ اس میں ضرور ڈالیں۔
دراصل ہمارے ہاں دو رویے پائے جاتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر کسی کام کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ یہ غلط خطوط پر استوار ہے یا درست سمت میں نہیں ہو رہا تو اسے درست طریق پر ڈالنے کے لیے کوئی کام نہ کیا جائے بلکہ اس کے غلط ہونے کا ڈھنڈورا ہر جگہ پیٹا جائے۔ حالانکہ آپ اسے درست کرنے کے پورے اختیارات بھی رکھتے ہوں لیکن پھر بھی اصلاح پر آمادہ نہ ہوں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اردو وکیپیڈیا کے حوالے سے جتنے بھی شاکی لوگ ہیں ان کا رویہ ہمیشہ یہی رہی ہے۔
میرا تعلق ہمیشہ اس قبیل سے رہا ہے جو اردو وکیپیڈیا پر خود ساختہ اصطلاحات کا مخالف رہا ہے لیکن اس کے باوجود میں نے اس منصوبے سے کبھی نفرت نہیں کی بلکہ جس میدان میں تنازعات سے ہٹ کر کام کیا جا سکتا تھا اس میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں اردو وکیپیڈیا کے درد مندوں سے یہ مطالبہ کر رہا ہوں کہ وہ اپنی تمام تر مصروفیات کو چھوڑ کو اردو وکیپیڈیا کو وقت دیں لیکن کم از کم جن موضوعات میں مہارت یا دلچسپی ہو، ان کا تو حق ہے کہ ان پر چند سطریں اردو وکیپیڈیا کو دی جائیں اور یہ ان کی درد مندی کا تقاضا بھی ہے۔
اردو وکیپیڈیا کے متنازع معاملات پر وہاں کے منتظمین اور صارفین کے درمیان کئی مرتبہ طویل بحث مباحثے ہو چکے ہیں جن کا نتیجہ یہی نکلا کہ چند لوگ جو اس روش کے خلاف تھے یا تو ساتھ چھوڑ گئے یا میری طرح خاموش ہو گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان خود ساختہ اصطلاحات کے لیے دلائل اتنے مضبوط ہیں کہ مجھے جیسے جاہل آدمی کا ان کا سامنا کرنا ممکن نہیں۔ ساتھ ساتھ افسوس بھی ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو برادری توانا تر ہوتی جا رہی ہے لیکن اردو وکیپیڈیا کے لیے کام کرنے کے لیے تازہ خون سامنے نہیں آ رہا اور نہ ہی ان “گھاگ” اردو دانوں کو اردو وکیپیڈیا سے کوئی دلچسپی ہے جو ہر وقت اردو کا رونا رہتے ہیں۔ چند دوست احباب اردو کی لشکری حیثیت کو درمیان میں لاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اردو میں تمام زبانوں کو سمونے کی اہلیت ہے اس لیے انگریزی زبان کے الفاظ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں مجھے ذاتی حیثیت میں اس دلیل سے اختلاف ہی رہے گا کہ فی زمانہ اردو کا ناطہ انگریزی سے جوڑنا دراصل اردو دوستی کا ثبوت ہے۔ پہلے ہم ان زبانوں سے تو تعلق جوڑیں جن سے اردو کا خمیر اٹھا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہی سمجھتا ہوں کہ کیونکہ اردو میں اصطلاحات سازی کا کام ابھی نا مکمل ہے اس لیے انتظار ہی بہترین حکمت عملی ہے بجائے اس کے کہ خود ساختہ اصطلاحات تخلیق کی جائیں۔
ایک محترم دوست کی رائے یہ ہے کہ عوامی سطح پر جو الفاظ رائج ہو جائیں انہیں من و عن زبان میں قبول کر لینا چاہیے۔ یہ دلیل درست ہے لیکن اگر آپ کی زبان یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ اپنی اصطلاح مرتب کر سکے تو چاہے عوام کسی اور زبان کا لفظ ہی استعمال کریں لیکن آپ اس کے لیے ایک الگ اصطلاح ضرور ایجاد کریں اور میری نظر میں یہ اختیار ایک ادارے کو ہونا چاہیے جیسے مقتدرہ قومی زبان وغیرہ۔ عرب ممالک میں کمپیوٹر اور موبائل کو کمبیوتر اور موبایل ہی بولا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے حاسوب اور ہاتف کی اصطلاحات بنائیں اور لکھت پڑھت میں یہی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے اردو وکیپیڈیا کے منتظمین کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اردو کے ٹھیکیدار نہیں ہیں، اگر سرکاری سطح پر کوئی ادارہ اردو کے لیے اصطلاحات نہیں بنا رہا تو یہ ذمہ داری ان پر عاید نہیں ہوتی کہ وہ اپنی مرضی کی اصطلاحات بناتے پھریں۔ اس لیے عارضی طور پر جب تک اصطلاحات سازی کا معاملہ حل ہوتا ہے تب تک انگریزی اصطلاحات پر ہی اکتفا کیا جائے اور نامانوس اصطلاحات پر زور نہ دیا جائے۔
دوسری جانب اردو کے درد مندوں سے التماس ہے کہ وہ دلائل سے قائل کرنے کے لیے اردو وکیپیڈیا پر کچھ متحرک ہوں تاکہ اس عظیم منصوبے کو ضایع ہونے سے بچایا جا سکے۔ اصطلاحات سازی سے قطع نظر وہاں کرنے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے۔
علامہ فرما گئے ہیں:

تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر
جو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر

Google Buzz